Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 03)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 03)
Ins o jaan by Maimona Aman
آواز دوسری طرف کی ڈھلوان سے آرہی تھی-اتنے میں وہی لڑکی ادھر سے آتی نظر آئی-
آج اس نے سیاہ لباس پہنا تھا-اور اسکی چاندی جیسی رنگت اس میں اتنی دمک رہی تھی کی آنکھیں خیرہ ہوۓ جاتی تھیں-
وہ سہج سہج کے قدم اٹھارہی تھی۔
وہ اسے دیکھتا ہی رہا۔نظر ہٹنے سے انکاری تھی۔
میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں-وہ قریب آکے رکی تو عبداللہ کی ڈری ڈری آواز نکلی۔
کیوں؟
آپ روز میری آواز سنتے ہی اس پہاڑی پر آجاتی ہیں اگر میں پوچھوں کیوں؟
مجھے تمہاری آواز بہت پسند ہے-میں خود کو یہاں آنے سے روک نہیں پاتی-اس نے آسانی سے اعتراف کرلیا تھا-
اور مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہیں-اسکے اعتراف سے اسے بھی حوصلہ مل گیا۔
وہ ہنسی-اچھا-سوچ لو-
واپسی کا راستہ نہیں ملے گا-
سوچ لیا-اتنے دن سوچا ہی تو ہے
-آپ کو-اور آپ کے بارے میں-اور کچھ سوجھتا ہی نہیں-
تم تو کافی سنجیدہ لگتے ہو-وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
وہ ڈھلوان پر بیٹھ گئی اور پر سوچ نگاہوں سے سامنے سر اٹھاۓ کھڑی نیلی پہاڑی کو دیکھنے لگی-
ہاں میں بہت سنجیدہ ہوگیا ہوں-مجھے آپ سے—مجھے–وہ ہچکچایا–
اسنے نیلی آنکھیں اٹھا کے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا-
تمہیں مجھ سے–؟
وہ–سمجھ نہیں آرہا کیا کہوں-
اسنے نظر جھکالی اور جوتے سے پیروں کے نیچے پڑے پتھر مسلنے لگا۔
وہ اٹھ کے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی-اور براہ راست اسکی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھنے لگی-
وہ بنا پلک جھپکے اسکی نیلگوں آنکھوں میں دیکھ رہا تھا-
تمہیں —مجھ—سے–
محبت ہوگئی ہے-
یہی کہنا چاہتے ہو نا-؟
اسنے حیرانگی کے عالم میں اثبات میں سر ہلایا-
میں تمہیں کچھ دن دیتی ہوں اچھی طرح سوچ لو-کیونکہ تم نے ایک غلط جگہ دل لگایا ہے-
وہ کہہ کے رکی نہیں-اور بجلی کی سی تیزی سے چلتی ہوٸی پہاڑی کے دوسری جانب اترتی چلی گٸی۔
وہ حیران پریشان وہیں کھڑا رہا-
اگلے کئی دن وہ اسے نظر نہیں آئی۔
اسکی آواز سن کے بھی وہ نہیں آئی وہ پاگلوں کی طرح روز جاکے وہاں بیٹھا رہتا-
آخر پھر اسکا گھر ڈھونڈنے کی نیت سے وہ پہاڑی کی چڑھائی چڑھنے لگا تو اسکی آواز سنائی دی-
عبداللہ-اس نے دیکھا وہ سفید لباس پہنے اسکے عقب میں کھڑی تھی –
آپ کو میرا نام کیسے پتہ چلا-؟
وہ کھل کے ہنسی-بتاؤں گی پر ابھی نہیں-
میں تمہیں آزما رہی تھی اور تم اس آزمائش میں کامیاب ہوۓ-
اس نے چہرے سے نقاب اتار دیا-اسکے عنابی لب اور چاندی سے چہرے پر نیلم سی دو گہری آنکھیں اور دلکشی کی انتہا کو چھوتا چہرہ دیکھ کر وہ سانس لینا ہی بھول گیا-
نظر لگاؤ گے کیا-؟
آپ اتنی خوبصورت کیوں ہیں-؟وہ اسی دیوانگی کے عالم میں بولا-
ہاہاہا-اسکی ہنسی میں بھی ایک سر تھا-
آپ کا نام کیا ہے-؟
جو تم رکھ دو-وہ بے ساختہ بولی-
پری-اسکے منہ سے فوراً نکلا-
ٹھیک ہے آج سے میں تمہاری پری-وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے وہ صدیوں سے ایک دوجے کو جانتے ہوں۔
عبداللہ اپنی قسمت پر نازاں تھا۔وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا۔اسکی طبیعت میں لابالی پن یا لڑکپن کا چھچھورا پن نہیں تھا۔کالج میں اسکی کلاس فیلوز ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔پر آج تک کوٸی بھی اسکو متوجہ نہیں کرپاٸی تھی۔
پر یہ لڑکی سیدھا اسکے دل میں جا اتری تھی۔
اور پھر اسکے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا-
پری بھی اسے چاہنے لگی تھی-اکثر وہ فرمائش کرکے اس سے نعت یا گانا سنتی-
دونوں اتنے عرصے سے اس ویرانے میں مل رہے تھے یہاں کبھی کوئی اور نظر نہیں آیا تھا-لیکن انکے درمیان کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی تھی-دونوں اپنی حدود میں رہتے تھے-
ماضی کے قصے کے ساتھ ہی سفر بھی ختم ہوگیا تھا-دادا جی دروازے میں کھڑے اسکا انتظار کررہے تھے-
عبدل -تمہارا فون بھی آف تھا-اتنی برف پڑرہی ہے میں تو پریشان ہی ہوگیا تھا-ماسٹر ایوب پوتے کو دیکھ کر فکر مندی سے بولے-
بس دادا جی میں پہنچ گیا-اب پریشان ہونا بند کریں اور اندر چلیں-وہ انکے کندھے پر ہاتھ رکھے اندرکی جانب بڑھ گیا-قد میں وہ ان سے بھی آگے نکل گیا تھا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے بہو نو بج گۓ ہیں آج بچوں نے سکول نہیں جانا-صفیہ بیگم ناشتہ کرنے کے بعد اپنے کمرے میں ذکر و اذکار میں مصروف تھیں-باہر نکلیں تو دیکھا کہ بچے مزے سے ٹی وی دیکھ رہے ہیں-انہیں دیکھتے ہی شزا نے چینل بدل ڈالا-جانے کیا بلا لگائی ہوئی تھی کی دادی کے دیکھنے میں حرج تھا-
دادو آج ہمارا رزلٹ ڈے ہے-دیر سے جانا ہے ہم نے-
اچھا-ہاں تم نے بتایا تھا مجھے بھول گیا-تمہاری ماں کدھر ہے-؟
ماما تو پارلر میں دلہن بنارہی ہیں-
ایں-دلہن بنا رہی ہے؟
افوہ دادو لڑکی کا میک اپ کرکے اسے دلہن بنارہی ہیں-شزا نے ماتھا پیٹا۔
زیادہ ہی تیز ہوگئی ہے تو شزا-
خالہ جی آج بچوں کا رزلٹ ہے-جانا تو میں نے تھا-پر صبح صبح ہی کسٹمر آگئی-پلیز آپ چلی جائیں-میں نے آپ کے کپڑے استری کروادیے ہیں-
اسکے ہاتھوں پر سفید کریم لگی ہوئی تھی-وہ دلہن کا مساج کرتے کرتے باہر نکل آئی تھی-
میں جا کے کیا کروں گی بہو-؟مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آۓ گی-اتنی انگریزی تو آتی نہیں مجھے-
خالہ کچھ نہیں ہوتا ایسی کوئی بات نہیں-بس آپ نے رزلٹ ہی تو وصول کرنا ہے-اور بچوں کی ٹیچرز سے ملنا ہے-
ہاں ٹیچرز سے ملوں گی تو انکے پاس تو پوری کہانیاں ہوں گی انکے کارناموں کی-سن سن کے کان پک جائیں گے-شرمندگی الگ ہوگی-وہ ناگواری سے بولی-
خالہ یہ ٹیچرز بھی بس ایسے ہی بچوں کی شکایتیں لگانا شروع کردیتی ہیں-بچے ہیں بھئی شرارتیں تو کریں گے نا-اس میں ایسی کیا انہونی ہے کہ ماں باپ کے سامنے برائیاں شروع کردو-
تمہاری انہی باتوں کیوجہ سے تو یہ بچے بگڑتے جارہے ہیں-ارے بھئی شرارتیں کرتے ہیں تو کریں-کسی کا نقصان تو نہ کریں-مار پیٹ بدتمیزی-چوری چکاری -یہ تو کوئی قابل فخر بات نہیں ہے-
خالہ چھوڑیں نا-بچے ہیں- ہوجائیں گے ٹھیک-میں انکو تیار کردیتی ہوں آپ بھی تیار ہوجائیں-
وہ کہہ کے چلی گئی تھی-
اللہ ہی ہدایت دے تمہیں شمع-وہ بس افسوس کرکے رہ گئیں-
آدھے گھنٹے بعد وہ بچوں کو تیار کرکے لے آئی تھی-شزا پر تو خوب محنت کی تھی-دلہن کے ساتھ ساتھ اسے بھی میک اپ کردیا تھا-ماتھے پر چھوٹی سی بندیا لگائی تھی اور ہاتھوں میں چوڑیاں بھری تھیں-
وہ سرخ لہنگے میں ملبوس تھی-جس کی چولی سلیو لیس تھی اور ناف سے بھی اوپر آرہی تھی-وہ آئینے کے سامنے کھڑی کسی فیشن ماڈل کی طرح ہر زاویے سے خود کو دیکھ رہی تھی-
ہا–بہو تمہاری عقل کو کیا ہوگیا ہے شریف گھرانے کی بچیاں ایسا لباس نہیں پہنتیں-دیکھو تو اسکا بدن بھی نظر آرہا ہے-تھوڑی بڑی چولی لے لیتی-بدن تو ڈھانپا جاتا-
خالہ جی ابھی کونسا یہ سولہ سال کی ہوگئی ہے چھہ سال کی تو ہے بس-اسنے فنکشن میں حصہ لیا ہے-کپڑے تو اچھے ہونے چاہئیں-
سولہ کی بھی ہوجاۓ گی تب بھی تم اسے یہی پہنا دینا میری بلا سے-
اب یہ آدھے کپڑے اچھے کہلانے لگے ہیں-واہ بھئی کیا سوچ ہے اس نسل کی-اس سے اچھے تو تمہارے یہ لڑکے لگ رہے ہیں کم از کم کپڑے تو پورے پہنے ہیں نا-یہ بھی لڑکا ہی ہوجاتی-آج یہ بے حیائی تو نہ پھیلا رہی ہوتی-
توبہ خالہ آپ تو رائی کا پہاڑ بنا رہی ہیں-وہ پارلر میں گھستے ہوۓ بولی۔
ارے ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں پر تمہیں سمجھ ہی کہاں آتی ہے کوئی بات-فیشن کا بھوت جو سر پر سوار ہے-
دادو چلیں دیر ہورہی ہے-جبرئیل نک سک سے کرتے شلوار پر شیروانی پہنے تیار تھا-
ماشا اللہ کتنا سوہنا لگ رہا ہے-صفیہ نے اسکی بلائیں لیں-اس پوتے میں تو انکی جان تھی-وہ تھا ہی اتنا تمیزدار اور سلیقہ مند-
اچھا خالہ دیر ہورہی ہے انکو لے جائیں اب-وہ کہہ کے پھر پارلر میں گھس گئی-
اے لڑکی چل یہ دوپٹہ اوڑھ-ایسے میں نہیں لے کے جاؤں گی تجھے-
دادو اس لہنگے پر دوپٹہ اوڑھ کے تو میں ماسی لگوں گی-میں نے نہیں لینا-
پھر میں تجھے یہیں چھوڑ کے جارہی ہوں-غضب خدا کا کوئی شرم حیا ہی نہیں-
دادو وہ انڈیا والی ہیروئینیں بھی تو ایسے ہی ٹی وی پر آتی ہیں-وہ تو اتنی بڑی بڑی ہیں-انکو تو شرم نہیں آتی-اور میں کونسا ٹی وی پر جارہی ہوں-اسنے اک ادا سے اپنے کھلے بالوں کو جھٹکا-
شزا زیادہ بدتمیزی مت کرو دادو سے -یہ دوپٹہ اوڑھ لو-
جبرئیل نے آگے بڑھ کر اسے سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھایا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے بولا-
چلیں دادو-
وہ بس اسے گھور کے رہ گئی-بڑا بھائی تھا چھوٹوں پر ایک حد تک رعب تھا-
وہ سب سکول پہنچے تو وہاں خوب گہما گہمی تھی-ٹیچرز کم اور فیشن ماڈلز زیادہ لگ رہی تھیں-
جبرئیل بیٹا آجاؤ شاباش-میں آپکا ہی ویٹ کررہی تھی-بس پروگرام شروع ہونے والا ہے-آپکو نعت تیار ہے نا-ایک ٹیچر انکو دیکھتے ہی بولی-
یس ٹیچر-میں نے گھر جاکے بھی بہت پریکٹس کی تھی-وہ مسکرایا اور اسکے بھرے بھرے گال اور پھول گۓ-
گڈ بیٹا-
جبرئیل انکے ساتھ چلا گیا تھا-اور وہ ہال میں لگی کرسیوں پر بیٹھ گۓ تھے-
جبرئیل کی آواز بہت مسحور کن تھی-بالکل اپنے تایا زاد عبد اللہ کی طرح-نو سال کی عمر میں ہی اسکی آواز میں پختگی اور ٹہراؤ تھا-
کچھ دیر بعد شزا کو بھی ایک ٹیچر اپنے ساتھ لے گئی تھی-اسنے فنکشن میں پرفارم کرنا ہے پریکٹس کے لیے لے جارہی ہوں-وہ مسکراتے ہوۓ صفیہ سے کہہ رہی تھی-
صفیہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ وہ کیا پرفارم کرنے جارہی ہے-
اسے تو تب علم ہوا جب وہ سٹیج پر آکے کسی ماہر رقاصہ کی طرح ڈانس کرنے لگی-اسی کا ہم عمر ایک بچہ ہیرو بنا ہوا تھا اور دونوں کسی انڈین رومانٹک گانے پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پوری مہارت سے رقص کررہے تھے-دوپٹہ اس نے جانے کہاں اتار پھینکا تھا-
صفیہ تو ہکا بکا سی دانتوں میں انگلیاں دباۓ یہ سب دیکھ رہی تھی-
سب بڑے چھوٹے تالیاں اور سیٹیاں بجا کر داد دے رہے تھے-
جیسے مسجد ضرار میں منافق بیٹھ کر تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے-اور اللہ نے انکے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں-
شزا اپنے کارنامے پر خوشی سے اچھلتی کودتی واپس آئی تو صفیہ نے چٹاخ سے ایک تھپڑ رسید کیا-شرم نہیں آتی تجھے-
دادو میں نے کیا کیا ہے-؟
اب تو نے یہ ناچ گانا کیا نا تو میں تجھے سکول سے اٹھا لوں گی-
بس اتنی سی بات پر اتنا زور کا تھپڑ ماردیا-اس نے گال سہلایا-
اے لڑکی یہ اتنی سی بات نہیں-پہلے تو صرف مخصوص گھروں میں یہ سب ہوتا تھا شریفوں کی بچیاں کبھی ایسی بے حیائی نہیں کرتی تھیں اب تو گھر گھر یہی بے شرمی پھیل گئی ہے-بازار میں ناچنے والی تو حرافہ کہلاۓ اور سکولوں میں ناچنے والیاں داد لیتی ہیں-ماں باپ بھی دیکھ دیکھ کے خوش ہوتے ہیں-جیسے بڑا نیک نامی کا کام ہورہا ہے-
پر تجھے کہاں سمجھ آۓ گی-تیری ماں نے جو کبھی سمجھایا نہیں-
دادو ہر وقت مما کو برا نہ کہا کرو-مجھے اچھا نہیں لگتا-وہ منہ بنا کے بولی-
اور دادو بے چاری سر پیٹنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتی تھی-بیٹے کے پاس وہ بہو کی شکایتیں لگاتی نہیں تھی-پھر بہو الزام دیتی کہ ساس نے کان بھر کے لڑائی کروادی-پر اب بات کرنا ضروری ہوگیا تھا-
گھر آکے اس نے شمع کو تو کچھ نہیں کہا تھا-
ابراہیم کو ساری روداد سنا ڈالی-بیٹا میں کہنا نہیں چاہتی تھی پر اب تم ہی دیکھو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے-اگر ابھی سے بچوں کو اچھا برا نہیں سکھایا تو بڑے ہوکے کیسے پتہ چلا گا انہیں-اور پھر وہ کسی کی مانیں گے بھی نہیں-
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھیں اور ابراہیم انکی پائنتی کی جانب-
ہر دفعہ یہی کہہ کے ٹال دیتی ہے خالہ ابھی بچی ہے بڑی ہوگی تو خود ہی سمجھ جاۓ گی-سمجھ تو جیسے آسمان سے اترے گی-ہے تو میری سگی بھانجی-اسکی ماں کی اور میری تربیت تو ایسی نہیں ہوئی تھی-اسے پتہ نہیں یہ ہوا کہاں سے لگ گئی ہے-
اماں جی میں سمجھ گیا آپ کی بات-میں تو سارا دن گھر سے باہر رہتا ہوں رات کو تھک ہار کے آتا ہوں تو کچھ دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی اب یہ تو شمع کا کام ہے کہ وہ بچوں کی تربیت کرے-وہ تو گھر میں ہی رہتی ہے تربیت کرنا تو ماں کا کام ہے-باپ کما کے لادیتا ہے یہی کافی نہیں-
ہاں وہ تو ٹھیک ہے تم کما کے لاتے ہو -پر بچوں کے ساتھ بھی تھوڑا زیادہ وقت گزار لیا کرو-تاکہ تمہیں پتہ ہو وہ کیا کررہے ہیں ۔کس سے ملتے ہیں ۔کہاں جاتے ہیں۔ انکی عادتیں کیوں تبدیل ہورہی ہیں-دوستوں کے ساتھ کم وقت گزارا کرو-بچوں پر نظر رکھا کرو-
سیانے کہتے ہیں -کھلاؤ سونے کا نوالہ–دیکھو شیر کی آنکھ سے-بیٹا میں نہیں چاہتی تمہاری اولاد نا فرمان ہوجاۓ یا گمراہی کے رستے پر چل پڑے-اولاد کا دکھ برداشت نہیں ہوتا-
ٹھیک ہے ماں جی میں کوشش کرتا ہوں-اچھا ہوا آپ نے بتادیا-
بس بیٹا اپنی بیوی سے لڑائی جھگڑا نہ کرنا آرام سے بات کرنا-اسے سمجھ بھی آجاۓ-
آپ بے فکر ہوجائیں-اور اپنی تربیت پر بھروسہ رکھیں-
وہ انکو تسلی دیتا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
