Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05
ارے میری گڑیا ادھر آؤ میرے پاس ایسے تھوڑی روتے ہیں” “یہ دیکھو! میں یہی دینے آیا تھا ورنہ میں نے ویک اینڈ پہ آنا تھا”علی نے اسے اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ کہا
“یہ کیا ہے؟”
“خود ہی دیکھ لو”علی نے اسے فائل پکڑاتے ہوۓ کہا”
ایڈمیشن فارم؟” سارا نے حیرانگی سے پوچھا
“ہاں میری گڑیا کا آرٹس میں ایڈمیشن کروانا ہے اس لیے آیا ہوں”
“لیکن بھائی اپنے منع کر دیا تھا اس لیے اب میں نہیں لوں گی”
“پہلے بھی میں نے منع کیا تھا اور اب بھی میں ہی رہا ہوں”
“لیکن کیوں بھائی؟”
“اس لیے کہ میں پہلے چاہتا تھا کہ تم میرے ساتھ اور پاپا کے ساتھ بزنس سنبھالو لیکن مجھے تمھارے پرنسپل کی کال آئی تھی وہ چاہتے ہیں تم آگے آرٹس پڑھو اور میں نے خود بھی تمہاری پینٹینگز دیکھی ہیں اور میں یہ فیصلہ کیے بغیر رہ نہیں سکا”
“Thank you bhaiya”
“خالی Thank you سے کام نہیں چلے گا جب میں ویک اینڈ پہ آؤ گا بریانی کھالانی پڑے گی”
“Hahaha Love you bhaiya”
*****
اپنے کمرے میں نماز پڑھ رہی تھی جب امی کی کال آئی
“آیت کیسا ہوا انٹرویو؟میں کب سے کال کر رہی ہوں اٹھا کیوں نہیں رہی؟”
“جی اچھا ہو گیا آپ کب آ رہی ہیں؟”
“بیٹا ادھر پورا خاندان جمع ہے میں نے تو بہت کہا مجھے جانے دو لیکن کوئی آنے ہی نہیں دے رہا”
“سب تمہارا بار بار پوچھ رہے ہیں ایسا کرو کل آ جاؤ تم بھی مل کر واپس آ جایں گے”
“نہیں امی مجھے ضروری کام ہے”
“آیت ایسا کون سا ضروری کام ہے کے تم اپنے کزن کے نکاح میں بھی نہیں آ سکتی”
“امی نکاح ہو چکا ہے” ضبط کے باوجود آنکھیں دھندلانے لگیں تھیں…
“ہاں لیکن سارے مہمان ابھی ادھر ہی ہیں تم بھی آ آجاؤ ساتھ واپس آ جایں گے”
“نہیں امی بس آپ کل واپس آ جائیں”
“اچھا میں کوشش کروں گی…تصویریں دیکھیں تم نے نکاح کی میں نے بھیجیں تھیں”
“نہیں امی میں نماز پڑھ کر دیکھتی ہوں”
“چلو ٹھیک ہے تم نماز پڑھو اپنا خیال رکھنا میں کل آنے کی کوشش کرتی ہوں”
“جی امی اللہ حافظ”
کال بند کر کے اس نے نماز مکمل کی تھی پھر تصویریں کھول کر بیٹھ گئی…
اسکے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی…
زین بہت خوش لگ رہا تھا اور اسکے پہلو میں بیٹھی اسکی بیوی بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی…جیسے دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہوں…تصویر ہر طرح سے مکمل تھی…جیسے کوئی کمی باقی نا رہی ہو…
کتنے خواب دیکھے تھے اس نے اس لمحے کے لیے…اب اسکی جگہ کسی اور کو دیکھ کر شدت سے دل پھٹنے کو تھا…
جوڑے تو ازل سے آسمانوں میں بنتے آ رہے ہیں…
جو جس کی قسمت میں ہوتا ہے وہ مل کر رہتا ہے پھر…پھر کیوں…انسان اس حقیقت کو قبول نہیں کرتا؟؟
“کیوں وقت سے پہلے ہی اس نے کیئے وعدے؟؟کیوں کہا کہ میں زندگی بھر تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا؟؟کیوں کہا کے تمہاری جگہ کبھی کوئی نہیں لے سکے گا؟؟کیوں نہیں لے سکتا جب رب نے پہلے ہی کسی اور کو اس جگہ کا حق دار بنا دیا ہے پھر وہ کیوں نہیں لے سکتا وہ؟؟؟ لیتا ہے… ہر حال میں لے کر ہی رہتا ہے…”
خدا ہمیں انہی کے ہاتوں توڑتا ہے جس کی وجہ سے ہم خدا کو بھول جاتے ہیں اس کی نافرمانی کرتے ہیں…
“اللہ جی مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے معاف کر دیں…مجھے تو اس کی محبّت میں اسکا لالچ نظر نا آیا لیکن تو نے مجھے بچا لیا…”
“اللہ جی ابو کا خواب تھا میں انکا بزنس ان سے بھی آگے لے کر جاؤ لیکن میں نے اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا…میں اس انسان کی باتوں میں آ گئ مجھے معاف کر دے میرے مالک…
مجھے اپنی رحمت کی لپٹ میں لے لے…”
وہ اپنی محبّت پر نادم تھی…خدا کے حضور گڑگڑا کر معافی مانگ رہی تھی…
اچانک فون کی آواز پر وہ چونکی تھی…سجدے سے سر اٹھایا تو زین کا لنک جگمگا رہا تھا…
“مبارک ہو”آیت کی آواز رونے سے بھری ہو رہی تھی
“اوہو تم رو رہی ہو؟ویسے آج تو میرے بیگم بھی نہیں روئی تم کیوں رو رہی ہو؟”
“کیونکہ تم جیسے دھوکے باز انسان پر میں نے یقین کیا”
“پلز کزن آج نہیں آج میں بہت خوش ہوں اس لیا یہ شکوے کسی اور دن کے لیے رکھ لیتے ہیں…ویسے فون اس لیا کیا تھا کے بہت اچھا کیا جو تم نے کسی کو کچھ بتایا نہیں ورنہ اویں خاندان میں تمہاری بدنامی ہوتی” زین نے طنزً کیا تھا
“یہ مت بھولو کے یہ دنیا مقافات عمل ہے جو تم نے آج میرے ساتھ کیا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی اور ممکن ہے کے اس کا بدلہ تمیں اسے دنیا میں مل جائے…”
“تمیں لگتا ہے کوئی میرا دل توڑ سکتا ہے؟آیت بی بی میں کسی کو اپنی دل تک رسائی نہیں دیتا توڑنا تو بڑی دور کی بات ہے” قہقے کے درمیان کہا گیا
“غرور انسان کو خاک میں ملا دیتا ہے مسٹر زین آلحسن”
“چھوڑو نا آیت تم بھی کیسی باتیں لے کر بیٹھ گئ ہو…ویسے آج کوئی دعا نہیں دو گی آخر نکاح ہوا ہے میرا…پہلے تو بڑی دعائیں دیتی تھی کہ میری عمر بھی آپکو لگ جائے اور پتا نہیں کیا کیا…”اسنے ہستے ہوئے کہا
“ہاں زین کیوں نہیں میرا دل چاہتا ہے تمہیں دنیا کی ہر نعمت ملے،ہر آسائس،ہر خوشی،ہر کامیابی،ہر خوائش تمہارے ہونٹوں پر آنے سے پہلے ہی پوری ہو جائے بس…بس محبّت حرام ہو جائے تم پر…آیت پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی اور کال بند کر دی…
*******
“جی سر ساری ڈیٹیلز مل گئی ہیں وہ پراپرٹی پہلے مسٹر رحمان احمد کے نام تھی جو انکی وفات کے بعد انکی بیٹی کے نام تھیں اور ابھی تقریباً دو ہفتے پہلے مسٹر زین الحسن کے نام ٹرانسفر کر دی گئی ہیں…”
“ٹھیک ہے اب اس زین کے ساتھ میری میٹنگ فکس کرواؤ باقی کام میں بعد میں بتاؤں گا”
“سر ابھی تک وہ آفس نہیں جا رہے شاید ایک ہفتے تک آ جایں”
“ٹھیک ہے جیسے ہی وہ آئے میری میٹنگ کرواؤ”
****
رات کا پچھلا پہر،مسلسل بارش، تیز ہوا اور وقفے وقفے سے گرجتی بجلی نے کسی ہارر مووی کا سمع باندھا ہوا تھا…
ایسے میں سنسان پارک میں درخت کے نیچے موجود نیلی آنکھیں اس منظر کو قید کر رہیں تھیں…
تیز ہوا اسکے سنہرے لمبے بالوں کو اردگرد پھیلا رہی تھی…
اوپر آسمان گواہ تھا کے آج سے پہلے جب بھی بارش کا موسم آتا تو ایسا لگتا کہ اس پوری دنیا کی خوشیاں ان نیلی آنکھوں میں بکھر گئیں ہیں…لیکن آج ان میں کیا نہیں تھا؟
خوف،درد،طوفان کے بعد کی خاموشی…اور گرم پانی کا سیلاب جو اسکے چہرے کو بھیگوئے ہوئے تھا اور دل جیسے ہر چیز سے اٹھ چکا تھا…بس خدا سے شکوہ کر رہا تھا کہ
“میں تو تیری ہوں”
“تو مجھ سے محبّت کرتا ہے”
“تو پھر میرے ساتھ ایسا کیسے ہونے دے سکتا ہے؟”
“تو اس پوری دنیا کا مالک ہے…تو ہر چیز پر قادر ہے”
” تو اسکا دل پھیر دے”
“میرا سب کچھ مجھ واپس لوٹا دے”
“مجھ سے میرے خواب نا چھین”
“مجھے میرے جینے کی وجہ لوٹا دے”
“آج میں اپنے خوابوں کی تعبیر کے اتنا قریب آ کر انہیں کھو نہیں سکتی”
“یا اگر تو نے چھیننا ہی ہے نا…تو میری خواہش چھین لے لیکن میرے ابو کے خواب نا چھین”
“پہلے میرے ابو مجھ سے چھین لئے اب انکے خواب تو نا چھین”
“اسکے بعد چاہے مجھے کبھی کچھ عطا نا کرنا اگر میں مانگوں تب بھی نا کرنا”
“سنیں” کسی مردانہ آواز پر وہ حال میں واپس لوٹی تو اسے احساس ہوا وہ اس پاس سے بیگانہ اونچی آواز میں بول رہی تھی
“رات یہیں خدا سے لڑ کر گزرنے کا ارادہ ہے ؟”
“نہیں…وہ میں…بس جا …وہ …لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے…
“وہ اسکی حالت کا اندازہ لگا چکا تھا اس لئے مزید کوئی سوال نا کیا”
“رات بہت ہو چکی ہے آئیں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں”
“نہیں میں چلی جاؤں گی”اس کی گھبراہٹ اس کے انداز سے صاف ظاہر ہو رہی تھی…
“دیکھیں آپ ڈریں نہیں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا کیونکہ اس ملک کی ہر بیٹی کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے”
آیت نے ایک نظر اس کی خاکی وردی پر ڈالی اور اس کے ساتھ چل پڑی…
“پارک کے گیٹ کے قریب پہنچتے ہی آیت نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کیا
“میں اپنی گاڑی میں چلی جاؤں گی”
گاڑی کے قریب پہنچتے ہی مینڈک کی فوج اس کے استقبال کے لئے پہلے سے موجود تھی اور مینڈک سے تو اسے سخت نفرت تھی…
اب اسی سوچ میں تھی کے آگے جائے یا پیچھے…کوئی چیز اس کے پاؤں سے ٹکرائی…
ساتھ ہی اس کی چیخ بلند ہوئی…
نیچے گرنے کو ہی تھی کہ کسی کے مظبوط ہاتھوں نے اسے پیچھے سے تھام لیا تھا…
“میں نے کہا تھا کہ میں چھوڑ آتا ہوں”
“لیکن میری گاڑی؟” آیت نے شرمندگی سے منہ جھکاتے ہوئے کہا
“یہ ہیں نا مینڈک کی فوج آپ انہیں بتائیں یہ چھوڑ آئیں گے”
رامش نے اسکا موڈ ٹھیک کرتے ہوئے کہا
“انکو میرے گھر کا راستہ نہیں پتا” آیت نے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا اور آگے چل دی…
“اوہ!میں تو مذاق کر رہا تھا آپ غصہ نا ہوں آپ چلیں میرے ساتھ اسے میرا ڈرائیور لے آئے گا”
آیت نا چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چل پڑی…اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی اور ایسے میں وہ گاڑی ڈرائیو نہیں سکتی تھی…
گھر کا پتہ بتانے کے بعد وہ سارا راستہ سیٹ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیئے ہوئے تھی…
اچانک اسے گاڑی رکنے کا احساس ہوا…اسنے آنکھیں کھولیں اور اسے گاڑی سے نکلتے ہوے دیکھا
کچھ دیر بعد وہ واپس لوٹا تو اس کے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ اور کچھ دوائیاں تھیں جو اس نے آیت کی طرف بڑہائیں…
“یہ کس لیے؟”
“آپ کے لیے”
“لیکن میں نے تو نہیں منگوائیں” آیت نے حیرانگی سے دوائیوں کی طرف دیکھا
“جی آپ نے نہیں منگوائیں لیکن آپ کو تیز بخار ہو رہا ہے گھر پہنچنے میں مزید ایک گھنٹہ لگ جائے گا”
“آپ کو کیسے پتا مجھے بخار ہے؟”اسکی حیرانگی میں مزید اضافہ ہوا تھا
“ان مینڈک کی فوج نے بتایا”رامش نے مسکراہٹ ڈوباتے ہوے کہا
آیت نے اسے گھور کر دیکھا تھا
“آپ میرا مذاق بنانا بند کریں ورنہ میں پیدل بھی گھر جا سکتی ہوں”
“ارے نہیں نہیں میرا مطلب تھا کے جب آپ ان سے ڈر کر گرنے لگیں تھیں تو میں نے ہی آپ کو پکڑا تھا تب مجھے پتا چلا”
آیت نے غصے سے منہ دوسری طرف کر لیا
“ایک تو پہلے ہی میں اتنی تکلیف میں ہوں اوپر سے یہ نئ آفت میرے سر پر سوار ہو گئی ہے”اسنے دل میں سوچا
“اب اسے کھا لیں اس سے پہلے بخار اور تیز ہو جائے اور ہاں آگے راستے میں کوئی ہسپتال بھی نہیں ہے”
آیت نے ایک نظر اس پر ڈالی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا…
ایک دم اسکی نیلی آنکھیں اسکے یونیفارم پر ٹھہر گئیں جس پر لکھا تھا
“کیپٹن محمّد رامش”
“فاطمہ کو اگر پتا چلا کے ایک فوجی وہ بھی کیپٹن مجھے گھر چھوڑنے آیا ہے…وہ تو خوشی سے پاگل ہو جائے گی”
اس نے اپنی دوست کے بارے میں سوچا
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں؟
مجھے پتا ہے میں بہت handsome ہوں”رامش نے اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا…ایک دفعہ کے لیے تو اسے ایسے لگا کہ اگر اس نے نیلی آنکھوں سے نظر نا ہٹائی تو ان میں ڈوب جائے گا…
“کتنی گہری ہیں یہ آنکھیں…لیکن پتا نہیں انہیں تکلیف پہنچانے والا کون ہو گا”
“نہیں کچھ نہیں…میں وہ…پانی چائیے تھا…آیت نے اسے اپنی طرف متوجہ پا کر گڑبڑا کر کہا
“ہاں وہ میں نے پچھلی سیٹ پر رکھا ہے”
آیت دوا لے کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی…
“یا اللہ تیرے بندوں میں کتنا فرق ہوتا ہے…کوئی اپنا نا ہو کر بھی اپنوں کی طرح خیال رکھتا ہے…اور کوئی اپنا ہو کر بھی ہمیں توڑ دیتا ہے جیسے ہمارا انکے ساتھ کوئی رشتہ ہی نا ہو…کوئی تیری خاطر اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے قربان کر دیتا ہے
جیسے تیرا یہ بندا اس وردی کو پہننے والا ہر بندا اپنے ملک کے لیے اس کے لوگوں کے لیے… جس سے ان کا کوئی ذاتی رشتہ بھی نہیں ہوتا تیری خاطر اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں…شہادت کی دعایں مانگتے ہیں تاکے تیرے سامنے سر خرو ہو سکیں…
اور کچھ لوگوں کے دل میں تیرا ذرا بھی ڈر یا خوف نہیں ہوتا… وہ جیسے تجھے جانتے ہی نہیں…جانتے ہی نہیں ہیں کہ کبھی انکی بھی پکڑ ہوگی….کیسے دوسروں کے دلوں کو کچل کررکھ دیتے ہیں کیسے لوگوں کے خوابوں کو توڑ دیتے ہیں…یہ جانے بغیر کہ انکے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں پوری زندگی انکی آنکھوں کو زخمی کرتی رہتی ہیں….شاید انکو نہیں پتا کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے جو بھی ہم کسی کے ساتھ کرتے ہیں اسکا اچھا یا برا بدلہ اس دنیا میں ہی ہمارے سامنے آجاتا ہے”
“میرے مالک میری مدد فرما…میں نے تو کبھی تیرے بندوں کا دل نہیں توڑا کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تو پھر میرے ساتھ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟”
رامش نے دیکھا وہ کافی دیر سے بغیر آواز کے رو رہی تھی اسکے دل کو کچھ ہوا تھا
“اتنی تکلیف ؟کتنا برا کیا کسی نے اسکے ساتھ اے میرے مالک اسکی مدد فرما…میں نے اپنے لیے کبھی کچھ نہیں مانگا…اپنا آپ بھی اس ملک کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن آج میں اس کے لیے خوشی مانگتا ہوں اسکی زندگی میں جو بھی تکلیفیں،دکھ،درد ہیں سب مٹا دے” (اچانک اسکے دل سے رعا نکلی تھی )
اور کاتب تقدیر کو اسکی معصوم دعا اتنی پیاری لگی کہ اسنے اس دعا پہ کن فرما دیا تھا
کچھ دیر بعد گاڑی کالونی میں داخل ہوئی اور ساتھ ہی فجر کی اذان سنائی دینے لگیں تھیں
“گھر کس طرف ہے آپکا؟” رامش نے پوچھا
آیت کچھ دیر سوچنے کے بعد فاطمہ کے گھر کا پتا بتا دیا تھا…
“فل حال میں اس حال میں اپنے گھر نہیں جا سکتی ورنہ امی کو سب پتا چل جائے گا اور میں انھیں اب اور دکھی نہیں دیکھ سکتی انھیں تو میرے ہنستے ہوئے چہرے کے پیچھے چھپی میری تکلیف کا اندازہ ہو جاتا ہے پھر اس حالت میں تو وہ فوراً جان جائیں گی”
رامش نے گھر کے گیٹ کے پاس گاڑی روک دی تھی
آیت گاڑی سے اتر کر بیل بجا چکی تھی اسے احساس ہوا کہ وہ تو ابھی تک گاڑی میں ہی ہے
وہ اسکے پاس گئی تھی…
اندر نہیں آئیں گے آپ؟
“نہیں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے امی پریشان ہو رہی ہونگی”
“تو آپ انھیں فون کر کے بتا دیں”
رامش جواب دیتا اس سے پہلے فاطمہ کے چلانے پر دونوں نے پریشان ہو کر ادھر دیکھا جو کھڑی انکی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی
“اتنا برا سرپرائز؟”
کم از کم ایک فون ہی کر دیتی یہ تو اچھا ہوا کہ میں نماز کے لیے اٹھی ہوئی تھی ورنہ یہیں کھڑی بیل بجاتی رہتی”
“اب آ گئی ہوں تو اندر آنے دو گی؟” اس نے گاڑی کی طرف متوجہ کروایا
ایک دم پہلے سے بھی زیادہ اونچی چیخ بلند ہوئی تھی
“فوجی” آیت ذرا مجھے چٹکی کاٹنا یہ سچ میں فوجی ہے؟”
“اور یہ سچ میں تمھارے ساتھ آیا ہے؟”
“جلدی بولو اب چپ کیوں کھڑی ہو؟”
“اب تم چیخیں مارنا بند کرو گی تو میں کچھ بولوں گی نا اور یہ باتیں اندر جا کر کرتے ہیں ورنہ تم سارے محلے کو اٹھاؤ گی”
“ہاں ہاں اندر چلو”
آیت اندر جا چکی تھی وہ جانتی تھی کہ فاطمہ ہی اب رامش کو اندر لا سکتی ہے
رامش بھی اس سب گفتگو کے دوران گاڑی سے باہر آ چکا تھا
فاطمہ اب اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی…جسکی خوشی کہ کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا
“آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں اندر چلیں کیوں کہ میں ایک فوجی کو اتنی ٹھنڈ میں باہر کھڑا نہیں کر سکتی”
پتا نہیں کیا تھا اسکے لہجے میں کہ وہ اسے منع نہیں کر سکا اور اسکے ساتھ اندر چل پڑا ویسے بھی اسے فجر کی نماز پڑھنی تھی
“ویسے فوجیوں کو اس معمولی ٹھنڈ سے خاص فرق نہیں پڑتا”
رامش نے بھی مسکراہٹ سجاتے ہوئے جواب دیا
“ہاں مجھے پتا ہے فوجی بہت بہادر ہوتے ہیں لیکن اس وقت آپ ہمارے مہمان بھی ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ آپکو تھوڑی سی بھی تکلیف ہو…
لگتا ہے آپ فوجیوں کی کافی بڑی فین ہیں؟
صرف فین؟”
“نہیں یہ لفظ بہت چھوٹا ہے میں دل و جان سے صرف فوجیوں کی ہی نہیں بلکہ پوری پاک آرمی کی عزت کرتی ہوں اور … فاطمہ کی بات ابھی جاری تھی کہ اسکی امی باہر لاونج میں داخل ہوئیں
!”السلام و علیکم بیٹا کیسے ہو؟
“وعلیکم اسلام آنٹی بلکل ٹھیک”
فاطمہ تمھیں پتا نہیں کب عقل آنی ہے دروازے میں ہی شروع ہو گئی ہو اسکو اندر لے کر جاؤ…
“جی جی امی وہیں لے کر جا رہی ہوں آپ فکر نہ کریں “
“بیٹا ناشتہ کیا کرو گے؟”
امی نے جاتے جاتے پوچھا
“نہیں آنٹی میں بس نماز پڑھ کر نکلو گا پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے”
“ارے! ایسے کیسے؟ آپکو ناشتہ تو کرنا پڑے گا میں پاک آرمی کی کتنی بڑی فین ہوں ایسے تھوڑی جانے دوں گی”
فاطمہ نے شرارت سے کہا اور اسے اندر لے گئی تھی…
“اب آپ فریش ہو جائیں میں تب تک ناشتہ تیار کرتی ہوں”
رامش کو کمرے میں چھوڑ کر وہ اب اپنے کمرے میں آ گئی تھی اسے پتا تھا کہ آیت ادھر ہی ہوگی
“آیت کیسی ہو؟ اور اتنی صبح کیسے آگئی اور بتایا بھی نہیں”
“ہاں بس کل آخری پیپر تھا تو سوچا گھر چلی جاؤں”
“تم روتی رہی ہو”؟ فاطمہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا جو وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی…
“نہیں تو” آیت نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
“اچھا پھر تمہاری آنکھیں کیوں لال ہو رہی ہیں؟”
فاطمہ نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا
آیت نے سوچا کہ اگر اسے ابھی سارا کچھ بتایا تو یہ پریشان ہو جائے گی اور ابھی اسکے پیپر بھی مکمل نہیں ہوئے
“نہیں نہیں ابھی نہیں بتا سکتی” اس نے سوچا
“یار وہ ابو کی وفات کے بعد پہلی دفعہ گھر آئی ہوں نا بس اسی لیے”
“میری جان بس جو میرے مالک کی مرضی…وہ اللہ کی امانت تھے جن کو انہوں نے واپس لے لیا تم پریشان نہیں ہو” اس نے آیت کو تسلی دیتے ہوئے کہا
“ٹھیک کہ رہی ہو تم”
‘اوہ! یار میں تو ناشتے کا بھول ہی گئی تم چینج کرو میں ناشتہ لگاتی ہوں”
“ویسے ایک بات بتاؤ؟”
(سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا)
آیت واش روم کی طرف بڑھتی ہوئی رکی
“ہاں پوچھو؟”
“یہ اتنا پیارا فوجی کہا سے ملا؟” ایک شرارتی مسکراہٹ اچھالی گئی
“اغوا کیا ہے” آیت چیخ کر کہتی واش روم میں چلی گئی
“تم سے تو میں بعد میں پوچھتی ہوں”
فاطمہ کہتی ہوئی کچن میں چلی گئی تھی…
کچھ دیر بعد آیت کپڑے بدل کر ڈرائنگ روم میں آئی جہاں رامش وضو کر کے جائے نماز ڈھونڈ رہا تھا
“کچھ چاہیے تھا “؟
آیت نے آہستہ سے پوچھا
“ہاں !جائے نماز چاہیے تھی”
“میں دوسرے کمرے سے لاتی ہوں ادھر شاید نہیں ہے”
آیت جائے نماز دینے کے بعد اب برتن لگانے لگی تھی
رامش کو نماز پڑھتا دیکھ کر وہی رک گئی… کتنا سکون تھا اسکے چہرے پر جیسے اسکے پورے چہرے پر نور ہی نور تھا …جو لوگ خدا کے لیے اپنی جان ہر وقت قربان کرنے کو تیار رهتے ہیں…جو لوگ خدا سے محبت کرتے ہیں…خدا انکو نور عطا کرتا ہے…کتنے پیارے ہوتے ہیں نہ یہ لوگ جن کو دنیا سے کوئی غرض نہیں…انکا ہر وعدہ خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر خدا انکو اتنی طاقت عطا کرتا ہے کہ انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا… انکے ناموں سے دشمن ممالک بھی کانپ اٹھتے ہیں اور ایک ہم لوگ ہیں جو امیدیں انسانوں سے لگاتے ہیں اور انہی کے ہاتھوں ٹوٹتے رهتے ہیں
“آیت” رامش کی آواز پے وہ پلٹی اور اور دیکھا وہ نماز بھی پڑھ چکا تھا اور وہ ابھی تک انہی سوچوں میں گم تھی
“جی “
آیت نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا
“ادھر آؤ…یہاں بیٹھو”
رامش نے ساتھ والے صوفہ کی طرف دیکھتے ہوئے اشارہ کیا
“آیت مجھے نہیں پتا تمہے کیا پریشانی ہے لیکن پارک میں میں نے تمہیں خدا سے دعا کرتے دیکھا تھا…اس دعا میں دعا کم اور شکوہ زیادہ تھا…میں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر یہ تم پر کوئی آزمائش ہے تو تمھے شکوہ کرنے کے بجائے صبر کی توفیق مانگنی چاہیے کیوں کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ انہی بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جن کو وہ خود سے قریب کرنا چاہتا ہے اور جو بندے آزمائش میں ثابت قدم رهتے ہیں وہی اسکے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوتے ہیں
آیت آنسوؤں کے سمندر کو حلق میں اتار رہی تھی لیکن اب اسکی برداشت جواب دینے لگی تھی
وہ کمرے سے باہر آگئی کیوں کہ وہ اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
رامش اس کو کمرے سے باہر جاتا دیکھتا رہا تھا وہ اسکی نیلی آنکھوں میں نمی دیکھ چکا تھا
اسنے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی اتنے میں فاطمہ اور اسکی امی ناشتہ لگا چکے تھے
” بیٹا آو کھانا لگا دیا ہے”
ساجدہ بیگم نے کمرے میں آکر کہا
سب ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے کہ ساجدہ بیگم نے فاطمہ کو آواز دی کہ آیت کو بھی بلا لاؤ…
“جی امی “
فاطمہ جواب دیتے ہوئے کمرے سے آیت کو بلا لائی تھی
“آیت بیٹی تم نے بیٹے کا تعارف نہیں کروایا”
ساجدہ بیگم نے پیار سے رامش کی طرف دیکھتے ہوے کہا
رامش اسکی بھیگی ہوئی نیلی آنکھیں دیکھ چکا تھا اس لیے فوراً خود ہی بولا
آنٹی وہ آیت کی گاڑی خراب ہو گئی تھی میرا گھر بھی یہاں قریب ہی ہے تو بس میں انکو یہاں لے آیا
رامش نے بات بناتے ہوئے کہا
وہ جانتا تھا کہ آیت کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں گھر والوں کو اسنے کچھ نہیں بتایا کیوں کہ وہاں سب خوشگوار موڈ میں ہی تھے
بیٹا تمہارا بہت بہت شکریہ…تمہارا احسان رہے گا ہم پے اگر تم نہ ہوتے تو پتا نہیں ابھی تک میری بچی مصیبت میں ہی ہوتی
ساجدہ بیگم نے فکرمندی سے کہا
آنٹی اب آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں میں اس ملک کا محافظ ہوں اور یہ میرا فرض تھا
آیت بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی…یہ کون تھا جو اسکے بغیر کچھ کہے ہی سب سمجھ گیا تھا اور اب اگر وہ سچ بتا دیتا تو وہ کیا جواب دیتی
رامش اب فاطمہ سے باتوں میں مصروف تھا لیکن آیت اس کی نظروں کی تپش کو خود پر محسوس کر سکتی تھی…اسی لمحے رامش نے اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھا جو اسی کی طرف متوجہ تھی…پتا نہیں کیا تھا ان گہری نیلی آنکھوں میں کہ کچھ دیر کے لیے وو نظر ہٹانا بھول گیا تھا…
“Ramish are you committed with someone?”
فاطمہ کی آواز پر وہ چونکا
No! Not Yet…
ویسے حیرانگی کی بات ہے اتنا handsome caption
جاری ہے
