Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 02)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 02)
Ins o jaan by Maimona Aman
پیارے پیارے بچو-
کہانی سنو گے؟
جی ماسٹر جی–
سب بچے اشتیاق سے انکے سامنے دھوپ میں آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے-
دسمبر کا مہینہ تھا اور نکھری نکھری دھوپ پھیلی ہوئی تھی-آج بادل غاٸب تھے۔
پچھلی بار میں نے آپ کو باوا آدم اور اماں حوا کی کہانی سنائی تھی-یاد ہے نا؟
جی یاد ہے–
تو بتاؤ پھر کیا یاد ہے-انہوں نے مسسکرا کر انکے معصوم چہروں کو دیکھا-
آپ نے بتایا تھا کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور اماں حوا کو بنایا اور پھر وہ جنت میں رہتے تھے اور شیطان نے انکو بہکادیا اور انہوں نے نا فرمانی کی تو انکو زمین پر پھینک دیا گیا-ایک چھہ سات سالہ بچہ یہ سب بتارہا تھا-
شیطان نے بھی تو نا فرمانی کی تھی نا اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور تکبر اور حسد کیاتھا-ایک اور بچے نے بات مکمل کی-
بالکل–ٹھیک -شاباش-
شیطان نے تکبر کیا تھا اور غرور و تکبر یعنی بڑاٸی اللہ کی صفت ہے یہ صرف اسے زیب دیتا ہے انسان یا کوئی اور مخلوق یہ کام کرے تو اللہ جی بہت ناراض ہوتے ہیں-
اللہ بہت بڑا ہے اور ہم سب تو اسکے سامنے بہت چھوٹے ہیں-
لیکن ماسٹر جی ہم سب چھوٹے ہیں آپ تو بہت بڑے سے ہیں-
ایک بچی نے کھڑے ہوکر کہا اور باقی سب ہنسنے لگے-
نہیں-بیٹا میں تو صرف قد اور عمر میں بڑا ہوگیا ہوں اندر سے تو میں بہت چھوٹا ہوں آپ سب بچوں سے بھی چھوٹا-
ہیں —؟
وہ کیسے ماسٹر جی–ایک بچہ حیرت سے بولا–
دیکھو نا میں تو سب کچھ جانتا ہوں –اچھا برا-گناہ ثواب–پھر بھی میں جان بوجھ کے گناہ کے کام کر جاتا ہوں اپنے آپ کو دوسروں سے اچھا سمجھنے لگتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ میں سب سے زیادہ عقلمند اور علم والا ہوں-تو میں اندر سے چھوٹا ہوا نا–
جو اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھتا ہے اصل میں وہی چھوٹا ہوتا ہے-دوسروں کو کم تر اور خود کو برتر سمجھنا بہت بری بات ہے۔
تو پھر بڑا کون ہوتا ہے؟
جو دوسروں کی اچھائیاں اور اپنی برائیاں دیکھتا ہے وہ بڑا ہوتا ہے-
ماسٹر جی بڑے کیسے بنتے ہیں-؟
ایک اور بچے نے سوال کیا-
میرے بچے–بڑا بننے کے لیے خود کو بہت چھوٹا بنانا پڑتا ہے-
وہ کیسے-؟انکا تجسس بڑھتا جارہا تھا۔
وہ ایسے کہ آپ بلا وجہ ہی ہر کسی کے کام آؤ-اگر کسی کو آپ کی ضرورت ہے تو اسکی مدد کرو-
تکبر میں آکر مدد سے انکار مت کرو-
سب سے اچھے طریقے سے پیش آؤ-ہنس کے ملو-
کسی کے لیے برا نہ سوچو اور نہ ہی دل میں برائی رکھو-اگر کوئی آپ کے ساتھ بر اکرے تو اللہ پر چھوڑ دو وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے-
ماسٹر جی اتنے سارے کام کرنے پڑتے ہیں بڑا ہونے کے لیے-؟
ایک بچے نے سر کھجاتے ہوۓ کہا-
ہاں بیٹا۔۔پر یہ سارے کام بہت آسان ہیں۔بس عاجزی اپنالو تو خود ہی یہ کام ہوتے جاٸیں گے۔
بچے یہ سب بڑا بننے کے لیے کرنا پڑتا ہے بڑا ہونے کے لیے نہیں-
تو ماسٹر جی بڑا ہونے کے لیے کچھ نہیں کرنا پڑتا-؟
نہیں بیٹا–وہ تو قدرت کا اصول ہے کہ ہر جاندار اپنے وقت اور عمر کے حساب سے بڑھتا رہتا ہے-بڑا ہونے کے لیے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی بس کھاؤ پیئو اور جیو-
بس–یہ تو بہت آسان ہے-میں تو یہی کروں گا-ایک کام چور بچہ بولا-
ماسٹر جی ہنس پڑے-
ماسٹر جی شیطان کے بچے کیسے ہوتے ہیں-؟ایک بچے کو سوال سوجھا۔
وہ بھی شیطان جیسے ہوتے ہیں–جو سب کو تنگ کرتے ہیں بہکاتے ہیں-اور بچوں سے شرارتیں کرواتے ہیں-
یہ جن بھوت اور چڑیلیں سب شیطان کے بچے ہیں-اور ہر انسان کے بچے کے ساتھ ایک شیطان کا بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ مرتے دم تک اسکے ساتھ رہتے ہیں-تاکہ اسے گمراہ کرتے رہیں-اس سے برے کام کرواتے رہیں-
میں اس شیطان کے بچے کو بہت ماروں گا–ماسٹر جی وہ کہاں ہے مجھے بتائیں-
ایک موٹا سا بچہ بازو چڑھا کر بولا-
ارے ایسے نہیں مرتا وہ-
تو پھر کیسے مرے گا-؟اسکا جوش کم ہوگیا-اور منہ لٹک گیا۔
جو آپ سب نے دعائیں سیکھی ہیں-باتھ روم جانے کی دعا-کھانا کھانے کی-گھر سے باہر جانے کی-اور آیت الکرسی-قرآن کریم اور نماز -یہ سب پڑھتے رہو گے تو وہ آپ کا کچھ بھی نہیں کرسکے گا-
اور باتھ روم جانے کی مسنون دعا تو ضرور پڑھا کرو کیونکہ وہاں پر بہت گندے جن رہتے ہیں جو آپ کو دیکھتے ہیں اور پھر آپ کے ساتھ ہی چمٹ جاتے ہیں اور آپ کو طرح طرح کی بیماریوں برے کاموں اور پریشانیوں میں مبتلا کردیتے ہیں-جنکی وجہ سے انسان کی زندگی جہنم بن جاتی ہے-بہت کم لوگوں کو اس بات کا پتہ ہے-اور زندگی کے بہت سے مساٸل کی یہی بنیادی وجہ ہے۔
اب آپ نے سب کو یہ بات بتانی ہے اور دعا بھی سکھانی ہے-
ماسٹر جی واقعی باتھ روم میں جن رہتے ہیں-؟ایک بچہ پریشانی سے پوچھنے لگا۔
ہاں جی بیٹا-آپ کو باتھ روم کی دعا اسی لیے تو سکھائی ہے اگر یہ جھوٹ ہوتا تو حدیث میں اس دعا کا ذکر نہ ملتا-
آپ کو پتہ ہے اسکا کیا مطلب ہے-؟
سب کے سر نفی میں ہلے-
اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبائث-
اے اللہ مجھے جن اور جننیوں سے محفوظ فرما-تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن واقعی ہوتے ہیں–
اتنے میں چھٹی کی بیل ہوگٸی۔
ارے میں تو کہانی سنا رہا تھا بات کہاں سے کہاں نکل گئی-
اب تو چھٹی کا ٹائم ہوگیا ہے -چلو سب اپنی چیزیں سمیٹ لو-
ماسٹر جی آپ بہت اچھے ہیں-ایک بچہ بولا-
ہاہا-انہوں نے پیار سے اسکا گال کھینچا-تم بہت پیارے ہو–
بچے اپنے بیگز اٹھاۓ گھروں کو جارہے تھے اور ماسٹر جی آسودگی سے انہیں دیکھ رہے تھے-وہ گورنمنٹ سکول کے ریٹائرڈ ماسٹر تھے-
یہ انکا اپنا بنایا ہوا سکول تھا جس میں مری کے اس چھوٹے سے پہاڑی گاؤں کے نادار بچے مفت تعلیم اور تربیت حاصل کررہے تھے-انہوں نے گاؤں کی پڑھی لکھی ضرورت مند بچیوں کو یہاں بطور ٹیچر رکھا ہوا تھا انہیں اپنے پیسے سے تنخواہ دیتے تھے-انکی زمینیں تھیں اور پنشن بھی آجاتی تھی-
روز وہ بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارتے تھے اور کہانیاں سناتے سناتے انہیں بہت کچھ سکھادیتے-اس طرح انکو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی بہترین مل رہی تھی-
ماسٹر ایوب کے سات بچے تھے
-سب سے بڑا اسماعیل فوجی تھا اور نوجوانی ہی میں شہید ہوگیا تھا-اس سے چھوٹا اسحٰق بھی فوج میں میجر تھا اور فیملی سمیت سیالکوٹ میں رہتا تھا-اس سے چھوٹا یوسف سرکاری سکول میں ماسٹر تھا اور اسکے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی انکے ساتھ ہی رہتے تھے-سب سے چھوٹا ابراہیم ملازمت کی وجہ سے شہر منتقل ہوگیا تھا-
بیٹیاں تینوں شادی شدہ تھیں-بڑی والی تو ہاؤس وائف تھی -ایک نرس اور دوسری ٹیچر تھی-ساری اولاد خوشحال اور فرمانبردار تھی۔ماسٹر ایوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے بہو یہ تم کیسے کپڑے لے آئی ہو بچی کےلیے-یہ لڑکوں والے کپڑے پہنانا کوئی اچھی بات نہیں اور اب وہ بڑی ہورہی ہے-ویسے بھی ماشا اللہ صحت مند ہے اپنی عمر سے بڑی لگتی ہے-اب اسکو ایسے کپڑے نہ پہنایا کرو-دوپٹہ لینے کی عادت ڈلواؤ-
وہ سبزی کاٹتی ہاتھ روک کر بولیں۔
خالہ آپ تو ایسے ہی وہم کرتی رہتی ہیں ابھی چھوٹی تو ہے بڑی ہوگی تو خود ہی سمجھ جاۓ گی-
کیا سمجھ جاۓ گی بچپن میں جیسی عادت ڈالو گی بڑی ہو کر وہی کرے گی-اسے کیا پتہ اچھے برے کا-اب نہیں روکو گی تو اسکی عادتیں پختہ ہوجائیں گی اور پھر نہیں چھوٹیں گی ساری زندگی-
ہم نے تو کبھی گھر میں بھی دوپٹہ سر سے نہیں اتارا-اللہ بخشے میری اماں جی تمہاری نانی تو پردے کی اتنی پابند تھی-ساری زندگی ایک ہی گھر میں رہے پر میرے تایا نے کبھی انکا چہرہ نہیں دیکھا تھا-
ارے خالہ یہ تو ساری پرانے زمانے کی باتیں ہیں اب دور بدل گیا ہے انسان کو وقت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے-آجکل تو لوگ اتنے فیشن کرتے ہیں اور شزا تو ابھی چھوٹی ہے-کچھ نہیں ہوتا-
ہاۓ ہاۓ کیا زمانہ بدلا ہے-؟
مجھے تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی-ساری دنیا کا نظام تو ویسے ہی چل رہا ہے-جب میں چھوٹی سی تھی تب بھی سورج مشرق سے نکلتا تھا اب بھی ویسے ہی ہے-تارے آسمان پر چمکتے تھے اب زمین پر تو نہیں آگۓ-تو بدلا کیا ہے بھئی-؟
انسان ہی بدلا ہے صرف-اور اپنی تسلی کے لیے اس نے دنیا کو اور اپنے رہن سہن کو بدلنا شروع کردیا ہے- کائنات کے نظام میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا-اگر وقت کے ساتھ بدلنا اتنا ہی ضروری ہوتا تو یہ نظام بھی تو بدل جاتا-
ہر کام کاایک ڈھب ہوتا ہے اس چھری کو ہی دیکھ لو غلط طریقے سے پکڑو گی تو اپنا ہی ہاتھ کٹ جاۓ گا۔
حد سے نکلو گی تو اپنا ہی نقصان ہے۔
خالہ آپ نہیں سمجھیں گی-
وہ کپڑے اٹھا کے چل دی-
ہاں بی بی میں کہاں سمجھوں گی کل کی لڑکیوں کی باتیں -زیادہ پڑھ لکھ جو گئی ہو تم لوگ-
ہم ٹہرے پچھلے زمانے کے پانچویں پاس-جتنا زیادہ پڑھتے ہیں اتنی عقل خرچ ہوتی جاتی ہے-پتہ نہیں کیا کیا پڑھاتے ہیں سکول میں کہ بچے اپنی تہزیب ہی بھولتے جارہے ہیں۔
ہمیں کہاں سمجھ ہے اس نۓ دور کی-اللہ بچاۓ بس–وہ پھر سے سبزی بنانے لگیں۔
————————————————-
پری آج اتنی شدید سردی ہے برف باری بھی ہورہی ہے تم آج بھی آگئ ہو-
ہاں تم سے ملے بغیر دل نہیں لگتا-وہ لمبے اونچے عبداللہ کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
تم بالکل پاگل ہو-بیمار پڑجاؤ گی-
میں تو سیدھا گھر جارہا تھا-میں نے سوچا آج تم نہیں آئی ہوگی-اچانک تمہارا سرخ کوٹ نظر آیا-تو میں مجبوراً یہاں آگیا-
دیکھا تمہارا دل تمہیں یہاں کھینچ لایا-وہ ہنسی تو اسے لگا کہ فضا میں جلترنگ بکھر گئی ہو-
تمہیں سردی نہیں لگ رہی-
وہ ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوۓ بجتے دانتوں سے اس سے پوچھ رہا تھا-
نہیں مجھے سردی نہیں لگتی-
کیوں تم کیا برفانی ریچھ کے خاندان سے ہو-
وہ اسکے پاس پتھر پر بیٹھ گیا آس پاس برف گر رہی تھی اور اس میں شدت آتی جارہی تھی-
ایسے فضول مذاق مت کیا کرو-اسنے منہ بنایا-
اچھا چڑیل-اس نے برف کا گولہ بنا کے اسے مارا-
اس نے بس ہنسنے پر اکتفا کیا-
میں چلتا ہوں برف سے راستے بند ہوگۓ تو گھر پہنچنا مشکل ہوجاۓ گا-پتہ نہیں کل کالج بھی جا پاؤں گا کہ نہیں-موسم بہت خراب ہے-
اس نے نگاہ اٹھا کر اوپر دیکھا –وہاں بس سفیدی ہی سفیدی تھی جو ہر سو بکھر رہی تھی-مری کے آسمان نے اسکے اپنی جانب تکتے ہوۓ چہرے پر برف کی سوغات دے ماری-
اس نے اپنا چہرہ جھاڑا اور اٹھ کھڑا ہو-
اتنی جلدی جارہے ہو تم-وہ شکوہ کنان تھی۔
جاؤں گا نہیں تو آؤں گا کیسے-؟وہ مسکرایا-
تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ موبائل لے دیتا ہوں اس پر بات کیا کریں گے پر تمہیں پتہ نہیں کیا ضد ہے-وہ بائک سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا-
پھر تو تم ملنا ہی چھوڑدو گے-موبائل پر بات کرنا بھی کوئی بات ہے بھلا-وہ برف کا گولہ اسے مارتے ہوۓ بولی۔
اچھا اب تم جاؤ میں تمہیں پہاڑی کی چڑھائی تک دیکھ کر جاؤں گا-
تم میری فکر نہ کرو میں چلی جاؤں گی
مجھے کچھ نہیں ہوتا-
ضد نہ کرو پری چلو شاباش میں یہاں کھڑا ہوں-
اچھا جاتی ہوں-وہ تیزی سے پہاڑی پر چڑھنے لگی-اس کام میں اسے خاصی مہارت تھی وہ بنا کسی دشواری کے پہاڑی پر چڑھتی چلی جارہی تھی-
عبد اللہ نے اسکے نگاہوں سے اوجھل ہونے کے بعد گھر کی راہ لی-راستے میں بھی وہ اس پاگل سی لڑکی کو سوچتا رہا-اسکے چہرے پر خود بخود اسکے تصور سے مسکراہٹ آجاتی تھی-
اسے اپنی پہلی ملاقات یاد آگئی-
وہ روز اسی راستے سے کالج جاتا تھا-
ایک دن اس نے وہاں سے گزرتے ہوۓ دیکھا کہ اس چھوٹی سی وادی میں رنگ برنگے پرندوں کا ایک غول اترا تھا-وہ بائیک روک کے بے اختیار اس سمت چل پڑا-نیلے رنگ کی دو پہاڑیوں کے درمیان یہ ایک انتہائی دلفریب وادی تھی-سڑک سے ذرا ہٹ کے تھی-
خوبانی بادام اور اخروٹ کے چند درخت تھے-ایک طرف چھوٹی سی ندی تھی-جو اوپر سے گرتے جھرنے سے قدرتی طور پر بن گئی تھی-اسکے کنارے نہایت دلکش جنگلی پھول لگے تھے-ندی کا پانی بہت شفاف تھا اسکی تہہ بھی صاف نظر آتی تھی-پرندے ندی سے پانی پی رہے تھے-ندی کے کنارے چھوٹے بڑے پتھر اتنی ترتیب سے رکھے تھے کہ گمان ہوتا تھا یہاں کوئی آکے بیٹھتا ہے-اس جگہ میں ایک عجیب سا سحر تھا-اگست کا مہینہ تھا اور فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی-
وہ کچھ دیر کے لیے وہاں بیٹھ گیا-اسے سکون کے احساس نے گھیر لیا-اسکی زبان پر خودبخود نعت جاری ہوگئی تھی-وہ خوش الحان تھا-اسکی آواز سننے والے کو مسحور کردیتی تھی-
کچھ دیر بعد اسے پہاڑی کی چوٹی پر ایک لڑکی کھڑی نظر آئی-وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی-سرخ لباس میں ملبوس وہ کوئی پری لگ رہی تھی-وہ مبہوت ہوکر اسے دیکھنے لگا-اس علاقے میں اور اسکے اپنے خاندان کے سب ہی لوگ گورے چٹے تھے پر اس لڑکی کی رنگت تو جیسے چاندی کو بھی مات دے رہی تھی-اور نیلی آنکھیں اتنی گہری تھیں کہ سمجھ نہیں آتا تھا پہاڑوں نے اسکی آنکھوں کا رنگ چرایا ہے یا اس نے پہاڑوں سے یہ رنگت مستعار لی ہے-اس نے چہرے پر نقاب ڈالا ہوا تھا صرف آنکھیں نمایاں تھیں-یا اسکے سفید چوڑیوں بھرے
ہاتھ
کچھ دیر وہ دونوں اک دوسرے کو دیکھتے رہے-اسکی نعت ختم ہوئی تو وہ بھی واپس مڑگئی-وہ گم سم کافی دیر وہاں بیٹھا رہا-اور پھر اسی سحر زدہ کیفیت میں وہاں سے چلا آیا-
اگلے دن اسکے قدم غیر اختیاری طور پر اس طرف چل پڑے-
اس نے وہاں جا کے پھر نعت پڑھی اور وہ پھر سے وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی-
ایسا اگلے کئی روز ہوتا رہا-وہ روز بروز اس سے بات کرنے کو پاگل ہوۓ جارہا تھا-
آخر اس نے اس پہاڑی پر کھڑی لڑکی کو مخاطب کیا-
کیا ہم بات کرسکتے ہیں-
وہ خاموشی سے واپس مڑگئی-
عبد اللہ کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی-وہ کسی بھی قیمت پر اس لڑکی سے بات کرنا چاہتا تھا-پر وہ کوئی جواب ہی نہیں دیتی تھی
پر روز اسکی نعت سن کر آجاتی تھی-
یقینا اسکا گھر پہاڑی کے دوسری طرف ہوگا-اس روز عبداللہ اسے ڈھونڈنے کی ٹھان کر پہاڑی پر چڑھنے لگا-وہ عین اسی مقام پر پہنچ گیا تھا جہاں وہ روز کھڑی ہوتی تھی-اسنے رک کر سانس درست کیا اور پھر چڑھنے لگا-
رک جاؤ-کہیں سے دلکش نسوانی آواز آئی تھی-اسنے اردگرد دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا-وہ وہم سمجھ کر پھر آگے بڑھنے لگا-
رک جاؤ وہیں-آگ مت بڑھنا۔اچھا نہیں ہوگا۔
