653.1K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14

Ishq Baz by Monisa Hassan Episode14

رامش نے اسے کالر سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
“ایسا کبھی ہوا تو میں آرمی چھوڑ دوں گا” وہ چیلنج کرنے کے انداز میں بولا تھا
ہادی نے اس کی بات پر اسے جھٹکے سے پیچھے کیا تھا اسے لگا جیسے کسی نے اس پر ڈھیروں احساس ندامت چھڑکا ہو
“دل مانگ رہا ہے یہ تیرا_اور میں تیرا دل نکال کر تجھے تڑپتا ہوا کیسے دیکھ سکتا ہوں؟” وہ دل میں اس سے مخاطب تھا کیوں نکہ ابھی یہ سب براہراست اسے کہنے کی ہمّت نہیں تھی
“آرمی کوئی مذاق ہے جیسے جب تو چاہے چھوڑ دے؟” وہ آنکھوں میں ڈھیروں غصہ لئے اس سے پوچھ رہا نہیں
“نہیں آرمی تو زندگی ہے_اور جب تک زندگی ہے تب تک تجھے کوئی چیز نا دلا سکوں؟ ایسا ہو نہیں سکتا”
“وہ چیز نہیں ہے کوئی..” وہ ہنسا تھا
“پھر؟” اسے کچھ خطرہ محسوس ہوا تھا
“انسان ہے یار جیتا جاگتا” رامش کو لگا وہ مونث کو ہی مزکر بول رہا ہے
“Don’t you tell me that you’re in love”
رامش نے اسے انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا
اور جواب میں وہ پھر ہنس دیا تھا
“تو تو بیٹا گیا کام سے…” رامش نے بڑے افسوس سے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا
“کیوں سب کرتے ہیں میں نے کر لیا تو کیا بڑی بات؟ اس نے رامش سے پوچھا تھا
“میری جان وہ سب تجھ جیسے نہیں ہوتے…” رامش نے اسے شیشہ دیکھایا تھا
“اب تو ہو گیا…” وہ جیسے ہارا تھا
“کون ہے وہ؟”
“لڑکی…”
“شاباش…یہ ایک کام بڑا اچھا کیا تو نے” رامش جیسے امپریس ہوا تھا
“کہاں ملی تجھے؟”
“ایک فنکشن میں…”
“وہ بھی تجھ میں interested ہے؟”
جوابً اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“Love at first sight”
وہ بول رہا تھا اور رامش حیرانی و پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا
“رشتہ کب لے کر جانا ہے؟” رامش کی بات پر اس کے اندر کچھ ٹوٹا تھا
“کبھی نہیں”
“کیوں؟” رامش کو اب غصہ آیا تھا
“اب اتنی بڑی دنیا ہے مجھے کیا پتا اس کا گھر کدھر ہے؟” وہ معصومیت سے بولا تھا
“پھر تو تو لاعلاج ہے” رامش نے افسوس سے سر ہلایا تھا
“چل اب زیادہ اموشنل نا ہو سو جا کے…” ہادی نے جیسے سب ہنسی میں اڑایا تھا
رامش نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسے مارا تھا
“تجھے کہا کس نے تھا پنگے لے” وہ شاک میں تھا
“دل نے…” آواز لگا کر اس نے کمبل منہ پر اوڑھ لیا تھا
اور رامش اس کی نکل اتار کر رہ گیا تھا
******
فاطمہ رامش سے بات کر کے آیت کے پاس آئی تھی…
رات کافی ہو چکی تھی لیکن پتا نہیں کیوں اسے لگا تھا شاید وہ جاگ رہی ہو
رامش کی کسی خبر کی منتظر…
لیکن اس کی خلاف توقع وہ سوئی ہوئی تھی_بہت گہری پر سکون نیند
فاطمہ کو اس پر بہت پیار سے غصہ آیا تھا
“پاگل سی”
وہ اس کے ساتھ ہی آ کر لیٹ گئی تھی
اس کی نظر آیت کے چہرے پر گئی تھی…
اسے اندھیرے میں کھڑکی سے چاند کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بہت پرنور لگا تھا
وہ نیند میں مسکرا رہی تھی
فاطمہ کو اس پر ڈھیروں پیار آیا تھا
“کیسے کوئی کسی کی نیندیں اڑا کر اتنے آرام سے سو سکتا ہے” وہ سوچ کر ہنس دی تھی
زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں‌ مُبتلا نہ کرے
یہ بہاریں‌ جہاں جہاں جائیں
کوئی تجھ کو ان سے جدا نہ کرے
تیری زندگی کی روشنی کو
خُدا کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے
کِھلتے پھولوں کی رِدا ہو جائے
اِتنی حسّاس ہوا ہو جائے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اِتنا مہربان خُدا ہو جائے ۔۔۔!!
******
اس نے گاڑی یونیورسٹی کی پارکنگ میں کھڑی کی تھی اور اب اس کا رخ اندر کی جانب تھا جب اچانک سے رامش اس کے سامنے آیا تھا
“گڈ مارننگ”
وہ صبح صبح اسے ادھر دیکھ کر ڈھیروں حیران ہوئی تھی
وہ مسکراتا ہوا اس کے جواب کا منتظر تھا اور وہ بغیر کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی
“کیا ہوا…؟” وہ اسے خاموش پا کر بولا
اس کی آواز پر اس نے اپنی نظریں ہٹائی تھیں
وہ کچھ نہیں بولی تھی پھر اس کے سائیڈ سے گزر کر آگے بڑھ گئی
رامش کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا وہ فوراً اس کے پیچھے لپکا
“کیا ہوا آیت؟” اس نے پیچھے سے اس کی کلائی پکڑ کر روکا تھا
“چھوڑیں مجھے میری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے” وہ پلٹے بغیر بولی
“ایسے نہیں چھوڑوں گا پہلے بتاؤ کیا ہوا ہے؟”
“کچھ نہیں ہوا آپ جائیں ادھر ہی جدھر پچھلے دنوں سے غائب تھے” وہ اس سے شکوہ کر رہی تھی رامش کو خوش گوار حیرت ہوئی تھی
“آیت تم جانتی تو ہو کہ میں مصروف ہوتا ہوں”
“کہاں مصروف؟” وہ پلٹی تھی
“کام میں اور کہاں؟”
“تو پھر جائیں کریں کام کون روک رہا ہے اور مجھے بھی کرنے دیں” وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی
“ناراض ہو؟” وہ مسکراہٹ دباتا ہوا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
“جی نہیں” وہ ناراضگی سے بولی تھی
“مجھے تو یہی لگ رہا” وہ مزے سے بولا تھا
“ہمیشہ غلط ہی لگتا ہے آپ کو…” وہ معنی خیز لہجے میں بولی تھی
رامش اسے دیکھ کر رہ گیا تھا وہ آج اسے بہت بدلی سی آیت لگی تھی_اپنی اپنی سی
“چھوڑ بھی دیں کلاس شروع ہو جائے گی” اس نے اپنی کلائی کی طرف اشارہ کیا
“آج کلاس لینا ضروری ہے؟” وہ مدھم پڑا تھا
“جی بالکل…” وہ سپاٹ لہجے میں بولی
اس نے اپنی گرفت ہلکی کی تھی اور آیت اپنا ہاتھ کھنچ کر واپس مڑ گئی تھی
وہ رامش سے ناراض تھی اسے خود بھی رامش کو دیکھ کر پتا چلا تھا…
******
وہ جب سے یونیورسٹی آئی تھی ایک ہی جملہ وہ کوئی چوتھی بار سن چکی تھی وہ بھی بہت معنی خیز لہجے میں
“آپ سیم کی نئی فرینڈ ہیں نا؟”
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پوچھنے والے کا منہ توڑ دے اور پھر سیم کو اس دنیا سے ہی رخصت کر دے
“دیکھا منع کیا تھا نا میں نے کہ سب کے سامنے نا الجھو اس سے” فاریہ اسے ملامت کر رہی تھی
“تم الجھنے کی بات کر رہی ہو_میں دیکھنا اب اس کا حال کیا کرتی ہوں یہ سب اس بےشرم کی ہی شازش ہے” وہ اس وقت تپی بیٹھی تھی
“ہاں تاکہ اور بدنامی ہو” سارہ کو اس بےوقوف پر غصہ آیا تھا
“میری کوئی بدنامی نہیں ہو گی اس کی ہی ہو گی” وہ پتا نہیں کیا لاوا پکا رہی تھی یقینً اگر اسے سیم کا ڈیپارٹمنٹ اور کلاس کا پتا ہوتی تو وہ اب تک تین چار توپوں کی سلامی تو اسے پیش کر ہی چکی ہوتی
“پاگل مت بنو اگنور کرو آئندہ کچھ نہیں کرے گا وہ… اور اس کی کوئی سازش نہیں ہے اتنا ill mannered تو نہیں لگتا” آیت اسے سمجھا رہی تھی لیکن اس پر کسی چیز کا کوئی اثر ہی نہیں تھا
مشکل سے لیکچر ختم ہوا تھا اور وہ کلاس سے نکلی تھی
اب مزید برداشت تو اس میں تھی ہی نہیں تو اس نے پاس سے گزرتی لڑکی کو روک کر اس کا ڈیپارٹمنٹ اور کلاس پوچھ لی تھی اور حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس نے یہ تک نہیں پوچھا کہ کون سا سیم جیسے یونیورسٹی میں اس نام کا ایک ہی ہو
اور اس کی کلاس اور ڈیپارٹمنٹ ایسے فر فر رٹا ہوا تھا جیسے روز ادھر کا ایک آدھ چکر تو لگتا ہی رہتا ہو
وہ غصے سے سر جھٹک کر رہ گئی تھی
پھر جیسے دنیا جہاں کی ساری نفرت دل و چہرے پر سجائے وہ اس کے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھی تھی
کلاس میں وہ اسے سامنے ہی نظر آ گیا تھا
کیا سین تھا_دائیں بائیں لڑکیاں…
اور لڑکیاں تو چھوڑو لڑکے بھی اسے ایسے متوجہ ہو کر سن رہے تھے کہ کسی خزانے کا پتا بتا رہا ہو
اس نے آدھ کھلے دروازے کو زور سے دیوار پر مارا تھا اور تیز رفتاری سے چلتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی
سب ایک دم اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے
“یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟” وہ اس پر برسی تھی
اور باقی سب اسے ایسے منہ کھولے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی خلائی مخلوق ہو
وہ اس کا جواب دینے کی بجائے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“باہر چل کر بات کرتے ہیں” وہ وہاں موجود ان سب لوگوں کی خلاف توقع بہت ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا
“کیوں ادھر بات کرنے میں کیا مسلئہ ہے ان سب لوگوں کو بھی تو تمہاری اصلیت کا پتا چلے جو تمہارے پیچھے دم ہلاتے پھرتے ہیں” اس کے الفاظ تھے یا گویا کوئی بم جو اس نے اس وقت ان سب پر پھوڑا تھا
“اوئے تمیز…” ان میں سے ایک لڑکا اس کی طرف بڑھا تھا جیسے سیم نے پرے جھٹکا تھا
اور پھر غصے سے نور کو کھنچ کر باہر لے آیا تھا
“اگر ابھی ان میں سے کوئی تم پر ہاتھ اٹھا دیتا تو…” سیم غصے سے بول رہا تھا
“ایسے کیسے کوئی اٹھا دیتا؟”
“شاید تمہیں اپنے بولے گئے الفاظ کا اندازہ نہیں ہے”
“اور جو تم نے کیا ہے اس کا اندازہ ہے تمہیں؟”
“کیا کر دیا اب میں نے؟” وہ سینے پر ہاتھ باندھے پوچھ رہا تھا
“اتنے معصوم مت بنو صبح سے لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ سیم کی نئی فرینڈ ہیں نا؟ وہ بھی اتنے عجیب لہجے میں”
“کیا…؟ کون لوگ؟” وہ بھی حیران ہوا تھا
“ہاں جیسے تم تو جانتے ہی نہیں ہو…” نور کو اس کا انداز سلگا گیا تھا
“میں واقعی نہیں جانتا بتاؤ مجھے کون سے لوگ؟”
“کلاس فیلوز میرے”
“میں دیکھ لیتا ہوں ان کو…” وہ ماتھے پہ تیوری چڑھائے ہوئے بولا
“پہلے خود ان کے ساتھ فضول گوئی کر کے اب تم زیادہ بنو مت”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا” وہ سختی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا
“یاد رکھنا میں ان لڑکیوں میں سے بالکل نہیں ہوں جو تمہارے آگے پیچھے گھومتی ہیں یا تمہارا بائیو ڈیٹا رٹ کر پھرتی ہیں میں نور خان ہوں اور اپنی عزت کرنا اور کروانا خوب جانتی ہوں”
وہ کہہ کر رکی نہیں تھی اور وہ اس کی پشت کو گھور کر رہ گیا تھا
اب اندر کلاس کے ڈھیروں سوال اس کے منتظر تھے جن کا کوئی جواب ہی نا تھا اس کے پاس
******
آیت سب کو سی اوف کر کے گاڑی کی طرف بڑھی…
قریب آتے ہی صبح والا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا تھا بےاخطیار اس کے دل میں خواہش جاگی تھی
“کاش وہ سامنے ہوتا” پھر وہ خود ہی اپنی سوچ پر نادم سا ہنس دی تھی
آج کل وہ بہت خوش رہنے لگی تھی بات بےبات ہنس دیتی کبھی تو بلاوجہ ہستی تو ہستی ہی چلی جاتی اور یہ خوشگوار تبدیلی سب نے ہی محسوس کی تھی فاطمہ اور اس کی امی تو اس کی بلائیں لیتی نا تھکتی تھیں
گاڑی کا لاک کھول کر وہ اندر بیٹھی تھی تو بہت مانوس سی خوشبو نے اس کا استقبال کیا تھا
اگلا منظر دیکھ کر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا
رامش ساتھ والی سیٹ سے پشت لگائے منہ پر اپنے یونیفارم کی ہیٹ گرائے اسے سویا ہوا لگا تھا
اس نے ہارن پر ہاتھ رکھا تھا اور پھر اسے رامش نے بمشکل ہٹایا تھا ورنہ اس کا ارادہ تو پوری یونیورسٹی کو اکھٹا کرنے کا تھا
“یہ کسی کی گاڑی میں اس کی اجازت کے بغیر لاک توڑ کر گھسنا انتہائی غیر اخلاقی حرکت ہے” وہ قدرے اونچی آواز میں بولی تھی جو آج رامش پہلی مرتبہ سن رہا تھا
“میں نے کوئی لاک نہیں توڑا انتہائی معزز طریقے سے گاڑی کا لاک کھول کر بیٹھا ہوں”
“گاڈی کی چابی صرف میرے پاس ہے” اس نے جیسے اسے باور کروایا تھا
“میرے اپنے سورسز ہیں…” وہ بڑے پراعتماد لہجے میں بولا تھا
“فاطمہ ہوتی تو ضرور آپ کی اس حرکت سے امپریس ہو جاتی لیکن افسوس کے ساتھ مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا اب آپ نیچے اتر سکتے ہیں…” رامش اس کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا اسے یہ آیت اس ڈری سہمی زندگی سے ناامید آیت سے کئی گنا زیادہ پیاری لگی تھی
وہ اس کے اس طرح دیکھنے پر confuse ہوئی تھی
“اچھی لگ رہی ہو بولتی ہوئی…” وہ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بولا
اور وہ اس لمحے کو کوس کر رہ گئی تھی جب اس نے اس کر یہاں ہونے کی خواہش کی تھی
“چلاؤ گاڑی…” وہ ایسے بولا جیسے کس کا انتظار کر رہی ہو
وہ اگے سے کچھ بولتی کہ رامش کے expressions نے اسے چپ کروا دیا تھا
وہ گاڑی روڈ پر لے آئی تھی جب وہ بولا
“ناراض ہو؟”
وہ جواب میں خاموش رہی تھی
“میں جانتا ہوں تم کس لئے ناراض ہو…”
آیت نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا تھا لیکن بولی کچھ نہیں تھی
وہ بھی خاموش ہو گیا تھا
پھر کچھ دیر بعد اس نے بولنا شروع کیا تھا اور آیت بہت غور سے اسے سننے لگی تھی…
“اس رات تمہاری کال آئی اور تم کچھ نہیں بولی تھی
بس روتی رہی تھی
یقین مانو میں اتنا ڈر گیا تھا
کہ مجھ میں کچھ پوچھنے کی ہمّت ہی نہیں تھی
اس کے بعد تو جیسے میں خود سے ہی چھپتا رہا تھا
کہ میں نے خود پر ظلم کیا تھا
لیکن میرے دل کے کسی حصے میں بہت سکون بھی تھا
کہ تم خوش ہو…
لیکن میں یقین نہیں کر پایا تھا کہ تم اب کسی اور کی…
نا ہی کبھی کرنا چاہتا تھا
اس لئے فاطمہ کی ہر کال ہر میسج کو اگنور کرتا رہا
لیکن پرسوں رات کو
اس نے جب ہر رابطہ ختم کرنے کی دھمکی دی تو مجھ سے رہا نہیں گیا
میں جانتا تھا میرے بعد جو میرے لئے دکھی ہو گا
وہ وہی ہو گی
مجھ میں اسے دکھی کرنے کی ہمّت نہیں تھی
میں نے اسے کال کر لی
سوچا بہن کے لئے یہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لوں گا
لیکن
اس کال نے میری زندگی بدل دی
مجھے سکون دے دیا …”
وہ آج پہلی مرتبہ اتنے کھلے انداز میں اس کے سامنے اس کی اہمیت کا اظہار کر رہا تھا
اور وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی
خاموش بالکل خاموش
پھر ایک اسٹاپ پر رامش نے اسے گاڑی روکنے کا کہا تھا اور اتر گیا تھا
******
آدھی رات میں وہ چھت پر بیٹھا اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف تھا جو کہ بقول نور “آسمان کا ایکسرے کرنا” تھا
اسے رات بہت پرلطف لگتی تھی وہ جتنی بھی دیر اپنی مشق جاری رکھ لیتا کبھی نہیں تھکا تھا
اب بھی وہ کرسی پر ایک ٹانگ پر دوسری رکھے آسمان پر نظر جمائے ہوئے تھا…
یہ منظر جیسے اسے اپنے سحر میں جکڑ لیا کرتا تھا
آسمان پر ایک طرف سرخی پھیلی ہوئی تھی جو آہستہ آہستہ مدھم ہوتی ہوتی یکدم ہی سیاہ رنگ میں بدل رہی تھی تارے ایسے سجائے گئے تھے جیسے آسمان سجانے والے نے بڑی محنت سے انھیں اپنی اپنی جگہ پر پرویا ہوا ہو اور چاند کو جیسے ان سب کا king بنایا ہو سب سے خوبصورت…
کیسے کوئی اتنی خوبصورت تخلیق کر سکتا ہے جس میں کوئی کمی ہی نا ہو انسانی عقل تو اس جیسا تصور بھی نہیں کر سکتی…
“میسم…”
اچانک سے نور کی آواز پر وہ چونکا تھا
وہ شاید نیچے سے بھاگ کر آئی تھی اسی لئے اس کا سانس پھولا ہوا تھا
“کتنی دفعہ کہا ہے کہ آرام سے آیا کرو…” وہ اسے لمبے لمبے سانس لیتا دیکھ کر بولا
“تم نیچے کس کا سکیچ بنا رہے ہو؟” وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی
“تم پھر سے میری پینٹنگز دیکھ کر آئی ہو؟ منع کیا تھا نا کہ مکمل ہونے سے پہلے مت دیکھا کرو” وہ خفا ہوا تھا
“جو پوچھا ہے اس کا جواب دو” وہ سختی سے بولی تھی
“جب پتا چل ہی گیا ہے تو پھر کیوں پوچھ رہی ہو؟”
“یہ پتا چلا ہے کہ کوئی لڑکی ہے لیکن کون؟ یہ پتا نہیں چلا” وہ مایوسی سے بولی
“تو پھر سکیچ کمپلیٹ ہونے کا ویٹ کرو”
“نہیں مجھ سے نہیں ہو گا تم بتاؤ نا پلز” وہ بزد تھی
اس نے نفی میں سر ہلایا تھا
“تمہاری یہی سزا ہے یہ میرا سکیچ دیکھنے کی”
“اچھا چلو بس اتنا بتا دو کہ تم نے اس کے اینڈ پہ Miracle کیوں لکھا ہوا ہے؟ وہ حد سے زیادہ متجسس ہو رہی تھی
اس نے دوسری دفعہ اسے کسی لڑکی کا سکیچ کرتے دیکھا تھا
پہلی دفعہ وہ سکیچ آدھا تھا صرف آنکھیں اور بال…
اور اب بھی آدھا تھا صرف بال…
“بتا دوں گا…لیکن سکیچ ختم کرنے کے بعد”
“اچھا یہ تو بتاؤ اس دفعہ بھی تم آدھا ہی سکیچ کرو گے؟”
اس کی بات پر وہ مسکرا دیا تھا…
“نہیں اس دفعہ پوری کروں گا_انشااللہ”
“کیا یہ وہی ہے جس کا آدھا سکیچ تم نے بنایا تھا؟
“ہممم…”
“یہ کیا کہانی ہے؟” اس کا دل کیا تھا کہ کاش اس کے پاس اس لمحے کوئی ایک خوائش پوری ہونے کا چانس ہوتا تو وہ اس کے دل کا حال جان لیتی
“بتاؤں گا…” وہ اس کا گال تھپکتا اٹھ کھڑا ہوا تھا
******
آیت جب سے یونیورسٹی سے آئی تھی بہت الجھی الجھی سی تھی
رامش کی باتیں اسے بہت معتبر کر گئی تھیں_اس کی اپنی نظروں میں…
وہ کسی کے لئے اتنی اہم بھی ہو سکتی ہے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا
رامش نے آج پہلی دفعہ اسے اپنے جذبوں سے اگاہ کیا تھا_لیکن یہ اظہار “اظہارِ محبّت” نہیں تھا!
وہ تو بس اسے اس کی اہمیت کا اندازہ کروا کر گیا تھا
اسے جتا کر گیا تھا کہ وہ اس کے بغیر ادھورا ہے…!
آیت بے اختیار مسکرا دی تھی
“ایک غم کو دل سے نکال کر دیکھا تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں”
“لیکن میں پھر بھی آپ سے بات نہیں کروں گی” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے سوچا…
________
“دو دن بعد آیت کا برتھڈے تھا اور فاطمہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کے لیئے کیا سپیشل کرے_وہ ہمیشہ آیت کا گفٹ بھی اسی کے ساتھ جا کر ہی لیا کرتی تھی اور وہ وہ ہر دفعہ فاطمہ سے اس بات پر لڑتی تھی
“میری تو حسرت ہی ہے کہ تم بھی کبھی میرے لیئے کوئی سرپرائز گفٹ لاؤ” وہ اس کا ہر دفعہ کا کہا گیا جملا سوچ کر ہنسی تھی
“چلو کیا یاد کرو گی تمہاری یہ حسرت بھی پوری کر ہی دیتے ہیں” گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر نکلی تھی
بہت عرصے بعد وہ آیت کے بغیر شاپنگ کرنے آئی تھی…اسے عجیب لگا تھا جیسے آس پاس بہت بھیڑ میں بھی سناٹا ہو
دوسرا بڑا مسئلہ… اسے لینا کیا تھا یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا ایک دفعہ تو اس کا دل کیا ایسے ہی واپس چلی جاۓ لیکن پھر اپنی سوچ کی نفی کرتی وہ آگے بڑھی تھی
لیکن اگلا منظر دیکھتے ہی اس کو اپنی سوچ پر عمل نا کرنے پر بے انتہا افسوس ہوا تھا
بالکل سامنے ہی وہ بڑے بڑے قدم اٹھاتا ایک ہاتھ میں سگرٹ دباۓ دوسرے ہاتھ سے اپنے بال درست کرتا یقینً ہادی ہی تھا جو اسے دیکھ چکا تھا
“دیکھا میری سکس سینس پہلے ہی خطرے کا الارم بجا رہی تھی” اب بھاگنا بےکار تھا کیونکہ وہ اس کی طرح ال مینرڑ نہیں تھی اس لیئے اس نے بھی چہرے پر مدھم مسکراہٹ سجا کر اس کو سلام کیا تھا
جس کا جواب خلاف توقع مسکراہٹ کے ساتھ ہی آیا تھا
“مجھے پتا نہیں تھا کچھ خواہشات اسی لمحے بھی پوری ہو جاتی ہیں جس لمحے انہیں مانگا جائے”
“جی؟” اس کی بات فاطمہ کےاوپر سے گزری تھی
“کچھ نہیں…کیسی ہیں آپ؟” اس نے ہنسی میں بات اڑائی تھی
اور فاطمہ کو یقین نہیں آیا تھا کہ وہ ابھی ہنسا تھا وہ بھی اس کے ساتھ…
“جی ٹھیک” وہ اتنا ہی بول پائی تھی
“Coffee?” وہ اسے کافی کی آفر کر رہا تھا
“یقیناً یہ کوئی معجزاتی دن تھا” فاطمہ نے سوچا تھا
وہ اسے منع کرنا چاہتی تھی لیکن پھر اس نے خود کو کہتے سنا
“Yes sure”
اس نے مسکرا کر اس کو آگے چلنے کا اشارہ کیا تھا
“اکیلی آئی ہیں؟” وہ اس کے ہمراہ چلتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“جی آیت کا برتھڈے ہے تو اس کا گفٹ…”
“اوہ! تو لے لیا؟”
اس نفی میں سر ہلایا تھا
“کبھی اکیلی آئی نہیں ہوں شاپنگ کرنے اس لیئے سمجھ نہیں آ رہا کیا لوں”
“چلیں پھر پہلے گفٹ لے لیتے ہیں آئی ول ہیلپ یو” وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا
اور وہ اسے اتنے غور سے دیکھ رہی تھی جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ واقعی یہ وہی اکڑو کھڑوس ہادی ہی ہے_ہادی اس کا اس طرح دیکھنا نوٹ کر گیا تھا تب ہی وہ گڑبڑا کر بولی
“آپ کو کیا پتا لڑکیوں کو کیا پسند ہے”
اس کے جواب میں ہادی کا قہقہ بلند ہوا تھا اب وہ اسے کیا بتاتا کہ سارہ اسے کتنا خوار کر چکی ہے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *