Ishq Baz by Monisa Hassan NovelR50725 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03
No Download Link
653.1K
20
Rate this Novel
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode01 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode02 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03 (Watching)Ishq Baz by Monisa Hassan Episode04 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode05 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode06 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode07 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode08 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode09 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode10 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode11 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode12 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode13 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode15 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode16 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode17 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode18 Ishq Baz by Monisa Hassan Episode19 Ishq Baz by Monisa Hassan Last Episode
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03
Ishq Baz by Monisa Hassan Episode03
وہ کمرے سے باہر آگئی کیوں کہ وہ اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
رامش اس کو کمرے سے باہر جاتا دیکھتا رہا تھا وہ اسکی نیلی آنکھوں میں نمی دیکھ چکا تھا
اسنے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی اتنے میں فاطمہ اور اسکی امی ناشتہ لگا چکے تھے
” بیٹا آو کھانا لگا دیا ہے”
ساجدہ بیگم نے کمرے میں آکر کہا
سب ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے کہ ساجدہ بیگم نے فاطمہ کو آواز دی کہ آیت کو بھی بلا لاؤ…
“جی امی “
فاطمہ جواب دیتے ہوئے کمرے سے آیت کو بلا لائی تھی
“آیت بیٹی تم نے بیٹے کا تعارف نہیں کروایا”
ساجدہ بیگم نے پیار سے رامش کی طرف دیکھتے ہوے کہا
رامش اسکی بھیگی ہوئی نیلی آنکھیں دیکھ چکا تھا اس لیے فوراً خود ہی بولا
آنٹی وہ آیت کی گاڑی خراب ہو گئی تھی میرا گھر بھی یہاں قریب ہی ہے تو بس میں انکو یہاں لے آیا
رامش نے بات بناتے ہوئے کہا
وہ جانتا تھا کہ آیت کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ہے اس بارے میں گھر والوں کو اسنے کچھ نہیں بتایا کیوں کہ وہاں سب خوشگوار موڈ میں ہی تھے
بیٹا تمہارا بہت بہت شکریہ…تمہارا احسان رہے گا ہم پے اگر تم نہ ہوتے تو پتا نہیں ابھی تک میری بچی مصیبت میں ہی ہوتی
ساجدہ بیگم نے فکرمندی سے کہا
آنٹی اب آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں میں اس ملک کا محافظ ہوں اور یہ میرا فرض تھا
آیت بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی…یہ کون تھا جو اسکے بغیر کچھ کہے ہی سب سمجھ گیا تھا اور اب اگر وہ سچ بتا دیتا تو وہ کیا جواب دیتی
رامش اب فاطمہ سے باتوں میں مصروف تھا لیکن آیت اس کی نظروں کی تپش کو خود پر محسوس کر سکتی تھی…اسی لمحے رامش نے اسکی نیلی آنکھوں میں دیکھا جو اسی کی طرف متوجہ تھی…پتا نہیں کیا تھا ان گہری نیلی آنکھوں میں کہ کچھ دیر کے لیے وو نظر ہٹانا بھول گیا تھا…
“Ramish are you committed with someone?”
فاطمہ کی آواز پر وہ چونکا
No! Not Yet…
ویسے حیرانگی کی بات ہے اتنا handsome caption ابھی تک سنگل ہے ؟
“ہاں حیرانگی کی بات تو ہے پر شاید ساری زندگی ہی سنگل رہنا پڑے”
فوراً سے اسکے منہ سے نکلا لیکن بات کی گہرائی کا احساس ہوتے ہی اسنے بات کو گول کیا
“دراصل میں نے کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں” اس نے بات مکمل کی اور گھڑی کی طرف دیکھا…”ٹھیک ہے آنٹی اب میں چلتا ہوں مجھے لیٹ ہو رہا ہے”
آپ اتنی جلدی جا رہے ہیں مجھے تو ابھی آپ سے بہت ساری باتیں کرنی تھی آرمی لائف کے بارے پوچھنا تھا ویسے میں نے سنا تھا کہ آرمی میں سب روبوٹ ہوتے ہیں ہر کام وقت پر کرتے ہیں۔ نہ ہی ایک منٹ پہلے اور نہ ہی ایک منٹ بعد… فاطمہ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا
“ایسی بات نہیں ہے بس ہم وقت کے پابند ہوتے ہیں… میں واقعی میں لیٹ ہو رہا ہوں ورنہ تھوڑی دیر اور رک جاتا”
“مجھے بھی بہت اچھا لگا تم سب سے مل کر” رامش نے فاطمہ کی ناراضگی دور کرتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے لیکن وعدہ کرو کہ اسے اپنا ہی گھر سمجھو گے اور اپنی پوری فیملی کو لے کر یہاں ضرور آؤ گے…اب کہ ساجدہ بیگم نے مداخلت کی
“جی آنٹی ضرور”
“جیتے رہو بیٹا خدا تمہے کامیاب کرے”
انہوں نے فاطمہ اور آیت کو اشارہ کیا کہ اسے باہر تک چھوڑ آؤ
گیٹ کے پاس آکر اسے یاد آیا کہ وہ چابی کمرے میں ہی بھول آیا ہے
“میں چابی لے کر آتا ہوں”
رامش نے اندر جاتے ہوئے کہا
“میں لے کر آتی ہوں… “میں نے ٹیبل سے اٹھا کے رکھی تھی”فاطمہ کہتی ہوئی اندر چلی گئی
“آیت ” رامش کی آواز پے اس نے سر اٹھایا
جی !آیت نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“یہ میرا کارڈ رکھ لو کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں
اسنے بغیر دیکھے کارڈ رکھ لیا تھا
“یہ لیں اور آپ اپنا نمبر تو دے دیں…پھر آپکو پوری فیملی کے ساتھ دعوت پر بھی تو بلانا ہے اور مجھے بہت ساری باتیں بھی کرنی ہیں”
“میں نے آیت کو اپنا کارڈ دیا ہے اس پر میرا نمبر بھی ہے”
“یہ تو ہو گیا لیکن فیس بک اور انسٹاگرام…”
آیت نے اسکی طرف گھور کر دیکھا
“اچھا اچھا وہ میں آپ سے نمبر پر کانٹیکٹ کر کے پوچھ لو گی”
“جی ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں”
اس نے حیا کی آنکھوں میں دیکھا جیسے سارا نیلا رنگ اپنی آنکھوں میں جذب کر لینا چاہتا ہو لیکن یہ تو اتنی گہری ہیں کہ اگر ساری زندگی بھی ان میں ڈوبتا رہتا تو بھی انکی گہرائی تک نا پہنچ سکتا
پتا نہیں کیسا سحر تھا اسکی آنکھوں میں جس نے اتنے مضبوط مرد کو لپیٹ کر اپنے سحر میں لے لیا تھا
رامش گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا…
“ٹھیک ہے فاطمہ میں بھی اب گھر جا رہی ہوں شام کو ملتے ہیں”
آیت کہہ کے ساتھ والے بنگلے میں میں داخل ہوئی
“فاطمہ یہ آیت اس وقت کس کے گھر گئی ہے؟”
“اپنے گھر”
“کیا مطلب یہ اسکا گھر نہیں ہے”
“نہیں یہ میرا گھر ہے” اور میں اسکی بیسٹ فرینڈ ہوں اس کی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اس لیے اتنی صبح وہ اپنے گھر نہیں گئی تاکہ آنٹی جاگ نہ جائیں”
“اوہ! کافی کلوز فرینڈ شپ ہے مجھے لگا تم دونوں بہنیں ہو”
“Yup! We are sisters by hearts”
“Oh! Great”
ویسے آپکو پتا وہ جو دو بالکنی ایک ساتھ ہیں نہ وہ ہم دونوں کے کمروں کی ہیں (اس نے اوپر اشارہ کرتے ہوئے کہا )
Our friendship starts from there.
ہم پہلی دفعہ ایک دوسرے سے یہی پر ملے تھے…
فاطمہ اب بھی کچھ بول رہی تھی لیکن وہ نہیں سن رہا تھا وہ اس بالکنی کو دیکھ رہا تھا اور کسی سوچ میں گم تھا…
“چلو ٹھیک ہے فاطمہ اب میں چلتا ہوں اپنا اور اپنی دوست کا خیال رکھنا”
رامش نے مسکراتے ہوئے کہا
“آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا اور کہیں ہمیں بھول نہ جائیے گا”
“اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا اور فاطمہ کو ٹھیک سے سنائی بھی نہ دیا…
جب گاڑی گلی سے مڑ گئی تو فاطمہ اندر چلی گئی
آیت کمرے میں داخل ہوئی اور سیدھا اپنی امی کے کمرے کی طرف چلی گئی…کمرے کا دروازہ بند تھا…اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا
ماریہ بیگم سو رہی تھیں وہ انکے قریب صوفے پر بیٹھ گئی
تھوڑی دیر وہی بیٹھی انھیں دیکھتی رہی…آپ کتنی کمزور ہو گئی ہیں؟ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے صاف نمایاں ہو رہے تھے…اور رنگت بھی پیلی پڑتی جا رہی ہے…
پھر اٹھ کر انکے ماتھے پے پیار کیا اور چادر ٹھیک کر کے اپنے کمرے میں لوٹ آئی…کمرے میں آتے ہی اسنے کھڑکی کھول دی اور تازہ ہوا کو اپنے اندر اتارنے لگی… تھوڑی دیر بعد وضو کر کے آئی اور جائے نماز پھیلا کے سجدے میں چلی گئی اور کھل کے رونے لگی… اور اپنے رب سے معافی مانگنے لگی…
“اے میرے مالک مجھے معاف کر دے میں تجھ سے ہمت مانگنے کے بجائے تجھ سے شکوہ کرتی رہی…جب کہ غلطی بھی میری ہی ہے…مجھے معاف فرما دے اور اگر یہ میری کوئی آزمائش ہے…تو مجھے صبر عطا کرنا اور اس آزمائش میں کامیابی عطا کرنا…
اور پھر پتا نہیں کتنی دیر وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتی رہی…
جب اسکا دل ہلکا ہوا تو اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگئی…جہاں ابھی بھی بارش کے بعد بادل چھائے ہوئے تھے…ٹھنڈی ہوا سے اسے سکون مل رہا تھا
اچانک اسکی نظر کھڑکی پے لگے sticky note پر پڑی
اس نے اسے اتارا اس پر لکھا تھا
“ان مع العسر یسرا”
یہ یہاں کس نے چپکایا یہاں ؟میرے بعد تو میرے کمرے میں کوئی بھی نہیں آتا یہاں تک کہ کوئی ملازم بھی نہیں… لیکن یہ کھڑکی کے باہر کی طرف لگا ہے وہاں کس نے لگایا…
“بےشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے”
اس نے زیر لب بڑبڑایا
پھر اپنے بیڈ پر لیٹ گئی…
چٹ اب وہ دراز میں رکھ چکی تھی
نیند کی وجہ سے اسکی آنکھیں بھاری ہو رہیں تھیں…اور آہستہ آہستہ وہ نیند میں جانے لگی تھی…
کس نے یہ چٹ یہاں پر چپکائی ؟ لگتا ہے فاطمہ ہوگی …ہاں وہی ہوگی اور پھر وہ گہری نیند میں چلی گئی…
****
وہ کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ کوڑے سے بھری بالٹی اس کے سر پر الٹی جسے بڈی مہارت سے دروازے کے اوپر رکھا گیا تھا…
“عادی! میں تمہیں جان سے مار ڈالو گا “
غصے سے کہتا ہوا وہ کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں عادی ابھی خراٹے لے کر سو رہا تھا
اس نے کمبل کھینچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن پھر رک کے کچن کی طرف چلا گیا…
واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں ٹھنڈے پانی کا ایک جگ تھا جسے اس نے عادل کے منہ پر انڈیل دیا…
عادل ہڑبڑا کے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اترا اور رامش کے ہاتھ میں خالی جگ دیکھ کے اسکی طرف لپکا اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہاتھ آتا وہ واش روم میں جا کر کنڈی لگا چک تھا…
“باہر نکل ورنہ میں دروازہ توڑ دو گا”
ہاں تاکہ تو میری چٹنی بنا سکے…
رامش نے ہستے ہوئے کہا جس پر عادل اور بھڑک اٹھا
وہ تو میں بعد میں بھی بنا دو گا تو نے کونسا پوری زندگی اندر ہی رہنا ہے…
“اچھا اب اتنا بھی بھڑکنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے بس اپنا بدلہ لیا ہے ورنہ تجھے پتا ہے مجھ جیسا شریف بندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کر سکتا” رامش نے منہ بناتے ہوئے کہا
“ساری شرافت سے واقف ہوں تیری اور کون سا بدلہ مسٹر شریف؟”
وہ جو گندے کیلوں کے چھلکوں سے بھری بالٹی تو نے میرے لیے سجائی تھی… اسی کی بات کر رہا ہوں…
یاد آتے ہی عادی کا قہقہ چھوٹ گیا
“اوہ! وہ تو میں بھول ہی گیا تھا… اچھا اب باہر نکل کچھ نہیں کہتا میں”عادی نے ہستے ہوئے کہا “
نہیں تو جا اب میں تیری پھیلائی ہوئی گندگی صاف کر کے ہی نکلوں گا”
“ٹھیک ہے پھر میں میس جا رہا ہوں تم ادھر ہی آ جانا”
“نہیں میں ناشتہ کر کے آیا ہوں”
“کیا؟”
“تو اتنی صبح کس کے ساتھ ناشتہ کر کے آیا ہے”
“اور ہاں تیری ڈیوٹی تو رات بارہ بجے ختم ہو گئی تھی پھر ساری رات کدھر تھا؟”
“یار کیا تو شکی بیویوں کی طرح سوال پر سوال کر رہا ہے…ایک ضروری کام تھا… اب مجھے نہانے دو”
“اچھا پھر سیدھا اکیڈمی ہی آ جانا”
“اچھا اب جا یا میں چھوڑ کر آو”
“جا رہا ہوں…جا رہا ہوں”
“آیت کدھر ہے؟”گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے ملازمہ سے پوچھا
“جی وہ باجی جی کے کمرے میں ہیں”
“اچھا لائیں یہ مجھے دے دیں”اس سے چائے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا جو وہ انہی کے لیے لے کر جا رہی تھی…
“Hellow Ladies”
“شکر ہے تم آ گئی تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی”آیت نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا
“ہاں یار بس آج آخری پیپر تھا”
“یہ تو اچھا ہوا ورنہ تو آیت جب سے آئی ہے بور ہو رہی ہے”ساجدہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا
“چائے تم بنا کر لائی ہو؟”
“بھئی اب ہمیں تو کوئی پوچھتا نہیں ہے تو خود ہی کچھ نا کچھ کرنا پڑتا ہے”فاطمہ نے مصنوئی ناراضگی سے کہا
“بس یار تمہارے پپیرذ ہو رہے تھے اس لیے تمہے ڈسٹرب نہیں کیا”
” میں کب سے تم سے ڈسٹرب ہونے لگی؟”فاطمہ نے ایک چائے کا کپ ساجدہ بیگم کو پکڑایا اور دوسرے سے خود پینے لگی…
“اوہو میرا مطلب وہ نہیں تھا…اچھا چھوڑو یہ بتاؤ آج کا پیپر کیسا رہا؟”
“ہاں اچھا ہو گیا بس پروفیسر احمد کا دل کرے تو پوری کتاب ہی اٹھا کر دے دیں”فاطمہ نے اپنا کپ آیت کو پکڑاتے ہوئے کہا
“بیٹا آیت کو سمجھاو نا کچھ یہ کہ رہی ہے کے بزنس چھوڑ کر ادھر ہی آرٹ میں ایڈمشن لینا چاہتی ہے”ساجدہ بیگم نے آیت کی شکایت لگائی
“کیا؟؟؟؟دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟؟؟بزنس پڑھنا تمہارا جنون تھا اب کیا ہو گیا؟فاطمہ غصے سے چلا اٹھی
“اور آرٹ بھی تو میرا شوق ہے…”
“آیت تمہیں بزنس پڑھتے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں اور اب تھیں یاد آیا ہے؟؟؟ بےوقوف کس کو بنا رہی ہو ہمیں یا خود کو؟؟
“نہیں فاطمہ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو پہلے ابو ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے گئے اب امی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی ایسے میں میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی”
“آیت ادھر میں اور امی ہیں نا آنٹی کا خیال رکھنے کے لیے…اور آنٹی بہت جلدی ٹھیک ہو جائیں گی تم فکر نہیں کرو”
“فاطمہ تم جانتی ہو میرے پاس رشتوں کے نام پر صرف امی ہی ہیں اور اب میں ان سے دور نہیں رہ سکتی” آیت نے اصلی وجہ نہیں بتائی کہ اب بزنس پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا…
“ٹھیک ہے پریشان نہیں ہو جیسا تمہیں ٹھیک لگے ویسا ہی کرو” فاطمہ نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتے ہوئے کہا
“امی اب آپ آرام کریں ہم اوپر چلے جاتے ہیں…”
دونوں کمرے کی لائٹ بند کر کے اوپر چلی گئیں
*****
“یار اٹھ جلدی کر ہر وقت لمی تان کر پڈا رہتا ہے…”عادی نے کمبل دور پھنکتے ہوئے رامش کو اٹھایا…
“ہاں ڈیوٹی تو تو دیتا ہے میری جگہ…اب بول کون سی آفت آن پڑی ہے؟؟”رامش نے ناگواری سے کہا
“یار ٹرانسفر کا آرڈر آ گیا ہے میرے بھائی”
“ہاں پتا ہے فون آیا تھا میجر علی کا” وہ تو کب کا اس انتظار میں تھا اسے کیسے نا پتا ہوتا…
“پھر کب نکلنا ہے؟”
“ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں رات کو نکلتے ہیں”
“جو حکم میرے آقا…ویسے مجھے بھی کچھ کام ہے” اس نے سر کو خم کر کے کہا…
“I Am Comming Aayat”
اس نے بند آنکھوں سے مسکراتے ہوئے سوچا…جو ہادی نے فوراً دیکھ لیا تھا
“جناب کے مزاج کچھ بدلے بدلے سے ہیں” ہادی نے مذاق بناتے ہوئے کہا
“اگر آپ مجھے تاڈ چکے ہوں تو اپنا کام مکمل کر لیں ہمیں شام کو نکلنا ہے” رامش نے کمبل منہ پر لیتے ہوئے کہا
“کچھ تو چھپا رہے ہیں جناب…اگر یہ نہیں بتائے گا تو میں خود پتا کروا لوں گا” اس نے مسکراتے ہوئے سوچا…
****
آیت آئسکریم پارلر میں داخل ہو رہی تھی جب ایک بچہ اس کے قریب آیا تھا…آیت کو غبارا پکڑایا اور فوراً بھاگ گیا
آیت نے غبارے کو دیکھا وہ ایک Air Balloon تھا…
جس پر ایک نوٹ چپکایا ہوا تھا…
اس نے زیر لب تحریر کو پڑھا
“Go Confidentiality In The Direction Of Your Dreams;
Live The Life You Have Imagined”
آیت پریشانی سے ادھر اودھر دیکھنے لگی تھی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا
“چلو آیت…”
“اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟”فاطمہ گاڑی پارک کر کے اس کے قریب آئی تھی…
“پتا نہیں یار کوئی بچہ پکڑا کر گیا ہے اور یہ دیکھو اس پر یہ نوٹ چپکایا ہوا ہے…”
فاطمہ نے نوٹ پڑھ کر پھنک دیا تھا…
“Oh!Come on nothing to think about”
اب وہ دونوں ٹیبل کے گرد بیٹھ چکی تھیں.ویٹر کو آرڈر لکھوانے کے بعد دونوں باتوں میں مصروف ہو گئیں تھیں…
“ہاں یاد آیا آیت وہ میری کل رامش سے بات ہوئی تھی”
“اچھا پھر!”نارمل انداز سے پوچھا گیا تھا
“زیارہ نہیں ہوئی بس حال چال ہی پوچھ رہا تھا…اور ہاں یاد آیا اسکی پوسٹنگ ادھر کوہاٹ میں ہی ہو گئی ہے شاید دو مہینے کے لیے”
“Aaam good”
ویٹر آرڈر serve کر رہا تھا…
“میں نے coffee کی آفر کی تھی پہلے تو مان ہی نہیں رہا تھا پھر ویک اینڈ کے لیے مان گیا” فاطمہ نے خوشی سے بتایا تھا
“تم پاگل ہو گئی ہو فاطمہ ایوں دوسروں کو تنگ مت کیا کرو ” آیت نے خفگی سے کہا
“کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی دل تو اسکا بھی تھا ملنے کا بس نخرے دیکھا رہا تھا” فاطمہ نے ہستے ہوئے کہا
“کیا مطلب؟”
“کچھ نہیں..میں نے ویسے اسے تمہارے نیک ارادوں کے بارے میں بھی بتایا”
“کون سے نیک ارادے؟”آیت نے حیرت سے پوچھا
“یہی کے میڈم کا بذنس چھوڑنے کا ارادہ ہے”
“اف فاطمہ تمہیں اسے بتانے کی کیا ضرورت تھی؟”
“ضرورت تو تھی نا تم آنٹی کی بات مان رہی ہو اور نا میری سن رہی ہو اب وہ خود ہی تم سے بات کرے گا”
“میں اس سے کوئی بات نہیں کروں گی” آیت نے کاٹ دار لہجے میں کہا
“کیوں تمہیں مسئلہ کیا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ تمہیں کوئی اچھا مشورہ دے دے” فاطمہ آئسکریم ختم کر چکی تھی
” مجھے کسی کے مشوروں کی ضرورت نہیں…مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے” آیت بیزاری سے جواب دیتی ادھر سے اٹھ گئی تھی
فاطمہ بھی بل ادا کر کے اسکے پیچھے چل دی…
آیت گاڑی میں بیٹھ چکی تھی…اسے شدت سے اپنی بےبسی کا احساس ہوا تھا
“وہ شخص میری حالت سے اچھی طرح واقف ہے میں کبھی اسکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی..اگر کبھی اس نے کسی کے سامنے اس بارے میں کچھ کہ دیا تو…اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی…میں اب اس سب کو اپنے اندر دفن کر چکی ہوں…اگر اللہ کی یہی مرضی تھی تو مجھے سب قبول ہے لیکن میں اب امی کو بلکل بھی پریشان نہیں کر سکتی…ویسے بھی وہ سب میری امی سے بڑھ کر نہیں تھا”آیت نے سوچ کر ٹھنڈی آہ بھری تھی…
فاطمہ نے پورا راستہ اس سے کوئی بات نہیں کی تھی…جانتی تھی وہ اب کسی کی نہیں سنے گی…
گھر آتے ہی آیت گاڑی سے اتری اور بغیر فاطمہ کی طرف دیکھے وہ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی…
******
رامش اور عادل میس میں داخل ہو رہے تھے کہ رامش کا سیل فون بجنے لگا…اوپر فاطمہ کا لنک آ رہا تھا…
“عادی تو چل میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں” یہ کہہ کر وہ میس سے باہر نکل آیا تھا…
“ہاں فاطمہ بولو سب ٹھیک ہے؟”
“نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے…آپ نے بولا تھا میں اسے کہیں باہر لے کر جاؤں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ پہلے سے زیادہ اپ سیٹ ہو کر گھر آئی ہے” فاطمہ کے لہجے سے پریشانی صاف ظاہر تھی
“کیوں کچھ ہوا تھا ادھر؟”
“نہیں رامش میں نے بس آپ کہ آنے کا بتایا اسے اور وہ مجھ سے ناراض ہو گئ”
“اچھا تم فکر نہیں کرو میں کل شام کو آنے کی ہی کوشش کرتا ہوں”
“رامش آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اپ اس کو نارمل کر دیں گے…وہ جب سے واپس آئی ہے بلکل بدل گئ ہے…”
“میں ایک دفعہ اس سے بات کرنا چاہتا ہوں”
“مجھے نہیں لگتا کے وہ آپ سے ملے گی جبکہ وہ آپ کے آنے کا سن کہ ہی غصہ ہو گئ تھی”
“اچھا تم ایسا کرو اسے مت بتانا میں کل گھر آ کے مل لوں گا اور ویسے بھی مجھے انٹی سے بھی ملنا ہے”
“ہاں یہ ٹھیک ہے آنے سے پہلے بتا دینا میں گھر پر ہی ہوں گی”
“تھنک یو فاطمہ” رامش نے مسکراتے ہوۓ کہا
“کیپٹن صاحب تھنک یو کو چھوڑیں یہ بتائیں کھانے میں کیا کھائیں گے؟”فاطمہ اب قدرے پر سکون ہو گئی تھی…
“جو آپ کھلائیں گی”
“نہیں میں نہیں کھلاؤں گی جس کے گھر جا رہے وہی کھلاۓ گی…ویسے مجھے لگتا وہ اپ کو مار ہی کھلائے گی” فاطمہ نے ہستے ہوۓ کہا
“کھلائیں تو صحیح ان کی مار بھی کھا لیں گے”رامش بڑے موڈ میں تھا
“اوہو کیا بات ہےجناب” فاطمہ نے مزاق اڑاتے ہوۓ کہا
“نہیں میرا مطلب تھا کہ…” رامش نے بات بدلنے کی کوشش کی لیکن بیکار…
“کیپٹن صاحب رہنے دیں دل کی بات زبان پہ آ ہی جاتی ہے”
“ویسے میں اسی لیے پوچھ رہی تھی کہ اگر مار کے علاوہ کچھ اور کھانا ہے تو بنوا دیتی ہوں لیکن نہیں اگر اپ کو یہی پسند ہے تو ٹھیک ہے”وہ بھی فاطمہ تھ اپنے نام کی ایک!
“چلو ٹھیک ہے اب کل ملاقات ہوتی ہے”
“رامش سے اب اور بات کرنا مشکل ہو گیا تھا اپنی چوری پکڑے جانے پر اس لیے جلدی سے کال بند کر کے مس میں چلا گیا…
جاری ہ
