Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725

Last updated: 23 June 2026

653.1K
20

Ishq Baz by Monisa Hassan

یسے کیا دیکھ رہی ہیں؟
مجھے پتا ہے میں بہت handsome ہوں”رامش نے اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا…ایک دفعہ کے لیے تو اسے ایسے لگا کہ اگر اس نے نیلی آنکھوں سے نظر نا ہٹائی تو ان میں ڈوب جائے گا…
“کتنی گہری ہیں یہ آنکھیں…لیکن پتا نہیں انہیں تکلیف پہنچانے والا کون ہو گا”
“نہیں کچھ نہیں…میں وہ…پانی چائیے تھا…آیت نے اسے اپنی طرف متوجہ پا کر گڑبڑا کر کہا
“ہاں وہ میں نے پچھلی سیٹ پر رکھا ہے”
آیت دوا لے کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی…
“یا اللہ‎ تیرے بندوں میں کتنا فرق ہوتا ہے…کوئی اپنا نا ہو کر بھی اپنوں کی طرح خیال رکھتا ہے…اور کوئی اپنا ہو کر بھی ہمیں توڑ دیتا ہے جیسے ہمارا انکے ساتھ کوئی رشتہ ہی نا ہو…کوئی تیری خاطر اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے قربان کر دیتا ہے
جیسے تیرا یہ بندا اس وردی کو پہننے والا ہر بندا اپنے ملک کے لیے اس کے لوگوں کے لیے… جس سے ان کا کوئی ذاتی رشتہ بھی نہیں ہوتا تیری خاطر اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں…شہادت کی دعایں مانگتے ہیں تاکے تیرے سامنے سر خرو ہو سکیں…
اور کچھ لوگوں کے دل میں تیرا ذرا بھی ڈر یا خوف نہیں ہوتا… وہ جیسے تجھے جانتے ہی نہیں…جانتے ہی نہیں ہیں کہ کبھی انکی بھی پکڑ ہوگی….کیسے دوسروں کے دلوں کو کچل کررکھ دیتے ہیں کیسے لوگوں کے خوابوں کو توڑ دیتے ہیں…یہ جانے بغیر کہ انکے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں پوری زندگی انکی آنکھوں کو زخمی کرتی رہتی ہیں….شاید انکو نہیں پتا کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے جو بھی ہم کسی کے ساتھ کرتے ہیں اسکا اچھا یا برا بدلہ اس دنیا میں ہی ہمارے سامنے آجاتا ہے”
“میرے مالک میری مدد فرما…میں نے تو کبھی تیرے بندوں کا دل نہیں توڑا کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تو پھر میرے ساتھ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟”
رامش نے دیکھا وہ کافی دیر سے بغیر آواز کے رو رہی تھی اسکے دل کو کچھ ہوا تھا
“اتنی تکلیف ؟کتنا برا کیا کسی نے اسکے ساتھ اے میرے مالک اسکی مدد فرما…میں نے اپنے لیے کبھی کچھ نہیں مانگا…اپنا آپ بھی اس ملک کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن آج میں اس کے لیے خوشی مانگتا ہوں اسکی زندگی میں جو بھی تکلیفیں،دکھ،درد ہیں سب مٹا دے” (اچانک اسکے دل سے رعا نکلی تھی )
اور کاتب تقدیر کو اسکی معصوم دعا اتنی پیاری لگی کہ اسنے اس دعا پہ کن فرما دیا تھا
کچھ دیر بعد گاڑی کالونی میں داخل ہوئی اور ساتھ ہی فجر کی اذان سنائی دینے لگیں تھیں
“گھر کس طرف ہے آپکا؟” رامش نے پوچھا
آیت کچھ دیر سوچنے کے بعد فاطمہ کے گھر کا پتا بتا دیا تھا…
“فل حال میں اس حال میں اپنے گھر نہیں جا سکتی ورنہ امی کو سب پتا چل جائے گا اور میں انھیں اب اور دکھی نہیں دیکھ سکتی انھیں تو میرے ہنستے ہوئے چہرے کے پیچھے چھپی میری تکلیف کا اندازہ ہو جاتا ہے پھر اس حالت میں تو وہ فوراً جان جائیں گی”
رامش نے گھر کے گیٹ کے پاس گاڑی روک دی تھی
آیت گاڑی سے اتر کر بیل بجا چکی تھی اسے احساس ہوا کہ وہ تو ابھی تک گاڑی میں ہی ہے
وہ اسکے پاس گئی تھی…
اندر نہیں آئیں گے آپ؟
“نہیں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے امی پریشان ہو رہی ہونگی”
“تو آپ انھیں فون کر کے بتا دیں”
رامش جواب دیتا اس سے پہلے فاطمہ کے چلانے پر دونوں نے پریشان ہو کر ادھر دیکھا جو کھڑی انکی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی
“اتنا برا سرپرائز؟”
کم از کم ایک فون ہی کر دیتی یہ تو اچھا ہوا کہ میں نماز کے لیے اٹھی ہوئی تھی ورنہ یہیں کھڑی بیل بجاتی رہتی”
“اب آ گئی ہوں تو اندر آنے دو گی؟” اس نے گاڑی کی طرف متوجہ کروایا
ایک دم پہلے سے بھی زیادہ اونچی چیخ بلند ہوئی تھی
“فوجی” آیت ذرا مجھے چٹکی کاٹنا یہ سچ میں فوجی ہے؟”
“اور یہ سچ میں تمھارے ساتھ آیا ہے؟”
“جلدی بولو اب چپ کیوں کھڑی ہو؟”
“اب تم چیخیں مارنا بند کرو گی تو میں کچھ بولوں گی نا اور یہ باتیں اندر جا کر کرتے ہیں ورنہ تم سارے محلے کو اٹھاؤ گی”
“ہاں ہاں اندر چلو”
آیت اندر جا چکی تھی وہ جانتی تھی کہ فاطمہ ہی اب رامش کو اندر لا سکتی ہے
رامش بھی اس سب گفتگو کے دوران گاڑی سے باہر آ چکا تھا
فاطمہ اب اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی…جسکی خوشی کہ کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا
“آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں اندر چلیں کیوں کہ میں ایک فوجی کو اتنی ٹھنڈ میں باہر کھڑا نہیں کر سکتی”
پتا نہیں کیا تھا اسکے لہجے میں کہ وہ اسے منع نہیں کر سکا اور اسکے ساتھ اندر چل پڑا ویسے بھی اسے فجر کی نماز پڑھنی تھی
“ویسے فوجیوں کو اس معمولی ٹھنڈ سے خاص فرق نہیں پڑتا”
رامش نے بھی مسکراہٹ سجاتے ہوئے جواب دیا
“ہاں مجھے پتا ہے فوجی بہت بہادر ہوتے ہیں لیکن اس وقت آپ ہمارے مہمان بھی ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ آپکو تھوڑی سی بھی تکلیف ہو…
لگتا ہے آپ فوجیوں کی کافی بڑی فین ہیں؟
صرف فین؟”
“نہیں یہ لفظ بہت چھوٹا ہے میں دل و جان سے صرف فوجیوں کی ہی نہیں بلکہ پوری پاک آرمی کی عزت کرتی ہوں اور … فاطمہ کی بات ابھی جاری تھی کہ اسکی امی باہر لاونج میں داخل ہوئیں
!”السلام و علیکم بیٹا کیسے ہو؟
“وعلیکم اسلام آنٹی بلکل ٹھیک”
فاطمہ تمھیں پتا نہیں کب عقل آنی ہے دروازے میں ہی شروع ہو گئی ہو اسکو اندر لے کر جاؤ…
“جی جی امی وہیں لے کر جا رہی ہوں آپ فکر نہ کریں “
“بیٹا ناشتہ کیا کرو گے؟”
امی نے جاتے جاتے پوچھا
“نہیں آنٹی میں بس نماز پڑھ کر نکلو گا پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے”
“ارے! ایسے کیسے؟ آپکو ناشتہ تو کرنا پڑے گا میں پاک آرمی کی کتنی بڑی فین ہوں ایسے تھوڑی جانے دوں گی”
فاطمہ نے شرارت سے کہا اور اسے اندر لے گئی تھی…
“اب آپ فریش ہو جائیں میں تب تک ناشتہ تیار کرتی ہوں”
رامش کو کمرے میں چھوڑ کر وہ اب اپنے کمرے میں آ گئی تھی اسے پتا تھا کہ آیت ادھر ہی ہوگی
“آیت کیسی ہو؟ اور اتنی صبح کیسے آگئی اور بتایا بھی نہیں”
“ہاں بس کل آخری پیپر تھا تو سوچا گھر چلی جاؤں”
“تم روتی رہی ہو”؟ فاطمہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا جو وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی…
“نہیں تو” آیت نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
“اچھا پھر تمہاری آنکھیں کیوں لال ہو رہی ہیں؟”
فاطمہ نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا
آیت نے سوچا کہ اگر اسے ابھی سارا کچھ بتایا تو یہ پریشان ہو جائے گی اور ابھی اسکے پیپر بھی مکمل نہیں ہوئے
“نہیں نہیں ابھی نہیں بتا سکتی” اس نے سوچا
“یار وہ ابو کی وفات کے بعد پہلی دفعہ گھر آئی ہوں نا بس اسی لیے”
“میری جان بس جو میرے مالک کی مرضی…وہ اللہ‎ کی امانت تھے جن کو انہوں نے واپس لے لیا تم پریشان نہیں ہو” اس نے آیت کو تسلی دیتے ہوئے کہا
“ٹھیک کہ رہی ہو تم”

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Action After Marriage Army Based Crime Hero Based Love Triangle Possesive Hero Rude Heroine
Tags: age difference Army Based cute love story Forced marriage Rude hero Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *