Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06
ابھی تک سنگل ہے ؟
“ہاں حیرانگی کی بات تو ہے پر شاید ساری زندگی ہی سنگل رہنا پڑے”
فوراً سے اسکے منہ سے نکلا لیکن بات کی گہرائی کا احساس ہوتے ہی اسنے بات کو گول کیا
“دراصل میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں” اس نے بات مکمل کی اور گھڑی کی طرف دیکھا…”ٹھیک ہے آنٹی اب میں چلتا ہوں مجھے لیٹ ہو رہا ہے”
آپ اتنی جلدی جا رہے ہیں مجھے تو ابھی آپ سے بہت ساری باتیں کرنی تھی آرمی لائف کے بارے پوچھنا تھا ویسے میں نے سنا تھا کہ آرمی میں سب روبوٹ ہوتے ہیں ہر کام وقت پر کرتے ہیں۔ نہ ہی ایک منٹ پہلے اور نہ ہی ایک منٹ بعد… فاطمہ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا
“ایسی بات نہیں ہے بس ہم وقت کے پابند ہوتے ہیں… میں واقعی میں لیٹ ہو رہا ہوں ورنہ تھوڑی دیر اور رک جاتا”
“مجھے بھی بہت اچھا لگا تم سب سے مل کر” رامش نے فاطمہ کی ناراضگی دور کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے لیکن وعدہ کرو کہ اسے اپنا ہی گھر سمجھو گے اور اپنی پوری فیملی کو لے کر یہاں ضرور آؤ گے…اب کہ ساجدہ بیگم نے مداخلت کی
“جی آنٹی ضرور”
“جیتے رہو بیٹا خدا تمہے کامیاب کرے”
انہوں نے فاطمہ اور آیت کو اشارہ کیا کہ اسے باہر تک چھوڑ آؤ
گیٹ کے پاس آکر اسے یاد آیا کہ وہ چابی کمرے میں ہی بھول آیا ہے
“میں چابی لے کر آتا ہوں”
رامش نے اندر جاتے ہوئے کہا
“میں لے کر آتی ہوں… “میں نے ٹیبل سے اٹھا کے رکھی تھی”فاطمہ کہتی ہوئی اندر چلی گئی
“آیت ” رامش کی آواز پے اس نے سر اٹھایا
جی !آیت نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“یہ میرا کارڈ رکھ لو کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں
اسنے بغیر دیکھے کارڈ رکھ لیا تھا
“یہ لیں اور آپ اپنا نمبر تو دے دیں…پھر آپکو پوری فیملی کے ساتھ دعوت پر بھی تو بلانا ہے اور مجھے بہت ساری باتیں بھی کرنی ہیں”
“میں نے آیت کو اپنا کارڈ دیا ہے اس پر میرا نمبر بھی ہے”
“یہ تو ہو گیا لیکن فیس بک اور انسٹاگرام…”
آیت نے اسکی طرف گھور کر دیکھا
“اچھا اچھا وہ میں آپ سے نمبر پر کانٹیکٹ کر کے پوچھ لو گی”
“جی ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں”
اس نے حیا کی آنکھوں میں دیکھا جیسے سارا نیلا رنگ اپنی آنکھوں میں جذب کر لینا چاہتا ہو لیکن یہ تو اتنی گہری ہیں کہ اگر ساری زندگی بھی ان میں ڈوبتا رہتا تو بھی انکی گہرائی تک نا پہنچ سکتا
پتا نہیں کیسا سحر تھا اسکی آنکھوں میں جس نے اتنے مضبوط مرد کو لپیٹ کر اپنے سحر میں لے لیا تھا
رامش گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا…
“ٹھیک ہے فاطمہ میں بھی اب گھر جا رہی ہوں شام کو ملتے ہیں”
آیت کہہ کے ساتھ والے بنگلے میں میں داخل ہوئی
“فاطمہ یہ آیت اس وقت کس کے گھر گئی ہے؟”
“اپنے گھر”
“کیا مطلب یہ اسکا گھر نہیں ہے”
“نہیں یہ میرا گھر ہے” اور میں اسکی بیسٹ فرینڈ ہوں اس کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اس لیے اتنی صبح وہ اپنے گھر نہیں گئی تاکہ آنٹی جاگ نہ جائیں”
“اوہ! کافی کلوز فرینڈ شپ ہے مجھے لگا تم دونوں بہنیں ہو”
“Yup! We are sisters by hearts”
“Oh! Great”
ویسے آپکو پتا وہ جو دو بالکنی ایک ساتھ ہیں نہ وہ ہم دونوں کے کمروں کی ہیں (اس نے اوپر اشارہ کرتے ہوئے کہا )
Our friendship starts from there.
ہم پہلی دفعہ ایک دوسرے سے یہی پر ملے تھے…
فاطمہ اب بھی کچھ بول رہی تھی لیکن وہ نہیں سن رہا تھا وہ اس بالکنی کو دیکھ رہا تھا اور کسی سوچ میں گم تھا…
“چلو ٹھیک ہے فاطمہ اب میں چلتا ہوں اپنا اور اپنی دوست کا خیال رکھنا”
رامش نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا اور کہیں ہمیں بھول نہ جائیے گا”
“اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا اور فاطمہ کو ٹھیک سے سنائی بھی نہ دیا…
جب گاڑی گلی سے مڑ گئی تو فاطمہ اندر چلی گئی
آیت کمرے میں داخل ہوئی اور سیدھا اپنی امی کے کمرے کی طرف چلی گئی…کمرے کا دروازہ بند تھا…اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا
ماریہ بیگم سو رہی تھیں وہ انکے قریب صوفے پر بیٹھ گئی
تھوڑی دیر وہی بیٹھی انھیں دیکھتی رہی…آپ کتنی کمزور ہو گئی ہیں؟ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے صاف نمایاں ہو رہے تھے…اور رنگت بھی پیلی پڑتی جا رہی ہے…
پھر اٹھ کر انکے ماتھے پے پیار کیا اور چادر ٹھیک کر کے اپنے کمرے میں لوٹ آئی…کمرے میں آتے ہی اسنے کھڑکی کھول دی اور تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارنے لگی… تھوڑی دیر بعد وضو کر کے آئی اور جائے نماز پھیلا کے سجدے میں چلی گئی اور کھل کے رونے لگی… اور اپنے رب سے معافی مانگنے لگی…
“اے میرے مالک مجھے معاف کر دے میں تجھ سے ہمت مانگنے کے بجائے تجھ سے شکوہ کرتی رہی…جب کہ غلطی بھی میری ہی ہے…مجھے معاف فرما دے اور اگر یہ میری کوئی آزمائش ہے…تو مجھے صبر عطا کرنا اور اس آزمائش میں کامیابی عطا کرنا…
اور پھر پتا نہیں کتنی دیر وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتی رہی…
جب اسکا دل ہلکا ہوا تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگئی…جہاں ابھی بھی بارش کے بعد بادل چھائے ہوئے تھے…ٹھنڈی ہوا سے اسے سکون مل رہا تھا
اچانک اسکی نظر کھڑکی پے لگے sticky note پر پڑی
اس نے اسے اتارا اس پر لکھا تھا
“ان مع العسر یسرا”
یہ یہاں کس نے چپکایا یہاں ؟میرے بعد تو میرے کمرے میں کوئی بھی نہیں آتا یہاں تک کہ کوئی ملازم بھی نہیں… لیکن یہ کھڑکی کے باہر کی طرف لگا ہے وہاں کس نے لگایا…
“بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے”
اس نے زیر لب بڑبڑایا
پھر اپنے بیڈ پر لیٹ گئی…
چٹ اب وہ دراز میں رکھ چکی تھی
نیند کی وجہ سے اسکی آنکھیں بھاری ہو رہیں تھیں…اور آہستہ آہستہ وہ نیند میں جانے لگی تھی…
کس نے یہ چٹ یہاں پر چپکائی ؟ لگتا ہے فاطمہ ہوگی …ہاں وہی ہوگی اور پھر وہ گہری نیند میں چلی گئی…
****
وہ کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ کوڑے سے بھری بالٹی اس کے سر پر الٹی جسے بڈی مہارت سے دروازے کے اوپر رکھا گیا تھا…
“عادی! میں تمہیں جان سے مار ڈالو گا “
غصے سے کہتا ہوا وہ کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں عادی ابھی خراٹے لے کر سو رہا تھا
اس نے کمبل کھینچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر رک کے کچن کی طرف چلا گیا…
واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کا ایک جگ تھا جسے اس نے عادل کے منہ پر انڈیل دیا…
عادل ہڑبڑا کے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اترا اور رامش کے ہاتھ میں خالی جگ دیکھ کے اسکی طرف لپکا اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہاتھ آتا وہ واش روم میں جا کر کنڈی لگا چک تھا…
“باہر نکل ورنہ میں دروازہ توڑ دو گا”
ہاں تاکہ تو میری چٹنی بنا سکے…
رامش نے ہستے ہوئے کہا جس پر عادل اور بھڑک اٹھا
وہ تو میں بعد میں بھی بنا دو گا تو نے کونسا پوری زندگی اندر ہی رہنا ہے…
“اچھا اب اتنا بھی بھڑکنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے بس اپنا بدلہ لیا ہے ورنہ تجھے پتا ہے مجھ جیسا شریف بندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتا” رامش نے منہ بناتے ہوئے کہا
“ساری شرافت سے واقف ہوں تیری اور کون سا بدلہ مسٹر شریف؟”
وہ جو گندے کیلوں کے چھلکوں سے بھری بالٹی تو نے میرے لیے سجائی تھی… اسی کی بات کر رہا ہوں…
یاد آتے ہی عادی کا قہقہ چھوٹ گیا
“اوہ! وہ تو میں بھول ہی گیا تھا… اچھا اب باہر نکل کچھ نہیں کہتا میں”عادی نے ہستے ہوئے کہا “
نہیں تو جا اب میں تیری پھیلائی ہوئی گندگی صاف کر کے ہی نکلوں گا”
“ٹھیک ہے پھر میں میس جا رہا ہوں تم ادھر ہی آ جانا”
“نہیں میں ناشتہ کر کے آیا ہوں”
“کیا؟”
“تو اتنی صبح کس کے ساتھ ناشتہ کر کے آیا ہے”
“اور ہاں تیری ڈیوٹی تو رات بارہ بجے ختم ہو گئی تھی پھر ساری رات کدھر تھا؟”
“یار کیا تو شکی بیویوں کی طرح سوال پر سوال کر رہا ہے…ایک ضروری کام تھا… اب مجھے نہانے دو”
“اچھا پھر سیدھا اکیڈمی ہی آ جانا”
“اچھا اب جا یا میں چھوڑ کر آو”
“جا رہا ہوں…جا رہا ہوں”
“آیت کدھر ہے؟”گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے ملازمہ سے پوچھا
“جی وہ باجی جی کے کمرے میں ہیں”
“اچھا لائیں یہ مجھے دے دیں”اس سے چائے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا جو وہ انہی کے لیے لے کر جا رہی تھی…
“Hellow Ladies”
“شکر ہے تم آ گئی تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی”آیت نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا
“ہاں یار بس آج آخری پیپر تھا”
“یہ تو اچھا ہوا ورنہ تو آیت جب سے آئی ہے بور ہو رہی ہے”ساجدہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا
“چائے تم بنا کر لائی ہو؟”
“بھئی اب ہمیں تو کوئی پوچھتا نہیں ہے تو خود ہی کچھ نا کچھ کرنا پڑتا ہے”فاطمہ نے مصنوئی ناراضگی سے کہا
“بس یار تمہارے پپیرذ ہو رہے تھے اس لیے تمہے ڈسٹرب نہیں کیا”
” میں کب سے تم سے ڈسٹرب ہونے لگی؟”فاطمہ نے ایک چائے کا کپ ساجدہ بیگم کو پکڑایا اور دوسرے سے خود پینے لگی…
“اوہو میرا مطلب وہ نہیں تھا…اچھا چھوڑو یہ بتاؤ آج کا پیپر کیسا رہا؟”
“ہاں اچھا ہو گیا بس پروفیسر احمد کا دل کرے تو پوری کتاب ہی اٹھا کر دے دیں”فاطمہ نے اپنا کپ آیت کو پکڑاتے ہوئے کہا
“بیٹا آیت کو سمجھاو نا کچھ یہ کہ رہی ہے کے بزنس چھوڑ کر ادھر ہی آرٹ میں ایڈمشن لینا چاہتی ہے”ساجدہ بیگم نے آیت کی شکایت لگائی
“کیا؟؟؟؟دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟؟؟بزنس پڑھنا تمہارا جنون تھا اب کیا ہو گیا؟فاطمہ غصے سے چلا اٹھی
“اور آرٹ بھی تو میرا شوق ہے…”
“آیت تمہیں بزنس پڑھتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں اور اب تھیں یاد آیا ہے؟؟؟ بےوقوف کس کو بنا رہی ہو ہمیں یا خود کو؟؟
“نہیں فاطمہ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو پہلے ابو ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے اب امی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی ایسے میں میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی”
“آیت ادھر میں اور امی ہیں نا آنٹی کا خیال رکھنے کے لیے…اور آنٹی بہت جلدی ٹھیک ہو جائیں گی تم فکر نہیں کرو”
“فاطمہ تم جانتی ہو میرے پاس رشتوں کے نام پر صرف امی ہی ہیں اور اب میں ان سے دور نہیں رہ سکتی” آیت نے اصلی وجہ نہیں بتائی کہ اب بزنس پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا…
“ٹھیک ہے پریشان نہیں ہو جیسا تمہیں ٹھیک لگے ویسا ہی کرو” فاطمہ نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے کہا
“امی اب آپ آرام کریں ہم اوپر چلے جاتے ہیں…”
دونوں کمرے کی لائٹ بند کر کے اوپر چلی گئیں
*****
“یار اٹھ جلدی کر ہر وقت لمی تان کر پڈا رہتا ہے…”عادی نے کمبل دور پھنکتے ہوئے رامش کو اٹھایا…
“ہاں ڈیوٹی تو تو دیتا ہے میری جگہ…اب بول کون سی آفت آن پڑی ہے؟؟”رامش نے ناگواری سے کہا
“یار ٹرانسفر کا آرڈر آ گیا ہے میرے بھائی”
“ہاں پتا ہے فون آیا تھا میجر علی کا” وہ تو کب کا اس انتظار میں تھا اسے کیسے نا پتا ہوتا…
“پھر کب نکلنا ہے؟”
“ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں رات کو نکلتے ہیں”
“جو حکم میرے آقا…ویسے مجھے بھی کچھ کام ہے” اس نے سر کو خم کر کے کہا…
“I Am Comming Aayat”
اس نے بند آنکھوں سے مسکراتے ہوئے سوچا…جو ہادی نے فوراً دیکھ لیا تھا
“جناب کے مزاج کچھ بدلے بدلے سے ہیں” ہادی نے مذاق بناتے ہوئے کہا
“اگر آپ مجھے تاڈ چکے ہوں تو اپنا کام مکمل کر لیں ہمیں شام کو نکلنا ہے” رامش نے کمبل منہ پر لیتے ہوئے کہا
“کچھ تو چھپا رہے ہیں جناب…اگر یہ نہیں بتائے گا تو میں خود پتا کروا لوں گا” اس نے مسکراتے ہوئے سوچا…
****
آیت آئسکریم پارلر
اسے اپنا ماتھا بھیگتا ہوا محسوس ہوا تھا…اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں…
“Aayat relax…its me Ramish”
“تمہیں بہت تیز بخار ہو رہا ہے…ڈاکٹر نے پٹیاں کرنے کے لیئے کہا ہے…”
“آپ؟ آپ اتنی صبح یہاں کیسے؟”
آیت میں اتنی صبح نہیں آیا دوپہر کے دو بج رہے ہیں تم لیٹ جاؤ پلیز”
“فاطمہ؟ کدھر ہے؟”
“وہ انکل کو لینے گئی ہے رات تک آ جائے گی تم آرام کرو”
“لائیں میں خود کر لوں گی” آیت کو عجیب سا محسوس ہو رہا تھا…
“تم لیٹ جاؤ میں کر چکا ہوں”رامش نے اٹھتے ہوئے کہا
“ناشتہ کرنے کے بعد یہ میڈیسن لے لینا اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کال کر دینا” یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا…
تھوڑی دیر بعد ملاذمہ ناشتہ لے کر آئی تھی اور وہ ابھی تک وہیں گم سم سی بیٹھی ہوئی تھی…
“صبح سے آپ کہاں تھیں؟”اسنےملاذمہ سے پوچھا
“بیٹا بارش کی وجہ سے راستے بند تھے اس لئے آنے میں دیر ہو گئ”
“وہ میرے کمرے میں کب سے تھا؟”
“جب میں آئی تو صاحب آپ کو پٹیاں کر رہے تھے میں نے ان سے کہا کے میں کر دیتی ہوں تو انہوں نے کہا کے میں جلدی سے ناشتہ بنا لاؤں یہ وہ کر چکے ہیں”
“وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی میرا اتنا خیال کر رہا ہے…
“نہیں…خیال نہیں صرف ہمدردی دیکھا رہا ہے…نہیں چائیے مجھے کسی کی ہمدردی”
“آئندہ وہ گھر آئے تو اندر مت آنے دیجیے گا”آیت نے ملاذمہ سے کہا
لیکن اس دن کے بعد وہ خود ہی نہیں آیا تھا…
“آیت تمہاری بات ہوئی رامش سے؟” فاطمہ نے کافی دنوں بعد اس سے پوچھا تھا
“نہیں بس اسی دن آیا تھا جب تم انکل کو لینے گئ ہوئی تھی”
“ہاں میری بھی اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی شاید مصروف ہو گا”
“بس اتنی ہی تھی اسکی ہمدردی…سمجھتا کیا ہے وہ خود کو…
شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی میں اسکی”اس نے دل میں سوچا
******
“ہادی کدھر ہے؟”اس نے میس میں ڈکل ہوتے ہوئے رافع سے پوچھا
“ادھر ہی تھا ابھی…وہ رہا”
اتنے میں ہادی بھی اسے دیکھ چکا تھا بھگ کر اس سے چپک گیا
“یار میرے جانے کے بعد کہیں بندروں والی ٹریننگ تو نہیں ملی آپ لوگوں کو؟”
“کیا مطلب؟” ہادی نے ناسمجھی سے کہا
“بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا”ہادی جو ابھی تک اس پر چڑھا ہوا تھا پیچھے ہوا…
“اوہ!یہ تو آپ کی جدائی کا اثر ہے”رافع نے ہستے ہوئے کہا
“اب مجھے سمجھ ائی تو رک ذرا ادھر ہم تیرے انتظار میں مجنوں بنے بیٹھے تھے اور یہ جناب…تو بچ آج مجھ سے…”اس سے پہلے عادی رامش کو دبوچتا رامش نے دھوڑ لگا دی تھی…
دونوں آگے پیچھے دھوڑ رہے تھی جب رامش کی ٹکر میجر ارشد سے ہوئی اور ساتھ ہی ہادی بھی ان میں لگا اور وہ بمشکل گرتے گرتے بچے…
“یہ میس میں تم لوگ کیا بلی چوہا بنے ہوئے ہو؟تم لوگوں کا بچپنا ابھی تک نہیں جا رہا…یقین نہیں آتا میرے سامنے پاک فوج کے بہادر کھڑے ہوئے ہیں”انہوں نے گرجتے ہوئے کہا
“اب تم لوگوں کی یہ سزا ہے ابھی کے ابھی push ups لگانا شروع کرو جب تک میں واپس نہیں آ جاتا…
“سر ابھی تو ناشتہ بھی نہیں کیا میں نے رحم کریں”ہادی نے دنیا جہاں کی معصومیت اپنے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا
“کوئی ہوشیاری دکھانے کی ضرورت نہیں ورنہ یہ سزا اور بھی بڑھ سکتی”
“یس سر” دونوں کہہ کر ایک دوسرے کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگے…
******
“آیت…” فاطمہ اپنے مخصوص انداز میں اندر آتے ہی آیت کو بلانے لگی تھی…
“ہاں جی آ گئی آفلاتوں” آیت نے امی کے کمرے سے نکلتے ہوئے انھیں اطلاح دی تھی…
“شرم کرو اتنی پیاری لڑکی کو آفلاتوں بنا دیا” فاطمہ نے منہ بنایا تھا
“تو افلاطون پیارے نہیں ہوتے؟”
“پتا نہیں میں کبھی ملی نہیں ان سے لیکن اگر ابے تم نے میری بات نہیں مانی تو میں ضرور تمیں ان سے ملوا دوں گی…”
“جی فرمائیے”
“چلو میرے ساتھ”
“کدھر؟”
“کہیں بھی…تم چلو تو سہی” فاطمہ اسے کھنچ کر گاڑی تک لائی تھی…
“منہ سے کچھ بولو گی؟”
“یار کچھ کھانے کا دل کر رہا باہر سے”
آیت اور فاطمہ میکڈونلڈ میں داخل ہوئیں تو آیت آرڈر دینے چلی گئی تھی اور فاطمہ ٹیبل کی طرف مڑنے لگی جب اسکی نظر رامش پہ پڑی اس کے ساتھ اسکے دوست بھی تھے
وہ رامش کے پاس جانے لگی لیکن پھر رک گئی تھی…
اور رامش کو میسج کیا “look at the counter”
رامش نے میسج پڑھ کے کاونٹر کی طرف دیکھا جہاں فاطمہ کھڑی تھی اور آیت آرڑر لکھوا رہی تھی…
“ایک منٹ یار میں آتا ہوں”وہ کہہ کر اس کے پاس چلا آیا تھا
“کیسے ہیں کیپٹن صاحب کوئی لفٹ ہی نہیں؟” فاطمہ کی آواز پر آیت پلٹی تھی اور سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ کر پھر مڑ گئی تھی…
“نہیں ایسی بات نہیں آج ہی واپس آیا ہوں…تم سناؤ کیسی ہو؟”
“ارے اپ کو تو پتا ہی ہے…”
“کہ تمہارا خون اور بڑھ گیا ہے مجھے دیکھ کے”رامش نے بات مکمل کی تھی
“ایسا کس نے کہا؟” فاطمہ نے آبرو اچکا کے پوچھا
“تم نے ہی تو کہا تھا کہ…”
“اپکی یونیفارم کو دیکھ کہ میرا خون بڑھ جاتا ہے” فاطمہ نے فقرہ مکمل کیا تھا
“اوہ ہاں! وہی….”
“ویسے نا بڑے کہتے ہیں بندے کو خوش رہنا چاہیے خوش فہیمیوں میں نہیں” فاطمہ نے ہنستے ہوۓ کہا
“ہاں سہی کہتے ہیں بڑے اور یہ بتاؤ اکیلی آئی ہو؟” رامش نے آیت کی پشت دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں آیت بھی ساتھ ہے…آیت” اس نے آیت کو متوجہ کیا اور اسے نا چاہتے ہوۓ بھی اسے مڑنا پڑا تھا
“اسلام علیکم!” اس نے رامش کو دیکھتے ہوۓ کہا
“وعلیکم اسلام” اس نے آیت کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ سر خم کیا…جس کا رنگ اس کے نیلے حجاب سے مل رہا تھا اور پھر وہی ہوا وہ اپنی نظر ہٹانا بھول گیا تھا…
“آہم آہم!” فاطمہ نے اس کا سحر توڑا تھا
“بھائی صاحب اس پاس کافی لوگ ہیں” فاطمہ نے اسے چھڑا تھا اور آیت نے اسے گھور کر دیکھا
“کیسی ہو؟ “وہ اتنا ہی بول پایا تھا
“زندہ ہوں” اس نے دل میں سوچا اور رامش نے اس کی آنکھوں سے پڑھ لیا تھا
“جی ٹھیک”
اب چلیں کے ساری باتیں یہی کر لیں گے… فاطمہ نے انھیں یاد دلایا تھا کہ وہ کاؤنٹر پپر ہی کھڑے ہیں
“سامنے والے ریسٹورینٹ میں چلتے ہیں وہ کافی اچھا ہے” اس نے مسلسل اپنے دوستوں کی نظر ان پر ڈالتے دیکھ کر کہا
“ایک منٹ میں آرڑر کینسل کروا کے آتی ہوں آپ دونوں چلیں” فاطمہ کہہ کر کاونٹر کی طرف مصروف ہو گئی اور وہ دونوں باہر کی طرف چل پڑے تھے
“فامطہ نے بتایا تم بزنس چھوڑ رہی ہو” رامش نے بات شروع کی تھی
“جی”
“وجہ پوچھ سکتا ہوں؟”
“اب اس کا کوئی فائدہ نہیں” اس نے سامنے دیکھتے ہوۓ کہا
“اب آگے کیا ارادہ ہے؟”
“آرٹس جوائن کرنے کا سوچ رہی ہوں”
“اوہ! تم پینٹگ بھی کرتی ہو؟”
“ہمم!”
“میں پھر بھی کہوں گا ایک بار سوچ لو”
“اب سوچنے کے لیے کچھ نہیں بچا”
“ٹھیک ہے میں کسی اچھی یونیورسٹی کا فارم بھیج دوں گا” “دیکھ لینا اگر کسی اور بھی چیز کی ضرورت ہوئی بتانا”
“Thank you”
آیت نے نیچے دیکھتے ہوۓ کہا
“کیا باتیں ہو رہی ہیں؟” فامطہ نے قریب آ کر پوچھا
“کچھ نہیں آیت کے ایڈمیشن کی بات کر رہے ہیں اگر میری ضرورت ہوئی تو بتانا” اس نے فاطمہ سے کہا
“ضرورت کیا مطلب؟ آپ خود آ جائیے گا ایڈمیشن کروانے” فاطمہ نے آیت کو دیکھے بغیر جواب دیا جو اب اس کو گھور رہی تھی
“ہاں میں بھی یہی سوچ رہا تھا…ایسا کرنا مجھے جانے سے پہلے بتا دینا میں آجاؤں گا” اس نے ویٹر کو آرڑر دیتے ہوۓ کہا
“ویسے آپ ادھر کوہاٹ میں کب تک ہیں؟” دو مہینوں تک
فاطمہ اب رامش کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئ تھی
“ویسے رامش مجھے بھی آرمی میں آنے کا بہت شوق تھا”
“ہاں تو اب آ جاؤ”
“اب کیسے؟” اس نے حیرانگی سے پوچھا
“اپنا میڈیکل کمپلیٹ کرو اور آرمی جوائن کرلو” اس نے آسان حل بتایا تھا
کیا مطلب؟ یہ سب اتنا آسان ہے؟
ہاں اگر تم ٹیسٹ پاس کر لو تو کوئی مشکل نہیں”
“میں بہت محنت کروں گی…”
“انشاءلله” اس نے کھانے کی پےمنٹ کرتے ہوۓ کہا
“میں کرتی ہوں پے آپ رہنے دیں”آیت نے پہلی بار مداخلت کی تھی
“رامش نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا جیسے بہت کچھ کہنا چاہتا ہو اور پھر پے کر کے کھڑا ہو گیا”
“ٹھیک ہے پھر اللہ حافظ” اور مجھے ایڈمیشن کا بتا دینا میں فارم بھیج دوں گا…
******
“امی میں سچ میں بہت خوش ہوں…اس یونیورسٹی میں پڑھنا میرا خواب تھا جو بھائی نے پورا کر دیا…”سارا خوشی سے امی کی گود میں سر رکھ کر انکو بتا رہی تھی
“نہیں بیٹا بھائی کی وجہ سے نہیں میری بیٹی کی قابلیت کی وجہ سے”
“پھر بھی امی اگر وہ مجھے اجازت نا دیتے تو میں یہ کبھی نہیں کر پاتی”
“بیٹا ہر کام میں اللہ پاک کی بہتری ہوتی ہے…بس اس کے ہر فیصلے کا احترم کرنا چائیے”
“جی امی میں شکرانے کے نفل بھی پڑھوں گی”
“بالکل پڑھنے چائیں کیوں کہ شکر کرنے والوں کو وہ اور بھی نوازتا ہے”
“امی اللہ جی کتنے رحم ہوتے ہیں نا ہماری ہر خوائش کا خیال رکھتے ہیں…ہم انکی کتنی نافرمانی بھی کرتے ہیں لیکن وہ ہمیں معاف کر دیتے ہیں انسانوں کی طرح بدلہ نہیں لیتے…”
“ہاں بیٹا خدا کی محبّت میں تو ایک ایسا مقام بھی آتا ہے کہ جب خواہش دل میں اور دعا زبان پر آنے سے پہلے ہی قبول ہو جاتی ہے…بس خدا پر یقین پختہ ہونا چائیے”
جاری ہے
