653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17

دو گھنٹے سے وہ شیشے کے آگے بیٹھی ہوئی تھی…کیوں؟ وہ خود نہیں جانتی تھی
آج پہلی دفعہ خود کو محبّت سے سجایا تھا محبّت کے لئے
پتا نہیں ٹائم نہیں نہیں گزر رہا تھا یا وہ جلدی تیار ہو گئی تھی وہ سمجھ نہیں سکی تھی…
رات اس کا درد سننے کے بعد آج اپنا درد کم کرنے جا رہی تھی
اس کی امانت اسے لوٹانے جا رہی تھی
“کاش ایسا ہو کہ وہ اسے مجھ ہمیشہ کے لئے تھما جائے” وہ حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی
لیکن پھر ہنس دی_اپنی خواہش پر…
ایسا کبھی ممکن نہیں تھا وہ جانتی تھی لیکن پھر بھی دل ماننے پر راضی ہی نہیں تھا
اس نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تھی اور گاڈی کی چابی تھامے باہر نکل آئی تھی
وہ تقریباً پندرہ منٹ پہلے آ گئی تھی…
کافی آرڈر کر کے وہ اس کا انتظار کرنے لگی تھی انتظار کی گھڑیاں تو ہوتی ہی طویل ہیں…
وہ پندرہ منٹ لیٹ آیا تھا اسے دیکھ کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی
“بیٹھیں پلز…” اس نے چیئر کی طرف اشارہ کیا تھا
وہ چپ چھپ بیٹھ گئی تھی
“مجھے نہیں پتا آپ نے میری کس بات کو سیریس لے کر مجھے یہاں بلایا ہے اس لیے میں آپ کو پہلے ہی کلیر کر دوں کہ کل رات میں سلیپنگ پلز کے زیر اثر تھا جب آپ کی کال آئی…
مجھے نہیں پتا میں کیا کچھ کہہ گیا_خیر جو کچھ بھی کہا کچھ بھی سچ نہیں تھا آپ اسے بھول جائیں”
فاطمہ کو وہ پہلے والی رونق اس کے چہرے پر نظر نہیں آئی تھی وہ اسے بیمار لگا تھا…
اور کیسے نا لگتا اسے محبّت جو کھا رہی تھی
“آپ ٹھیک ہیں نا؟” بےاختیاری میں اس کے منہ سے پھسلا تھا
“جی؟” وہ طنزً ہلکا سا مسکرا کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا رہا
وہ اسے بہت مکمل لگی تھی…
“دوسروں کا سکون برباد کرنے والے خود پرسکون ہی ہوتے ہیں”
“میں نے پوچھا…”
“مجھے لگتا ہے میں آپ کو سب کلیر کر چکا ہوں اب میں چلتا ہوں تھوڑا جلدی میں ہوں” وہ اٹھا تھا اور اس پر دوسری نظر ڈالے بغیر ادھر سے نکلتا چلا گیا تھا
اور وہ…
اور اس کی امانت…
اس کی بےرخی پر رو دیئے تھے…!
“سنو ہم بیٹھ کر تنہا کسی ویران گوشے میں
ہوا کو دکھ سنائیں گے تمہیں ہم بھول جائیں گے”
*********
وہ لوگ جب واپس لوٹے تو شام ڈھل رہی تھی…
وہ گھر آئی تو بہت تھکی ہوئی تھی اندر داخل ہوتے ہی بہت سی آوازیں سنائی دی تھیں شاید کوئی مہمان آئے ہوئے تھے
اس نے ملاذمہ سے پوچھا لیکن اسے بھی کچھ معلوم نہیں تھا وہ اپنے کمرے میں جانے لگی تھی جب فاطمہ باہر آئی تھی
وہ اس سے مل کر اوپر آ گئی کہ ابھی دماغ بالکل کام نہیں کر رہا تھا…
وہ جب سو کر اٹھی تو تھکاوٹ کچھ کم محسوس ہوئی تھی
فریش ہو کر نیچے آ گئی جدھر امی ناشتہ بنا رہی تھیں
“نیند اچھے سے آئی؟” وہ اسے پیار کرتی ہوئی بولیں
“جی امی”
“خوب مزہ کیا؟” انہوں نے کھانا لگاتے ہوئے پوچھا
اور پھر وہ انھیں ہر ہر چیز کے بارے میں بتانے لگی تھی
“امی کل شام کوئی مہمان آئے تھے؟” اس نے یاد آنے پر پوچھا تھا
“ہاں دوست ہے میری…”
پھر تھوڑا رک کر بولی تھیں “تمہارے رشتے کے لئے آئی تھی”
اور نوالا اس کے حلق میں اٹک گیا تھا
“تو آپ نے کیا جواب دیا؟”
“بھئ مجھے تو لڑکا بہت پسند ہے اور میں نے ہاں کر دی ہے” ان کی خوشی ان کے ہر انداز سے جھلک رہی تھی
وہ کچھ بول نہیں سکی تھی
“وہ لوگ انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں”
“امی اتنا سب آپ نے ان دو دنوں میں طے کر لیا اور مجھے بتایا تک نہیں” وہ صدمے سے بولی تھی
“ارے تمہیں کوئی اعتراض ہے؟” وہ نہایت پیار سے پوچھ رہی تھیں
“نن نہیں تو… لیکن ابھی تو میری سٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی؟”
“تو وہ صرف انگیجمنٹ کا ہی تو کہہ رہے ہیں اس سے تمہاری سٹڈی پر کوئی effect نہیں ہو گا”
“لیکن امی…” دفاع کے لئے کچھ تھا ہی نہیں اس کے پاس
“کیا بات ہے آیت تمہیں کوئی پسند ہے؟” انہوں نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا تھا
“کیسی باتیں کر رہی ہیں امی ایسا کچھ نہیں ہے”
“تو پھر ہم ڈیٹ فائنل کر لیں؟” اس نے بےیقینی سے انھیں دیکھا تھا
“جیسا آپ کو صحیح لگے” وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی
یہ کیا ہو رہا تھا اس کے ساتھ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا
“اس قدر اچانک کیسے؟” اس کا دماغ الجھنے لگا تھا
میسج ٹون پر وہ چونکی تھی
رامش کا میسج تھا
اس کا دل بےاختیار دھڑکا تھا
“Congratulations”
اسے رونا آیا تھا…اسے کس نے بتایا؟
“ضرور فاطمہ نے بتایا ہو گا…لیکن وہ تو سب جانتی ہے اس نے کیوں نہیں روکا امی کو؟”
اس نے فاطمہ کو کال کر کے گھر بلایا تھا
“کیا ہے یہ سب؟” وہ آتے ہی اس پر خفا ہوئی تھی
“کہاں؟” انتہائی معصومانہ سوال تھا
“یہ امی کو ایک دم میرے رشتے کی کیا ٹینشن پڑ گئی؟”
“بھئ اچھا رشتہ تھا تو ہاں کر دی…کیوں ویسے تمہیں کوئی مسلئہ ہے؟ اس نے ایسے پوچھا تھا کہ آیت کا دل کیا کچھ اٹھا کر اس کے سر میں مارے
“ہاں ہے…”
“کیا؟” وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی
“تم جانتی ہو کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا؟” وہ رونے کو تھی
“تم رامش کی بات کر رہی ہو؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“لیکن تم نے کبھی نہیں کہا کہ تمہیں اس سے محبّت ہے؟”
“میں نے ایسا تو نہیں کہا اب…” فاطمہ کو اس کی شکل دیکھ کر ہسی آئی تھی
“تو پھر؟” وہ مسکراہٹ دباتی ہوئی پوچھ رہی تھی
“اس نے بھی تو نہیں کہا کبھی” اسے اب غصہ آیا تھا
“اس نے کہا نہیں لیکن رشتہ تو بھیج دیا نا” اس نے اور تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا تھا
“کیا مطلب؟” اسے سچ مچ کا شاک لگا تھا
“مطلب یہ کہ رامش کے ہوتے ہوئے آیت کسی اور کی کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ صاحب تو چاہتے ہیں کہ ڈائریکٹ نکاح ہی ہو جائے وہ تو ھم نے انھیں اتنی مشکل سے منایا کہ ہمیں تھوڑا وقت تو دیں تیاری کا”
اور ادھر آیت کو وہ ڈھیروں حیرت میں گھیرا کر فاطمہ کی non stop planning شروع ہو گئی تھی”
**********
چاند آج مکمل تھا اپنی پوری شان کے ساتھ…جیسے آج گواہ بن کر اترا ہو_اس کے ہر جذبے کا اس کے صبر کا اور انتظار کا
وہ اسے دور سے آتی دکھائی دی تھی جب اس نے کینوس کا رخ موڑ دیا تھا
“جی میسم صاحب بہت انتظار کروایا آپ نے اب دیکھا دیں” وہ اس کے سامنے آ کر بیٹھی تھی
وہ مسکرا دیا تھا
“دکھانے کے لئے ہی بلایا ہے”
“ہاں نا جلدی کرو اب اور صبر نہیں ہو رہا”
“پہلے ایک promise کرو”
“ہاں بولو” وہ بےصبری سے بولی تھی
“یہ پینٹنگ تمہیں میں دیکھا دیتا ہوں باقی سارا کام تمہارا ہے”
“مطلب تمہارا رشتہ کروانا ہے؟” وہ ہسی تھی
“ہاں جی”
“منظور_ اب دیکھاؤ”
وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا پھر احتیاط سے کینوس لا کر اس کے سامنے رکھا
اس پر نظر پڑتے ہی اسے شاک لگا تھا کچھ لمحے وہ بول نہیں سکی تھی
“میں جانتا ہوں تم بہت سے سوال کرو گی اور یقین کرو میرے پاس تمہارے ہر سوال کا جواب ہے” وہ مسکرا رہا تھا
“یہ کس آزمائش میں ڈال رہے ہو خود کو” وہ سوچ کر رہ گئی تھی
ایک طرف دوست اور دوسری طرف بھائی…دونوں کی خوشیاں اسے عزیز تھیں
لیکن اب کس کی خوشی کی دعا کرے؟
ایک کی دعا دوسرے کی بدعا بن گئی تھی
“خدا تم دونوں کے حق میں بہتر کرے” وہ بس اتنا ہی بول پائی تھی
“پھر کب بات کر رہی ہو اس سے؟” اس کی بات پر وہ چونکی تھی
“جب اللہ‎ نے چاہا…”
وہ پلٹ آئی تھی اسے اندھیروں میں چھوڑ کر
*********
آج کی رات معمول سے زیادہ خوبصورت تھی یا اسے لگ رہی تھی
“پلز سمجھاؤ نا انہیں کہ نکاح کر دیں مجھے تو ان سب نے مل کر نکال دیا تھا ادھر سے” اس کی بات پر وہ ہنس دی تھی
“اب اتنی کیا جلدی ہے تیاری میں ٹائم تو لگ ہی جاتا ہے”
“آیت ہمارا نکاح بہت سادگی سے ہو گا”
“اوکے میں امی سے بات کروں گی”
“بات نہیں کرنی آیت منانا ہے ورنہ میں انگینجمنٹ پر مولوی لے آؤں گا ساتھ” وہ سنجیدہ تھا اور آیت کا قہقہ نکل گیا
“آیت…”
“جی؟”
“تمہیں مجھ سے شکایت ہے نا کہ میں نے آج تک تم سے اظہارِ محبّت نہیں کیا؟”
وہ جواب میں کچھ نہیں بولی تھی
“میں کیسے کرتا جب مجھے تم سے محبّت ہے ہی نہیں” محبّت میں تو اس نے چوٹ کھائی تھی وہ اس سے محبّت کر بھی کیسے سکتا تھا وہ تو کبھی پوری زندگی محبّت کا نام بھی نہیں لینا چاہتا تھا
آیت کی دھڑکن رکی تھی سارے رنگ پھیکے پڑنے لگے تھے
“مجھے تو تم سے عشق ہے”
“عشق بھی وہ جو مجھے کبھی کبھی خوفزدہ کر دیتا ہے کہ اتنا عشق کسی انسان سے کرنے کی اجازت ہے بھی کہ نہیں”
“کل اؤں گا لینے نکاح کا جوڑا دلوانے_امی سے بات کر لینا ورنہ میں خود کر لوں گا”
وہ کچھ نہیں بولی تھی
اور کال کٹ گئی تھی
وہ سوچی رہی تھی کہ کوئی اتنا خوش قسمت بھی ہو سکتا ہے
“اور انقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے”
*********
وہ اسے بھولنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی لیکن اسے بھولنے کے لئے بھی تو اسے ہی یاد کرنا پڑ رہا تھا
وہ آیت کے پاس آئی تھی اور سب بتاتی چلی گئی تھی
آیت کو یقین نہیں آیا تھا
وہ رو دی تھی آیت کو اس کا رونا تکلیف دے رہا تھا
“تم بلا وجہ روئے جا رہی ہو وہ بہت اچھا لڑکا ہے تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی”
“کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی مجھے_وہ کبھی مجھ سے محبّت
نہیں کرے گا نفرت ہے شاید اسے مجھ سے”
“ارے ایسے کیسے نفرت ہو سکتی ہے تم رو نہیں میں رامش سے بات کروں گی”
“پلز اسے کچھ مت بتانا وہ کیا سوچے گا میرے بارے میں” وہ آنسوں پونچھ کر بولی تھی
“کچھ نہیں سوچے گا تم بالکل فکر نہیں کرو میں ہوں نا” وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی تھی
“میں جانتی ہوں وہ…میرا کبھی نہیں ہو سکتا”
“وہ ترک تعلق پہ تھا مائل
میں سمجھی آزما رہا ہے”
*********
ایک اور رات ایک اور درد…!
اب تو کمرہ بھی کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا رامش بھی ساتھ نہیں تھا
روز رات سڑکوں کو دکھ سناتے گزر جاتی تھی کبھی کبھی تو اسے خود پر ہی ہسی آتی تھی اور کبھی ترس یقین ہی نہیں آتا تھا کہ کبھی وہ خود کے سامنے بھی اتنا بےبس ہو سکتا ہے
وہ اس جیولری شاپ پر آیا تھا اس امید پر کہ شاید وہ ادھر ہو
لیکن ادھر وہ نہیں تھی…
وہ ناامید لوٹ آیا تھا
درد کی ایک لہر دل میں اٹھی تھی
لیکن وہ ہنس کر دبا گیا تھا
بھلا وہ کیوں ایک لڑکی کے لئے خود کو تکلیف دے…
رامش کی کال آئی تھی اس نے سکون کا سانس لیا تھا
کہ اب کچھ وقت سکون سے گزر جائے گا…
“بھولنے کی قسمیں کھا کر بھی
میں نے ہر راہ پہ تجھے ہی ڈھونڈا ہے”
*********
صبح یونیورسٹی سے سیدھا ان سب کا پلان شاپنگ پر جانے کا تھا
آیت کا نکاح اگلے ہفتے طے ہو گیا تھا
“یار ایگزیمز تو گزار لیتی اب ہم پڑھیں گے یا تمہارا نکاح انجونے کریں گے” وہ چاروں لائیبری میں بیٹھی ہوئی تھیں
“صرف نکاح انجونے کریں گے” نور فوراً بولی تھی
“ہاں ویسے بھی ایگزیمز تو ہوتے ہی رہتے ہیں اب اس کا نکاح تو ایک دفعہ ہی ہونا ہے_کیوں آیت؟” سارہ ہستے ہوئے بولی تھی
“شرم کرو…” آیت نے آنکھیں دکھائی تھیں
“ہاں ویسے بھی بھائی تمہیں کہیں جانے نہیں دیتے” وہ ہسی تھی
“ویسے سارہ یار تم بھی ٹیپیکل ننددوں کی طرح رعب چلاتی ہوئی کیسی لگو گی_کیا سین ہو گا واہ…” نور بھرپور ایکٹنگ کرتی ہوئی بولی تھی
“تم کبھی کسی کو اچھا مشورہ نا دینا” فاریہ نے نور کو ڈپٹا تھا
“ویسے آیت اگر کبھی اس نے ایسا کیا تو تم ہمیں کال کرنا آیت_ہم مل کر اسے ٹھیک کریں گے” اب وہ سارہ کو دیکھ کر بولی تھی
اور سب ہنس دی تھیں
چلو یار نکلتے ہیں پھر دیر ہو جائے گی” نور سیم کو اندر آتا دیکھ کر بولی تھی
_________
“واپس کب آ رہے ہو تم؟” فون پر بات کرتا وہ اندر داخل ہوا تھا
“ایک دو دن تک آ جاؤں گا”
“ہمم… جلدی آنا” وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا ہوا بولا
“ہادی…” بہت سوچنے کے بعد اس نے یہ فیصلہ کیا تھا
“ہاں؟” آواز تھکاوٹ سے بھرپور تھی
“اگر میں تم سے کچھ مانگوں تو تم مجھ منع نہیں کرو گے…
یہ میں جانتا ہوں!
لیکن ایسا ہو سکتا ہے کہ ابھی جو میں تم سے کہوں وہ تم بغیر کسی سوال کے مان لو؟”
“ہاں نا بولو” آنکھوں میں درد کی شدید لہر اٹھی تھی اس نے آنکھیں میچ لیں تھیں
“ہادی میں نے ایک فیصلہ کیا ہے…”
“سن رہا ہوں_” درد کی شدت سے بولنا مشکل ہو گیا تھا
“میں چاہتا ہوں تم شادی کر لو”
ہادی اپنا درد چھوڑ کر اٹھا تھا
“کیا مطلب…؟”
“کہا تھا نا کوئی سوال نہیں…” اس نے اسے یاد کروایا تھا
“اتنی بڑی بات کہہ رہے ہو تو یقینً لڑکی بھی ڈھونڈ ہی چکے ہو گے؟”
“ہاں…” وعدہ پورا کیا میں نے اپنا
“جی کون ہیں محترمہ؟”
وہی جس سے تم محبّت کرتے ہو
“فاطمہ…”
الفاظ تھے کہ گویا کوئی بم تھا جو اس وقت اس کے سر پر پھوڑا گیا رہا
“کون فاطمہ؟” آواز کسی کھائی سے آئی تھی
وہی یار جس کا نام ساری رات تم نیند میں لیتے ہو
جس کی تصویروں سے باتیں کرتے ہو
“ملوایا تھا نا تمہیں_ “
“تم…”
“اگر کوئی سوال کرنا ہے تو سیدھی طرح منع کر دو” وہ سختی سے بولا تھا
“لیکن…”
“مطلب میں سمجھوں کہ تم مجھے انکار کر رہے ہو؟” اس نے پھر ٹوکا تھا
“مرضی تمہاری…” اس نے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا
“اگلے ہفتے نکاح رکھوایا ہے گھر میں سب سے بات ہو گئی ہے آج شام میں سب کے ساتھ جاؤں گا ادھر رشتہ لے کر_”
وہ جواب میں کچھ نہیں بولا تھا…
کچھ تھا جو نہیں بولنے کو
آج شاید وہ پھر جیت گئی تھی
اور وہ پھر ہار گیا تھا
محبّت میں صرف اس کی مات لکھی تھی
لیکن
کچھ لوگ ہار کر بھی محبّت پا لیتے ہیں
اور کچھ جیت کر بھی خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں
اور وہ…
تو خوش قسمت تھا
جو محبّت
اس کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی
ورنہ بھلا محبّت
کب کسی کو آسانی سے ملا کرتی ہے
وہ اس سے دور رہ کر تو خود کو محبّت سے باز نہیں رکھ پایا
تو پاس رہ کر…
*********
وہ آج دوسری بار تیار ہوئی تھی
محبّت سے
محبّت کے لئے
“مجھے تو یقین نہیں آ رہا آیت تم نے یہ سب کیسے کر لیا؟”
“میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب تمہاری قسمت ہے اور قسمت میں لکھا تو مل کر رہتا ہے” وہ خوشی سے اس کے ہاتھ میں پہنی انگھوٹھی کو دیکھ رہی تھی جو ابھی ہی ہادی کی امی اسے پہنا کر گئی تھیں
“مجھے تو یہ سب خواب لگ رہا ہے کہیں میں آنکھیں کھولوں اور یہ سب غائب ہو جائے گا”
“ایسا کچھ نہیں ہے یہ سب سچ ہے اور تم واقعی میں مسز ہادی بننے والی ہو” اس نے اسے چھیڑا
“پتا ہے اچھی بات کیا ہے؟” وہ آیت سے پوچھ رہی تھی
“کیا…؟”
“یہ کہ ایک فوجی سے میری engagement ہو گئی ہے”
آیت اس کی بات پر ہسی تھی
“اب تو تمہارے نکاح کی تیاری کرنی ہے دو دن ہیں صرف” فاطمہ کو ایک نئی فکر لاحق ہوئی تھی
*********
نور اور فاریہ آج اکیلی ہی یونیورسٹی آئی تھیں سارہ اور آیت نکاح کی تیاریوں میں مصروف تھیں
“چلو کینٹین چلتے ہیں” وہ دونوں کوریڈور میں بیٹھی ہوئی تھیں جب فاریہ نے نور سے کہا تھا
“تم جاؤ نا پلز میرے لئے ادھر ہی لے آنا”
“کیوں تم نہیں چل رہی ہو؟”
“نہیں طبیت نہیں ٹھیک لگ رہی…” وہ بیزاری سے بولی تھی
“ڈرامے باز” فاریہ اسے گھور کر آگے بڑھی تھی
اور سچ تو یہ تھا کہ وہ سیم کی موجودگی میں ادھر جانا نہیں چاہتی تھی وہ جب سے ٹرپ سے واپس آئی تھی اسے اگنور کر رہی تھی جہاں کہیں اسے دیکھ لیتی دور سے ہی پلٹ آتی تھی اس نے کئی دفع بات کرنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ کوئی نا کوئی بہانا بنا کر ٹال دیتی…
“تو میڈم ادھر چھپ کر بیٹھی ہوئی ہیں” وہ اس کے قریب ہی آ کر بیٹھ گیا تھا
“وہ…”
“کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا؟” وہ اٹھنے لگی تھی جب اس نے بازو سے پکڑ کر واپس بیٹھایا تھا
“میں نے کیا کیا ہے؟” اس نے ناگواری سے پوچھا تھا
“ناراض ہو؟”
“میں بھلا تم سے کیوں ناراض ہوں گی؟”
“ہو سکتا ہے میری کوئی بات تمہیں بری لگی ہو؟”
“ایسا کچھ نہیں ہے اور پلز تم ہر وقت میرے راستے میں مت آ جایا کرو دور رہا کرو مجھ سے” وہ بےرخی سے بولی تھی
کوئی اور ہوتا تو وہ کبھی دوسری نظر بھی نا ڈالتا اس پر لیکن وہ خود حیران تھا اسے آج کچھ نہیں برا نہیں لگا تھا
“وجہ پوچھ سکتا ہوں؟”
“نہیں”
“پلز مجھے بتاؤ تو میری غلطی کیا ہے؟”
“تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم…” اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا تھا
“ہاں میں…؟”
“تم_ میرا پیچھا چھوڑ دو”
“یہی بات میری طرف دیکھ کر کہو”
“جاؤ ادھر سے” وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی تھی
“آنکھوں میں نمی کیوں ہے پھر؟” اس نے اپنی انگلی سے نمی مٹائی تھی
“تم پاگل ہو”
“ہاں ہو گیا ہوں…”
“کیا چاہتے ہو؟” وہ چلائی تھی
“ایک دفعہ دل سے پوچھ کر بتاؤ…؟
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی تھی
“کیا ہوا؟ ساتھ نہیں دے رہا نا؟” وہ ہنسا تھا
“دل کی نہیں مان سکتی یہ دل جن کی وکالت کرتا ہے نا وہی دھوکے باز نکلتے ہیں”
“مطلب میں دھوکے باز ہوں؟”
وہ کچھ نہیں بولی تھی
“جاؤ تمہاری گرل فرینڈز ویٹ کر رہی ہوں گی تمہارا” وہ اٹھی ہوئی بولی تھی
وہ بھی ساتھ ہی اٹھا تھا
“کس کی بات کر رہی ہو؟”
اس کی بات پر وہ طنزً ہسی تھی
“اب کوئی ایک تھوڑی ہے”
“لیکن ان میں سے کوئی بھی نور نہیں ہے” وہ سختی سے بولا تھا
اور وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی تھی
پھر کلاس میں چل دی تھی
“نور ضروری نہیں ہے” وہ آہستہ سا بولی تھی اور وہ مٹھیاں بھینچتا ہوا پلٹا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *