Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Last updated: 23 May 2026
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 01)Ins o jaan (Episode 02)Ins o jaan (Episode 03)Ins o jaan (Episode 04)Ins o jaan (Episode 05,06)Ins o jaan (Episode 07)Ins o jaan (Episode 08)Ins o jaan (Episode 09)Ins o jaan (Episode 10)Ins o jaan (Episode 11,12)Ins o jaan (Episode 13)Ins o jaan (Episode 14)Ins o jaan (Episode 15)Ins o jaan (Episode 16,17)Ins o jaan (Episode 18)Ins o jaan (Episode 19)Ins o jaan (Last Episode)
Ins o jaan by Maimona Aman
چاروں بہن بھائیوں میں نو سالہ جبرئیل بڑا تھا اور سب سے زیادہ فرمانبردار اور تمیز دار-وہ دادی اور باپ کے ساتھ ہی علی الصبح فجر کے لیے جاگ جاتا تھا اور باقاعدہ مسجد میں با جماعت نماز پڑھتا تھا-باقی بہن بھائی اور ماں اپنی نیند پوری کرکے عین سکول کے ٹائم ہر اٹھتے تھے-اور پھر افراتفری میں ناشتہ کیا جاتا جو دادی پہلے ہی بنا کے رکھ دیتی تھی-اور بھاگم بھاگ سکول کی تیاری ہوتی اور اکثر شزا فائق اور فائز کوئی نہ کوئی چیز گھر بھول جاتے-جبرئیل اس معاملے میں بہت سلیقہ مند اور سمجھدار تھا-وہ پانچویں کلاس میں تھا--
اسکے سکول سے کبھی اسکی شکایت نہیں آئی تھی-اورباقی تینوں کا توبمشکل ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا جب انکی شکایت موصول نہ ہو--
کبھی کتاب گم کردی-کبھی کسی کی کوئی چیز چرالی یا خراب کردی اور کبھی کسی اور کا لنچ اچھا لگا تو وہ مزے سے اڑالیا-
فائز اور فائق نرسری میں تھے اور ٹیچر سے بدتمیزی کرنا تو انکا مشغلہ تھا-شزا ون میں تھی اور ابھی سے اسکی گز بھر کی زبان تھی-شرارتیں کیے بغیر تو اسکا دن ہی نہیں گزرتا تھا-
دادی بے چاری اپنی پوری کوشش کرتی تھی کہ انکو سدھار دے پر وہ بھی پورے آفت کے پرکالہ تھے-ابراہیم کا پورا دن اپنی بنک جاب میں ہی گزر جاتا تھا وہ تو شام کے وقت ہی گھر لوٹتا تھا اور شمع نے گھر میں پارلر کھولا ہوا تھا اس لیے اسے بچوں کو دیکھنے کی کم ہی فرصت ملتی تھی--
جبرئیل پہلا بچہ تھا اس لیےدادا دادی کے پاس ہی اسکے ابتدائی سال گزرے تھے-اسکی تربیت انکی توجہ کا نتیجہ تھی-
دادا تو اب بھی گاؤں میں ہی رہتے تھے-لوگ انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے جانتے تھے-اور انکی بہت عزت کرتے تھے--دادی البتہ سب سے چھوٹے بیٹے ابراہیم کے ساتھ شہر آگئی تھی تاکہ بچوں کو توجہ ملے اور شمع بھی یہی چاہتی تھی کہ اسکی ساس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انکے ساتھ رہے۔
پر بچے تو کسی کے سنتے ہی نہیں تھے۔
