Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 09)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 09)
Ins o jaan by Maimona Aman
دادا جی نے جاتے ہوئے شمع کو خاص ہدایت دی تھی کہ شزاکا خاص خیال رکھے۔اسے کسی بھی ویران جگہ پر نہ جانے دے اور انھوں نے اسے دم کرنے کا طریقہ اور ترتیب بھی بتا دی تھی کہ اس میں ناغہ نہ آئے ۔ وہ قرآن کریم کی سورتیں پڑھ کر دم کیا کرتے تھے ۔ اور اکثر لوگ ان سے اپنے بچوں کو دم کروانے آتے تھے ۔
اس دن کے بعد سے وہ مسلسل خود شزا پر دم کررہے تھے ۔ اور وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہوگئی تھی ۔
میکے جاکر شمع تھوڑی لاپرواہ ہوگئی تھی اور شزا کے سر میں پھر سے درد ہونے لگا تھا ۔ ساری بات معلوم کرکے اسکی ماں نے بھی شمع کو بہت ڈانٹا تھا ۔ اور بالکل دادو جی کی طرح اسکو نصیحتیں سنائی تھیں کہ بچی کا خیال رکھا کرو ۔ ایسے کپڑے نہ پہنایا کرو وغیرہ وغیرہ ۔ انہوں نے خود اسکو دم کرنے کی ذمے داری لے لی تھی ۔ بلکہ وہ اسکی عادت بنانے کی کوشش کررہی تھیں کہ وہ خود یہ آیتیں اور سورتیں پڑھنے کی عادی ہوجائے ۔ تا کہ وہ شیطانی چیزوں اور بلاؤں سے محفوظ رہ سکے ۔ رفتہ رفتہ اسکی حالت بہتر ہوگئی تھی ۔
دادا اور دادی بیٹیوں سے مل کر واپس آگئے تھے۔وہ انکے گھر ٹہرتے نہیں تھے بس چند گھنٹے گزار کر واپس آجاتے تھے ۔ اور رشتے داروں سے ملنے ملانے میں دو تین دن لگ گئے تھے ۔ انکے ساتھ بڑی نواسی بھی رہنے کیلئے آئی تھی ۔
وہ سیکنڈ ایئر کی سٹوڈنٹ تھی اور ہر سال چھٹیوں میں رہنے کیلئے نانا نانی کے گھر آتی تھی ۔ اسکی ماں سلمیٰ یعنی عبدالله کی پھوپھو چند دنوں کیلئے آتی تھیں لیکن سالویہ ہفتوں رک کر جاتی تھیں ۔ اس بار پھوپھو سسرال میں مصروفیت کی وجہ سے نہیں آئی تھیں ۔ مگر سالویہ تقریباً دو تینً ہفتے کا سامان باندھ کر آگئی تھی ۔
کیسے ہیں ڈاکٹر صاحب؟
۔اس نے خوشگوار مسکراہٹ سے پوچھا۔
وہ ہمیشہ عبدالله کو ڈاکٹر صاحب ہی کہہ کر چھیڑتی تھی ۔
“ٹھیک ٹھاک ہوں گڑیا”۔عبدالله نے کہا۔
اوہ ہو ! اب میں بڑی ہوگئی ہوں، اب گڑیا نہ کہا کریں مجھے ، ….. سالویہ کہا کریں ” اس نے ناراضگی سے کہا۔
“اچھا گڑیا ! اوہ سوری ! ۔…… سالویہ۔
پڑھائی ٹھیک جارہی ہے؟۔
عبدالله نے پوچھا۔
“جی ڈاکٹر صاحب”۔اس نے پھرمسکراتے ہوئے جواب دیا۔ وہ دبلی پتلی دراز قد ، گرے آنکھوں ، گوری رنگت والی دلکش سی لڑکی تھی ۔ عبدالله نے کبھی اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی تھی ۔ کیونکہ اس وقت تک اسکی کوئی بہن نہیں تھی ۔ اور وہ اس سے صرف دو تین برس ہی چھوٹی تھی ۔ اسے لئے وہ اب تک اسے اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتا آیا تھا ۔ اور بڑوں نے بھی اسے یہی سکھایا تھا ۔
“کہیں جارہے ہیں آپ ؟ اس نے اسے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
نہیں ، بس یہ ساتھ دکان تک جارہا ہوں “۔ اس نے بتایا
“اچھا چلیں ، آپ آجائیں پھر ساتھ بیٹھ کر گپیں ماریں گے” اس نے کہا۔
عبداللہ نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا ۔ اس وقت وہ نیلے رنگ کی گرم اونی فراک اور ٹراؤزر میں ملبوس تھی ۔ اور سر پر سلیقے سے گرم اسکارف لپیٹا ہوا تھا ۔ سمندر سے نیلے رنگ کے اسکارف میں لپٹے اسکے چہرے پر گرے آنکھیں بہت نمایاں ہورہی تھیں ۔
دو سال قبل تک وہ اسے عبداللہ بھیا کہتی نہ تھکتی تھی اور اب ڈاکٹر صاحب کے علاوہ کسی اور لقب سے مخاطب ہی نہیں کرتی تھی ۔ اس نے کبھی یہ تبدیلی محسوس نہیں کی تھی ۔ پر اب اسکے رویے میں آئی تبدیلی عبدالله کو چونکا گئی تھی ۔ وہ اپنے خیال کو رد کرکے گیٹ کھول کر باہر نکل گیا ۔ اور وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔
__________
ڈاکٹر صاحب —مجھے تین دن ہوگۓ ہیں آپ کے گھر آۓ ہوۓ کہیں لے کر ہی نہیں گۓ آپ–مہمانوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں میں تو گھر بیٹھے بیٹھے بور ہوگئی ہوں-
وہ کتابوں میں سر دیے بیٹھے تھا کہ سالویہ اچانک سے اس کے کمرے میں آن موجود ہوئی-اور اب سامنے صوفے پر بیٹھی اس سے شکوہ کررہی تھی-
ہاں تو جاؤ نہ گڑیا گھومنے پھرنے–میں تو بہت بزی ہوں –ایسا کرو تم بچوں کے ساتھ چلی جاؤ حاتم ہے–اور عماد عفان ہیں انہیں تو ویسے ہی گھومنے پھرنے کابڑا شوق ہے-اس نے کتابوں سے سر اٹھا کر ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی-
آپ نہیں چلیں گے ساتھ بچوں کو کیا پتہ –وہ تو اپنے ہی کھیل کھیلیں گے–میری کوئی سہیلی بھی نہیں ہے یہاں —اس کا منہ لٹک گیا–
تو تم اپنی کسی سہیلی کو ساتھ لے آتی–اس نے ہنستے ہوۓ ازراہ مذاق کہا–
آپ نہیں بن سکتے میری سہیلی—وہ اپنی بات پر خود ہی ہنس پڑی–
عبداللہ نے اسے ایسے دیکھا جیسے اس کا دماغ چل گیا ہو–
کیا ہوا—؟اتنے حیران کیوں ہورہے ہیں آپ –؟میں نے کچھ غلط کہہ دیا کیا–؟
نہیں —پر میں تو لڑکا ہوں–اور سہیلیاں تو لڑکیاں ہوتی ہیں–
اوہو–کمپنی دینے کے لیے تو بندہ بن ہی سکتا ہے دوست–
تو پھر کہاں لے جارہے ہیں آپ–؟اس نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا–
دادا جی ڈانٹیں گے–اس نے اسے ٹالنا چاہا–
کیوں ڈانٹیں گے بھئی میں ابھی ان سے پوچھ آتی ہوں —
وہ کہتی ہوئی ان کے کمرے کی جانب چل دی-
وہ تقریبا سترہ برس کی ایک شوخ وچنچل سی لڑکی تھی–ویسے تو سال بھر میں وہ کئی بار فیملی سمیت ملنے آتی تھی-اور پچھلی سردیوں کی چھٹیوں میں بھی وہ اپنے نانا نانی کے گھر رہ کر گئی تھی لیکن وہ عبداللہ سے اتنی فرینک نہیں ہوتی تھی-مگر اس بار وہ اس کے رویے میں نمایاں تبدیلی محسوس کررہا تھا–وہ بہانے بہانے سے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھی-
گرے آنکھوں میں —ہلکی بھوری آنکھوں اور سرخی مائل بھورے بالوں والے عبداللہ کو دیکھ کر ایک خاص چمک آجاتی تھی-اور عبداللہ کی نظروں سے یہ چیز چھپی نہیں رہتی تھی–پر وہ پری کے سوا کسی اور کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا–اور وہ گرے آنکھوں اور سیاہ بالوں والی لڑکی اس بات سے یکسر بے خبر تھی-
———————————-
اسماعیل کی ماں —میں سوچ رہا ہوں کہ ایک دعوت رکھ لیتے ہیں گھر پر–کتنا عرصہ ہوگیا اپنے سب بچوں کو اکٹھے نہیں دیکھا-اب تو چھٹیاں بھی ختم ہونے والی ہیں-اچھا ہے سب بہن بھائی اکٹھے ہوں ایک دوسرے سے مل لیں–
سوچا تو آپ نے بہت اچھا ہے–تو دیر کس بات کی–آپ کہہ دیں سب کو –اور انتظامات کروالیں-ویسے تو سارے ہی ملتے رہتے ہیں پر کوئی سال کے کسی مہینے آجاتا ہے کوئی کسی مہینے–کتنا اچھا لگے گا کہ میرے سارے بچے اور ۔۔۔ان کے بچے اکٹھے ہوں تو گھر میں رونق لگ جاۓ گی–اب تو خالی خالی سا گھر لگتا ہے–سارے ہی اپنے اپنے آشیانوں میں جا بسے ہیں–ایک بس یوسف ہے اور اس کے بچے–انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔۔
ارے فکر کیوں کرتی ہو نیک بخت –تمہارے یوسف کو اللہ نے پانچ بیٹے دیے ہیں بہوؤئیں آئیں گی تو دیکھنا کیسی رونق لگے گی پھر تو سکون کو ترسو گی تم–وہ ہنستے ہوۓ اپنی برسوں کی جیون ساتھی کو تسلی دے رہے تھے–
یہ تو شکر ہے رب تعالیٰ کا کہ ہمارے سارے بچے نیک فرمانبردار اور اچھے مقام پر ہیں۔کوٸی شقی نہ نکلا کہ ہم دنیا کے سامنے شرمندگی سے سر جھکاتے۔۔۔نیک اولاد بھی بڑی نعمت ہے اسماعیل کی ماں۔۔۔وہ آج بھی اپنی بیوی کو اپنے شہید بیٹے کی نسبت سے بلاتے تھے۔
میرا تو دل کرتا ہے عبداللہ کے سر پر آج ہی سہرا سجادوں ماشاءاللہ بیس سال کا ہوگیا ہے–
اری بھولی —اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو اس کے ڈاکٹر بننے میں بھی تین چار سال باقی ہیں–اور لڑکی دیکھ لی کیا تم نے–؟
دیکھنے کی کیا ضرورت ہے–گھر میں ہی موجود ہے لڑکیاں—
ہیں—؟
ارے میری بیٹیوں کی بچیاں ہیں نا–سلمیٰ کی بیٹی سالویہ بھی کالج میں پڑھ رہی ہے اور نجم کی بڑی والی اس سال میٹرک کرلے گی–باقی تو ذرا چھوٹی ہیں ابھی–میں تو کہتی ہوں کہ بچوں کے آپس میں ہی رشتے کروادوں تاکہ میرے بچے ایک دوسرے سے دور نہ ہوں–
اسماعیل کی ماں—اب زمانہ بدل گیا ہے اب بچوں کی اپنی پسند بھی ہوتی ہے–اب وہ ہمارے والا دور نہیں ہے کہ شکل دیکھی نہیں نام کا پتہ نہیں اور شادی ہوگئی-ہمیں تو کوئی پوچھتا ہی کہاں تھا بس بتاتے تھے بیٹا دلہا بن جاؤ فلاں دن تمہاری شادی ہے–
اب تو بچے ہنگامہ کھڑا کردیتے ہیں–
ایسے نہیں ہیں میرے بچے–آپ رہنے دیں بس–
ہاہا–تم تو اپنے ہی دور میں جی رہی ہو اب تک–اتنی عمر گزار کے بھی اتنی ہی بھولی ہو جتنی پہلے روز تھی– –
وہ پرانی باتیں یاد کرکے ہنسنے لگے-
نانا ابو—دو دن ہوگۓ ہیں مجھے یہاں آۓ ہوۓ گھر بیٹھ بیٹھ کے بیزار ہوگئی ہوں-
کہیں باہر لے چلیں نا–دونوں میاں بیوی بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ سالویہ نے آکر فرمائش کی–
ارے میری بچی بور ہورہی ہے—میری گڑیا –مجھے پہلے ہی بتایا ہوتا–نانا ابو نے پیار سے اسے اپنے پاس بٹھایا–
بیٹا میں کہاں تمہیں لے کر جاؤں گا–؟تم بچے چلے جاؤ –بلکہ میں عبداللہ سے کہتا ہوں وہ لے جاۓ گا تم سب کو گھمانے پھرانے–
شکریہ نانا ابو–اسکے تو دل کی مراد برآئی تھی–
وہ خوشی خوشی وہاں سے نکل آئی تھی–
بالکل اپنی ماں کی تصویر بنتی جارہی ہے–ویسی ہی آنکھیں ہیں قد کاٹھ رنگت سب کچھ–صفیہ بیگم اس کے جانے کے بعد بولیں–اور اس لمحے میں وہاں بیٹھے بیٹھے جانے وہ کیا کیا سوچ رہی تھیں اور دل ہی دل میں کچھ فیصلے بھی کر بیٹھی تھیں–
————————————–
بیٹا دیہان سے گاڑی چلانا–اور بچو تم بھی زیادہ شرارتیں نہ کرنا–سالویہ تم بڑی بہن کی طرح ان سب کا خیال رکھنا–
دادا جی انہیں جاتے ہوۓ ہدایات دے رہے تھے–
وہ سب گاڑی میں ٹھنسے ہوۓ تھے اور عبداللہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے تیار تھا-دادا دادی کے کہنے پر وہ ان کو پکنک پر لے جارہا تھا-حالانکہ اس کا موڈ بالکل نہیں تھا پر یہ سب سالویہ کی کارستانی تھی-سب خوش دکھائی دے رہے تھے سواۓ عبداللہ کے–
وہ پری کی وجہ سے پہلے ہی پریشان تھا اور اوپر سے سالویہ کا بدلتا رویہ اسے کھٹک رہا تھا–وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ معصوم سی لڑکی اس سے کوئی امید وابستہ کرلے اور پھر اسکے ٹوٹنے پر خود کو تباہ کر ڈالے–اس لیے اسکے ساتھ اسکا رویہ لیا دیا سا تھا-
موسم کافی بہتر تھا–کئی دن سے برف باری تھم چکی تھی–پر کبھی کبھی بادل اپنا غبار نکالنے آجاتے تھے–آج تو ہلکی ہلکی دھوپ بھی نکلی تھی صبح کے دس بجے وہ گھر سے روانہ ہوۓ تھے–
مری کا سب سے خوبصورت علاقہ بھوربن یہاں سے نزدیک ہی تھا–وہی ان کی منزل تھی–عبداللہ خاموشی سے ڈرائیو کررہا تھا-پچھلی سیٹ پر سالویہ عماد عفان اور حاتم براجمان تھے اور انکی خوش گپیاں اور قہقہے عروج پر تھے-اگلی نشست پر صفورا اکیلی ہی پھیلی ہوئی تھی–اس نے سب سے چھوٹا ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ اس سیٹ پر قبضہ کرلیا تھا–
بھیا–وہ دیکھیں بندر کا بچہ–کتنا پیارا ہے نا–وہ اس علاقے سے گزر رہے تھے جہاں بندروں کی آبادی مکھیوں سے بھی زیادہ تھی–
صفا–مجھے ڈرائیو کرنے دو–چپ کرکے بیٹھو–
عبداللہ نے اپنے انتشار میں اس بیچاری کو ڈانٹ دیا تھا–وہ منہ بناۓ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی–اور سارا راستہ چپ رہی–پیچھے والوں پر البتہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا–انکی اٹکھیلیاں ویسے ہی جاری تھیں-
تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد وہ بھوربن ہل سٹیشن پہنچ گۓ تھے یہاں سیاح اکثر آتے جاتے رہتے تھے اس لیے تفریح کا کافی سامان موجود تھا-سب سے بڑھ کر پی سی ہوٹل بھی اپنی تمام تر آساٸشوں کے ساتھ یہاں موجود تھا۔
اور قدرتی حسن بلا روک ٹوک چار سو بکھرا ہوا تھا-آنکھیں اسکا احاطہ کرتے کرتے تھک جاتی تھیں-لگتا تھا یہاں کی زمین ساری کائنات کا سبزہ چرا لائی ہے اور۔۔۔ پہاڑوں کی ڈھلانیں اور چوٹیاں اپنی تزئین و آرائش کی خاطر دنیا جہاں کے پیڑ اٹھا لائی ہیں–یہاں اتنے رنگ تھے کہ قوس قزح بھی حیران رہ جاۓ–ہر ایک منظر دوسرے سے بڑھ کر دلربا تھا-دیکھنے والے اس شاہکار مصور کی مہارت پر عش عش کر اٹھتے جس نے ”کن“
کہا اور زمین کا یہ قطعہ —لازوال حسن سے مالا مال ہوگیا—جانے وہ شاہکار مصور خود کیسا ہوگا–؟عقل سوچنے سے قاصر تھی اور اس طرح کے اربوں مناظر مل کر بھی اسکی تعریف اور توصیف کا حق ادا کرنے سے معذور تھے-
~عقل ہے محو تماشاۓ لب بام ابھی
وہ سب اس دن کو خوب انجواۓ کررہے تھے-عبداللہ کا دل بجھا بجھا سا تھا-سامنے بے شمار حسن اپنے جلوے دکھلارہا تھا پر اسے کوئی چیز بھی نہیں بھا رہی تھی-وہ زیادہ وقت ان کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر گزار رہا تھا-
وہ کشتی پر سوار تھے اور وہ ۔۔۔جھیل میں اگے کنول کے پھولوں کے درمیان سے تیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی-ملاح بڑی مہارت سے چپو چلا رہا تھا-
بچے ہاتھ بڑھا کر کبھی پھول توڑ لیتے اور کبھی جھیل کے سرد پانی سے اٹکھیلیاں کرکے ہنسنے لگتے-سالویہ ان سب کے ساتھ گھل مل کے بالکل بچی ہی لگ رہی تھی-وہ ہر ایک منظر کو اپنے فون میں قید کررہے تھے-سالویہ کا تو اپنا فون تھا مگر باقی لڑکے عبداللہ کا فون ہی استعمال کررہے تھے-اور تصویریں بنا بنا کے اس کی مت مار دی تھی–
بھیا آپ کا فون —عماد نے اسے موبائل تھمایا–
عبداللہ نے دیکھا تو علی کی کال تھی-
ہاں یار کیسا ہے–؟
وہ سلام دعا کے بعد خوشگوار لہجے میں پوچھ رہا تھا-
اچھا—اچھا —دوسری طرف سے وہ کچھ بتارہا تھا اور عبداللہ پورے انہماک سے سن رہا تھا-سالویہ نے اس کے رویے میں تبدیلی محسوس کی تھی-ابھی تک تو وہ بالکل خاموش اور الجھا الجھا سا تھا-حالانکہ سالویہ اسے کئی بار بہانے بہانے سے ہنسانے کی کوشش کرچکی تھی-وہ بس پھیکا سا مسکرادیتا-
اور اب اس کے چہرے پر چمک سی آگئی تھی-
اس نے فون بند کرکے واپس انہیں تھمایا اور دور کسی غیر مرئی منظر کو دیکھنے لگا-
کشتی جھیل کی سیر کرکے واپس کنارے کی سمت لوٹ رہی تھی-
ہاں بھئی بچو–واپس چلیں–؟
نہیں—نہیں—سب نے یک زبان کہا–ابھی سے کیوں–؟
ابھی تو چئیر لفٹ جھولے–بھی باقی ہیں-اور ابھی تو ہم نے کچھ کھایا بھی نہیں ٹھیک سے–
انکا واپسی کا کوئی ارادہ نہیں تھا–
اچھا فون دو ذرا–وہ سب گول گپے کھانے جارہے تھے–عبداللہ فون لے کر وہیں تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا–
ہاں یار اب بتا–اس وقت ٹھیک سے بات نہیں کرسکا-اس نے علی کو کال ملائی–
وہ بابا جی کیا کرسکتے ہیں–؟
کوئی ٹھگ تو نہیں ہیں؟
بہت پہنچے ہوۓ ہیں کوئی ایسے ویسے نہیں ہیں نہ لُٹو پیر ہیں- انکے پاس تمہارے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوگا-علی نے اسے بتایا–
ایسا کرتے ہیں کل صبح چلتے ہیں-
چل ٹھیک ہے–اس نے حامی بھرلی-
وہ گھر لوٹے تو شام کے چار بج چکے تھے-شمع بچوں سمیت واپس آچکی تھی-اور وہ گھر میں ادھم مچاتے پھررہے تھے-
سارا دن گھوم گھوم کر سب اتنا تھک گۓ تھے کہ آتے ہی سوگۓ-سواۓ عبداللہ کے–
سب بڑے ۔۔۔کچن میں بیٹھے شام کی چاۓ پیتے ہوۓ کسی اہم بات پر غورو خوض کررہے تھے-
میں اندر آجاؤں–عبداللہ نے اندر جھانک کر کہا–
ہاں ہاں –اچھا ہوا تم آگۓ–ہم سب دعوت کے منصوبے پر غور کرہے تھے-اسکے ابو یوسف نے کہا–
کیسی دعوت–؟
بھئی تمہاری سب پھوپھیوں تایا اور چچا کی دعوت –تاکہ سب بہن بھائی ایک جگہ جمع ہوں کوئی رونق لگے–گھر میں–دادا جی نے بتایا–
تو کیا دن رکھا جاۓ جو مناسب رہے__؟
میرا خیال ہے ہفتے کا دن ٹھیک رہے گا__ابراہیم نے راۓ دی_
جی چاچو__بالکل مناسب رہے گا__عبداللہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی–
تو آج بدھ ہے ہمارے پاس دو دن ہیں انتظامات کے لیے–دادا جی اس کے حصے کے کام اسے بتانے لگے–وہ سر ہلاتے ہوۓ انکی باتیں سن رہا تھا–اس کے بعد وہ خواتین سے مخاطب ہوکر انکی ذمہ داریاں انہیں سونپ رہے تھے–
عبداللہ وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آگیا–بڑوں کی یہ میٹنگ کافی دیر مزید جاری رہی تھی–جس میں کچھ اہم فیصلے بھی کرلیے گۓ تھے-
—————————————
اگلے روز صبح کو ہی عبداللہ کو دعوت کے سلسلے میں کچھ چیزیں لینے کے لیے بازار جانا تھا–اور اسے تو آرام سے موقع مل گیا تھا کہ بابا جی سے بھی مل آۓ–
اس نے علی کو اس کے گھر سے پک کیا اور اس کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چل پڑا–
کم وبیش ایک گھنٹے کے سفر کے بعدوہ اس جگہ پہنچ گۓ تھے یہ ایک دوردرازگاؤں کا ایک علاقہ تھا ایک پہاڑی سلسلے کے دامن میں یہ اک وادی تھی-یہاں آبادی بہت کم تھی–پہاڑوں کی چوٹیاں ہموار نہیں بالکل نوکدار سی تھیں اور ان پر کوئی آبادی نہیں تھی-
آگے کا راستہ ہم پیدل طے کریں گے-علی نے اسے مطلع کیا-
اس گاؤں سے ایک طرف کو ہٹ کے ایک تنہا سا پہاڑ پوری شان سے سر اٹھاۓ کھڑا تھا اسکی چوٹی پر دور سے ہی ایک کٹیا بنی نظر آرہی تھی–وہ چڑھائی چڑھ کے وہاں تک پہنچے–علی نے احتیاط سے چوبی دروازے پر دستک دی–
آجاؤ—دروازہ کھلا ہے–اندر سے مسکراتی سی آواز آئی تھی–
