Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10
“ٹھیک ہے یار اگر تو یہ شرط جھیت گیا تو آج کی پارٹی میری طرف سے” کلاس شروع ہونے میں ابھی وقت تھا تو وہ پانچوں کینٹین میں بیٹھے آج شام کی پلاننگ کر رہے تھے
“بس اتنی سی بات؟ لو بھئی آج پھر ایک اور ممبر ایڈ کر ہی لو پارٹی میں”
“کیا مطلب بات صرف نمبر کی ہے اور کچھ نہیں”
“جانے دے یار اسکا ٹیسٹ بدلنے کا موڈ بن گیا ہوگا” ساتھ ہی سب کے قہقے بلند ہوئے تھے اور بہت سی حسرت بھری نگاہیں ان کی طرف اٹھیں تھیں
اسے لگا تھا یہ کام اسکے لئے مشکل نہیں ہے اسکا فلسفہ یہی تھا کہ حسن اور پیسہ ہو تو دنیا آگے پیچھے گھومتی ہے اور آج تک اسکا فلسفہ غلط ثابت بھی تو نہیں ہوا تھا
یونیورسٹی کی لڑکیاں تو اس سے باتیں کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں
وہ ایک ادا سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا اور اسکی یہی ادا تو مقابل کو اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیتی تھی…
مغرور لہجے میں مسکراہٹ سجاتے ہوئے اس نے نور کو مخاطب کیا تھا
“Hi”
اس کی آواز پر ان سب نے سر اٹھایا تھا
“جی” اس نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو اگنور کرتے ہوئے کہا
اس کی اس حرکت پر سیم کو اپنی بےعزتی کا احساس ہوا تھا
لیکن فل حال اسے اپنی شرط جھیتنی تھی سو اسے دماغ سے جھٹکتے ہوئے بات شروع کی…
وہ جو سوچ کر آیا تھا کہ اس کی تعریف میں دو بول بولے گا اور پھر پارٹی کی آفر کرے گا اور وہ مان جائے گی…لیکن اب وہ کنفیوز ہو گیا تھا
ایک اسکا اگنور کرنا اور دوسرا اسکا سنجیدہ چہرہ
اسے پہلی بار کسی لڑکی سے بات کرنے میں مشکل ہوئی تھی…
“ایکچولی یہ جگہ ہماری ہے آپ پلز یہ ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھ جائیں”
“کیوں ہم کیوں بیٹھیں؟ اور ابھی کیا کہا آپ نے؟ یہ جگہ آپ کی ہے؟ لیکن میں نے یہاں ایسا کوئی بورڈ لگا نہیں دیکھا…
اس لئے ہم تو یہاں سے نہیں اٹھیں گے..ہاں لیکن آپ ہمارے اٹھنے تک کا ویٹ کر سکتے ہیں” وہ بےنیازی سے بولی تھی
سیم کو اس کی باتیں تیر کی طرح لگیں تھیں…
لیکن اب کیا ہو سکتا تھا تیر کمان سے نکل چکا تھا اور درست نشانے پر بھی لگا تھا…
“دیکھیں میں آپ کو آخری دفع کہہ رہا ہوں اٹھ جائیں ورنہ…”
“ورنہ کیا؟ ہاں کیا کریں گے آپ؟”
“میں وہ کروں گا کہ تم پچھتاؤ گی”
“میں تب بھی پچھتاؤں گی اگر یہاں سے اٹھ گئی اس لیے یہ دھمکیاں کہیں اور جا کر دیں”
“تو تم نہیں اٹھو گی”
آیت نے لڑائی بڑھتے دیکھ کر اسے منع کیا تھا لیکن وہ تو جیسے پورا مقابلہ کرنے کے موڈ میں تھی
“آپ انتظار کر سکتے ہیں” اس کے سکون میں ذرا فرق نا آیا تھا
“چلو سیم ہم وہاں جا کر بیٹھتے ہیں” حارث معاملہ کی سنگینی کو بھامپتے ہوئے آگے بڑھا
پھر وہ وہاں بیٹھا تو نہیں تھا لیکن وہاں سے چلا ضرور گیا تھا
اتنی بےعزتی اسے برداشت کہاں تھی…
“آج کی پارٹی سیم کی طرف سے” حارث نے گروپ میں میسج کیا تھا
اور یہ پارٹی تھی سیم کی ہار کی خوشی میں!
******
“کیا ضرورت تھی الجھنے کی ہم ویسے بھی اٹھنے ہی والے تھے ایویں بلاوجہ ایشو کریٹ کر دیا” فاریہ اس پہ برسی تھی
“ایشو میں نے نہیں اس ایڑیٹ نے کریٹ کیا ہے یونیورسٹی کو بھی اپنی پرسنل پراپرٹی سمجھ رکھا ہے”
“اچھا نا اب بس کرو اس کی وجہ سے اپنے دن کا آغاز خراب موڈ سے کرنے کی ضرورت نہیں ہے” آیت نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا تھا
“ضرورت کیسے نہیں ہے تم نے سنا نہیں وہ کیا کہہ کر گیا ہے_سمجھتا کیا ہے خود کو” وہ اس کے سامنے خود کو پرسکون ظاہر کر رہی تھی لیکن اس کا لب و لہجہ اسے اندر تک سلگا گیا تھا
“چھوڑو اسے ویسے بھی وہ اتنا اہم نہیں ہے کہ تم اس کے بارے میں سوچو” سارہ نے اسے ٹوکا تھا
نور منہ جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“کدھر جا رہی ہو بیٹھو تو مجھے کچھ بتانا ہے” سارہ نے اسے واپس بیٹھایا تھا
“بولو”
“میں آج گھر جا رہی ہوں جب سے ہوسٹل شفٹ ہوئی ہوں گھر کا چکر ہی نہیں لگا”
“تو کلاسز؟”
“یار آج کل تو ویسے بھی ویلکم پارٹی کی تیاری چل رہی ہے اور سٹڈی کا اتنا برڈن بھی نہیں ہے”
“کتنے دن کے لئے جا رہی ہو؟” نور کو اپنی فکر بھول کر ایک نئی پریشانی لاحق ہوئی تھی
“تین چار دنوں کے لیے ویک اینڈ کے بعد آ جاؤں گی”
“پارٹی تک تو آ جاؤ گی نا؟”
“ہمم پوری کوشش کروں گی”
“کوشش والی کوئی بات نہیں ہے اگر نا آئی تو ہوں خود تمہیں لینے پہنچ جائیں گے ویسے بھی اتنا دور نہیں ہے”
“اچھا بابا آ جاؤں گی”
“جاؤ گی کیسے؟”
“بھائی ابھی ادھر ہی ہیں وہی لینے آئیں گے”
چلو ٹھیک ہے پھر یونیورسٹی کے بعد ہم ایک اچھا سا لنچ کریں گے پھر تم جاؤ گی”
“اوکے” وہ ان کی محبّتوں پر مسکرا دی تھی
وہ تینوں نور کو بھی باتوں میں بہلا چکی تھیں…
یونیورسٹی کے بعد وہ چاروں ایک شاندار ریسٹورینٹ میں آ گئیں تھیں
اندر آتے ہی آیت کو بہت سی یادوں نے آن گھیرا تھا لیکن وہ انہیں دماغ سے جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گئی…
اب زہر اتنی جلدی بھی تو اپنا اثر نہیں چھوڑتا…
“آیت،نور تم دونوں نے نوٹ کیا ہے آج موسم کچھ زیادہ ہی خوشگوار نہیں ہے؟” فاریہ نے بیٹھتے ہوئے کہا
“ہاں یار نوٹ تو میں نے بھی کیا ہے…
خالی خالی گھر جانے کی خوشی تو نہیں لگتی ابھی پرسوں ہی تو انکل آنٹی مل کر گئے ہیں”
ان کا اشارہ سمجھ کر سارہ کے چہرے پر سرخی دھوڑ گئی تھی
“چلو اب بتا بھی دو کہیں کوئی ڈیت ویٹ تو نہیں فکس کر لی؟” نور ہستے ہوئے بولی
“جی نہیں” سارا نے اسے ایک دھپ رسید کرتے ہوئے کہا
“تو پھر؟” فاریہ سارہ کی طرف دیکھ کر شرارت سے بولی
“کیا ہے یار تنگ نہیں کرو” وہ آیت کے کندھے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی
اور وہ تینوں تو اسے دیکھ دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھیں
“بس کرو بھئی تنگ نہیں کرو میری دوست کو” آیت نے ہستے ہوئے اس کا دفاع کیا تھا
“تو کہہ دو نا اپنی دوست سے کیوں چھپا رہی ہے سیدھی طرح بتا دے”
“ہاں نا کیا پتا ہماری ہیلپ کی ضرورت ہی پڑ جائے” فاریہ اور نور کہاں باز آنے والیں تھیں
“چلو سارہ بتا ہی دو انہیں ورنہ تو ان کا لنچ کرنا مشکل ہو جائے گا”
اس نے ان کی طرف دیکھا اور پھر بولی تھی
“کل نا میرے کزن کی انگیجمنٹ ہے”
“تو؟” نور ناسمجھی سے بولی
“تو وہ ہادی کا کافی کلوز فرینڈ ہے مجھے لگتا ہے وہ ضرور آئے گا”
“اوووو تو یہ بات ہے پھر تو بھئی کھلنا بنتا ہے” نور کے چھیڑنے پر وہ سر جھکا گئی تھی
“ویسے ایسا بھی کیا ہے اس میں جو وہ تمہیں اپنا اسیر بنا گیا ہے؟ آیت کے پوچھنے پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی
“کچھ ہونا محبّت کی شرط کب ہوتی ہے” وہ دھیمے سے بولی تھی
“اور ویسے بھی جن سے محبّت ہوتی ہے وہ ہر حال میں ہر انداز میں اچھے لگتے ہیں”
“ہاں اس سے پوچھو بڑا ایکسپیرینس ہے اسے” فاریہ نے ہستے ہوئے نور کا مذاق اڑایا تھا
“ضروری نہیں انسان ہر تجربہ خود پر ہی کرے دوسروں کے تجربوں سے بھی انسان بہت کچھ سیکھ جاتا ہے” نور نے فوراً فاریہ پر چوٹ کی تھی
“شرم کرو شرم کیسا الزام لگا رہی ہو دادی نے سنا نا تو زندہ جہنم میں پھنک آئیں گی”
“دادی کو کیوں اندر گھسیٹ رہی؟” سارہ نے ہستے ہوئے پوچھا
“تمہیں نہیں پتا یار بڑی کوئی ہٹلر قسم کی ہیں میرے بڑے چاچو نے اپنی مرضی سے شادی کی اور سات سال ہو گئے ہیں آج تک انھیں گھر آنے کی اجازت نہیں ملی”
“اسی لیے محبّت تو ہمارے خاندان میں گناہ ہے اور ہم پر حرام” نور نے دکھ سے بتایا تھا
“ارے محبّت تو قسمت سے ملتی ہے اگر تمہاری قسمت میں ہوئی تو تمہیں مل کر رہے گی بھلا قسمت کی ہونی کو کون روک سکتا ہے” آیت کی بات پر وہ خوبصورتی سے مسکرا دی تھی
اور دور کھڑی اسکی قسمت بھی…
******
وہ گاڑی سے اتر کر گیٹ کے قریب آیا تھا اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اندر جائے یا واپس پلٹ جائے_آیت بھی تو فون نہیں اٹھا رہی تھی اور اتنی رات کو فاطمہ کو ڈسٹرب کرنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا
اگر کام ضروری نہیں ہوتا تو وہ کبھی نہ آتا
کچھ سوچ کر اس نے قدم آگے بڑھائے تھے…
تیسری بیل پر ملاذمہ باہر آئی تھی ورنہ اب اس کا ارادہ پلٹ جانے کا تھا
“اسلام علیکم مجھے آیت سے ضروری کام ہے کیا ان سے اس وقت ملاقات ہو سکتی ہے؟”
ملاذمہ اسے پہچان گئی تھی اور ساتھ ہی اسے آیت کی اسے کبھی اندر نا آنے دینے والی ہدایت بھی یاد آ گئی تھی…
“دیکھیں پلز آپ پریشان نا ہوں میں زیادہ وقت نہیں لوں گا آپ جا کر انھیں بتا دیں” وہ ملاذمہ کی شکل دیکھ کر کہہ رہا تھا
“لیکن انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا کہ آئندہ کبھی آپ کو اندر داخل نا ہونے دوں” وہ مظلوم سی شکل بنا کر کہہ رہی تھی اور رامش کو کئی واٹ کا کرنٹ لگا تھا
“کیا؟” وہ بےیقین تھا
“ایسا کب کہا انہوں نے آپ سے؟” رامش کو اپنی حد درجہ توہین پر ہسی آئی تھی
“وہ جب ان کو بخار تھا تو آپ آئے تھے اور پٹیاں بھی…” وہ فقرہ ادھورا چھوڑ کر اس کی شکل دیکھنے لگی تھی
رامش نے اثبات میں سر ہلایا تھا جیسے سب سمجھ گیا ہو
“آپ ابھی جا کر ان کو میرا بتائیں مجھے یقین ہے وہ منع نہیں کریں گی” وہ جیسے اسے یقین دلا رہا تھا
“وہ ہیں تو ادھر لان میں ہی آپ پھر آ جائیں اندر”
اس نے لان کی طرف اشارہ کیا جدھر آیت بیٹھی ہوئی تھی
وہ شکریہ کہتا آگے بڑھ گیا تھا…
آیت کے پاس آ کر اس نے گلا کھنگالا تھا
وہ اپنی سوچوں میں گھری ڈائری پر کچھ لکھنے میں اتنی مگن تھی کہ اس کے آنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا اور اب اس کی آواز پر چونک کر اسے دیکھنے لگی تھی
“آپ؟” وہ اس وقت اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی
“جی میں”
“ویسے اگر آپ مجھے گھر سے باہر نکالنے کا ارادہ رکھتی ہیں تو میں بتا دوں کہ ایک بہت ہی ضروری کام سے آیا ہوں ورنہ اتنی رات میں آپ کو کبھی ڈسٹرب نہ کرتا” وہ مودبانہ انداز میں کہہ رہا تھا
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں بھلا آپ کو باہر کیوں نکالوں گی؟”
“اچھا” وہ حیران ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے بولا
“ابھی ابھی آپ کی ملاذمہ سے تو یہی علم ہوا ہے کہ آپ کا مجھے باہر سے ہی بھیج دینے کا حکم ہے وہ تو اس بیچاری کو مجھ پر ترس آ گیا جو اس نے مجھے باہر سے ہی نہیں بھگا دیا”
“میں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا” اس کے تو فرشتوں کو بھی یاد نہیں تھی
“لیکن وہ تو ایسا ہی بتا رہی تھی کہ میری پچھلی دفعہ کی تماداری آپ کو شاید پسند نہیں آئی تھی”
آیت کے ذہن میں جھماکا ہوا وہ تو اس نے اس وقت غصے میں کہ دیا تھا ساتھ ہی اسے آنٹی پر شدید غصہ آیا تھا
“I’m sorry”
“انھیں ضرور کو غلط فہمی ہوئی ہو گی آپ بیٹھیں پلز”
“ہو سکتا ہے” وہ لان میں پڑی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھتا ہوا بولا
“خیریت اتنی رات کو آپ کو آنا پڑا؟”
“ایکچولی میری ٹرانسفر سرگودھا ہو گئی ہے واپسی کا کوئی پتا نہیں کچھ ڈاکومینٹس پر آپ کے سگنیچر چائیے تھے”
“میرے سگنیچر؟”
“جی” اس نے فائل آیت کی طرف بڑھائی تھی
“لیکن کس لئے؟”
“کیس کے سلسلے میں_زین کا تو پتا چل ہی گیا ہو گا کہ اس کو جیل ہو گئی ہے اور پراپرٹی بھی انشاءلله میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو واپس مل جائے”
آیت کی اٹھی ہوئی پلکیں جھک گئیں تھیں…
احساس ندامت تھا یا حجاب وہ سمجھ نہیں پایا تھا
اور پھر آیت نے اس کی توقع کے عین مطابق بغیر پڑھے ہی سائن کر دیئے تھے ورنہ اگر وہ پڑھ لیتی کے یہ وہی پراپرٹی ٹرانسفر لیٹر تھا جس پر ایک دفعہ وہ دھوکے سے سائن کر گئی تھی اور آج وہی لیٹر اسے ساری پراپرٹی واپس دے گیا تھا تو مسلئہ بن جاتا…
شاید آیت کے پچھتاوں کی فہرست میں ایک اور پچھتاُوے کا اضافہ ہو جاتا جو کہ رامش بالکل نہیں چاہتا تھا
“آپ بیٹھیں میں کافی بنا کر لاتی ہوں” وہ اٹھتے ہوئے بولی
“نہیں آیت میں اب چلتا ہوں مجھے کافی لمبا سفر کرنا ہے”
“اسی لئے تو کہہ رہی ہوں_سفر اچھا گزر جائے گا” وہ مسکرا کر کہتی اندر بڑھ گئی تھی
اندر آ کر وہ خود کو قدرے سمبھال چکی تھی ورنہ زین کے جیل جانے کی خبر نے تو اسے ایک دفعہ کے لئے ہلا دیا تھا”
تھوڑی دیر میں وہ ٹرے میں دو مگ سجائے باہر آ گئی تھی
ایک مگ رامش کے حوالے کرتے اور دوسرا خود سمبھالتے اپنی جگہ پر بیٹھ گئی تھی
“یونیورسٹی کیسی جا رہی ہے؟”
“بہت اچھی” وہ ان تینوں کو یاد کر کے دل سے مسکرائی تھی
اور رامش کو اس وقت وہ بہت بھلی لگی تھی کبھی کبھی ہی تو وہ اتنا مطمئن سا مسکراتی تھی
“آنٹی کیسی ہیں اور تم اس وقت ادھر اکیلی کیوں بیٹھی ہوئی تھی؟”
“امی بالکل ٹھیک ہیں بس میڈیسن لے کر جلدی سو جاتی ہیں”
“اللہ انھیں تمہارے سر پر سلامت رکھے” اس کے دل سے دعا نکلی تھی
“آمین”
اور پھر دونوں میں گہری خاموشی چھا گئی تھی
آیت مسلسل مگ سے اڑتی بھاپ کو گھور رہی تھی_اس لمحے وہ رامش کو بالکل ایک پہیلی لگی تھی جس سے وہ بالکل انجان ہو…
“کیا بات ہے آیت؟”
وہ چونکی تھی پر بولی کچھ نہیں
رامش ٹیبل سے ڈائری اٹھا کر الفاظ کو دہرانے لگا تھا…
جو کہ آیت کے اندر جانے کے بعد وہ پہلے بھی پڑھ چکا تھا
آیت خود کو کوسنے لگی تھی کہ وہ اسے کیسے ادھر بھول گئی
“کوئی تو ہو ایسا جو ہر قدم پر ساتھ دیا کرے،ہر خواہش پر خوشی سے سر جھکا جایا کرے،پوری دنیا سے لڑ سکنے کی ہمّت رکھے،دل کے سلگنے پر ٹھنڈی پھوار بن جایا کرے،گہری اداسی میں ہنسا جایا کرے،درد پر مرہم بن جایا کرے،کوئی تو ہو جس پر اندھا اعتبار کیا جا سکے،کوئی تو ہو جو محبّت اور مان کا بھرم رکھا کرے…
کوئی تو ہو_ہائے کاش!”
“خدا ہے نا آیت” اس نے آنکھوں میں امید کے جگنو لئے کہا
پھر پتا نہیں کیوں وہ رامش کے سامنے خود پر بند نہیں باندھ سکی تھی
“وہ تو اللہ ہیں_اور اللہ تو سب کے ہیں
انہوں نے ہمیں انسان بنایا_کوئی انسان بھی تو ہو جو بس ہمارا ہو”
“تو کیا اللہ کافی نہیں ہیں؟”
“توبہ…
یہ کیسی بات کر دی آپ نے” وہ اپنے آنسوں صاف کرتی سمبھل کر بیٹھ گئی جیسے سامنے والا ہر بات سے لاعلم ہو اور وہ اسے سمجھانا چاہ رہی ہو
“دیکھیں…” وہ بات جاری رکھتے ہوئے بولی اور وہ ایسے سن رہا تھا جیسے کوئی بہت بڑے راز سے پردہ اٹھنے والا ہو
“خدا نے انسان کو دوسرے انسان سے منسلک کیا اور اسے قدم قدم پر دوسرے انسان کا ضرورت مند بنایا_اب یہ سب تو وہ خود بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے زندگی گزانے کے لئے ایک انسان کو ہی دوسرے انسان کے لئے چنا_اور اس سے بڑھ کر اور گواہی کیا ہو گی کہ وہ اپنے حقوق تو معاف کر دے گا لیکن کسی انسان کے حقوق کی کوئی معافی نہیں_نہ اب نہ کبھی”
وہ سانس لینے کو رکی
“پھر آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ میرا مطالبہ غلط ہے؟
اب یہ سب خواہشات تو فطری ہیں”
پھر وہ اسکی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر بولی تھی
“لیکن آپ فکر نہ کریں میں جانتی ہوں ایسا کوئی مجھے کبھی نہیں مل سکتا” وہ سانس اندر کی طرف کھنچتی ہوئی اسے بہت بےبس لگی تھی
اور اس کے پاس تو جواب میں کہنے کو ایک لفظ نا تھا
“پتا ہے فاطمہ کہتی ہے ایسا بندہ تو تمہیں Mars پر ہی ملے گا” اب وہ ہستے ہوئے کہہ رہی تھی
“اور میں جانتی ہوں میں کبھی Mars پر نہیں جا سکتی”
رامش اسے دیکھے گیا تھا اور پھر خاموشی سے فائل اٹھا کر باہر کی طرف چل دیا…
اور وہ پھر سے اپنے خیالوں کا ٹوٹا ہوا بند جوڑ چکی تھی…
“اداسیاں تو میرے عہد کی
علامت ہے
میں ہنس پڑا تو بہت پیچھے
لوٹ جاؤں گا”
******
سارہ گھر آ گئی تھی اور اس کے گھر آتے ہی جیسے ساری رونقیں بھی لوٹ آئیں تھیں
“امی بھائی خود کیوں نہیں آئے مجھے لینے ڈرائیور کو کیوں بھیجا؟” وہ امی سے شکایت کر رہی تھی
“بیٹا آنا تو اس نے ہی تھا لیکن اچانک اس کی کال آ گئی تو اسے جانا پڑا”
“امی بھائی ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں مجھے نہیں بات کرنی اب ان سے”
“ایسے نہیں کہتے بیٹا تم جانتی تو ہو اس پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے”
“تو کیا وہ انگیجمنٹ میں بھی نہیں آئیں گے؟”
“ظاہر ہے”
“امی میں نے ابھی ڈریس بھی نہیں لیا سوچا تھا بھائی کے ساتھ جا کر لوں گی ان کے ساتھ بہت ساری باتیں کروں گی” وہ روہانسی ہوئی تھی
“تو کیا ہوا میری جان بھائی اگلے ہفتے آئے گا تو میں اسے کہوں گی تمہیں لے آئے پھر جتنی مرضی باتیں کر لینا”
اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر انکا دل بھر آیا تھا
“اچھا چلو پریشان نا ہو میں ہادی سے کہتی ہوں وہ لے جائے گا تمہیں” ہادی کے نام پر تو وہ اچھل ہی پڑی تھی
“ہادی کب آیا؟”
“کل کا آیا ہوا ہے آج تو وہ اور سیماب صبح سے ادھر ہی تھے تمہارا پوچھ رہے تھے سیماب تو کہہ رہی تھی کہ وہاں جا کر سارہ ہمیں بھول ہی گئی ہے”
“نہیں امی بھلا میں انھیں کیسے بھول سکتی ہوں رات میں جا کر مل آوں گی”
“چلو جاؤ میرا بچہ بھائی کو کال کر لو انتظار کر رہا ہو گا میں ہادی کو بلواتی ہوں”
“جی امی”
پورا گھنٹہ علی کا سر کھانے کے بعد کہیں جا کر اسے سکون ملا تھا اور اب وہ جانے کی تیاری کرنے لگی تھی…
اب تو جیسے ہر عضو دل بن کر دھڑک رہا تھا ہر آہٹ پر یہی گمان ہوتا تھا کہ وہ آ گیا ہے
“آیت ہادی کا فون آیا ہے باہر آ جاؤ”
“جی امی”
ساتھ ہی پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی
“اچھا سنو اب تم اسے زیادہ تنگ مت کرنا”
“امی میں کب تنگ کرتی ہوں بھلا”
“اتنی جلدی بھول گئی ہو کیسے وہ بیچارہ ہر دفعہ آ کر مجھے کہتا تھا کہ آنٹی اگلی دفعہ اسے خود ہی لے کر جائیے گا”
“امی بہت عرصہ ہو گیا ہے اب تو” وہ یاد کر کہ ہنس دی تھی
“اچھا جاؤ باہر انتظار کر رہا ہے جلدی آنا”
“جی امی اور کچھ؟” اسکے ڈرامائی انداز پر وہ ہنس دی تھیں اور وہ بھی اپنی سانسیں ہموار کرتی باہر کی طرف بڑھی تھی
وہ بلیک ٹراؤزر شرٹ میں ماتھے پہ بکھرے بال پیچھے کرتا گاڑی سے باہر نکل رہا تھا
اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی تھیں…
سارہ کو آتے دیکھ کر اس نے اس کے لیے ساتھ والا دروازہ کھولا تھا
“Hellow Beautiful Lady”
وہ ہاتھ سینے پر رکھتا سر جھکا کر بولا تھا
سارہ اس کے انداز پر ہنس دی تھی…
سارہ کا دروازہ بند کرتا وہ اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا تھا
“کیسے ہو؟”
“ہاہ! کیسا لگ رہا ہوں؟” وہ اس کی طرف گھوما تھا
“بالکل نہیں بدلے”
“تو تم کچھ بدلا ہوا ایکسپکٹ کر رہی تھی”
“اممم…نہیں تو بس ایسے ہی”
“ویسے سارہ تم تو بہت ہی احسان فراموش نکلی یار”
“وہ کیسے؟”
اس کے پوچھنے پر ہادی نے اسے گھورا تھا
“تمہارے آرٹس میں ایڈمشن کے لئے کتنی مشکل سے میں نے تمہارے بھائی محترم کو منایا تھا اور تم نے تو شکریہ تک کہنا ضروری نہیں سمجھا”
“کیا؟” سارہ کو جیسے شاک لگا تھا
“کیا ہاں؟ دیکھو اب یہ مت کہنا کہ تمہیں تو کچھ پتا ہی نہیں تھا”
“ہاں نا مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ وہ تم تھے اور ویسے بھی مجھے بھائی نے کچھ نہیں بتایا”
“کیوں یقین کیوں نہیں آ رہا؟” اس نے آبرو اچکا کر پوچھا
“مطلب تم سے مجھے کسی اچھے کام کی امید جو نہیں ہے اس لیے” سارہ ہسی دباتے ہوئی بولی
“اچھا جی سارے اچھے کام تو وہ تمہارا کھڑوس بھائی ہی کرتا ہے میرا کریڈت بھی خود ہی لے گیا ایک دفعہ ہاتھ لگنے دو پوچھتا ہوں میں اس سے”
“کمینہ” وہ زیر لب بڑبڑایا تھا جو کہ سارہ بڑی آسانی سے سن چکی تھی
“کیا کہا؟؟” وہ چیخی تھی
ہادی کا قہقہ بلند ہوا تھا
“بھائی کی چمچی”
سارہ نے اس کے بازو پر مکے مرنا شروع کئے تھے اور اس کی ہنسی مزید اونچی ہوئی تھی
“گاڑی روکو مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ” وہ ناراضگی شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے بولی
“اچھا اچھا سوری اب نہیں کرتا”وہ اسکی ناک پکڑتے ہوئے بولا
سارہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا
“اچھا چلو آئسکریم کھلاتا ہوں پھر جتنی کہو گی اتنی شاپنگ کرواؤں گا اب تو مان جاؤ”
وہ سٹیئرنگ چھوڑ کر کان پکڑتا بولا
“اچھا اچھا گاڑی چلاؤ صحیح طرح” وہ فوراً سیدھی ہوئی تھی.
جاری ہے
