653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11

ویسے کچھ زیادہ ہی پیاری نہیں ہو گئی یا صرف مجھے ہی لگ رہی ہو؟” وہ آئسکریم پارلر کے باہر گاڑی روکتا ہوا بولا
“بس کرو مکھن کم لگاؤ” وہ شرماتے ہوئے بولی
ہادی ہستا ہوا گاڑی سے اترا اور گھوم کر اس کی طرف کا دروازہ کھولا تھا
وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے اندر آئی تھی کتنی ہی نظریں ان دونوں کی طرف اٹھیں تھیں بیشک وہ دونوں ساتھ چلتے اس دنیا کی مکمل تخلیق میں سے ایک لگے تھے لیکن مکمل ہونے یا نا ہونے کا فیصلہ تو صرف قسمت ہی کرتی ہے انسان تو بس تماشائی بنا دیکھتا رہتا ہے
وہ دونوں کے فیورٹ فلیورذ آرڈر دے کے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا
“تمہیں میرا فیورٹ فلیور یاد تھا” وہ خوشگوار حیرت سے پوچھ رہی تھی
“لو یہ بھی کوئی بھولنے والی چیز ہے پوری زندگی یہ فریضہ میں ہی انجام دیتا رہا ہوں”
“ہاں لیکن اب تو بہت عرصہ ہو گیا ہے” وہ اداسی سے بولی تھی
“ہاں بس مصروفیت ہی اتنی بڑھ گئی ہیں کہ وقت ہی نہیں ملتا”
“ایک بات بتاؤ؟” وہ اپنی نظریں اس پر مزکور کرتی ہوئی بولی
“ہممم” اس نے ویٹر سے آئسکریم لیتے ہوئے کہا
“تم بے وفا ہو گئے ہو یا سب آرمی والے ہوتے ہیں؟” وہ اس کی بات پر حیران ہوا تھا پھر پوچھا
“وہ کیسے؟”
“مطلب ملنا تو چلو دور کی بات تم تو جب سے گئے ہو بھول ہی گئے ہو کبھی کوئی کال یا میسج تک کرنے کا وقت نہیں تمہارے پاس” وہ خود کو شکایت کرنے سے روک نہیں سکی تھی اس لمحے وہ خود کو بکھری بکھری سی لگی تھی
وہ اس کی بات سن کر ہنس دیا تھا
“کیوں تم مجھے مس کرتی ہو؟” وہ مسکراہٹ دباتا ہوا شرارت سے بولا
“جی نہیں” وہ چہرے پر غصے کے تاثرات سجاتے ہوئے بولی
اور وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا
“لیکن مجھے تو یہی لگ رہا ہے” سارہ کو تنگ کرنا اس کا ہمیشہ سے ہی پسندیدہ مشغلہ رہا تھا
“بڑا ہی غلط لگ رہا ہے” وہ آنکھیں چھوٹی کر کے بولتی اسے وہی چھوٹی سی سارہ لگی تھی جسے وہ اپنی گڑیا کہتا تھا
وہ سر جھکا کر ہنس دیا تھا اسے احساس تھا کہ سارہ اس سے کافی اٹیچ تھی اور اچانک آرمی جوائن کرنے کے بعد وہ اسے بالکل نظرانداز کرتا رہا ہے
“اچھا یہ تو بتاؤ تم خوش ہو تمہارا شوق پورا کروا دیا”
“ہاں اب پوری زندگی یہی جتاتے رہنا”
“نہیں یار ویسے ہی پوچھ رہا ہوں”
“یوں کہو کہ بات بدل رہا ہوں” وہ دوسری طرف دیکھتے ہوئے بولی
“اتنے پیارے بندے کے ساتھ ہوتے ہوئے ویسے ادھر ادھر دیکھنا بنتا تو نہیں ہے” وہ مسلسل اسے دوسری طرف دیکھتا ہوا بولا
جواب میں اس نے آنکھیں گھمائیں تھیں اور وہ پھر ہنس دیا تھا
“کفرانِ نعمت کر رہی ہو” وہ آئسکریم اس کے ناک پر لگاتا ہوا بولا
“اور جو تم کر رہے ہو وہ” سارہ کو ایک دم رونا آیا تھا
“ارے میں کیا کر رہا ہوں؟” وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ رہا تھا یا سارہ کو تو کم از کم ایسا ہی لگا تھا
“فلحال تو ایک روٹھی ہوئی حسینہ کو منا رہا ہوں بس…”
“ہادی…” وہ آنسو ضبط کرتی ہوئی بولی
“I’m Sorry Sarah”
یہ سب تو تمہیں آرمی میں آنے سے پہلے ہی پتا تھا نا کہ ڈیوٹی سخت ہو جاتی ہے اور اس وقت تمہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا”
اب کہ وہ سنجیدگی سے بولا تھا
وہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہوئے مسکرائی تھی
“اچھا چلو دیر ہو رہی ہے پھر تمہاری شاپنگ بھی ختم نہیں ہوتی”
وہ بل پے کرتا ہوا کھڑا ہوا تھا
اس کے بعد اس نے سارہ کو ڈھیر ساری شاپنگ کروائی تھی اس کی مرضی کی جب تک وہ تھک نہیں گئی تب تک اس نے بھی اف نہیں کیا تھا…
شاید اپنی غلطی کا کفارا ادا کر رہا تھا ورنہ تو وہ جہاں کا شاپنگ الرجک…
لیکن محبّت کے کفارے یوں تھوڑی ادا ہوتے ہیں…
“اتنی جلدی تھک گئی کر لو جتنی شاپنگ کرنی ہے پھر پتا نہیں کبھی اتنے ہینڈسم بندے کے ساتھ شاپنگ کرنے کا موقع ملے یا نا” وہ سارہ کے “اب بس” کے جواب میں بولا تھا
وہ کتنی ہی دیر اس کے لفظوں میں کھوئی رہی تھی
اور اگر ایسا سچ میں ہو گیا تو پھر؟
وہ اس کے ہاتھ سے شاپنگ بیگز لیتا ہوا آگے بڑھا لیکن اسے ساتھ چلتا نہ دیکھ کر پیچھے مڑا تھا
“کیا ہوا؟”
“یہ تم نے ابھی مذاق میں کہا ہے نا؟”
“نا بابا بالکل سچ کہا ہے آج کے بعد میں تو یہ رسک بالکل نہیں لے سکتا” وہ ہستا ہوا اسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف چل دیا تھا
“کیا وہ جو کہہ رہا تھا…وہ…بھی ممکن ہے…؟ لیکن میں نے تو کبھی ایسا سوچا ہی نہیں”
اس طرح ایک حسین رات کا اختطام ایک شدید خوف سے ہوا تھا
“دیکھنا کل تم سب سے پیاری لگو گی…بالکل میری ڈول…آخر ہر چیز میری پسند کی جو ہے” وہ اسے گھر اتارتے ہوئے بولا تھا
“یہ ہر پسند کی چیز میں کون کون شامل ہے؟” وہ پوچھنا چاہتی تھی…لیکن صرف چاہنے سے کیا ہوتا ہے
“تھنک یو” وہ پھر سے بولا تھا
“کیوں؟”
“پتا نہیں” وہ ہستے ہوئے بولا
وہی گہری مسکراہٹ جو ہمیشہ اس کے دل کی حالت کو بدل دیا کرتی تھی…لیکن اب…اب تو اس نے اسے کھونے کے خوف کے علاوہ کچھ محسوس نا کیا تھا
“پاگل ہو بالکل” وہ ہستے ہوئے بولی تھی
“تم سے کم”
وہ گاڑی ریورس کرتا ہوا بولا
اور وہ اسے دور جاتا دیکھتی رہی تھی
دور…بہت دور تک…جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا…تب تک
******
وہ اپنی ساری کزنز کے ساتھ برائیڈل روم میں بیٹھی ہوئی تھی
اس کے کزن نے جس سے محبّت کی تھی آج اسی سے اینگیجمینٹ ہونے جا رہی تھی کتنے خوش قسمت ہوتے ہیں نا وہ لوگ جو محبت کی منزل کو پا لیتے ہیں
بار بار اس کی حسرت بھری نظر بھابی کی طرف اٹھ رہی تھی جو کہ سب کے شوخ جملے انجوئے کر رہی تھیں
ساتھ ہی ساتھ وہ دل میں ان کی نظر بھی اتار رہی تھی کہ کہیں میری ہی نظر نا لگ جائے
“امی کی کال آ رہی ہے میں بات سن کر آتی ہوں” وہ بہانہ بنا کر اٹھی تھی
“کیا بات ہے سارہ یہ چوتھی دفعہ آنٹی کی کال آ گئی ہے” کسی نے ہستے ہوئے کہا
“یہ اب مجھے کیا پتا جا کر ہی پتا چلے گا” وہ اس کے طنز کو خاطر میں نا لاتے ہوئے باہر نکل آئی تھی
آتے ہی ادھر ادھر نظر دھوڑائی تھی لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا تھا
وہ چلتی ہوئی اسٹیج پر آ گئی تھی
“دولہا بھائی آج تو ذرا بچ کر رہیے گا بھابی ہوش اڑانے کی پوری تیاری کر کے آئی ہیں” اس نے ہستے ہوئے کہا تھا
“تو ہم بھی کچھ کم نہیں ہیں ایک آدھ لاش تو ہم بھی گرا ہی دیں گے” وہ بھی بڑے ناز سے بولا تھا
محبت کو پا لینے کی سرشاری تو یہاں بھی برابر تھی…
“یہ تو تھوڑی دیر بعد ہی پتا چلے گا” وہ چیلنج کرنے کے انداز میں بولی تھی
“سارہ جاؤ دلہن کو لے آؤ رسم شروع کرتے ہیں” خالہ کی آواز پر وہ اسٹیج سے نیچے اتری تھی اور ایک دفعہ پھر پورے ہال میں نظر دھوڑائی تھی مگر وہ خالی ہی لوٹ آئی تھی
وہ مایوسی سے برائیڈل روم میں چلی آئی تھی
تھوڑی ہی دیر میں رسم شروع ہو گئی تھی…
وہ ان دونوں کی محبّت کو ڈھیروں دعایں دیتی مسکرا رہی تھی
“دیکھا کہا تھا نا میں نے کہ سب سے پیاری لگو گے” وہ پیچھے سے اس کے کان کے قریب جھکتا ہوا بولا تھا
اور یہ آواز اس کی دل کی دھڑکن کو بڑھانا خوب جانتی تھی
“کہاں تھے تب سے؟” وہ ناراضگی سے کہتی پلٹی تھی
“کیوں کوئی مجھے ڈھونڈ رہا تھا” وہ حیرانگی کی کمال اداکاری کرتا ہوا بولا تھا
“جی نہیں” وہ چڑ کر بولی تھی
“لگ تو یہی رہا ہے” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہال سے باہر لے آیا تھا
“کیا بات ہے؟”
“میں واپس جا رہا ہوں سوچا تم سے مل لوں کہیں پھر سے ناراض نا ہو جاؤ”
“بڑا احسان ہے آپ کا جو آپ کو خیال آ گیا”
وہ پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ پھسائے اس کے خفگی والے چہرے کو گھور رہا تھا
“ایسے بھیجو گی مجھے؟”
“تو کیا پھولوں کے ہار پہناوں” وہ اسے سجی سنوری غصہ کرتے دیکھ کر ہنس دیا تھا
“اب اگر تم ایک اور دفعہ ایسے بولی نا تو تمہیں میری ہی نظر لگ جائے گی” وہ مسکرا رہا تھا اور اسکی مسکراہٹ پر وہ اب اپنی ناراضگی تو قربان کر ہی سکتی تھی نا
“جاؤ… خدا تمہاری مسکراہٹ سلامت رکھے” وہ بھی مسکرا دی تھی
“That’s Like My Doll”
“ویسے میں تم سے یہ بالکل نہیں کہوں گی کہ کبھی کبھی اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال لیا کرو” وہ اسکے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی جیسے سارے نقش حفظ کر لینا چاہتی ہو
اس کی بات پر وہ مسکرا دیا تھا
“اپنا خیال رکھنا” پھر وہ مدھم سا بولا تھا
“چلو اب جاؤ اندر مجھے دیر ہو رہی ہے”
“ہاں تو جاؤ تم”
“تم؟”
“تمہارے جانے کے بعد جاؤں گی”
وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کی شکل دیکھتا رہا تھا پھر بڑی ادا سے بولا
“میں نا کہتا تھا میرے جانے کے بعد قدر ہو گی”
“کچھ زیادہ ہی خوش فہم نہیں ہو گئے تم”
“پاگل سی”ہستا ہوا وہ سیڑیاں اترنے لگا
“تم سے کم” اس کی آواز پر وہ پلتا تھا
“شکریہ”
پھر گاڑی کی طرف مڑ گیا
اس نے کچھ پڑھ کر اس پر پھونکا تھا…
اور اسے جاتا دیکھتی رہی تھی…
یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا
“جاؤ اللہ‎ کی امان”
******
فریشرذ کی نائٹ پارٹی ارینج کی گئی تھی یونیورسٹی میں ہر جگہ ایک ہنگامہ برپا تھا خوشی،قہقے اور زندگی کی لہر تھی جو ہر طرف غالب تھی
یونیورسٹی کا دور ہی کچھ ایسا ہوتا ہے زندگی سے بھرپور ہر غم ہر فکر سے بہت دور…خود میں مگن
فنکشن ہال میں ارینج کیا گیا تھا ہال لائیٹوں میں ڈوبا ہوا تھا…
اتنا جاندار اور خوبصورت لگ رہا تھا جیسا کہ ان نوجوانوں کی دائمی خوشی کے لئے دعا گو ہو…
پارٹی کا تھیم بلیک اور ریڈ تھا ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے پورا ہال ریڈ اور بلیک روزز سے جگمگا رہا ہو
آیت،اور فاریہ نے بھی بلیک ڈریس کے ساتھ ریڈ ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا مزید کاجل میں لپٹی گہری آنکھیں اور ریڈ لپسٹک انھیں اور نکھار رہی تھی البطہ نور نے ڈرامہ میں پارٹیسیپیٹ کیا ہوا تھا اور اس وقت ہیر کے گیٹ اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی…
“پلز چلی جاؤ روم میں تھوڑی دیر میں تمہارا پلے ہے” فاریہ اسے ڈپٹ رہی تھی
“ہاں نور سچی چلی جاؤ ورنہ کہیں میری ہی نظر لگ جانی ہے” آیت مسکراتے ہوئے بولی
“ٹھیک ہے جا رہی ہوں لیکن جیسے ہی سارہ آئے اسے کہنا مجھ سے مل لے”
“ہاں ہاں کال آئی ہے اس کی بس پہنچنے والی ہے تم جاؤ ہم اسے لے آئیں گے” فاریہ نے اسے ہال سے باہر دھکیلا تھا
“پلز اسے کہنا میرے پلے سے پہلے آ کر مجھ سے مل لے” وہ منہ پیچھے کر کے کہتی آگے چل رہی تھی جب بری طرح اندر آنے والے سے ٹکرائی تھی
“اوہ ایم سوری” وہ بےساختہ بولا تھا
“یہ کون سا نیا طریقہ ہے لڑکیوں کو تنگ کرنے کا” سیم کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں غصہ در آیا تھا
“ایکسکیوذمی مس ایک تو غلطی بھی آپ کی ہے اوپر سے آپ مجھے ہی سنا رہی ہیں” وہ بھی اسے پہچان چکا تھا اور ابھی تو وہ اپنی پہلی ہی انسلٹ نہیں بھولا تھا
“اچھا تو یہ آنکھیں کس لئے ہیں ان کو بھی استعمال میں لے آیا کریں” وہ بھلا کیسے اس کے سامنے اپنی غلطی مان لیتی
“اب آپ حد سے بڑھ رہی ہیں” وہ غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا
“اور اپنے لئے تو ویسے ہی آپ کی کوئی حد مقرر نہیں ہے” وہ بھی تو اس کے پچھلے الفاظ نہیں بھولی تھی
“تم…” اس نے آگے بڑھ کر نور کا بازو پکڑا تھا
اس کی اچانک حرکت پر وہ کانپ کر رہ گئی تھی
“چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے” وہ دبی آواز میں غرائی تھی
ہال کے باہر رش نہ ہونے کے برابر تھا آیت اور فاریہ بھی پتا نہیں کب کی اندر جا چکی تھیں اس لمحے اسے خوف محسوس ہوا تھا جسے وہ اگلے ہی لمحے قابو کر چکی تھی
“سمجھتی کیا ہو تم خود؟” وہ اسکی آنکھوں کے قریب ہوتا ہوا بولا تھا پھر ایک جھٹکے میں اسے دور کیا تھا
“میں جو بھی سمجھتی ہوں آئندہ میرے راستے میں مت آنا” وہ اسے وارن کرتی ہوئی آگے بڑھی تھی
“اگلے پندرہ منٹ میں تم خود آؤ گی میرے پاس” اسکی آواز پر وہ پلٹی تھی
“تم بہت کچھ کر سکتے ہو گے بس یہی نہیں کر سکتے”
اس کی بات پر وہ اسے چیلج کرتے ہوئے مسکرا دیا تھا
نور روم میں داخل ہوئی تو سب ادھر سے ادھر بھاگتے نظر آئے
“کیا ہو گیا ہے یہ سب کیا کر رہے ہیں؟” اس نے اپنے کو پارٹنر سے پوچھا تھا جو رانجھے کا کردار ادا کر رہا تھا
“نور ایکچولی میرے گھر میں ایمرجنسی ہو گئی ہے تو میرا جانا ضروری ہے لیکن میرا ایک کلاس فیلو ہے بہت ٹیلنٹڈ ہے اسے میں نے سمجھا دیا ہے اور اسکریپٹ بھی دے دی ہے تم پلز ایک دفعہ اس کے ساتھ پریکٹس کر لو”
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو ایسے کیسے ممکن ہے اگلا پلے ہمارا ہے” نور کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا
“میں نے پلے آگے کروا دیا ہے اب یہ لوگ ہماری جگہ کر رہے ہیں اور تم لوگ اب ان کی جگہ کر لینا ابھی آدھا گھنٹہ ہے اینڈ آئی پرامس وہ تمہیں بالکل ناامید نہیں کرے گا میری مجبوری نا ہوتی تو میں کبھی نا جاتا”
نور نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا
“ہے کہاں وہ؟”
“تمہیں ہی بلانے گیا تھا ہال میں نہیں ملا تمہیں؟”
“کمال کرتے ہو ایک تو پہلے ہی وقت کم ہے اوپر سے تم نے اسے بھیج دیا مجھے لینے جس نے مجھے دیکھا تک نہیں”
“اوہو دیکھا ہے اسے لیے تو بھیجا تھا”
“اوہ! تو میڈم ادھر ہیں میں تو آپ کو پورے ہال میں ڈھونڈ رہا تھا” سیم کی آواز پر اسے جیسے کرنٹ لگا تھا
“نور یہ ہیں سیم اور آپ کا تعارف میں انہیں پہلے ہی کروا چکا ہوں اب آپ لوگ ایک دفعہ پراکٹس کر لیں”
“اور سیم پلز ادھر سب سمبھال لینا میں نکل رہا ہوں”
نور کے بولتے ہی وہ اسے درمیان میں ٹوک گیا تھا
“تم بےفکر ہو کر جاؤ” وہ اس سے ہاتھ ملاتا نکل گیا تھا اور وہ ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھ رہی تھی جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ یہ ہو کیا رہا ہے
“چلیں” وہ مسکرا کر اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہوا بولا
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہارے ساتھ پرفارم کروں گی” وہ لہجے میں دنیا جہاں کی حقارت لاتے ہوئے بولی
“کیونکہ تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے”
نور کا دل کیا کہ اس کی مسکراہٹ نوچ پھینکے
کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنے ہینڈ بیگ کے پاس آئی تھی پھر اس میں سے میک اپ مرر نکال کر زمین پر پٹخا تھا
اس کے زرے زرے زمین پر بکھر گئے تھے اس نے اپنے سینڈلز اتارے تھے پھر ان پر چلتی ہوئی اس کے قریب آئی تھی
“Options are many…”
ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ سجائے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی
اور وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس پاگل لڑکی کو دیکھ رہا تھا
پاؤں سے خون بہنے لگا تھا درد سے ٹیسیں اٹھنے لگیں تھیں وہ انھیں نظر انداز کرتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
“لو کروا لو اب پرفارم…”
“یار یہ دیکھو اسے…خون نکل رہا ہے” اس نے پاس سے گزرتی لڑکی کو روکا تھا
“میں فرسٹ ایڈ باکس بھیجواتا ہوں” پھر غصے سے کہتا وہ باہر نکل گیا تھا
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ صرف اس کے ساتھ پرفارم نہ کرنے پر وہ اس حد تک جا سکتی ہے
اس نے ہمیشہ لڑکیوں کو اپنی آفر کا منتظر ہی پایا تھا لیکن اس جیسی سر پھری سے اس کا پالا پہلی دفعہ ہی پڑا تھا…
اس نے یونیورسٹی کی ڈسپنسری سے نرس کو اس کے پاس بھیجا تھا…
اور اب جھنجھلا کر وہ پارکنگ میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھا
“Sily girl”
******
ہال میں فاریہ اور باقی ساری کلاس فیلوز اسٹیج پر موجود سنگر کو داد دینے میں مصروف تھیں وہ اپنی آواز سے جیسے جادو بکھیرے ہوئے تھا…
آیت کو جیسے اس گانے سے نفرت محسوس ہوئی تھی جو اسے ماضی کی یادوں میں گھسیت رہا تھا
“افف میں بور ہو گئی ہوں ایک ہی گانا بار بار سن سن کے” ۔ آیت نے زین کو چوتھی دفعہ ایک ہی گانا پلے کرتے دیکھ کر کہا
“یار جب بھی میں یہ گانا سنتا ہوں اور تم میرے سامنے ہوتی ہو تی ہو تو مجھے لگتا ہے جیسے پرفیکٹ میچ ہو”
“گانے کا بھلا مجھ سے کیا میچ” آیت ناسمجھی سے پوچھ رہی تھی
“میری نظر سے سنو گی تو سمجھ جاؤ گی”
اسکی بات پر آیت بےساختہ ہنس دی تھی
“کتنے پاگل ہو تم بھلا نظر سے کیسے سنا جاتا ہے؟”
“ادھر آؤ بتاؤں کیسے” وہ اس کے پیچھے بھگا تھا
پاگل وہ کب تھا؟ پاگل تو وہ اسے بنا رہا تھا اور وہ اس کے پاگل بنانے پر بنتی چلی گئی تھی
اسے اچانک گھٹن محسوس ہوئی تھی
“فاریہ میں ذرا باہر جا رہی ہوں” آس پاس سے اسے وحشت ہونے لگی تھی
“کیا ہوا؟” وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی
کچھ نہیں بس سر درد کرنے لگا ہے”
“چلو میں بھی چلتی ہوں نور کے بیگ میں ضرور میڈیسن ہو گی”
“اوہو نہیں بس شور کی وجہ سے ہے باہر جاؤں گی تو ٹھیک ہو جائے گا تم یہیں رہو سارہ آئے گی تو ہمیں ڈھونڈتی رہے گی”
“Are you sure”
آیت نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا تھا
باہر بہت سناٹا تھا اسے سکون محسوس ہوا تھا…
وہ چلتی ہوئی لان میں آ گئی تھی اور بینچ پر سر جھکا کر بیٹھ گئی جیسے زندگی سے التجا ہو کے اور کتنا امتحان لو گی نہیں چل سکتی اب میں اور اس درد کے ساتھ_
“آیت…”
اس نے چونک کر دیکھا تھا
“رامش…؟”
“جی میں ہی…” وہ اس کے ساتھ ہی بینچ پر بیٹھ گیا تھا
“کیسی ہو؟”
“ٹھیک…آپ یہاں؟”
“کام تھا ایک بس جانے ہی لگا تھا تمہیں یہاں بیٹھے دیکھا تو چلا آیا” وہ مسکرا رہا تھا
“اوہ…” وہ نظریں سامنے فاؤنٹین سے گرتے پانی پر ٹیکاتے ہوئے بولی
“لگتا ہے تمہیں اچھا نہیں لگا…ہیں نا؟” وہ اٹھتے ہوئے بولا
“ارے میں نے ایسا کب کہا” اس نے بےخیالی میں فوراً اسکا بازو پکڑا تھا
“پھر؟” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
وہ شکایتی انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
“کچھ نہیں”
“اچھا پھر یہاں سب سے الگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو؟”
“ایسے ہی سرد میں درد تھا” اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا
“میں سمجھ سکتا ہوں درد کہاں ہے” رامش نے زیِر لب کہا جو کہ آیت سن چکی تھی
“کیا مطلب؟”آیت نے بظاہر انجان بنتے ہوئے کہا
“مطلب یہ کے تم زندگی سے اتنا دور کیوں بھاگ رہی ہو؟
حد یہ کے اب خوشی تمہیں تکلیف دے رہی ہے…”
آیت سن رہی تھی لیکن اب اسے اس انسان سے ڈر لگنے لگا تھا جو اسے اتنی گہرائی سے پڑھنا جانتا تھا…
“یہ اندازہ آپ نے میری کس بات سے لگایا؟”آیت نے آبرو اچکا کر پوچھا
“تمہاری آنکھوں سے”رامش نے گہری نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا
“میری آنکھیں پڑھنا چھوڑ دیں” آیت نے نگاہ ہٹاتے ہوئے کہا
“نہیں چھوڑ سکتا” رامش نے بےبسی سے کہا
اسکے اختیار میں کچھ تھا ہی کب….
“اس میں اتنی کرچیاں ہیں کے آپ کی روح تک کو زخمی کر دیں گی”
“میں تمہارے حصے کی کرچیاں، اداسیاں، ہر تکلیف اپنے حصے میں لینے کے لئے تیار ہوں”
“میں آپ کو ایسا کرنے نہیں دوں گی”
“کیوں؟”
“کیوں کے میں انکے ساتھ جینا سیکھ چکی ہوں”
“لیکن میں تمھیں ایسا کرنے نہیں دوں گا”
“کیوں؟”
“کیوں کے میں تمہیں انکے بغیر جینا سیکھانا چاہتا ہوں”
“میں ٹھیک ہوں” آیت نے ہار مانتے ہوئے کہا
“جانتا ہوں” طنزً مسکرا کر کہا گیا…
آیت اس کی طرف دیکھ رہی تھی ایسے جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو
“ہیں کون اپ؟
“کہاں سے آ جاتے ہیں ہر بار؟
الہام ہوتے ہیں اپ کو؟
“جب کبھی بھی زندگی سے تنگ آ جاتی ہوں تو آپ آ کر پھر مجھے زندگی کی طرف دھکیل جاتے ہیں”
“اپ کو دیکھ زندگی پر اعتبار آنے لگتا ہے” وہ بےبسی سے بول رہی تھی
“اور پھر جب اعتبار آنے لگتا ہے تو یہ زندگی سانسیں لینا بھی دشوار کر دیتی ہے” رامش اس کی آواز سے اس کے درد کا اندازہ لگا سکتا تھا
“آیت زندگی کسی ایک شخص پر ختم نہیں ہو جاتی…تمہیں پرانی یادیں تکلیف دیتی ہیں کیوں کہ تم انھیں سوچنا نہیں چھوڑتی…تم کوشش تو کرو انھیں بھولنے کی_اب اپنی امی کو ہی دیکھ لو کیسے زندہ ہیں وہ تمہارے ابو کے گزرنے کے بعد…
کیا انھیں ان کی یادیں تمہاری طرح تکلیف دیتی ہیں؟”
“نہیں آیت…تم یقین ہی نہیں کر رہی کہ اس نے تمہارے ساتھ جو کیا ہے وہ ایک حقیقت ہے…تم زندہ تو آج میں ہو لیکن جی کل میں رہی ہو_اس تکلیف سے چھٹکارا کوئی اور نہیں دلا سکتا سوائے تمہارے خود کے”
“اس لئے خود میں جھانکو کہ تم چاہتی کیا ہو؟” وہ آگے کو جھکا اپنے ہاتھ باہم ملائے نظریں زمین پر گاڑے بول رہا تھا اور آیت…
آیت تو برف کا مجسمہ بنی ہوئی تھی…”وہ جو کہہ رہا تھا ٹھیک کہہ رہا تھا وہ کب یقین کر پائی تھی کہ زین اسے دھوکہ دے سکتا ہے وہ تو آج بھی انہی یادوں میں جی رہی تھی”
“لیکن آیت…” وہ پیچھے ہوا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *