653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13

چیزوں کو تو آہستہ آہستہ چھوڑا جا سکتا ہے لیکن تم کوئی چیز نہیں ہو” اس نے جیسے اسے یاد کروایا تھا
“تو آپ کیا چاہتے ہیں؟” اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
“تم اس سے شادی کر لو” بہت دیر بعد اس کا جواب آیا تھا
اور زین اس کی آنکھوں میں قرب دیکھ کر ہنس دیا تھا
“محبّت کرتے ہو اس سے؟”
اسکی بات پر رامش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا پھر آہستہ سا سر ہلا دیا تھا
“جن سے محبّت کرتے ہیں انھیں کسی اور کے حوالے نہیں کرتے”
“لیکن وہ تم سے محبّت کرتی ہے” سر پھر سے جھک گیا تھا
“مجھ سے محبّت نہیں کرتی اسے بس میری عادت ہو گئی ہے بچپن سے ہمارے صبح شام ایک ساتھ گزرے ہیں اور میں نے اسے بری طرح اپنا عادی بنا دیا ہے…اور اب جس انسان کو اس نے اپنا ہوش سمبھالتے ہی سے دوست پایا ہے اب ایک جھٹکے میں تھوڑی بھول جائے گی”
“زندگی سے اکتا گئی ہے وہ” پھر سے ایک اور دلیل
اور پھر سے ایک اور قہقہ
“وہ انٹر میں تھی جب اس کی بلی مر گئی تھی کئی دن تو وہ اپنے کمرے ہی سے نہ نکلی تھی پھر جب تک ہوسٹل نہیں چلی گئی بلی کی یادوں نے اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور تو اور اس کے بعد اس نے کبھی بلی ہی نہیں پالی…”
“ہر انسان کی اپنی عادتیں ہوتی ہیں اس کی بھی عادت ہے کہ کسی بھی صدمے سے نکلنے میں اسے وقت لگتا ہے پھر بالکل پہلے جیسی ہو جاتی ہے”
“تمہیں اسے اپنانے میں کیا پروبلم ہے؟ وہ جھنجھا گیا تھا
“آپ کے منہ سے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا…ایک دفعہ میں غلط کر چکا ہوں اس کے ساتھ ایک دفعہ اب آپ کرنے جا رہے ہیں”
اس کی بات پر وہ کئی ثانیے اسے دیکھا گیا تھا پھر بغیر کچھ کہے اٹھ کر چلا گیا
******
آیت رات گھر پہنچی تو بہت تھک چکی تھی اندر داخل ہوتے ہی جو آواز اس کے کان میں گونجی وہ اسے ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی
وہ صوفے پر بیٹھی اس کی امی کے قدموں میں بیٹھا سر ان کی گود میں رکھے رو رہا تھا معافی مانگ رہا تھا
اور آنسوں تو اس کی تائی اماں کی آنکھوں سے بھی گر رہے تھے
جو بھی تھا ہے تو ان کا ہی لاڈلا…اولاد غلطی کرے نافرمان ہو تو ماں اسے کبھی بھی دھدکارتی تھوڑا ہے
وہ بھی پگھل گئی تھیں اسے معاف بھی کر دیا تھا
“تمہیں جائیداد چائیے تھی تو ایک دفعہ آ کر اپنی تائی امی سے کہا ہوتا بھلا مجھے تم لوگوں سے وہ ذیادہ عزیز تھی؟”
“تائی امی مجھے معاف کر دیں ابو کا اتنا پریشر تھا میں نے انھیں کئی بار منع بھی کیا لیکن انہوں نے میری ایک نہیں سنی_پتھر کر دیا تھا انہوں نے مجھے” وہ ہچکیوں کے درمیان بول رہا تھا
آیت کا مزید کھڑا ہونا مشکل ہو گیا تھا وہ جانتی تھی اسے جیل سے نکالوانے والا کون تھا…
وہ خاموشی سے چلی ہوئی ان کے سامنے سے گزر کے سیڑیاں چڑھنے لگی تھی جب وہ اس کے پیچھے لپکا تھا
“آیت…”
آیت کو آج اس کے منہ سے اپنا نام سن کر پہلے جیسا اچھا نہیں لگا تھا
“ہاں بولو…” وہ بہت آرام سے بولی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو
“مجھے تم سے معافی مانگنی ہے میں نے جو…”
“ہاں مانگو…” وہ اسے درمیان میں ٹوک کر بولی تھی
وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا جہاں کوئی جذبہ ہی نہیں تھا
“پلز مجھے معاف کر دو” وہ اسے دیکھے ہوئے بولا
“کر دیا…” انداز ایسا تھا جیسے بس یہی یا کچھ اور
“تم سوچ نہیں سکتی مجھے کتنی شرمندگی ہے میں نے تمہارے ساتھ جو کیا آج وہ میرے ساتھ ہو رہا ہے میری بیوی مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے…
میں اس سے بہت محبّت کرتا ہوں آیت…بہت زیادہ
لیکن وہ کہتی ہے میرا وجود اس کے لئے ندامت کا باعث ہے
اسے کون بتائے کہ محبّت کرنے والے کبھی ایسا نہیں سوچتے
اس سے دور جانا مطلب…خود کو خود ہی دو حصوں میں تقسیم کرنا
اور یہ بہت تکلیف دہ ہے آیت_بہت زیادہ” آیت اسے سن رہی تھی…پہلی دفعہ…روتے ہوئے
“کیا کہا؟
تکلیف میں ہو؟
کہا تھا نا مکافات عمل ہو گا”
اسے آج روتے دھوتے زین سے صرف ہمدردی محسوس ہوئی تھی
وہ آگے بڑھ رہی تھی جب پیچھے سے اس کی آواز نے آیت کے قدم زنجیر کئے تھے
“تم اسے کبھی مت چھوڑنا وہ تم سے سچی محبّت کرتا ہے”
اور آیت کو سمجھنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگا تھا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے
اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا اور پھر وہ اپنے کمرے میں آ گئی تھی
“اس نے میری محبّت میں مجھے کسی اور کے حوالے کرنا بھی قبول کیا؟” اسکا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا
اس نے ہلکے ہلکے کامپتے ہوئے ہاتھوں سے اس کا نمبر ملایا تھا
کال جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ جیسے اس کا دل اسے انجان جذبوں سے واقف کروا رہا تھا
ایسا تو اس نے پہلے کبھی محسوس نا کیا تھا
کال ریسیو کر لی گئی تھی
“جی آیت؟” اس نے پہلی دفعہ جیسے اپنا نام اس کی آواز میں سنا تھا
“آیت…؟” وہ کچھ نہیں بولی تھی
بولتی بھی کیسے آنسوں گلہ میں اٹک گئے تھے
“آیت بولو کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے؟
خاموشی ہنوذ قائم تھی…
“آیت اب تم مجھے پریشان کر رہی ہو”
اسکا ضبط جواب دے گیا تو اس نے خود کو رونے دیا تھا
وہ روتی رہی اور وہ بےچینی سے سنتا گیا تھا
جب تک آیت نے کال کٹ نہیں کر دی
وہ خود کو ہی سمجھنے سے قاصر تھی…وہ جو سمجھتی رہی تھی کے زین کے بغیر ذندگی گزرنا مشکل ہے تو آج جب وہ سامنے تھا تو اسے اس کے لئے کیوں کچھ محسوس نہیں ہوا تھا…؟
“کیا محبّت ختم ہو گئی تھی؟” اس نے خود سے سوال کیا
“لیکن محبّت تو کبھی ختم نہیں ہوتی” اس کے دل نے اسے باور کروایا تھا
“تو پھر کیا زین بدل گیا تھا؟”
“لیکن وہ تو وہی تھا” اس نے فوراً خود کو خود ہی کہا
“تو پھر کیا میں بدل گئی ہوں؟” ایک اور سوال آیا تھا
“نہیں تو” اس نے فوراً نفی کی تھی
بےچینی تو اب بھی وہیں تھی_دل تو اب بھی ویران تھا
اس کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا…
“آج اسے زین کے منہ سے کسی اور کا اظہار محبّت بھی برا نہیں لگا تھا” اسے اچانک جیسے یاد آیا تھا
اس نے آج اس کے لئے کچھ محسوس نہیں کیا تھا
نہ محبّت نہ نفرت
“کیوں…؟”
اور اس کیوں کا جواب خود اس کے پاس بھی نہیں تھا
******
وہ جب سے واپس آیا تھا عجیب سی سرشاری اس پر حاوی تھی…
“وہ بلاشبہ پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی تھی اپنی تصویروں سے بھی زیادہ حسین”
وہ مسکرا رہا تھا بہت زیادہ مسکرا رہا تھا…
“تم میرا وہ حسین لمحہ ہو جاناں
جسے سوچ کر ہم ہمیشہ مُسکراتے ہیں”
ابھی تو عشق کا آغاز تھا_اسے انجام کی پرواہ نہیں تھی
وہ اس کا معجزہ تھی
اس کی دعاؤں کا حاصل تھی
وہ صرف اس کی تھی
یہ اسے یقین تھا…
کامل یقین..!
______
دو دن گزر گئے تھے…
اس نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا تھا اس نے اپنی محبّت سے دستبردار ہونا قبول کر لیا تھا
فاطمہ پچھلے دو دنوں سے رامش کے نمبر پر کالز اور میسجز کر رہی تھی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا وہ بےیقین تھی…اتنی کہ حد نہیں
بھلا یوں بھی کوئی کرتا ہے؟ کوئی خود ہی خود سے اپنے حصّے کی محبّت کیسے چھین سکتا ہے؟ ٹھیک ہے آیت نا سمجھ تھی لیکن وہ تو سمجھدار تھا…اسے آیت کو سمجھانا چائیے تھا اور وہ کیا کرنے جا رہا تھا؟ وہ تو شکر ہے کہ آیت کو عقل آ گئی ورنہ کیا ہوتا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی
آیت سے بھی اس رات کے بعد اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا
وہ سخت پریشان تھی
“یار تم بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو وہ اپنے کام میں بزی ہو گا” آیت لاپرواہی کی بھرپور ایکٹنگ کر رہی تھی
“تم تو چپ ہی رہو تم سے بڑی احسان فراموش میں نے آج تک نہیں دیکھی” وہ آیت پر ایک غصیلی نگاہ ڈال کر کمرے سے نکل گئی تھی
آیت اس کے لفظوں پر غور کرتی رہی تھی
“کیا احسان کیا اس نے مجھ پر؟ محبّت؟
محبّت کب سے احسان ہونے لگی؟” وہ بڑبڑائی تھی
فاطمہ گھر آ کر بھی بےچین رہی تھی
کبھی کبھی کسی سے ہمارا خونی رشتہ نہ ہوتے ہوئے بھی وہ انہی جیسے عزیز ہو جاتے ہیں فاطمہ کو لگا تھا کہ اگر اس کا کوئی بڑا بھائی ہوتا تو وہ اس کے لئے بھی یوں ہی فکرمند ہوتی جیسے اب ہو رہی تھی اسے بےاخطیار رونا آیا تھا
اچانک اس کے دماغ میں ہادی آیا تھا وہ اسے کال کر کے رامش کا پوچھ سکتی تھی
اس دن ریسٹورینٹ میں اس نے آیت کو اپنا نمبر دیا تھا اس نے جلدی سے آیت کو کال کر کے اس کا نمبر لیا تھا
ایک لمحے کے لئے اسے ہادی کا رویہ یاد آیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اسے جھٹک دیا تھا اس لمحے اس کے لئے صرف رامش اہم تھا اور کچھ نہیں_اپنی آنا بھی نہیں
دوسری بیل پر کال پک کر لی گئی تھی
“ہیلو…”
“اسلام عليكم”
اس نے فاطمہ کی آواز فون پر پہلی دفعہ سنی تھی لیکن وہ اسے پہچان گیا تھا
“واعلیکم اسلام” حیرت سے ملی جلی آواز میں جواب دیا تھا
“میں فاطمہ بول رہی ہوں” اس نے اپنا تعارف کروایا تھا
“کون فاطمہ؟” کیا بےنیازی تھی!
“آیت کی فرینڈ_آپ کا نمبر بھی اسی سے لیا ہے” اسے یہی سمجھ آیا تھا اور اس نے کہہ دیا تھا
“اوہ…کیسے کال کی؟” بدلحاضی کی انتہا تھی لیکن فاطمہ کو پرواہ نہیں تھی
“وہ… رامش کا پوچھنا تھا دو دنوں سے ڈھیروں کالز میسجز کئے ہیں لیکن وہ جواب نہیں دے رہے کہاں ہیں وہ؟ ٹھیک تو ہیں نا؟ ” وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی تھی دوسری طرف ہادی کا سانس روک کر…
وہ کچھ نہیں بولا تھا اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا کیا بولے
اس نے لمبا سانس لے کر خود کو نارمل کیا تھا
“آپ بول کیوں نہیں رہے وہ ٹھیک تو ہیں نا؟ وہ اسکی آواز کی لڑکھڑاہٹ کو محسوس کر رہا تھا
“ہاں اسے کیا ہونا ہے بالکل ٹھیک ہے اس وقت ڈیوٹی پر ہے آپ کا پیغام میں اسے دے دوں گا”
“ابھی بات نہیں ہو سکتی ان سے؟ بس تھوڑی سی کروں گی” بولتی ہوئی وہ منت پہ اتر آئی تھی
“جی نہیں…” اب کہ وہ اپنی آواز پر قابو نہیں پا سکا تھا اور سختی سے بول کر کال کٹ کر دی تھی
فاطمہ ہاتھ میں فون لئے کٹی ہوئی لائن کو دیکھ رہی تھی لیکن رامش ٹھیک تھا فلحال اس کے لئے یہی کافی تھا
“دو دنوں سے ہادی بھی تو اس سے پوچھ پوچھ کر تھک گیا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے لیکن وہ تو جیسے زبان پر تالے لگائے بیٹھا تھا اور اب؟ سنا بھی تو کس کی زبان سے…
وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ رامش فاطمہ کو پسند کرتا ہے…اس سے محبّت کیسے کر سکتا تھا؟ وہ اپنی ہی نظروں میں مجرم بن گیا تھا_کیا اس نے کوشش نہیں کی تھی اسے دل سے نکالنے کی؟ لیکن وہ تو پھر بھی پوری شان سے اس کے دل میں براجمان تھی جیسے وہ اس کی جاگیر ہو…
ہادی نے خود کو بےبسی کی انتہائی پر محسوس کیا تھا…
وہ اس کی جان سے پیارا دوست…اس کے لئے تو وہ دنیا جہاں کی محبّتیں قربان کر سکتا تھا لیکن چھین نہیں سکتا تھا
******
وہ کلاس سے نکل رہا تھا جب سعد اس کے پاس آیا
“نور سے ملے ہو تم؟” اس کے نام پر وہ چونکا تھا
“میں کیوں ملوں گا اس سے؟” اس نے ناگواری سے اسے دیکھا
“نہیں میرا مطلب اس دن تمہاری وجہ سے…” وہ گڑبڑایا تھا
“میری وجہ سے کیا مطلب؟ میں نے اسے نہیں کہا تھا کچھ بھی کرنے کو…” اسے اس کی بات پر غصہ آیا تھا
“اچھا چل چھوڑ کینٹین چلتے ہیں سب ادھر ہی انتظار کر رہے ہیں” اس نے دھیان ہٹایا تھا
وہ اس کے ساتھ چلتا ہوا کینٹین آیا تھا جہاں سامنے ہی اس کی نظر نور پر پڑی تھی وہ بےخیالی میں ہی اسے پچھلے دنوں ڈھونڈتا رہا تھا بےاخطیار اس کی نظر اس کے پاؤں پر گئی تھی جہاں اب کوئی بینڈیج نہیں تھا وہ سر جھٹکتا آگے بڑھا
ان کے پاس سے گزرتے ہوئے نور کی نظر بھی اس پر پڑی تھی جیسے اس نے بڑی نفرت سے پھیر لیا تھا
اور اس کی اس حرکت پر سیم کا دل چاہا کہ اس دفعہ خود کوئی چیز اٹھا کر اس کے سر میں مارے
لیکن وہ ضبط کرتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا
اس سے دو ٹیبل دور بیٹھے اس کا دھیان مسلسل نور کی جانب ہی تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس نخریلی لڑکی کے ساتھ کیا کرے
“سمجھتی کیا ہے خود کو؟” خود پر بند باندھنا مشکل ہو گیا تھا
آیت کھڑی ہوتے ہوئے انھیں بھی اٹھنے کا اشارہ کر رہی تھی اگلی کلاس کا وقت ہو رہا تھا
وہ کچھ سوچ کر آگے بڑھا تھا اور گزرتے ہوئے نور کے زمین پر لگتے ڈوپٹے پر سے پاؤں رکھتے ہوئے گزرا تھا جس لمحے وہ اٹھ رہی تھی…
ہاتھ میں پکڑا جوس کا گلاس اس کے کپڑوں پر سیم کا کام کر چکا تھا
وہ غصے اور بےیقینی سے اسے باہر نکلتا دیکھ رہی تھی
پھر ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس کے پیچھے لپکی تھی
“یہ کیا حرکت تھی؟” اس نے چلا کر پوچھا
“کون سی حرکت؟” اس نے کندھے اچکائے جیسے کچھ معلوم ہی نا ہو
جوابً اس نے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا
سیم اس وقت اتنا ہی کر سکتا تھا اور وہ کر چکا تھا اسے جیسے اس کی شکل دیکھ کر سکون ملا تھا
“اور گھماؤ آنکھیں” اس نے دل میں سوچا
“اوہ یہ کیسے گرا؟” وہ ایک تیز ترار مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“تم…” وہ آگے کچھ بولتی کہ سارہ اس کے پاس آئی تھی
“نور سب سٹوڈنٹس ادھر ہی دیکھ رہے ہیں پلز کوئی تماشا مت بناؤ”
“میں بنا رہی ہوں…؟ وہ صدمے سے پوچھ رہی تھی
“یہ بنا رہا ہے…پتا نہیں کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے آئندہ اپنی حد میں رہنا ورنہ…اچھا نہیں ہو گا” وہ اسے وارن کرتی ہوئی تیزی سے باہر نکلی تھی
اور وہ اس کی دھمکی سے محضوظ ہوا تھا پھر واپس اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گیا تھا
اور سعد اسے گھور کر رہ گیا تھا
******
صبح سے دوپہر اور اب شام ہو رہی تھی لیکن رامش نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا
کچھ سوچ کر اس نے میسج ٹائپ کیا تھا اور اسے بھیج دیا تھا
“ٹھیک ہے آپ کو بات نہیں کرنی تو اب میں بھی آپ سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کروں گی…بھائی سمجھا میں نے آپ کو اور اپنے بھائی کے لئے اتنا تو کر ہی سکتی ہوں”
اگلے ہی لمحے رامش کا نام سکرین پر جگمگا رہا تھا
اس نے جلدی سے کال پک کی تھی
“ہیلو…” بولتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی
“میں بس کال کرنے ہی والا تھا کب سے فون ہاتھ میں لئے بیٹھا ہوا تھا بس ہمّت ہی نہیں ہو رہی تھی” وہ جیسے کسی بھی خبر کو سننے سے خوفزدہ تھا
پچھلے دو دنوں سے اس کا ہر لمحہ کانٹوں پر گزر رہا تھا اس نے زین کو اس کے پاس تو بھیج دیا تھا لیکن دل تھا کہ پھٹنے کو تھا وہ چاہتا تھا کہ کہیں غائب ہو جائے جہاں اسے آیت کی خوائش کی تکمیل کی خبر نا ملے…
“دو دنوں سے کالز کر رہی ہوں” وہ اپنی آواز ہموار کرتی ہوئی بولی
“سوری تھوڑا مصروف تھا” سپیکر پر دھیمی آواز گونجی تھی
“اچھا مجھے تو لگا تھا آپ آیت کی خوشی کے لئے سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں…اپنا آپ بھی” وہ بھرپور طنز کرتی ہوئی بولی
“کیا مطلب؟”
“مطلب آیت کی اینگجمنٹ تھی نا سب نے بہت مس کیا آپ کو آپ نے اتنا بڑا احسان جو کیا تھا” ایک بار پھر وہ خود کو طنز سے نہیں روک پائی تھی
اور رامش کو لگا تھا کسی نے بےدردی سے اسکی روح کو جسم سے کھنچا تھا
وہ کچھ بول نہیں پایا تھا
“اتنا حوصلہ کہاں سے آیا آپ میں؟” فاطمہ سسکی تھی
رامش کو اس کا رونا اچھا نہیں لگا تھا
“تم رو کیوں رہی ہو؟ رونا نہیں پلز…
کچھ محبّتوں کو ہم چاہ کر بھی اپنا مقدر نہیں بنا سکتے اور یہ سب اللہ‎ کے فیصلے ہوتے ہیں مجھے اس سے کوئی شکوہ نہیں آیت کو اس کی خوشی مل گئی میرے لئے یہی بہت ہے”
“ششش…چپ کر جائیں پلز ایسا کچھ نہیں ہوا وہ آیت خوشی نہیں تھا_وہ آیا تھا اس کے پاس لیکن آیت نے خالی ہاتھ بھیج دیا ہے اسے_آیت کو اس محبّت نہیں ہے”
“لیکن…” وہ کچھ بول نہیں پایا تھا
“لیکن کچھ نہیں_رامش وہ آپ کے لئے ہی اتاری گئی ہے اسے کوئی اور کیسے لے سکتا ہے”
“اور آپ یہ کیا کرنے والے تھے؟ کوئی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی جان بھی لیتا ہے؟
وہ خاموش تھا
“خود کی جان لینا حرام ہوتا ہے…” وہ اسے خاموش پا کر بولی تھی
“لیکن خدا نے آپ کو ایسا کرنے نہیں دیا اس نے بچا لیا آپ کو اس گناہ سے” وہ بولتی رہی تھی رامش سنتا گیا تھا
پھر_بلآخر_وہ بولا تھا_اور بولتا ہی چلا گیا تھا_وہ آج اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ رہا تھا_وہ اس کی پہلی ہمراز بن گئی تھی_خدا کے بعد!
******
“ﺟﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﺲ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﻮ
ہم ہیں اپنی ہار پہ رقصاں”
عشاہ کی نماز پڑھ کر وہ کتنی ہی دیر اپنے دعا کے لئے پھیلائے ہاتھوں کو دیکھتی رہی تھی
“کچھ معجزے دل کے بھی ہوتے ہیں…خدا انھیں چھپکے سے ہمارے دل میں اترتا ہے اور ہمیں خبر تک نہیں ہوتی اور جب ہوتی ہے تو دل میں ایک سکون سا بھر جاتا ہے…
آج اسے دعا کرتے ہوئے کسی شرمندگی کا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا اسے آج کسی بےوفا کو باوفا ہو جانے کی دعا کرنی نہیں پڑی تھی…
آج اسے اپنے خدا سے نظریں نہیں چرانی پڑیں تھیں…
آج وہ مسکرا رہی تھی
اپنی دعا میں
اپنے خدا کے سامنے…
کتنے ہی عرصے بعد_دل سے!
آج شکر کے سوا لب پر اور کوئی دعا ہی نا تھی
آج اس کے دل سے ہر بوجھ اٹھا دیا گیا تھا اس پر جمی مایوسی کی گرد دھو دی گئی تھی آج ہر نامیدی کی دیوار گرا دی گئی تھی اور وہ صرف مسرور تھی…
اور ہمیشہ ایسا ہی رہنا چاہتی تھی…
اس نے آہستہ سے لب ہلانے شروع کئے تھے…
پھر وہ خدا سے ایک ایک چیز یاد کر کے شکر ادا کرنے لگی تھی اور اس دفعہ ہر شکریہ ایک ہی مسیحا سے شروع ہو رہا تھا اور ختم بھی…خدا نے اسے اپنا وسیلہ بنایا تھا
ایک نام جسے اس نے نام زیادہ اہمیت نہیں دی تھی
آج…
اس کے سامنے اپنے کردار کی بلندی سمیت موجود تھا!
اور آج وہ اس سے منہ نہیں پھیر سکی تھی
“کیا تمہیں کبھی رامش کی نظروں میں اپنے لئے محبّت نظر نہیں آئی؟” فاطمہ کے الفاظ اسے یاد آئے تھے
محبّت ہوتی تو نظر آتی نا وہ تو عقیدت تھی…اور عقیدت کے بھید تو ان کے دلوں پر کھلتے ہیں جو پر امید ہوں جن میں روشنی کا بسرا ہو ان پر نہیں جن میں ناامیدی کا اندھیرا ہو
اور آیت کا دل تو اس کی مرضی کے بغیر اس ایک انسان کی تسبیح کے رہا تھا_صرف زد میں!
اس نے دل پر جو چوٹ کھائی تھی جو دڑاڑیں اس کے دل پر نقش ہوئیں ان میں سے روشنی نے اپنی جگہ بنا لی تھی اندھیرا چھٹ چکا تھا اور اس کا دل ایک دفعہ پھر خدا نے اپنی رحمت سے بھر دیا تھا
اسے سکون مل چکا تھا…
“اور بے شک خدا جیسے چاہتا ہے نواز دیتا ہے”
******
وہ سڑک پر روانگی سے چلتا اب کافی دور نکل آیا تھا
اپنے سر پر ہڈ گرائے وقفے وقفے سے کش لگاتا اپنے اندر کی آوازوں سے بھاگتے ہوئے اسے ناجانے کتنے گھنٹے گزر گئے تھے
“میں جانتا ہوں تم میری کبھی نہیں ہو سکتی” وہ اسے مخاطب کر کے خود کو باور کروا رہا تھا
“لیکن اگر ایسا ہو گیا نا تو میں…” وہ فقرہ ادھورا چھوڑ کر تلخی سے ہنسا تھا
پھر ایک گہرا کش لگا کر اس نے بےدردی سے اپنی ہسی کو دھوئیں میں چھپا لیا تھا
“ایسا ہے کیا تم میں جو میں…؟”
“ہزاروں مل جائیں گی تم جیسی” اس نے جیسے خود ہی کو تسلی دی
لیکن اسی لمحے دل نے کسی ضدی بچے کی طرح احتجاج کیا تھا
اسے تو First sight love پر کبھی یقین ہی نہیں تھا
اور اب…
اتنی شدید قوت سے وہ اس کا اسیر ہو جائے گا کبھی سوچا بھی نا تھا
اس نے ہاتھ میں پکڑے سگرٹ کو اپنے جوتے کے نیچے مسلا تھا جیسے وہ سگرٹ نہیں محبّت ہو اس کی_جس سے وہ پیچھا چھڑانا چاہتا ہو
لیکن وہ مڑا چڑا زمین پر بےدردی سے پڑا…اسے بالکل اپنے دل جیسا لگا تھا
دل کی حالت بھی تو اس سے زیادہ مختلف نا تھی…
پھر اس رات وہ بہت دیر سے واپس آیا تھا آہستہ سا دروازہ بند کرتے وہ بیڈ کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ کر جوتے اترنے لگا تھا
رامش کمرے کی لائٹ جلائے بظاہر سویا ہوا لگ رہا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ رامش کو روشنی میں نیند نہیں آتی
“چل اب اٹھ جا” ہادی کھڑا ہوتا ہوا بولا
رامش نے آنکھیں کھولی تھیں اور اسے واشروم میں جاتا دیکھ رہا تھا
“تم آج آوارہ گردی کے سارے ریکارڈ توڑ کر آ رہے ہو” اس کے باہر نکلتے ہی وہ بولا تھا
اس کی بات سن کر ہادی بےاخطیار مسکرا دیا تھا
“تو اب میری جاسوسی بھی ہونے لگی ہے؟”
“کیوں یہ کام صرف تم ہی کر سکتے ہو؟
“نہیں…میں نے ایسا کب کہا”
“پھر وجہ پوچھ سکتا ہوں اس cat walk کی؟” رامش اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
جس پر ہادی کا قہقہ بےساختہ تھا
“یار پتا نہیں بس دل کر رہا تھا” جواب کچھ دیر بعد آیا تھا
“اور تمہارا دل کبھی بھی کچھ بلاوجہ نہیں کرتا” وہ آبرو اچکا کر پوچھ رہا تھا
“ہاں… زد کر رہا ہے” وہ بےچارگی سے بولا
“کس چیز کی زد؟” وہ ہادی کے منہ کے اتار چڑھاؤ بغور دیکھ رہا تھا جو کہیں سے بھی اسے نارمل نہیں لگے تھے
“ہے کچھ…” وہ رازدانہ انداز میں بول کر مسکرایا تھا
“بتا دو جو بھی ہے تم جانتے ہو تمہاری کوئی زد ہو اور میں پوری نا کر سکوں ایسا کبھی ہوا نہیں”
“تو اب ہو جائے گا…” وہ عجیب سے انداز میں بولا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *