Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 18)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 18)
Ins o jaan by Maimona Aman
ریت بے تحاشا اڑ رہی تھی-طوفان کے تند وتیز چکر ہر طرف ریت اڑا رہے تھے-وہ جس ٹیلے کی اوٹ میں بیٹھا تھا ہوا اسے کھارہی تھی-نگل رہی تھی-ریت یوں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہورہی تھی جیسے بہت سے مزدور اپنی تگاریاں بھر بھر کے پھینک رہے ہوں-وہ گھٹنوں میں سر دٸیے اس طوفان سے بچنے کی کوشش کررہا تھا پر ریت اس کے اوپر ڈھیر ہوتی جارہی تھی-
ہر شے سے اور ہر جذبے سے ماورا طوفان۔۔۔ ایک انسان کو ریت کے سمندر میں غرق کررہا تھا-اس کے بدن پر ریت سوئیوں کی مانند چبھ رہی تھی-وہ سختی سے آنکھیں میچے اس طوفان کے ٹلنے کا انتظار کررہا تھا-
اس نے طوفان سہے تھے—بارش کے سرد طوفان-گرمیوں میں مٹی کے طوفان–اور دریاؤں میں آنے والے طوفان جو ہر خس و خاشاک کو بہا لے جاتے ہیں-پر یہ طوفان سب سے زیادہ اذیت ناک تھا-یہاں کوئی اپنا نہیں تھا ۔۔۔نہ ماں تھی جس کی آغوش میں وہ پناہ لے لیتا اور اس سے بچ جاتا-وہ نہتے جنگجو کی طرح اس کے آگے بے بس تھے-قدرت اپنی طاقت دکھارہی تھی-چاند پر پہنچ جانے والا—ستاروں پر کمند ڈالنے والا—ہواؤں میں اڑنے والا انسان—قدرت کے سامنے بے بس تھا-
ریت کے ساتھ وقت بھی سرک رہا تھا-مگر اسکی رفتار سست تھی-کٹھن وقت ہمیشہ تیز رفتاری سے آتا ہے اور سست رفتاری سے جاتا ہے-یہ وقت کی خاصیت ہے اس کی رفتار کبھی ایک سی نہیں رہتی-
وقت کی رفتار وقت کے حساب سے بدلتی رہتی ہے-
اسے لگا تھا کی شاید یہ ریت اسے بھی اپنے ساتھ اڑا لے جاۓ گی اور پھر کسی اور ناآشنا سرزمین پر پٹخ دے گی یا اسکی روح کو اسکے بدن سے کھینچ لے گی-اسے گھر یاد آرہا تھا اپنے ماں باپ–بہن بھائی-وہ سرد رات جب وہ اپنے گھر لوٹ رہا تھا-اور اب۔۔۔ گمراہ ہوکے دربدر بھٹک رہا تھا-لیکن سارے دروں کا مالک ایک ہی ہے-وہ زیادہ دیر اپنے غلاموں کو راندہ درگاہ نہیں رہنے دیتا۔
عجیب بات تھی اسے وہ یاد نہیں آئی تھی-جس کی وجہ سے وہ یہاں تھا-اس کے ذہن کی سلیٹ سے جیسے اسکی یاد مٹ گئی تھی-
پری —اس کی زبان پر آج اسکا نام آیا تھا-تم نے چھوڑ دیا نا مجھے-تمہارے پاس تو بہت سی طاقتیں ہیں تم مجھے یہاں سے نکال سکتی تھی-میری مدد کو آسکتی تھی پر شاید تمہیں میری یاد ہی نہیں آئی-اس نے بند آنکھوں سے سوچا-جنکی پلکوں پر بے تحاشا ریت تھی-
صحرا کے باسی جانے کیسے یہاں بن بسر کرتے ہوں گے۔؟کیا انکے بدنوں کو ریت نہیں کھاتی ہوگی؟یا وہ آہنی بدن کے مالک ہوتے ہیں؟انکا کھانا پینا کیسا ہوگا؟اور بے مصرف دن کیسے کٹتے ہوں گے؟اور وہ سرد رات سے کیسے بچتے ہوں گے؟وہ تو ازل سے یہاں رہتے تھے۔۔۔۔جانے کیسے؟ وہ ان دیکھے لوگوں کو سوچ رہا تھا۔
چنگھاڑتا طوفان تھم چکا تھا-ہلکی سی روشنی باقی تھی-رات آنے کو تھی-اس نے آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا-وہ کندھوں تک ریت میں دھنسا ہوا تھا-ریت کو بمشکل جھاڑ کر وہ باہر نکلا-ریت کا ٹیلا وہاں نہیں تھا-وہ اپنی جگہ بدل چکا تھا-اور اسکی ہئیت اور حجم بھی پہلے سا نہیں رہا تھا-
صحرا کی راتیں سرد اور دن گرم ہوتے ہیں-اس کے تن پر ایک جوڑا تھا اور ایک اسکی جیکٹ-جو اس ٹھنڈی رات میں اسے محفوظ رکھنے میں ناکام تھی-
وہ اس جگہ سے نکل جانے کی امید میں ریت پر چلنے لگا-پر وہ ویسی ہی تھی پہلے روز جیسی-گمراہ کرنے والی-باہوش انسان کو پاگل کرنے والی۔اور کاٹنے والی۔
اس میں کوئی قابل ذکر نشانی نہیں تھی کوئی راستہ نہیں تھا کوئی منزل نہیں تھی-ریت کے ڈھیر ادھر سے ادھر ہوگۓ تھے پھر بھی اس صحرا کی شکل و شباہت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی-وہ چلتے چلتے بہت دور نکل آیا تھا-
کچھ بوسیدہ چیتھڑے طوفان کہیں سے اڑا لے آیا تھا اور اب وہ ریت کے اس سمندر میں بکھرے ہوۓ تھے-چلتے چلتے اسکے پاؤں کے نیچے کوئی بڑی سی چیز آئی-اس نے رک کر دیکھا یہ ایک گدڑی تھی-رنگ برنگے کپڑے کے ٹکڑوں سے بنی ایک چادر نما چیز-جو عموماً فقیر یا درویش پہنتے ہیں-اس نے اسے اٹھایا-وہ اسکو سردی سے بچانے کو کافی تھی-ایسا لگتا تھا جیسے ریتلے طوفان نے کسی فقیر سے اسکی یہ گدڑی چھین لی ہو یا اس سے اسکی زندگی چھین لی ہو کہ وہ مزاحمت نہ کرسکے-
وہ ایک جھاڑی کے قریب بیٹھ گیا اور اس گدڑی کو اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ لیا-رات چھارہی تھی-آسمان پر تارے بہت روشن تھے-چاند بہت دور دکھائی دے رہا تھا-وہ آدھا تھا-آدھا سیاہ اور آدھا سفید-
اس کا خوف رفتہ رفتہ ختم ہورہا تھا-اسے اب تنہائی اور اس ویران دشت سے خوف نہیں آتا تھا-وہ نڈرہوگیا تھا-توکل پروان چڑھنے لگا تھا-اسے لگتا تھا کہ زندگی اب شروع ہوئی ہے-اس صحرا سے-پہلے وہ اس قدر اہم نہیں تھی-نہ ہی اسکی ذات اس کے لیے اہم تھی اور نہ ہی ساری کائنات کی مالک ہستی سے اتنا رابطہ تھا-اب لگتا تھا کہ صرف اسی سے واسطہ ہے۔۔۔ اسی سے رابطہ ہے-اسکے سوا نہ کچھ سجھائی دیتا تھا نہ کچھ دماغ میں سماتا تھا-
رات اپنا سفر طے کررہی تھی اور اسکی سوچوں کو سمیٹتے سمیٹتے نیند کی وادی میں قید کررہی تھی-نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے-اور اسے بھی اس ریت نے اپنی آغوش میں تھپک تھپک کر سلادیا تھا-
****************************************
دن کا اجالا پھیل رہا تھا-سورج کی چبھتی کرنوں نے اسے جگایا تھا-پانی کے بغیر اس سے سانس لینا محال ہورہا تھا-اس نے دور تک نگاہ دوڑائی پانی کہیں نہیں تھا-وہ یہاں رہتے رہتےتھک گیا تھا-بھوک پیاس جبلی فطرتیں ہیں جو کسی بھی حال میں انسان کو آزاد نہیں کرتیں وہ بھی ان کی زنجیروں میں خود کو بندھا محسوس کررہا تھا-
اس نے کھڑے ہو کر آس بھری نظروں سے اس اراضی کو دیکھا-بہت دور ایک کیکٹس کا پودا تھا-اسے تھوڑی تسلی ہوئی اور بہت دیر چلنے کے بعد وہ اس تک پہنچا-سورج اسکے ساتھ ساتھ سفر کررہا تھا جیسے اسکی رکھوالی پر معمور ہو-
وہ ہانپتا ہوا اس پودے تک پہنچا۔
وہ اسکے قد سے بھی اونچا موٹے موٹے کانٹوں سے بھرا پودا تھا-کیکٹس کا پودا سخت کھال والا بڑے بڑے کانٹوں سے بھرا ایک صحرائی پودا ہوتا ہے-ایلوویرا کی طرح اسکے اندر جیلی کی طرح کا گودا بھرا ہوتاہے -جو شدید حالات میں پانی کے نعم البدل کا کام دے سکتا ہے-
اسے ہاتھ لگانا اپنے آپ کو زخمی کرنے کے مترادف تھا-اب مسئلہ یہ تھا کہ اس کو کیسے چھیلا جاۓ-عبداللہ بہت دیر پریشان کھڑا رہا-
اس نے آسمان کی جانب دیکھا اور رب سے مدد مانگی-توکل کا ایک اور زینہ عبور ہوگیا تھا-وہ اپنی حاجت کے لیے اپنے پروردگار پر بھروسہ کرکے اس سے رجوع کررہا تھا-اب کسی وسیلے کے نہ ہونے پر اسکی نگاہ براہ راست رب کی طرف ہی اٹھتی تھی۔مسبب الاسباب کی جانب۔
جب دنیاوی وسیلے اور سبب تھے تو ان ہی پر تکیہ ہوتا تھا۔انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ تھک ہار کے اور ہر جگہ سے مایوس اور ناکام ہونے کے بعد کہتا ہے۔۔
”یا اللہ اب تو بس تو ہی ہے“
وہ پہلے دن سے ہی کیوں اپنے پروردگار پر بھروسہ نہیں کرتا؟جس کے بزرگ۔۔۔۔ جوتے کے تسمے کی حاجت بھی شہنشاہ عالم سے مانگتے تھے۔وہ در در کا بھکاری بن جاتا ہے۔اور پوری رعایا۔۔۔پوری سلطنت سے ٹھکراۓ جانے کے بعد اسے خیال آتا ہے کہ اس سلطنت کا اک بادشاہ بھی ہے اب اسکے دربار میں جانا چاہیے۔اور وہ ایسا سخی ہے ایسا رحمٰن ہے کہ ناراض ہی نہیں ہوتا کہ تو میرے پاس پہلے کیوں نہیں آگیا؟
اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی-ریت پر کچھ ٹھیکریاں بکھری پڑی تھیں-مٹی کے ٹوٹے برتنوں کی ٹھیکریاں -شاید یہاں بھی کبھی کوئی آباد تھا-کوئی بستی تھی جس میں انسان اپنے دور کی تہذیب و ثقافت سمیت جیتے تھے-اور جانے وقت کے کون سے پہر وہ بے نشان ہوگۓ تھے-؟ انکی بستی شاید کسی آفت عذاب یا طوفان کی نذر ہوگئی ہوگی یا وہ اس ویرانے کو چھوڑ کر کہیں اور جاکر بس گۓ تھے-
اس نے ایک تیز دھار نوکدار سی ٹھیکری اٹھائی اور اسے کیکٹس کی ایک شاخ کے درمیان میں اتار دیا-وہ درمیان سے کٹ گئی تھی-اس کے اندر کا مواد اسکی پیاس بجھانے میں کام آگیا تھا-اس نے اس پودے کی کئی شاخیں چیر ڈالی تھیں-
اب اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا-اس لیے وہ اسی پودے کے پاس بیٹھ گیا-
ریت پر ایک متحرک سایہ سا نظر آیا تھا-اس نے اوپر کی جانب نگاہ کی-بڑے بڑے سیاہ پروں والے گدھ اسکے سر پر منڈلا رہے تھے-
کچھ دیر چکر کاٹنے کے بعد وہ اس سے کچھ دور آکر بیٹھ گۓ-انکی گردنیں گلابی اور نازک تھیں-پنجے سخت تھے اور ان کے پنجوں سے کچھ اوپر سفید پروں کا ہالہ سا بنا تھا-انکے پر بڑے بڑے اور سیاہ رنگ کے تھے جو انکے اطراف میں ڈھلکے ہوۓ تھے-اور اکھڑے اکھڑے سے تھے-آنکھیں پژمردہ اور کسی مردار کی آس لیے ہوۓ تھیں-وہ اپنی تیز چونچیں کھولے ہانپ رہے تھے-اور اسے تک رہے تھے-وہ شاید اسکے مرنے کے انتظارمیں تھے-تاکہ اسکے مردہ بدن سے اپنی بھوک مٹاسکیں-شاید یہاں انہیں کوئی اور مردہ یا زندہ نہیں ملا تھا اس لیے وہ اب اسکی جانب آس بھری نظروں سے تک رہے تھے-وہ جھرجھری لے کر ان سے مزید دور ہوگیا-
وہ حافظ تھا-اس نے قرآن کو از سر نو دہرانے کا ارادہ کیا-الحمد سے والناس تک-
وہ ہلکی آواز میں تلاوت کررہا تھا-اور ریت کا ہر ذرہ ہمہ تن گوش ہوگیا تھا-جانے قیامت کی سحر ہونے تک پھر ایسا کلام سننے کو ملے یا نہ ملے-؟اس لیے یہ پوری سلطنت محو ہوگئی تھی-سورج سوا نیزے پر تھا اور جھک کر نیچے بیٹھے اس غلام کو دیکھ رہا تھا-جو اسکے رب کی ثنا کررہا تھا-
پورا دن جلتا سورج—سفید سرمٸی سا آسمان۔۔۔
آس بھری آنکھوں والے گدھ–کیکٹس کا پودا اور اس پر لگے کانٹے- –دور دور اگی جھاڑیاں اور ان میں چھپے ننھے ننھے کیڑے مکوڑے–اسے سننے اور تکنے میں محو رہے تھے–
شام ہوئی تو سورج اپنی روشنی سمیٹنے پر مجبور تھا اور گدھ بجھی آنکھوں کے ساتھ مڑ گۓ تھے-کیڑے مکوڑےاپنی خود ساختہ بلوں میں گھس گۓ تھے-اجاڑ جھاڑیاں۔۔ اور کیکٹس کا پودا ۔۔۔اور گہرا سرمٸی آسمان اور عبداللہ البتہ وہیں تھے-اس نے پورا قرآن دہرالیا تھا-اور اب ڈھلتی رات اسے پر سکون کررہی تھی-
***************************
اسکی آنکھ کھلی تو اسے کسی نرم بستر پر ہونے کا احساس ہوا-اسکے سامنے پتھروں سے بنی ایک دیوار تھی-وہ تو ریت پر سویا تھا تو یہ سب کیا تھا-؟وہ نرم گرم بستر میں لیٹا ہوا تھا-ایک خوش الحان آواز سورہ الرحمٰن کی تلاوت کررہی تھی-
فبای اٰلآء ربکما تکذبن-o
پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟-
مکمل ہوش و حواس میں آنے کے بعد وہ اٹھ بیٹھا-اس کے سر کی سمت میں بابا جی بیٹھے تلاوت کررہے تھے-وہی بابا جی۔۔۔ جن کے پاس علی اسے لے گیا تھا-جو پہاڑ کی چوٹی پر کٹیا بناۓ رہتے تھے-صبح صادق کا وقت تھا-فضا میں عجیب سا سحر تھا-
وہ حیرت سے انہیں تک رہا تھا-وہ یہاں کب اور کیسے پہنچا-؟کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا-وہ اس سے یکسر بے نیاز اپنے مولا سے رازونیاز میں مصروف تھے-
اٹھ گیا تو-؟
تلاوت مکمل کرکے انہوں نے شفقت بھری مسکراہٹ سے اسے دیکھا-
جی–میں یہاں–کیسے-؟اسکے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔
یہ لے پانی پی لے-بہت پیاسا ہے تو —پر سیراب بھی ہوگیا ہے-
انہوں نے مٹی کے گھڑے سے اسے پیالے میں پانی ڈال کر دیا-کوری مٹی کے پیالے میں پانی بہت میٹھا لگ رہا تھا اور اسکی ٹھنڈک دل کو سکون دے رہی تھی-
بابا جی—میں یہاں کیسے—؟کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا-؟
ہاں یہی سمجھ لے پتر-
کیا مطلب-؟
مطلب یہ کہ تو یہ سب یاد رکھ-بھولنا مت— جو وقت تو نے گزارا وہ سونا ہے-پر کسی کو اپنے بھید سے آگاہ مت کرنا-
بھید—؟
ہاں —یہ کائنات کے راز ہیں-وہ جس پر چاہے کھول دے-ہر ایک کی عقل میں نہیں آتے-تو نے بھی کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز پالیا ہے-۔۔۔وقت کا راز-
اس کائنات میں ہر جگہ وقت ایک سا نہیں-کہیں یہ تھم جاتا ہے اور کہیں چشم زدن میں گزرجاتا ہے-یہ تو تیرے میرے لیے وقت کا چکر ہے-دن مہینے گھنٹے اور صدیاں-گھڑیال اور انکی حرکت کرتی سوٸیاں۔
کیونکہ عقل انہیں مانتی ہے-جس شے کو عقل نہ مانے ہم اس سے اندھے ہیں-وہ ہمیں دکھائی نہیں جاتی-
وہ الجھن سے انہیں دیکھ رہا تھا-
تو یہاں آگیا ہے جیسے یہاں سے لے جایاگیا تھا-تجھے فریب نے ایک دوسری دنیا میں گم کردیا تھا-اور توکل دوبارہ یہاں لے آیا ہے-یہ توکل نہ چھوڑنا-یہ ہی تجھے راہ حق پر لے جاۓ گا-شک آۓ گا دل میں-وسوسے آئیں گے-پر تو قائم رہنا اس راہ پر-
بہت سفر کیا ہے تو نے تھک گیا ہے-وہ بولتے جارہے تھے اور وہ سنتا جارہا تھا-
یہ سفر بھی بہت ضروری ہے اسکے بغیر آدمی انسان نہیں بنتا-
قرآن کہتا ہے۔۔
”قل سیرو فی الارض فانظروا کیف کان عاقبة المکذبین۔“
کہہ دیجٸے۔ زمین کی سیر کرو۔اور دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا
یہ سفر انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے-دونوں طرح کا سفر اردو والا بھی اور انگریزی والا بھی-
کسی کے لیے یہ امتحان ہے اور کسی کے لیے سزا۔
کبھی تو نے کسی بھکاری کو گڑگڑاتے دیکھا ہے؟
وہ ٹہر گۓ۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
اس پر غور کرنا۔جب تو پہلی نظر بھکاری کو دیکھے گا تو تیرا اسکو بھیک دینے کا کوٸی ارادہ نہیں ہوگا۔وہ اپاہج معذور نہ ہو۔صحت مند ہو تو لوگ بھیک دینے سے ہاتھ روک لیتے ہیں۔
پر اسے لینے کا فن آتا ہے۔وہ واسطے دیتا ہے۔گڑگڑاتاہے۔اپنی مجبوریاں بیان کرتا ہے۔جھوٹی سچی کہانیاں سناتا ہے۔مسکین اور مظلوم صورت بناتا ہے۔اور بلآخر ایک سخت دل انسان کا دل بھی پگھلنے لگتا ہے۔اسے ترس آنے لگتا ہے۔اور وہ اسی بھکاری کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتا۔
یہی فلسفہ ہے ۔۔۔رب سے مانگنے کا۔۔۔بھکاری بن جا۔۔۔گڑگڑا۔۔اپنی مجبوریاں بیان کر۔۔۔اس سے ایسے مانگ کہ اسکی رحمت جوش میں آجاۓ۔وہ بہت رحیم ہے۔ستر ماٶں سے بڑھ کر چاہنے والا۔اسکا خزانہ بھرا ہوا ہے۔
اور یاد رکھ اللہ کریم کسی بندے کو اسکی اوقات دیکھ کر یا اسکا ظاہر دیکھ کر نہیں نوازتا۔اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے سارے مشرک فاقوں مررہے ہوتے۔
وہ بس انسان کا ظرف دیکھتا ہے اسکی مستقل مزاجی اور اسکا توکل۔۔۔کہ وہ کب تک اس پر بھروسہ کرتا ہے اور کتنا کرتا ہے؟۔
مانگنے سے تھک تو نہیں جاۓ گا؟
حاجتیں مانگتا ہے یا خواہشیں؟
صرف اپنے لیے مانگتا ہے یا مخلوق کے لیے بھی؟
اور اسکی طلب کتنی سچی ہے؟وہ دنیا مانگتا ہے یا آخرت؟
جو ثابت قدم رہتے ہیں وہ پالیتے ہیں۔پھر ایک وقت آتا ہے وہ مستجاب الدعوة ہوجاتا ہے اسکے منہ سے نکلی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔
میری باتیں یاد رکھنا اے اللہ کے غلام۔!!!!
یہ برتن پڑے ہیں کھالے ان میں جو تیرا نصیب ہے-
عبداللہ کو کچھ کچھ انکی گفتگوکا مفہوم سمجھ آرہا تھا-وہ برتن کھول کر کھانا کھانے لگا-رات کی باسی روٹی اور دہی تھی۔اور ساتھ کھجوریں۔
کھاناسادہ مگر پر لذت تھا-اتنے میں فجر کی اذان بھی ہوگئی تھی اس نے بابا جی کے پیچھے نماز ادا کی اور اس کے بعد سورہ یٰس کی تلاوت-
اس پر بے اختیار نیند طاری ہونے لگی-
سوجا –آرام سے–سوجا–جب تیرا دل بھر جاۓ تو گھر چلا جانا-بابا جی نے اسے غنودگی کی کیفیت میں دیکھتے کہا۔
پر بابا جی –میں انہیں کیا بتاؤں گا کہ میں اتنے دن کہاں تھا-؟کوئی میرا یقین نہیں کرے گا-
بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی پتر-کوئی تجھ سے پوچھے گا ہی نہیں-
وہ حیران ہوا مگر اس نے مزید سوال کرنا مناسب نہ سمجھا-
*********************
وہ فجر سے ظہر تک سوتا رہا تھا-بابا جی کی اذان دینے کی آواز سے اسکی آنکھ کھلی تھی-
سونے کے بعد وہ ایک دم ہشاش بشاش ہوگیا تھا-بابا جی کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد اس نے گھر جانے کی اجازت طلب کی –
ہاں پتر—جا گھر جا–جب دل کرے آجانا-میرے دروازے تیرے لیے کھلے ہیں-
انکا رویہ بہت مشفقانہ تھا اور پہلی ملاقات جیسی سختی نہ تھی-
یہ لے کچھ پیسے گھر جانے کے کام آئیں گے-انہوں نے اپنے بستر کے نیچے سے نکال کر کچھ نوٹ اسکی طرف بڑھاۓ۔
وہ ہچکچایا۔۔
رکھ لے۔۔بزرگوں سے کچھ لینے میں شرم نہیں کرتے۔
اس نے شرمندہ سا ہوکر نوٹ جیب میں ڈالے-
عبداللہ پہاڑ سے نیچے اترا تو میدان میں زرد دھوپ پھیلی تھی-لگتا تھا وہ ایک طویل جنگ کے بعد گھر لوٹ رہا ہے-
وہ پیدل چلتے ہوۓ سڑک تک آیا اور بس کی انتظار میں کھڑا ہوگیا-وہاں ایک دو مزید لوگ اسکی طرح بس کا انتظار کررہے تھے-
اسکی جیب میں پیسوں کے سوا کچھ نہ تھا-فون تو کب کا کھوگیا تھا-
پاس ہی ایک لڑکا کھڑا اپنے فون پر مصروف تھا-عبداللہ نے ایک لمحے کو اسکے فون کی سکرین کو دیکھا اور چونک گیا-
بھائی صاحب سنیے-آج کیا تاریخ ہے-؟
اس نے اپنا وہم مٹانے کو پوچھا-
20 فروری-
اسکا دماغ چکراگیا-
واقعی—؟
اس نے دوبارہ اس لڑکے کو مخاطب کیا-
جی بھائی-اس نے عبداللہ کو مشکوک نظروں سے دیکھا-
اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جس رات وہ اس مصیبت میں گرفتار ہوا تھا-جس رات وہ پری سے نکاح کرنے کی غرض سے گھر سے نکلا تھا وہ 19 فروری کی رات تھی- اور رات بارہ بجے کے بعد کا وقت تھا-اور آج 20 فروری تھی-یہ کیسے ممکن ہے-؟اسکے ذہن نے سوال کیے-
کیا وہ صرف چار گھنٹے اس اجنبی دنیا میں رہا تھا؟-صرف چار گھنٹے-؟
لیکن اس نے تو وہاں کئی دن اور رات جنات کی قید میں گزارے تھے-کچھ نیم بیہوشی کے عالم میں-اور باقی دو دن صحرا میں-اور کل رات تک تو وہ وہیں تھا اور آج صبح صادق کے وقت بابا جی کے حجرے میں-یعنی وہ صرف ایک رات اپنے گھر سے غائب رہا تھا-
یہ سب باتیں اسکی سمجھ سے بالاتر تھیں-سوچنے سے دماغ چکرانے لگتا تھا-وقت کا یہ حساب کتاب کوئی ماہر ریاضی دان بھی نہیں سمجھاسکتا تھا-یہ عقل سے ماورا بات تھی اور عقل والے اسے ہرگز نہیں سمجھ سکتے تھے-صرف عقل کے بغیر سوچنے والے-توکل کرنے والے–ان دیکھے رب پر سو فیصد ایمان لانے والے انکو سمجھ سکتے تھے-یہ منطق اور دلائل کو ماننے والوں کے بس کا روگ نہیں تھا-
ان اللہ علی کل شیء قدیر-
بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
