Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode (Watching)
Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
جس کی تم بات کر رہے ہو نا…
پیار کرتی ہے وہ تم سے
لیکن اس کے ساتھ کیا کیا تم نے؟
اکیلا کر دیا اسے؟ اس کے کردار پر بھی شک کیا؟
تو شادی کیوں کی اس سے؟ رامش نے اسے مارا تھا وہ بری طرح پیچھے گرا تھا
میری بہن ہے وہ… اس کے ساتھ کوئی ذیادتی برداشت نہیں کروں گا میں…
وہ نیچے جھکا تھا اسے کالر سے پکڑ کر اٹھایا تھا
“تم فاطمہ کے لائق ہی نہیں ہو ابھی میرے ساتھ چلو طلاق دو اسے میں اسے اپنے ساتھ واپس لے جاؤں گا…”
“توہین کی ہے تم نے میری بہن کی میری عزت کی…”
وہ پتھر بنا سب سن رہا تھا…
فاطمہ کی سچائی تو ثابت ہو گئی تھی…
اب وه اپنی سچائی کیسے ثابت کرتا؟
وہ بھی تو محبّت کرتا ہے اس سے…
رامش اسے چھوڑ کر آگے بڑھا تھا
شاید وہ فاطمہ کو لینے جا رہا ہو…
وہ اٹھا تھا
رامش تک آیا تھا
“رامش میرے پاس خدا کے سوا کوئی گواہ کوئی ثبوت نہیں کہ میں فاطمہ سے محبّت کرتا ہوں…
فاطمہ ہی وہ لڑکی ہے جسے تم ڈھونڈ رہے تھے…
لیکن مجھ سے غلطی ہو گئی
بہت بڑی غلطی
تم چاہے مجھے جو سزا دے لو مگر اس کو مجھ سے الگ مت کرو…
ابھی یہ بات کسی کو نہیں پتا صرف تمہارے اور میرے درمیان ہے فاطمہ کو بھی نہیں…
میں وعدہ کرتا ہوں اسے کبھی کوئی تکلیف نہیں آنے دوں گا…
مجھے معاف کر دو… “
وہ اس کے قریب آیا تھا ہاتھ رامش کے کندھے پہ رکھا تھا جسے اس نے بری طرح جھٹک دیا تھا…
وہ اسے غور سے دیکھتا رہا تھا
“آئندہ میرے سامنے مت آنا…” وہ بولا تھا پھر چل دیا
رامش دور جا چکا تھا مگر اس بار اس کا رخ آیت کے گھر کے جانب تھا…
خوشی کی ایک لہر اس میں سرایت کر گئی تھی…
وه چلایا تھا خوشی سے…
وہیں پارک کے درمیان کھڑا ہو کر…
“وہ مجھ سے محبّت کرتی ہے…
ہاں
صرف مجھ سے…”
لیکن میں نے کیا کیا اس کے ساتھ…
رات کو کیا کچھ کہتا رہا میں اسے…
اس کو اپنا لئے سجا ہوا بھی نہیں دیکھ سکا…
“یا اللہ” وہ آنکھیں بند کر کے گڑگڑایا تھا
وہ گھر آیا تو وہ بیڈ کے ساتھ جائے نماز پر سجدے میں تھی…
اسے یاد آیا تھا
کل رات بھی تو وہ ادھر ہی بیٹھی ہوئی تھی فرش پر… سسکتے ہوئے
وہ کتنا ظلم کر چکا تھا اس کے ساتھ…
اس کی سسکیوں کی آوازیں آس پاس گونج رہی تھیں ہادی کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا ہو
وہ اس کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا
“فاطمہ” سرگوشی کی صورت میں اس کا نام ادا ہوا
اس نے چونک کر سجدے سے سر اٹھایا تھا
اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے پوری رات روتی رہی ہو… اور کیوں نا روتی رات قیامت جو گزری تھی
ہاں قیامت ہی تو تھی…
اب بھلا قیامت اسے نہیں کہتے تو اور کیسے کہتے ہیں…
اپنی محبّت کے منہ سے کسی اور کا نام…
اپنے شوہر کے منہ سے کسی اور کے وعدے…
اپنے محرم کے منہ سے اپنے لئے نفرت…
اپنی ہی زندگی کے منہ سے کسی اور کی محبّت…
لیکن آج کا سورج تو ان دونوں کے لئے ہی طلوع ہوا تھا
آج فاطمہ کی صبح تھی…
آج ہادی کی صبح تھی…
آج ان کی محبّت کی صبح تھی…
ہادی پر نظر پڑتے ہی جیسے اس کا دل بند ہونے لگا تھا
اس کے منہ پہ خون جما ہوا تھا اس کے کپڑوں پہ آستینوں پڑ خون لگا ہوا تھا…
“ہادی” وہ گھبرا کر اٹھی تھی
“یہ کیا ہوا ہے؟”
“کسی سے لڑ کر آئے ہیں؟” وہ سب بھلائے اس کے چہرے کو ہاتھ میں لئے ہوئے تھی
“ہاں… شاید خود سے” وہ جھکے سر کے ساتھ بولا تھا
“میں صاف کرتی ہوں آپ اٹھیں ادھر بیڈ پر بیٹھیں”
وہ تھوڑی دیر میں فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈ لائی تھی اور اس کے زخم صاف کرنے لگی تھی
آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
وہ اس وقت بھول گئی تھی یہ وہی شخص ہے جس نے رات اسے ٹھکرایا تھا اسے رلایا تھا اسے دھوکہ دیا تھا
اسے یاد تھا تو صرف یہ کہ اس کی محبّت تکلیف میں ہے…
اور ہادی تو ساکت بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا
وہ اسے کیا بتائے رات کے بارے میں؟
کیسے معافی مانگے اس سے…
ہمّت ہی نہیں ہو تھی تھی اس سے بات کرنے کی…
“آپ پلیز چینج کر لیں میں ناشتہ لاتی ہوں پھر pain killer لیجئے گا”
وہ اثبات میں سر ہلاتا اٹھ گیا تھا
وہ جب واپس آیا تو وہ ملازمہ کے ساتھ مل کر کھانا لگا چکی تھی
“ناشتے کے بعد یہ ٹیبلٹ لے لیجئے گا” اس نے گولی ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا
“تم ناشتہ نہیں کرو گی؟” وہ واپس مڑی تھی جب وہ بولا تھا
“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے”
“ٹھیک ہے پھر مجھے بھی نہیں ہے” وہ یک دم ٹیبل سے اٹھا تھا
“جی؟”
“میں نے کہا تم ناشتہ نہیں کرو گی تو اٹھا لو یہ سب مجھے بھی بھوک نہیں ہے”
فاطمہ کچھ دیر بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر آ کر ناشتہ کرنے لگی تھی…
“ٹھیک ہے!!!
وہ ملا تھا کچھ لمحے
تم مگر اس کو زندگی لکھنا”
*********
وہ کلاس روم میں آئی تھی
“میسم لنچ کے لئے لینے آئے ہیں”
وہ سب ایک دم سارہ کی طرف متوجہ ہوئی تھیں
“ایک تو نا میرے بھائی کو بھی چین نہیں ہے” نور ہنسی تھی
“افف اس کا تو بس نہیں چلتا کہ آج ہی اسے اپنے گھر لے آئے” فاریہ کی بات پر وہ مسکرانے لگی تھی
سچ کہتے ہیں چاہنے سے چاہے جانے کا احساس زیادہ خوبصورت ہوتا ہے…
وہ بھی میسم کی محبّت کے آگے ہادی کی محبّت کو پھیکا پڑتا دیکھ رہی تھی
“چلو جاؤ کیوں انتظار کروا رہی ہو میرے بیچارے بھائی کو” نور سارہ کو کھڑا دیکھ کر بولی تھی جب سیم نے نور کے پیچھے سرگوشی کی تھی
“ایک انتظار اور بھی ہے جو آپ مجھے کروا رہی ہیں”
وہ پلٹی تھی
“تم یہاں؟”
“کیوں میرا یہاں آنا منع ہے؟” وہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا
“بالکل! یہ میری کلاس ہے”
“اوہ! تو آپ بھی تو میری ہیں” وہ جھکا تھا
“شرم کرو پوری کلاس دیکھ رہی ہے”
“ہاں تو ہم کلاس سے باہر چلتے ہیں” اس نے کاندھے اچکائے تھے
“کیوں اپنی اور میری زندگی مشکل کر رہے ہو؟”
“مشکل نہیں ہے کچھ بھی نور…
تم میرے ساتھ چل کر تو دیکھو ہر آسانی کو تمہارے قدموں میں لا گراوں گا”
“وقت سے پہلے بڑے بڑے دعوے نہیں کرنے چائیں” وہ طنز ہسی تھی
“ٹھیک ہے پھر وقت آنے دو…
اب تب ہی ملتے ہیں”
“خیال رکھنا اپنا” اس نے ہاتھ پکڑا تھا نور کا
کچھ تھما کر باہر نکل گیا تھا…
اور وہ اسے دور جاتا دیکھتی رہی تھی
دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی…
مگر اسے خود کو کمزور نہیں کرنا تھا…
اسے سیم کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا تھا..
______
آج اسے گئے ایک ہفتہ ہونے کو تھا…
وہ اپنی انٹرنشپ دوسرے شہر میں شروع کر چکا تھا…
وہ آس پاس رہتا تھا تو اسے پرواہ نہیں ہوتی تھی
اب جو وہ نظروں سے اوجھل ہوا تھا تو وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی تھی
جیسے کوئی قیمتی چیز کھو دی ہو…
“کچھ مصروف لمحوں میں
اچانک دل جو دھڑکے تو
کبھی بےچین سے ہو کر
اگر ہر سانس تڑپے تو
کوئی آتش سی تن من میں
اچانک جل کر بھڑکے تو
جانِ زندگی
تب اتنا سمجھ لینا
یہ محبّت کا اشارہ ہے
تمہیں ہم نے پکارا ہے”
وہ نوٹ جو وہ اسے جاتے ہوئے تھما کہ گیا تھا…
اس کی آنکھوں کے سامنے منظر دھندلانے لگے تھے
“ہاں ہے یہ محبّت” اس نے اعتراف کیا تھا
“لیکن میں اس محبّت کا کیا کروں گی جو تمہیں ہی مشکل میں ڈال دے”
ایک مرد نے کی تھی یہ غلطی ہمارے خاندان میں…
جسے آج تک اس گھر میں جگہ نہیں ملی”
“مجھ سے اگر ہوئی یہ غلطی اب…
مجھے تو شاید مار ہی ڈالیں گے”
“لیکن مجھے اپنی پرواہ نہیں ہے سیم یہ لوگ تمہیں بھی چین سے جینے نہیں دیں گے”
“مجھے تمہاری پرواہ ہے”
“میں ہماری محبّت کو رسوا نہیں کرنا چاہتی”
“اور پھر…
کوئی تم پر بری نظر بھی ڈالے مجھے یہ گوارہ نہیں”
“اور کوئی تمہیں تکلیف پہنچائے یہ کیسے برداشت ہو گا مجھ سے…”
“اسی لیے میں نے تمہارے ساتھ کبھی زندگی کا تصور نہیں کیا”
“بس تمہارا حصہ میری دعاؤں تک ہی ہے اور رہے گا”
*******
چار سال بعد…
“ہیلو میڈم! بہت مصروف رہتی ہیں”
وہ یونیورسٹی سے نکلی تھی جب وہ سامنے اس کی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا
اسے اتنے دنوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی
“اوہ دیکھو تو کہہ کون رہا ہے” وہ اس کے سامنے ہاتھ بندھے کھڑی تھی
“آپ کا شوہر” وہ اس کے سامنے ایک ادا سے جھکا تھا
اور وہ ہنس دی تھی
“واپس کب آئے؟”
“ابھی سیدھا اپنی بےبی گرل سے مل کر تمہارے پاس آیا ہوں” اس نے گود میں اٹھائے تین سالہ امل کو پیار کرتے ہوئے کہا تھا
“کتنے دنوں کے لئے آئے ہیں؟”
“بس اب ادھر ہی پوسٹنگ ہو گئی ہے” وہ اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا تھا
اور وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی
“کتنا مس کیا مجھے؟” وہ اسے دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا
“تھوڑا سا بھی نہیں کیا”
“آہ…امل کتنا جھوٹ بولتی ہیں آپ کی ماما”
“جی نہیں”
“ویسے بھی کون سا میرے لئے آئے ہیں اپنی بیٹی کے لئے ہی آئے ہیں”
“ہاں یہ تو ہے” وہ امل سے کھیلتا ہوا بولا تھا جو اپنے بابا کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی
اور آیت تو اس کے اس قدر صاف انداز پر کڑھ ہی گئی تھی
اس نے سامنے پڑا ٹشو کا ڈبہ اسے اٹھا کر مارا تھا اور باہر دیکھنے لگی تھی
اور وہ کھلکھلا کر ہنس دیا تھا
“مذاق کر رہا تھا یار تم بھی تو نہیں مانتی ہو کے مجھے مس کرتی ہو”
“ہاں کرتی ہوں بہت کرتی ہوں میں نے اور امل نے… ہم دونوں نے بہت مس کیا آپ کو”
“ہم آپ کے بغیر بہت نا مکمل ہو جاتے ہیں رامش”
وہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دیا تھا
“میں نے بھی بہت مس کیا تم دونوں کو جیسے اپنے وجود کا ایک حصہ ادھر چھوڑ گیا ہوں”
“لیکن اب تو بابا آ گئے ہیں نا اب ہم تینوں ایک ساتھ رہیں گے” وہ امل کو دیکھ کر بولا تھا
“اچھا اب جلدی گھر چلیں شام تک سارہ اور میسم بھی آ جائیں گے اور امل کی برتھڈے کی ساری تیاریاں بھی تو رہتی ہیں”
“وہ سب تو ہو جائے گا پہلے یہ بتاؤ بال کچھ زیادہ ہی نہیں چھوٹے کروا لئے تم نے؟” وہ اسے گھورتا ہوا بولا تھا
“نہیں تو… Shoulders تک تو آ رہے ہیں ویسے بھی بڑے بال مجھ سے سمبھالے نہیں جاتے” وہ اپنی چوری پکڑے جانے پہ گڑبڑا گئی تھی
“چلو کوئی نہیں اب میں آ گیا ہوں نا سمبھال لوں گا بالوں کو بھی اور تمہیں بھی” وہ شوخ ہوا تھا
“گاڑی چلانے پر دھیان دیں” وہ چلائی تھی
اور امل اور رامش ہنس دیئے تھے…
*********
لوگ کہتے ہیں موجزے اب نہیں ہوتے
لیکن کوئی مجھ سے پوچھے تو…
جن کا موجزوں پر یقین ہو ان کے ساتھ ہو کر رہتے ہیں
جیسے “تم”
وہ دلہن بنی آج اس کے سامنے بیٹھی تھی
وہ آج دل کا ہر راز اس پر عیاں کر دینا چاہتا تھا
وہ سر جھکائے اس کی آواز میں گم ہونے لگی تھی
“پتا ہے میں نے تمہیں پہلی دفعہ کدھر دیکھا تھا؟” وہ مسکراتا ہوا پوچھ رہا تھا
“تمہارے کالج میں…”
اس انکشاف پر وہ حیران ہوئی تھی
“ادھر ملنے آیا تھا میں کسی سے… جب تم پر نظر پڑی”
“کچھ دیر ٹھہر کر دیکھا تھا پھر آفس سے بلاوا آ گیا”
“ادھر بیٹھے میں اپنے ہی احساسات پر حیران تھا پتا نہیں کیوں میں تمہارے ادھر ہی ہونے کی دعائیں کرتا رہا تھا”
“لیکن جب نکلا تو تم ادھر نہیں تھی”
“میں وقتی سمجھ کر اسے بھولنے کی کوشش کرتا رہا تھا”
“یہاں تک کہ پاکستان سے جانے کے بعد بھی…”
“لیکن میری ہر دعا کا حصّہ بنتی جا رہی تھی تم”
“تم سے محبّت مطلب… تکلیف… کہ کبھی نہیں ملو گی”
“لیکن دل کے ایک کونے میں سکون سا بھی تھا کہ ضرور ملو گی”
اور جب پاکستان واپس آیا تو تمہاری تصویر دیکھی نور کے فون میں”
“یقین کرو تم کافی بدل گئی تھی لیکن میں تمہیں پہلی نظر میں پہچان گیا تھا” وہ ہنسا تھا
“ایسے جیسے کسی مرتے ہوئے کو آب و حیات دے دیا جائے”
“میں امید چھوڑ چکا تھا…
بس وہ دل کا ایک کونا جس کی امید مجھے زندہ رکھے ہوئے تھی”
“اور پھر اللہ نے میری امید ٹوٹنے نہیں دی”
وہ اس کے ماتھے پہ جھکا تھا
اور وہ بےیقین سی مسکرا دی تھی
“اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے”
پلین take off کرنے والا تھا
میسم نے اسے ہلایا تھا
“سارہ”
“جی” وہ آنکھیں کھول کر اسے محبّت سے دیکھ رہی تھی
اب تو اس کی ہر نظر میں میسم کے لئے ڈھیروں محبّت ہوتی تھی
وہ اس کی دیوانی تھی
میسم کی دیوانی
اسے میسم سے عشق تھا
میسم سے بھی زیادہ
“میسم”
“جی”
“پہلے امل سے ملنے چلیں بہت مس کیا ہے اسے”
“ہاں ٹھیک ہے ویسے بھی اس کی برتھڈے کے لئے تو رات میں جانا ہی تھا” وہ مسکرا دیا تھا
اور وہ اب امل سے ملنے کے لئے خوش ہو رہی تھی
*********
“دیکھو میں تمہیں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں ہٹ جاؤ ادھر سے…”
“نہیں ہٹوں گا” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا
“کیا کر لو گی؟”
“میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی سیم” وہ ہاتھ میں برش پکڑے اب اسے دھمکا رہی تھی جو اسے پچھلے پندرہ منٹ سے تنگ کر رہا تھا
“اپنی بیوی کو ہی دیکھ رہا ہوں کون سا جرم کر رہا ہوں” وہ اس کے قریب ہوا تھا
“اور تمہیں بیوی کو دیکھنے کا شوق تب ہی کیوں آتا ہے جب میں تیار ہونے لگتی ہوں؟”
“کیوں کہ تب تم زیادہ پیاری لگتی ہو” وہ اس کی ناک پکڑتا ہوا بولا تھا
“مطلب تم نہیں ہٹو گے؟ تمہیں پتا ہے نا جب تم ایسے دیکھتے ہو تو مجھ سے تیار نہیں ہوا جاتا” اب وہ روہانسی ہوئی تھی
“اچھا نا سوری میں تو بس تھوڑی دیر تمہیں لڑتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا کیوں کہ اب پورا دن تو آپ ہمیں لفٹ دیں گی نہیں”
“اس کی بات پر وہ ہنس دی تھی
“پاگل”
“جی آپ کے لئے” وہ ایک ادا سے بولا تھا
“اب ہٹو مجھے دیر ہو رہی ہے” وہ اسے ڈریسنگ ٹیبل سے دھکیلتی ہوئی بولی تھی
“ظالم” وہ زیر لب بڑبڑایا تھا جو کہ نور بڑی آسانی سے سن چکی تھی
“جاؤ نا پلز حارث کو تیار کر دو” وہ ہستی ہوئی بولی تھی
“جی نہیں تم خود کرو گی ابھی حارث بابا ساتھ کھیلے گا…” وہ اسے اٹھاتا ہوا بولا تھا
“افف سیم کبھی جو تم میری کوئی بات مان لو”
“جلدی تیار ہو جاؤ لیت ہو رہی ہو” وہ حارث سے کھیلتا ہوا اونچی آواز میں بولا تھا
*********
ہادی نے آج تک اپنی بےرخی کی وجہ اسے نہیں بتائی تھی نا ہی فاطمہ نے کبھی جاننے کی کوشش کی تھی
ہادی کی محبّت نے اسے سب بھلانے پر مجبور کر دیا تھا
اس کی محبّت مرہم بن گئی تھی
ہر سوال کا جواب بن گئی تھی
البطہ رامش ابھی بھی اسے معاف نہیں کر پایا تھا لیکن وہ بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹا تھا اسے یقین تھا وہ ایک دن اسے منا لے گا
“فاطمہ جلدی کرو اور کتنی دیر لگاؤ گی” وہ کوئی تیسری دفعہ اندر آیا تھا
“بس دو منٹ” وہ ارحم کو تیار کرتی ہوئی بولی تھی
“یہ میں پچھلے پندرہ منٹ سے سن رہا ہوں” اب کہ وہ قدرے اونچا بولا تھا
“Baba don’t shout”
جواب میں تین سالہ ارحم اپنی ماما کے دفاع میں بولا تھا
“ایک تو بندہ اپنی بیوی سے بات بھی نہیں کر سکتا”
فاطمہ اس کی بات پر ہنس دی تھی
“کر سکتے ہیں لیکن صرف پیار سے”
“جی ہر جگہ تو آپ کے باڈی گارڈ بیٹھے ہوئے ہیں ادھر آپ کے بھائی محترم اِدھر یہ آپ کے شہزادے” وہ ارحم کو اٹھاتے ہوئے بولا تھا
وہ سب امل کی برتھڈے پر جانے کی تیاری کر رہے تھے…
اور امل میں تو دونوں کی جان تھی…
ہادی کا تو بس نہیں چلتا تھا اسے اپنے پاس ہی رکھ لے…
اس کی چھوٹی سی بیماری پر تڑپ اٹھتا تھا…
*********
کمرے میں چاروں طرف اندھیرا تھا…
اندھیرے میں محبت کے ستارے چہک رہے تھے…
ان کے چہروں کی چمک جیسے اردگرد نور پھیلائے ہوئے تھی…
محبّت قسمت سے ملتی ہے اور وہ سب قسمت والے تھے…
کمرہ ایک دم روشن ہوا تھا…
سب کی لاڈلی اپنا کیک کرنے لگی تھی
ساتھ ہی سب کی ہستی مسکراتی آوازیں بلند ہوئیں تھیں .
“Happy birthday Amal”
