Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18
بھائی آپ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں نا؟” وہ لوگ نکاح کے لئے جا رہے تھے_ابھی راستے میں تھے جب سارہ نے رامش سے کہا تھا
“ہاں” وہ آرام سے بولا تھا
“بھائی پلز بتائیں نا”
“سرپرائز ہے” وہ مسکرا رہا تھا
“بھائی آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں” وہ چڑ کر بولی تھی
“تھوڑا صبر کر لو بس ویک اینڈ تک” اس نے اس کے بال خراب کئے تھے
“دیکھیے گا سارے بدلے آپ کی بیگم سے لوں گی” وہ خفگی سے بولی تھی
اس کی بات پر وہ ہنس دیا تھا
“بلیو می وہ بالکل مائنڈ نہیں کرے گی”
وہ لوگ ادھر پہنچے تو بہت اچھے سے استقبال کیا گیا تھا
رامش کی فرمائش پر نکاح سادگی سے اور گھر پر ہی ہو رہا تھا
رامش کے پیچھے ہی ہادی اندر آیا تھا
وہ اب تک بے یقین تھا…
اس نے اسے دور کھڑے دیکھا تھا وہ ہمیشہ کی طرح ہی اسے اپنی دھڑکنوں کا حصہ محسوس ہوئی تھی
“آج تو کوئی بڑا ہنڈسم لگ رہا ہے” سارہ کی آواز پر وہ چونکا تھا
“کچھ کم تو آپ بھی نہیں لگ رہیں” وہ جھکتا ہوا بولا تھا پھر ہنس دیا
“بہت کمزور لگ رہے ہو؟” وہ اسے دیکھ رہی تھی جہاں پہلے والی رونق کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی
“نہیں تو…بڑی محنت کی ہے خود پہ” وہ ہنسا تھا
اور سارہ کو اس کی ہسی بہت بری لگی تھی کیوں کہ یہ ہادی کی ہسی تو نہیں تھی
“میں ذرا سب سے مل لوں” وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا تھا اور وہ دکھ سے اسے جاتا دیکھتی رہی تھی
اس کا ہادی بدل رہا تھا…
*********
“افف جلدی کرو لڑکے والے آ گئے ہیں” فاطمہ بیوٹیشن سے بولی تھی
فاریہ اور نور پہلے سے ادھر ہی موجود تھیں اور سارہ اب اندر داخل ہوئی تھی
“ماشاءالله…کتنی پیاری لگ رہی ہے یہ لڑکی” وہ آیت کے پاس آئی تھی
“میری نظر ہی نا لگ جائے”
“محبّت کرنے والوں کی نظر نہیں لگتی” فاریہ آیت کا ڈوپٹہ سیٹ کرتی ہوئی بولی تھی
“بھائی تو گئے آج” وہ ہسی تھی
“ابو نکاح کے لئے مولوی صاحب کو لا رہے ہیں” فاطمہ نے اطلاح دی تھی
اور کچھ دیر میں وہ نکاح کے منہ میں رس گھول دینے والے کلمات ادا کر رہی تھی
وہ امی کا ہاتھ بہت زور سے تھامے ہوئے تھی
نکاح ہو چکا تھا
وہ رامش کے نام لکھ دی گئی تھی
آج اس زمین پر ایک اور محبّت کی کہانی اپنی تکمیل کو پہنچی تھی
آج اس دنیا کی ہر چیز ان کے لئے دعا گو تھی
آج محبّت کے پرندے خوشی سے رقصاں تھے
ہاں آج پھر محبّت کی جیت ہوئی تھی
آج خدا کی رحمت ان پر اتری تھی…
*********
تھوڑی دیر میں اسے رامش کے پہلو میں لا کر بیٹھایا گیا تھا
“نکاح بہت بہت مبارک ہو” اس نے آیت کے کان میں سرگوشی کی تھی
وہ محض سر ہلا پائی تھی
وہ تینوں اسے اسٹیج پر آتی دکھائی دی تھیں
فاطمہ اوپر آئی تھی اس نے اپنا لہنگا ہاتھوں سے اوپر اٹھایا تھا جب ہادی کی نظر اس کے پاؤں اور گئی تھی
یہ وہی پازیب تھی جو ہادی نے اس دن اس کے لئے لی تھی
اس کا دل ایک دم سے دھڑکا تھا…یہ اس نے اب تک سمبھال کر رکھی ہوئی تھی؟ لیکن کیوں؟ اور اب یہ اس کے پاؤں میں کیا کر رہی تھی؟” وہ خود سے الجھا تھا جب سامنے سے کسی کیمرہ مین نے فاطمہ کو پیچھے کو دھکیلا تھا
وہ بری طرح پیچھے گرتی اگر ہادی بروقت اسے تھام نا لیتا
“تم ٹھیک ہو؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
وہ اسے چیئر پر بیٹھا کر اس کیمرہ مین کی طرف بڑھا تھا اور اسے پیچھے سے بری طرح کھنچا تھا
“اگر ابھی اسے چوٹ لگ جاتی تو” وہ چیخا تھا
رامش فوراً آگے بڑھا تھا
“چھوڑو اسے ہادی کیا ہوا ہے” اس نے اسے ایک جھٹکے سے الگ کیا تھا
“اس نے دھکا دیا ہے فاطمہ کو…وہ گر سکتی تھی اسے چوٹ لگ سکتی تھی” وہ غصے سے بولا تھا
“دیکھو ادھر ادھر لوگ متوجہ ہو رہے ہیں calm down”
“میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے کچھ نہیں ہوا” فاطمہ پیچھے سے بولی تھی
وہ فاطمہ کی طرف پلٹا تھا
“تمہارا اتنی لمبی heels پہننا ضروری تھا؟”
پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ادھر سے نکل گیا تھا
سارہ سانس روکے سارا منظر دیکھ رہی تھی…
پھر فوراً اس کے پیچھے گئی تھی
“کیا ہوا ہادی؟ تم تو کبھی ایسا react نہیں کرتے” وہ حیران تھی_پریشان بھی
“کچھ نہیں ہوا جاؤ یہاں سے” وہ سگرٹ سلگاتا ہوا بولا تھا
“میں کہیں نہیں جاؤں گی جب تک تم بتا نہیں دیتے کیا ہوا ہے”
وہ اس کی طرف مڑا تھا
وہ اسے ہوش میں نہیں لگا تھا
“محبّت ہو گئی ہے مجھے”
“سنا تم نے…”
“محبّت”
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
“کیا کہہ رہے ہو ہادی؟” وہ اس کا رخ اپنی طرف موڑتی ہوئی پوچھ رہی تھی
“وہ اسے جھٹک کر دور جا کر بیٹھ گیا تھا
وہ اس کے پاس آئی تھی
“بتاؤ مجھے؟” وہ نرمی سے پوچھ رہی تھی
وہ سگرٹ دور پھنک کر اس ک کندھے سے لگ کر سسک گیا تھا اور اسکی تو جیسے جان ہی نکال گئی تھی
اسکا ہادی رو رہا تھا…
“ہادی کون ہے وہ؟”
“بتاؤ پلز”
“فاطمہ…” اس نے سر اٹھایا تھا
اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کا دل کسی نے مٹھی میں لی لیا تھا…
اور پیچھے کھڑی فاطمہ کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا
وہ واپس پلٹ آئی تھی
“تمہیں وہ ضرور ملے گی ہادی” سارہ نے خود کو کہتے سنا تھا
پھر آنکھوں سے نکلتے گرم پانی کو محسوس کیا تھا
پھر دل کے دھڑکنے سے انکار کو بھی…
لیکن اب اپنے دل کی خاطر وہ اس کی خوشی نہیں چھین سکتی تھی
“تم دیکھنا وہ تمہیں ضرور ملے گی”
وہ کچھ نہیں بولا تھا
پلتا تھا…
جب اس کے پاؤں کے نیچے کچھ آیا تھا
وہی پازیب تھی…
اس نے جھک کر اسے اٹھایا تھا
“وہ کیا سن چکی ہے وہ اندازہ نہیں لگا سکا تھا”
وہ اندر آیا تھا
جہاں سب اسٹیج پر موجود تھے
وہ بھی…
ایک پازیب اس کے پاؤں میں تھی
اور دوسرا خالی تھا
وہ رامش کے پاس آیا تھا اور گزرتے ہوئے وہ پازیب اس کی گود میں پھنک آیا تھا
بلکل سارہ کی طرح
بےدردی سے…
********
نکاح ہو گیا تھا…
آیت کو رامش کے پہلو میں بیٹھا دیا جا چکا تھا
“آج مجھے لگ رہا ہے کہ اس دنیا کی ساری سلطنت
مجھے مل گئی ہے”
رامش آیت سے بولا تھا
وہ مسکرا دی تھی
لیکن سامنے سے آتے شخص کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ گم ہوئی تھی
رامش نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا
“مبارک ہو آپ دونوں کو” وہ بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا
لیکن وہ کہیں سے بھی اسے زین نہیں لگا تھا
لگ رہا تھا جیسے کسی نے رونق چھین لی ہو اس کے چہرے سے…
جس چہرے کی سلامتی کی وہ دعائیں کرتی رہی تھی اسے اجڑا ہوا دیکھنا اسے اچھا نہیں لگا تھا
“اللہ جی میں نے اسے معاف کیا…دل سے”
“اچھے لگ رہے ہی دونوں” وہ مسکرایا تھا…
اور ایسا لگا تھا جیسے یہ اس کے چہرے پر کوئی نئی چیز ابھری ہو
وہ رامش کے ساتھ کوئی بات کر رہا تھا…
رامش کو دیکھ کر اس کے دل میں سکون سا بھر گیا تھا
“پتا نہیں آپ میری کس نیکی کا صلہ ہیں”
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے،
“بالکل میری لگ رہی ہو…پیاری سی” رامش نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگایا تھا…
“افف سب دیکھ رہے ہیں” آیت نے اسی ہاتھ سے اسے دھپ رسید کی تھی
اور وہ کھلکھلا کے ہنس دیا تھا
پھر قریب ہوتے ہوئے اس نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا تھا
“دیکھنے دو سب کو…بیوی ہو میری اور پھر سب کو بھی تو پتا چلے کہ آج آیت رامش پر نازل ہوئی ہے…”
اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں…
رامش نے اسے سیدھا کیا تھا
“بیگم صاحبہ آج کے بعد اگر آپ کو روتے دیکھا نا تو…” وہ آنکھوں میں شرارت لئے اس پر جھکا تھا
جب آیت نے ہنس کر اسے دھکا دیا تھا
“اگر رومینس ختم ہو گیا ہو آپ لوگوں کا تو آ جائیں photographer ویٹ کر رہا ہے” فاطمہ کی بات پر رامش ہنس دیا تھا اور آیت نے اسے گھوری سے نوازا تھا
تو یہ کہ آج اس زمین پر ایک اور محبّت کی کہانی اپنے انجام کو پہنچی تھی
آج پھر سے محبّت کی جیت ہوئی تھی
آج پھر محبّت کی ہوائیں خوشی سے رکصاں تھیں
آج پھر سے محبّت کے پرندے گیت گانے لگے تھے
*********
وہ چلا گیا تھا
وہ وہیں تھی
یہ کیسا انصاف تھا؟
وہ صرف اس کا تھا
صرف اسی کا…
لیکن کب وہ پلٹ گیا
یا شاید وہ کبھی چلا ہی نا تھا
وہ اکیلی ہی اس راستے کی مسافر تھی
اور بس اسے
اپنے ساتھ تصور کرتی رہی تھی
لیکن یہ اسے کب پتا چلا
اب تو بہت دیر ہو گئی تھی
وہ کسی اور کا ہو گیا تھا
اور اسے پتا ہی نہیں چلا تھا
وہ کیسے یقین کرتی
وہ تو اس کی دھڑکنوں میں جذب ہو چکا تھا
وہ تو اس کی ہر سانس کی ذمانت تھا
وہ اسے کیسے بتاتی؟
کہ وہ اس کے لئے کیا ہے
اب تو بہت دیر ہو گئی تھی
آس پاس اسے ہوا گھٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
یہ کیا؟
سانس کیوں رکنے لگا تھا
وہ بے وفا تو نا تھا
اس نے تو کبھی وفا کا یقین دلایا ہی نا تھا
اس کا دل کیا
کہ
چیخے…
اتنی زور سے کہ
اس زمین آسمان کو پتا چلے
جب محبوب بچھڑتا ہے تو کیسا لگتا ہے
اسے بھی تو پتا چلے
جدائی کا درد کیسا ہوتا ہے
کتنی تقلیف دہ ہوتا ہے
اپنی ہی دھڑکنوں کو
اپنے ہی ہاتھوں سے
کسی اور کو تھاما دینا
پھر شاید
یہ کبھی
کسی کے محبوب کو اس سے الگ نا کرے
پھر شاید یہ ہوائیں کسی پر تنگ نا پڑیں
“سارہ” نور اس کے پاس آئی تھی
وہ کچھ نہیں بولی تھی
“سارہ کیا ہوا یار سب اندر ہیں تم باہر کیا کر رہی ہو؟”
اور اس کے پوچھنے پر وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی
نور تو اس کے اس طرح رونے پر بوکھلا ہی گئی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو بالکل ٹھیک تھی
“سارہ دیکھو…پلز میری جان مت نکالو…بتاؤ مھجے کیا ہوا ہے؟”
وہ سب بتاتی گئی تھی
اور نور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھی…
وہ کیا کہہ رہی تھی
اس نے ایسا تو کبھی نہیں چاہا تھا…
آنسو آنکھوں سے گرنے لگے تھے وہ اسے کیا حوصلہ دیتی…
“مجرم تو میں ہوں اس کی” اس نے سوچا تھا
ابھی کل رات ہی تو میسم نے اس سے اپنے لئے دعا کروائی تھی
کیا دعائیں اتنی جلدی بھی قبول جو جایا کرتی ہیں
“اللہ جی آپ پلز سارہ کو ہادی دے دیں…” بےاختیار اس کے دل سے دعا نکلی تھی
لیکن صرف کچھ دعائیں ہی فوراً پوری ہوا کرتی ہیں
ان دونوں کے پیچھے کوئی اور بھی تھا جیسے اسے روتا دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی
لمحہ بھر کو نور کی نظر اس سے ملی تھی
لیکن وہ فوراً جھکا گئی تھی
“لو ہو گئی تمہاری مراد پوری”
”کہانی میں کوئی ردّوبدل کر
میرا تجھ سے بچھڑنا بنتا ہی نہیں”
*********
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﮑﺲ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﻣﯿﺮﮮ
ﻭﮨﯽ ﻟﮩﺠﮧ، ﻭﮨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﻭﮨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻨﺲ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﺭﻭﭨﮭﻨﺎ ﺗﻮ
ﺑﮯﺭﺧﯽ ﮐﯽ ﺣﺪ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺳﮯ
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯﭼﯿﻦ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺲ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﺠﺎ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﺮﻑ ﺳﺎ ﻟﮩﺠﮧ
ﻧﮕﺎﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺘﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﻨﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﻠﮑﻞ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ…..ﻋﮑﺲ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ
ﯾﺎ ﺳﺎﯾﮧ ﺭﻭﺑﺮﻭ …..میرے
وہ لوگ واپس جا رہے تھے جب وہ فاطمہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر لے گیا تھا
سارہ نے دیکھا تھا اسے ایسا کرتے…
وہ آنکھیں میچ کہ رہ گئی تھی
“اس ویک اینڈ پر نکاح ہے ہمارا…اور مجھے رخصتی بھی ساتھ ہی چائیے!
اس نے اسے سامنے بیٹھایا تھا
“اب مجھے نہیں پتا کہ تمہیں اپنے گھر والوں کو کیسے منانا ہے”
وہ اس کے سامنے گٹنوں کے بل بیٹھا تھا
وہ کچھ نہیں بولی تھی
بس خاموش تھی
اسے دیکھ رہی تھی
وہ اس کے سامنے تھا
اس کے لئے یہی کافی تھا
اس نے اس کا پاؤں اپنے گٹنے پر رکھا تھا
“اور باقی تمہارا جوڑا اور جیولری میں خود پسند کروں گا”
اس نے ہاتھ میں پکڑی پازیب اسے پہنائی تھی”
پھر اٹھ کھڑا ہوا تھا
اس لمحے فاطمہ کا دل اس کی مسکراہٹ دیکھنے کا کیا تھا…
“اگر تم چاہو تو میرے ساتھ چل سکتی ہو…
میں انکل سے بات کر لوں گا”
اور پھر وہ پلٹ گیا تھا
مسکرایا نہیں تھا
“کھڑوس”
“میرا کھڑوس” وہ مسکرائی تھی
*********
“میسم…” وہ سویا ہوا تھا جب وہ اس کے کمرے میں آئی تھی
“کیا ہے…؟” وہ نیند میں بولا تھا
“اٹھو پلز تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے” وہ پریشان تھی
وہ اٹھ بیٹھا تھا
“کیا ہوا ہے؟”
“میسم…”
“ہاں بولو…”
“رشتہ لے کر کب جانا ہے؟”
“کہاں؟” وہ حیران ہوا تھا
“سارہ کے گھر…” وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی
“کل ہی تو تم کہہ رہی تھی کہ ایک سال صبر کروں…
اب اچانک کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟”
“کچھ نہیں ہوا…بس اس کے لئے ایک رشتہ آیا ہوا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ ہم لیٹ ہو جائیں” اس نے نظریں چرائیں تھیں
“اوہ تو یہ بات ہے… تو ٹھیک ہے امی سے بات کرو جب وہ راضی ہو جائیں تو انھیں لے جاؤ”
“راضی کرنے کا وقت نہیں ہے میں زبردستی انھیں لے جاؤں گی…کل ہی”
“لیکن دادی…”
“ان کو سب پتا ہے…”
“تم نے بتایا؟”
“نہیں سارہ آئی تھی انھیں بتانے” وہ پاس پڑا کشن اسے مارتی ہوئی اٹھی تھی
اب یہی راستہ تھا اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کا اسے یقین تھا کہ میسم کی محبّت اس کا درد ضرور کم کر دے گی…
لیکن ایک بڑا کام سارہ کو منانا تھا…
*********
“چلو لڑنے ہی آئی ہو…لیکن آئی تو سہی” وہ مسکرا کر بولا تھا
“پلز میں تمہیں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں مجھے واپس کر دو”
“تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے…اور میں نہیں جانتا تمہیں یقین کیسے دلاؤں” وہ اسے دیکھتا ہوا بولا تھا
“تو تم نہیں دو گے؟”
“میرے پاس نہیں ہے…”
“لیکن اس وقت تو تم ہی تھے نا ادھر…”
“اوہ! حیرت کی بات ہے میں تمہیں نظر آیا…” وہ تلخی سے ہنسا تھا
“نور کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں…یہ رہی تمہاری اسائنمنٹ” اس کی آواز پر وہ پلٹی تھی
وہ اس کی کلاس کی ایک لڑکی تھی
“تمہیں کہاں سے ملی…؟”
“جدھر تم اسے رکھ کر بھول گئی تھی…”
“اوہ تھنک یو”
وہ واپس پلٹی تھی
“اٹس اوکے” وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“سوری…” وہ سر جھکا کر بولی تھی
“ارے دشمن کو سوری کون بولتا ہے” وہ ہنسا تھا
پھر آگے چل دیا تھا
وہ دیکھتی رہی تھی اسے…
اس کا دل دکھا رہی تھی وہ…
اور خود…
اس سے بھی زیادہ
دکھ رہی تھی…
جاری ہے
