Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 08)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 08)
Ins o jaan by Maimona Aman
وہ بہت مضبوط اعصاب کا مالک انسان تھا۔پر کبھی کبھار زندگی ایسا دھوکا دیتی ہے کہ انسان منہ کے بل زمین پر آگرتا ہے۔یہ اچانک ملنے والا صدمہ عبدالله کے حواس معطل کرگیا تھا۔
وہ کچھ دیر وہاں بےہوش پڑا رہا۔اب اسے آہستہ آہستہ ہوش آرہا تھا۔زمین بہت سرد تھی۔اور اتنا ہی سرد اس پر ہونے والا۔۔ انکشاف۔
“پری…..پری…..تم کہاں ہو؟۔وہ چکراتے سر کے ساتھ بڑبڑایا تھا۔
“اوہ پری…….تم واقعی….!۔وہ سر تھام کر بیٹھ گیا۔موسم کی یخ بستگی نے اسکے حواس مزید شل کردیے تھے۔
“یہ کیسا مذاق ہے یااللّه !۔
اس نے نگاہ اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔وہاں صرف دو ہی رنگ تھے۔سفید اور سیاہ۔۔۔ اور ان دونوں رنگوں کے امتزاج سے بنتی گھٹائیں اور تیرتے ہوئے بادل۔اس کی نگاہ واپس لوٹ آٸی۔ہر سو جلوے تھے رنگ تھے
اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ جس حسن کی دیوی کو وہ چاہتا آیا تھا۔ وہ کوئی انسان نہیں بلکہ جننی ہے۔جو کوئی بھی روپ بدل سکتی ہے۔اسکا اصل چہرہ کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔؟
عبدالله درخت کا تنا پکڑ کر کھڑا ہوا۔سردی سے اسکی ٹانگیں شل ہورہی تھیں۔وہ دھیمی رفتار سے گھر کی جانب بڑھنے لگا۔
ایک انسان اور جن کی شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ ۔۔۔پر دادی اماں کی کہانیوں میں تو ایسا ہوتا ہے۔لیکن۔۔۔ زندگی تو ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے کہانی تو نہیں۔
طرح طرح کے سوال اس کے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
“اگر وہ اچانک سے غائب ہوگئی ؟ مجھے ہمیشہ کیلئے چھوڑ گئی ؟ تو کیا ہوگا ؟ میں اسے کہاں ڈھونڈتا پھروں گا ؟۔ایسے بےشمار سوالات اسے ستا رہے تھے۔پر انکا جواب نہ اسکے پاس تھا اور نہ وہ کسی سے پوچھ سکتا تھا۔
وہ بوجھل قدموں سے کمرے میں آکر ڈھے سا گیا۔گزشتہ ایک برس کے تمام واقعیات ، باتیں اور ملاقاتیں اسکے ذہن میں گردش کررہی تھیں۔اس نے تھک کر آنکھیں موندلیں۔
***********************
وہ زور زور سے چلاتا ہوا اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
“پری…..پری……زینب….!۔
اس نام پر اس نے مڑکر اسے دیکھا۔وہ اس سے بہت دور تھی۔کسی بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر۔
“پری خدا کیلئے لوٹ آؤ”۔وہ ہانپتے ہوئے اس سے التجا کررہا تھا۔
اسکے آس پاس اسے پتنگے اڑتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔رفتہ رفتہ وہ پری کے قریب آگئے۔اور دائرے کی صورت میں اسے گھیرلیا۔وہ بےبس نگاہوں سے عبدالله کو دیکھ رہی تھی۔اور پھر وہ کسی گرداب کی مانند اوپر اڑنے لگی۔پری انکے گھیرے میں اڑتے اڑتے غائب ہوگئی تھی۔
“پری…..!۔وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھا۔
رات کا جانے کونسا پہر تھا۔کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔اسکا حلق خشک ہورہا تھا۔اس نے وحشت ناک خواب دیکھا تھا کہ پری اس سے بہت دور چلی گئی ہے۔عبدالله کی حالت عجیب تھی۔اسے نیند میں بھی چین نہیں تھا
یہ محبت اس کی رگ رگ میں سما گٸی تھی۔۔۔بے قراری تھی ۔۔۔بے کلی تھی۔۔۔وہ اس خواب کو سوچتا رہا۔۔۔مجھے اتنا پاگل نہیں ہونا چاہیے خود پر قابو رکھنا چاہیے۔
۔اچانک کمرے کی بتی روشن ہوئی۔اس نے دیکھا کہ وہ دروازے کے قریب کھڑی تھی۔وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔زرد رنگ کے لباس میں وہ سورج مکھی کے پھولوں سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔عبدالله کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگیں۔
وہ خود ہی چل کر آکے بیڈ کی پائنتی کی طرف بیٹھ گئی۔اسے دیکھ کر عبدالله کی زبان ہی گنگ ہوگئی تھی۔کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔اور شاید وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
“مجھے لگتا ہے میں تم پر سے نظر ہٹاؤں گا اور تم ہوا میں تحلیل ہوجاؤ گی”۔آخر اس نے خاموشی توڑی۔
“تم مجھے یہ سب پہلے ہی بتادیتی ، میں تو انجان تھا پر تم تو نہیں تھی ، ایک انسان اور جن کا ملاپ کیسے ہوسکتا ہے پری ؟۔وہ کمبل میں سمٹ کر بیٹھا ہوا تھا۔اور وہ پائنتی پر سرجھکائے۔
اس وقت اس منظر کو دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ لڑکی انسان کے علاوہ بھی کوئی مخلوق ہوسکتی ہے۔وہ عام لڑکیوں کے سے انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔
“مجھے تمہاری آواز کے سحر نے گرفتار کرلیا تھا عبدالله ، مجھے نہیں پتہ تھا کہ ہمیں یوں ایک دوسرے سے……..
.محبت ہوجائے گی ،
میرے والدین فوت ہوچکے ہیں۔میرا تعلق ایک مسلمان گھرانے سے ہے ، میرے چار بھائی ہیں ، اور وہ چاروں نکمے ، شریر اور آوارہ ہیں ، مسلمان ہونے کے باوجود انکا مشغلہ لوگوں کو ستانا اور اذیت دینا ہے ، میرے والد کی بہت بڑی جائیداد ہے ، محل نما گھر ہے ، ان سب چیزوں کو اب تک میں سنبھا لتی آرہی ہوں ، رشتے داروں کی بھی مجھ پر نظر ہے ، بھائی تو کسی کام کے نہیں”۔پری نے بتایا۔
“کیا جنوں میں بھی ایسا ہوتا ہے؟۔عبدالله نے حیرت سے پوچھا۔
“ہاں ! ہم بھی انسانوں کی طرح رہتے ہیں ، ہمارا گھر ، کاروبار ، جائیداد رشتےدار سب ہوتا ہے ، حسد ناانصافی ، اور دوسروں کا مال کھانا ہمارے یہاں بھی عام ہے ، مجھے ڈر ہے کہ میرے رشتے دار مال ہتھیانے کی خاطر مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش ضرور کریں گے ، ہوسکتا ہے وہ مجھے قید کرنے کی یا مار ڈالنے کی کوشش کریں ، میں مسلمان لڑکی ہوں ،
اور اب مجھے لگتا ہے کہ میں نے سب غلط کیا ہے ،
کیا غلط کیا ہے؟
کاش میں تمہارے سامنے خود کو ظاہر نہ کرتی تو بات آج یہاں تک نہ پہنچتی ، پر تمہاری آواز نے مجھے بےخود کردیا تھا ، مجھے آج شدت سے احساس ہورہا ہے عبدالله کہ ہمیں یوں نہیں ملنا چاہئے تھا ، ہم نامحرم ہیں ، میرے والدین نے مجھے یہ سب نہیں سکھایا تھا”۔وہ افسوس سے کہہ رہی تھی۔
“انکی وفات کے بعد میں بالکل اکیلی ہوگئی ہوں ، نہ کوئی بہن ہے ، اور نہ کوئی غمخوار ، میں نے نمازیں پڑھنا بھی چھوڑ دی تھیں ، اور اپنی مرضی کی زندگی جینے لگی ، کوئی روک ٹوک کرنے والا جو نہیں تھا ، میں بھول گئی تھی کہ میرا اللّه مجھے دیکھ رہا ہے ،
چھپ کر جو کام کیا جائے وہ اکثر گناہ ہی ہوتا ہے”
۔عبدالله کو بھی شرمندگی نے گھیر لیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔اسکی تربیت بھی تو ایسی نہیں ہوئی تھی۔پر۔۔۔ یہ چار دن کی محبت انسان کو اندھا کردیتی ہے۔اچھے برے کی تمیز بھلا دیتی ہے۔اور سالوں کی تربیت پر پانی پھیر دیتی ہے۔
محبت جرم نہیں ہے ، پر چھپ چھپ کر ملاقاتیں اور نامحرم سے دل لگی کرکے رب کی ناراضگی کمانا تو جرم ہے۔اور وہ دونوں اس جرم کے مرتکب ہوگئے تھے۔محبت کی ایک ہی منزل ہے….اور وہ ہے نکاح۔
“پری…….میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا”۔عبدالله نے کہا۔
“عبدالله نصیب تو اوپر والا لکھتا ہے ، میرے اختیار میں کچھ نہیں ، لوگ سمجھتے ہیں کہ جن دنیا
جہاں کے کام منٹوں میں کرسکتے ہیں ، پر ایسا نہیں ہے ، قدرت نے ہمیں بھی محدود صلاحیتیں دی ہیں ،میں نصیب نہیں بدل سکتی۔اور نہ ہی میں پلک جھپکنے تک زندگی بدل سکتی ہوں۔میں بھی تمہاری طرح ایک بے بس مخلوق ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات کو بھی مخاطب کیا ہے۔
سورة الرحمٰن میں ارشاد ہے:
یمعشر الجن والانس ان استطعتم ان تنفذو من اقطار السموات والارض۔فانفذو۔
”اے جن وانس کے گروہ ! اگر تمہاری استطاعت ہے کہ تم زمین اور آسمان کے کناروں سے نکل سکتے ہو۔۔۔تو نکل جاٶ۔۔“
پھر خود ہی ارشاد فرمایا۔
لا تنفذون الا بسلطن۔
”تم نہیں نکل سکتے اسکی سلطنت کے سوا کہیں اور۔“
ہر سو اسی کی بادشاہی ہے۔
اس کے سامنے ہر ذی روح بے بس ہے۔
میں بھی دعا اور کوشش ہی کرسکتی ہوں۔
تِرے ہتھ وِچ ڈور وے سائیاں
پُتلی دا کی زور وے سائیاں
عبداللہ حیران سا بیٹھا تھا کہ وہ دوسری مخلوق ہو کر بھی اتنا علم رکھتی ہے۔
وہ اسکی حیرانی بھانپ گٸی تھی۔
ہمارے پاس بھی علم ہوتا ہے۔ہم لوگ بھی تمہاری طرح علم حاصل کرتے ہیں۔انسانی روپ میں تم انسانوں کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں۔اور قرآن کریم سب سے زیادہ ہمارے ہاں ہی خریدا اور پڑھا جاتا ہے۔شاید تمہیں یہ جان کے حیرت ہو کہ ہم لوگ قرآن بہت زیادہ پڑھتے ہیں۔
وہ دونوں رات کے اس پہر اس کمرے میں محو گفتگو تھے۔باہر اترتی کہر آلود دھند کھڑکیوں سے کان لگاۓ انکے لفظوں پر غور کررہی تھی۔اور پھڑ پھڑاتی ہوا کے غیر مرٸی بدن پر ان کے لفظ نقش ہوتے جارہے تھے۔
تہجد کا وقت دھیرے دھیرے سرک رہا تھا۔اجالے کی امید لیے رات اپنی سیاہ اوڑھنی اوڑھے سست روی سے سفر طے کررہی تھی۔
وہ دونوں خاموش تھے۔کمرے میں صرف وال کلاک کی ٹک ٹک گونج رہی تھی۔
یا دھڑکنوں کا شور جو اپنی اپنی سماعتوں کو بیدار کررہا تھا۔
ہمارا یوں ملنا مناسب نہیں۔۔
میں جارہی ہوں ، اور اب اسی وقت تم سے ملنے آؤں گی جب ہمارے رشتے کو کوئی شرعی حیثیت مل سکے ،
یہ کیسے ہوگا؟اس نے پریشانی سے پوچھا۔
تم کوشش کرو کہ اپنے گھر والوں کو منالو ، انھیں میرے متعلق سب بتادو ، اگر وہ راضی ہوجاتے ہیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ…!پری نے بات ادھوری چھوڑی۔
“ورنہ ؟۔عبدالله نے شکستہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
“ورنہ میں خود کوئی کوشش کروں گی ، الله حافظ”۔
وہ اب وہاں نہیں تھی۔پر اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کہیں گئی ہی نہ ہو۔
جتھے عقل دخل نہ دے سکے
اسی اوتھے اکھیاں لا بیٹھے
____________
اگلے کئی دن بےرونق اور پھیکے پھیکے سے گزرے تھے۔سب کچھ خالی خالی لگتا تھا۔پری اس رات کے بعد پھر کبھی نہیں آئی تھی۔
عبدالله کے پاس کوئی خاص مصروفیت نہ تھی۔بس سردیوں کی چھٹیاں منجمند سی گزر رہی تھیں۔شمع اپنے بچوں سمیت میکے رہنے چلی گئی تھی۔موسم قدرے بہتر ہوا تو دادا اور دادی بھی اپنی بیٹیوں سے ملنے چلے گئے۔
عبدالله کا زیادہ تر وقت کمرے میں ہی گزرتا تھا۔کبھی اسکے چھوٹے بھائی اسے بھی اپنے کھیلوں میں شامل کرلیتے تھے۔تو کبھی وہ کتابوں میں سر دیے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔
دنیا کی لاکھوں کروڑوں لڑکیاں چھوڑ کر اسکا دل ایک دوسری دنیا کی لڑکی سے ہی ملنا تھا۔۔۔۔وہ اکثر سوچا کرتا تھا۔پتہ نہیں اس میں بھی کیا راز پوشیدہ تھا ؟ میں گھر والوں سے کیا بات کروں ؟ کیسے بات کروں ؟ اسکو الفاظ ہی نہ سوجھتے تھے۔پہلے تو اسکی دماغی حالت پر شبہ کیا جاتا۔اور عین ممکن تھا کہ اسکو کسی نفسیاتی معالج کے پاس لے جایا جاتا۔اور اگر یقین کربھی لیا جاتا تو دنیا والوں کو کون یقین دلاتا ؟ کہ ایسی انہونی بھی ممکن ہے۔۔۔۔
یہی سوچیں اسے پریشان رکھتی تھیں۔ویسے تو اسکے بہت سے دوست تھے۔پر علی سب سے قریب تھا۔اور وہ ہر بات اس سے شیئر کرلیتا تھا۔پر پری والی بات تو اسے بھی معلوم نہیں تھی۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک اجنبی لڑکی کو ہر کسی سے ڈسکس کرتا پھرے۔پر اسے کچھ اور سمجھ بھی تو نہیں آرہا تھا۔
آخر کار فیصلہ کرکے اس نے علی کو کال ملائی۔
رسمی دعا سلام کے بعد وہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔
“یار تجھ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ، کہیں مل سکتا ہے کیا؟۔عبدالله مدعے پر آیا۔
“اتنی بھی کیا ضروری بات ہوگئی ،؟ فون پر ہی کرلے”۔علی نے کہا۔
یعنی تو مجھ سے ملنا نہیں چاہتا۔۔
ارے نہیں یار۔۔یہ کس نے کہا۔۔میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا۔۔
“نہیں علی ، فون پر نہیں ، سامنے بیٹھ کر”۔
“اچھا ! چل ٹھیک ہے پھر ، مری گیسٹ ہاؤس میں ملتے ہیں ، پارٹی شارٹی بھی کرلیتے ہیں”۔علی نے کہتے ہوئے اضافی مشورہ دیا۔
“ٹھیک ۔۔۔۔پھر آج دوپہر کا پلان بنالیتے ہیں”۔عبدالله نے حامی بھرلی۔
“ٹھیک ہے یار ، میں ظہر کے بعد پہنچ جاؤں گا”۔علی نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔
*******************************
آج موسم کافی خوشگوار تھا۔مری کا آسمان برس برس کر تھک گیا تھا۔اور اب آنکھیں موندے محوِاستراحت تھا۔سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی۔دھوپ اپنی ہلکی سی زردی دکھلاتی جیسے کوٸی رنگ اڑا سرسوں کا پھول ہو۔اور پھر سفید رنگ ہر سو چھاجاتا۔
عبدالله گیسٹ ہاؤس پہنچ چکا تھا۔یہ ایک سرسبز پہاڑی پر واقع گیسٹ ہاؤس اور ریسٹورنٹ تھا۔زیادہ تر سیاح یہاں آکر رکتے تھے۔پہاڑی سے نشیب میں موجود تاحدنگاہ پھلی وادیاں آنکھوں کی خیرہ کرتی تھیں۔پہاڑی کے درمیان میں مرکزی عمارت تھی۔اور آس پاس درخت اور پھول اگے تھے۔
یہ تین منزلہ عمارت تھی اور اسکے کمرے اس ترتیب سے بنائے گئے تھے کہ ہر کمرے کی کھڑکی سے باہر کا منظر واضح دکھائی دیتا تھا۔
باقی سارے احاطے میں ہر طرح کے پھل دار اور سجاوٹی درخت تھے۔پوری پہاڑی چوٹی پر سبزے کا فرش بچھا ہوا تھا۔اور اوپن ایریا میں میز اور کرسیاں سجائی گئیں تھیں۔برف باری تو تھم چکی تھی۔پر موسم اب بھی سرد تھا۔
کچھ لمحوں کے انتظار کے بعد علی بھی پہنچ گیا۔دونوں کھڑے ہوکر تپاک سے ایک دوسرے سے گلے ملے۔
“کیا کھائے گا بول ؟ عبدالله نے پوچھا۔
“یار بڑی بھوک لگی ہے ، کچھ اچھا سا کھلا دے”۔علی نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔
ویٹر مینو کارڈ لے کر آگیا تھا۔عبدالله نے سجی کا آرڈر دیا۔اور ساتھ ہی آئس کریم بھی لنچ کے بعد منگوالی۔
“یار تو بڑا چپ چپ سا لگ رہا ہے ، خیر تو ہے ناں؟۔علی نے اسکے چہرے کا اضطراب پڑھتے ہوئے پوچھا۔
“ہاں یار ، بس ایسے ہی ہے”۔عبدالله نے تاسف سے جواب دیا۔
“تو بس ایویں مجھے بلایا تھا ، یا کوئی خاص بات ہے؟۔علی نے بغور اسکے افسردہ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں ، بات تو ہے ، پر پہلے کھانا کھالیں”۔۔
“یار تو نے تو مجھے پریشان ہی کردیا ہے ، ایک تو اتنی مسکین شکل بنائی ہوئی ہے ، ایسے تو کھانا ہضم ہی نہیں ہوگا ، کہیں کوئی…….عشق عاشقی کا چکر تو نہیں ہے”۔علی نے تکالگایا۔
اس سے قبل کہ عبدالله کوئی جواب دیتا علی کا فون بجنے لگا۔وہ اٹھ کر ایک سائیڈ پر چلاگیا۔
جب وہ واپس آیا تو ویٹر کھانا سرو کرچکا تھا۔دونوں نے ہلکی پھلکی گپ شپ کے دوران کھانا کھایا۔
“ہاں اب بول ، اب اور برداشت نہیں ہورہی تیری خاموشی”۔علی نے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا۔
“یار پتہ نہیں تو یقین کرے گا یا نہیں ؟ یا مجھے پاگل سمجھے گا”۔عبدالله نے خدشہ ظاہر کیا۔
“اوئے سیدھی طرح بتا ، پہیلیاں نہ بھجوا”۔علی نے مصنوعی غصے سے کہا۔
“اصل میں بات یہ ہے کہ…….مجھے…….محبت ہوگئی ہے”۔عبدالله نے دھماکہ کیا۔
“اوہ ہو۔۔۔۔ ! مجھے تو پہلے ہی شک تھا ، مبارک ہو”۔علی نے سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔
“کون ہے وہ ؟ کہیں وہ کالج والی نتاشا تو نہیں ! جو ہر وقت تیرے آگے پیچھے گھومتی رہتی تھی!۔علی نے تکالگایا۔
“ارے نہیں یار ، اب میں تجھے کیسے بتاؤں؟۔عبدالله اضطراب کا شکار ہونے لگا۔
“وہ پری ہے…….مطلب وہ انسان نہیں ہے ، جنوں کے خاندان سے ہے”۔عبدالله نے ایک اور نقلی سا بم پھوڑا۔
“ہاہاہاہاہاہاہا”۔علی نے زور دار قہقہ لگایا۔آس پاس کے لوگ ان کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔
“دفع ہو ، میں جارہا ہوں”۔عبدالله نے کرسی پر سے اٹھتے ہوئے تنک کر کہا۔
“اوہ ہو ! اچھا بیٹھ تو صحیح”۔علی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر بٹھایا۔
“اب بتاؤ ، اب نہیں ہنسوں گا”۔علی نے سنجیدگی سے کہا۔
پھر وہ اسے الف سے ے تک ساری کہانی سنانے لگا۔ہر بات علی کیلئے پہلے سے بھی زیادہ حیران کن تھی۔اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔اب وہ مذاق کے موڈ کو یکسر فراموش کرکے سنجیدہ ہوچکا تھا۔اور اسکی جگہ شدید حیرانی نے لے لی تھی۔
“اب تو ہی بتا کہ میں کیا کروں ؟۔پری کے دیوانے عبدالله نے ساری بات بتا کر آخر میں پوچھا۔
“یقین جان کہ اگر تیری جگہ یہ کہانی مجھے کسی اور نے سنائی ہوتی ناں ، تو میں اسے اس پہاڑ سے اٹھا کر نیچے پھینکتا ، پر مجھے پتہ ہے تو سچ ہی کہہ رہا ہے ، یہ تو بڑی پیچیدہ صورت حال ہے”۔علی نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“ہممم! اور کوئی بھی میرا یقین نہیں کرے گا ، بلکہ دادا جی تو مجھے الٹا لٹکا دیں گے”۔عبدالله نے خدشہ ظاہر کیا۔
“عبدالله ! تم ابھی کسی سے بھی اسکا اسکا ذکر نہ کرنا ، میں کچھ کرتا ہوں ، ایک بابا جی ہیں میری نظر میں ، ان سے اس مسٸلے کا کوئی حل معلوم کرتا ہوں میں ، شاید وہ کوئی اچھا مشورہ دے دیں ، تو پریشان نہ ہو ، ویسے ایک بات پوچھوں؟۔علی نے اسے تسلی دیتے ہوئے آخر میں پوچھا۔
“کونسی بات ؟۔عبدالله نے ناسمجھی سے کہا۔
“کیا تم………..اسے بھول نہیں سکتے؟ اس قصے کو یہاں ہی ختم کردے”۔علی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“کیسی باتیں کررہا ہے یار ! نہ محبت کرنا انسان کے بس میں ہوتا ہے ، نہ اس سے چھٹکارا پانا”۔عبدالله نے تاسف سے کہا۔
“پر تم دونوں کا ملن کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور اگر ہو بھی گیا تو تم نارمل انسانوں کی طرح زندگی کیسے گزار سکتے ہو ؟
کتنا عجیب ہے یہ سب ، میں تو ابھی تک شاک میں ہوں”
اور تو میرا سوچ مجھے تو مسلسل الیکٹرک شاک کے زیر
اثر ہوں”
اس بات پر دونوں بےاختیار ہنس پڑے۔
کچھ دیر اور وہ دونوں وہاں بیٹھے گفتگو کرتے رہے۔ اور آس پاس کے پیڑ اور انکے سرسراتے پتے کان لگا کر انکی باتیں سنتے رہے۔
انکے پیروں تلے بچھی سبز گھاس انتہائی رازداری سے انکے درمیان ہونے والی گفتگو اپنی نازک پتیوں پر رقم کرتی رہی۔اور اس سارے منظر میں بے تحاشا دوڑتی ہوائیں انکی باتوں میں خلل پیدا کرتی رہی۔
اور جب وہ دونوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوکر وہاں سے رخصت ہوئے تو شریر ہوا ہر ایک کے کان میں سرگوشی کرنے لگی…….سنا…..تم نے…کیا ایسا بھی ممکن ہے ؟
کیا کہانیاں بھی حقیقت ہوتی ہیں ؟ کیا تصورات بھی اتنے پختہ ہوتے ہیں کہ ان پر حقیقت کا گمان گزرے ؟
آس پاس کے سارے پھول بوٹے ، حیرت بھری دلچسپی سے اسکی سرگوشیاں سنتے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حیرانگی ظاہر کرتے ہوئے ایک دوجے کو تکتے ۔ کچھ ہی دیر میں یہ کہانی ہر پتے کی زبان پر تھی ۔ اور ان سب سے بہت دور اور بہت بلند بادلوں کی اوٹ میں چھپا آفتاب کبھی کبھار سر نکال کر انہیں دیکھتا اور پھر انکی افواہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے واپس وہیں جا چھپتا۔
