653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08

آیت اور فاطمہ رامش کے کمرے میں داخل ہوئیں تو رامش فون پر مصروف تھا اور قدرے اونچے قہقے لگا رہا تھا…
آیت نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتری تھی…اور پھر اپنی ہی حرکت پر اسے ہسی آئی تھی…
فاطمہ نے ڈھونڈنے والے انداز میں ادھر ادھر دیکھ…پھر ناسمجھی کے انداز میں بیڈ کے نیچے دیکھنے لگی…
“آیت تم تو کہہ رہی تھی یہاں کسی کو گولی لگی ہے…لیکن مجھے تو یہاں ایسا کوئی نظر نہیں آ رہا…” اس نے بظاہر حیرانگی سے پوچھا
رامش ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا…
“انکل آپ نے تو نہیں دیکھ ادھر ایک لڑکا تھا جسے گولی لگی تھی؟” اب وہ رامش کی طرف متوجہ ہوئی تھی
“ہائے لڑکی میں تمیں کہاں سے انکل لگتا ہوں” رامش صدمہے سے چلایا
وہ دونوں ہسنے لگیں تھیں…
“ویسے یہ ایک گولی ہم پاک آرمی والوں کا کچھ نہیں بگاڈ سکتی”
“جی جی وہ تو نظر آ ہی رہا ہے” فاطمہ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا
آیت نے گلاب کے پھولوں کا بکّہ رامش کو پکڑایا…
“تھنک یو” اس نے نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“ایم سوری…میری وجہ سے…”آیت آنکھیں جھکائے کھڑی تھی
“نہیں آیت…یہ سب تو میں نے اپنے لئے کیا” رامش نے آیت کو فقرہ مکمل کرنے نہیں دیا تھا
“ویسے گولی لگی کدھر ہے؟ اور درد تو نہیں ہو رہا؟”
اب کے فاطمہ نے ذرا شوخ ہو کر پوچھا…اس نے آیت کی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے موضوح بدلا
“دل کے تھوڑا پاس” رامش نے ہستے ہوئے تھوڑا کو لمبا کیا تھا
“اوہو…دل کے مریضوں کا علاج تھوڑا مشکل ہی ہے رامش صاحب اور اوپر سے جب طبیب تھوڑا پتھر دل ہو تب تو اور بھی مشکل…” اس نے ہستے ہوئے افسوس سے سر ہلاہا
رامش بھی ہسنے لگا تھا…
“ویسے اب آپ جلدی جلدی ٹھیک ہو جائیں پھر ہمیں ٹریٹ بھی لینی ہے اور ابھی ہماری پچھلی کافی بھی پینڈنگ ہے”
“ٹریٹ کس خوشی میں؟”
“آپ کے ٹھیک ہونے کی خوشی میں” فاطمہ نے چہک کر کہا
“میں تو ابھی بھی بالکل ٹھیک ہوں…کہو تو ابھی چلیں؟”
“اگر اتنا ہی ٹھیک ہے تو ڈرامے کیوں کر رہا ہے…کل سے جان نکالی ہوئی ہے ہماری” ہادی چیختا ہوا اندر داخل ہوا تھا
آیت اور فاطمہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں تھیں…وہ دونوں دروازے کے پیچھے تھیں اس لیا ہادی انہیں دیکھ نہیں سکا تھا…
“اوہ ایم سوری” ہادی واپس جانے کے لئے بڑھا ہی تھا کہ فاطمہ نے روک لیا
“اٹس اوکے آپ آ جائیں ہم جانے ہی لگے تھے…”
اور پھر وہ ادھر ہی رک گیا تھا…
آیت رامش سے کیس کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی لیکن ہادی کے رکنے پر اب مایوسی سے رامش کو دیکھنے لگی تھی…
رامش اس کے الجھے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہ کوئی بات کرنا چاہتی ہے اس نے دل میں سوچا کہ رات میں وہ اسے کال کر لے گا…
“اوکے رامش اپنا خیال رکھنا اب ہم چلتے ہیں” فاطمہ کہ کر باہر کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں آیت پہلے ہی جا چکی تھی…
ہادی نے سرخ غلابوں والے بکے کو دیکھ کر ایک طنزیا مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی تھی…
“کیا؟؟؟” رامش نے اسے غصے سے دیکھا تھا
مسکراہٹ ہنوز قائم تھی…
“ایسی کوئی بات نہیں وہ چھوٹی بہن جیسی ہے میری”
“کون؟” ہادی نے ابرو اچکا کر پوچھا
“وہی”
“وہی کون؟” ہادی جیسے اس سے سب اگلوانے کے موڈ میں تھا
“وہ جو ابھی آئی تھی” رامش زچ ہوا تھا
“اوہ! میں نے کچھ پوچھا؟”
“نہیں… لیکن پوچھنا تو یہی چاہتے ہو نا اس لئے کافی دنوں سے میری جاسوسی پر لگے ہوئے ہو…کبھی میرے سونے کے بعد میرا موبائل چیک کرتے ہو کبھی میرے ڈرائیور سے فون کر کے پوچھتے ہو کے کہیں وہ مجھے کسی لڑکی سے ملنے تو نہیں لے کر گیا” رامش جیسے پچھلے دنوں کی بھڑاس نکل رہا تھا…”
“اوہ! آئی ایم امپریسیڑ” ہادی نے جیسے اسے داد دیتے ہوئے کہا
“ایک بات تو بتا…میرے اندازے کے مطابق ابھی یہاں دو لڑکیاں آئیں تھیں ان میں سے آپ کی بہن کون سی تھی؟”
“یار بکواس بند کر…ایک بندہ پہلے ہی مریض اوپر سے تو نے سر کھایا ہوا ہے نکل ادھر سے” رامش نے سخت ناگواری سے کہا
“اوہ…! ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے سنا کسی نے کہا تھا کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں ہوا؟” ہادی نے اسکی نقل اتری تھی
“یار تو رک ادھر ہی…میں ہی جاتا ہوں” رامش اٹھنے ہی لگا کے ہادی نے گھور کر واپس لیتایا تھا…اور اپنا تفتیش کا ارادہ ملتوی کر دیا…
******
آیت اندر داخل ہوئی تو ٹی وی لاؤنج میں راشدہ بیگم اسی کا انتظار کر رہی تھیں…
آیت ملازم کو چاۓ کا کہہ کر ان کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی…
“کیسا ہے وہ؟” انہوں نے پریشانی سے پوچھا
“اب ٹھیک ہے…”
“آیت میں بہت احسان مند ہوں اس بچے کی… وہ ٹھیک ہو جاۓ میں خود جاؤں گی اس کے پاس”
“جی ضرور ابھی آپ کمرے میں جائیں باہر سردی ہو رہی ہے”
“ہاں میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی” وہ آیت کا ماتھا چوم کر اندر چلی گئیں تھیں…
اور آیت وہی بیٹھ کر چاۓ پینے لگی…
موبائل کی بل پر وہ متوجہ ہوئی تھی…
رامش کی کالنک دیکھ کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم سلام!”
“کیسے ہیں؟”
“جیسے تھوڑی دیر پہلے تھا” رامش نے شرارت سے کہا
اور پھر کچھ دیر کے لیے خاموشی حائل رہی…
“چاچو آۓ تھے… انہوں نے امی سے کہا ہے کہ کیس واپس لے لیں اور اب امی بھی زور دے رہی ہیں پلیز…. مجھے کچھ نہیں چاہیے”
“لیکن مجھے چاہیے آیت… تمہاری خوشی!”
“آنٹی کو میں خود سمجھا لوں گا اور اب ذین کے گھر والوں میں سے یہاں کوئی نہیں آۓ گا”
“یونیورسٹی کب سے جا رہی ہو؟” رامش نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا
“اگلے ہفتے سے”
“چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا کسی بھی قسم کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں…جو ہو چکا اسے بھول جاؤ اور ایک نئی زندگی شروع کرو…باقی میں سمبھال لوں گا”
“جی” وہ اسے نہیں کہ سکی تھی نئی زندگی شروع کرنا کہاں آسان ہوتا ہے…خود کو خود ہی مارنا پڑتا ہے…!
******
“بھائی آپ مجھے چھوڑنے جائیں گے نا یونیورسٹی کل؟” سارا علی سے پوچھ رہی تھی
“سارا اب بڑی ہو جاؤ…میں اب اتنی دور سے تمیں یونیورسٹی چھوڑنے کیسے آ سکتا ہوں؟”
“مجھے نہیں پتا بھائی آپ نہیں آئیں گے تو میں یونیورسٹی نہیں جاؤں گی”
“سارا بچوں والی حرکتیں چھوڑ دو اب”
“پھر آپ آئیں گے نا؟” سارا نے خوشی سے پوچھا
“توبہ لڑکی…”
“بھیااااااااااا”
“ہاں ہاں آ جاؤں گا…لیکن چھوڑنے نہیں جا سکتا اتنی صبح آنا ممکن نہیں واپسی پر لینے آ جاؤں گا…” علی نے ہار مانتے ہوئے کہا
“I love u bahi”
“ہاں ہاں پتا ہے لیکن جو میں نے کہا وہ سمجھ آئی؟”
“جی جی بھائی آ گئی ہے کے کل آپ آ رہے ہیں” سارا نے ہسی دباتے ہوئے کہا
“سارا…”
“Love u bahi…
امی بلا رہی ہیں بائے”
******
آیت یونیورسٹی داخل ہوئی تو قدم اٹھانا مشکل لگ رہا تھا…اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے کبھی اس یونیورسٹی میں آنا پڑے گا…
وہ تو بہت خوش تھی وہاں…جہاں جانے کا اس نے ہمیشہ خواب دیکھا تھا…
اب تو منزل بڑی قریب تھی اور سب ختم ہو گیا…
وہ اپنے خیالوں میں مگن چل رہی تھی جب ایک لڑکی اس سے آ کر ٹکرائی…ایک نوٹ اسے تھمایا اور جلدی سے آگے بڑھ گئی…
اس نے نوٹ پڑھا جس پر لکھا تھا…
“مسکرانے سے خون بڑھتا ہے” اور آگے ایک سمائیلی بنی ہوئی تھی…
آیت نے پیچھے دیکھا…وہ وہاں نہیں تھی…
آیت کو یاد آیا کہ ایسے نوٹ تو پہلے بھی کئی بار اسے مل چکے ہیں…
“پتا نہیں کون ہے یہ” وہ تمام خیالات کو دماغ سے جھٹک کر کلاس کی طرف بڑھ گئی…
آیت کلاس میں داخل ہوئی تو بہت کم سٹوڈنٹس موجود تھے…شاید کلاس شروع ہونے میں ابھی وقت تھا…
سامنے کچھ لڑکیاں باتوں میں مصروف تھیں وہ انہی کے پاس آ گئی تھی…
“اسلام علیکم!”
“واعلیکم اسلام” سب نے ایک مسکرا کر جواب دیا تھا
“کلاس شروع نہیں ہوئی ابھی؟” وہ انہی کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی…وہ ان سب سے دو سال بڑی تھی کیونکہ وہ پہلے دو سال بزنس میں لگا چکی تھی…لیکن ان سے ساتھ وہ بالکل انہی کی ہم عمر لگ رہی تھی…
“ٹائم تو ہو گیا ہے شاید سر لیٹ ہوں” ان میں سے ایک لڑکی نے جواب دیا تھا…
“Oh! Anyway i am Aayat”
“I am Noor”
“I am Sara”
“And I am Faria”
سب نے مسکراہٹ کے ساتھ تعارف کروایا تھا اور پھر کچھ ہی دیر میں سر کے آنے پر سب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تھے…
“ایک کے بعد دوسری کلاس شروع ہو گئی تھی…آیت کو اردگرد سے عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہونے لگی تھی…
آرٹ اس کا شوق تھا…لیکن فارغ وقت کے مشغلے کے طور پر!
بزنس اس کے ابو کا شوق تھا…اور اس کے لئے اولیں ترجیح!
زندگی کبھی کبھی ہم سے کیا کچھ کروا لیتی ہے جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا…
کلاسز ختم ہونے کے بعد وہ باقی سب کے ساتھ پارکنگ کی طرف آئی تھی…
“ٹھیک ہے لڑکیوں کل ملتے ہیں مجھے بھائی لینے آ گئے ہیں”
“ok see u”
“سارا علی کو دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھ گئی تھی”
“علی نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا تھا”
لیکن اس کی نظریں تو کسی اور کا ہی پیچھا کر رہیں تھیں…
“ہائے کتنا ہینڈسم ہے اس کا بھائی” نور بھی اسی طرف دیکھنے میں مصروف تھی
“چلو ادھر سے یہ ٹاڑنے والا کام کل کے لئے رکھ لو” فاریا نے اسے ڈانٹا…نور اور فاریا دونوں کزنز ہیں اور ایک ہی گھر سے آتی ہیں
“قسم سے وہ بھی مجھے ہی دیکھ رہا تھا”
“تمہارا تو ہر لڑکے کے بارے میں یہی خیال ہے”
نور فاریا کو کھنچ کر گاڑی تک لے آئی تھی…
آیت بھی اپنی گاڑی کی طرف چل دی تھی…
******
فاطمہ نے کالج میں گولڈ میڈل ون کیا تھا اس لیے سب اسی بارے میں کوئی پارٹی پلان کر رہے تھے…
“فاطمہ کے ابو کی خواہش ہے کے اس خوشی میں کوئی پارٹی رکھ لی جائے” ساجدہ بیگم نے خوشی سے آیت اور راشدہ بیگم کو بتایا
“انٹی پارٹی کا تو میں بھی سوچ رہی تھی کیوں نا ہم سب دوستوں کو گھر ہی invite کر لیں…ایک ہی جگہ grand party ہو جاۓ گی” آیت نے خوشی سے مشورہ دیا
“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے کل تو اس کی خالہ بھی آ رہی ہیں لندن سے اسی ہفتے میں انتظام کر لیتے ہیں”ساجدہ بیگم نے چائے کا کپ رکھتے ہوۓ کہا
“بس ٹھیک ہو گیا اب میں سب سے پوچھ کے کوئی دن فائنل کر کے آپ کو بتا دوں گی”
“چلو اب میں چلتی ہوں فاطمہ بھی کالج سے آنے والی ہو گی”
انہوں نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا
“آیت میں نے فاطمہ کی فیورٹ برؤنیز بیک کی ہیں وہ بھی دے دو آنٹی کو” راشدہ بیگم بچپن سے ہی آیت اور فاطمہ کو ایک جیسا ہی سمجھتی تھیں…دونوں کے لئے محبّت ایک جیسی تھی اور اب ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا…
اور ساتھ ساتھ آیت کے چہرے پہ بھی خوشی دیکھ کر وہ سکون محسوس کرنے لگیں تھیں…
“امی آپ ہمیشہ ایسے ہی خوش رہا کریں پلیز” آیت ان کے گلے لگتے ہوئے بولی
“بھئی اللہ نے مجھے اتنی ذہین اور قابلِ فخر بیٹیاں دی ہیں تو خوشی مجھ سے بھلا کیوں جدا ہوگی”
******
رات کا سما تھا اور ہر طرف خوبصورت روشنیوں سے سجاوٹ کی گئی تھی…لان مختلف رنگوں سے جگمگا رہا تھا…لڑکیوں کی کھلکلاہٹ اور لڑکوں کی ہسی نے ماحول کو خوشگوار بنایا ہوا تھا…ویٹرز کھانا پیش کرنے میں مصروف تھے…
“آیت رامش کو کال کرو ابھی تک نہیں آیا” وائٹ فراک اور پیچ رنگ کے ڈوپٹے میں فاطمہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی…
وہ آیت سے شکایت کرنے لگی
“کیا ہو گیا ہے فاطمہ بندہ بزی بھی تو ہو سکتا ہے بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو” آیت بھی وائٹ فراک اور پرپل ڈوپٹے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی…
“تم مجھے اپنا فون دو” فاطمہ نے غصے سے اس کا فون کھینچا اور رامش کو کال ملانے لگی
پہلی ہی بل پر کال ریسیو کر لی گئ تھی…
“ہیلو!” رامش کی آواز گونجی تھی…
“آپ بات مت کریں مجھ سے” فاطمہ نے نارضگی سے کہا
“ارے کال تو اپنے کی ہے” رامش نے شرارت کی
“پھر بھی بات نہ کریں میں پچھلے دو گھنٹوں سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں ڈیڈی کو بھی آپکا بتا چکی ہوں”
“اوہ اب تو آنا پڑے گا”
“مطلب ابھی آپ گھر سے بھی نہیں نکلے؟” فاطمہ نے ناگواری سے پوچھا
“نہیں میں ہوں تو راستے میں ہی میرے ساتھ میرا دوست بھی ہے ہمیں کسی کام سے جانا تھا اس لیے مجھے آنا اچھا نہیں لگا”
رامش نے اصل وجہ بتائی تھی…
“رامش میرا گھر اتنا چھوٹا نہیں کہ اپ کا دوست پورا نا آ سکے”
“آپ آئیں گے مجھے اور کچھ نہیں پتا”
“چلو ٹھیک ہے دس منٹ تک پہنچتا ہوں” رامش نے ہار مانتے ہوۓ کہا
اور اگلے دس منٹ سے پہلے ہی ہادی اور رامش پہنچ چکے تھے…فاطمہ کے ابو ان سے بہت پیار سے ملے تھے اور بہت جلد ہی ان سے گھل مل بھی گئے تھے…
ذیادہ تر مہمان جا چکے تھے گھر کے ہی لوگ رہ گئے تھے… فاطمہ نے خاص طور پر ان کا تعارف کروایا تھا…
اور اب بھی سب باتوں میں مصروف تھے…
“بھئ اب کچھ کھلاؤ گی بھی یا خالی باتوں سے ہی…” رامش نے شرارت سے فاطمہ کو کہا
“اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو آئے ہو” فاطمہ نے گھورتے ہوئے کہا
“میں نے تمہیں بتایا تو تھا مجھے کام ہے”رامش واقعی جلدی میں تھا
“ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی میں تو چاہتی تھی وہ بھی آجائیں…لیکن خیر مجھے کیا… میں لگوا دیتی ہوں” فاطمہ نے مسکراہت دباتے ہوئے کہا
“وہ کون؟” رامش نے آبرو اچک کر پوچھا
“وہی جن کو آپ کی نظریں ڈھونڈ رہی ہیں”
“ارے ہاں یار وہ ہیں کدھر؟” با آخر رامش نے پوچھ ہی لیا تھا
“آپ رہنے دیں میں کھانا لگواتی ہوں” وہ ہستے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی…
“میرا وہ مطلب نہیں تھا” رامش کی آواز پہ اس کا قہقہ بےساختہ تھا
ویٹرز کھانا لگا چکے تھے…سب کھانے میں مصروف تھے…
آیت راشدہ بیگم کو دوائی کھلانے گئی تھی کیونکہ وہ ان کی لاپرواہی سے اچھی طرح سے واقف تھی اس لیے ابھی تک واپس نہیں آئی تھی…
رامش امید بھری نظروں سے فاطمہ کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن فاطمہ مسکراہٹ دبا کر دوسری طرٹ منہ کر لیتی…
“ہمیں اتنا انتظار کروایا تھا اب آپ کی باری”
فاطمہ نے رامش کے پاس سے گزرتے ہوئے آہستہ سے کہا جو کہ ہادی بھی سن چکا تھا…
“یہ کس بات کا انتظار کہہ رہی ہے” ایک غلط فہمی اس کے دماغ میں جنم لے چکی تھی…اس نے منہ دوسری طرف کر لیا…
اس نے پہلے بھی ریسٹورینٹ میں فاطمہ کو رامش سے بہت بے تکلفی سے بات کرتے دیکھا تھا…
اچانک لائیٹس آف ہو کئیں تھیں…
“لگتا ہے لائٹ چلی گئی ہے میں ذرہ جنرئیٹر چلوا کے آتاہوں” “آپ بیٹھیں ادھر کافی اندھیرا ہے مجھے بتائیں کس طرف ہے جنریٹر؟” ہادی نے ان کو سٹک پکڑ کے چلتے دیکھا تو ان کی طرف بڑھا…
ان کی بیک بون کا آپریٹ ہوا تھا اسی لئے وہ ابھی صحیح طرح چلنے کے قابل نہیں ہوۓ تھے…
“بیٹا یہ ہال کے دروازے کے بلکل ساتھ ہے” انہوں نے ہادی کو اندر کی طرف اشارہ کیا
“میں دیکھتا ہوں” کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گیا…
“جیسے ہی وہ ہال کی طرف بڑھا جدھر دو سیڑھیاں بنی ہوئیں تھیں…
اچانک کوئی بری طرح اس سے ٹکرایا اور ہادی اپنا بیلنس برقرار نا رکھ سکا… اگلے ہی لمحے وہ ذمین پر گر چکا تھا اور اس کے ساتھ فاطمہ بھی…
پلیٹ… جو کہ فاطمہ کے ہاتھ میں تھی… اگلے ہی لمحے وہ ہادی کے سر میں بری طرح لگی…اور وہ سر درد سے کراہ رہا تھا
اور پلیٹ میں جو کچھ تھا…وہ اس کا سر اور چہرا رنگ چکا تھا “chocolate lava cake”
فاطمہ جلدی سے گھبرا کر کر اٹھی تھی اور ساتھ ہی لائٹ بھی آچکی تھی…
کیک سارا ہادی کا منہ چھپا چکا تھا جس کی وجہ سے فاطمہ کو پہچاننے میں کچھ سیکنڈ لگے…
اور اگلے ہی لمحے فاطمہ کے قہقے پورے حال میں گونج رہے تھے…
آیت جو ابھی داخل ہوئی ہی تھی…اس کی آواز پہ پلٹی اور اگلا منظر دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا…
وہ فاطمہ کی عادتون سے اچھی طرح واقف تھی لیکن اب تو اس نے حد ہی کر دی تھی…
آیت نے ہادی کو واشروم کا راستہ دیکھایا اور باہر آکہ فاطمہ کے سر پر جست لگائی جو ابھی بھی اپنی ہنسی قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھی…
“فاطمہ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ بدتمیزی تھی” آیت نے غصے سے کہا
“یار دیکھو میری کوئی غلطی نہیں میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا میں تو گر گئی تھی…
اور یہ کیک میرے ہاتھ میں سے پھسل گیا”
“پھر بھی تم اسکو دیکھ کر پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی… پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہو گا” آیت کو پریشانی ہونے لگی تھی
“یار اس کے سارے کپڑوں پر چاکلیٹ گر گئی ہے” فاطمہ کو اب احساس ہورہا تھا
اتنی دیر میں وہ منہ دھو کر آچکا تھا اور فاطمہ کو بات بھی سن چکا تھا
“میں گاڑی سے دوسری لے کر آتا ہوں”
ہادی خود بھی شرارتی طبیعت کا مالک تھا اس لیے اس نے اس بات کو سیریس نہیں لیا تھا
اور واشروم کا شیشہ دیکھنے کے بعد اس کو خود بھی ہنسی آرہی تھی
وہ کپڑے بدل کر آیا تو چائے کا دور چلا تھا…
آیت نے رامش سے سلام کے بعد اس کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا لیکن وہ رامش کی نظروں کو خود پر محسوس کر رہی تھی…
“اب ہمیں اجازت دیں بہت دیر ہو گئی ہے” رامش نے ہادی کو اٹھنے کا اشارہ کیا
“بیٹا بہت اچھا لگا تم لوگوں سے مل کر آتے جاتے رہا کرو”
فاطمہ کے ابو ان دونوں سے مل کر بہت خوش ہوۓ تھے
“جی کیوں نہیں انکل…”
وہ دونوں ہاتھ ملا کر باہر کی طرف بڑھ گئے تھے…
فاطمہ بھی آیت کو کھینچ کر ان کی طرف لے گئی تھی
“یونیورسٹی کیسی جا رہی ہے آپ کی؟” رامش نے پہلی بار آیت کو مخاطب کیا تھا…
“جی اچھی” آیت نے نظریں جھکائے جواب دیا
اب وہ آیت سے ادھر ادھر کی باتیں پوچھ رہا تھا
فاطمہ ان دونوں کو مصروف دیکھ کر ہادی کے پاس چلی آئی تھی
“I am sorry”
فاطمہ نے معصومیت سے کہا
“کس لیے؟” ہادی نے انجان بنتے ہوۓ کہا
“وہ…. کیک گرانے کے لیے”
“آہ مجھے لگا زمین پہ گرانے کے لیے کہہ رہی ہونگی کیونکہ کیک گرانے میں تو آپکی کوئی غلطی نہیں تھی”
فاطمہ اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے شرم سے سرخ پڑ گئی تھی
“بدتمیز” منہ میں بڑبڑا کر رہ گئی تھی…
“نہیں…وہ…ہسنے کے لیے بھی” فاطمہ نے بمشکل الفاظ ادا کیئے
“اس میں بھی آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی” وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا
اور فاطمہ کو اسکا لہجہ انر تک جھنجوڑ گیا تھا…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *