Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan by Maimona Aman

چاروں بہن بھائیوں میں نو سالہ جبرئیل بڑا تھا اور سب سے زیادہ فرمانبردار اور تمیز دار-وہ دادی اور باپ کے ساتھ ہی علی الصبح فجر کے لیے جاگ جاتا تھا اور باقاعدہ مسجد میں با جماعت نماز پڑھتا تھا-باقی بہن بھائی اور ماں اپنی نیند پوری کرکے عین سکول کے ٹائم ہر اٹھتے تھے-اور پھر افراتفری میں ناشتہ کیا جاتا جو دادی پہلے ہی بنا کے رکھ دیتی تھی-اور بھاگم بھاگ سکول کی تیاری ہوتی اور اکثر شزا فائق اور فائز کوئی نہ کوئی چیز گھر بھول جاتے-جبرئیل اس معاملے میں بہت سلیقہ مند اور سمجھدار تھا-وہ پانچویں کلاس میں تھا--
اسکے سکول سے کبھی اسکی شکایت نہیں آئی تھی-اورباقی تینوں کا توبمشکل ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا جب انکی شکایت موصول نہ ہو--
کبھی کتاب گم کردی-کبھی کسی کی کوئی چیز چرالی یا خراب کردی اور کبھی کسی اور کا لنچ اچھا لگا تو وہ مزے سے اڑالیا-
فائز اور فائق نرسری میں تھے اور ٹیچر سے بدتمیزی کرنا تو انکا مشغلہ تھا-شزا ون میں تھی اور ابھی سے اسکی گز بھر کی زبان تھی-شرارتیں کیے بغیر تو اسکا دن ہی نہیں گزرتا تھا-
دادی بے چاری اپنی پوری کوشش کرتی تھی کہ انکو سدھار دے پر وہ بھی پورے آفت کے پرکالہ تھے-ابراہیم کا پورا دن اپنی بنک جاب میں ہی گزر جاتا تھا وہ تو شام کے وقت ہی گھر لوٹتا تھا اور شمع نے گھر میں پارلر کھولا ہوا تھا اس لیے اسے بچوں کو دیکھنے کی کم ہی فرصت ملتی تھی--
جبرئیل پہلا بچہ تھا اس لیےدادا دادی کے پاس ہی اسکے ابتدائی سال گزرے تھے-اسکی تربیت انکی توجہ کا نتیجہ تھی-
دادا تو اب بھی گاؤں میں ہی رہتے تھے-لوگ انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے جانتے تھے-اور انکی بہت عزت کرتے تھے--دادی البتہ سب سے چھوٹے بیٹے ابراہیم کے ساتھ شہر آگئی تھی تاکہ بچوں کو توجہ ملے اور شمع بھی یہی چاہتی تھی کہ اسکی ساس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انکے ساتھ رہے۔
پر بچے تو کسی کے سنتے ہی نہیں تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *