Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04
کبھی کبھی ویسا ہوتا نہیں جیسا ہم سوچتے ہیں اور کبھی کبھی جیسا ہو جاتا ہے ویسا ہم سوچ بھی نہیں سکتے”
فاطمہ کے جانے کے بعد آیت سیدھا اپنے کمرے میں آئی اور دروازے پہ لگی چٹ دیکھ کے اس کے قدم جم گئے تھے”
“یہ یہاں کس نے لگائی؟” کمرے کا دروازہ میں نے لاک نہیں کیا تھا اس لیے کوئی اندر آ گیا ہوگا…
آیت فورا نیچے گئ اور ملازمہ سے پوچھنے لگی
“میرے جانے کے بعد گھر میں کون آیا تھا؟”
“بیٹا گھر میں تو کوئی نہیں آیا لیکن تم اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟”
“نسرین انٹی اپکو پکا یقین ہے کوئ نہیں آیا؟”
“جی بیٹا کوئ بھی نہیں آیا”
آیت کی آواز سن کر روبینہ بیگم کمرے سے باہر نکل آئیں…
“آیت تم آ گئی میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی”
“جی امی…میں ابھی آئی ہوں آپ کمرے میں چلیں باہر ٹھنڈ ہے آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں”
آیت انہیں کمرے میں لے آئی اور چٹ کو وہ مٹھی میں دبا چکی تھی…
“آیت اتنی فکر مت کیا کرو میں اب بلکل ٹھیک ہوں”انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
“امی جان میں آپ کی فکر نہیں کروں گی تو پھر اور کس کی کروں گی اب بتایں آپ نے دوائی لی؟”
“ہاں ہاں بیٹا میں نے لے لی ہے اب میں نے اپنی دادی اماں سے ڈانٹ تھوڑی کھانی تھی”
“آپ دادی اماں ہی سمجھ لیں لیکن health پر کوئی compromise نہیں…”
“آیت تمہیں ایک خوش خبری سنانی تھی”
“کون سی خوشخبری؟”آیت نے حیرانگی سے پوچھا
“پرسوں زین کا نکاح ہے…لڑکی والوں کو تھوڑی جہلدی تھی اس لیے نکاح پہلے کر رہے ہیں رخصتی بعد میں کریں گے” انہوں نے خوشی سے بتایا
اور آیت کو لگا کے وہ اگلا سانس نہیں لے سکے گی…یہ خبر نہیں تھی بلکہ کوئی بم تھا جو اسکے حواسوں پر گرا تھا…آنسو نکلنے کے لیے بیتاب تھے…آیت آہستہ سے اٹھی تھی
“امی یہ تو بہت اچھی بات ہے میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں بہت نیند آ رہی ہے”
پھر امی کے لاکھ روکنے کے بعد بھی وہ نہیں رکی تھی…
روبینہ بیگم ڈیزائنر کو کال کرنے لگیں تھے کہ درمیان میں اب ایک ہی دن باقی تھا…
******
“جلدی سے میرے آفس پہنچو”میجر حیدر کا میسج پڑھتے ہی رامش ان کے آفس کی طرف بڑھا
“گڈ مارننگ سر”
“Ohh come on hurry up”
“All well sir?”
انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا…
“کیپٹن موحد شہید ہو گے ہیں تمہیں آج ہی انکی جگہ جانا ہوگا…”
“جی سر؟”وہ ابھی تک بےیقین تھا ابھی صبح ہی تو ان سے بات ہوئی تھی تب تک تو وہ بلکل ٹھیک تھے
“تم جلدی سے نکلنے کی تیاری کرو”
“Yes Sir”
آفس سے نکلتے ہی اس نے فاطمہ کو میسج کیا کہ وہ آج نہیں آ سکے گا….
******
آیت لڑکھراتے قدموں سے سیدھا اپنے کمرے میں ائی…
وہ رونا نہیں چاہتی تھی اور وہ روتی بھی کیوں؟اس انسان کےلئے جس نے اسے کھلونا سمجھا؟ یا اسکے لئے جس سے اسے دھوکہ ملا؟
اگر بات کھلونا سمجھنے کی ہے تو غلطی اسکی خود کی ہی تھی اس نے خود ہی اسنے اپنے ساتھ کهیلنے دیا…
اور اگر بات دھوکہ ملنے کی ہے تو یہ ابو پہلے ہی یہ بتا چکے تھے کہ وہ اچھا لڑکا نہیں ہے…پھر بھی اس نے اس پر اعتماد کیا تو کیا غلط کیا اس نے اگر اسے توڑ دیا تو غلطی اسکی اپنی تھی…
پھر اب کس لئے روتی ہو؟ نہ تو یہ رونا درد مٹا سکتا تھا اور نہ ہی وہ جھوٹی یادیں پھر کیوں روتی وہ؟
آیت خشک آنکھوں سے کھڑکی کھول کر اسکے پاس بیٹھ گئی…
جسم کو جما دینے والی ٹھنڈی ہوا اسکے جسم پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی…اسے اپنا آپ پسینے میں بھیگتا ہوا محسوس ہوا… شاید یہ اسی آگ کا نتیجہ تھا جو اسکے اندر جل رہی تھی…جو لمحہ بہ لمحہ اس کے وجود کو جلا رہی تھی…
اور آنسوؤں کا سمندر جسے وہ حلق سے نیچے اتار رہی تھی جلتی پہ تیل کا کام کر رہے تھے…اسے لگا کہ ابھی وہ راکھ کا ڈھیر بن جائے گی…
آیت کھڑکی کے پاس سے اٹھی اور واش روم میں چلی گئی اور ٹھنڈے پانی والے شاور کےنیچے کھڑی ہو گئی…لیکن نہیں یہ آگ بھجنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی…
اس آگ میں اسکی خواہشیں،اسکے خواب جل رہے تھے اور وہ انھے جلتا ہوا محسوس کر رہی تھی…
آیت واش روم سے باہر آئی کپڑے بدلے اور لیٹ گئی اب اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا…اسنے دراز کھولا اور اندر سے دو sleeping pills نکالیں اور کھا لیں… آہستہ آہستہ نیند اسے اپنے لپیٹ میں لینے لگی تھی…
“ابو”….ایک آخری آواز اس کے منہ سے نکلی اور پھر وہ گہری نیند میں چلی گئی تھی…
******
“ہیلو بھیا! کیسے ہیں؟ کدھر ہیں؟ میں کل سے اپکو فون کر رہی ہوں لیکن اپ میری کال پک نہیں کر رہے اب مجھے اپ سے بات ہی نہیں کرنی اور اب میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گی” وہ غصے سے بولی
“بولو بولو میں سن رہا ہوں میری گڑیا چپ کیوں ہو گئی” اس نے پیار سے کہا
“بھیا اپ بہت برے ہیں” آنکھوں میں نمی آ گئی تھی…
“اب جیسا بھی ہوں اپنی گڑیا کا ہی ہوں”اس نے اسکا غصہ دور کرنا چاہا
“آپ آئیں گے نا؟” لہجے میں التجا تھی”
ہاں آؤ گا لیکن کچھ دن اور لگ جائیں گے مجھے اپنی گڑیا کے لیے گفٹ بھی تو لینے ہیں”
“نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے بس کل آپکو میری پرائز ڈسٹری بیوشن سرمنی پر آنا ہی پڑے گا”
“اوہ تو یہ بات ہے اب کیا win کیا ہے؟”
“بھی painting competition میں 1st position آئی ہے پورے district میں”
“ارے پھر تو بھائی ضرور آۓ گا اور ایک پرائز بھائ کی طرف سے بھی”
“سچ بھیا آپ ائیں گے؟”
“آپ پرامس کریں کے آپ ضرور آئیں گے؟”
“جی جی پرامس”
“Thank you bhaiya you are the best bhaiya in the world”
******
آج ذین کا نکاح تھا اور حیا کو اپنی امی کی وجہ سے آنا ہے پڑا…
ہال میں ہر جگہ red or white roses سے سجاوٹ کی گئی تھی…
ریڈ اینڈ وائٹ تھیم میں سب کچھ کسی fairy tale کا حصہ لگ رہا تھا…
آیت کو یاد آیا یہ دونوں کلر اس کے favourit colour ہیں…وہ اس سے ہمیشہ فرمائش کرتا تھا کہ یہ ان کلرز کا سوٹ پہنے اور وہ دن اس کو کیسے بھول سکتا تھا جب اس نے آیت کو پرپوز کیا تھا…
اس نے پورا ہوٹل ریڈ اور وائٹ کلر سے سجایا تھا…
اس وقت آیت نے پوچھا تھا “یہ کوئی خواب ہے؟”
اور اس نے جواب کہا تھا “اگر تم اس کو خواب سمجھتی ہو تو میں اس کو کبھی ٹوٹنے نہیں دوں گا…”
اور بہت سے وعدے تھے جو اس نے اس دن آیت سے کیئے تھے…سب کچھ کسی فلم کی طرح اس کے دماغ میں گھوم رہا تھا…
اب آس پاس اسے گھٹن ہونے لگی تھی…اسے لگا کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور ادھر رکی تو اس کی سانس بند ہو جاۓ گی…
ایک دم ساری لائٹس آف کردی گئیں…ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی…
“آیت کو لگا اس کا دل بند ہو جاۓ گا…وہ باہر کی طرف بڑنے لگی تو ایک دم فوگ نکلنے لگی…
اور اس فوگ میں ذین تھا اور اس نے کسی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا…
“نہیں یہ نہیں ہو سکتا ذین نے کہا تھا اس پہ صرف آیت کا حق ہے اور کوئی تو اسے دیکھ بھی نہیں سکتا جیسے وہ دیکھتی تھی”
“تم مجھے چھوڑ کے تو نہیں جاؤ گے نا؟” حیا نے اس کے کندھے پہ سر رکھتے ہوۓ پوچھا تھا
“آیت اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ میرا دنیا میں اخری دن ہو گا” اس نے اس کے سر پہ پیار کرتے ہوۓ کہا تھا…
آیت کا ضبط جواب دے گیا تھا اس نے امی کو میسج کیا اور فورا باہر آ گئ…
“اس کو انٹرویو کی کال آئی ہے اور اس کا جانا بہت ضروری ہے اس لیے وہ جا رہی ہے”
ویسے بھی وہ دو دن بعد آنے والی تھیں اس لیے آیت اکیلی ہی گھر چلی گئ… راستے میں اسے گھر سے ملازمہ کی کال آئی اور اس نے کہا “گھر کوئی مہمان آیا ہے آپ سے ملنا چاہتا ہے میں نے اسے ڈراینگ روم میں بیٹھا دیا ہے آپ کب تک ائیں گی؟”
“میں بس پہنچنے والی ہوں”اس نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ مہمان کون ہے…
وہ ہوش میں تھی ہی نہیں کہ وہ پوچھتی وہ بمشکل گاڑی چلا کے گھر پہنچی تھی…
گیراج میں پہلے سے ہی ایک گاڑی کھڑی تھی آیت نے جاننا ضروری نہ سمجھا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے اپنے اندر کے سیلاب کو باہر نکلنے دیا کیونکہ اب یہ اس کو زخمی کر رہا تھا…
آیت زور سے چیخنے لگی تھی اور ساتھ ہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی…
رامش ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا اچانک اس کو اوپر سے آوازیں آنے لگیں اس نے باہر نکل کے دیکھا شاید ملازمہ اپنے کواٹر میں چلی گئ تھی اس لیے اس نے خود ہی اوپر جانے کا اراداہ کیا…
اوپر جاتے ہی حیا کے کمرے کا دروازہ کھولا…
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا دل دہل گیا تھا وہ بھاگ کے اس کے پاس آیا تھا…
وہ کچھ نہیں دیکھ رہی تھی…وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں چلا رہی تھی شاید جو درد اتنے دنوں سے اپنے اندر دبائے بیٹھی تھی آج باہر نکال رہی تھی… کیونکہ یہ اب اسکی روح تک کو زخمی کر رہے تھے…
آیت نے ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائی ہوئی تھی جو صبح ہی اسے امی نے بمشکل لگائی تھی اور اب اس کی آنکھیں اس کے لپ اسٹک کے رنگ کا مقابلہ کر رہیں تھیں…جیسا سارا خون آنکھوں میں اتر آیا ہو…ضبط سے جیسے اسکی آنکھیں خون کی لہروں میں ڈوب جانے کو تھیں…
رامش کا دل کیا کے جس نے اسکا یہ حال کیا ہے اسے زندہ زمین میں گاڑ دے…
اس نے آیت کو زمین سے اٹھا کر بیڈ پر بیٹھایا…لیکن آیت کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی…اب اسکی سانسیں بھی اٹک رہیں تھیں…
رامش نے اسے اپنے بازوءوں میں بھر لیا تھا…
“بس آیت بس بہت ہو گیا اب بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے…”
“آیت پلز کچھ بولو میری جان نکل رہی ہو…”
“آیت آیت میری جان بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے…”
آیت اسے آنسوں کے درمیان غور سے دیکھ رہی تھی جیسے اسے پہچانے کی کوشش کر رہی ہی…
“آیت میں ہوں نا تمہارے ساتھ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا…میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری ہر تکلیف دور کر دوں گا…”رامش اسکی آنکھوں کی گہرائی میں دیکھتا کہ رہا تھا جہاں وہ ہزاروں غم چھپائے بیٹھی تھی…
وہ ملک کا رکھوالا وہ ہر روز شہادتیں اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا محسوس آج کر رہا تھا…محسوس کر رہا تھا کہ جسم سے جان نکلنا کیسے کہتے ہیں اور جب جان نکلتے ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے…
“آیت یہ لو پانی پیو آرام سے…”وہ گلاس اسکے ہونٹوں سے لگا رہا تھا…
آیت اب رونا بند کر چکی تھی لیکن سیلاب وہ روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا…رامش اسکی آنکھوں کی اتنا قریب تھا کہ اس میں اٹھتی ہر درد کی لہر کو دیکھ سکتا تھا…
“آیت پلیز بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟”
حیا شاید اب اکیلے سہ سہ کر تھک چکی تھی اب اسکی برداشت جواب دے چکی تھی…
اس نے سر رامش کے کندھوں پر رکھ دیا تھا جیسے اب اور ہمّت باقی نا رہی ہو اور اب سارا لاوا اگل رہی تھی…
“وہ زین…اس نے کہا تھا وہ مجھ سے پیار کرتا ہے…وہ…اس پر صرف میرا حق تھا…ابو نے کہا کہ انہیں زین پسند نہیں…میں نہیں مانی میں نے ابو کی بات نہیں مانی…زین نے کہا تم میرا ساتھ دو میں سب کو منا لوں گا…میں نے زین کا ساتھ دیا تھا…اس نے کہا کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے…میں نے منع کردیا کہ جب ابو مان جایں گے تب ہی کروں گی…پھر ابو چلے گے…مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے…وہ مجھ سے ناراض ہو کر چلے گے…پھر زین نے کہا کہ مجھ سے نکاح کر لو…میں اس وقت یونیورسٹی میں تھی…امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی…میں نے منع کردیا لیکن اس نے کہا ابھی نکاح کر لیتے ہیں بعد میں میں امی کو بتا دیں گے وہ ہماری شادی کروا دیں گی…میں نے منع کردیا…اس نے مجھے اپنی قسم دی…میں مان گئی…لیکن جب نکاح کرنے گئے تو زین کے ابو میرے چاچو آئے…انہوں نے کہا زین ضروری کام سے کہیں گیا ہے تم ان پیپرز پر سائن کردو… وہ…خالی پیپرز تھے…میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ زین نے کہا ہے…وہ چاہتا ہے وہ بعد میں اس پر نکاح نامہ چھپوا دے گا…میں مان گئی…ابو کے بعد میں چچا سے بہت پیار کرتی تھی…میں ان پر یقین کیا اور سائن کر دئیے…لیکن بعد میں انھوں نے ابو کی ساری پراپرٹی زین کے نام کردی جو کے میرے ابو میرے نام کر گئے تھے…انھوں نے خالی پیپرز پہ سائن دھوکے سے لئے تھے…پھر وہ ساری پراپرٹی زین کے نام ہو گئی…اور وہ میرے پاس آیا اور کہا کے مجھ جیسی لڑکی کی شکل بھی وہ دیکھنا پسند نہیں کرتا… وہ بس پراپرٹی کے لئے ہی میرے ساتھ یہ ڈرامہ کر رہا تھا…اس نے بہت کمال کی اداکاری کی اور میری روح تک کو زخمی کرگیا…آیت ھچکیوں کے درمیان سب کچھ بتاتی گئی اور رامش سنتا گیا…
اب آیت کی ہمّت جواب دے گئ تھی شاید اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی…
رامش اب گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا…حیا کے سینڈلز اتارے اور اسے بیڈ پر لیٹا دیا تھا… پھر اس پر کمبل دے کر اس کو دوائی کھلانے لگا آیت اب نیند میں جا رہی تھی…رامش اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا تھا…
آیت کی آنکھیں درد کی شدت سے لال ہو گئیں تھیں…اس کے چہرے پر طوفان کے بعد خاموشی تھی جو رامش کو زخمی کر رہی تھی…
“آیت میں وعدہ کرتا ہوں اس دنیا کی ہر خوشی تمھارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا اور جس نے تمہارا یہ حال کیا ہے اسکا وہ حال کروں گا کے وہ ہر پل موت مانگے گا لیکن اسے موت بھی نہیں آے گی”
حیا کا کمبل ٹھیک کر کے وہ کمرے سے باہر آ گیا تھا…
*****
فاطمہ آیت کے گھر میں داخل ہوئی…گیٹ کھلا ہوا تھا…دو گاڑیاں باہر کھڑی ہوئیں تھیں…
وہ اندر گئی تھی لیکن کوئی نظر ہی نہیں آیا تو اوپر جانے لگی کے اچانک کچن سے آوازیں آنے لگیں…وہ کچن کی طرف مڑی اور اندر کھرے انسان کو دیکھ کر اسے حیرت کا کا شدید جھٹکا لگا تھا…
اسے لگا کہ اسے دیکھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے…دور سے کھڑے اسے اس انسان کی پشت نظر آ رہی تھی جس نے خاکی وردی پہن رکھی تھی…وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ کون ہے…
“رامش!”حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں اسکا نام ادا ہوا تھا…
“اوہ فاطمہ تم!کیسی ہو؟”اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“میں میں بلکل ٹھیک ہوں اور اب تو اور بھی ٹھیک ہو گئی ہوں…اس یونیفارم کو دیکھ کر تو ویسے بھی میرا خون اور بڑھ جاتا ہے…آپ بتایں آپ یہاں کیسے آپ نے کہا تھا آپ ابھی نہیں آ سکتے اور اب…؟”
“ہاں مجھے اچانک ایک ضروری کام سے آنا پڑا تو سوچا آنٹی سے مل لوں لیکن…لمحے بھر کو وہ رکا تھا
لیکن مجھے کہاں پتا تھا یہ سب….وہ سوچ کر رہ گیا تھا
میں تو تمہیں کال کی تھی بتانے کے لیے لیکن تم نے پک نہیں کی…”
“جی میں گھر پر نہیں تھی اور فون گھر پر ہی رہ گیا تھا لیکن اچھا کیا جو آپ آ گے لیکن یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟”
“لو جی میڈم نے پہلی دفع آتے ہی کام پر لگا دیا آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا…”فاطمہ نے ہستے ہوئے کہا
“نہیں وہ میں سوپ بنا رہا تھا آیت کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے…”
“طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟آنٹی نے بتایا تھا وہ انٹرویو کے لیے جا رہی ہے؟” فاطمہ نے حیرت سے پوچھا
“اچھا…! لیکن جب میں آیا تب تو وہ بارش میں بیٹھی بھیگ رہی تھی اب تم ہی بتاؤ ایک تو اتنی سردی اوپر سے ٹھنڈی ہوا اب اس موسم میں کون کرتا ہے ایسے…”رامش نے بات بناتے ہوئے کہا
“اس کی تو میں طبیعت ٹھیک کرتی ہوں رکیں ذرا…”کہہ کر وہ آیت کے کمرے کی طرف بڑھ گئ
اور رامش باءول میں سوپ ڈالنے لگا…
“آیت کی بچی یہ کیا بدتمیزی ہے؟سمجھتی کیا ہو خود کو؟ اگر مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو بتاؤ مجھے میں ویسے ہی تمہارا گلا دبا دوں لیکن یہ ایکٹینگ کرکے مرنے والا کون سا فیشن ہوا بھلا؟” اس نے آیت کا کمبل اتار کے اسے اٹھایا
اب آیت اس کی شکل دیکھ رہی تھی کہ یہ کیا بول رہی ہے…
“ادھر آؤ…” آیت نے کہا
“کیا کہا؟” فاطمہ نے حیرت سے پوچھا
“میں نے کہا ارھر آؤ” اس نے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا
“کیا کرنے کا ارادہ ہے؟”
“یار بخار تو نہیں لگ رہا پھر کیا بات ہے؟”
“کیا مطلب؟”
“بخار کا اثر تو نہیں لگ رہا پھر کیا؟”
“ایک منٹ کہی تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا”
“اتنی معصوم مت بنو بتا دیا ہے مجھےانہوں نے کہ تم بارش میں نہاتی رہی ہو”
“ایک منٹ ایک منٹ کس نے بتایا ہے؟”
“اس نے ہی جسے تم نے سوپ بنانے پہ لگایا ہوا ہے…کتنی ویسے تم ظالم ہو…اتنے پیارے فوجی سے بھی بھلا کوئی کام کرواتا ہے؟”اس نے منہ بناتے ہوۓکہا
آیت کو ایک دم جھٹکا لگا…
صبح کی ساری فلم اب اس کے ذہن میں چلنے لگی تھی… اسے یاد آ رہا تھا کہ اس نے کیسے سارا کچھ اسے بتا دیا…
“مجھے ایسا نہیں کرنا چاہۓ تھا… میں اب اس سے نظریں کیسے ملاؤ گی…پتا نہیں کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں”
اب کیا سوچ رہی ہو؟”
“ویسے اتنی ہیروئن بننے کی کیا ضرورت تھی؟” فاطمہ بول رہی تھی کہ رامش سوپ کا باؤل لیے ہوۓکمرے میں داخل ہوا “یہ پکڑو اسے پلاؤ… مجھے تھوڑا ضروری کام ہے”رامش نے فاطمہ کو ٹرے پکڑاتے ہوۓ کہا
“تو آپ جا رہے ہیں؟” فاطمہ نے نارضگی سے پوچھا
“ہاں کام بہت ضروری ہے ورنہ رک جاتا”اس نے موبائل پہ دیکھتے ہوۓ جواب دیا
“آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں اتنی تھوڑی دیر ک لیے آتے ہیں…وہ بھی صرف آیت…”بولتے رہ گئ تھی…
دونوں اس کی طرف دیکھنے لگے تھے…
“میں کوشش کروں گا کہ کام جلدی ختم ہو جاۓ پھر آؤ گا”
“اور ہاں انٹی کب آ رہی ہیں؟”
“وہ تو دو دن بعد آءیں گی”فاطمہ نے جواب دیا
“تو تم اتنے دن آیت کے پاس رک جانا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی…”
“آج تو میں رک جاؤں گی لیکن کل مجھے پاپا کو ایئرپورٹ پہ recieve کرنا ہے” فاطمہ نے جان بوجھ کے بہانا بنایا اسے پتا تھا وہ آیت کو اکیلے نہیں چھوڑے گا اور اگر وہ خود نہیں رکے گی تو رامش آ جاۓ گا
“چلو آج تو رکو کل تک میں آنے کی کوشش کروں گا”
“نہیں میں ٹہیک ہوں”
آیت نے شرم سے منہ جھکایا ہوا تھا…اور اب پہلی بار بولی تھی…
“اچھی بات ہے ہونی بھی چاہیے”رامش نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا
اب فاطمہ حیا کو سوپ پیلانے لگی تھی…
*******
“بھیا!آپ آ گئے” سارہ نے خوشی سے اسکے گلے لگتے ہوۓ کہا
“جی بھیا کی جان آ گیا” اس نے سارہ کے بال بگاڑتے ہوۓ کہا “بھائی پہلے سے کتنے کمزور ہو گئے ہیں… کھانا ٹھیک سے نہیں کھاتے نا؟اور دیکھیں آنکھوں کے نیچے ہلکے بھی پڑ گئے ہیں اور بال اتنے چھوٹے کیوں کرواتے ہیں؟ اور…”
“ارے میرا بیٹا آ گیا”سارہ تم بھی نا آتے ہی شروع ہو جایا کرو بس اندر تو آنے دو اسے” راشدہ بیگم نے علی کو پیار کرتے ہوۓ کہا
“کیسی ہیں میری پیاری امی؟”
“میرا بیٹا آ گیا ہے اب میں بلکل ٹھیک ہوں”
“ہاں جب میں تھی تب ٹھیک نہیں تھی؟” سارہ نے منہ بناتے ہوۓ پوچھا
“نہیں نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا میری تو دونوں بچے میری جان ہیں”
“امی جان جلدی سے ایک کپ چاۓ پلا دیں پھر مجھے ابو کے پاس آفس جانا ہےکچھ ضروری کام ہے”
“اچھا یہ بتاؤ رات کو کھانے میں کیا کھاؤ گے میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کے لیے بناؤ گی”راشدہ بیگم ملازمہ کو چاۓ بنانے کا کہہ کر پوچھنے لگیں
“نہیں امی کھانا نہیں کھاؤ گا مجھےآج رات ہی واپس جانا ہے”وہ فائل کھولتے ہوۓ بولا
“یہ کیا بات ہوئ بھائی پہلے میری پرائز ڈسٹریبیوشن پہ بھی نہیں آۓ اور اگر اب آ گئے ہیں تو اتنی جلدی واپس جا رہے ہیں”سارہ تقریبا رونے لگی
“
جاری ہے
