653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12

اگر تم اسی کا ساتھ چاہتی ہو اس کے بغیر زندگی گزارنا تمہارے لئے واقعی ناممکن ہے تو…” اس نے گہرا سانس فضا میں خارج کیا تھا
“تو….کیا؟”آیت نے ڈرتے ہوئے خود سے پوچھا تھا
“کیا کہنے والا ہے وہ؟” اسکی دھڑکن تھمی تھی
“تو تمہیں وہ…میں لا کر دوں گا” پہلی دفعہ بولتے ہوئے اس نے آیت کی آنکھوں میں دیکھا تھا
اور آیت اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اس نے شاید کچھ غلط سنا ہو
“اب تم جاؤ اندر سب کے ساتھ انجوئے کرو” وہ بھی اٹھا تھا
“کیا سب اتنا آسان ہے” وہ خود سے پوچھ رہی تھی
“میں تمہارے جواب کا انتظار کروں گا” وہ اسے دیکھ کر آگے چل دیا تھا اور وہ وہیں بیٹھی اس کی بات کا یقین کر رہی تھی
پھر کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھی رہی تھی
خالی خالی نظروں سے سامنے دیکھتی رہی تھی جدھر وہ غائب ہوا تھا
“آیت تم بھی حد کرتی ہم تمہیں آدھے گھنٹے سے ڈھونڈ رہے ہیں اور تم ادھر ہو” سارہ کو دیکھ کر وہ اس کی طرف آئی تھی
سارہ کو وہ ٹھیک نہیں لگی تھی اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا
“کیا ہوا آیت؟”
“سر میں درد تھا اس کے…” فاریہ نے جواب دیا تھا
“تو میڈیسن نہیں دی تم نے اس کو؟”
“لے لی تھی تم بتاؤ کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہی ہونا ہے اب اس نے” فاریہ نے ہستے ہوئے اسے چھڑا تھا
“کیسا رہا فنکشن؟”
“کیا بتاؤ تمہیں آیت نا پوچھو توبہ توبہ” فاریہ کے انداز پر وہ بھی ہنس دی تھی
“اچھا چلو یار نور کی بھی کالز آ رہی ہیں اس کے پاؤں پر کانچ لگ گیا ہے”
“ہائے کیسے؟”
“اب یہ تو چل کر ہی پتا چلے گا”
“نظر ہی لگ گئی ہے کسی کی”
******
وہ یونیورسٹی سے تو نکل آیا تھا لیکن اس کا دماغ ادھر ہی اٹکا ہوا تھا_کیسے کوئی لڑکی اتنی معمولی سی بات پر خود کو زخمی کر سکتی ہے وہ ابھی تک بےیقین تھا…
“سیم سعد کی کال ہے سر نے ڈرامہ کینسل کروا دیا ہے”
اس نے بےچینی سے ہاتھ میں پکڑی سنوکر سٹک ساتھ کھڑے احمد کو پکڑائی تھی
“کیا ہوا؟” وہ جوابً پوچھ رہا تھا
“کچھ نہیں آج موڈ نہیں ہے کھیلنے کا”
“All well?”
“نہیں یار” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا پیچھے جا کر بیٹھ گیا تھا
“کیا بات ہے پہلے یونیورسٹی بلاوجہ نکال آئے اور اب…؟”
“اس نے خود کو زخمی کر لیا تھا اس لئے ڈرامہ کینسل ہوا ہے” اس نے پانی کی بوتل منہ کو لگاتے ہوئے کہا
“کس نے؟ نور کی بات کر رہے ہو؟”
“ہاں”
“لیکن کیوں؟” وہ بھی حیران تھا
“اس لئے کہ وہ میرے ساتھ پرفارم نہیں کرنا چاہتی تھی اور اگر وہ منع کرنے کی کوشش کرتی تو سر کبھی نہیں مانتے” اس نے بوتل کا ڈھکن لگاتے ہوئے اسے دور آئس ریک پر اچھالا تھا
“نا کر یار…”وہ ہنسا تھا
“ویسے پہلی دفعہ تجھے کوئی تیری ٹکر کی ملی ہے” وہ اسے گھور کر اٹھا تھا
“اب کدھر؟”
“پتا نہیں” وہ جیکٹ اور گاڑی کی چابی اٹھاتا ہوا سنوکر کلب سے باہر نکلا تھا
وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا تھا اور اب اس کا رخ یونیورسٹی کی طرف تھا
اسے اس طرح پہلی دفعہ کسی لڑکی کے پیچھے جانا عجیب لگ رہا تھا لیکن خود کو بہت روکنے کے بعد بھی وہ نہیں رک سکا تھا
یونیورسٹی آ کر وہ ریہرسل روم کی طرف بڑھا تھا اور اس لمحے اس کی دعا قبول ہوئی تھی اور وہ ابھی تک روم میں ہی تھی…
پاؤں کی ڈریسنگ کر دی گئی تھی جسے وہ ٹیبل پر رکھے چیئر پر بیٹھی سامنے پریکٹس کرتی لڑکیوں کو کوئی ہدایت دے رہی تھی
وہ کچھ سوچ کر آگے بڑھا تھا
“یار کدھر چلے گئے تھے تم اتنے کام تھے ادھر تم سب اس سعد کام چور کے حوالے کر کے چلے گئے تھے” سر کی آواز پر باقی سب کے ساتھ وہ بھی پلٹی تھی اور اسے دیکھ کر منہ جھٹک کے پھر سے سامنے والوں کو ہدایت دینے لگی تھی
“جی سر وہ ایک ضروری کام تھا اپ بتائیں اگر کچھ ہے تو؟”
“اب ہو گیا ہے سب بس یہ لاسٹ پرفارمنس ہے اور ہاں وہ تمہاری کو پارٹنر کا تو پاؤں کافی زخمی ہو گیا ہے اس لئے پلے کینسل کرنا پڑا”
“اوہ میں ذرا پوچھ لوں ان سے” اس نے اجازت طلب نظروں سے انھیں دیکھا تھا
“ہاں ہاں ضرور”
وہ چلتا ہوا اس کے پاس والی چیئر پر بیٹھ گیا تھا اور وہ کرنٹ کی سی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی
اٹھنے کی وجہ سے پاؤں پر دباؤ پڑا تھا اور خون رسنے لگا تھا
“پلز بیٹھیں” وہ اسے اٹھتے دیکھ کر فوراً اٹھا تھا
“چلے جاؤ یہاں سے اور آئندہ میرے سامنے مت آنا” وہ اسے انگلی اٹھا کر وارن کر رہی تھی
وہ بنا کچھ کہے پلٹ آیا تھا
سارہ آیت اور فاریہ اندر داخل ہوئیں تھیں اور اسے ایسا کرتے دیکھ چکی تھیں
“یہ کیا حرکت تھی؟” فاریہ پاس آ کر غرائی تھی
اس کی بات پر اس نے ساری سٹوری انھیں سنائی تھی اور وہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھیں
“جو بھی ہے تم نے بہت غلط کیا” آیت اسے گھور رہی تھی
“کوئی ایسے بھی کرتا ہے اپنے ساتھ؟ اتنا ہی اگر تھا تو شیشہ اٹھا کر اس کے پاؤں پر مارنا تھا” سارہ کو بھی اسکی حرکت پر غصہ آ رہا تھا
“اب دیکھنا دادی نے اسے دو ہفتے یونیورسٹی ہی نہیں آنے دینا” فاریہ صدمے سے بول رہی تھی
“ارے نہیں دادی کو کس نے بتانا ہے” نور لاپرواہی سے بولی
“تو جب اس طرح لنگڑی بن کر گھر جاؤ گی تو جیسے کسی کو نظر نہیں آئے گا”
“اچھا نا پلز ارحم کو کال کرو آ کر لے جائے بڑا درد ہو رہا ہے” اس نے اپنی خون والی پٹی کھولتے ہوئے کہا
“ادھر لاؤ میں دوسری کرتی ہوں” سارہ اسکی پٹی بدلنے لگی تھی
“ویسے سب بہت ہی پیاری لگ رہی ہو خاص طور پر نور” سارہ ہستی ہوئی بولی
“ہاں سچ تمہیں آ گیا یاد یونیورسٹی آنا بدتمیز نے کتنا انتظار کروایا” نور کو بھی یاد آیا تھا اور اس کی بات پر سب ہنس دی تھیں
فاریہ نے اس لمحے کو اپنے فون میں قید کر لیا تھا “ایک میٹھی یاد” بنا کر!
******
آیت گھر آئی تو فاطمہ کو اپنے بیڈ پر سوتے دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی وہ شروع سے ایسا ہی کرتی تھی جب کبھی نیند نا آتی آیت کے پاس آ جاتی تھی اور آ کر فوراً سو بھی جاتی تھی اور آیت کو آج تک اس کا یہ لاجک سمجھ نہیں آیا تھا…
“یار میرے بیڈ پر کون سی لوری ملتی ہے جو تمہیں اپنے بیڈ پر نہیں ملتی؟” آیت کے ہر دفعہ پوچھنے پر ایک ہی جواب ملتا تھا
“تم نہیں سمجھو گی”
آیت چینج کر کے اس کے پاس ہی آ کر لیت گئی تھی
“چلتا رہنے دو” اس کے لیمپ بند کرنے پر فاطمہ بولی تھی
“تم اٹھی ہوئی ہو؟”
“ہاں تمہارا انتظار کر رہی تھی کیسی رہی پارٹی؟
“اچھی تھی”
“شکل سے تو نہیں لگ رہا” وہ آیت کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“فاطمہ…” اس کی پریشانی آواز سے ہی عایاں ہو رہی تھی
“بولو کیا بات ہے؟” وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی
“یار آج رامش آیا تھا یونیورسٹی”
“کیوں؟” اسے بھی حیرت ہوئی تھی
“پتا نہیں لیکن اس وقت میں باہر لان میں تھی اندر گھٹن ہو رہی تھی” اور پھر اس نے اسکے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو اسے بتا دی تھی
“آیت تم پاگل ہو محبّت تمہارے در پر دستک دے رہی ہے اور تم سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو” وہ دکھ سے کہہ رہی تھی
“کیا مطلب؟” اسے فاطمہ کو بات سمجھ نہیں آئی تھی
“مطلب یہ کہ…کیا تمہیں کبھی رامش کی آنکھوں میں اپنے لئے محبّت نظر نہیں آئی؟”
الفاظ تھے یا گویا کوئی بم آیت کو سمبھلنے میں وقت لگا تھا
“یہ…تم کیا…کہہ رہی ہو؟” بمشکل الفاظ اس کے منہ سے نکلے تھے
“ہاں آیت ٹھیک کہہ رہی ہوں میں وہ محبّت کرتا ہے تم سے لیکن افسوس تمہاری آنکھوں پر تو دھوکے کی پٹی بندھی ہوئی ہے جو تمہیں محبّت دیکھنے ہی نہیں دیتی”
“چپ کر جاؤ فاطمہ چپ کر جاؤ ورنہ میرا دماغ پھٹ جائے گا” وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی
تم لیٹ جاؤ پلز…
“آیت تم نے جو کرنا تھا اپنی مرضی سے کر لیا اب میں تمہیں اپنے ساتھ کچھ غلط نہیں کرنے دوں گی میں یہ نہیں کہتی کہ تم رامش کی محبّت کو ایکسپٹ کرو لیکن میں تمہیں تمہیں تمہارے ماضی میں بھی جانے نہیں دوں گی” وہ اس کا سر دباتے ہوئے بولی
“زین تم سے محبّت نہیں کرتا کسی کو اذیت پہچنا، کردار کی دھجیاں اڑانا محبت نہیں ہوتی میری جان”
آیت آنکھیں بند کر کے اسے سن رہی تھی
“میں جانتی ہوں فاطمہ لیکن پھر مجھے یقین کیوں نہیں آتا؟ وہ بند آنکھوں میں ازیت سموئے ہوئے بولی
“کیوں کہ تم یقین کرنا ہی نہیں چاہتی”
رامش بھی یہی کہتا ہے…فاطمہ کی بات پر وہ سوچ رہی تھی
آیت کیا تمہیں واقعی رامش کی کوئی اچھائی نظر نہیں آتی…
“میں نے کب کہا کہ وہ اچھا نہیں ہے”
“آیت تم سمجھ کیوں نہیں رہی کوئی بلا وجہ کسی کے لئے گولی نہیں کھاتا اور تم مت بھولو کہ گولی چلانے والا کون تھا اور اگر وہ نہیں آتا تو وہ تمہیں بھی گولی مار سکتا تھا”
“پلز آیت کبھی سوچنا کہ رامش تمہاری کتنی کیئر کرتا ہے وہ کسی کے بغیر بتائے ہی تمہارے ہر مسلئے سے باخبر ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے وہ تمہارے لئے پرفیکٹ ہے”
“فضول باتیں نہیں کو فاطمہ میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گی کہ وہ میری زندگی میں آئے”
“آیت اپنی محبّت کسی کے حوالے کرنے کا دکھ تم اچھی طرح سمجھ سکتی ہو اور وہ خود تمہیں کسی اور کو سونپنے کے لئے تیار ہے…”
“یقین کرو آج اس کی قدر میری نظر میں اور بڑھ گئی ہے”
آیت جواب میں کچھ نہیں بولی تھی جس کے پاس کچھ تھا ہی کب بولنے کو…
فاطمہ نے اٹھ کر لیمپ بھجھا دیئے تھے
اور آیت نہ جانے کب تک اندھرے میں چھت کو گھورتی رہی تھی…
‏چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
محبت پر
عنایت پر
کہ بے بنیاد باتیں ہیں
سبھی رشتے
سبھی ناطے
ضرورت کی ایجادیں ہیں
کہیں کوئی نہیں مرتا
کسی کے واسطے جاناں
کہ سب ہے پھیر لفظوں کا
ہے سارا کھیل حرفوں کا
نہ ہے محبوب کوئی بھی
سبھی جملے سے کستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں…
******
رامش کے سیل پر میسج ٹون نے ہادی کو متوجہ کیا تھا
رامش دنیا جہاں سے بےخبر سو رہا تھا اور ہادی ساتھ لیٹا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا
اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا تھا اور اوپر نام دیکھتے ہی اس کا دل چاہا فون اٹھا کر دیوار میں مارے…
“I am very proud of you pure soul please still same always”
میسج پر فاطمہ کا نام اسے بری طرح غصہ دلا گیا تھا…
وہ لیپ ٹاپ بند کرتا بیڈ سے اتار آیا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میسج کرنے والی سے جا کر پوچھے کہ یہ کس انداز میں تم اس سے مخاطب ہوl…
اس نے جیب سے لائیٹر نکالا تھا اور اس کے نام کا دھواں اردگرد بھکیرنے لگا تھا
*****
وہ کتنی دیر سے اپنا سر سجدے میں رکھے اپنے رب کے سامنے اپنے ہر جذبے کا اعتراف کر رہا تھا…وہ اعتراف کر رہا تھا اپنی محبّت کا…وہ اعتراف جو وہ آج تک خود اپنے دل کے کسی دور سے کونے میں چھپائے ہوئے تھا
اسے اس لمحے خود پر بڑا ترس آیا تھا…
بھلا محبّت بھی کیسی تھی_جب اعتراف کا وقت آیا ساتھ ہی قربان کرنے کا بھی آن پہنچا
کافی دیر بعد وہ تھوڑی سی ہمّت جمع کر کے اٹھا تھا
“اللہ‎ پاک سب آپ کے حوالے کر رہا ہوں جو آپ کی مرضی ہو اسے میری مرضی بھی بنا دیجیے گا”
اس کے پاس پڑا فون بجنے لگا تھا
اس نے ہاتھ منہ پر پھیر کر کال پک کی تھی
“ہاں بولو” وہی گرج دار آواز…تھوڑی دیر پہلے سے بالکل مختلف
خدا کے سامنے انسان بچہ بن جاتا ہے ایسے جیسے ساری طاقت سائیڈ پر رکھ کر بس اپنی بےبسی اور لاچاری لے کر خدا کے سامنے پیش ہوتا ہے پھر آنسوں بھی گریں تو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ کوئی کمزور سمجھے گا بلکہ کبھی کبھی تو انسان جان بوجھ کر بھی رو دیتا ہے کہ کیا پتا خدا کو آنسوؤں پر ترس آ جائے اور وہ میری آزمائش ختم کر دے…
“سر آپ کا کام ہو گیا ہے” اس نے آنکھیں میچتے ہوئے گہرا سانس چھوڑا تھا
“ٹھیک ہے اسے فلحال ہوٹل میں شفٹ کرو میں تھوڑی دیر میں پہنچتا ہوں”
اس نے اپنے ریسورسز سے زین کو جیل سے نکلوا لیا تھا_آیت کے لئے_اس کہ کہنے پر!
“میں جانتی ہوں وہ بے وفا نکلا اس نے آپ پر گولی چلائی اس نے میرے خواب چھینے اس نے مجھے دھوکہ دیا…لیکن میں کیا کروں کہ یہ دل اس سے دربدر ہونے کو تیار ہی نہیں_میرے اخطیار میں کچھ نہیں ہے…سوائے اس کے!” آیت کے الفاظ نے اسے یہ سب کرنے پر مجبور کیا تھا
تِری آرزو نے مجھ پر____بڑے قہقہے لگائے
مِری بے بسی نے — مجھ پر بڑی تالیاں بجائیں،،،
******
نور دو دن سے یونیورسٹی نہیں آ رہی تھی اور ان تینوں کا تو پورا دن ہی اس کی وجہ سے بور گزرتا
“یار آج میں اور آیت تمہارے ساتھ چلیں گے نور کا پتا لینے” سارہ نے کلاس سے نکلتے ہی فاریہ سے کہا
“موسٹ ویلکم! ویسے بھی وہ تو پکا ارادہ کر کے بیٹھی ہوئی ہے جب تک تم لوگ اس کی عیادت کرنے نہیں آؤ گے وہ یونیورسٹی ہی نہیں آئے گی “
“ڈرامے باز ہے پوری” آیت بھی ہنسی تھی
“چلو پھر چلتے ہیں ورنہ لیٹ ہو گئی تو وارڈن ہوسٹل ہی نہیں آنے دے گی”
“ہاں ہاں چلو ویسے بھی اگلا لیکچر لینا کا میرا کوئی موڈ نہیں…”
وہ لوگ اگلے آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ گئی تھیں…
ان کا گھر پرانےٹریڈیشن کا تھا سارہ امپریس ہوئے بغیر نہیں رہ سکی تھی اور وہ بار بار ہر چیز کی تعریف کر رہی تھی
آیت کو بھی وہ بہت یونیک لگا تھا
فاریہ نے ان دونوں کو سب سے ملوایا تھا گھر کے لوگ بھی اس گھر ہی کی طرح ٹریڈیشنل اور خالص تھے سب بہت محبّت سے ملے تھے
“نور ذرا باہر گئی ہوئی ہے میسم کے ساتھ بس آنے ہی والی ہو گی” دادی انھیں بتا رہی تھیں
“ارے اس کے پاؤں کی چوٹ ٹھیک ہو گئی؟” آیت نے فوراً پوچھا تھا
“پہلے سے کچھ بہتر ہے لیکن وہ کب آرام سے بیٹھی ہے سارا دن گھر میں اوپر نیچے گھومتی رہتی ہے کبھی اسکو چھیڑ کبھی اسکو تنگ کر” فاریہ کی امی ہستے ہوئے اس کے کارنامے سنا رہی تھیں
“تو یونیورسٹی آنے میں کیا مسلئہ ہے اسے؟ اب کے سارہ خفگی سے پوچھ رہی تھی
“کہتی ہے اللہ‎ نے آپ لوگوں سے خدمت کروانے کا موقع دیا ہے تو میں اب اس سے منہ تھوڑی موڈ سکتی ہوں” اب کہ نور کی امی نے جواب دیا تھا اور وہ سب ہنس پڑے تھے
“ہاں تو اور کیا سارا دن مجھ سے اپنے کام کرواتی ہے اموشنل بلیک میل کر کر کے” فاریہ نے بھی اپنا دکھ سنایا تھا
اور ساتھ ہی وہ لاؤنچ میں داخل ہوئی تھی
“لو جی شیطان کا نام لیا اور یہ حاضر” سارہ ہستے ہوئے آگے بڑھی تھی
اور وہ خوشی سے چلا ہی اٹھی تھی
“What a pleasant surprise”
“ہم تو یہاں مریضہ کی خبر لینے آئے تھے لیکن یہاں تو مریضہ صاحبہ اپنی سیروں کو نکلی ہوئی ہیں” آیت بھی اس سے ملی تھی
“اللہ‎ توبہ دو دنوں سے گھر میں بند تھی میرا تو بی پی ہی لو ہونا شروع ہو گیا تھا” نور کی بات پر فاریہ نے افسوس سے سر ہلایا تھا مطلب اتنا بھی کیا جھوٹ بولے بندہ
نور کے پیچھے میسم شاپنگ بیگز پکڑے اندر آیا تھا
“یہ لیں میڈم” اس نے بیگز نور کے سامنے رکھے تھے اور ان سب کو دیکھ کر سلام کیا تھا
“یقیناً آپ لوگ آیت اور سارہ ہی ہوں گی” وہ خوشدلی سے پوچھ رہا تھا اور وہ دونوں حیران ہوئی تھیں
“جی بالکل! اور یہ ہے میرا بھائی یہ تم لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے…”
“کیوں کہ اس کی ہر تیسری بات آپ لوگوں سے شروع ہوتی ہے اور ہم سب گھر والوں کو ہی بڑا شوق تھا آپ لوگوں سے ملنے کا” میسم نے اسے بیچ میں ہی ٹوکا تھا
“ہمیں بھی بہت اچھا لگا آپ سب سے مل کر” سارہ دل سے مسکرائی تھی
نور ان دونوں کو لے کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی اور پیچھے فاریہ کو آواز لگانا نہیں بھولی تھی
“جلدی سے کچھ اچھا سا بنا کر لاؤ دیکھ نہیں رہی ہمارے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں”
“دادی دیکھ رہی ہیں آپ اسے…” فاریہ تپی تھی
اور وہاں موجود سب ہنس دئے تھے
“جاؤ باورچی خانے میں صائمہ سے کہو وہ بنا دے گی” انہوں نے ملاذمہ کا نام لیا تھا
کمرے میں آ کر پھر چاروں کا نا ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ جڑ چکا تھا”
مغرب کے قریب سارہ کو اپنی وارڈن یاد آئی تھی اور پھر اس نے جلدی مچا دی تھی ورنہ تو کسی کا بھی اٹھنے کا دل نہیں تھا
“بہت مزہ آیا آپ سب کے ساتھ” وہ دونوں سب سے مل رہی تھیں اور وہ سب بھی بڑی محبّت سے انھیں دوبارہ آنے کی دعوت دے رہے تھے
“رات ہو رہی ہے میسم سے کہو ان دونوں کو چھوڑ کر آئے” دادی کے حکم پر وہ دونوں اس کے ساتھ ہی جا رہی تھیں
“بس بہت ہو گئے ڈرامے اب کل سیدھی طرح یونیورسٹی آ جانا” سارہ نور کو یاد دلانا نہیں بھولی تھی
“ہاں ہاں آ جاؤں گی بھئی”
وہ چلتی ہوئی گیراج تک آئی تھیں جہاں میسم اپنی بلی کو گود میں بٹھائے گاڑی کے بونٹ پر بیٹھا کھیل رہا تھا انھیں دیکھ کر اس نے بلی کو نیچے رکھا تھا اور وہ چلتی ہوئی سارہ کے پاؤں سے لپٹ گئی تھی سارہ کو اسے دیکھ کر ہادی کی بلی یاد آئی تھی
اس کے پاس بھی وائٹ فر والی پیاری سی بلی تھی جسے اب وہ پتا نہیں کدھر چھوڑ آیا تھا
اس نے بلی کو اٹھا لیا تھا وہ بہت پیاری تھی لیکن وہ اسے ہادی کی بلی سے کم پیاری لگی تھی
“یہ میسم کی گرل فرینڈ ہے” نور نے ہستے ہوئے بتایا تھا
“بہت پیاری ہے” اس نے پیار کرتے ہوئے اسے نیچے رکھا
“نور چلو ہم بھی ساتھ چلتے ہیں”
“کدھر؟” فاریہ کی بات پر نور نے پوچھا
“چاند پر” نور نے آنکھیں موڑ کر اسے دیکھا تھا
“بےوقوف ان کے ساتھ ان کو چھوڑنے…”
“Awesome idea”
“میسم پلز پہلے آئس کریم کھلا دینا” نور پھر سے نان اسٹاپ شروع ہو گئی تھی”
اور سارہ کہیں اور ہی کھوِئی ہوئی تھی
“کبھی ملے گی فرصت تو
تمہیں
ایک کلام لکھیں گے
کبھی آنا میرے شہر
ایک شام
تمہارے نام لکھیں گے”
اس نے بےاختیار اپنے فون سے ان خوبصورت لفظوں کا پیغام ہادی کو بھیجا تھا…
اور دوسری طرف ان خوبصورت لفظوں کا جادو اس کے چہرے پر بھی بکھر گیا تھا اس نے مسکرا کر فون واپس جیب میں رکھا تھا_رپلائے کئے بغیر..!
******
وہ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سامنے ہی نیم دراز تھا اسے اندر آتا دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھا تھا
“اسلام علیکم”
“واعلیکم اسلام” وہ جواب دیتا سامنے صوفے پر بیٹھ گیا تھا
“آپ نے مجھے کیوں چھڑوایا؟” وہ کھڑا ہوتا ہوا بےچنیی سے بولا
“بیٹھو…” اس نے سامنے اشارہ کیا
“دیکھو یہ تو میں جانتا ہوں کہ تم آیت سے محبّت نہیں کرتے ورنہ اگر تمہاری اس سے شادی ہو جاتی تو جائیداد خود بہ خود تمہارے پاس آ جاتی…” وہ خاموش ہوا تھا جیسے اس کے بولنے کا منتظر ہو
وہ سر جھکائے بیٹھا تھا پھر آہستہ سا بولا
“آیت کو میں نے ایک کزن کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا میں کسی اور سے محبّت کرتا تھا جس سے میرا نکاح ہوا ہے لیکن…”
“لیکن…؟” رامش نے آگے ہوتے ہوئے پوچھا
“لیکن اب وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے”
“تو اب تم کیا کرو گے؟”
“طلاق دے دوں گا میرا حوالہ اب اس کے لئے باعث رسوائی بن گیا ہے” وہ بےبسی سے ہنسا تھا
رامش کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ آیت کے لئے اب اس ٹھکرائے ہوئے انسان کو مانگے یا اس سے درخواست کرے کے پلز آیت کو اپنا لو
لیکن اب اپنی محبّت کے لئے اسے کچھ تو کرنا ہی تھا سو اس نے مانگ لیا اسے…
“آیت ابھی بھی تمہیں بھلا نہیں پائی” اب کہ پہلی والی رعب دار آواز کی جگہ کسی ہارے ہوئے شخص کی آواز تھی
اس کی بات پر زین ہنس دیا تھا
“جانتا ہوں! ایک دفعہ جس چیز کو اپنا کہہ دیتی ہے پھر اسے چھوڑنا اس کے لئے کافی مشکل ہوتا ہے آپ فکر نہیں کریں آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گی”
رامش نے نفی میں سر ہلایا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *