Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 10)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 10)
Ins o jaan by Maimona Aman
وہ مؤدب سے اندر داخل ہوۓ-آگے پیچھے دو کمرے تھے–فرش پر چٹائی بچھی تھی اور بابا جی دیوار سے تکیہ لگاۓ اس پر بیٹھے تھے–
وہ کافی عمر رسیدہ تھے چہرے پر سفید داڑھی تھی–سر پر ٹوپی جماۓ اور گرم اونی شال لپیٹے وہ تسبیح کررہے تھے–چہرہ بالکل دبلا سا اور انتہائی سرخ وسفید تھا–عبداللہ نے دیکھا رعشے کے سبب ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے–
کمرے میں کوئی خاص سازوسامان نہیں تھا چند برتن پڑے تھے اور ایک طرف اونچے طاقچے پر قرآن کریم سجا ہواتھا–
اس خالی سے گھر میں عجیب سکون کا احساس تھا–آسائش کا کوئی سامان نہ ہونے کے باوجود بھی یہاں کوئی کمی نہیں تھی–سب کچھ مکمل سا دکھائی دے رہا تھا-اور ہر طرح کے شور سے پاک یہ جگہ انسان کو خود بخود ہی ایک ہستی کی طرف مائل کرتی تھی۔۔اور اسے اپنی ذات کا احساس دلاتی تھی۔۔
-علی نے سلام کرنے کے بعد بابا جی کے سامنے سر جھکا دیا–انہوں نے نگاہ اٹھاۓ بغیر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا-عبداللہ نے بھی علی کی تقلید کی–
اس کے بعد وہ دونوں دوزانو ہوکر ان کے سامنے بیٹھ گۓ-
کچھ دیر خاموشی چھائی رہی–وہ دونوں ان کے بولنے کے انتظار میں تھے-بابا جی دھیرے دھیرے تسبیح کے دانے گرارہے تھے-
ہاں کہو–کس لیے آۓ ہو–؟
انہوں نے تسبیح رکھ کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے-
وہ بابا جی—ایک مسئلہ ہے-علی نے بات شروع کی–
کس کا ہے مسئلہ–تمہارا یا اس کا–؟
انہوں نے انگلی سے عبداللہ کی جانب اشارہ کیا اور اس پر ایک گہری نظر ڈالی–
اس—کا بابا جی–وہ نظر جھکا کر بولا۔۔
تو پھر اسے بولنے دو–
وہ اب عبداللہ کی طرف ہی متوجہ تھے–اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہاں سے بات شروع کرے–
وہ بابا جی دراصل —میں ایک لڑکی سے شا—دی کرنا چاہتا ہوں
ان کی شخصیت اتنی رعب دار تھی کہ عبداللہ کو یہ بات کرنا محال لگ رہا تھا آخر اس نے اٹکتے ہوۓ اپنا مسئلہ بیان کیا–
ہممم–کون ہے وہ-؟
وہ نرم لہجے اور دھیمی آوازمیں بات کررہے تھے–
بابا جی—وہ —-انسان نہیں ہے—جنات کے خاندان سے ہے–ہم ایک دوسرے کو بہت —پسند کرتے ہیں-
ماں باپ راضی ہیں تمہارے—؟
انہیں تو علم بھی نہیں–
تو پتر—پریشان ہونے کی کیا بات ہے –جا اس سے نکاح کرلے—
ج۔۔۔جی—دونوں انہیں حیرت سے دیکھنے لگے–
چھپ چھپ کے ملتا ہوگا نا—باتیں کرتا ہوگا–ماں باپ سے پوچھ کے تو ملنے نہیں جاتا تھا نا—؟
ج—جی–
ماں باپ سے پوچھ کے تو نہیں پسند کیا نا–؟
تو نکاح کے لیے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں–پتر—تو بالغ ہے خود مختار ہے–اپنے فیصلے خود کرسکتا ہے—تو اتنا گھبرا کیوں رہا ہے—؟
جا شاباش چار گواہ اکٹھے کر اور نکاح پڑھالے—بعد میں جاکے بتا دینا ان کو۔۔ کہ تو نے شادی کرلی ہے—
عبداللہ پران کی بات میں چھپا طنز سمجھ کے گھڑوں پانی پڑگیا–
ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ وہ پہلے دن دے ہی ماں باپ کو اعتماد میں لیتا بجاۓ اس کے کہ دونوں چھپ چھپ کے ملاقاتیں کرتے–
وہ ان کو نظر انداز کرکے پھر سے اپنی تسبیح اٹھا کے پڑھنے لگے–
عبداللہ نے بے بسی سے علی کو دیکھا–
بابا جی—غلطی ہوگئی –اب بتائیں کیا کروں–؟
ہونہہ —-چار دن کے عشق کی خاطر مرتا پھرتا ہے—تو— تو کھونٹے سے بندھی بھینس سے بھی کمزور نکلا–جو چارے کو دیکھتے ہی رسا تڑوانے لگتی ہے–
تو نے بھی رسا تڑوانے کی کوشش کی ہے—منہ کے بل گرے گا—اگر یہ رسہ ٹوٹ گیا نا–کہیں کا نہیں رہے گا–پھر مالک کا ڈنڈا پڑے گا نہ تو –تو سرپٹ بھاگتا ہوا کھونٹے سے جا کے بندھ جاۓ گا—
جا—پہلے اپنا رسہ تڑوا کے مالک کی دسترس سے نکل جا—وہ تیرے پیچھے آۓ گا —پھر تجھے ڈنڈے بھی کھانے پڑیں گے—تو بھاگ جا پر وہ تجھے نہیں چھوڑے گا–پھر واپس تو نے اسی کھونٹے سے بندھنا ہے—جا —
-ہمت ہے تو نکل جا اس کی دسترس سے–بھاگ جا—اس کو بھی بھگا کے لے جا—یہاں کیا لینے آیا ہے۔۔اسکے در پر جا ۔۔جو سب کو دیتا ہے۔۔میرے پاس تجھے دینے کو کچھ نہیں۔۔۔
جا۔۔۔۔نکل جا اسکی سلطنت سے۔۔۔
یا ۔۔۔چپ چاپ ہمیشہ کے لیے کھونٹے سے بندھ جا–اور جو بھی چارہ ملے صبر شکر کرکے کھالے–جو تیرا نصیب ہے تجھے وہی ملے گا–
جا—-جا—-چلا جا یہاں سے—انکی آواز میں کرختگی آگٸی تھی۔۔
انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا–
علی اٹھ کر کھڑا ہوگیا–اس نے عبداللہ کو بھی اشارے سے چلنے کو کہا—
وہ دونوں سلام کرکے وہاں سے نکل آۓ-
یار—مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں–؟
عبداللہ نے پہاڑ کی ڈھلوان اترتے ہوۓ بے بسی سے کہا–
یار —بابا جی —بہت پہنچی ہوئی باتیں کرتے ہیں تم ان کی باتوں پر غور کرو–کچھ نہ کچھ سمجھ آجاۓ گی
وہ سوچتے ہوۓ ڈھلان سے اتر نے لگا
—
——————————-
یہ ہفتے کی صبح تھی-مری کے آسمان پر بادل اور سورج کی آنکھ مچولی جاری تھی-
زرد دھوپ جب اپنے پنکھ پھیلاتی تو سارا منظر نکھرا نکھرا دکھائی دیتا-ہر شے اپنے اصل رنگ کو سامنے لا کر دیکھنے والوں کی آنکھوں میں سمودیتی اور—جب بادل سونے کے تھال کا گھیرا ڈالے مسکراتے تو ہر شے میں جیسے سفیدی گھل جاتی–
سفید برف— اب بھی پہاڑوں کی چوٹیوں اور درختوں کی شاخوں پر ڈیرہ ڈالے ہوۓ تھی—ایسے میں سفید بادل اس کے ساتھ مل کر سفیدی کا یہ کھیل کھیلنے لگتے–اور دیکھنے والی آنکھیں اس سفید اور سیاہ منظر کو یوں تکتی جیسے پہلی بار بلیک اینڈ وائٹ سکرین پر چلتا کوئی منظر دیکھا ہو–
اس سفید اور سیاہ منظر میں ایک عجب سحر تھا پر ہر آنکھ اس سحر کی اثیر ہونے کے قابل نہیں تھی–قدرت کی عطا کردہ کچھ خاص آنکھیں اس منظر میں حسن دیکھتی تھیں۔۔۔
ایسا حسن جو انکی پلکوں کو جھپکنے سے روکتا تھا–جوصدیوں انکی آنکھ کی پتلی پر رقص کرسکتا تھا۔۔
-اور ہر شے اپنے اصلی رنگ کو چھپاۓ چپ چاپ اس سفیدی کو اوڑھ کے اپنی شناخت کھودیتی تھی—جیسے محبت کا لبادہ اوڑھنے والے اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں–اور جب سورج سوا نیزے پر پہنچتا ہے تو یہ لبادہ انکو چھپانے میں ناکام رہتا ہے—اور پھر تپتے سورج کی کرنیں سارے مناظر واضح کرکے دکھانے لگتی ہیں—
مجھے اب تمہاری باتیں ٹھیک لگنے لگی ہیں–تم صحیح کہتی تھیں کہ میں اس میں حد سے زیادہ انوالو ہوتی جارہی ہوں۔۔
مجھے احساس ہی نہیں ہوا نیلم کی میں کب—اس مقام پر آکھڑی ہوئی ہوں جہاں اب مجھے عبداللہ کے سوا کوئی اور نظر ہی نہیں آتا-وہ گھر نہ ہو تب بھی اسی کی فکر رہتی ہے–وہ سامنے ہو تب بھی بس اسی کا دیہان رہتا ہے–
نہیں یار—ان کا رویہ تو لیا دیا سا ہے—وہ مجھے گڑیا کہتے ہیں اب بھی—کچھ نہیں ہے ان کے دل میں—میں ہی بس—وہ روہانسی ہوگئی–
دوسری طرف سے فون پر جانے کیا کہا جارہا تھا کہ وہ پورے انہماک سے سن رہی تھی–
نہیں نیلم —میں نے کوشش کی ہے پر وہ زیادہ توجہ ہی نہیں دیتے–مجھے لگتا ہے وہ کسی اورر کو—وہ بات ادھوری چھوڑ کر آنسو ضبط کرنے لگی—وہ کم سن سی لڑکی تھی اور زیادہ قوت برداشت نہیں رکھتی تھی–
عبداللہ جو چھت پر جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا–اوپر سے آتی سالویہ کی آواز سن کر بیچ راستے میں رک گیا–اس کا ہر ہر لفظ اس پر برق گرا رہا تھا–
-یہ لڑکی کب اس کے لیے اتنا پاگل ہوگئی تھی اور کیوں ہوگئی تھی—؟
اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا جیسے اس کے پاس اس سوال کو جواب نہیں تھا کہ وہ پری کے لیے کیوں اتنا پاگل ہوگیا تھا–؟
وہ بجھے دل اور بوجھل قدموں سے نیچے اترا اور کمرے میں بیڈ پر جا کر ڈھے گیا–
تو–تو کھونٹے سے بندھی بھینس سے بھی کمزور نکلا—بابا جی کی آواز اسے صاف سنائی دے رہی تھی–
ہمت ہے تو نکل جا اس کی دسترس سے—-
جا یہاں کیا لینے آیا ہے؟۔۔۔
وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا—دل میں حشر برپا تھا—آوازیں گڈ مڈ ہورہی تھیں –ایک کان سے بابا جی کی آوازیں آتی تو دوسرے کان سے سالویہ کے الفاظ ہتھوڑے برساتے—
اس کا پاگل پن اور اوپر سے اس کی کم عمری—کیا بنے گا—؟وہ سر تھام کر بیٹھ گیا–اسکے پورے دل پر پری مکمل استحقاق سے قبضہ کیے ہوۓ تھی۔۔سالویہ کے لیے اس میں کوٸی گوشہ نہیں تھا۔۔
عبداللہ —عبداللہ—دادا جی اسے باہر سے آوازیں دے رہے تھے—پر اس کے اندر اتنا شور برپا تھا کہ اسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا—
آخر وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھولتے اندر جھانکتے بولے—
میں کب سے آوازیں دے رہا ہوں اور صاحبزادے یہاں کان لپیٹے بیٹھے ہیں–وہ اسے سر جھکاۓ بیٹھا دیکھ کر بولے—
جی دادا جی—وہ ایک دم ہڑبڑا کر کھڑا ہوگیا جیسے اسے ڈر ہو کہ دادا جی نے اس کے اندر اٹھتے شور کو سن لیا ہے—
کیا ہوا —تیری طبیعت تو ٹھیک ہے–؟
انہوں نے سرتا پیر اس کا جائزہ لیا–وہ سیاہ کرتے شلوار میں ملبوس تھا–وجیہہ چہرے پر الجھنوں کے آثار تھے–اور بال مٹھیوں میں جکڑے جانے کے باعث بے ترتیبی سے پھیلے ہوۓ تھے–
جی—جی—اس نے غائب دماغی سے سر ہلایا—
اچھا—
اپنا حلیہ درست کر اور باہر آجا—اسحٰق پہنچنے والا ہے–انہوں نے اس کے تایا میجر کا نام لیا–اورایک گہری نظر اس پر ڈالتے نکل گۓ–
اس نے تمام سوچوں کو ذہن سے جھٹکنے کی ناکام کوشش کی اور ہاتھ سے بال درست کرتا باہر نکل آیا—
گھر کی خواتین کچن میں گھسی تھیں اور سالویہ بھی ان کی مدد کروارہی تھی—عبداللہ چاۓ لینے کی غرض سے کچن آیا تھا–
ایک کپ چاۓ ملے گی—اسکی ماں چاچی دادی تینوں مختلف کاموں میں مصروف تھیں—سالویہ بھی کاؤنٹر پر کھڑی سبزیاں کاٹ رہی تھی–گہرے سبز رنگ کے لباس میں اسکی سفید گلابی رنگت اور بھی کھل رہی تھی–
گرے آنکھیں اس پر مرکوز کیے وہ کہہ رہی تھی۔
آپ بیٹھیں میں دیتی ہوں چاۓ—اس سے پہلے کہ تینوں میں سے کوئی جواب دیتا –سالویہ نے مڑ کر اسے مسکراتے ہوۓ کہا–
وہ کچن میں رکھے ایک سٹول پر بیٹھ گیا–وہ فوراً ہی چاۓ کپ میں ڈال کر لے آئی–اور کچھ لیں گے آپ–؟
نہیں بس—وہ مسکراتے ہوۓ اٹھ کر کھڑا ہوگیا–شاید وہ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے نا چاہتے ہوۓ بھی مسکرا رہا تھا–
دادو نے زیر لب مسکراتے ہوۓ دونوں کو آمنے سامنے کھڑے دیکھا اور دل ہی دل میں انکی نظر اتاری–
ابھی اس نے چاۓ پی کر کپ رکھا ہی تھا کہ باہر سے شور شرابا سنائی دیا—اس نے باہر جاکر دیکھا میجر اسحٰق اور ماسٹر ایوب گلے لگے فرط جذبات سے آنسو بہا رہے تھے–انکا یہ فوجی بیٹا بہت کم ہی ان کے گھر آتا تھا–اور اسے دیکھتے ہی انہیں آج بھی اسماعیل یاد آتا تھا–
بھیا—عبدالرحمٰن بھی انکے ساتھ آیا تھا–وہ بھاگ کر عبداللہ کے گلے لگ گیا—
اوۓ تو کتنا بدل گیا ہے–
وہ تقریبا چھ ماہ بعد اسے دیکھ رہاتھا –اور وہ پورا فوجی لگ رہا تھا–فوج کی ٹریننگ نے اسکی شان دار شخصیت میں مزید اضافہ کردیا تھا–عبداللہ سے تین سال چھوٹا ہونے کے باوجود وہ اس کے برابر ہی آتا تھا اور اب پہلے سے زیادہ تنومند ہوگیا تھا–
میجر اسحٰق کے چار بیٹے تھے–سب سے بڑا ہارون جو تقریبا پچیس برس کا تھا اور پائلٹ کے عہدے پر فائز ہوچکا تھا پچھلے سال ہی اسکا نکاح خالہ زاد سے ہوگیاتھا–اس سے چھوٹا بنیامین تھا وہ بھی فوج میں شمولیت اختیار کرچکا تھا –اسکی نسبت بھی ماموں زاد سے طے ہوچکی تھی–اس سے چھوٹا شرجیل تھا جو انجینئرنگ کررہا تھا وہ عبداللہ کا ہم عمر تھا اور سب سے چھوٹا موسیٰ جو ابھی سیکنڈ ائیر میں تھا–
سب گرمجوشی سے ایک دوسرے سے مل رہے تھے–دادو بھی کچن سے نکل آئی تھیں– اور اب آنکھیں رگڑتے رگڑتے اپنے بیٹے بہو اور پوتوں سے مل رہی تھیں—سب ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف تھے–
اپنوں کے درمیان گھر کے عبداللہ سب کچھ بھول گیا تھا کچھ دیر پہلی والی پریشانی کی جگہ اب چہرے پر مسکراہٹ سجی تھی–اپنے بھائی اور کزنز سے اتنے عرصے بعد مل کر اس کی روح تک خوشی اتر گئی تھی–ماسٹر ایوب کی بیٹیاں بھی آنا شروع ہوگئی تھیں
اور گیارہ بجے تک اس گھر میں سب بہن بھائی جمع ہوچکے تھے–اتنا شور شرابا تھا کی کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی—شکوے شکایتیں –خوش گپیاں –قہقہے–گونج رہے تھے–سالویہ کی خالہ زاد آچکی تھیں اور اب سب مل کر اپنی اپنی داستانیں لیے بیٹھی تھیں–
لڑکوں کی تو پوری بارات ہی موجود تھی–اورر بچوں کا پورا چڑیا گھر—ہر کوئی اپنی اپنی ٹولیاں بناۓ بیٹھا تھا–سارے گھر میں اتنی گہما گہمی تھی کہ شادی کا منظر لگتا تھا–ماسٹر صاحب اور انکی شریک حیات اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے اور ماشاءاللہ کہتے نہ تھکتے۔۔
تین بیٹے –تین بیٹیاں –انکی بیویاں اور شوہر—اور بچے ۔۔۔اس گھر میں چالیس کے قریب افراد موجود تھے–اور زندگی کا ہر رنگ موجود تھا –سب کے چہروں پر ایک انجانی سی خوشی تھی سرشاری تھی–
سب مل کر اپنے دونوں کزنز کی–جن میں سے ایک نکاح شدہ اور دوسرا منگنی شدہ تھا–خوب درگت بنارہے تھے—
ہاں بھئی—اب تو تیرا نمبر ہے—ہارون نے عبداللہ کو چھیڑا–
پہلے شرجیل کی باری ہے بھئی آخر کو پورے دو ماہ بڑا ہے مجھ سے–اور اس بات پر سب کا قہقہ گونجا—
کوئی ہماری بھی تو سن لو—عبدالرحمٰن اور موسیٰ نے دہائی دی—
بچو—ابھی تمہاری کھیلنے کی عمر ہے—عبداللہ نے انکا مذاق اڑایا جن کی ابھی داڑھی مونچھیں بھی نہیں نکلی تھیں—ایک اور قہقہہ پڑا–
وہ سب لاؤنج کے ایک کونے میں بیٹھے تھے دوسرے میں لڑکیوں کا ٹولہ–سالویہ بالکل عبداللہ کے مقابل تھی–وہ بظاہر ان سب کے درمیان تھی مگر اسکی توجہ اسی طرف تھی–اور وہ بھی اس بات کو محسوس کرچکا تھا–
اس نے دل ہی دل میں اسکو سمجھانے کا فیصلہ کیا—کہ وہ اس امید کا دامن چھوڑ دے–
خواتین –کچھ کھلانے پلانے کاارادہ ہے یا نہیں–؟
-بنیامین نے بآواز بلند وہیں سے لڑکیوں کے ٹولے میں ایک شرارہ پھینکا–اور نتیجہ وہی ہوا کہ وہ بھڑک اٹھیں—
خواتین کس کو بولا آپ نے —؟
سالویہ وہیں سے چلائی–باقی چاروں لڑکیاں جو اس سے چھوٹی تھیں وہ بھی ان لڑکوں کے ٹولے کو خونخوار نظروں سے گھورنے لگیں–
آپ کو آپا—عبدالرحمن نے ہانک لگائی—
سالویہ کے تو سر پر لگی تلوؤں پر بجھی—آپا کس کو بولا–؟پورے تین ماہ چھوٹی ہوں تم سے–
ہم فوجی لوگ احترام اور ادب سے بات کرتے ہیں آپا—سب کا مشترکہ قہقہہ گونجا–
دیکھ رہے ہیں آپ ڈاکٹر صاحب–وہ غصے سے بولی—
اووو—ڈاکٹر صاحب—سب عبداللہ کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھنے لگے–
وہ غصے میں اپنا بھرم کھول بیٹھی تھی–
اوۓ یہ کیا ہے تو نے ہمیں کیوں نہیں بتایا–؟شرجیل نے اس کے کان میں سرگوشی کی–
عبداللہ نے تپ کر اسے گھورا
یہاں انجینئیر صاحب بھی ہیں—پائلٹ صاحب بھی—اور مستقبل کے میجر صاحب بھی–پر آپ صرف ڈاکٹر صاحب–سے شکایت کررہی ہیں–کسی نے اسکے الفاظ اچکے۔۔
سالویہ گڑبڑاگئی—نہیں وہ تو میں اس لیے کہہ رہی تھی کہ آپ سب ان کے گھر مہمان ہیں–
مہمان تو یہاں کوئی نہیں ہے سب کا اپنا گھر ہے–ترکی بہ ترکی جواب آیا–
اچھا تو پھر جائیے جا کے کھائیے پیے–ہمارا کیوں سر کھا رہے ہیں—
ویسے کیا ہضم ہوجاتا ہے آپکا سر—؟ادھر سے جواب آیا–انہوں نے بھی آج اسے تنگ کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی–
عبداللہ ضبط کرکے بیٹھا انکی بحث سن رہا تھا–اسے سالویہ پر بے وجہ ہی غصہ آرہا تھا–
میں کچھ لاتا ہوں کچن سے –وہ اٹھنے کے بہانے وہاں سے نکل آیا—پیچھے انکے معنی خیز قہقہے گونج رہے تھے۔۔
کچن میں کوئی نہیں تھا–وہ دروازے کی کنڈی کھول کر اندر آیا —فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی اور جنوری کی ٹھنڈ میں اس پانی کو اپنے اندر اتارنے لگا–
