Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Karzal (Episode 13)

Karzal by Anam Sana

“السلام علیکم سر ۔۔۔!!” ایجنٹ نے کال پک کرتے ہی کہا

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔کیسے ہو ۔۔۔۔؟” وہ خوشگوار لہجے میں بولے

“میں ٹھیک آپ کیسے ہیں ۔۔۔؟؟” باپ کی آواز سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی

“الحمد اللہ میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔۔۔اچھا بتاؤ کہاں تک کیس پہنچا ۔۔۔؟؟”

“آج صحرا میں محفل سج رہی ہے ۔۔۔۔۔کالا دھندہ کرنے والے سب وہاں آئے گیں ۔۔۔۔” تفصیل سے بتایا گیا

“اور پاشا ۔۔۔؟؟”

“وہ بھی آئے گا ۔۔۔۔” پاشا کے نام سے اس کے چہرے پر سختی سے آثار نظر آنے لگے

“مجھے نہیں لگتا وہ آئے گا ۔۔۔کیونکہ اتنے وقت میں ہم یہ تو جان ہی گئے ہیں کہ وہ ایسی محفل میں نہیں جاتا جہاں عورت ذات ہو ۔۔۔!!”

“وہ آئے گا ۔۔۔”

“کس کے لیے ۔۔۔؟؟”

“میرے لیے ۔۔۔” چہرے پر عجیب سے مسکراہٹ لیے وہ بولا

********************

“الجھے ہیں تیرے خیالوں میں ایسے

افریقن بچے کے بال ہوں جیسے “

کیف جو ماذیہ کی تصویر دیکھنے میں مصروف تھا برہان کے آنے کا پتا ہی نہیں چلا جلدی سے اپنا موبائل بند کیا اور سیدھے ہو کر بیٹھا

“اہم اہم کیا ہو رہا ہے ۔۔۔؟” وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا

“کچھ بھی نہیں ۔۔۔” وہ اپنا لہجہ نارمل بناتے ہوئے بولا

“چھپ چھپ کر دیکھ رہے تھے لیکن میری تیکھی نظر سے آج تک کوئی بچا جو آپ بچ جاتے ۔۔۔!!” وہ مسکراتے ہوئے بولا

“اپنی بکواس بند کر ۔۔۔” وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولا

“اچھا جی میری بات آپ کو بکواس لگ رہی ہے رکو میں جا کر سب کو بتاتا ہوں ۔۔” وہ باہر کی طرف لپکا اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتا کیف نے پیچھے سے اسے جکڑ لیا اور اسے اندر کر کے دروازہ بند کیا

“کیا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔!!” وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا

“سب کو بتانے جا رہا تھا کہ بھائی نے ہمارے لیے بھابھی ڈھونڈ لی ہے ۔۔۔۔” وہ دانت نکالتے ہوئے بولا

“اپنے یہ دانت اندر کر لے ۔۔۔اس وقت تو مجھے زہر لگ رہا ہے ۔۔۔۔”

“ویسے یہ ہوا کیسے ۔۔۔؟؟” وہ کون سا باز آنے والا تھا

“میرا دل کر رہا ہے کہ اسی وقت تیرا گلا دبا کر دنیا کا بوجھ کم کر دو ۔۔۔۔” دانت پیس کر وہ بولا

“سارے ہی میرے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔۔۔آگر میں مر گیا نہ آپ لوگ ہی یاد کرو گے مجھے ۔۔۔” وہ معصنوئی آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

“نہیں کرتے ۔۔۔!!”

“دیکھ لو ۔۔۔!!”

“دیکھ لیا ۔۔۔!!”

“میں جارہا ہوں ۔۔۔”

“مرنے۔۔!!”

“ہاں ۔۔۔!!”

“چل شاباش جلدی کر ۔۔۔!!”

“میں جا رہا ہوں ۔۔۔!”

“نیک کاموں میں دیری نہیں کرتے ۔۔۔”

“جا رہا ہوں میں ۔۔۔”

“روکا کس نے ہے ۔۔۔!!”

“جا رہا ہوں میں ۔۔۔”

“چل آ میں چھوڑ کر آتا ہوں ۔۔۔!!” کیف اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا

“نہیں ۔۔۔میں خود چلا جاؤ گا ۔۔۔۔!!” وہ اپنے آپ کو چھڑواتا منہ بنا کر باہر نکل گیا

“پاگل ۔۔۔!!” کیف ہنس دیا ۔۔۔وہ جانتا تھا کہ یہ کچھ نہیں کرنے والا ۔۔لیکن وقت کا کس کو پتا ہے ۔۔۔کب ،کہاں ،کیا ہو جائے

**************

“تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟” پاشا آنکھوں میں سختی لئے بولا

“آگر میں نہ آتا تو بہت مشکل ہو سکتی تھی ۔۔۔!!” یسوع بنا کسی خوف سے بولا

“ایسی کیا مشکل آگئی جو میری بات کو ان سنا کر دیا تم نے ۔۔۔” اب بھی آنکھوں میں غصہ تھا

“ایک منٹ جبال بھی آیا ہے ۔۔؟؟” سوالیہ نظروں سے پاشا نے دیکھا

“ہاں ۔۔۔!!”

“تم دونوں نے میری بات کیوں نہیں سنی آگر میں نے تمھیں دھیل دے رکھی ہے تو وہ واپس بھی لے سکتا ہوں ۔۔” وہ غرغڑایا

“لیکن پاشا ۔۔۔”

“آج کے آج ہی تم لوگ واپس جاؤ گے ۔۔۔!!” وہ غصے سے کہتا ہوا پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا

اور سگریٹ سلگا کر ہونٹوں سے لگایا

اس کا صاف مطلب تھا کہ وہ اب کوئی اور بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔!!

یسوع بنا کچھ کہے باہر نکل گیا

*******************

“واللہ حبیبی ۔۔۔۔!!” آبص جو تیار ہو رہی تھی جبال کی آواز پر اپنا سر اٹھایا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔۔زیادہ خوبصورت لگ رہا ہوں ۔۔۔” وہ شرارت سے بولا اور ساتھ ہی آنکھ ماری

“تم نہیں سدھر سکتے ۔۔۔!!” اس نے نفی میں سر ہلایا اور واپس اپنے کام میں لگ گئی

“ہم بگڑے بھی تمہاری وجہ سے ہیں ۔۔۔” وہ اس کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا

“ایک ۔۔۔ایک منٹ ۔۔۔اس کا الزام بھی مجھ پر ۔۔۔”وہ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر فاصلہ پیدا کرتے ہوئے بولی

“اور کیا ہم تو شریف تھے ۔۔۔کسی کو نظر اٹھا کر دیکھا نہیں کرتے تھے ۔۔۔!” وہ کلر جھاڑتا ہوا بولا

“کیونکہ یہ نظر صرف میرے لئے تھی ۔۔۔!!”

“آگر اس نظر میں کوئی اور آجاتی ۔۔۔تو ۔۔!!” وہ صرف اس کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔اور اس کا ردعمل بھی اس کی سوچ کی مطابق ہوا

آبص نے حیرت سے پہلے اسے دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اس کی کلر کو پکڑ کر اپنی طرف کھنچا اور بولی

“پہلے اسے مارتی اور پھر انہیں ہاتھوں سے تمہاری جان نکالتی ۔۔۔۔!!” وہی مغرور لہجہ ۔۔۔

جبال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ پڑی ۔۔

دوبارہ اپنے حصار میں لیتے ہوئے جبال بولا

“یہ شکوہ بے وجہ ہے

یہ تو دستور چاہت ہے

کہ جو محبوب ہوتا ہے

ذرا مغرور ہوتا ہے “

آ بص نے مسکرا کر آنکھیں بند کر لی ۔۔۔

*****************

“کیاہوا کچھ ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔؟‘‘ انوش نے ابیرہ سے پوچھا جس نے کمرے میں اتھل مچل مچائی ہوئی تھی وہ لوگ باہر جانے کیلئے تیار تھے لیکن ابیرہ کمرے سے باہر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اس لیے مجبوراََ انوش کو اندر آنا پڑا اس کو باہر نکالنے کیلیے ۔۔۔۔

’’ انوش میرا موبائل نہیں مل رہا ۔۔۔۔‘‘ وہ پریشانی سے بولی

’’ کیا مطلب نہیں مل رہا رکھا کہاں تھا ۔۔۔۔؟‘‘وہ بھی اس کے ساتھ یہاں وہاں ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔

’’ کیا مسئلہ ان کے ساتھ۔۔۔وہ آ کیوں نہیں رہی۔۔۔؟‘‘برہان اُکتا کر بولا

’’میں جا کر دیکھتا ہوں۔۔۔‘‘ کیف کھڑے ہوتے ہوئے بولا

’’ تم رہنے دو کیف میں جاتا ہوں۔۔۔۔‘‘ سرحان اس سے پہلے کھڑا ہو گیا

کیف نے کندھے اچکائے ۔۔برہان جو یہ سب دیکھ رہا تھا سرحان کو کھڑا ہوتے دیکھ کر اس کی زبان میں کجھلی ہوئی۔۔

’’بلانا تو بہانا ہے ۔۔اصل مقصد تو ملنا ہے۔۔۔‘‘وہ ہنستے ہوئے بولا

’’تیری بکواس کرنا لازم ہے۔۔۔‘‘ سرحان دانت پیس کر بولا

’’ہم پر لازم ہے۔۔‘‘ وہ گنگناتے ہوئے بولا۔۔۔سرحان کو سب کی دبی دبی ہنسی سنائی دی ۔۔۔وہ بنا جواب دئیے غصے سے وہاں سے چلا گیا

’’تم لوگوں نے آنا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟‘‘وہ کمرے میں آتے ہی بولا۔۔۔۔

’’وہ ابیرہ کا موبائل نہیں مل رہا ہے۔۔بس وہی ڈھونڈرہے ہیں۔۔۔‘‘انوش اس کو دیکھتی ہوئی بولی

’’لو وہ تو میرے پاس ہے۔۔۔‘‘وہ اپنی جیب سے موبائل نکالنے لگا۔۔۔

’’تمہارے پاس میرا موبائل کیا کر رہا ہے۔۔۔ایک منٹ۔۔ایک منٹ۔۔۔تم میری جاسوسی کر رہے ہو۔۔۔‘‘وہ آنکھوں میں حیرت سموئے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔

’’یا اللہ۔۔۔!!!!تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہاری جاسوسی کرو گا۔۔۔!!!!‘‘ وہ بڑا منہ بناتے ہوئے بولا

’’پھر میرا موبائیل تمہارے پاس کیا کر رہا ہے۔۔۔؟؟‘‘وہ آنکھوں میں غصہ لیا بولی

’’تم اپنا موبائل یہی بھول گئی تھی میری نظر پڑی تو میں نے اُٹھا لیا۔۔۔۔اور تم۔۔۔۔۔تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔‘‘وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔

انوش بے چاری ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔

’’لو یہ بات تھی۔۔۔‘‘وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔

’’جی یہی بات ہے۔۔۔‘‘ وہ تیکھی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔

’’تو تم پہلے بتا سکتے تھے۔۔۔‘‘وہ بھی ابیرہ تھی کیوں اپنی غلطی مانتی۔۔!!

’’تم نے جیسے بولنے دیا ۔۔۔۔!!‘‘وہ منہ بنا کر بولا

’’اچھا جی ۔۔۔۔اب اس کا الزام بھی مجھ پر۔۔۔۔۔‘‘وہ ہاتھ سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

’’تم۔۔۔‘‘اس سے پہلے کے وہ کچھ اور بولتا انوش چلائی

’’بس ۔۔۔۔!!۔۔پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔کس طرح بچوں کی طرح لڑ رہے ہو دونوں۔۔۔‘‘

ؔ ’’اور تم۔۔‘‘وہ سرحان کی طرف مڑی

’’بلانے آئے تھے یا لڑنے۔۔۔۔۔‘‘

’’اس نے لڑائی شروع کی۔۔۔‘‘ابیرہ فوراٌبولی

’’میں نے یا تم نے۔۔۔۔۔‘‘سرحان تو اپنے اوپر لگائے گئے الزام پر تڑپ اُٹھا

’’اُوئے ہوئے میں تو سمجھا تھا اندر دیدار یار ہو رہا ہے ۔۔۔مگر یہاں تو تیسری جنگ عظیم شروع ہوئی ہے۔۔۔۔‘‘برہان جو ان کو بلانے آیا تھاان کو لڑتے دیکھ کر بولا

’’تیری کمی تھی ۔۔۔آگیا میرے زخموں پر نمک چھڑکنے۔۔۔۔‘‘وہ دانت پیس کر بولا

’’نہ بیٹا نہ۔۔نمک نہیں میں تومرچے چھڑکوں گا۔۔۔وہ بھی لال۔۔۔۔۔‘‘ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولا

’’خدا کے لیے بس کر جاؤسب۔۔۔۔!!‘‘ انوش چلائی

انوش کے چلانے پر سب ہی چپ کر گئے۔۔۔۔انوش انہیں غصہ سے دیکھتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔اُس کے پیچھے پیچھے ابیرہ بھی منہ بناتی وہاں سے چلی گئی۔۔جبکہ پیچھے برہان،سرحان رہ گئے۔۔۔

’’مزاج ہی نہیں مل رہے جناب کے آج۔۔۔‘‘ سرحان منہ بنا کر بولا

برہان نے پہلے اسے دیکھا پھر اس کے کندھے پر اپنا رکھا

’’کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟‘‘ سرحان نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

’’مزاج یار کے آگے بس

سر تسلیم خم کیجئے ‘‘

برہان ایک ادا سے بولا

’’غالب کی اولاد ۔۔۔۔۔بس کر۔۔۔۔ویسے بڑی بات ہے ۔۔۔۔۔۔کون ہے جس نے تیرا دل چرا لیا ہے۔۔۔‘‘ وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا

’’ایکپیرینس بولتا ہے۔۔۔۔‘‘وہ کلر اکڑا کر بولا۔۔

’’اچھا جی ۔۔۔ویسے کون سا ایکپیرینس ہے تجھے زرا مجھے بھی پتا چلے۔۔۔‘‘وہ آنکھیں تیکھی کر کے بولا

’’آپ مجھ سے بڑے ہو دو منٹ۔۔۔‘‘

’’تو۔۔۔‘‘

’’آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ کا دو منٹ چھوٹا بھائی ان راستوں پر نہیں چلتا جہاں سب کا گذر ہو۔۔۔۔‘‘

’’ایڈا تو بادشاہ دی اولاد۔۔۔!!‘‘سرحان منہ بنا کر بولا

’’بادشاہ کی تو نہیں ہوں لیکن سلطان کی تو ہو۔۔۔‘‘وہ مغرور لہجے میں بولا

پہلے تو اُسے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔لیکن جب آئی تو اپنا سر دیوار میں مارنے کا دل کیا۔۔کیونکہ ان کے والد کا نام سلطان تھا۔۔۔

وہ اُسے کچھ کہے بغیر ہی باہر چلا گیا۔۔۔اب برہان کا یہاں کیا کام ۔۔۔وہ بھی اُس کے پیچھے بھگا۔۔۔۔

****************

محبت کی طبیعت میں اگرچہ غم نہیں ہوتا

مگر خدشہ جدائی کا بھی تو کچھ کم نہیں ہوتا

کوئی جگنو ،کوئی تارا کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ

گھروں کوپھونک دینے سے اندھیرا کم نہیں ہوتا

محبت کرنے والے تو ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں

محبت میں کوئی جدائی کا موسم نہیں ہوتا

مجھے تم چھوڑ کر خود بھی تو ساری عمر تڑپے ہو

کوئی ایسی سزا دیتے تمہیں تو غم نہیں ہوتا

زمیں والوں سے کہہ دو کر فلک سے ڈھل گیا سورج

اُجالابانٹ دینے سے اُجالا کم نہیں ہوتا

******************

’’تمہیں آج کے آج یہاں سے جانا ہے۔۔۔‘‘

’’لیکن۔۔‘‘

’’شاید تم نے سنا نہیں کہ میں نے کیا کہا ہے۔۔۔!!‘‘پاشا غصے سے بولا

’’مجھے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔‘‘یسوع نے اجازت طلب کی۔۔۔

پاشا نے سر کے اشارے سے اجازت دی تو وہ بولا

’’وہ لڑکی کون ہے جس کو آپ ڈھونڈ رہے ہیں۔۔وہ کارزل۔۔۔‘‘نام سن کر پاشا کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔۔۔

’’کبھی تتلی دیکھی ہے۔۔۔؟؟‘‘یسوع نے حیرانگی سے پاشا کو دیکھا ۔۔۔یہ کیسا سوال ہے۔۔؟؟؟پاشا اُس کی آنکھوں میں حیرانگی دیکھ کر تلخی سے مسکرایا اور پھر سے بولا

’’کبھی تتلی دیکھی ہے۔۔۔؟؟؟

اس میں رنگ اس کی خوبصورتی۔۔۔؟؟؟‘‘

وہ بہت جزب ہو کر بول رہا تھا۔۔۔

یسوع منتظر تھا پاشا کے بولنے کا ۔۔۔لیکن پاشا کی نظر دور کسی نقطہ پر تھی

’’وہ بھی ایسی تتلی تھی۔۔۔ہر رنگ سے بھری۔۔۔شوخ وچنچل۔۔۔خوش مزاج۔۔۔خوش اخلاق۔۔۔پرُاعتماد۔۔۔‘‘

کچھ پل کی پھر خاموشی۔۔۔۔

’’پھر کیا ہوا۔۔۔؟؟؟‘‘یسوع نے پھر مخاطب کیا

’’پھر وہ تتلی آگ کے پاس چلی گئی۔۔۔اور اس کے رنگ وپر جل گئے۔۔۔‘‘

وہ اٹھا اور گم سم چل دیا۔۔۔

’’اسے عشق کی آگ نے جھلسا دیا۔۔۔!!!‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *