653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09

آیت،فاریہ،سارہ اور نور فری پیریڈ میں لائبریری میں بیٹھی ہوئیں تھیں اور پچھلے آدھے گھنٹے سے کسی اسائنمنٹ پر ڈسکشن چل رہی تھی…
“یار مجھے لگتا ہے ہمیں سر سے ہیلپ لے لینی چائیے…میں مزید اس کے ساتھ سر نہیں کھپا سکتی”
نور نے تنگ آ کر کہا
“ہاں یار صحیح کہہ رہی ہو…جلدی چلو پھر اگلی کلاس سٹارٹ ہو جائے گی”
“ہاں چلو”
کچھ دیر میں وہ سر کے آفس میں موجود تھیں…
سر کسی گیسٹ کے ساتھ مصروف تھے اور انہیں انتظار کرنے کا کہا گیا تھا…
اب وہ چاروں اس گیسٹ کی پشت پر نظریں ٹکائے بیٹھی ہوئیں تھیں کہ ایسی بھی کون سی گفتگو ہے جو ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی…
“یار اس کو بولو اپنا مسلئہ کشمیر بعد میں آ کر سلجھا لے ہماری کلاس شروع ہو گئی تو میم سے انسلٹ پکی…”
سارہ کی بات پر آیت نے اسے کہنی مار کر گھورا تھا
“آہستہ بولو سر نے سن لیا نا تو آفس سے باہر اٹھا کر ماریں گے پھر کرتی رہنا اپنی اسائنمنٹ کمپلیٹ”
خیر اللہ‎ اللہ‎ کر کے وہ جناب اٹھے تھے اور وہ تینوں سر کی طرف متوجہ ہوئیں سوائے سارہ کے…
سارہ تو ہادی کو دیکھ کر وہیں جم گئی تھی…اسے بھی سارا کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی…
اس نے دور سے ہی سر کو خم کر کے سلام کیا تھا…
اور سارہ
وہ تو جواب میں مسکرا بھی نہ سکی تھی…
نور نے اسے کھڑا دیکھ کر کھنچ کر کرسی پر بیٹھایا تھا…
کتنے دنوں بعد دیکھا تھا اسے…یا شاید مہینوں بعد…وہ اندازہ نہیں لگا سکی تھی…
وہی پرانا فوجی کٹ اور گہری مسکراہٹ…جو ہمیشہ اس کے دل کی حالت کو بدل دیا کرتے تھے…آنکھوں کے گوشے نم ہونے لگے تھے…
اس کا دل چاہا بھاگ کر اسے روک لے اور پوچھے کہ محبّت کرنے والوں کے ساتھ یوں کیا جاتا ہے؟؟؟
سر سمجھا چکے تو وہ بھی سب کے ساتھ باہر آ گئی تھی…
“کون تھا وہ اور تم اسے یوں…؟ تم رو رہی ہو؟”
اور نور کے پوچھنے کی دیر تھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور وہ تینوں تو بوکھلا ہی گئیں تھیں…
“یار کیا ہوا بتاؤ تو صحیح؟” آیت نے اسے گلے لگاتے ہوئے پوچھا
“کوئی اموشنل اٹیچمنٹ؟” فاریہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
اور سارا نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“ہائے او ربّا…” وہ چلا ہی تو پڑی تھی…
“کتنی تم ویسے بدتمیز ہو پہلے تو کبھی نہیں بتایا” نور کو اپنی ہی فکر پڑ گئی تھی…
“تم تو چپ ہی کرو وہ رو رہی ہے اور تمہیں اپنی پڑی ہوئی ہے” آیت نے اسے ڈپٹا
“تو رو کیوں رہی ہو؟ دھوکہ دیا اس نے تمہیں؟”
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
” تو کہیں انگیجمینٹ ہو گئی ہے اس کی؟
“ہائے اللہ‎ نہ کرے” سارا آنسوں پونچھ کر فوراً بولی تھی…
اور باقی سب کی ہسی نکل گئی تھی…
“ویسے بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بندہ بات ہی اچھی کر لے” فاریہ نے نور کو چڑایا تھا
“ہاں تمہاری اچھی ہے تو تم ہی کر لو”
“پہلے سارا کچھ بتائے گی تو کروں گی نا چلو سارا شروع ہو جاؤ…بتاؤ ہے کون وہ؟ اور باقی کیا سین ہے؟
نور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی
“یار بابا کے فرنڈ کا بیٹا ہے…کچھ عرصہ پہلے ہی آرمی جوائن کی ہے…اس لیے اب تو دیکھے ہوئے بھی مہینے گزر جاتے ہیں”
“اوہ تو وہ بھی تمہیں لائک کرتا ہے؟
“پتا نہیں”
“واؤ ون سائیڈڈ لو”
“تم فکر نہ کرو وہ بھی لائک کرتا ہی ہو گا” فاریہ نے اسے حوصلہ دیا تھا
“ضروری نہیں ہے وہ بھی کرتا ہی ہو…اویں فضول میں امیدیں نہیں لگاتے بعد میں تکلیف ہوتی ہے” آیت نے اسے ڈپتا تھا…
“چلو نا بھی کرتا ہوا تو تم بالکل فکر نا کرو ہم اسے اٹھوا لیں گے”
“اتنے عقلمندانہ مشورے پر آپکو ستر توپوں کی سلامی پیش کی جائے؟” فاریہ کو نور کا مشورہ ذرا پسند نا آیا تھا بھلا اب وہ معمولی سی لڑکیاں ایک فوجی کو کیسے اٹھوا سکتیں تھیں”
“اچھا چھوڑو یہ بتاؤ نام کیا ہے اس کا؟ نور نے پوچھا تھا
“ہادی”
“واؤ نام بھی اس کی طرح ہی handsome ہے” فاریہ نے سارا کو آنکھ مرتے ہوئے کہا
“شرم کرو جیجو ہیں تمہارے” نور کی بات پر سب ہی ہنس پڑیں تھیں…
“چلو یار کلاس شروع ہو گئی ہو گی” سارا نے ان سب کو اٹھنے کا اشارہ کیا تھا
“تم ٹھیک ہو اب؟” آیت نے فکرمندی سے پوچھا تھا
“ہاں” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا
******
کبھی کبھی ہم قسمت کے آگے بےبس ہو جاتے ہیں
ہماری ساری کوششیں بےکار جاتی ہیں
ساری دعایں محفوظ کر لی جاتی ہیں
بچتا ہے تو صرف صبر…بےبسی
اور کچھ بھی نہیں___
کمرے میں مکمل اندھیرا تھا کھڑکی سے چاند کی روشنی چھن چھن کر کمرے میں نور بکھیرے ہوئے تھی
آیت کو اندازہ تھا کہ سارہ جتنی نارمل نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی اتنی تھی نہیں!
سب محبّت کرنے والے ایک ہی جیسے ہوتے ہیں اپنا دکھ دوسروں سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں…
وہ ٹھنڈے فرش پر دیوار سے ٹیک لگائے بند کھڑکی کے باہر گرتی مسلسل بارش پر نظریں ٹکائے اسے سوچ رہی تھی…
بارش کے قطرے اپنے سر بکھیرنے میں مگن تھے…وہ جیسے ان قطروں میں کسی آواز کو تلاش رہی ہو
“آیت مجھے کسی سے محبّت ہو گئی ہے”
ہاں یہی تھی وہ آواز_ایک دن ایسے ہی برستی بارش میں اس نے لان میں پڑے جھولے پر بیٹھے کہا تھا…
“کس سے؟” آیت کی دھڑکن تھمی تھی
“ہے ایک لڑکی”
“اچھا تم نے پہلے تو کبھی نہیں بتایا” اس نے آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہا
“بس ایسے ہی سوچا تمہیں سرپرائز دوں گا” اس نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا
“کیا ہوا تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟” اس کا جواب نہ پا کر اس نے سوال کیا
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں” اس نے سر جھکائے جواب دیا تھا
“اچھا رکو میں تمہاری بات کرواتا ہوں” اور پھر وہ اپنے فون میں نمبر ڈائل کرتا ہوا اٹھ کر دور چلا گیا تھا
آیت اسے بارش میں دور جاتا دیکھتی رہی تھی
بارش کے قطرے جیسے اس کے دکھ میں شور مچا رہے تھے…
اسے روک رہے ہوں کہ مت جاؤ دور مجھے کسی سے بات نہیں کرنی…
فون بجنے کی آواز پر اس نے نظریں ہٹائیں تھیں سکرین پر کسی unknown نمبر سے کال آ رہی تھی…
اس نے کال پک کی تھی
“Met My Love my sweet cusion I Love U”
سپیکر پر زین کی آواز گونجی تھی
آیت نے فون کان سے ہٹا کر دیکھا تھا یہ واقعی کوئی خواب نہیں تھا
“بتاؤ پھر کیسی لگی میری چوائس؟” اس نے ہستے ہوئے پوچھا تھا…
ماضی کے کچھ خوبصورت مگر دھوکےباز لمحوں کی فلم دماغ کے پردے پر چل رہی تھی
اسے اس لمحے اس آواز سے نفرت محسوس ہوئی تھی…اس کا دل چاہا اس آواز کا گلہ گھونٹ دے…لیکن یہ آواز تو بڑھتی ہی جا رہی تھی اسے ہر طرف اسی کی ہی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں…بارش کی آواز کہیں پیچھے دب گئی تھی…
وہ اس آواز سے دھیان ہٹا کر اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھورنے لگی تھی
اتنا اندھیرا…ہاں ٹھیک ہی تو ہے اتنا اندھیرا ہی تو ہے میری زندگی میں ہر طرف جدھر دیکھو اندھیرا ہی اندھیرا ہے
اب تو میرا دم گھٹتا ہے اس زندگی سے اب یہ سانسیں مجھے زندگی نہیں بلکہ تکلیف دیتی ہیں
مجھے ڈر لگنے لگا ہے اب خود سے…اپنے آپ سے… اپنے وجود سے….
کیوں کیا تم نے ایسا…کیوں؟؟
کیا کمی تھی میری محبّت میں…بولو؟ بولتے کیوں نہیں ہو؟؟
وہ مسلسل کانپتے ہوئے بےبسی سے چیخ رہی تھی_آنکھیں مسلسل رونے کی وجہ سے لال ہو رہیں تھیں_ جسم کی حرارت بڑھتی جا رہی تھی…
میں کیا کروں…؟ کیا کروں میں کہ مجھے اس تکلیف سے چھٹکارا مل جائے…میں آزاد ہو جاؤں اس درد سے…
مجھے درد ہو رہا ہے…بہت درد ہو رہا ہے میں کیا کروں اللہ‎ جی…کیا کروں…سر درد سے پھٹ رہا ہے میرا
جنونی کفیت میں اس کا سر زور سے دیوار کے ساتھ لگا تھا اور آہستہ آہستہ وہ فرش پر گرتی چلی گئی تھی…ہر درد سے آزاد ہو کر…!
محبّت میں بےبسی انسان کی روح کے ریشے ریشے کر دیتی ہے…
پاس پڑا اس کا موبائل لگاتار بج رہا تھا اور وہ ہر چیز سے بےنیاز بیہوشی کی حالت میں تھی
فون پر فاطمہ کا لنک آ رہا تھا جب بہت دیر تک کوئی جواب نا آیا تو وہ خود گھر آ گئی تھی
دروازہ اندر سے لاک تھا فاطمہ نے کافی دیر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ملازمہ سے چابی منگوائی تھی…دروازہ کھلتے ہی سامنے کا منظر دیکھ کر فاطمہ پریشانی میں اوندھے منہ پڑی آیت کے پاس آئی تھی…
بہت کوششوں کے بعد بھی جب وہ نہ اٹھی تو وہ ملازمہ کے ساتھ مل کر اسے گاڑی تک لائی تھی…
“آنٹی کو کچھ مت بتانا انھیں سویا رہنے دو ہم بس تھوڑی دیر میں آ جائیں گے” وہ ملازمہ کو ہدایت کر کے اسے ہسپتال لے آئی تھی
آیت کو بہت تیز بخار تھا اس لیے انہوں نے رات ہسپتال میں ہی رکھنے کا کہا تھا
ساری رات گزرنے کے بعد بھی آیت کو ہوش نہیں آیا تھا اس نے ماما کو فون کر کے آیت کی حالت کے بارے میں بتا دیا تھا اور کچھ دیر میں وہ آیت کی امی کے ساتھ ہسپتال پہنچ گئیں تھیں…
“کیا ہوا بیٹا اسے؟”
“کچھ نہیں ہوا آنٹی بس سردی کی وجہ سے بخار ہو گیا ہے”
“پھر اسے ہوش کیوں نہیں آ رہا”
“ڈاکٹرز کوشش کر رہے ہیں آپ پلز پریشان نہ ہوں” وہ ان سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی تھی آیت کی ایسی حالت اسے بھی کہاں برداشت تھی
******
آج کورٹ میں فیصلہ سنایا گیا تھا اور ساری پراپرٹی آیت کے نام منتقل کر دی گئی تھی_گولی چلانے کی وجہ سے اسے دو سال کی جیل سنائی گئی تھی…
“جو گزر گیا وہ معاف کیا آئندہ آیت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو سلوک اس سے بھی برا ہو گا” رامش نے فاتحانہ نظر زین پر ڈالی تھی
زین جو اپنے باپ کے کہنے پر سب کرتا آیا تھا آج پچھتا رہا تھا
اسے وہ سب یاد آ رہا تھا کہ کیسے اس نے آیت کے ساتھ برا سلوک کیا اسے دھوکہ دیا اور آج وہ اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا
رامش جیسے مشہور بزنس مین کے بیٹے کے لئے ثبوت اکھٹے کروانا کوئی مشکل کام نہ تھا اس کے سامنے زین کے باپ کا ایک بھی جھوٹا گواہ یا ثبوت نہیں ٹک سکا تھا…
وہ مطمعن تھا اور اب آیت کو اس کے خواب لوٹانا چاہتا تھا
لیکن یہ سوچ کر وہ پریشان ہونے لگا تھا کہ وہ اب آگے بڑھ چکی ہے چاہے دل سے نا سہی مگر وہ اپنے قدم آگے بڑھا چکی تھی
اپنا نیا راستہ وہ اپنا چکی تھی اب اسے پھر واپس لانا رامش کو اچھا نہیں لگ رہا تھا
لیکن اب آگے اسے کیا کرنا تھا وہ جانتا تھا اس لیا ابھی اس نے یہ سب آیت سے چھپانے کا فیصلہ کیا تھا…
******
شام کے قریب جا کر آیت کو ہوش آیا تھا لیکن بخار ہنوز برقرار تھا ڈاکٹرز نے ابھی مزید ہسپتال میں رکھنے کا کہا تھا اس لیے فاطمہ آنٹی کو آیت سے ملوا کر اب گھر جانے کا کہہ رہی تھی…
“آنٹی آیت اب ٹھیک ہے آپ گھر چلی جائیں میں رات آیت کے ساتھ رکوں گی”
“نہیں بیٹا میں اسے اس حال میں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی” وہ بضد تھیں
“آنٹی دیکھیں آپ کی طبیعت خراب ہو گئی تو مزید مسئلہ ہو جائے گا میں وعدہ کرتی ہوں صبح ہوتے ہی آپ کو لے آؤں گی”
آیت نے انھیں سمجھا کر گھر بھیج دیا تھا
اب وہ آیت کے کمرے میں اکیلی تھی…
اسے اس حال میں دیکھنا فاطمہ کے لیے تکلیف دہ تھا ایک رات میں ہی وہ پہلے سے کمزور لگنے لگی تھی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے اس پر گزری ہر تکلیف کا پتا دے رہے تھے اب تک جو سب کے سامنے خود کو مظبوط دکھانے کی کوشش کر رہی تھی سب لمحے میں ہار گئی تھی…
ایک بےرحم آنسوں اسکی پلکوں سے ہوتا ہوا آیت کی پلکوں پر جا گرا تھا اور پھر ایک کے بعد ایک گرتے چلے گئے تھے
“تم بھول کیوں نہیں جاتی ہو اسے؟” اس نے جیسے آیت کی منت کی تھی
“انسان ہی تھا نا…وہ بھی بے وفا” اب کہ لہجے میں حقارت تھی
“کیوں خود کو اور ہمیں تکلیف دے رہی ہو؟”
“بس کر دو خدا کا واسطہ ہے تمہیں آیت خدا کا واسطہ…” سسکتے ہوئے اس نے ہاتھ جوڈ دیئے تھے
آنسو آیت کی کنپٹی سے اب اس کے بالوں کو بھیگونے لگے تھے
“کوئی قیامت نہیں آ گئی اس کے جانے سے” اب کے وہ غصے سے بولی تھی
“پتا نہیں قیامت اسے نہیں کہتے تو اور کسے کہتے ہیں” نہایت دھیمی آواز میں وہ بولی تھی جو فاطمہ بمشکل ہی سن پائی تھی
“آیت…”
“وہ شخص تمہارے قابل تھا ہی نہیں” اب وہ اسے پیار سے سمجھا رہی تھی
“میں خود تمہارے لیے ڈھونڈوں گی دیکھنا اتنا پیارا پرنس سب دیکھتے رہ جائیں گے” یا شاید بہلا رہی تھی
جیسا بچہ جب کسی چیز کے لئے زد کرتا ہے تو اسے بہلایا جاتا ہے…
“پیاری بہن ہو نا میری؟”
“پلز میری بات مان لو” وہ آس بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی
“اس کے بدلے میں تم جو کہو گی میں کرنے کے لئے تیار ہوں بس مجھے میری دوست لوٹا دو”
آیت نے اذیت سے آنکھیں میچ لیں تھیں…
“پہلے جیسی ہستی ہساتی” وہ حسرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“تمہیں یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو جب کبھی ہم رونے لگتے تو انکل کیسے کیسے ہمیں ہساتے تھے…” وہ آنسوں کے درمیان میں ہسی تھی
“کبھی گھوڑا بنتے تھے کبھی بندر کی نقل اتارتے…اور پھر ہم فوراً ہس دیتے تھے…پھر ہم تینوں ہسنے لگتے تھے اور ہستے ہی جاتے تھے بلاوجہ…بس ایک دوسرے کو دیکھ کر”
“چلو نا آج پھر ہستے ہیں…زندگی نے اتنے دکھ دیئے ہیں آج اسے ہرا ہی دیتے ہیں”
“دل نہیں کر رہا نا؟”
“چلو پھر آج خود کو ہرا دو…بولو آج میں تمہاری نہیں سنوں گی…اور ہس لو”
“بہت سارا”
“اویں بلا وجہ” وہ بچوں کی طرح اسے بہلا رہی تھی
“پلز” آیت نے اسے روکا تھا
“پلز نا” وہ بھی اسی کی جان تھی کیسے رکتی
“فاطمہ…”
“آیت”
“نہیں کرو”
“پلز کر لو”
“فاطمہ…”
“جی…” وہ محبّت سے آیت کے بال سہلا رہی تھی
“میرا دل چاہتا ہے کوئی مجھے اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخے یا مجھے تڑپا تڑپا کر مارے کہ اس بے وفا کے لئے اپنے پیارے رشتوں کو دکھ دیئے…؟؟”
“نہیں میری جان تم نے کسی کو دکھ نہیں دیا دکھ تو تمہیں ملا ہے اور ہم کچھ بھی نہیں کر سکے تمہارے لئے” فاطمہ نے اسے گلے لگایا تھا
“مجھے لگتا ہے پوری دنیا مجھ پر ہستی ہے…”
“نہیں میری جان ایسے نہیں سوچتے کوئی نہیں ہستا”
دروازے پر دستک پر دونوں ادھر متوجہ ہوئیں تھیں
فاطمہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا…گھر سے آیت کے لئے سوپ آیا تھا
“یہ دیکھو امی نے تمہارے لئے سوپ بھیجا ہے اچھے بچوں کی طرح سارا ختم کرنا ہے” فاطمہ نے اسے بیٹھنے میں مدد دی تھی اور اب اسے سوپ پلانے لگی تھی
آیت نخرے دکھانے لگی تھی اور فاطمہ ساتھ ساتھ اسکی نقل اتار رہی تھی….
فاطمہ کی الٹ پٹانگ شکللیں دیکھ کر آیت ہسنے لگی تھی اور فاطمہ نے اللہ‎ کا شکر ادا کیا تھا
******
رامش کو کچھ ڈاکومینٹس پر آیت کے سائن چائیے تھے وہ صبح سے آیت کو کالز کر رہا تھا لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا تھا اس نے بارہا فاطمہ کو بھی کالز کی تھیں لیکن وہ بھی نہیں اٹھا رہی تھی…
اس نے آیت کی لوکیشن ٹریس کی تھی جو مسلسل ہسپتال کی آ رہی تھی اس نے ہسپتال کال کی تو پتا چلا کے آیت ادھر ایڈمٹ ہے…
رامش ڈیوٹی پر تھا جب اس کی ڈاکٹر سے بات ہوئی اس نے ہادی کو جلدی آنے کا میسج کیا تھا جو اس کی گاڑی لے کر آوارہ گردی پر نکلا ہوا تھا…
******
فاطمہ آیت کو سوپ پلا کر اس کے ڈاکٹر سے ملنے روم سے باہر آ گئی تھی اور اب میڈیسن لینے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی جب اس کی نظر ریسیپشن پر کھڑے ہادی پر پڑی
وہ بھی اسے دور سے آتا دیکھ چکا تھا لیکن حیرانگی کی بات تو یہ تھی کہ سلام تو دور کی بات اس نے اسے دیکھتے ہی منہ دوسری طرف کر لیا تھا
“اسلام علیکم” اس نے پاس آ کر کہا
“وعلیکم اسلام! کیسی ہیں مس فاطمہ” انداز میں کچھ طنز تھا جسے فاطمہ سمجھنے سے قاصر تھی
“میں تو ٹھیک ہوں لیکن لگتا ہے آپ نے ابھی تک اس دن کے لئے مجھے معاف نہیں کیا” فاطمہ پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی
“کس دن؟” اس نے ابرو اچکا کر پوچھا جیسے کچھ یاد ہی نہ ہو
“وہ جب آپ پر غلطی سے کیک…”
“اوہ ناٹ اگین مس فاطمہ…اور سنائیں آج کل کیا کر رہی ہیں” اس نے موضوع بدلا تھا اور فاطمہ کو ایسا کرتا وہ بہت عجیب لگا تھا
“وہی پرانی روٹین کچھ خاص نہیں” اس نے پھر بھی مسکرا کر جواب دیا تھا
“اییم گڈ” اس نے نظریں موبائل پر جماتے ہوئے کہا جیسے کچھ اور نا ہو بات کرنے کے لئے
“رامش کیسا ہے؟” اس نے بات بڑھاتے ہوئے کہا پتا نہیں کیوں اسے تجسس تھا جاننے کا کہ وہ فاطمہ سے اتنا الجا ہوا کیوں رہتا ہے جبکہ باقی سب کے ساتھ اس نے اسے بہت مختلف دیکھا تھا
پچھلے ہفتے بھی جب وہ اور آیت ڈنر کرنے گئے تھے تو اتفاقاً ہادی سے ملاقات ہوئی تھی وہ آیت سے بالکل نارمل ملا تھا بلکہ ہلکا پھلکا مذاق بھی کرتا رہا تھا لیکن فاطمہ کو مکمل نظرانداز کیا تھا
“یہیں ہے وہ بھی کسی رشتےدار سے ملنے آیا ہے شاید خود ہی پوچھ لیں” اس نے سامنے کمرے کی طرف اشارہ کیا جدھر تھوڑی دیر پہلے وہ گیا تھا
یہ وہی کمرہ تھا جدھر آیت ایدمٹ تھی اسے بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس کی دوست کو ایک پرفیکٹ انسان چاہتا ہے جس کو اس کے بارے میں بغیر بتائے ہی ساری خبر ہوتی ہے اسے یقین تھا وہ آیت کی زندگی میں پھر سے رنگ بھر دے گا اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا وہ گہری مسکراہٹ لئے ہادی سے ایکسکیوذ کرتی کمرے کی طرف بڑھی تھی
اور رامش کے نام پر اس کا خوشی سے کھلتا چہرہ دیکھ کر اس کا دل جل کر رہ گیا تھا اس لمحے اس کے دل نے رامش سے جلن محسوس کی تھی
وہ جتنا اسے اپنے ذہن سے جھٹکتا تھا وہ اتنا ہی اس کے حواسوں پر سوار ہوتی تھی
“اسی لئے اتنا بےتاب تھا یہاں آنے کے لئے جیسے نا آیا تو جان نکل جائے گی” اس کو رامش پر غصہ آیا تھا
ریسیپشن پر اس کی گاڑی کی چابی اور اس کے نام پیغام چھوڑ کر وہ ہسپتال سے باہر نکل آیا تھا
اور بےمقصد سڑکوں پر پھرتا رہا تھا وہ خود اپنی حالت پر حیران تھا جتنا اپنے جذبوں کی نفی کرتا اتنا ہی وہ سر چڑھ کر بولتے تھے…
“آہ فاطمہ…”
“مجھے معاف کرنا رامش لیکن کچھ بھی میری اخطیار میں نہیں ہے سب خود بہ خود ہوتا چلا جا رہا ہے…” اس نے منہ سے دھواں ہوا میں خارج کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا ہوا آدھا سگرٹ دور پھینکا تھا
_______
آیت آج بہت دنوں بعد یونیورسٹی آئی تھی اور آتے ہی وہ تینوں اسے گھیر کر بیٹھ گئیں تھیں
“جی محترمہ آ گئی آپ کو ہماری یاد” نور قدرے خفگی سے بولی
“ارے یاد تو انھیں کیا جاتا ہے جنہیں ہم بھولتے ہوں تم لوگ بھولتے ہی کب ہو” آیت نے مسکراتے ہوئے کہا
وہ آج پہلے سے بہت فریش لگ رہی تھی
“بس کرو ڈائلاگ مارنا ان کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہونے والا” سارہ ناراضگی سے منہ دوسری طرف کرتی ہوئی بولی
“ویسے اتنے دن کدھر غائب تھی ڈھیروں کالز اور میسجز کئے تمہیں ایک کا بھی رپلائے نہیں کیا؟” اب کے فاریہ آگے ہوئی تھی
“یار بخار تھا… ہسپتال میں ایدمٹ تھی”
“کیا؟ اور تم نے ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا؟”
“ایسی بات نہیں ہے یار بس خیال ہی نہیں رہا اور ویسے بھی کوئی اتنا خاص مسلئہ نہیں تھا کہ تم لوگوں کو بھی پریشان کرتی”
“کتنی غلط بات کی تم نے آیت ہم اتنے دنوں سے تمہارے لیے پریشان تھے اور تم نے ایک لمحے میں ہمیں غیر کر دیا” سارہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی
“اوہو میرا وہ مطلب نہیں تھا یار میں تو بس یہ کہ رہی ہوں نارمل سا بخار تھا اور کچھ بھی نہیں”
“ہم at least تم سے ملنے تو آ سکتے تھے نا” نور فکرمندی سے کہہ رہی تھی
“اچھا نا سوری آئندہ ایسا نہیں ہو گا”
“اچھا چھوڑو یہ بتاؤ اب کیسی طبیعت ہے؟”
“ہاں نا بالکل ٹھیک ہوں_دیکھو” آیت نے ہستے ہوئے کہا
“ڈرامےباذ” سارہ فوراً بولی تھی
وہ تینوں صبح آیت کو دیکھ کر کلاس کی بجائے کینٹین میں آ گئی تھیں تاکہ پہلے تفتیش کر لیں اور اب ساتھ ساتھ چائے سے انصاف ہو رہا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *