Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16
میں ضرور پوچھوں گی اس سے کہ وہ ایسا کیوں ہے؟ وہ بھی صرف میرے ساتھ…
کبھی دھوپ تو کبھی چھاؤں
بلکہ دھوپ زیادہ اور چھاؤں کم
وہ بہت اچھا ہے
میں جانتی ہوں
سب کے ساتھ ہنستا بھی ہے
کبھی کبھی میرے ساتھ بھی
لیکن میرے سامنے
جلد سمٹ جاتا ہے
اس کی مسکراہٹ پر کوئی بھی جان دے سکتا ہے
یا شاید صرف میں…
اس کی ایک امانت
جو وہ میرے پاس چھوڑ گیا تھا
مجھے کسی پرکشش چانر کی طرح
اپنی طرف کھینچتی ہے
لیکن میں جانتی ہوں
چاند صرف دور سے دیکھا جا سکتا ہے
اسے پانے کی خواہش
سیراب کے سوا
کچھ بھی نہیں
اور میں
سیراب کے پیچھے
بھاگنا نہیں چاہتی”
*********
وہ لوگ جب ہوٹل پہنچے تو شام بھی ان کے ساتھ ہی اتری تھی…
سارہ کو انہوں نے راستے سے ہی لے لیا تھا اور وہ تو اندر آتے ہی بیہوش ہوتی ہوتی بچی تھی جب اس نے سیم اور نور دونوں کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا تھا سیم تو سویا ہوا تھا لیکن وہ خود بھی سکون سے بیٹھی ہوئی تھی
اس کی شکل دیکھ کر خود نور کو بھی ہسی آئی تھی لیکن بعد میں اسے سب سمجھانے پر وہ سمبھلی تھی
بس تب سے ہی وہ اسے چھیڑ رہی تھی
“خدا کا خوف کرو یار… میرا دنیا میں واحد دشمن ہے وہ”
“پھر تو لگتا ہے دشمن نے کوئی جادو کروا دیا ہے تم پر” اسے نور کو تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا
“شرم کرو اور سو جاؤ” وہ کمبل منہ تک کھنچ کر لیٹ گئی تھی
“چلو نا اتنا اچھا موسم ہے باہر چلتے ہیں”
“اتنا لمبا سفر کیا ہے تھک گئی ہوں پھر رات کو جانا بھی ہے پلز سو جاؤ” وہ بیچاری تو سارا راستہ جاگتی رہی تھی پہلے سیم کی وجہ سے اور بعد میں سارا نے سونے نہیں دیا تھا
سارہ ان تینوں پر نظر ڈال کر باہر آ گئی تھی آیت اور فاریہ تو پہلے ہی سو گئی تھیں اور اب نور بھی…
باہر ہلکی ہلکی برف باری ہو رہی تھی وہ شال اپنے گرد لپٹتے لان میں نکل آئی تھی
اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا سب سٹوڈنٹس آرام کرنے اپنے اپنے رومز میں چلے گئے تھے
وہ مری پہلی بار آئی تھی ایک دفعہ ان کا پروگرام بنا تھا لیکن آ نہیں سکے تھے تب ہادی اسے اداس دیکھ کر اس کے پاس آیا تھا
“بھلا سوات سے پیاری بھی کوئی جگہ ہو سکتی ہے مری تو کچھ بھی نہیں ہے تم اویں پریشان ہو رہی ہو” وہ اسے شاید بہلا ہی رہا تھا اور وہ اس کی بات مان بھی گئی تھی
لیکن اب اس کا دل کیا تھا کاش وہ اس کے ساتھ ہوتا تو وہ اسے دکھاتی کہ ہر جگہ کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے مری کا سوات سے بھلا کیا مقابلہ…
لیکن پھر بھی اس کے بغیر سب منظر اسے بےرنگ ہی لگ رہے تھے کچھ دیر خود پر بند باندھنے کے بعد بلآخر اس نے ہار مانتے ہوئے اس کا نمبر ملایا تھا
“Hellow beautiful lady”
اس کی آواز سنتے ہی جیسے ہر منظر میں رنگ بھرنے لگے تھے
“کیسے ہو؟”
“تم کیسی ہو؟” اس نے الٹا سوال کیا تھا
“پہلے میں نے پوچھا ہے”
“تو پہلے تم جواب دے دو”
“ٹھیک ہوں” آنکھوں کے سامنے منظر دھندلانے لگے تھے
“پھر میں بھی ٹھیک ہوں”
“تم کہتے تھے نا سوات سے خوبصورت کچھ بھی نہیں…” وہ نمی مٹاتی ہوئی بولی
“نہیں تو سوات سے خوبصورت تو اور بھی بہت کچھ ہے” وہ شارت سے بولا تھا
“لیکن تم نے کہا تھا…”
“اچھا کہا ہو گا یاد نہیں” وہ لاپرواہی سے بولا تھا
“ہاں واقعی تمہیں تو اب کچھ بھی یاد نہیں” وہ تلخی سے ہنسی تھی
“ایسا نہیں ہے مجھے یاد ہے سب”
“میں مری آئی ہوئی ہوں اور پتا ہے مری سوات سے ذیادہ خوبصورت ہے”
“جھوٹ…” وہ اس کی بات پر ہنسا تھا
“تمہیں سوات سے پیارا کچھ لگ ہی نہیں سکتا”
“کیوں؟” وہ شکوہ کر رہی تھی
“کیونکہ سوات میں میں جو نہیں ہوں”
کتنا یقین تھا اسے
وہ کچھ لمحے کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی
وہ سچ کہہ رہا تھا…اسے سوات سے پیارا کب کچھ لگ سکتا ہے
“کچھ زیادہ ہی خوش فہم نہیں ہو گئے؟”
وہ پھر سے ہنسا تھا
“نہیں…لیکن جب تم جھوٹ بولتی ہو تو پکڑی جاتی ہو”
“میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا”
“تو پھر سچ سچ بتاؤ مس کر رہی تھی نا مجھے؟”
“جی نہیں” وہ زور دیتی ہوئی بولی
اور وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا
“جھوٹی…” وہ اسے تنگ کرنے لگا تھا
ایسا اسے لگتا تھا…
*******
وہ لوگ رات دیر تک مال روڈ گھومنے کے بعد ڈنر کرنے ہوٹل آ گئے تھے
“سر یہ جن لوگوں نے آج پوری پوری مارکیٹ خرید لی ہے ان کا سامان کدھر رکھنا ہے؟” سیم شرارت سے نور کی طرف دیکھتا ہوا بولا
“گاڑی میں اور کدھر…” وہ اپنے دھیان میں بولے تھے
“سر گاڑی میں یا تو وہ خود پورے آ سکتے ہیں یا ان کا سامان…اب آپ بتا دیں واپس کس کو لے کر جانا ہے؟”
“سر اگر فالتو لوگوں کو باہر نکال دیا جائے تو دونوں کی جگہ بن سکتی ہے” وہ خود میدان میں کودی تھی
سر نے باری باری دونوں کو گھورا تھا
“تنگ نہیں کرو بہن کو آرام سے سامان رکھو اس کا”
ان کی بات پر تو وہاں موجود سب کا قہقہ بلند ہوا تھا اور وہ بیچارہ برا سا منہ بناتا باہر نکل گیا تھا
“بھائی رکیں ایک اور بیگ ہے وہ بھی لیتے جائیں” وہ ہستی ہوئی اس کے پیچھے آئی تھی
“ادھر آؤ تمہیں میں بتاؤں” وہ اس کے پیچھے بھاگا تھا اور وہ چیختی ہوئی آگے
“بچاؤ…کوئی مجھے اس بھائی جن سے” وہ ہستی ہوئی پیچھے مڑی تھی جب سیم نے اسے پکڑ لیا تھا
“اب بولو ذرا بھائی کی کچھ لگتی”
“ہائے سر یہ دیکھیں…” سیم نے اسے چھوڑتے ہوئے پیچھے دیکھا تھا اور وہ پھر سے بھاگ گئی تھی
“چالاک لومڑی…” وہ اس کے پیچھے لپکا تھا
وہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی تو خود ہی ہستے ہوئے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی تھی
“اچھا سوری اب نہیں کہتی” وہ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کہہ رہی تھی
وہ بھی ہستا ہوا اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا
کچھ دیر تو وہ دونوں بیٹھ کر سانس بہال کرتے رہے تھے
“پانی پیو گی؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا اور وہ اٹھ کر پانی لینے چلا گیا تھا
وہ کچھ دیر تو اس کا انتظار کرتی رہی پھر سامنے پھولوں سے بھرا سٹال دیکھ کر ادھر چلی آئی تھی
وہ واپس آیا تو وہ ادھر نہیں تھی…
اس نے ادھر ادھر دیکھا تھا وہ کہیں نظر نہیں آئی
اس نے آس پاس سے گزرتے لوگوں سے بھی اس کا پوچھا تھا لیکن کسی نے دیکھا ہی نہیں تھا
“افف میں اس مینٹل کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں” وہ پریشان ہوا تھا
کچھ دیر اور گزرنے کے بعد اس کے واقعی پسینے چھوٹنے لگے تھے وہ جہاں کا لاپرواہ آج پہلی دفعہ کسی کے لئے حقیقتً پریشان ہوا تھا
اسے سمجھ نہیں آئی تھی اب کیا کرے وہ بےبسی سے کھڑا خود کو ملامت کر رہا تھا جب دور اسے flower shop نظر آئی تھی وہ بےاختیار آگے بڑھا تھا جب وہ اسے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ گپیں مارتی نظر آئی
وہ غصے سے اس کے قریب آیا تھا اور بازو سے کھنچتا ہوا اسے باہر لے آیا
وہ اس کی اس حرکت پر ہکابکا رہ گئی تھی
“کس سے پوچھ کر تم یہاں آئی تھی؟ پتا ہے کتنی دیر سے میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں مزے سے ہسی مذاق میں لگی ہوئی ہو” اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا
وہ تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی اس کے لہجے پر آنسو خود بہ خود نکل آئے تھے
“ہمیشہ اپنی ہی کرتی ہو کبھی دوسروں کا بھی سوچ لیا کرو”
وہ بولتا ہوا آگے چل دیا تھا اور وہ تو اسی جگہ جم گئی تھی وہ پھر پلتا تھا
“چلو کہ اب اٹھا کر لے کے جاؤں؟”
“میں تمہارا انتظار کر رہی تھی مجھے لگا تمہیں میں نظر آ جاؤں گی”
“ہاں الہ دین کا چراغ ہے نا میرے پاس جو تم مجھے نظر آ جاتی” وہ اس کے گھورنے پر ساتھ چل پڑی تھی
واپس آ کر بھی اس کا موڈ آف ہی رہا تھا آیت کو اس نے بتا دیا تھا کہ کیا ہوا ہے وہ بھی اسے ہی ملامت کر رہی تھی
“کیا ضرورت تھی ہوٹل سے دور جانے کی اور اگر چلی گئی تھی تو کم از کم اسے تو ساتھ رکھتی اگر گم جاتی تو؟”
“اچھا اب ڈراؤ تو نہیں” اس کی شکل دیکھ کر آیت کی ہسی نکل گئی تھی
“چلو اب سو جاؤ صبح جلدی اٹھنا ہے” وہ اسے ریلیکس کرتی ہوئی اپنے بیڈ پر آ گئی تھی
وہ بھی لیٹ تو گئی تھی لیکن نیند ہی نہیں آ رہی تھی
“بدتمیز کہیں کا” اسے رہ رہ کر اس کا رویہ یاد آ رہا تھا
پھر اپنا دھیان ہٹانے کے لئے اس نے میسم کا نمبر ملا لیا تھا…
اسے بات کرتے تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اس نے کال بند کر کے پہلے تو سوچا کسی اور کو اٹھائے پھر انھیں سویا دیکھ کر اس نے خود ہی ہمّت کی تھی
باہر کوئی نہیں تھا…
وہ اندر جانے لگی تھی جب سیم سائیڈ سے نکال کر سامنے آیا تھا اسے دیکھ کر اس نے غصے سے دروازہ بند کرنا چاہا تھا جب اس نے ہاتھ سے روک دیا
“بات تو سن لو” تھوڑی دیر پہلے والا غصہ بالکل غائب تھا
“مجھے نہیں سننی کوئی بھی بات”
“I am sorry yar”
“میں واقعی میں ڈر گیا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ تمہیں کہاں ڈھونڈوں_ایک تو راستے بھی انجان ہیں اور تم پتا نہیں کہاں چلی گئی تھی” وہ بالکل سنجیدہ تھا
نور تو اسے دیکھے گئی تھی…
“I am sorry too”
اسے بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا
“یہ لو” اس نے پھولوں سے بنے گجرے اس کے آگے کئے تھے
اور وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی
“یہی لینے گئی تھی نا تم؟” وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“تمہیں کیسے پتا؟” اسکی حیرت میں اور اضافہ ہوا تھا
“اسی دکاندار نے بتایا”
“تم وہاں پھر گئے تھے؟”
“ہاں سوچا اپنی اکلوتی دشمن کو ناراض کر کے سویا تو پوری رات گناہ ہی نا ملتا رہے”
اس کی بات پر ہنس کر نور نے گجرے پکڑ لئے تھے
“Thank you…”
اس کے تھنک یو پر سیم بھی ہنس پڑا تھا
“دشمن کو تھنک یو نہیں بولا کرتے…”
“دشمن سے تو گفت بھی نہیں لیا کرتے” وہ آبرو اچکا کر اسے دیکھ رہی تھی
“تو چلو پھر آج ہم نے اس روایت کو بھی بدل دیا”
*********
کبھی مل تو تجھ کو بتائیں ہم
تجھے اس طرح سے ستائیں ہم
تیرا عشق تجھ سے چھین کے
تجھے مے پلا کے رلائیں ہم
تجھے درد دوں تو نہ سہہ سکے
تجھے دوں زباں تو نہ کہہ سکے
تجھے دوں مکاں تو نہ رہ سکے
تجھے مشکلوں میں گھرا کے میں
کوئی ایسا رستہ نکال دوں
تیرے درد کی میں دوا کروں
کسی غرض کے سوا کروں
تجھے ہر نظر پر عبور دوں
تجھے زندگی کا شعور دوں
کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر
ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر
تیرے ایک ہونے میں شک نہیں
میری نیتوں کو تو صاف کر
تیری شان میں کوئی کمی نہیں
میرے اس کلام کو تو معاف کر
وہ ٹیرس پر بیٹھا سگرٹ پہ سگرٹ پھونک رہا تھا اب تو نیند نا آنا جیسے روز کا معمول بن گیا تھا سارا دن تو مصروف گزر جاتا تھا لیکن رات تھی کہ کٹتی ہی نہیں تھی اگر کبھی غلطی سے نیند آ بھی جاتی تو ڈر کر اٹھ بیٹھتا تھا…
سکون تو جیسے آہستہ آہستہ زندگی سے ختم ہوتا جا رہا تھا روح آہستہ آہستہ جیسے جسم کا ساتھ چھوڑ رہی تھی کیسی بیماری لگ گئی تھی اسے…!
رامش کے تو اسے ایسے دیکھ دیکھ کر ہی دن رات ازیت میں گزرتے تھے
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کہاں سے وہ اسکی خوشیاں ڈھونڈ لائے…
درد میں ہادی تھا تو تکلیف اس کی بھی کم نہیں تھی
اسے تھوڑی دیر میں نکلنا تھا اسے اس حالت میں چھوڑ کر جانا ازیت ناک تھا…
لیکن اسے جانا تھا!
اس نے اسے نیند کی دوا دے کر لیٹا دیا تھا اور کچھ دیر اس کو دیکھتے رہنے ک بعد وہ نکل آیا تھا
*********
رات اس کی بہت بےچینی میں گزری تھی نجانے کون سی طاقت ہے عشق میں کہ ایک دفعہ جب یہ ڈیرہ ڈال لے تو سکون چھین لیتا ہے پھر چاہے جتنی منتیں کر لو اس کی جتنا ٹرپ لو سسک لو اس کو رحم نہیں آتا
وہ یکدم اٹھ بیٹھی تھی…
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی تکلیف میں ہے…پھر اس نے خود ہی اپنے خیال کی نفی کی تھی
“وہم ہے میرا بھلا مجھے کیوں اسکے حوالے سے الہام ہونے لگے”
“لیکن ایک دفعہ کال کر کے تو پوچھ سکتی ہو نا” دل نے کہا تھا
“اتنی رات کو کال کروں اسے؟ اور پھر کہوں گی کیا” اس نے خیال کو دماغ سے جھٹکا تھا
پھر بےاختیار ہاتھ اسکے فون تک گیا تھا گھبراہٹ تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی
بیل جا رہی تھی…
لیکن پھر بند ہو گئی تھی
“فون کیوں نہیں اٹھا رہا” دل نے خطرے کا سگنل دیا تھا
“سو گیا ہو گا” اس نے خود کو تسلی دی تھی
ہمّت کر کے پھر سے کال ملائی تھی
بیل جا رہی تھی…
اور کال اٹھا لی گئی تھی
وہ کچھ نہیں بولی تھی
وہ بھی کچھ نہیں بولا تھا
“کیا دیکھنے کے لیے کال کی ہے؟ یہی کہ زندہ ہوں ابھی تک کہ نہیں؟” وہ شاید نیند میں تھا کم از کم اسے یہی لگا تھا
“ہادی آپ…آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا
“کیا کر لو گی جان کر؟”
“ہادی آپ پلز بتائیں…” اسکی آواز لڑکھڑا گئی تھی
“نہیں ہوں میں ٹھیک_بہت تکلیف میں ہوں_بہت درد ہے_بہت…” اور پھر وہ بولتا رہا تھا…
بہت کچھ…
فاطمہ خود کو کوئلوں پر چلتا محسوس کر رہی تھی
اس کی محبّت تکلیف میں تھی بہت تکلیف میں لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی_کچھ بھی نہیں
“ہادی کون ہے وہ؟” اس نے آنسوں سے تر آواز میں پوچھا تھا
“بے وفا…”
اور پھر کال کٹ کر دی
*********
کل انھیں واپس جانا تھا اور آج کا دن دریائے نیلم پر گزرنے کا ارادہ تھا
یہ جگہ بلاشبہ بہت حسین تھی دریا پہاڑیوں سے گھرا ہوا تھا اور پہاڑیاں چمکدار سبز رنگ کے درختوں سے_اردگرد گنگناتی ہوا وہاں آنے والوں کا استقبال کر رہی تھی
پہاڑیوں کی مانگ بھرتا دریا کا یخ پانی ہر چیز سے زیادہ خوبصورت اپنے ہونے پر نازاں تھا سورج کی قدم بوسی کرتی کرنیں پانی کی چمک کو بڑحانے میں مگن…
سب کچھ اتنا دلکش تھا کہ ایک دن تو اس جگہ کے لئے ناکافی تھا
ان سب کا آج رات بار بی کیو کا پلان تھا کچھ لڑکے لڑکیاں اس کی تیاری میں مصروف تھیں باقی سب سمع دیکھنے میں مگن تھے
وہ دریا کے قریب بڑے سے پتھر پر بیٹھی سب کو دیکھ رہی تھی جب سیم اسے سامنے سے بھاگتا ہوا نظر آیا تھا
“نور کیا کبھی میں تم سے کسی سیدھے کام کی امید رکھ سکتا ہوں؟ پلیز؟” وہ پھولے سانس کے ساتھ معصوم شکل بنا کر کہہ رہا تھا
“افف اب میں نے کیا کیا ہے؟”
“اٹھو ادھر سے پانی کا flow بہت تیز ہے”
“اوہو کچھ نہیں ہوتا اتنا اچھا لگ رہا ہے”
“اٹھتی ہو یا…؟” وہ ڈانٹ پیستا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا اور وہ فوراً اٹھ بیٹھی تھی
“دیکھو انتہائی بری بات ہے ہر بات پر blackmailing” وہ غصے سے آگے بڑھی تھی اور وہ مسکراہٹ دباتا ہوا اس کے پیچھے آیا تھا
“تو تم ویسے ہی مان لیا کرو نا پھر”
“کیوں مانوں تمہاری ہر بات؟” وہ ناراضگی سے بولی تھی
“کیوں کہ میں ہمیشہ ٹھیک بات کہتا ہوں”
“اور میں ہمیشہ غلط؟” وہ رک کر پوری اس کی طرف مڑی تھی
“ہمیشہ نہیں_کبھی کبھی”
“ہمم…ٹھیک” وہ نبرا مناتے ہوئے بولی تھی
“اچھا ناراض تو نہیں ہو نا…یہ سب بھی ناراض لگنے لگتے ہیں پھر” اس نے سامنے اشارہ کیا تھا
“یہ سب؟” اس نے پوچھ تھا
“یہ_ ہوا، بادل، دریا، یہ پہاڑیاں…”
“اچھا بس بس” اس نے ہاتھ سے اسے روکا تھا
اور وہ ہنس دیا تھا
“صرف ایک دن؟ یہ تو ناانصافی ہوئی اس جگہ کے ساتھ” وہ افسردہ ہوئی تھی
“تم جب کہو گی ہم پھر آ جائیں گے”
“کیا؟” اسے ہسی آئی تھی
“ہاں نا” وہ یقین دلا رہا تھا
“تم لاؤ گے مجھے؟” اس نے ہنس کے مذاق اڑایا تھا
“آزما کے دیکھ لینا…”
“تم بار بی کیو کی تیاری کر رہے تھے نا؟” اس نے بات بدلی تھی
“ہاں لیکن اب تم سے باتیں کر رہا ہوں”
وہ خاموش ہو گئی تھی
سورج کی کرنیں آہستہ آہستہ مدھم ہو رہی تھیں شام کے سائے پھیلنے لگے تھے آسمان کا رنگ بدلنے لگا تھا اس قدر خوبصورت منظر تھا کہ وہ اس میں کھو گئی تھی…
اس لمحے وہ اسے اس منظر کا سب سے خوبصورت حصہ لگی تھی…
وہ قدم پیچھے بڑھاتا گیا تھا اور پھر اس سے دور نکال گیا
تھوڑی دیر میں سب ایک جگہ جمع ہو گئے تھے باتوں کے درمیان اس خوبصورت وادی میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا
تھوڑی دیر میں انھیں واپس ہوٹل کے لئے نکلنا تھا سب یک دم اداس ہو گئے تھے لیکن آنے والوں کو لوٹ کر تو جانا ہی ہوتا ہے
*********
ہوٹل آنے کے بعد سب ہی خاموش خاموش تھے کل صبح انہیں نکلنا تھا واپسی کے لئے…
“چلو کوئی گیم کھیلتے ہیں” وہ سب کے اداس چہرے دیکھ کر اٹھی تھی
اور پھر سب کی مرضی سے فائنل ہوا تھا کہ truth and dare کھیلتے ہیں…
ایک دم سے ہال پھر سے چہک اٹھا تھا
بوتل درمیان میں رکھ کر سب اس کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئے تھے اب جس پر بھی رکتی وہ ٹاسک پورا کرتا…
سیم نے جان بوجھ کر بوتل نور کی جانب روکی تھی اور وہ اٹھ کر لڑنے لگی تھی
“اچھا اچھا سوری دوبارہ کرتے ہیں” اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا
سارے ہنس دئے تھے
“پورا جہان ہو دسترس میں ، پھر بھی
مجھے اچھا لگتا ہے ، تمہیں ہی ستانا!”
آیت امی کی کال پر اٹھ کر باہر آ گئی تھی باہر بہت سناٹا تھا کال بند کرنے کے بعد وہ ادھر ہی بیٹھ گئی تھی
آواز بہت مدھم تھی شاید تھوڑی دور سے آ رہی تھی لیکن آواز میں ایسی کشش تھی کے اس کے قدم خود بخود اس طرف اٹھنے لگے تھے گرم شال کو اپنے گرد لپٹے آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی صبح برف پڑنے وجہ سے سڑک پر جگہ جگہ برف جمی ہوئی تھی…
آہستہ آہستہ ٹھنڈ بھی بڑھ رہی تھی وہ روشنیوں کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی اب اندھرے میں وہ صرف دور سے جلتی آگ کو دیکھ سکتی تھی آواز بھی قدرے اونچی آ رہی تھی شاید وہ بلے شاہ کا کوئی کلام تھا یکدم اس کا پاؤں برف پر سے پھسلا تھا گرنے سے پاؤں میں موچ آ گئی تھی درد کی وجہ سے اٹھنا مشکل ہو گیا تھا
آس پاس کوئی بھی نہیں تھا اسے بےاختیار رونا آیا تھا
کچھ دیر تو ایسے ہی گزر گئی تھی لیکن درد کم ہی نہ ہو رہا تھا نا اٹھا جا رہا تھا
“ہاتھ دو…” پیچھے سے کسی کی آواز آئی تھی
اسے اپنی سماعت پر شک ہوا تھا
اب تو مجھے اس کی آوازیں بھی سنائی دینے لگی ہیں
اس نے اٹھنے کی ایک اور کوشش کی تھی لیکن بےکار
“کیا ہوا اٹھنے میں مسلئہ ہو رہا ہے؟”
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو ہاتھ دو” رامش نے جھک کر اسکو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا تھا
“آپ؟” درد کی شدید لہر پاؤں میں اٹھی تھی
“ہاں سوچ رہا ہوں سرحدوں کو چھوڑ کر تمہاری حفاظت میں لگ جاؤں”
“کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ آپ اس کے بغیر بھی ہر جگہ حاضر ہو جاتے ہیں” اس نے خفگی سے کہا تھا
“ویسے سوچو اگر میں نا آتا تو تمہارا کیا ہوتا؟” وہ شارت سے مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“کیا ہوتا کوئی جانور آتا اور مجھے کھا جاتا”
اس کی بات پر وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا
“ادھر کوئی جانور نہیں آ سکتا تھا” اس نے اسے کندھے سے پکڑ کر چلنے میں مدد دی تھی لیکن وہ لڑکھڑا گئی تھی
“آپ یہاں مری میں کیا کر رہے ہیں؟”
“مری میں لوگ سیر کے لئے آتے ہیں”
“میں لوگوں کی نہیں آپ کی بات کر رہی ہوں”
“میں بھی کسی نیک کام کے لئے ہی آیا تھا” وہ اسے بازوں میں اٹھا کر گاڑی تک لایا تھا
“سنا ہے
زمین پر وہی لوگ ملتے ہیں،جن کو
کبھی آسمانوں کے اس پار
روحوں کے میلے میں
ایک دوسرے کی محبّت ملی ہو!”
جاری ہے
