Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07
Sir may i come in?”
“Yes, come in”
“Sir you have a meeting with Mr.Zain ul hassan”
“Oky inform the driver i am comming”
******
آدھے گھنٹے بعد دونوں زین کے آفس میں جو کہ آیت کی جگہ تھی…آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے…
“Hellow Mr.Ramish how can i help you?”
زین نے آگے ہوتے ہوئے پوچھا
“آج پہلی اور آخری دفع تم سے آرام سے بات کروں گا…
اگر سمجھ نا ائی تو اپنے انجام کے ذمےدار تم خود ہو گے”
“کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟”زین نے حیرانگی سے پوچھا
“”میں سمجھاتا ہوں! دیکھو یہ تو تم جانتے ہی ہو کے تمہارے نام جتنی بھی جائیداد ہے وہ سب آیت کی ہے…”
لمحے بھر کو وہ رکا تھا…شاید خود کو نارمل رکھنے کی کوشش تھی ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کے سامنے والے کی شکل بگاڈ دے…
“تم نے اس کے ساتھ محبّت کا ڈرامہ کیا…پھر نکاح کے بہانے تم نے دھوکے سے خالی کاغذات پر اس کے سائن لیئے…پھر ان پیپرذ پر پراپرٹی ٹرانسفر کے ڈاکیومینٹس چھپوا کر ساری جائیداد اپنے نام کر لی”
اب کے وہ قدرے سکون سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اسک تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا…
“شدید ٹھنڈ میں بھی زین کو پسینہ آنے لگا تھا کیوں کہ اس کے سامنے بیٹھا آدمی کہیں سے بھی معمولی آدمی نہیں لگ رہا تھا اور اسکا کاٹ دار لہجہ اسے اسکی طاقت کا پتا دے رہا تھا…
زین کوئی پیشہ وار ملزم نہیں تھا…اس نے تو زندگی میں پہلی بار ابو کے کہنے پر یہ سب کیا تھا لیکن اب اسے اندازہ ہو رہا تھا کے وہ کتنی سنگین غلطی کر چکا ہے…
اسے تو لگا تھا کہ آیت کے ابو کے بعد کوئی بھی اس کے لئے کھڑا نہیں ہو سکتا تو پھر یہ کون تھا؟
“آپ ہیں کون اور یہ سب ہمارا خاندانی مسئلہ ہے آپ اس سے دور رہیں”زین نے بہت ہمّت جمع کر کے الفاظ ادا کیئے تھے…
“میں جو بھی ہوں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا اور یہ فائل تمہارے سامنے ہے اس پر کل تک سائن ہو جانے چائیں ورنہ…
تم نے جو آیت کے ساتھ کیا ہے نا…میں تمہاری دنیا ہلانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا” رامش نے غصے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنی سن گلاسز لگاتا ہوا باہر نکل گیا…
اور زین کتنے لمحے سن بیٹھا رہا تھا…آج اس کا آفس میں پہلا دن تھا اور اتنی جلدی سب ختم ہونے والا تھا”
اس سے جلدی سے ابو کو کال کی اور سب بتانے لگا”
******
آیت صبح دیر سے اٹھی تھی…نیچے آئی تو امی نے بتایا کہ اسکا پارسل آیا ہوا ہے…
اس نے کھولا تو اس میں ایڈمشن فارم تھا اور ساتھ ہی ایک چٹ پر لکھا ہوا تھا
“Just think once again and if you really want to join then stick to it”
******
“ہادی کے بچے اٹھ جلدی لیٹ ہو رہا ہے”
“یار پانچ منٹ سونے دے”اس نے نیند میں ہی کہا اور پھر سو گیا…
“پہلے تو پوری رات سوتا نہیں ہے اور پھر صبح اٹھتے ہوئے نخرے کرتا ہے”رامش نے غصے سے اسکا کمبل کھنچا…
“یار تجھے اللہ کا واسطہ ہے بس دو منٹ اور”
“لگتا ہے تیرا آج پھر push up لگانے کا ارادہ ہے…چل تو سو میں تو چلا”
Push up کا نام سنتے ہی ہادی چھلانگ لگا کر بیڈ سے اترا
“نہیں یار پہلے ہی کل سے میری کمر سیدھی نہیں ہو رہی میں….وہ آگے کچھ بولتا کہ اسکی نظر گھڑی پر پڑی جہاں ابھی پورے دو گھنٹے پڑے ہوئے تھے…
“رامش ابھی کتنی دیر پڑی ہے جانے میں؟” ہادی نے چلاتے ہوئے پوچھا
“دو گھنٹے”رامش نے معصومیت سے جواب دیا
“تو اتنی دیر پہلے اٹھا کر تو نے مجھ سے برتن دھلوانے تھے….؟” اس نے کھینچ کر رامش کو تکیہ مارا
“یار مجھے لگا تو ابھی گھنٹہ لگائے گا اٹھنے میں لیکن آج تو جلدی اٹھ گیا…بھلا اس میں اب میرا کیا قصور” معصومیت ابھی بھی برقرار تھی
“تو رک تجھے میں بتاتا ہوں”
“اور پھر پورا کمرہ آجائب گھر کا نقشہ پیش کر رہا تھا…”
ایسی ہی تھی ان کی دوستی…بچپن سے ایک ساتھ تھے…ایک ہی کالج میں پڑھے پھر ایک ساتھ ہی آرمی میں آ گے…دونوں ساتھ میں بڑے ہوئے تھے لیکن انکی دوستی ابھی بھی بچوں والی تھی…بلا کسی غرض کے…مخلص!
******
“آیت جلدی کرو وہ ہمارا انتظار کر رہا ہو گا اور تمہیں سارے کام اب یاد آ رہے ہیں”
“کچھ ڈاکومینٹس نہیں مل رہے…میں امی سے پوچھتی ہوں بس دو منٹ”
“تمہارے دو منٹ پورے ہو گئے ہیں آیت” فاطمہ نے پورے دو منٹ بعد گھڑی کی طرف اشارہ کیا…
“امی مل گئے؟”
“آیت یہ دیکھو یہ کچھ ڈاکومینٹس ہیں ان میں ہوں شاید”
“ہاں امی یہی ہیں…کہاں سے ملے؟”
“ادھر ہی میری الماری میں تھے”
“چلو آیت کیا اب تم ان کا ایکسرے کرنے بیٹھ گئی ہو”
“ہاں ہاں چلو” آیت بیگ پکڑتے ہوئے فاطمہ کے ساتھ باہر کی طرف چل پڑی…
“اللہ میری بچی کو کامیاب کرے” راشدہ بیگم پیچھے سے دعائیں پھونکنے لگیں تھیں…
******
وہ دونوں یونیورسٹی پہنچی تو ابھی تک رامش نہیں آیا تھا…
فاطمہ نے رامش کو کال کی تو اس نے کہا کے اس کو آنے میں تھوڑی دیر لگ جائے گی لیکن اس نے پرنسپل سے بات کر لی ہے وہ جا کر ایڈمشن کروا لیں”
اور ایڈمشن واقعی بہت جلدی ہو گیا تھا نا ہی کوئی ٹیسٹ ہوا اور نا ہی کوئی انٹرویو…
“مجھے لگتا ہے رامش بزی ہو گا ہم چلتے ہیں ویسے بھی ایڈمشن تو ہو ہی گیا ہے”
“ہاں چلو”فاطمہ نے شکر کیا تھا
آیت ابھی یونیورسٹی سے باہر ہی نکلی تھی کے سامنے زین کو کھڑا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی…
وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا لیکن آیت تیزی سے آگے چلنے لگی تھی…
“مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے”
“اب بات کرنے کو کچھ نہیں بچا”
“سمجھنے کی کوشش کرو بات ضروری ہے” اب وہ اسک ساتھ ساتھ چلتا پارکنگ تک آیا تھا
“لیکن مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی”
“تو تم ایسے نہیں مانو گی” زین اسے کھنچ کر گاڑی تک لیا تھا اور اسے جھٹکے سے اندر پھنکا تھا”
فاطمہ نے بہت کوشش کی چھڑوانے کی لیکن ناکام…
اب کے وہ گاڑی کو لاک کر کے دور لےجا رہا تھا…
رامش کا نمبر سکرین پر آتا دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا تھا شاید وہ آ گیا ہو…
“ہیلو فاطمہ ہو گیا ایڈمشن؟”
“رامش…وہ آیت…” اسکی آواز اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ لفظ بمشکل ادا ہو رہے تھے
“کیا ہوا آیت کو؟”
“وہ زین…آیت کا کزن اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گیا ہے اس کی شکل سے لگ رہا تھا وہ بہت برا کرنے والا ہے اس کے ساتھ”
رامش کو ایک منٹ لگا تھا سارا معاملہ سمجھنے میں…
اس نے زین کا نمبر ملایا تھا…
“تمہاری ہی کال کا انتظار تھا” پھر ایک بلند قہقہ لگا کر کہا گیا
“ویسے کیسا لگا سرپرائز؟”
“میں تمہاری جان لے لوں گا”
“اوہ جان سے یاد آیا آپ کی جان اس وقت میرے پاس ہے اس لئے ذرا پیار سے بات کریں ورنہ آپ کا غصہ اس پر….
“اگر اسے ایک کھروچ بھی آئی تو تمیں زندہ زمیں میں گاڑھ دوں گا”
“چلو یہ بھی کر کے دیکھ لینا…ویسے آپ کی محبوبہ پہلے میری چاہت بھی کر چکی ہیں…مجھے نہیں لگتا وہ آپ کو ایسا کچھ کرنے دیں گی…چلو یہ لو بات کر کے دیکھ لو…”
رامش اس بکواس کے دوران اپنے بندوں کو اسکا نمبر ٹریس کرنے کا کہہ چکا تھا
“رامش مجھے کچھ نہیں چائیے آپ پلز یہ کیس واپس لے لیں…امی اب کسی اور صدمہ برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں…”وہ مسلسل رو رہی تھی
“آیت تم بالکل فکر نہیں کرو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڈ سکتا میں ہوں نا…میں ہوں تمہارے پاس…تم مجھ پر بھروسہ رکھو…اپنے خدا پر بھروسہ رکھو”
“رامش پلیز…” آیت کا رونا اسے تکلیف دے رہا تھا…
“آیت میں سب ٹھیک کر دوں گا…تم پلیز خود جو مظبوط رکھو…میں تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا”
“یہ کیا بکواس شروع کی ہوئی ہے” زین نے آیت سے فون چھینا تھا
“زین تم آیت سے دور رہو…ٹھیک ہے میں کیس واپس لے لیتا ہوں” رامش اب اسے باتوں میں لگا رہا تھا…
“شاباش مجھے تم سے یہی امید تھی…تو جیسے ہی کیس ختم ہوتا ہے تم اسے آ کر لے جا سکتے ہو”
“تم میری آیت سے بات کرواؤ” وہ رابطہ نہیں توڑنا چاہتا تھا
“اتنی بےتابی! ارے اتنا تو آپ کی آیت مجھ سے ملنے کو نہیں ترستی تھی” اس نے ہستے ہوئے کہا
اور آیت خاموش آنسو بہاتی اسے دیکھ رہی تھی…یہ وہ زین تو نہیں تھا جس سے اس نے محبّت کی تھی…یہ تو اس سے بالکل مختلف تھا…بہت زیادہ تکلیف دہ!
“اس کا بدلہ تو میں تجھ سے لوں گا آیت صحیح سلامت واپس آ جائے” رامش سوچ کر کر رہ گیا تھا
اور ساتھ ہی ایک پرانے مکان کے قریب گاڑی روکی…
اس نے اپنے کچھ بندوں کو چھت سے جانے کو کہا اور باقی اس کے ساتھ گیٹ سے جانے لگے…
دروازہ کھٹکھانے پر کوئی بھی باہر نہیں آیا تھا…
لیکن اوپر سے اس کے بندوں نے چھلانگ لگا کر دروازہ کھول دیا تھا…
وہ مختلف جگہ سے گھر میں داخل ہو رہے تھے…
سامنے ایک کھلا سا برآمدہ تھا جس کے آگے دو کمرے تھے…
جیسے ہی وہ پہلے کمرے میں داخل ہوئے زین نے فائر چلایا تھا…
“اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو اگلی گولی اس میں اتاروں گا…
اس نے آیت پر گن رکھ کر وارن کیا تھا…
ایک ہاتھ اس کا آیت کی گردن پر تھا اور دوسرے سے گن پکڑے ہوئے تھا…
آیت مسلسل چیختی ہوئی اس سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی…اور اسکی گرفت آیت پر اور مظبوط ہوتی جا رہی تھی…
آیت کو اس طرح اس کے اتنا قریب دیکھ کر اس کے اعصاب نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا…
وہ آیت کو پکرنے آگے بڑھا اور ساتھ ہی فائر کی آواز ایک بار پھر فضا میں گونجی تھی…
“رامش” آیت کی چیخ کہیں حلق میں ہی دب گئی تھی
زین بھاگنے کو کوشش میں تھا لیکن گارڈز اسے پکڑ چکے تھے…
آیت رامش کی طرف بڑھی لیکن گارڈ اسے اٹھا کر باہر کی طرف نکل گئے تھے…
اس نے دیکھا…زمین رامش کے خون سے رنگ چکی تھی…خون بہت بہہ چکا تھا…وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی…
اب ہاتھ آگے بڑھا کر…اسے چھو کر جیسے وہ یقین کرنا چاہتی ہو کہ یہ واقعی اسکا خون ہے…
رامش کا خون اب آیت کے ہاتھوں کو بھی رنگ چکا تھا…وہ ہاتھ اپنے چہرے کے قریب لے جا کر اسے دیکھتی رہی تھی…
وہ رو نہیں رہی تھی…آنسوں کا پھندا جیسے اسکے گلے میں اٹک گیا تھا…وہ تو بس خالی آنکھوں سے خون کو دیکھ رہی تھی…
ایک گارڈ نے آ آکر اسے باہر آنے کی ھدایت کی تھی اور وہ چپ چھپ اس کے پیچھے چل دی تھی…
گاڑی ہسپتال آ کر رکی تھی…
رامش کو دوسری گاڑی میں پہلے ہی ہسپتال لے جایا جا چکا تھا…
اب وہ ایک گارڈ کے ہمراہ ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہو رہی تھی…
ڈاکٹر قریب آ کر کچھ کہہ رہا تھا…اسے سمجھنے میں مشکل ہوئی تھی…
“آپ پلیز بیٹھ جائیں ڈاکٹرز اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں انشاءلله انہیں کچھ نہیں ہو گا”
“آیت چپ چھپ بیٹھ گئی تھی…نا ہی کچھ پوچھا…اپنے خون لگے ہاتھ کو گھورنے لگی تھی…جیسے اپنی آنکھوں میں جذب کر رہی ہو…
“اللہ جی رامش کو بچا لیں…اس پر اتنا رحم کرنا میرے مولا جتنے آپ رحم ہیں…اتنا کرم کرنا جتنے آپ کریم ہیں…میں آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی…بس اسے زندگی دے دیں مالک…اللہ جی میری عمر بھی اسے لگ جائے…پلیز اللہ جی اس کی حفاظت فرمانا”
اس وقت گولی تو رامش کو لگی تھی لیکن تڑپ آیت رہی تھی…
تقریباً دو گھنٹے بعد ڈاکٹر رامش کے کمرے سے باہر آیا تھا…
آیت میں اتنی ہمّت نہیں تھی کہ وہ آگے بڑھ کر کچھ پوچھ سکتی…ڈاکٹر کے قدم جیسے جیسے قریب ہوتے جا رہے تھے اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی…
“اگر آج رامش کو کچھ ہوا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گی…
“Patient کے ساتھ کون ہے؟”
“جی” آیت نے بہت ہمّت جمع کر کے جواب دیا تھا
“ہم گولی نکل چکے ہیں اب یہ خطرے سے باہر ہیں آپ تھوڑی دیر میں مل سکتی ہیں”
آیت نے اس لمحے محسوس کیا تھا کہ مرتے ہوئے اگر نئی زندگی پھونک دی جائے تو کیسا لگتا ہے…
وہ فوراً وضو کر کے نفل ادا کرنے لگی تھی…پھر کتنی ہی دیر وہ اپنے دعا والے ہاتوں کو گھورتی رہی تھی…جیسے اب کچھ مانگنے کو بچا ہی نہیں تھا…جیسے سب کچھ تو مل گیا ہو…اور شکر کے سوا لب پر کوئی دعا نا رہی ہو…
اتنے میں ایک گارڈ نے آ کر اطلاح دی تھی کے رامش کو ہوش آ گیا ہے…
آیت کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے رامش کو مشینوں میں جکڑا دیکھ کر اسکا دل ہول اٹھا تھا…
تھوڑی سی کھلی آنکھوں سے…شاید وہ اسے کا منتظر تھا…
آیت اس کے قریب آئی تھی…اور جو آنسوں کا سیلاب وہ اپنے اندر دبائے ہوئی تھی…اب بہنے لگا تھا…
کچھ ہی دیر میں اسکی سسکیوں کی آواز کمرے میں گونجنے لگی تھی…
“سمجھتے کیا ہیں خود کو…؟ بہت بڑے ہیرو ہیں…؟ اگر کچھ ہو جاتا تو…؟ کہا تھا میں نے کچھ نہیں چائیے مجھے…لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی…” ہچکییوں کے درمیان لفظ ادا ہو رہے تھے…
رامش اسے دیکھ کر مسکرایا…
“مجھے کچھ بھی نہیں ہوا…دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوں…” الفاظ آنکھوں سے ادا ہوئے تھے اور باآسانی نیلی آنکھوں نے سن لئے تھے…
آیت نے آنسوں کے درمیان اسے گھورا تھا…
پتا نہیں کیسا رشتہ تھا…درد ایک کو ہوتا تو تکلیف دوسرے کو…
“آیت گھر…جاؤ…رات ہونے…والی ہے…” بمشکل وہ کہہ سکا تھا
آیت جانا نہیں چاہتی تھی…لیکن…اسکی آنکھیں!
وہ جانے کا اشارہ کر رہیں تھیں اور وہ وہاں رک نہیں سکی تھی…
باہر آ کر اس نے ریسیپشن پر کہا تھا…
“ان کے گھر اطلاح کر دیں پلیز”
“جی ہم کر چکے ہیں…بس آنے ہی والے ہوں گے”
آیت اب واپس پلٹی تھی…
رامش کے کمرے کے باہر آ کر رک گئی تھی…دروازہ شیشے کا ہونے کے باعث وہ اندر دیکھ سکتی تھی اور رامش…وہ تو باہر ہی دیکھ رہا تھا جیسے اسی کا انتظار کر رہا ہو…
“کیسا انسان تھا وہ…اتنی تکلیف میں بھی اسے میری ہی فکر تھی”
“آئیں میم آپ کو گھر ڈراپ کر دوں” ڈرائیور کی آواز پر وہ چونکی تھی…
“جی؟” آیت کے حیرت سے پوچھا
“میم سر کا آرڈر ہے آپکو گھر چھوڑ دوں” اس نے رامش کی طرف اشارہ کیا تھا
آیت نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی…ہاتھ دروازے پر رکھے جیسے رک جانے کی منت کی ہو…
رامش نے آنکھیں بند کر لیں تھیں…
آیت سر جھکائے اس ڈرائیور کے پیچھے چل دی تھی…
******
آیت رات کو گھر پہنچی تو لاؤنچ میں سب جمع تھے…پولیس کی گاڑی وہ باہر دیکھ چکی تھی…اسے دیکھتے ہی فاطمہ اس کی طرف بڑھی تھی…
“آیت تم…؟تم ٹھیک ہو؟”
“مجھے معاف کر دو میرے سامنے وہ تمہیں لے کر چلا گیا اور میں کچھ بھی نہیں کر سکی…”
آیت نے اسکے ماتھے پر پیار کیا تھا اور اسے خود سے الگ کیا
“بیٹا آپ ٹھیک ہو؟” فاطمہ کے ابو اب اس سے پوچھ رہے تھے
اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا…
وہ اب راشدہ بیگم کے کمرے کی کی طرف بڑھ رہی تھی…
اندر وہ بیڈ پر آنکھیں بند کیئے لیتی ہوئیں تھیں…اور ساجدہ بیگم ان کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئیں تھیں…اس نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا تھا…
انہوں نے اٹھ کر اسے گلے لگا لیا تھا جیسے خود کو اسکی موجودگی کا احساس دلا رہی ہوں…
“کچھ نہیں ہوا بس انجکشن کے زیر اثر سو رہی ہیں” انہوں نے الگ ہوتے ہوئے کہا
“تم ٹھیک ہو نا؟”
“جی”
“رامش چھوڑ کر گیا ہے؟”
“اسے گولی لگی ہے”
“کیا؟ کدھر ہے وہ؟ وہ ٹھیک ہے نا؟” فاطمہ صدمے سے پوچھ رہی تھی
“ہاں اسے ہوش آ گیا ہے”
“اوہ شکر میرے خدایا” ساجدہ بیگم نے شکر ادا کیا تھا
“اٹھو فاطمہ بہن کے لیا کھانا لاؤ”
“آیت میرا بچا…جاؤ فریش ہو کر آؤ…اللہ کرم کرے گا” وہ اس وقت اس سے کسی بھی قسم کا سوال نہیں کرنا چاہتی تھیں…
******
صبح اس کی آنکھ کھلی تو ایک سایہ اس پر جھکا ہوا اس کے بال سہلا رہا تھا…اس کی ماں کا سایہ!
جس کی ضرورت انسان کو ہر جگہ ہر عمر میں ہوتی ہے…جس کا پیار انسان کو نئی زندگی بخشتا ہے…جس کے بغیر دنیا ادھوری ہو جاتی ہے…اور جس کی چھاؤں میں ہر مشکل سے لڑنے کا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے…
“امی” آیت مسکراتے ہوئے ان سے لپٹ گئی تھی اور دنیا کے ہر غم سے دور صرف سکون اپنے اندر اتار رہی تھی…
“رات کو نیند اچھے سے ائی تھی نا؟” انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے پوچھا
“جی امی”
“چلو اب جلدی سے اٹھو میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں”
“آپ نے کر لیا؟”
“نہیں…اپنی گڑیا کے ساتھ ہی کروں گی”
“امی کتنی بری بات ہے اپنے میڈیسن لینی ہوتی ہے”
“ہاں ہاں لے لوں گی اب جلدی سے اٹھو میں بس تھوڑی دیر میں آئی…”
آیت فریش ہو کر نیچے کچن میں ہی چلی آئی تھی…
“بن گیا ناشتہ؟” اس نے پراٹھا بناتی امی کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے کہا…
“ہاں بن گیا بیٹھو ادھر اور سنو پورا پراٹھا ختم کرنا ہے…کیا حالت بنائی ہوئی ہے جیسے گھر میں کچھ کھانے کو ہی نہیں ملتا” انہوں نے اسے گھوری سے نوازا تھا…
آیت ہسنے لگی تھی…
“امی پورا پراٹھا کھا کر لگے گا جیسے گھر کا سارا کھانا میں ہی کھا جاتی ہوں…”
“کبھی کبھی کھانے سے کوئی اتنا موٹا نہیں ہوتا چلو شاباش سارا ختم کرو” انہوں نے اسکے پاس بیٹھے ہوئے کہا
“امی آپ ابو کو بھی ایسے ہی کھلاتی تھیں نا؟” اس نے سر اٹھا کر امی کو دیکھا تھا
“ہاں لیکن وہ تمہاری طرح اتنے نخرے نہیں کرتے تھے…آرام سے کھا لیتے تھے”
“ہاہا امی اب آپ ان کی سائیڈ لے رہی ہیں ورنہ مجھے یاد ہے وہ بھی کتنا تنگ کرتے تھے”
“جی نہیں بس ہیلتھ کانشیس تھے”
آیت کا قہقہ چھوٹا تھا…
اسے یاد آیا تھا کیسے وہ دونوں امی سے چپ کر باہر سے الٹا سیدھا کھاتے تھے…
“آیت” انہوں نے سنجیدگی سے بلایا تھا
“جی امی؟”
“کل کیا ہوا تھا؟”
اس نے نظریں چرائیں تھیں…
“امی آپ کو پتا چل تو گیا ہے”
“آیت اتنی بڑی بات کیسے چھپا سکتی ہو تم مجھ سے؟”
“امی میں بس آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی”
“تو کیا اب پریشان نہیں ہوں؟ تمیں مجھے بتانا چائیے تھا ہم مل کر کوئی حل نکال لیتے”
“ایم سوری امی”
“پولیس نے زین کو گرفتار کر لیا ہے”
“آپ کو کیسے پتا؟”
“صبح تمہارے چاچو کا فون آیا تھا وہ کہ رہے ہیں کیس واپس لے لو”
“امی میں ایسا نہیں کر سکتی”
“آیت تمہارے ابو تمیں کتنا منع کرتے تھے اس انسان سے دور رہو لیکن تم نے ان کی ایک نہیں سنی…اب مجھ میں اتنی ہمّت نہیں کہ ان لوگوں سے لڑ سکوں…نا ہی مجھے وہ جائیداد تم سے زیادہ پیاری ہے…اس لیا کیس واپس لے لو…یہ گھر اور جو ایک فیکٹری میرے نام ہے ہمارے لیئے وہی کافی ہے”
“پہلے تو میں شاید واپس لے لیتی لیکن امی اس نے رامش پر گولی چلائی ہے…امی وہ اس کی وجہ سے موت کے منہ سے لوٹا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ اسے معاف کر دوں؟”
“رامش…جو کل تمیں لینے گیا تھا؟”
“جی امی”
“اب کیسا ہے وہ؟”
“پتا نہیں”
“آیت…؟”
“زندہ ہے”
“اللہ کا شکر ہے…فاطمہ نے مجھے بتایا تھا اسکے بارے میں…پتا نہیں اگر وہ نہیں آتا تو تمہارا کیا ہوتا” انہوں نے قرب سے آنکھیں میچ لیں تھیں
“میں ملنا چاہتی ہوں اس سے…ساتھ میں اس سے معافی بھی مانگ لوں گی…اگر اس نے معاف کر دیا تو کیس واپس لے لیں گے” انہوں نے تکلیف سے کہا
“اسلام علیکم” فاطمہ کچن میں داخل ہوئی تھی
“وعلیکم اسلام”
“کیسی ہو آیت؟” اس نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا
“ٹھیک ہوں”
“اچھا چلو لیٹ ہو رہا ہے باقی باتیں گاڑی میں چل کر کرتے ہیں…”
“کہاں؟” راشدہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا
“آنٹی رامش سے ملنے جانا ہے…صبح بتایا تو تھا آپ کو”
“ہاں ہاں جاؤ…میرے طرف سے بھی پوچھنا اس کو…پھر میں خود بھی آوں گی اس سے ملنے”
جاری ہے
