Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan (Last Episode)

Ins o jaan by Maimona Aman

نہیں۔۔۔ میں خوشی سے کہہ رہی ہوں۔عورت ہوکر میں عورت کا درد نہ سمجھوں؟

تم بہت عظیم ہو سالویہ۔۔۔کوٸی عورت شراکت برداشت نہیں کرتی۔لیکن تم میرے لیے اتنی بڑی قربانی دے رہی ہو۔

مجھے تمہیں پانے پر فخر ہے۔

وہ جھلملاتی آنکھوں سے مسکرادی۔

میں ایک جاٸز عمل کو ناجاٸز کیسے قرار دے سکتی ہوں۔دوسری شادی کرنا حرام تو نہیں۔اگر میں سب جانتے ہوۓ بھی تم سے یہ خوشی چیھین لوں تو رب مجھ سے ناراض نہ ہوجاۓ۔

اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جس کا خاوند اس سے راضی ہو۔

اب دیر مت کرو۔۔دادا جی نے انکی باتیں سن لی تھی۔اب عقب سے آکر مسکراتے ہوۓ کہا۔

دادا جی مجھے معاف کردیں۔۔۔میں نے آپ سے چھپایا۔۔

جا پتر معاف کیا۔۔۔میرا دل کہتا ہے رب کو یہی منظور ہے۔یہ لڑکی تیرے نصیب میں لکھی ہے۔مجھ سے اسکا رونا نہیں دیکھا جارہا۔اگر تو برابری رکھ سکتا ہے تو شریعت نے بھی اجازت دے دی ہے۔

انسان اور جنات کی شادی کے کٸی واقعات ہیں۔ایسا ہوتا ہے پتر اس دنیا میں۔

مجھے زیادہ نہیں چاہیے۔انکا نام چاہیے اور ساتھ۔میرا اپنا محل ہے۔بس وہیں آنے کے لیے کچھ وقت نکال لیا کریں۔میں آپکی زندگیوں پر اثر انداز نہیں ہوں گی اور نہ ہی آپ کو میری موجودگی کا احساس ہوگا۔

پری نے ادب سے ان سب کو مخاطب کرکے کہا۔

پہلے ہمارے رواج کے مطابق محل میں نکاح ہوگا پھر آپ اپنی رسم کرلیجٸے گا۔آپ کی اجازت ہو تو میں انہیں لے جاٶں؟

اس نے اجازت طلب نظروں سے عبداللہ کی والدہ زینت بیگم کو دیکھا اور اجازت ملنے پر عبداللہ کو لے کر غاٸب ہوگٸی۔

عبداللہ نے اسے بھلانے کی کوشش کی تھی۔تمام تر جدوجہد کے بعد اسنے قسمت سے سجھوتہ کرلیا تھا۔سالویہ کو کھلے دل سے قبول کرلیا تھا۔اور آج وہ ۔۔۔اسکی محبت اسے مل گٸی تھی یہ اسکے صبر وتحمل کا صلہ تھا۔

____________

رات کے تین بج رہے تھے-وہ عشا کے بعد سے جا نماز پر بیٹھی تھی-سر جھکاۓ کبھی خلاؤں میں گھورتی وہ تسبیح کے دانے گراتی رہتی تھی-اب تو اسکی آنکھیں بھی خشک ہوگئی تھیں لگتا تھا کہ وہ ان کا سارا پانی بہا چکی ہے-

اب وہ خوفناک حد تک خالی تھیں -آج اسے یہ کرتے ہوۓ تیسری رات تھی-اس لمحے کا انتظار تھا جس میں اسکے اس ورد کا مقصد حاصل ہونا تھا–آج اسکے ساتھ اس گھر کا ہر مکین جاگ رہا تھا-کئی روز پہلے اس گھر پر قیامت صغری ٹو ٹی تھی–اور وہ جو اسکی ذمہ دار قرار دی جاتی تھی مسلسل خود کو اذیت میں رکھے ہوۓ تھی-سب افراد خاموشی سے بڑھتے ہوۓ وقت کے ہر لمحے کو گن رہے تھے–ہر گھڑی اتنی بھاری تھی کہ وہ اسکا بوجھ سہارتے سہارتے تھک چکے تھے-ایک وہ تھی جو وقت کے حساب کتاب سے بے نیاز ہوگئی تھی–

دل کی دھڑکنیں رک رک کر چلتی تھیں-وہ سب ایک انہونی کے منتظر تھے-ایک انہونی تو ہوچکی تھی-اب بھی سب اتنا عجیب لگتا تھا کہ کوئی سن لیتا تو کہتا کہ ابراہیم ولا کا ہر فرد دیوانہ ہوگیا ہے-عقل سے ماورا باتیں کرتا ہے-پر ان پر بیت چکا تھا-

گھڑی کی سوئی دھیرے دھیرے ساڑھے تین بجانے کے لیے پانچ کے ہندسے سے چھہ کی طرف بڑھ رہی تھی-لاؤنج میں بیٹھا ہر شخص اپنی جگہ ساکت تھا-جیسے ہی سوئی چھہ پر پہنچی تو لان سے ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی-جیسے کسی نے منوں وزنی پتھر دے مارا ہو-پورے ولا کے درودیوار ہل گۓ تھے-

اسکے منہ سے نکلا-ہاۓ میری بچی-وہ اٹھ کے باہر کو دوڑی-لگتا تھا وہ جو اتنی دیر سے گم سم بیٹھی تھی اب ہوش میں آگٸی ہے۔

رک جاؤ شمع–اپنی جگہ سے مت ہلو-صفیہ بی بی نے چیخ کر کہا-ابراہیم نے تیزی سے دوڑ کر اسے پکڑا-

مت جاؤ-کیوں اپنی اور ہماری جان کی دشمن بنی ہو-اس نے اسے زبردستی کھینچ کر جا نماز پر بٹھایا–دیکھو ساری محنت ضائع ہوجاۓ گی تم اپنا وقت مکمل کرو–

وہ پھر سے تیز تیز تسبیح کے دانے گرانے لگی-

اب باہر عجیب و غریب شور مچا تھا-جیسے کوئی زبردست جنگ جاری ہو-پھر کوڑے مارنے کی آوازیں آنے لگیں–ساتھ ہی شزا کی دلدوز چیخیں –جو رات کے سناٹے کو چیرتی اسے اور بھی بھیانک بنا رہی تھیں-

مما–بچاؤ–مما—پلیز–

اسکی منت بھری آواز نے شمع کو پھر سے متزلزل کیا–وہ پوری قوت سے اٹھ کر بھاگی-

ابراہیم نے اسے جالیا پر وہ اسکی گرفت سے آزاد ہوگئی تھی-

جبرٸیل۔۔ پکڑو اسے-وہ تینوں بھاگ کر آۓ اور ماں کو اپنی گرفت میں لیا-باہر چیخوں میں اور شدت آگئی تھی-

مجھے جانے –دو—وہ–وہ–مر جاۓ گی-وہ چار مردوں کے قابو نہیں آرہی تھی جانے اس میں اتنی قوت کہاں سے آگئی تھی-

نہیں مرتی—ہوش میں آؤ-ابراہیم نے اسے کھینچا–

مما—مما—میں مر جاؤں گی–مجھے بچالو–باہر سے سناٸی دیتی چیخوں میں اور شدت آگٸی تھی۔

اسنے ابراہیم کو زور سے دھکا دیا اسکے ساتھ فاٸز اور فاٸق بھی جا گرے-جبرٸیل کے بازو پر اس نے زور سے کاٹا اور لاؤنج کا دروازہ کھول کے نکل گئی-

آگے جو ہونے والا تھا اسے سوچ کر سب کی روح فنا ہونے لگی-

اسکے لمبے سیاہ بال بکھرے ہوۓ تھے-آنکھیں سرخ انگارہ تھیں–سرخ رنگ کا عجیب سا لباس پیروں تک آرہا تھا-وہ کھڑی اسے گھور رہی تھی-

شزا تم ٹھیک ہو–وہ لڑ کھڑاتے قدموں سے اسکی طرف بڑھی-اسنے کوئی جنبش نہ کی-

کیوں بلایا ہے مجھے–؟

اسکی آواز اتنی بھاری تھی کہ شمع کا دل دہل گیا-ادھر آؤ میرے پاس میری بچی-

وہ جو کب سے ساکت کھڑی تھی بجلی کی رفتار سے آگے بڑھی اور اسکے بال پکڑ لیے-

چھوڑو یہ کیا کر رہی ہو شزا-

شمع نے بھاگنا چاہا-اسنے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا اور اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگی-شمع کی چیخیں ان سب کی جان نکالنے کو کافی تھیں–

وہ لاؤنج کے دروازے میں کھڑے اس وحشت ناک منظر کو دیکھ رہے تھے-

اماں—اماں–وہ مار دے گی اسے–ابراہیم نے سن کھڑی صفیہ کو ہلایا–

پڑھو سب—جو وہ پڑھ رہی تھی–

وہ چلائی—-سب اونچا اونچا آیت الکرسی کا ورد کرنے لگے–

وہ کسی مشین کی طرح اپنی ماں کو مسلسل لان میں گھسیٹ رہی تھی–

جبرٸیل —تم —بابا صا حب کو فون ملاؤ—جلدی کرو–فون—ک— کدھر ہے-

ابراہیم بد حواسی کے عالم میں ادھر ادھر ہاتھ مار رہے تھے-بابا–میں کرتا ہوں فون-آپ پریشان نہ ہوں–

شمع نیم بے ہوش ہوچکی تھی-شزا اب بھی اسے گھسیٹ رہی تھی-مگر اب رفتار کم ہوگئی تھی–

پڑھو آیت الکرسی—صفیہ اونچی آواز سے خود بھی ورد کر رہی تھی-

اے مائی–نہ پڑھ یہ میں تجھے جلادوں گی-شزا کی بھدی آواز لان میں گونج رہی تھی–

اب سب افراد اونچی آواز سے ورد میں لگے تھے-

منع نہیں کیا –تمہیں–یہ مت پڑھو–وہ اب شمع کو چھوڑ کر چنگھاڑتی ہوٸی انکی جانب لپکی–ابراہیم نے جلدی سے دروازہ بند کردیا-اس وقت وہ انہیں اپنی بیٹی نہیں کوٸی بھیانک بلا لگی تھی۔

وہ پوری طاقت سے دروازہ پیٹنے لگی–لاؤنج کے در و دیوار میں ارتعاش پیدا ہوگیا تھا-اور وہ لرز رہے تھے۔

بابا جی—-وہ–شزا۔۔۔وہ م۔۔مما۔۔اسکی آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔

جبرٸیل فون پر بابا صاحب سے بات کررہا تھا-

میں کچھ نہیں کرسکتا–تمہیں پہلے کہا تھا کہ وقت پورا کرنا ہے-اب وہ لوگ غالب آگۓ ہیں تم سب کی وجہ سے میرا کتنا نقصان ہوا ہے جانتے ہو-

سپیکر پر بابا صاحب کی جلالی آواز گونجی–

اللہ کے واسطے بابا جی کچھ کریں-وہ –شمع –شزا–مرجائیں گی-ابراہیم بیٹے سے فون لیتے ہوۓ گڑگڑایا–

دوسری طرف سے رابطہ منقطع کردیا گیا-

دروازہ اب بھی پیٹا جارہا تھا—اب اسکے بین بھی شروع ہوگۓ تھے–

جیسے کسی مرگ پر عورتیں بین کرتی ہیں اب باہر سے ویسی ہی آوازیں آرہی تھی-انتہائی بھیانک اور دل دہلا دینے والی —

فائق نے ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے دیکھا—اب وہ اپنے بال نوچ رہی تھی- اور آنکھوں کے ساتھ اسکا جسم بھی سرخ انگارہ ہوتا جارہا تھا–وہ کوٸی بد روح دکھاٸی دے رہی تھی۔

سامنے کا منظر انتہاٸی روح فرسا تھا۔مضبوط حواس والا شخص بھی اسے دیکھ کر ہوش کھو بیٹھتا۔

لان کے وسط میں شمع اوندھے منہ بے ہوش پڑی تھی–

کافی دیر وہ بین کرتی اور بھیانک چیخیں مارتی لان کے چکر لگاتی رہی–اور آخر ایک دلدوز چیخ مار کر بے ہوش ہو کر گر پڑی–

———————————-

وہ کلام ربی کی طاقت سے اسے واپس چھوڑ گۓ تھے مگر شمع نے وقت پورا نہیں کیا تھا اس لیے وہ جن شزا کے ساتھ ہی چمٹے رہ گۓ تھے۔اور اس میں گھس کر انہوں نے پورے گھر کو دہلا دیا تھا۔آخر بڑے مولوی صاحب نے خود آکر ان جنات کو قابو میں کیا اور کلام الہٰی سے انہیں جلاکر بھسم کردیا۔

شزا کی ذہنی حالت بہت ابتر تھی۔وہ چند روز اس جادوگر کی قید میں رہی تھی اور وہاں اس پر ظلم کے پہاڑ ےتوڑے گۓ تھے۔جنات کے ذریعے بھی اور تبریز اور اسکے باپ کے ہوس پرست ساتھیوں کے ذریعے بھی۔

وہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں زیر علاج تھی۔جیسے ہی وہ ہوش میں آتی۔چیخنے چلانے لگتی۔وہ زیادہ وقت نشے کی دواٶں کے زیر اثر رہتی تھی۔شمع اسکے سرہانے بیٹھی اسکی حالت دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔اسکے خوبصورت بال کاٹ دیے گۓ تھے۔اور جسم کی ہڈیاں ابھر آٸی تھیں۔وہ کسی لاش کی طرح جی رہی تھی۔

وہ بھیانک مناظر اسکے لیے سوہان روح ہوگۓ تھے۔اسکا چہرہ اتنا بد صورت لگتا تھا کہ اسے کوٸی پہچان نہ پاتا تھا۔تبریز نے تمام گناہوں کے ظاہری نشان مٹادیے تھے۔وہ اب اس بوجھ سے آزاد تھی مگر روح کے بوجھ۔آزار اور نشتر اسے چھلنی چھلنی کررہے تھے۔وہ ہر سانس کے ساتھ مررہی تھی۔

بہت دن وہ اسی ہسپتال میں پڑی رہی۔اسکا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا۔اب وہ ہوش میں آنے پر پہلے کی طرح چیختی چلاتی نہیں تھی بس چپ چاپ بت بنی دیوار کو تکتی رہتی۔اکثر اسکا سانس اس قدر بند ہوتا کہ وہ مرنے کے قریب پہنچ جاتی۔آکسیجن ماسک اسکے جینے کا سہارا تھا۔

شمع اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی۔۔دادو اسکی حالت پر ماتم کرتی۔۔اور اسکا باپ کندھے جھکاۓ آتا اور اسے دیکھ کر سر جھکاۓ چلا جاتا۔چند ہی دنوں میں وہ بہت بوڑھا ہوگیا تھا۔شمع میں کسی سے نگاہ ملانے کی ہمت نہیں تھی۔

وہ بس اپنی لاش نما بیٹی کو تکتی رہتی اور جب دل بھر آتا تو کمرے سے باہر نکل کر آتے جاتے لوگوں کو تکتی رہتی۔

وہ کیسی ماں تھی جس نے ماڈرنزم کے چکر میں اپنی بیٹی کی تربیت ہی ٹھیک نہیں کی تھی۔؟

اسے اچھے برے کی تمیز نہیں سکھاٸی تھی۔مناسب لباس پہننے کی عادت نہیں ڈالی تھی۔فیشن اور عریانی میں اسکا ساتھ دیا تھا۔نماز قرآن سے اسکا دل نہیں لگایا تھا۔

اپنی تجربہ کار ساس کی باتوں پر کبھی دیہان نہیں دیا تھا۔اور اب پچھتاوے کے سوا کچھ نہ تھا۔اب وہ ہر اس ماں کو جس کے ساتھ بیٹی ہوتی۔۔نصیحتیں کرتی تھی اپنی کہانی سنا کر ڈراتی تھی عبرت دلاتی تھی۔پر اسکی طرح کچھ ماٸیں کان دھرے بنا اسے پاگل سمجھ کر گزر جاتیں۔

اب بھی وہ باہر بیٹھی کسی عورت کو نصیحت کرنے کی کوشش کررہی تھی۔

شزا آکسیجن ماسک چڑھاۓ دیوار کو گھور رہی تھی۔یکدم سارے مناظر اسکی نگاہوں سے نکل کر سامنے دیوار پر چھاگۓ۔چھوٹی سی گول مٹول سی اٹکھیلیاں کرتی شزا سے لے کر بڑے ہونے تک۔۔۔کے سارے مناظر ایک ایک کرکے گزر رہے تھے۔

اس نے کھینچ کے آکسیجن ماسک اتارا اور ایک طرف لگے آٸینے میں اپنا عکس دیکھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔یہ شزا نہیں تھی۔۔۔کوٸی بد صورت بد روح تھی۔اعمال کی کالک نے چہرہ سیاہ کردیا تھا اور بھیانک بھی۔آج اسے اپنی روح کی غلاظت چہرے پر دکھاٸی دے رہی تھی۔اب سب لٹ جانے کا ملال ہورہا تھا۔

میں کیوں زندہ ہوں؟۔۔کس لیے؟ اس نے پھولی سانسوں کے درمیان اپنے آپ سے پوچھا۔

مجھے مرنا ہے۔۔۔مرنا ہے۔۔۔سانس رک رک کر آرہی تھی مگر بند نہیں ہوٸی تھی۔

شزا مرے گی۔۔۔شزامرگٸی۔۔۔وہ پاگلوں کی مانند چلارہی تھی۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا گلہ دبایا۔آنکھیں ابل کر باہر آرہی تھیں۔تکلیف ہورہی تھی۔مگر وہ دباتی گٸی آس پاس کوٸی نہیں تھا۔

دیوار سامنے سے ہٹ گٸی تھی۔چھت بھی اور سارا ہسپتال۔۔وہ اندھیرے میں کھڑی تھی۔ہیبت ناک سے ہیولے دہکتے لوہے کی بڑی بڑی کنگھیاں اور گرز اٹھاۓ اسکی طرف بڑھ رہے تھے۔اس کے پیر پر ایک شدید ضرب لگی تھی۔یہ ساری زندگی کی اذیتوں سے شدید تھی۔

اسکی غلاظت بھری روح کو کھینچا جارہا تھا۔سامنے بہت بڑا الاٶ تھا۔دیو قامت اژدھے پھنکار رہے تھے۔الاٶ دہک رہا تھا اور اس سے چنگاریاں اٹھ رہی تھیں۔بدلے کا وقت آگیا تھا۔اسکے جسم کا قیمہ قیمہ کرکے ہر عضو سے جان نکالی گٸی۔وہ تڑپ رہی تھی۔چیخ رہی تھی۔مگر کوٸی سن نہیں سکتا تھا۔

نرس جب راٶنڈ پر آٸی تو اسکی گردن ایک طرف کو لڑھکی تھی۔ہاتھ گردن سے چپکے تھے۔آنکھیں باہر کو لٹکی تھیں۔زبان دانتوں میں آکے کٹ گٸی تھی۔بدن سمٹ کے گٹھڑی بنا ہوا تھا اور اکڑ چکا تھا۔

نرس چیخ مار کے باہر بھاگی۔ایسی بھیانک موت اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔

”ان اللہ تواب رحیم۔۔

اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“

کاش شزا ابراہیم نے کبھی پڑھ لیا ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد

**************

الحَمْدُ ِلله صد الحَمْدُ ِلله

میرا یہ دوسرا ناول قریباً اڑھاٸی ماہ کے عرصے میں کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچا۔

آپ سب۔۔۔جو میرے ساتھ رہے۔۔پڑھتے رہے۔۔۔سراہتے رہے۔۔۔سب کا تہہ دل سے بہت شکریہ۔

آپ سب کے ساتھ کی بدولت ہی میں اپنی اس کاوش میں کامیاب ہوٸی ہوں۔

جو بھی میرے قلم سے لکھا گیا سب اللہ رب عزوجل کاکرم ہے نہ میراکوٸی کمال ہے نہ دوش۔اس نے ہی مجھے علم دیا اور ذہن۔

اس سفر میں آپ قارٸین کا فیڈ بیک میرے لیے بہت اہم رہا۔مجھے اکثر نے یہی کہا کہ آپ سب سے الگ لکھتی ہیں اور آپ کے ناولز سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

میری یہی کوشش ہے کہ اگر میرے پاس علم ہے تو اسے آگے پھیلاٶں۔اور میں فیری ٹیلز یا رومانس نہیں لکھتی۔جو بھی لکھتی ہوں سچ اور حقیقت سے قریب۔ساری معلومات مستند ذراٸع سے حاصل کی ہیں من گھڑت نہیں۔اسی لیے میں قرآنی آیات کے حوالے بھی دیتی رہتی ہوں۔

بہت سے قارٸین قسط پڑھ کر بغیر کمنٹ کیے گزر جاتے ہیں۔یا ناٸس اور نیکسٹ کا کمنٹ کردیتے ہیں۔

مگر آج تو آخری قسط ہے مجھے سب کی راۓ جاننی ہے۔۔کیا اتنا بھی حق نہیں؟آپ کو بلا معاوضہ اور بنا لالچ کے یہ ناول پڑھنے کو ملا ہے۔تو کم از کم کچھ تو بتاٸیے۔

کیا اچھا لگا؟

کیا برا لگا؟

کیا سیکھا آپ نے؟جس پر عمل کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کون سا کردار سب سے اچھا لگا؟کون سا برا؟

یا آپ کہتے ہیں کہ اس کا اختتام ایسے نہیں ایسے ہونا چاہیے تھا۔؟

کسی کردار کے ساتھ نا انصافی ہوٸی ہے؟

یا آپ ناول کو لے کر کوٸی سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟

تنقید کرنی ہے تو وہ بھی کیجٸے۔مگر اسکا مقصد دل آزاری یا ہتک نہ ہو۔مثبت انداز میں کیجٸے۔تاکہ میں اپنی کوتاہیاں جان سکوں۔

مجھے انتظار رہے گا۔

”انس و جان“۔۔۔۔انس۔۔۔انسان کی جمع ہے اور جان عربی میں جن کی جمع۔۔۔یعنی انسان اور جن کا تعلق۔

بہت سے لوگ جنات پر یقین نہیں رکھتے لیکن شیطان کا انکار کوٸی نہیں کرتا۔۔سب جانتے ہیں کہ وہ آگ سے بنایا گیا تھا اور جن بھی آگ کے بنے ہیں۔۔۔

جیسا کہ سورة الرحمٰن میں ارشاد ہے۔

”وخلق الجان من مارج من نار

اور ہم نے جنات کو بے دھوٸیں کی آگ سے پیدا کیا“

تو جنات کے ہونے میں کوٸی شک نہیں۔آپ سورة جن کا ترجمہ ایک بار ضرور پڑھیے گا۔سارا شک دور ہوجاۓ گا۔اور یہاں میں اسکی ایک آیت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گی۔۔

”اور جب اللہ کا بندہ (مُحَمَّد ﷺ) ان۔جنات ۔ کو اللہ کی طرف بلانے کیلٸے کھڑا ہوا تو وہ۔۔جنات۔۔اسے سننے کے لیے اس کے گرد جمع ہوگۓ“۔۔۔۔آیت نمبر ١٩۔سورة الجن۔

اور جہاں تک بات انسان اور جن کی شادی کی ہے تو یہ ہوتا ہے اسی دنیا میں۔۔جیسا کہ میں نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں لکھتی یہ بات بھی میں ایک مستند ذریعے سے حاصل کیے گۓ علم کی بنیاد پر کہہ رہی ہوں۔

جنات کا ہماری زندگی میں بہت عمل دخل ہے۔ہمارے مساٸل امراض پریشانیوں میں انکا بہت ہاتھ ہے۔میں نے اس ناول کے ذریعے یہی سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ان سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔۔۔اللہ کے قریب ہونا۔۔جو ہم پر فرض کیا گیا ہے نماز قرآن اور حفاظتی اعمال۔۔۔ان سب پر پورے یقین سے عمل کیا جاۓ۔جب آپ اللہ کو یاد کرتے ہیں تو وہ آپ کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کردیتا ہے اور جب آپ چھوڑ دیتے ہیں تو ساری حفاظت ہٹ جاتی ہے۔پھر پریشانیاں اور مصیبتیں ڈیرہ ڈال لیتی ہیں۔

ایسے ہی تو نہیں ہمیں مسنون دعاٸیں سکھاٸی گٸیں۔اور سب سے بڑھ کر۔۔

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔

ابلیس تمام جنات کا سردار اور جد امجد ہے۔اور یہ جنات اسکی نسل ہیں شریر جنات ازل سے انسان کے دشمن ہیں۔۔یعنی جدی پشتی دشمنی ہے۔باوا آدم اور ابلیس کی۔۔۔نسل در نسل چلے گی روز قیامت تک۔

اب آتے ہیں شزا کی طرف۔میں نے اسکا کردار اسکے بچپن سے اس ناول میں دکھایا۔میں اس سے بالغ عمر سے بھی دکھاسکتی تھی۔مگر میں نے ایسا صرف اس لیے کیا کہ تربیت کا بچے کے کردار پر بہت اثر ہوتا ہے۔اسکی ماں نے اسکی تربیت میں مکمل کردار ادا نہیں کیا۔غلط اور صحیح کا فرق نہیں بتایا۔اسکا انجام عبرت ناک ہوا۔۔۔ایسا ضروری تھا کیونکہ اسے غلط صحیح کی پہچان نہیں کراٸی گٸی تھی۔اسکی ماں نے اسکو اپنی غلطیاں ڈھونڈنا اورمعافی مانگنا نہیں سکھایا تھا۔وہ رب سے توبہ کرلیتی تو حرام موت نہ مرتی۔

یہ ہوتا ہے۔۔۔اخبار بھرے ہوتے ہیں نو عمر بچوں کی خود کشی کی خبروں سے۔۔

جب بچپن میں ہی یہ سب نہیں سمجھایا جاۓ گا۔۔تو آپ لاکھ بچے کے بڑا ہونے پر اسے سدھاریں۔۔کچھ نہیں ہوگا۔

باپ کا کردار ایک سرپرست اور کمانے والے کا ہوتا ہے۔تربیت کا سارا انحصار ماں پر ہے۔آپ ایک اناڑی شخص کو اپنی گاڑی دے دیں تو وہ آپ کو تباہ کرکے لوٹاۓ گا۔

آپ کبھی کسی ایسے انسان کو اپنی قیمتی چیز نہیں دیں گے۔

میری پیاری بہنو۔۔۔مستقبل اور حال کی ماٶں۔۔۔آپ کی اولاد رب کی امانت ہے۔کیا اسے آپ تباہ کرکے لوٹاٸیں گی؟تو کیا آپ ماں جیسے اعلیٰ مرتبے پر فاٸز ہوکر اس عہدے کو ایمانداری سے نہیں نبھاٸیں گے۔ہر عہدے کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور انکو پورا کرنے کے لیے ٹریننگ چاہیے۔تو ایک بہترین ماں بننے کے لیے اپنی تربیت کریں ریسرچ کریں کہ بچے کی تربیت کیسے بہترین ہوسکتی ہے۔اسکی نفسیات کو سمجھیں۔

اگر آپ نے بچے کی اچھی تربیت کرنی ہے تو۔۔۔پہلے دن سے کریں۔۔جی پہلے دن سے۔۔۔

اپنے آپ کو مثال بنا کر پیش کریں۔نیکی بردباری اور اچھاٸی کی تلقین کرنے سے تربیت نہیں ہوتی۔۔عمل کرکے دکھاٸیے۔ایماندار رہیے۔اپنے بچوں کے سامنے بھی اور ان سے پوشیدہ بھی۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ اب چھوڑو کرنے دو مت روکو۔۔۔بچہ ہے۔۔بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ جاۓ گا۔۔بڑا اگر کیچڑ میں ہوگا تو کیا موتی اگلے گا؟

بچپن سے ہی اگر اچھاٸی براٸی کی تمیز نہ سکھاٸی تو کبھی نہیں آۓ گی۔

یہ نٸی نسل ذہنی اور جسمانی طور پر اور کردار کے لحا ظ سے صحت مند ہوگی تو معاشرہ بھی پر امن ہوگا۔

معاشرے میں آپکا حصہ ہے اسے تباہ مت کیجٸے گا۔اولاد دنیا اور آخرت میں راحت اور نجات کا باعث ہے۔

ہم آج زوال کا شکار اس لیے ہیں کہ ہمیں اسلام دقیانوسی دین لگنے لگا ہے اور ہم اندھا دھند یورپ کی تقلید کررہے ہیں ماڈرن کہلانا چاہتے ہیں۔اور دوسری جانب وہ لوگ اسلام پر عمل کرکے معاشرے کو سنوارنے کی کوشش کررہے ہیں۔اسکے احکامات پر ریسرچ کرکے انکی لوجکس تلاش رہے ہیں اور ان پر عمل کررہے ہیں۔

صرف ایک مثال دوں گی۔

آج یورپ میں بچے کی خوراک اور دیگر اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے۔۔۔تاریخ اسلام اٹھا کر دیکھیے۔۔۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نافذ کردہ نظام ہے۔۔۔یورپین ممالک میں آب زم زم پر ساٸنسی تحقیقات ہورہی ہیں وضو سے پاگل پن کا علاج ہورہا ہے۔روزے سے معدے کے مساٸل کا علاج کیا جارہا ہے۔۔۔

کیوں؟اور ہم کہاں کھڑےہیں؟

میں روز ایک لمبا سفر کرتی ہوں اور بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔واللہ دل کڑھتا ہے۔

میں کوٸی بہت بڑی بی نہیں۔۔ایم فل کی سٹوڈنٹ ہوں۔بس وقت نے بہت سکھادیا ہے اور رب کریم نے شعور سے نوازا ہے۔

اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔۔۔اور ہمارا حامی وناصر ہو۔

مجھے آپ سب کی پر خلوص دعاٸیں چاہیں۔

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *