Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 14)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 14)
Ins o jaan by Maimona Aman
زمل—تم نے بواۓ فرینڈز کیسے بناۓ ہیں؟ میر ا مطلب ہے کہ کیسے فرینڈشپ کرتے ہیں؟
شزا نے اپنی سہیلی سے پوچھا-
وہ ایک دم اپنے بالوں کو جھٹک کر ہنس پڑی-اوہ پیاری لڑکی–یہ بھی کوئی مشکل کام ہے-یہ ساتھ بوائز کالج ہے نا وہیں سے کسی کو پٹا لو—اس نے ہاتھ جھاڑے۔
پر کیسے–؟
تم میرے ساتھ رہو گی تو سب سیکھ جاؤ گی–بس یہ بتاؤ کتنے بواۓ فرینڈز چاہئیں-؟
بس ایک–اس نے ایک انگلی لہرائی-جیسے کہہ رہی ہو بس ایک جوتا چاہیے-
ہاہاہا—زمل کا قہقہ گونجا–بس ایک–؟
ہاں –اس نے معصومیت سے کہا–
وہ شوخ چنچل اور الہڑ لڑکی ضرور تھی مگر دادو نے اس پر کڑی نظر رکھی تھی اور اسے مخالف صنف سے حتی الامکان دور رکھا تھا–سکول میں جبرئیل بھی اس کی ہر حرکت پر نظر رکھتا تھا-اس لیے وہ کبھی اس طرح کے معاملات میں ملوث نہیں ہوپائی تھی-
زمل —اسکی کالج کی دوست ایک اپر کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی جہاں ہر قسم کی آزادی میسر ہوتی ہے اور لڑکے لڑکیوں کے اختلاط کو معیوب نہیں سمجھا جاتا–ایسی لڑکیاں غیر مردوں سے اپنی تعریف سن کر ہی زندہ رہتی ہیں-
میں تمہیں کچھ لڑکوں سے ملوادوں گی جو پسند آۓ اس سے فرینڈ شپ کرلینا—سمپل–
وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے کوئی جانور پسند کرنے کی بات کی جارہی ہو-
مگر کیسے اور کب-؟
ایک تو تم سوال بہت کرتی ہو—
دیکھو جس دن کالج میں فن فئیر ہے نا اس دن کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی ہم لنچ پر چلیں گے —وہیں–
سولہ سال کا بچگانہ دماغ اور دنیا کی اونچ نیچ سے مکمل بے بہرہ تھا-جو لڑکی کبھی باپ اور بھائی کے بغیر اکیلی گھر سے نا نکلی ہو اسے کیا معلوم ؟دنیا کے مرد کیسے ہوتے ہیں–؟
وہ تو بس خود کو ایک ہیروئن سمجھتی تھی–اسکی کوئی سہیلی اسکے بالوں کی تعریف کرتی کوئی رنگت کی اور کوئی سراپے کی–اب اس ہیروئن کو ایک ہیرو چاہیے تھا–جیسے فلموں میں ہمیشہ ہوا کرتا ہے–اس کے لیے زندگی ایسی ہی تھی بالکل کسی فلم کی طرح –جہاں ایک بواۓ فرینڈ اپنی گرل فرینڈ کی تعریف کرتا ہے اسے گفٹس دیتا ہے–اسکی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال رکھتا ہے اور اس سے محبت بھری باتیں کرتا ہے اور–پھر اکثر ان دونوں کی شادی ہوجاتی ہے–
ابھی اسکا ذہن ہیروئینز کے اور اپنے طرز زندگی کا موازنہ کرنے سے قاصر تھا–انکے فرق ابھی اس پر واضح نہیں تھے-اسے دادی کی روک ٹوک بالکل نہیں بھاتی تھی–ماں کی طرف سے اسے کبھی اتنی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا–اور نہ ہی کبھی انہوں نے اس کے چست یا اونچے لباس–کھلے بالوں یا سر ننگے گھر سے باہر جانے پر کچھ کہا تھا–کیونکہ شمع کا خیال تھا کہ زمانہ بدل گیا ہے اور اس کی بیٹی کو بھی اس کے مطابق فیشن ایبل اور ماڈرن ہونا چاہیے ورنہ لوگ انہیں دقیانوسی سمجھیں گے اور اس طرح ایک دبو سی۔۔۔ اور کھلے ڈھلے کپڑے پہننے والی۔۔۔ چادروں میں لپٹی رہنے والی لڑکی کو کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا-
اب صرف دادو ہی آنکھوں میں کھٹکتی تھی-یا جبرئیل تھا جو اسے کالج چھوڑنے آتا تو اچھے سے دوپٹہ اوڑھنے کی تاکید کرتا رہتا–
**********************************
ماما میرا اچھا سا پارٹی میک اپ کردیں–جلدی جلدی–
وہ ہاف سلیوزسرخ گھیر دار فراک جس پر ڈل گولڈن کلر کا کام تھا پہنے کھڑی تھی-دونوں کلائیوں میں بھر بھر کے چوڑیاں پہنی تھیں–اونچی ہیل میں اسکا درمیانہ قد دراز نظر آرہا تھا-اسکی ملائی جیسی رنگت پر سرخ رنگ خوب بہار دکھلا رہا تھا-
کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی–شمع نے کسٹمر سے نظریں ہٹا کر اسکا جائزہ لیا-تجھے تو ضرورت ہی نہیں میک اپ کی–
نہیں ماما–آئز تو بنادیں–اور اچھا سا ہئیر سٹائل بھی-
اچھا بیٹھ بس دو منٹ–
شمع نے اسکا آئی میک اپ کیا اور سرخ لپ اسٹک لگادی–بالوں کا سامنے سے سٹائل بنا کر باقی کھلے چھوڑ دیے-
چل جا اب—نظر نہ لگے میری بیٹی کو–
اب گھر پر تو کوئی ہے نہیں جو تجھے چھوڑآۓ -دس بج رہے ہیں–تیرے بابا بھی چلے گۓ اور بھائی بھی–
شمع نے سوالیہ نظروں سے بیٹی کو دیکھا–
وہ میری دوست ہے نا زمل–وہ یہیں سے تو گزرتی ہے جاتے ہوۓ مجھے بھی پک کرلے گی-
اچھا چلو ٹھیک ہے–شمع پھر سے کسٹمر کے ساتھ مصروف ہوگئی-
اس نے نیٹ کا باریک دوپٹہ سر پر اوڑھا اور جانے کے لیے نکل پڑی–
اے ہے–اتنی بن ٹھن کے کیا کسی کے بیاہ میں جارہی ہے-؟دادو نے چشمہ کے نیچے سے اسے گھورا-
دادو کالج میں فنکشن ہے–
تو ناچے گی کیا وہاں جاکے–؟جیسے سکول میں ناچتی تھی–ہڈیاں توڑ دوں گی میں تیری اگر تو نے یہ بے غیرتی کی–
دادو کو اس کی تیاری دیکھ کر ہی غصہ چڑھ گیا–
آپ کونسا کالج میں آکے دیکھ سکتی ہیں وہاں کیا ہورہا ہے–؟وہ اونچی آواز سے بڑبڑائی–
تو آکے دیکھ لوں گی–انہوں نے اس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی–
اے جا کس کے ساتھ رہی ہے–؟دادو نے پیچھے سے ہانک لگائی–
دوست کے ساتھ جارہی ہوں اور کیا یہاں میرے لیے کوئی نوکر بیٹھے ہیں یا گاڑیاں کھڑی ہیں جو چھوڑ آئیں گی–
وہ بدتمیزی سے کہتی باہر نکل گئی–
باہر زمل کا ڈرائیور مسلسل ہارن بجا رہا تھا-
تم سیل کیوں نہیں لے لیتیں–؟شزا کے گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ بولی-
شزا نے اسکی بات ان سنی کردی–اب وہ اسے یہ بتاتے ہوۓ اچھی تو نہ لگتی کہ اس کے گھر میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں دی جاتی اور وہ ابھی تک اپنی ماما کا موباٸل استعمال کرتی ہے۔
میں کیسی لگ رہی ہوں-؟
ہاں ٹھیک لگ رہی ہو—اس نے عام سے انداز میں کہا–
بس ٹھیک–؟
ہاں اچھی لگ رہی ہو–ہئیر سٹائل بھی–
وہ خود جو سلیولیس ٹاپ میں ملبوس تھی اور دوپٹہ ندارد–تو اسے یہ انارکلی ٹائپ ڈریس کہاں بھانا تھا-
راستے بھر زمل موبائل پر مصروف رہی-اور شزا باہر دیکھتی رہی—
وہ کالج پہنچے تو وہاں اچھی خاصی رونق تھی-لڑکیوں کو اپنی من مرضی کرنے کا موقع مل گیا تھا–
پروگرام شروع ہونے ہی والا تھا شزا کی ڈانس پرفارمنس تھی–اور اسکی باقی دوستوں نے گروپ ڈانس پرفارمنس کرنا تھی–
ہم دو بجے یہاں سے نکل پڑیں گے–لنچ پر جائیں گے–زمل نے اسے بتایا —
اوکے –وہ مسکرائی–
جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا جاتا ہے اسے اپنی ذات کا شعور آتا جاتا ہے–ایک بچے کو یہ بالکل علم نہیں ہوتا کہ وہ خوبصورت ہے یا بد صورت–کالا ہے یا گورا–نہ ہی وہ دوسروں کے بارے میں اس چیز کا شعور رکھتا ہے–یہ بے شعوری بہت بڑی نعمت ہے–
لیکن بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی خوبصورتی یا بد صورتی نظر آنے لگتی ہے اور ایک پر وہ فخر کرنے لگتا ہے اور دوسری پر شکوے اور ناشکری–
کسی کو اپنا ظاہری حسن نظر آتا ہے اور کسی کو باطنی–اور پھر وہ اسے مزید سنوارنے کی کوشش کرنے لگتا ہے–
ظاہری حسن کا نظر آنا بڑا خطر ناک ہوتا ہے–کیونکہ پھر انسان چاہتا ہے کہ اسے کوئی سراہنے والا ہو–کوٸی چاہنے والا ہو۔
اور لڑکیاں اگر اپنے حسن سے نابینا ہی رہیں تو یہی ان کے لیے بہتر ہے-یا وہ اپنے آپ کو بد صورت سمجھیں اور سب سے چھپنے کی کوشش کریں تو بھی یہی ان کے حق میں بہتر ہے–یا انہیں اپنا حسن صرف اسی وقت نظر آۓ جب وہ اسکی تعریف کی ضرورت محسوس نہ کرتی ہو۔
جانے کیوں ہر تعریف کرنے والا انہیں ہمدرد لگتا ہے—کسی دانا کا قول ہے کہ–
ضروری نہیں جو آپ کو محبت بھری نظروں سے دیکھے وہ آپ کا خیر خواہ ہو–بلی بھی تو کبوتر کو محبت بھری نظروں سے دیکھتی ہے-
لڑکیاں بھی شاید کبوتر کی طرح بزدل ہوتی ہیں جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے–اپنے پروں پر بھروسہ نہیں کرتا–اور پھر آسانی سے اسکا شکار بن جاتا ہے-لڑکیاں بھی کسی کی محبت بھری آنکھیں دیکھ کر اسکی ہوس سے اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہیں—جیسے ایک کبوتر کو شکار بنتا دیکھ کر باقی کبوتر نصیحت نہیں پکڑتے ویسے ہی لڑکیاں کبھی بھی دوسری لڑکی کے انجام سے نصیحت نہیں پکڑتیں–
انہیں خود پر جمی نگاہیں دنیا کی پاکیزہ اور سچی ترین نگاہیں لگتی ہیں–محبت کی وادی انکے قدموں کے لیے ان چھوئی ہوتی ہے اور اس میں قدم رکھتے ہی وہ ہمیشہ کے لیے کھو جاتی ہیں—اسکا طلسم انہیں کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیتا–پر وہ نہیں جانتیں کی اس وادی کے اختتام پر ایک دلدل ہے جس میں قدم رکھتے ہی انسان پورا کا پورا دھنس جاتا ہے۔۔۔کاش کوٸی انہیں سمجھا سکے۔۔۔کاش۔۔
کالج سے کچھ دور ایک ریسٹورنٹ تھا-شزا زمل کے ساتھ اس کی گاڑی میں وہاں پہنچی-ٹیبل پر بیٹھ کر اس نے جوس آرڈر کردیا–
عین سامنے پانچ لڑکوں کا ایک گروہ بیٹھا تھا–سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے–انکی عمریں سترہ سے بیس برس کے درمیان تھیں–لابالی انداز—چھچھورا پن–بے فکری–عیاشی–انکے ہر انداز سے واضح تھی-وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہے لگا رہے تھے آس پاس موجود ہر لڑکی کو جانچتی نظروں سے دیکھ رہے تھے-
دیکھو ان میں سے کون زیادہ اچھا ہے-؟
مجھے تو سب ہی اچھے لگ رہے ہیں–تم ہی بتادو–اس نے نروس ہوکر انگلیاں مروڑیں–
اسکے ہوشربا سراپے نے انکو اسکی طرف متوجہ کردیا تھا-وہ اب ان دونوں پر نظریں جماۓ انہیں دیکھ رہے تھے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوجے کو اشارے کررہے تھے–
ایک نیلی آنکھوں والا لڑکا اٹھ کر انکی ٹیبل کے پاس آیا–اس نے ہاتھوں میں بینڈز –رنگز اور جانے کیا الم غلم پہن رکھا تھا-وہ دراز قد وجیہ اور شاندار پرسنالٹی کا مالک تھا–پر اس کی شخصیت میں کوئی وقار نہیں تھا-
ہیلو پریٹی—
وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور ہاتھ شزا کے سامنے بڑھادیا–اور اب وہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا–زمل مسکرا رہی تھی-
ڈراموں میں ایسا ہوتا وہ دیکھتی تھی–کالج یونیورسٹیز میں یہ سب چلتا ہے–
اس نے کچھ جھجکتے ہوۓ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمادیا–
تبریز خان—
اس نے گرمجوشی سے اسکا ہاتھ دبایا۔
شزا ابراہیم–
اسکے پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی-کچھ تھا جو ایک لمحے میں محسوس ہوا تھا–کوئی تبدیلی یا کوئی انجانا سااحساس-کورے کاغذ پر سیاہ دھبہ۔
میری گرل فرینڈ بنو گی–؟
وہ براہ راست مدعے پر آیا–اسکی چمکتی آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی تھیں–
وہ مسکرا کر رہ گئی–
یو آر سو پریٹی اینڈ کیوٹ-کیا حسن ہے۔۔ بالکل قدیم دیو مالائی کہانیوں کی کسی دیوی جیسا—اور تمہارے بال–اس نے اسکے چہرے کی اطراف لہراتی لانبی لٹوں کو دیکھتے کہا۔۔
اف—کیا بات ہے–وہ خمار زدہ آنکھوں سے کہہ رہا تھا-لہجے میں ستاٸش تھی۔
سرخ فراک اور نیٹ کے دوپٹے میں اس کا حسن چھپاۓ نہیں چھپ رہا تھا—اور مقابل عقاب کی سی آنکھوں سے اسے تک رہا تھا–
اسے یہ الفاظ انتہائی بھلے لگے تھے–یہ ستاٸش۔۔یہ والہانہ پن اور مقابل کی جزبے لٹاتی آنکھیں۔
گاڑی سے نکل کر ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہونے تک ہر شخص نے اسے اپنی نگاہوں سے سراہا تھا اور اب سامنے بیٹھے ہر لڑکے کی نظریں بھی یہی کہہ رہی تھیں–شزا ہواؤں میں اڑ رہی تھی-اسے یک دم سے اپنا آپ اہم لگنے لگا تھا-
میرا نمبر لے لو—پھر بات ہوگی—
مم—میرے پاس سیل نہیں ہے–ماما کا نمبر ہے—
اوہ–شٹ–اس کے چہرے پر ناگواری آٸی پر وہ فوراً ہی سنبھل گیا۔
اچھا انہی کا دے دو–کسی لڑکی کے نام سے میرا نمبر سیو کردینا اور دوست کہہ کر بات کرلینا-
میں تمہیں سیل گفٹ کردوں گا–پھر کوٸی مسٸلہ نہیں ہوگا۔
زمل خاموشی سے جوس پی رہی تھی–
باۓ–سویٹ ہارٹ۔
وہ کہتا ہوا وہاں سے اٹھ گیا–
چلو چلیں—شزا—زمل اٹھ کھڑی ہوئی–
راستے بھر وہ اسے بواۓ فرینڈ کو قابو میں رکھنے کے گر بتاتی رہی اور وہ سر ہلا ہلا کر اسے سنتی رہی–
کتنا گھٹیا لفظ تھا یہ–گرل فرینڈ–!!
جسے پرانے زمانے میں لونڈی کہا جاتا تھا–
لونڈی—عورت کا کم تر درجہ–جن کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہوتا تھا انہیں لونڈی بنا کے بیچ دیا جاتا تھا—وہ بھی ایک ہی مالک کی غلام ہوتی تھی–پر گرل فرینڈ—آج ایک کی تو کل دوسرے کی ہوتی ہے—اسے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے–
کورے کاغذ پر صرف ایک سیاہ نقطہ بھی بدنما لگتا ہے۔
کسی نامحرم سے واہیات گفتگو کرکے کبھی زندگی پرسکون نہیں ہوتی—آلودہ ہوجاتی ہے—جیسے کچرے کا کوئی ڈھیر جس پر ڈھیروں مکھیاں بھنبھناتی رہتی ہیں—پر عقل کے اندھوں کو بیکٹیریا اور وائرس تو نظر آتے ہیں مگر—روح کی–لفظوں کی اور عمل کی گندگی نظر نہیں آتی–
شزا ابراہیم گندگی کے اس ڈھیر میں خود ہی آکر گر گئی تھی–اسکی ساری حسیات ناکارہ ہوچکی تھیں–وہ اپنے جسم میں پھیلنے والی بو سونگھ سکتی تھی اور نہ ہی کسی کی آنکھوں میں بھری غلاظت—اسے کسی کی گرل فرینڈ بننا تھا-سو وہ بن گئی تھی-
شاید معاشرہ ان لڑکیوں کو قبول نہیں کرتا جن کا کوٸی بواۓ فرینڈ نہ ہو۔۔یا لوگ کسی لڑکی کی پاکبازی کا یقین نہیں کرتے؟
کیا ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جنہوں نے کبھی اپنی سماعتوں کو کسی نا محرم کی بے وجہ کی گفتگو سے آلودہ نہ کیا ہو؟جنہیں کسی نامحرم سے بلاوجہ بات کرنے سے اور اپنی تعریف سننے سے گھن آتی ہو۔؟ جنہیں کسی سے معنی خیز گفتگو کرنے سے توہین محسوس ہوتی ہو۔
اسی سیارے پر کہیں ایسی لڑکیاں بھی رہتی ہوں گی۔۔۔شاید کہیں۔!!!
پر انکی پاکبازی کا یقین کون کرے گا؟
کسی کو یقین دلانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ایک ہستی ہے نا۔۔۔جسے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔
***************************
عبداللہ کو جب قید میں ڈالا گیا تو اسکے حواس شل سے تھے پر اسے حیرت تھی کہ وہ اتنے ہیبت ناک مناظر دیکھ کر بھی زندہ کیسے ہے-؟
وہ بہت دیر چکراتے سر کے ساتھ اس نیم اندھیرے غار میں بیٹھا رہا–اسکا پورا بدن ٹیسیں مار رہا تھا اور دماغ بالکل سن ہوچکا تھا–کانوں میں عجیب سی سائیں سائیں کی آوازیں آرہی تھیں-آنکھیں پوری کھلنے سے قاصر تھیں-
وہ جگہ انتہائی ہیبت ناک اور بدبو دار تھی-فرش پر سیلن تھی–جس دیوار سے اس نے ٹیک لگائی تھی وہ بھی عجیب ٹیڑھی میڑھی تھی-
پتہ نہیں ایک دن گزر گیا تھا یا ایک رات—وقت کا کوئی حساب نہیں تھا–نہ روشنی دکھائی دی تھی نہ
اندھیرا چھٹا تھا-ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی–اسے لگ رہا تھا کہ وہ کسی جہنم میں قید ہے۔
وہ اسی طرح شل سا وہاں پڑا تھا–لگتا تھا اسکا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ہے–
اس نے اپنا نام یاد کرنے کی کوشش کی–
عب—عز—باز—لا—ال—عبل–
ٹوٹے پھوٹے لفظ اس کے ذہن میں آرہے تھے–
عبدل—لہ–
عبداللہ–بالاآخر بہت دیر ذہن پر زور ڈالنے پر اسے اپنا نام یاد آگیا–
عبداللہ–ہاں –میرا نام عبداللہ ہے—
اللہ—اللہ–ہاں وہ تو ہے نا—
اللہ تو ہے—کدھر ہے—؟وہ اٹھ کر پاگلوں کی طرح دیواریں ٹٹولنے لگا—
اللہ تو کدھر ہے—؟سامنے آ–
لیکن میں نے تو اسے دیکھا ہی نہیں –تو پہچانوں گا کیسے–؟
وہ کیسا ہے—؟اس نے شدت سے سوچا–پر ذہن خالی تھا جیسے کوئی کورا کاغذ–
اللہ–اللہ—وہ زور زور سے چلانے لگا—
غار میں روشنی بڑھی اور اس نے چاروں طرف سے بڑے بڑے اژدھوں کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا—
وہ خوف سے کانپنے لگا—اسکے ذہن میں یک دم جھماکا ہوا–
اللہ—اللہ ہو—اللہ ھو لا الہ الا—اسکی زبان پر آیت الکرسی جاری ہوگئی–وہ اپنی پوری طاقت سے پڑھ رہاتھا–اب اسے کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا–وہ کون ہے–کہاں ہے–اور کیوں ہے-
وہ پورے یقین اور دل کی گہرائیوں سے حلق کے بل آیت الکرسی پڑھ رہا تھا–
اژدھے چھوٹے ہوتے جارہے تھے اور کچھ دیر بعد انکو آگ لگ گئی اور وہ دھواں بن کے فضا میں تحلیل ہوگۓ–
کوئی طاقت تھی جو اسکی زبان کو نہ رکنے دے رہی تھی اور نہ تھکنے دے رہی تھی–
وہ دیوانہ وار آیت الکرسی کا ورد کررہا تھا–ایک زوردار دھماکا ہوا اور
غار کا پتھر لڑھک گیا-باہر سے روشنی اندر آنے لگی –راستہ ملنے پر وہ بلا تاخیر بھاگا-
غار سے باہر ایک سرنگ نما رستہ تھا جہاں مکمل روشنی نہیں تھی–سامنے سے بڑے بڑے جن ہاتھوں میں لوہے کے گرز اٹھاۓ بھاگتے چلے آرہے تھے–عبداللہ نے اپنی پوری طاقت اور یقین کے ساتھ ورد جاری رکھا-
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسکی آواز بلند ہوتی جارہی تھی اور طاقت بڑھتی جارہی تھی–
جو تو پڑھ رہا ہے اسے چھوڑ دے–میں کہتا ہوں ابھی باز آجا —ورنہ تیرا وہ حشر ہوگا کہ ایک بال بھی نہیں ملے گا—اسے گرج دار آواز سنائی دی–
پر وہ اپنی دھن میں تھا کسی کی دھمکی اس پر کوئی اثر نہیں دکھارہی تھی–وہ خوف کا سامنا کرکے اب اس سے آزاد ہوگیا تھا۔
اسے اونچا اونچا رونے پیٹنے اور بین کرنے کی آوازیں آنے لگی–وہ سرنگ میں بھاگتا جارہا تھا–اچانک سے دادا جی سامنے آگۓ–
عبداللہ بس کر–چپ ہوجا-نہ پڑھ-اب کچھ نہیں ہوسکتا-ہم سب ختم ہوجائیں گے–بس کر۔۔۔
وہ نقاہت زدہ آواز میں کندھے جھکاۓ اس سے التجا کررہے تھے-
دادا جی آپ یہاں؟ وہ ششدر کھڑا تھا۔۔
