Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19
وہ اس کے لئے گاڈی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا
اس کے بیٹھتے ہی اس نے دوسری طرف اپنی سیٹ سمبھال لی تھی
“میں نے ڈریس پسند کر لیا ہے تمہارا بس تم ایک دفعہ دیکھ لینا تو فائنل کر دیں گے…”
اس کی بات پر اس نے مڑ کر اسے دیکھا تھا
وہ سنجیدہ تھا
فاطمہ کا دل بھر آیا تھا
“پتا نہیں کون سی غلطی ہو گئی ہے مجھ سے جو یہ مجھے سزا دے رہے ہیں…”
“کیا ہوا؟” اس کے پوچنے پر اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا
“میں نے کچھ پوچھا ہے” جواب نا پا کر وہ بولا تھا
“اگر آپ کو میرا ساتھ آنا اتنا ہی ناگوار گزر رہا ہے تو ساتھ ہی نہیں لانا چائیے تھا”
“میں نے ایسا کب کہا؟”
“آپ کی شکل سب کہہ رہی ہے…” اس نے انگلی سے نمی مٹانے کی کوشش کی تھی
“ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اپنی مرضی سے تمہیں لے کر آیا ہوں”
“لگ نہیں رہا…” وہ ہنوز دوسری طرف دیکھتی ہوئی بولی تھی
“اچھا تو بتاؤ_کیسے لگے گا؟” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا تھا
“پتا نہیں”
وہ اس کی طرف دیکھتا رہا تھا
کتنی ہی دیر…
وہ اسے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا
بہت کچھ بتانا چاہتا تھا
لیکن…
“میری طرف دیکھو…” اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا تھا
وہ خفگی سے اسے دیکھنے لگی تھی
“I’m sorry”
“کس لئے سوری؟”
“تم جانتی ہو…” وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر باہر دیکھنے لگا تھا
“ایسا تو ہر دفعہ ہی ہوتا ہے…
باقی سب کے ساتھ آپ ہستے ہیں باتیں کرتے ہیں اور میرے سامنے…
دنیا جہاں کے سنجیدہ مرد بن جاتے ہیں”
“تمہارا تو شوہر بننے والا ہوں اب باقی سب کا شوہر تھوڑی ہوں…” اسے یہی بےتکا سا بہانا سوجا تھا
“شکریہ میرا شوہر بننے کے لئے…مجھے تو پتا ہی نہیں تھا شوہر ایسے ہوتے ہیں”
وہ اسے دیکھ رہا تھا
وہ غصے میں اسے اور پیاری لگی تھی
لیکن ان کے درمیان کھڑی دیوار اتنی اونچی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا…
“چلو اترو…” گاری پارک کرتے ہوئے اس نے کہا تھا
وہ اتری نہیں تھی
وہ اتر کر اس تک آیا تھا
دروازہ کھول کر اس نے اترنے کا اشارہ کیا تھا
“آپ کو جو پسند ہے آپ فائنل کر آئیں میں یہیں ٹھیک ہوں”
“ایسے کیسے ٹھیک ہو…تمہارے لئے ہی تو آیا ہوں” اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے اتار تھا
وہ کچھ نہیں بولی تھی
“اچھا نا دیکھو ادھر…” وہ مسکرا رہا تھا
اور وہ کھل اٹھی تھی
“ہستے رہا کریں کوئی ٹیکس نہیں لگتا” وہ اس کے ساتھ چل دی تھی
*********
وہ ہوسٹل جا رہی تھی جب نور اس کے ساتھ آئی تھی
“مجھے کچھ ضروری سامان لینا ہے پہلے مارکیٹ چلتے ہیں”
“فاریہ کے ساتھ چلی جاؤ نا” اس نے اکتاہٹ سے کہا تھا
وہ اسے دیکھ کر رہ گئی تھی
دو دن میں وہ بالکل مرجھا گئی تھی…کسی سے بات نہیں کرتی تھی ہر وقت کھوئی کھوئی رہتی تھی
“سب ٹھیک ہو جائے گا سارہ” اس نے آس بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا
“کس کی بات کر رہی ہو؟
دل کی؟” وہ بےدردی سے ہنسی تھی
“ٹوٹا دل بھی جڑتا ہے کبھی؟” وہ حیرانی سے پوچھ رہی تھی
اور نور کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا
“چلیں…؟” اس نے پوچھا تھا
اور وہ چپ چاپ چل دی تھی
نور اس سے میسم کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھی لیکن سمجھ نہیں آ رہے تھے کیسے کرے
وہ اسے لے کر مختلف دکانیں پھرتی رہی تھی
“تمہیں کچھ لینا ہے یا بس گھومنے ہی آئی ہو؟”
“چلو کچھ کھا لیتے ہیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے”
“تم پہلے سامان تو لے لو”
“نہیں مجھے نہیں لینا پھر کبھی لے لوں گی”
وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“ضروری سامان لینا تھا تم نے تو…”
“ہاں نا رات میں میسم کے ساتھ آ کر لے لوں گی”
“تو پھر ابھی کیوں لائی ہو مجھے؟”
سارہ تو کبھی اتنے سوال نہیں کرتی تھی…
کتنی بےزار لگ رہی تھی وہ…شاید خود سے ہی
“تم سے ضروری بات کرنی تھی اس لئے…” وہ سر جھکاتی ہوئی بولی تھی
“ایسی کون سی بات ہے جو تمہیں ادھر آنا پڑا؟”
“کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں”
وہ اسے لے کر ریسٹورینٹ میں آ گئی تھی
“سارہ…
زندگی اتنی چھوٹی چیز نہیں ہے جو کسی ایک کے نا ملنے سے رک جائے یا آگے نا بڑھے…
تمہارے ساتھ جو بھی ہوا اسے بھول جاؤ
اور آگے بڑہو”
“کوشش کر رہی ہوں”
“جو سب تم کر رہی ہو اسے کوشش نہیں کہتے”
“تو کیا کروں میں؟
کیسے بھلاؤں اسے؟
“کیسے نکالوں اسے دل سے؟
“کیا غلطی تھی میری؟
“کیوں دی اتنی تکلیف مجھے؟
“اسے ترس کیوں نہیں آتا مجھ پہ؟
“میں ایسا کیا کروں جو وہ میری یادداشت سے نکل جائے؟”
“اب تو ہر چہرے میں وہی نظر آتا ہے…” وہ رو دی تھی
“نور نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو پونچھے تھے
“میرے پاس ایک طریقہ ہے…”
اس نے سارہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا تھا
“کون سا؟”
“تم شادی کر لو…”
اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا
“یقینً تم مذاق کر رہی ہو؟” وہ ہنسی تھی
اس نے سر نفی میں ہلایا تھا
“کوئی ہے جس کی محبّت میں تم سے زیادہ طاقت ہے”
وہ کچھ لمحے کچھ بول نہیں سکی تھی
“کچھ محبّتیں ایسی ہوتی ہیں جو نا آپ کی ہوتی ہیں نا آپ کو کسی اور کا ہونے دیتی ہیں…میں خود کو کسی کے لائق نہیں سمجھتی”
“اگر میں کہوں یہ شاید اسی کی دعاؤں کا اثر ہے جو تم کسی اور کی نہیں ہو سکی…”
اس کی بات پر وہ چونکی تھی
“میرا یقین کرو وہ تمہیں سمیت لے گا”
“مجھے لگتا ہے ہمیں چلنا چائیے” وہ اٹھی تھی
“دیکھو پلز…”
وہ کچھ کہتی جب وہ مڑی تھی
اور اگلا منظر اس کا گلا گھونٹ گیا تھا
وہ ہادی ہی تھا…
اس کے ساتھ وہ تھی
ہادی کا ہاتھ اس کے بالوں میں تھا…
اور وہ مسکرا رہی تھی
وہ واپس پلٹی تھی
نور بھی اسے دیکھ چکی تھی…
“دیکھا وہ خوش ہے اس کے ساتھ…”
“اور تم ایک ایسے انسان کے لئے محبّت کو ٹھکرا رہی ہو جسے پرواہ تک نہیں”
“کون ہے وہ؟” آنکھیں میچتے ہوئے اس نے خود کو کہتے سنا تھا
نور تو خوشی سے اچھل ہی پڑی تھی
“میسم…”
اور اس کا نام سن کر وہ چونکی نہیں تھی
نا ہی کچھ بولی تھی
وہ تو خود سے لڑ رہی تھی
“ہاں میں کیوں اس کے لئے خود کو برباد کروں…” اس نے سوچا تھا
“کیوں کہ تمہیں اس سے محبت ہے” دل میں کہیں سے آواز آئی تھی
“بھاڑ میں جائے محبّت”
“محبّت کے بغیر بھی تو زندگی گزر ہی جاتی ہے”
“اور شاید میری قسمت میں محبّت ہے ہی نہیں…”
اور قسمت اس کی سوچ پر دور کھڑی ہنس دی تھی!
*********
وہ بہت خوش تھی آج…
اتنی کہ آج سے پہلے شاید کبھی نا ہوئی ہو…
آج اس کے بھائی کو محبّت سونپ دی گئی تھی…
اور وہ شکر گزار تھی
وہ اس کے کمرے میں آئی تھی…
وہ ادھر نہیں تھا
“چھت پر ہو گا…چاند کا عاشق” وہ ہنس دی تھی
اپنے مخصوص انداز میں وہ اوپر آئی تھی
اور میسم کو دور سے ہی اس بلا کے آنے کا اندازہ ہو گیا تھا
“کتنی دفعہ کہا ہے آرام سے آیا کرو” نظریں ہنوز چاند پر مزکور تھیں
“اور تم بھی اب باز آ جاؤ یہ جو تمہاری چاند کے ساتھ عاشقی چل رہے ہے نا میری دوست اکیلی ہی کافی ہے”
“تم بات کر کے آئی ہو اس سے…” وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا
“ہاں…”
“کیا کہا اس نے؟” وہ بےتابی سے پوچھ رہا تھا
“ایسے کیسے بتا دوں…بھئی ٹیکس لگتا ہے”
“کون سا ٹیکس؟”
“تمہیں مجھے مووی دکھانے لی کر جانا پڑے گا”
“ہاں ہاں اوکے اوکے سب منظور بس جلدی سے بولو کیا کہا اس نے”
وہ اس کی حالت پر کھلکھلا کر ہنس دی تھی
“اب جلدی بولو ورنہ میں تمہیں اٹھا کر چھت سے نیچے پھنکوں گا”
“ہائے توبہ اب بہن کی ضرورت ہی نہیں رہی…مطلبی انسان”
“ڈرامے بند کرو اور بتاؤ…”
“تو سنو…”
“اس نے کہا اسے کوئی اعتراض نہیں”
“تم سچ کہہ رہی ہو؟”
“ہاں نا…بالکل سچ”
“اب امی کو لے کر جائیں گے ادھر اور اسے تمہاری بنا کر لے آئیں گے”
” O my God”
وہ خوشی سے چلایا تھا
پھر سارہ کو اٹھا کر گول گول گھومنے لگا تھا
اور اس کے ساتھ ہی ساری خوشیاں بھی رکساں تھیں
“بس کر دو میسم پاگل ہو گئے ہو” وہ ہنسی تھی
اور چاند ستارے سب مل کر ہنسنے لگے تھے
“محبّت مل جائے تو انسان مکمل ہو جاتا ہے
اور کہیں یہ نامکمل رہ جائے تو انسان کو دمک کی طرح کھا جاتا ہے
********
“آج تو کوئی بہت خوش لگ رہا ہے” وہ پیچھے سے آیا تھا
نور کی ہنسی غائب ہوئی تھی
“دیکھو پلز میں واپس چلا جاتا ہوں لیکن تم ہنستی رہو” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا تھا
پھر وہیں سے مڑا تھا
اس کے دل کو جیسے کسی نے اپنے پاؤں تلے روندا تھا
“روکو…”
“وہ چونکا تھا
پھر پلٹا تھا
“میں؟” وہ اس سے پوچھ رہا تھا
وہ ضبط کھو دی تھی
اس تک آئی تھی
اور رو دی تھی
اور وہ اس کے رونے پر ہنس دیا تھا
جیسے رونے کی وجہ جان گیا ہو
پھر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا منہ اوپر کیا تھا
“کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہو؟ اور مجھے بھی…؟” وہ آبرو اچکا کر پوچھ رہا تھا
وہ کچھ نہیں بولی تھی
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آیا تھا پھر اسے بیٹھا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا
“پتا ہے…
محبّت میرے لئے صرف کسی مووی یا کہانی کے سبجیکٹ سے زیادہ کچھ نہیں تھی…”
“ہمیشہ مذاق اڑایا ہے محبّت کرنے والوں کا…” وہ ہنسا تھا
“اور آج محبّت مجھے ترسا رہی ہے…”
“ساری دنیا ہے میرے پاس…”
لیکن مجھے صرف تم چائیے ہو…”
وہ بول رہا تھا…
اور نور کو لگا تھا
اگر وہ تھوڑی دیر اور بولتا رہا تو اس کا دل پھٹ ہی جائے گا
“مجھے محبّت کی اجازت نہیں ہے سیم…” وہ اپنے ہاتھ میں اس کے ہاتھ پر سر رکھ کر سسک اٹھی تھی
وہ اس کی بات پر مسکرا دیا تھا
“تم میری محبت ہو نور…
اور تمہیں کسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے… تم بس میری اور اپنے دل کی فکر کرو میری جان”
“ساری دنیا سے چھین لوں گا…”
******
“پھر یوں ہوا کہ ہم صبر کی انگلی پکڑ کر
اتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
وہ کسی اور کے نام لکھ دیا گیا تھا
ہمیشہ کے لئے کسی اور کا ہو گیا تھا
وہ اب اس کا ہادی نہیں رہا تھا
تکلیف تھی کہ کم ہی نہیں ہو رہی تھی
لیکن خوشی بھی تھی
کہ اس کو اس کی محبّت مل گئی
بس افسوس یہ تھا کہ وہ محبّت وہ خود نہیں تھی …
گلاس وال کے باہر بارش اور تیز ہوئی تھی…آج جیسے پورے شہر پر غصہ ہو
لیکن اب کیا فائدہ تھا
محبّت تو چلی گئی نا…
“سارہ میسم کو کال کر کے پوچھ لو بیٹا کہ آج وه آ بھی سکے گا کہ نہیں… بارش تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی”
امی کی آواز پر وہ حال میں لوٹی تھی
اسے یاد آیا تھا
آج تو وہ اسے لینے آنے والا تھا
ڈنر کے لئے…
“امی نہیں آئے گا وہ…
بارش دیکھیں نا کتنی تیز ہے”
“پھر بھی ایک دفعہ پوچھ تو…”
وہ اپنا فقرہ مکمل کرتیں کہ پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی
“لو آ گیا وہ…” وہ خوشی سے کہتی باہر گئی تھیں
اور وہ گہری سوچ میں گم تھی
میں نفرتوں کے جہاں میں رہکر،
جدا رہونگا تو کیا ____کرونگا۔۔
یہ ٹھیک کہتے____ہو بیوفا ہوں،
وفا کرونگا تو کیا _____کرونگا؟
بس اک تو ہی تو رہ گیا ہے،
جہان سارا _تو کھو چکا ہوں
تجھے بھی اپنی انا میں آکر،
خفا کرونگا __تو کیا کرونگا؟
ہزار سجدہ تو کر چکا ___ہوں،
قضا تمہاری ____محبتوں میں
میں اب دکھاوے کا کوئ سجدہ،
ادا کرونگا _____تو کیا کرونگا؟
بغیر پانی کےکوئ_____ مچھلی
بھلا کبھی ____رہ سکی ہے زندہ
میں تجھکو کھو کر، کسی کا ہوکر،
بتا کرونگا ______تو کیا کرونگا؟
********
آج وہ اپنی زبان سے اعتراف کر رہا تھا… کسی اور سے… اپنی محبّت کا ۔ ۔
اس کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کا …اس کے ساتھ کیئے گئے مستقبل کے وعدوں کا…
اور وہ خود کو کوئلوں پر چلتا محسوس کر رہی تھی…جیسے اسکا سارا جسم آہستہ آہستہ جل رہا ہو…طاقت اسکے جسم سے ختم ہو رہی تھی…
“کوئی روکتا کیوں نہیں ہے اسے…
کاش کہ اس وقت اس سے بولنے کی طاقت چھین لی جائے…”
محبّت میں بےبسی انسان کو رکھ کر دیتی ہے…اسکے بس میں ہوتا تو وہ اپنی جان کے بدلے میں بھی اسکی محبّت کو حاصل کر لیتی…
لیکن محبّت کے اصول تو یہی ہیں نا کہ جس پر دل نے ہار مان لی سلطنت اسی کے نام کر دی جاتی ہے…
وہ لڑ رہا تھا…شاید خود سے…یہ لفظ اسکا ضبط آزما رہے تھے لیکن جلن کی جو آگ اسکے اندر جل رہی تھی وہ کسی طرح کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی…
وہ اسکے دل کی حالت سے واقف تھا…یہ بھی جانتا تھا کہ اس وقت اس پہ کیا بیت رہی تھی اس لیے اگر اس کی طرف دیکھ لیتا تو شاید اپنے گرد خول سے باہر آ جاتا…
لیکن یہ سوچ…کہ اس کے دل پر پہلے کسی اور کی حکمرانی تھی… وہ غصے سے پاگل ہو جاتا تھا
اس لئے اس کی جانب نظر کیے بغیر وہ کمرے سے جا چکا تھا…
اب کمرے میں خاموشی کا راج تھا… اب کمرے میں اسکی تکلیف دہ آواز نہیں تھی
وہ دونوں ہاتھ گٹنوں کے گرد لپٹے سر دیوار کے ساتھ ٹیکائے کانپ رہی تھی…
اسکا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا… اور سر درد سے پھٹ رہا تھا…بند آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے…
پورا کمرہ اسکی ہچکیوں میں ڈوبا ہوا تھا…
اس نے ایسا تو کبھی نہیں سوچا تھا… وہ باہر سے شرارتی سا نظر آنے والا ہادی اندر سے کس قدر خوفناک تھا…
وہ جس سے کبھی اونچی آواز تک برداشت نہیں ہوتی تھی… وہ اب اپنے روح پر نقب لگوائے بیٹھی تھی…
صرف محبّت کی وجہ سے…
صرف اور صرف محبّت کی وجہ سے…
وہ آج دلہن بنی… اپنی محبّت کی کرچییاں… چننے میں مصروف تھی…
“کاش کہ آج محبت مر جائے…
ہمیشہ کے لئے”
*********
“ہیلو میڈم” سیم دور سے آتا دکھائی دیا تھا
نور نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا
“آج نیوز دیکھی تم نے؟” وہ اس کے پاس بیٹھتا ہوا بڑے رازدارنہ انداز میں بولا تھا
“نہیں تو… میں نیوز نہیں دیکھتی… کچھ خاص ہے؟”
“ہاں خاص تو ہے… کہہ رہے تھے کہ کسی کی گم شدہ ہنسی ملی ہے جس کی بھی ہو آ کر لے جائے…”
“تو میں کیا کروں؟” وہ جو انتہائی غور سے سن رہی تھی اسکی بات پر اسے گھور کر رہ گئی تھی…”
“ارے بھئی جا کر لے آؤ”
“ضرورت نہیں ہے… مجھے”
“کس بات سے ناراض ہو؟” وہ اب سنجیدہ ہوا تھا
“کوئی بات بھی نہیں ہے… میں بھلا کیوں ناراض ہوں گی تم سے”
“تو اپنی شکل دیکھو کیسے بارہ بجے ہوئے ہوتے ہیں”
“محبّت کے رنگ ایسے ہی ہوتے ہیں” وہ سوچ کے رہ گئی تھی
اور سیم اسے دیکھ کے رہ گیا تھا
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں… اپنا خیال رکھنا” وہ اٹھا تھا
“سیم پلز نور کو گھر ڈراپ کر دو مجھے تھوڑا کام ہے تو میں لیٹ ہو جاؤں گی” فاریہ کی بات پر وہ پلٹا تھا
“اوہو میں خود چلی جاؤں گی تم…” وہ کچھ بولتی جب سیم نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا تھا
“قسم سے بھگا کر نہیں لے کے جاؤں گا” وه آنکھ مارتا ہوا بولا تھا
اور وہ اسے زور سے مکا رسید کر چکی تھی
وہ کراہ کر ہی تو رہ گیا تھا
“ویسے یہ کام تو میں پوری زندگی کرنے کو بھی تیار ہوں… اگر آپ کی اجازت ہو تو…” وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا تھا
“شرم کرو سب دیکھ رہے ہیں…”
“ہاں تو دیکھنے دو… محبّت کرتا…”
وہ اسکی بات ادھوری چھوڑتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی تھی
اور وہ…
بےبسی سے دیکھتا رہ گیا تھا
“دیکھتا ہوں میں بھی… کب تک بھاگتی ہو”
_______
ساری رات باہر جما دینے والی سردی نے اسکا برا حال کر دیا تھا اب صبح ہونے کو تھی لیکن فرار کا کوئی راستہ ہی نا تھا…
لوگ معمول کے مطابق اپنے کام کاج میں مصروف ہو چکے تھے ہر طرف روشنی پھیل چکی تھی…
سوائے اس کے دل کے!
دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی سردی سے اس کا جسم کانپ رہا تھا…
اب اس کے قدم خود بہ خود گھر کی طرف اٹھنے لگے تھے جہاں وہ رات کو اسے اپنی دسترس میں لانے کے بعد دوسری نظر ڈالے بغیر ہی باہر نکل آیا تھا…
اب اس کا ضبط بھی جواب دے گیا تھا
اس نے رامش کو کال ملائی تھی جہاں دوسری طرف اسے اسکی جوش بھری آواز سنائی دی تھی…
“کیسے مزاج ہیں جناب کے؟ اور آج صبح صبح ہماری یاد کیسے آ گئی؟”
ویسے اچھا ہوا کال کر لی میں بھی تمہیں بتانے ہی والا تھا کہ ناشتہ تیار ہو گیا ہے بس کچھ ہی دیر میں ہم لوگ نکل رہے ہیں…”
“رامش کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تم سے…
خدا کو گواہ بنا کر سچ سچ جواب دینا”
وہ بہت سنجیدہ تھا
رامش کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
“سب ٹھیک ہے ہادی؟”
رامش… لہجہ انتہائی سخت تھا
“پوچھو ہادی…”
“جب تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تو تم نے آیت سے… اور میری شادی فاطمہ سے کیوں کروائی؟”
“خود کیوں نہیں کر لی فاطمہ سے شادی؟”
رامش کو لگا اسے سننے میں شاید کوئی غلطی ہوئی ہے…
“تم ہوش میں تو ہو ہادی؟
“کیا بکواس کر رہے ہو؟”
“تم باہر آؤ میں آیت کے گھر کے باہر ہی ہوں”
وہ باہر بھاگا تھا…
یہ کیا کہہ رہا تھا وہ
کیسی بےحرمتی کر رہا تھا وہ ان کے رشتے کی…
وہ تو چھوٹی بہن تھی اس کی…
پھر وہ کیا بک رہا تھا
اس کی آنکھیں ضبط سے لال ہونے لگیں تھیں…
وہ گھر سے باہر نکلا تھا…
باہر شدید سردی تھی
اسے پرواہ ہی کب تھی…
وہ شاید جوتے بھول آیا تھا…
اسے احساس ہوا تھا اس کے پاؤں میں کچھ چھبا تھا…
ہاں اسکی آنکھ سے ایک لکیر اسکے چہرے پر بھی ابھری تھی…
گرم پانی کی لکیر…
وہ اسے سامنے نظر آیا تھا…
اسے یاد آیا تھا
وہ اتنا کم ظرف تو کبھی نہیں تھا…
وہ غصے اور دکھ کے ساتھ اس تک آیا تھا…
اس کا گریبان پکڑ کر اسے جھنجھوڑنے لگا تھا…
“بہن ہے وہ میری”
“چھوٹی بہن”
سارہ جیسی…”
اسے اس وقت ہادی کی شکل سے نفرت محسوس ہوئی تھی اور پھر وہ اسے مارنے لگا تھا…
بری طرح
وہ چپ چاپ مار کھاتا رہا تھا اس کا ہونٹ پھٹ چکا تھا اور ناک سے بھی خون نکلنے لگا تھا…
لیکن رامش اسے مسلسل چلاتے ہوئے مارتا رہا تھا…
ہادی نے خود کو چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی
اور جب وہ تھک گیا تو اسے دھکا دے کے الگ کیا تھا…
میں نے تمہیں بھائی سمجھا اپنا…
اور تم نے کیا کیا میرے ساتھ؟
مجھ پر ہی شک کیا؟
اور وہ…
جاری ہے
