Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15
اسے آج سے پہلے کسی کا ہسنا اتنا اچھا نہیں لگا تھا” فاطمہ نے دل میں اعتراف کیا
“تھوڈا بہت ایکسپیرینس تو ہے ہی…کالج یونیورسٹی میں بہت دیئے ہیں گفٹس بھی”
فاطمہ نے ہنس کر اثبات میں سر ہلایا تھا جیسے اس کے کارنامے سے امپریس ہوئی ہو
وہ اسے لے کر ایک جیولری شاپ میں آیا تھا
وہاں سب کچھ اتنا شاندار تھا کہ فاطمہ جس چیز کو بھی دیکھتی وہ اسے پہلی والی سے زیادہ دلکش لگتی
بالآخر دونوں نے ایک بہت پیاری سی بریسلیٹ پسند کی تھی فاطمہ نے اپنے لیئے بھی ایک بالکل ویسی ہی لے لی تھی
کاؤنٹر سے سامان لیتے ہوئے بل ہادی نے پے کیا تھا اس کے لاکھ روکنے اور لڑنے کے بعد بھی
وہ شاپ سے باہر نکلنے لگی تھی جب اس کی نظر بہت ہی خوبصورت پازیب پر گئی تھی
وہ رُک کر اسے دیکھنے لگی تھی
“پسند ہے تو پیک کرواؤں؟” اس کے عقب میں ہادی کی آواز گونجی تھی
“نہیں میں نے کبھی پہنی نہیں” اس نے ہنس کر کہا تھا پھر باہر نکل آئی
وہ اس کے پیچھے باہر آیا تھا وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی
اور جس سے کررہی تھی اس کا نام سنتے ہی اس کے ہاتھ سے کچھ گرا تھا
وہ اپنے عقب میں اس آواز پر پلٹی تھی اور پھر ہادی کو سیڑھیاں اترتے دیکھتی رہی تھی
“تمہاری آنکھ سے ٹپکے تو معتبر ٹھہرے
ہماری آنکھ سے بہتا رہا فقط پانی”
*********
وہ خوشی سے بھاگتی سیڑیاں چڑھ رہی تھی جب سامنے سے کسی کے ساتھ بری طرح ٹکرائی تھی اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی ٹکرانے والے نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا…کتنے ہی لوگوں نے اسے حسرت امیز نظروں سے دیکھا تھا اور کتنوں ہی نے نفرت سے…
ہاتھ میں پکڑے سارے فارم اردگرد بکھر گئے تھے وہ اس اچانک حملے پر بوکھلا کر رہ گئی تھی
“چلو اب اٹھ بھی جاؤ کہ یہیں لٹکے رہنے کا ارادہ ہے؟” وہ تنز اچھالتا ہوا مسکرا رہا تھا
اور سیم کو دیکھتے ہی اس کے دل میں شدید خواہش جاگی تھی کہ کاش وہ گر ہی گئی ہوتی
وہ آنکھیں میچتی ہوئی اوپر اٹھی تھی اور پھر اپنی ندامت چھپاتے ہوۓ اس پر ہی چلائی تھی
“اندھے ہو کیا؟ مجھے تو لگا تھا اتنے دنوں سے تمہاری شکل نہیں دیکھی تو شاید پیچھا چھوٹ گیا ہو گا لیکن تم تو انتہا کے ڈھیٹ ہو”
وہ اس قدر احسان فراموشی پر عش عش کر اٹھا تھا
“اور اپنے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ جو ہر دفعہ میرے راستے میں آ جاتی ہو؟”
“میں آ جاتی ہوں؟ میرا بس چلے نا تو میں تم تک آتے ہر راستے کو آگ لگا دوں” وہ جھک کر فارم اکٹھے کرتی ہوئی بولی
“کتنا اچھا ہوتا اگر میں نے تمہیں ان پیپرز کے ساتھ ہی گر جانے دیا ہوتا” اُسے جیسے افسوس ہو رہا تھا
“یقین کرو مجھے بے حد خوشی ہوتی” وہ اٹھتی ہوئی بولی اور آگے بڑھ گئی
اسکا سارا موڈ خراب ہو گیا تھا کتنی پرجوش تھی وہ اُن تینوں کو گڈ نیوز دینے کے لیئے اور اب اس کی شکل دیکھتے ہی ساری خوشی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی
سارہ،فاریہ اور آیت لائیبریری میں بیٹھی نور کا انتظار کر رہی تھیں جو پتا نہیں انھیں ادھر بُلا کر خود کدھر رہ گئی تھی…
نور نے ان کے قریب آ کر فارم ٹیبل پر پھینکے تھے
“یہ کیا ہے؟ اور ہم کتنی دیر سے انتظار کر رہے ہیں کدھر تھی تم؟” آیت نے اس کی بےزار سی شکل دیکھتے ہوۓ پوچھا
“کچھ نہیں بس یہ لینے میں دیر ہو گئی” اب وہ اُن کو کیا بتاتی
“کیا ہے یہ؟”
“Trip کے فارم ہیں”
“کیا؟ ہمارا Trip جا رہا ہے؟ سارہ ایکسائیٹڈ ہوئی تھی
“کہاں جا رہا ہے؟” اب کہ فاریہ نے پوچھا تھا
“مری جا رہا ہے دو دن کے لئے اگلے ہفتے” آیت نے فارم پر سے پڑھ کر بتایا
“واؤ…چلو پھر ویک اینڈ پر شاپنگ کے لئے چلیں گے”
“میں اور نور تم دونوں کو پک کر لیں گے”
وہ لوگ اپنی پلینگ جاری رکھتیں کہ ایک لڑکی ان کے ٹیبل پر آ کر جھکی تھی اور نور کو وارن کرتی ہوئی بولی
“آئندہ سیم سے دور رہنا ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہو گا”
اور نور اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچھ سمجھ نا آیا ہو
“کیا مطلب؟”
وہ لڑکی اس کی بات پر ہنسی تھی
“مطلب بھی اب میں ہی سمجھاؤں؟”
“یہ تم کیا کہی جا رہی ہو؟” آیت بولی تھی
“اس سے ہی پوچھو ابھی سیڑیوں پر کون سا سین کریٹ کر کے آئی ہے ساری یونیورسٹی میں ایک وہی ملا ہے تمہیں؟”
“گیٹ لاسٹ” نور سے اب اور ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا
“جا رہی ہوں لیکن آئندہ اگر سیم کے…”
“سیم…” وہ اسے لائیبریری کے دروازے سے آتا دکھائی دیا تھا اور وہ اس کی بات کاٹ کر اس کی طرف بڑھی تھی
“بات کرنی ہے تم سے”
“مجھ سے؟” اُسے جیسے یقین نہیں آیا تھا
نور نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“جی جی کریں”
“ادھر نہیں” اس نے اسکے دوستوں کو دیکھتے ہوئے کہا
اس نے انہیں جانے کا اشارہ کیا تھا
“اب تم نے کس لڑکی کو میرے پاس بھیجا ہے؟” وہ اس پہ چلائی نہیں تھی نہایت دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی
“میں نے تو کسی کو نہیں بھیجا” وہ حیران ہوا تھا
“اس نے مجھ سے کہا کہ آئندہ سیم سے دور رہنا ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہو گا اور یہ کہ ساری یونیورسٹی میں ایک وہی ملا ہے تمہیں”
“پتا نہیں ایک ساری یونیورسٹی تمہیں ہی آ کر تنگ کیوں کرتی ہے اور اب اس میں رونے والی کون سی بات ہے بتاؤ مجھے کون ہے وہ؟” سیم اس کی آنکھوں میں آتی نمی کو دیکھتا ہوا بولا
“تمہارے لئے چھوٹی سی بات ہے کوئی بھی آ کر فضول الزام لگاتا رہے؟”
“اچھا اب بتاؤ گی کون ہے وہ؟”
اس نے اس ٹیبل کی طرف اشارہ کیا تھا
اور ادھر سے اب وہ جا چکی تھی
***********
شام آہستہ آہستہ پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی موسم آج قدرے صاف تھا آیت اور فاطمہ دونوں لان میں بیٹھی گپ شپ میں مصروف تھیں جب فاطمہ کو موبائل پر پیغام موصول ہوا تھا
“Only 15 mins”
“آیت چلو نا باہر چلتے ہیں…” وہ آچانک اٹھی تھی
“باہر کہاں؟” وہ اس کے ان اچانک باہر جانے والے پراگرامز سے تنگ آ گئی تھی
لیکن اسے کہاں پتا تھا کہ یہ اچانک نہیں بلکہ پورا پلینڈ پروگرام تھا
“چلو نا سرپرائز ہے” وہ اسے کھینچتی ہوئی بولی
“اچھا رکو امی کو تو بتانے دو”
“راستے میں کال کر کے بتا دیں گے”
“اتنی بھی کیا جلدی ہے…”
“ہے نا بس چلو تم”
“افف چلو” وہ کب فاطمہ سے جیت سکتی تھی
گاڑی کسی انجانے راستے پر جا رہی تھی
“ہم پہلے تو یہاں کبھی نہیں آۓ؟” آیت نے حیرانی سے پوچھا تھا
“ہاں نا جب میں نے اس جگہ کو دیکھا تھا تو میں بھی حیران رہ گئی تھی”
اور پھر وہ پورے راستے پوچھتی ہی رہ گئی تھی کہ کون سی جگہ لیکن وہ تو جیسے منہ سی کر ہی بیٹھ گئی تھی بلآخر گاڑی ایک نہایت خوبصورت علاقے میں داخل ہوئی تھی آیت کو تو یقین نہیں آیا تھا کہ اتنے سال کوہاٹ میں رہنے کے بعد بھی اس نے کبھی اس جگہ کو نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ ان کے گھر سے زیادہ دور بھی نہیں تھی
وہاں آس پاس بہت سارے huts تھے…نہایت خوبصورت
ان huts کے درمیان بہت چھوٹی سی سڑک تھی اور سڑک کی باؤنڑری پر بہت سارے سفید پھول
“تم یہاں کب آئی” آیت نے اس سے پوچھا تھا
“کل شام” اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
آیت اس سے کچھ اور پوچھتی کہ فاطمہ نے گاڈی ایک hut کے آگے روکی تھی
“اترو…”
“یہاں کون رہتا ہے؟”
“اترو تو…پتا چل جائے گا”
آیت عجیب سی کیفیت میں گھری ہوئی تھی
وہ نیچے اتری تھی جب فاطہ نے دروازہ ناک کیئے بغیر کھولا تھا اور اسے اندر جانے کا اشارہ کر رہی تھی
“تم پاگل ہو پوچھے بغیر اندر گھس رہی ہو” آیت اسے گھور رہی تھی
“کوئی نہیں ہے اندر…چلووو” اس نے آیت کو اندر دھکیلا تھا
آیت کا پاؤں اندر لگتے ہی چھت پر لگا بڑا سا غبارہ پھٹا تھا اور اس میں سے گرتی غلاب کی پتیوں نے نہایت شان سے اس کا استقبال کیا تھا…
پھر آہستہ آہستہ قطار میں لگے باقی غبارے بھی پھٹنے لگے تھے کچھ ہی دیر میں سارا hut غلاب کی پتیوں سے بھر گیا تھا
اس نے دیواروں پر لگی اپنی بہت ساری تصویروں کو دیکھا تھا اور پھر حیرانی سے فاطمہ کو جو کھڑی مسکرا رہی تھی
اس کے بالکل سامنے ایک گول ٹیبل پڑی تھی جس پر بہت پیارا چھوٹا سا کیک رکھا گیا تھا اور اس کے اوپر چھوٹی سی پیاری سی کینڈل…
وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی جب اس نے اپنے پیچھے اس کی آواز سنی تھی
“زیادہ لیٹ تو نہیں ہوا؟” وہ فاطمہ کے کان میں کہہ رہا تھا
“نہیں بس دو منٹ” اس نے ہنس کے جواب دیا
“Happy birthday dear”
وہ آیت کے قریب آیا تھا
آیت نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا
“میرا برتھڈے کل ہے”
“تو کیا ہوا ہم ایک دن پہلے تمہارے آنے کی خوشی منا رہے ہیں…کیوں فاطہ؟”
فاطمہ نے ہستے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا
“ایکچولی رامش آج آؤٹ آف سٹی جا رہا ہے تو کل وہ تمہیں لائیو وش نہیں کر سکتا تھا اس لیئے آج ہی…”
آیت نے اس کی طرف دیکھا تھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
“اب کاٹ بھی لو کیک کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہے”
“کیوں اپنا الزام کیک پر لگا رہے ہیں…” فاطمہ نے اسے چھیڑا تھا
جوابً اس نے آیت کو دیکھا تھا جونظریں چُرا گئی تھی
رامش نے آگے بڑھ کر کینڈل جلائی تھی
“اب تو ناراض نہیں ہو؟”
آیت نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا
“چلو پھر جلدی سے کیک کٹ کرو مجھے تھوڑی دیر میں نکلنا ہے”
آیت نے بہت ساری وشیز میں کیک کٹ کیا تھا اور ایک پیس فاطمہ کے منہ میں ڈالا
باقی کا پیس اس نے رامش کے آگے کیا تھا لیکن پھر فوراً ہی پیچھے کر کے اپنے منہ میں ڈال لیا
رامش اس کی اس حرکت پر ہنس دیا تھا
“تھینک یو”
اور پھر خود ہی آگے بڑھ کر اس نے چھوٹا سا پیس اٹھا لیا تھا
آیت خوش تھی
اور رامش اسے خوش دیکھ کر خوش تھا
اسکی فیورٹ نیلی آنکھیں چمک رہی تھیں اور رامش نے ان کی دائمی چمک کی دعا کی تھی
وہ جھیت گیا تھا…اپنی محبت کو
وہ آج خوش بھی تھی اور اس کے ساتھ بھی…
اور یہ جھیت تو قسمت والوں کو ملتی ہے
اچانک اس کا فون بجنے لگا تھا
وہ جانتا تھا اب اسے نکلنا ہے
وہ انہیں سی اوف کر کے باہر نکلا جب فاطمہ کی آواز پر پلٹا تھا
“بھئی ہمارا گفٹ…؟”
وہ ہنسا تھا
پھر اپنی جیب سے چابی نکال کر آیت کی طرف اچھالی تھی
“یہ hut کی چابی ہے”
اور پھر دور ہوتا اپنی گاڑی کی طرف مڑ گیا تھا
********
چل پیر سائیں کوئی آیّت پُھونک
کوئی ایسا اِسمِ اعظم پڑھ
وہ آنکھیں میری ہو جائیں
کوئی صوم صلوٰۃ دُرُود بتا
کہ وجّد وُجُود میں آ جائے
کوئی تسبیح ہو کوئی چِلا ہو
کوئی وِرد بتا
وہ آن ملے
کچھ تھا جو اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا…دیمک کی طرح
اسے لگا تھا اگر وہ اسے نا ملی تو وہ ختم ہو جائے گا بالکل خالی ہو جائے گا_زندگی سے…
لیکن اس کے اخطیار میں کچھ بھی نہیں تھا فاطمہ اگر اس کی محبت تھی تو رامش میں اس کی جان تھی وہ محبّت کے لئے اپنی جان نہیں دے سکتا تھا وہ یہ بھی جانتا تھا رامش اس کی ایک پکار پر اپنی محبت اس کے حوالے کر دے گا لیکن وہ خودغرض نہیں تھا_محبت کرنے والے خودغرض نہیں ہوتے
“اور پھر وہ بھی تو اُسے ہی چاہتی ہے…”
بس یہیں آ کر وہ ٹوٹ جاتا تھا بس یہی تکلیف اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی
اس کا دل چاہتا تھا وہ پوری دنیا کو تہس نہس کر دے اور پھر اُس کے دل کو بھی…
مانا کہ محبت کرنے والے خودغرض نہیں ہوتے لیکن محبت تو ہوتی ہے نا خودغرض وہ اسے پا نہیں سکتا تھا اور خود کو ختم نہیں کر سکتا تھا
کیسی بےبسی تھی…!
وہ چیخنا چاہتا تھا اتنا کہ ہر غم نکل کر باہر آ جائے
“کاش میں تم سے کبھی نا ملا ہوتا” وہ ہار گیا تھا خود سے
رامش کمرے میں داخل ہوا تو پورا کمرہ دھوئیں سے بھرا ہوا تھا اور وہ سامنے کرسی پر بیٹھا اپنا سر گرائے دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں مسل رہا تھا اُسے اس طرح دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ بھاگ کر اس تک آیا تھا
“ہادی…” وہ اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا تھا
اس نے سر اوپر اُٹھایا تھا
“تم؟ تم کب آئے؟ تم تو کل آنے والے تھے؟” وہ بری طرح ڈر گیا تھا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو
“ہاں بس کام ختم ہو گیا تو شام کو ہی نکل آیا”
وہ جواب میں کچھ نہیں بولا تھا بس سر جھکا گیا تھا
رامش کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا وہ تو اس کا ہستا کھیلتا شرارتی سا ہادی نہیں تھا
“ہادی کیا ہوا ہے؟” وہ التجا تھی
“وہ میری نہیں ہو سکتی”
رامش سمجھ نہیں سکا تھا
“کون…؟”
“وہ ملی تھی مجھے…” رامش کو یاد آیا تھا وہ کس کی بات کر رہا ہے
“پھر کدھر گئی؟ تمہاری بات ہوئی اس سے؟”
چلی گئی ہے وہ اب کبھی نہیں آئے گی…”
وہ اسے اس وقت کوئی بہت معصوم بچہ لگا تھا جو اپنی پسندیدہ چیز کھو بیٹھا ہو
“وہ مل جائے گی تم پریشان مت ہو” وہ اسے بہلا رہا تھا
“وہ نہیں ملے گی کبھی نہیں” اس نے نفی میں سر ہلا کر اسے بتایا تھا
“میں ڈھونڈ لاؤں گا اُسے…کہیں سے بھی” وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیئے اسے یقین دلا رہا تھا
ہادی اسے دیکھتا رہا تھا پھر اس کے کندھے سے لگ کر سسک اٹھا تھا
“تم کبھی مجھ سے دور مت جانا…”
*********
انہیں کل مری کے لیئے نکلنا تھا نور جانے سے پہلے وہ سکیچ دیکھنا چاہتی تھی لیکن میسم ہر دفعہ نامکمل کا بہانا کر کے ٹال دیتا تھا
“اب تک تو وہ آفس چلا گیا ہو گا” اسے خیال آیا تھا
وہ دیکھنے کے ارادے سے اٹھی تھی
اس کا کمرہ خلاف توقع کافی صاف تھا جس کا مطلب تھا یہاں کی صفائی کی گئی ہے اور وہ اپنی ہر چیز سمیٹ چکا ہے
یقینً وہ لیٹ ہو چکی تھی
وہ الماری کی طرف بڑھی تھی جو لاکڈ تھی اسے حیرت ہوئی تھی وہ تو کبھی اسے لاک نہیں کرتا
اس کے علاوہ وہ ہر اس جگہ کو دیکھ چکی تھی جہاں وہ اپنی پینٹنگز رکھا کرتا تھا لیکن اب وہ بھی صاف تھیں
“میسم کے بچے تمہیں تو میں چھوڈوں گی نہیں…”
وہ ناامیدی سے آ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی
“کیا ہوا…؟ نہیں ملی؟ میسم جو کب سے اس کی کاروائی نوٹ کر رہا تھا آگے بڑھا
وہ اس کی آواز پر اچھل ہی تو گئی تھی
“اب تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
وہ اس کی بات پر ہنسا تھا
“یہ یقینً مجھے تم سے پوچھنا چائیے”
“ہاں تو جب تم سیدھی طرح بات نہیں مانو گے تو مجھے خود ہی کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا نا” وہ خفگی سے بول رہی تھی
“تمہیں پتا تو ہے آج کل کام کا برڈن زیادہ ہے ٹائم ہی نہیں ملتا کمپلیٹ کرنے کا” وہ کف موڑتا ہوا بولا
“ہاں وہ تو نظر آ ہی رہا ہے” وہ اسے دیکھتی ہوئی طنز کر رہی تھی
“میں بس نکل ہی رہا تھا یار… آج میٹنگ تھوڈا لیٹ رکھوائی ہے ابو نے لیکن تم فکر نہیں کرو تمہارے واپس آنے تک میں کمپلیٹ کر لوں گا”
“ٹھیک ہے لیکن اگر کمپلیٹ نہیں کی تو تم مجھے ویسے ہی بتاؤ گے کہ کون ہے وہ؟”
“اوکے لٹل سسٹر” وہ اس کے گال کھینچتا ہوا بولا
*********
“دس پندرہ منٹ تک ہم یہاں سے چل پڑیں گے” سر کی آواز پر سب متوجہ ہوئے تھے
وہ تینوں وہاں پہنچ چکی تھیں لیکن سارہ ابھی تک نہیں آئی تھی نا ہی کوئی کال پک کر رہی تھی
“یار راستے میں ہو گی اس نے آج گھر سے آنا تھا اسی لئے لیٹ ہوگئی ہو گی” آیت انہیں تسلی دے رہی تھی
تب ہی نور کے نمبر پر اس کی کال آئی تھی
“آ گئی ہو گی تم لوگ جاؤ گاڑی میں…میں اسے لے کر آتی ہوں” وہ کہتی ہوئی گیٹ کی طرف بڑھی تھی
آیت اور فاریہ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھیں جب تھوڈی دیر بعد وہ اکیلی ہی واپس آئی تھی
“کیا ہوا سارہ کدھر ہے؟”
“یار وہ لیٹ ہو گئی ہے ہمیں راستے میں جوائن کرے گی” وہ ان دونوں سے پچھلی سیٹ پر بیٹھتی ہوئی بولی
“لو جی یہ کیا بات ہوئی لیٹ کیسے ہو گئی؟” فاریہ کو اس پہ غصہ آیا تھا
“ابھی آنکھ کھلی ہے میڈم کی…”
“اففف ایک تو ہر جگہ اس نے لیٹ ہی آنا ہوتا ہے”
“اقبال لیٹ ہی آتا ہے…” نور ہنس کر سیٹ سے ٹیک لگاتی ہوئی بولی
اس کے ساتھ ایک کلاس فیلو بیٹھی ہوئی تھی جو اب اٹھ کر سامنے جا کر بیٹھ رہی تھی اور اس جگہ سے سیم کو اٹھتا دیکھ کر اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا
“یہ مصیبت بھی ساتھ ہے”
“کون؟” آیت نے پوچھا تھا اور سیم کو دیکھ کر وہ اسے وارن کرنے لگی تھی
“دیکھو اب کوئی پنگا مت لینا اس کے ساتھ”
“میں کیوں…” وہ کچھ بولتی جب وہ آ کر اس کے ساتھ بیٹھا تھا
اور وہ ایک دم چیخی تھی
“اٹھو یہاں سے فوراً…”
“اف آہستہ لڑکی کان کے پردے پھاڑو گی”
“میں تمہیں پورا کا پورا پھاڑ دوں گی اگر تم ایک منٹ میں یہاں سے نا اٹھے” اس کا دل کیا تھا اٹھا کر اسے باہر مارے
“دیکھیں میں ان کی جگہ پر آیا ہوں آپ ان سے بات کریں” وہ صرف سعد کے کہنے پر اپنی گاڑی سے ادھر آیا تھا اور اب دل میں اسے گالیوں سے نواز رہا تھا کہ کس مصیبت میں پھنسا گیا ہے
وہ جوابً اسے دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا
“تم ایسا کرو یہیں بیٹھو میں ہی چلی جاتی ہوں” وہ غصے سے اٹھی تھی
لیکن سامنے دروازے سے کسی کو آتے دیکھ کر دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھی تھی
“ہاں اب کیا ہوا ہے؟” وہ حیرانگی سے پوچھ رہا تھا
“وہ سامنے دیکھو” اس نے سامنے اشارہ کیا تھا
“یہ لڑکی؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا
“کیا ہے اسے؟”
“یہ وہی لڑکی ہے جو اس دن میرے پاس آئی تھی”
سیم اس کی بات پر ہنسا تھا
“تو اب تم اس کو دکھانے کے لیئے یہاں بیٹھی ہو؟”
“جی بالکل”
“پاگل سی…” سیم زیر لب بڑبڑایا تھا
وہ انہیں دیکھ چکی تھی اور اب سیم کے پاس آئی تھی اور ایسے گپ شپ میں مصروف تھی جیسے پتا نہیں کب سے جان پہچان ہو…
نور کو اس کا یوں فری ہونا زرا اچھا نہ لگا تھا وہ سیم کو اپنے ساتھ آنے کی آفر کر رہی تھی تب ہی وہ بولی تھی
“یہ کہیں نہیں جائے گا یہیں بیٹھے گا میرے ساتھ”
سیم کے ساتھ ساتھ آیت اور فاریہ نے اسے چونک کر دیکھا تھا جیسے انہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ہو
سیم نے اس لڑکی کو دیکھ کر کندھے اچکائے تھے
“اب یہ کہہ رہی ہیں تو بیٹھنا تو پڑے گا” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
اور نور نے شکر ادا کیا تھا کہ کہیں اس نے منع نہیں کر دیا ورنہ کتنی انسلٹ ہوتی
وہ لڑکی نور کو گھورتی آگے بڑھ گئی تھی
لیکن اب وہ ان تینوں کو اگنور کر کے باہر دیکھنے لگی تھی کیونکہ یقینً ان کے تاثرات دیکھنے لائق نیہں تھے
“ابھی آپ نے کچھ کہا تھا؟” وہ شرارت سے پوچھ رہا تھا
“جی نہیں”
“لیکن میں نے تو سنا تھا” اسے جیسے مزا آ رہا تھا اس نکچڑی کو تنگ کر کے
“آپ کے کان خراب ہیں”
“تو میں جاؤں پھر؟” وہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا اور نور کو زہر لگا تھا
“تم اگر یہاں سے اٹھے تو…” وہ لب بھینچ کر بولی
“تو…؟”
“تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی”
اس کی دھمکی پر سیم کا قہقہ لگا تھا
“مان گئے بھئی…”
“کیا؟” وہ آبرو اچکا کر پوچھ رہی تھی
“یہ دنیا واقعی مطلبی ہے”
جاری ہے
