Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan (Episode 05,06)

Ins o jaan by Maimona Aman

اس نے کھڑکی سےباہر جھانکا-باہر شدید برف باری ہورہی تھی-مری کا آسمان ہر سو سفیدی بکھیر رہا تھا-اس کے کمرے کی کھڑکی باہر کی طرف کھلتی تھی-گو کہ اسکے آگے چھجہ بنا ہوا تھا مگر پھر بھی برف کے گولے طوفانی ہوا کے زیر اثر اس کے شیشے سے آکر ٹکراتے تھے-کبھی کبھی انکے ٹکرانے سے ایک مدھر سی موسیقی جنم لیتی تھی-یہ موسیقی اسکی سماعتوں میں پری کی سریلی آواز گھول دیتی تھی-

وہ کھڑکی سے سر ٹکاۓ کھڑا باہر گرتی سفیدی کو تک رہا تھا-ہر شے اتنی سفید تھی کہ آنکھیں خیرہ ہوۓ جاتی تھیں-

اسے لگا وہ اسکے پیچھے کھڑی ہنس رہی ہے-اس نے مڑکر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا-میں بھی پاگل ہوں ہر جگہ وہی دکھائی دینے لگی ہے-وہ دھیمے سے مسکرایا-ابھی دوپہر تھی-اسے یاد آیا کہ پری نے چار بجے ملنے کا کہا تھا-اتنی برف باری میں وہ کیسے آسکتی ہے-؟

اس نے سوچا اور پردہ برابر کرکے راکنگ چئیر پر آکر بیٹھ گیا-وہ آنکھیں موندے دھیرے دھیرے کرسی ہلارہا تھا-چشم تصور میں آج اسی اپسرا کا چاندی سا چہرہ بار بار یوں ابھرتا تھا جیسے وہ آنکھیں کھولے گا اور وہ سامنے کھڑی مسکرارہی ہوگی-وہ وہاں تھی بھی اور نہیں بھی-

تم میرےپاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

——————————

موسم اتنا خراب ہے آج تو کوئی کسٹمر بھی نہیں آۓ گا-ساس بہو ہیٹر کے سامنے بیٹھی تھیں-صفیہ بیگم تو اپنے لیے کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈے رکھتی تھی-اب بھی وہ بچوں کے لیے اونی جرابیں بن رہی تھی-اور شمع اپنے پارلر کے عارضی طور پر بند ہوجانے کا افسوس منارہی تھی-سردیوں میں ٹی وی لاؤنج سے بچوں کے کمرے میں منتقل ہوجاتا تھا اور وہ تینوں اب مزے سے بستر میں گھسے ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ مونگ پھلیاں اور چلغوزے وغیرہ اڑارہے تھے-

ماں کی جان چھوٹی ہوئی تھی چلو کسی بہانے مصروف تو تھے-

بہو سامان پیک کرلو-جیسے ہی موسم ٹھیک ہوتا ہے ہم نکل جائیں گے-

خالہ جی اس بار رہنے نہ دیں-گاؤں نہیں جاتے یہیں چھٹیاں گزار لیتے ہیں-

ارے کیوں بھئی-؟یہاں کیا کریں گے-؟

نہ کوئی رشتے دار نہ کوئی مصروفیت-میرا تو دل نہیں لگے گا-وہ تو تم سب کی وجہ سے رہتی ہوں بس-ادھر بھرا پرا گھر ہے میں اپنے پوتوں سے بھی مل لوں گی-صفورا تو بہت یاد آتی ہے مجھے-یہ دیکھو اس کے لیے جرابیں بنائی ہیں اسے جاکے دوں گی تو خوش ہوجاۓ گی-انہوں نے اپنی دوسری پوتی کا نام لیا-

ماسٹر ایوب اور صفیہ بیگم کی صرف دو ہی پوتیاں تھیں-ایک شزا اور دوسری صفورا جو پانچ بھائیوں کے بعد بڑی دعاؤں سے ملی تھی-وہ شزا سے ایک سال بڑی تھی اور اپنے دودھیال کی پہلی لڑکی ہونے کے ناطے سب کی لاڈلی تھی-

اور تم نے اپنی ماں کے گھر بھی تو جانا ہے-میں نے بھی اپنی بیٹیوں سے ملنا ہے-بس تم تیاری رکھو-مجھے لگتا ہے جلدی موسم ٹھیک ہوجاۓ گا-وہ پھر بنائی کرنے لگی-

اچھا جاتی ہوں-

شمع چار وناچار پیکنگ کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی-

————————-

شام کے چار بجنے والے تھے-عبداللہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا-برف باری تقریبا تھم چکی تھی-بس معمولی سے برف کےگالے اڑتے پھررہے تھے-وہ اسی کشمکش میں تھا کہ وہ آۓ گی یا نہیں-برف نے راستوں کو ڈھک دیا تھا-وہ نازک سی لڑکی اتنا سفر کرکے کیسے آسکتی ہے-؟اس نے خود ہی اندازہ لگایا-

چھت پر جاکر دیکھنا چاہیے-اس نے کہا تھا تمہارے گھر کی پچھلی جانب جو پہاڑی ہے وہاں آجانا-وہ کمرے سے نکل کر چھت کی طرف بڑھا-پہاڑی کے آس پاس کافی درخت تھے جنکی شاخیں برف کے بوجھ سے جھکی ہوئی تھیں-اسکے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی سڑکیں تھیں-ایک سڑک شہر کی سمت جاتی تھی-جہاں سے وہ روز اپنے کالج جاتا تھا-دوسری سڑک گاؤں کے اس حصے کی جانب جاتی تھی جہاں زیادہ تر کھیت باغات اور کچھ کھنڈرات تھے-

دونوں سڑکیں مکمل خاموش تھیں-ان پر کوئی چہل پہل نہیں تھی-ابھی چار بجنے میں کچھ وقت تھا-وہ رخ بدل کر دوسری جانب دیکھنے لگا-جہاں گھر تھے اور سب سردی کے باعث اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوۓ تھے-مری کے لوگ برف باری کا موسم شروع ہونے سے پہلے ہی راشن اور ایندھن وغیرہ کا ذخیرہ کر لیتے تھے اور پھر موسم کے تیور بدلنے تک گھر وں میں ہی رہتے تھے-رف باری ختم ہونے کے بعد راستے بھی صاف کرنے ہوتے تھے

یہ صرف شدید برف باری میں ہی ہوتا تھا ورنہ معمولی سی بارش یا وقفے وقفے سے جاری ہلکی برف باری میں روزمرہ کے کام جاری رہتے تھے-گاؤں میں تو یہ روایت برقرار تھی-مگر شہروں میں زندگی ذرا مختلف تھی وہاں زندگی ایسے منجمد نہیں ہوتی تھی-بلکہ سڑکوں اور بازاروں میں تھوڑی بہت رونق نظر آتی تھی-

ماسٹر ایوب کے گھر کے تمام افراد اس موسم کو گھر میں میوہ جات حلوے اور طرح طرح کے پکوان کھا کر اور کتابیں پڑھ کر گزارتے تھے-بچوں کے ماہانہ رسالے آتے تھے اور اسکے علاوہ ماسٹر ایوب کے گھر میں بچوں اور بڑوں کی کتابوں کی ایک چھوٹی سی لائبریری تھی-انکی تربیت میں پلے سارے بچے پڑھنے کے شوقین تھے-اس علاقے میں کیبل تو تھی نہیں ٹی وی کے دو ایک چینل ہی لگتے تھے-اس لیے بچے ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت نہیں گزارتے تھے-لیکن سردیوں کی چھٹیوں میں وہ بالکل بور نہیں ہوتے تھے بلکہ انہیں بے چینی سے انکا انتظار ہوتا تھا-کیونکہ انکے پاس مصروف رہنے کے لیے بہت سے بہانے تھے-

وہ رخ بدل کر دوبارہ پہاڑی کی جانب دیکھنے لگا-اسے گاؤں کے اندر سے آنے والی سڑک پر کوئی سرخ سی چیز ابھرتی نظر آئی تھی-ابھی وہ اتنی دور تھی کہ واضح نہیں ہوتا تھا کہ وہ کیا ہے-

وہ اسی جانب تکتا رہا اس نے دیکھا کہ وہ تیزی سے قریب آرہی تھی-اسکے سر پر کوٹ کی سرخ ہڈی تھی-اور اس میں سے کچھ لٹیں نکل کر لہرارہی تھیں-

اوہ پری–یہ تو واقعی آگئی-اسکے منہ سے بے اختیار نکلا-پر یہ اس طرف سے کیوں آئی ہے-؟وہ الجھتے ہوۓ تیزی سے نیچے اترا-

اس نے احتیاط سے ادھر ادھر دیکھا-دادا جی شاید اپنے کمرے میں سورہے تھے-وہ محتاط انداز میں گیٹ کھولتا باہر نکل گیا-کیونکہ اگر وہ دیکھ لیتے تو ضرور اسکی باز پرس ہوتی-

باہر نکل کر وہ برف پر سے چھلانگیں لگاتا پہاڑی کی سمت بڑھا-

تمہیں منع بھی کیا تھا کہ یہاں مت آنا-کیسے آئی ہو اتنی سردی ہے-؟

وہ دستانے بھول آیا تھا اب ہاتھوں کو رگڑ کر گرم کررہا تھا-

تمہاری محبت کھینچ لائی-

اچھا چلو یہاں کھڑے ہونا مناسب نہیں کہیں اور چلتے ہیں-وہ اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگی-وہ اسے سیب کے باغ میں لے آیا تھا-وہاں برف سے ادھ ڈھکے بے شمار درخت تھے-وہ پتھروں کے ایک ڈھیر پر بیٹھ گۓ-

تم اس طرف سے کیوں آئی ہو-؟تمہارا گھر تو شہر کی جانب ہے-اس نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا-

وہ یک دم چونکی-تمہیں کیسے پتہ کہ میں ادھر سے آئی ہوں-؟

میں چھت پر کھڑا تھا مجھے لگا تھا کہ تم اتنی پاگل نہیں ہو کہ راستے بند ہونے کے باوجود آؤ گی-پر تم تو میری سوچ سے بھی بڑھ کر پاگل ہو-وہ ہنسا-

تم کیا مجھ سے کم پاگل ہو-وہ ہنسی تو اسکی نیلی آنکھوں میں ستارے سے چمکے-

اور وہ اسکی آنکھیں دیکھ کر ہی اپنے سوال کا جواب پانا بھول گیا-

پری میں دادا جی سے ہمارے بارے میں بات کروں؟

کیا بات-؟وہ سنجیدگی سے بولی-

میں ان کو تمہارے گھر بھیجوں گا رشتے کے لیے-

نہیں-اسکے لہجے میں ترشی تھی-

ابھی نہیں-

پر کیوں؟

بس کہا نا ابھی نہیں-وہ اپنی ساحرہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی-

ہم یوں چھپ چھپ کے کب تک ملتے رہیں گے-؟مجھے اچھا نہیں لگتا-یہ صحیح نہیں ہے-

اس میں کیا برائی ہے؟

-ہم کچھ غلط تو نہیں کررہے-

پر۔۔۔ یہ ٹھیک بھی نہیں ہے پری تم کیوں نہیں سمجھتی-؟میں اپنے گھر والوں کو بھیجتا ہوں ہمارا کوئی رشتہ تو ہونا چاہیے-اگر تمہارے گھر والوں نے کہیں اور تمہاری شادی کردی-؟

ایسا نہیں ہوگا-وہ پورے یقین سے کہہ رہی تھی-

اور اگر ہوگیا تو؟

کہا نا نہیں ہوگا-

تو تمہارے گھر میں کسی کو پتہ ہے ہمارے بارے میں-تم یہاں کس کے ساتھ آئی ہو-؟

اکیلی آئی ہوں-

اکیلی-۔۔چھہ سات کلو میٹر -؟کس چیز پر ؟۔۔کوئی سواری ہے تمہارے پاس-؟وہ حیرت سے بولا

ہاں ہے سواری-

مجھے تو کہیں نظر نہیں آرہی اس نے اردگرد نظر دوڑائی-اور اس برف پر تو گاڑی بھی نہیں چلتی-

اچھا زیادہ سوال مت کیا کرو تم-وہ جھنجھلائی-

نہیں –میں کروں گا اور تمہیں جواب دینا پڑے گا-

عبداللہ تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے کیا-؟وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی-

یہ تم نے کیسے سوچ لیا کہ مجھے تم پر اعتبار نہیں-؟

اگر میں کسی روز کہیں کھوگئی یا بہت عرصے کے لیے تم سے بچھڑ گئی تو کیا کروگے-؟

اسکی نیلگوں آنکھوں میں کرب کی سی کیفیت تھی-

ایسا ہو ہی نہیں سکتا-وہ ہنستے ہوۓ کہہ رہا تھا-

اگر ہوگیا تو-؟

تمہیں تو یہ برف باری بھی نہ روک پائی تو کون تمہیں روک سکتا ہے-؟ایسا نہیں ہوگا-

اگر ہوگیا تو-اگر میں تم سے بچھڑ گئی تو؟

اس نے پھر دہرایا۔

تو میں پاگل ہوجاؤں گا-اسنے سنجیدگی سے کہا تھا-

تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو-؟اسے سنجیدہ دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہوا تھا جیسے وہ سچ کہہ رہی ہو-

اس نے کوئی جواب نہیں دیا اورگردن موڑ کر تا حد نگاہ پھیلے ہوۓ گھنے درختوں کو دیکھنے لگی-

کچھ لمحے خاموشی چھائی رہی-

پری کیا ہوا-؟

میں چلتی ہوں وہ اٹھ کھڑی ہوئی-

تم کیسے جاؤ گی-؟اسے فکر ہوئی-

جیسے آئی تھی-وہ مسکرائی مگر اسکی آنکھیں اداس لگتی تھیں-

تم جاؤ میں چلی جاؤں گی-

نہیں میں تمہیں جاتے ہوۓ دیکھوں گا-

کہا نا تم جاؤ میں چلی جاؤں گی-

ایک تو تم اپنی ہر بات منواتی ہو-

وہ باغ سے نکل آیا اور گھر کی سمت چل پڑا-وہ بار بار مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا-یہاں تک کہ وہ موڑ تک آگیا یہاں سے دائیں ہاتھ مڑ کر اسکا گھر تھا-اس نے ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی اور چند قدم چل کر گھر کے اندر داخل ہوگیا-

اندر جاتے ہی وہ فوراً چھت کی طرف دوڑا-وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیسے جاۓ گی-

یہاں سے باغ کا وہ حصہ نظر آتا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ بیٹھے تھے-اس نے دیکھا وہ کہیں نہیں تھی-

وہ چھت پر ادھر سے ادھر دیکھ رہا تھا-باغ اور سڑک دونوں ویران پڑے تھے-وہاں نہ پری تھی نہ اسکا کوئی نام و نشان-نہ کوئی گاڑی تھی نہ کوئی اور سواری-وہ شدید الجھن میں تھا-

کیا ہے آخر یہ لڑکی-؟

نہ اسکے گھر کا پتہ ہے نہ گھر والوں کو-اور تو اور اس نے اپنا نام بھی نہیں بتایا تھا-وہ کتنا پڑھی لکھی ہے۔۔۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا-پر اب وہ اس سے ایسے بندھن میں بندھ چکا تھا کہ اسکو چھوڑنے کا تصور اسکی جان لے لیتا تھا-

وہ اسی الجھن میں نیچے آگیا تھا-

تم اوپر کیا کررہے تھے-؟

دادا جی اسے دیکھ کر پوچھنے لگے-

وہ—میں ویسے ہی چلا گیا تھا کمرے میں بیٹھ بیٹھ کے تھک گیا تھا-

اچھا–تمہارے چچا ابراہیم اور فیملی اور تمہاری دادی آرہی ہے تم انہیں بس اڈے سے لے آؤ جا کر وہ بس پہنچنے والے ہوں گے-سامان وغیرہ ہوگا تو مشکل ہوگی انہیں۔

جی اچھا-

دو تین منٹ میں وہ کہاں جاسکتی ہے؟

وہ بڑبڑاتے ہوۓ۔۔۔ باہر کی سمت بڑھا-یہاں سے کچھ دور ہی بس سٹاپ تھا جہاں سے چچا کی فیملی کو لینا تھا-وہ تیز رفتاری سے چلتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔

جیتا رہ عبداللہ-دادی اس کی بلائیں لینے لگی-

سلام چاچی-اور سنا بھئی جبرئیل کیسا ہے-؟اس نے جبرئیل کے بھرے بھرے گال کھینچے-دونوں کی خوب بنتی تھی۔

وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوۓ باتیں کررہا تھا-موڈ خوشگوار ہوگیا تھا-

شمع نے فائز کو بمشکل گود میں اٹھایا ہوا تھا-فائق ریں ریں کرتا ساتھ گھسیٹ رہا تھا-کہ اسے کیوں گود میں نہیں اٹھایا-

میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم نہیں ہے کہ اتنے بڑے بچے کو اٹھاؤں۔دادی جو اسکی بین سن کر تھک چکی تھی بولی۔۔

دادی میں اٹھالیتا ہوں اس شیطان کی آنت کو-اس نے بھاری بھر کم فائق کو اٹھایا-ہاۓ چاچی یہ تو بہت بھاری ہے-

کچھ اس کا اپنا وزن تھا رہی سہی کسر اونی کپڑوں نے پوری کردی تھی-

ہاۓ عبداللہ نظر لگاۓ گا مجھے-اسکی گود میں چڑھے فائق نے اٹھلا کر کہا-

شرم نہیں آتی-بھیا کہتے ہیں-کتنا بڑا ہےتجھ سے-دادی نے اسے ڈپٹا-

ہونہہ-اسنے منہ بنایا-

میں بھی تھک گئی ہوں مجھ سے نہیں چلا جارہا-شزا دہائی دیتی رستے میں ہی بیٹھ گئی اور اپنی ٹانگیں سہلانے لگی-ہاۓ میرے جوڑوں میں درد ہورہا ہے-اس نے دادی کی نقل کی-

یہ بہت بڑی فلم ہے عبداللہ بھائی-جبرئیل نے شزا کو گھورتے ہوۓ کہا-

بس گڑیا وہ سامنے گھر ہے-تھوڑا اور چل لو-

وہ اسی پہاڑی کے قریب پہنچ گۓ تھے-

نہیں بھیا میں نہیں چل سکتی-مجھے گودی میں اٹھالو-

شزا اٹھو آرام سے زیادہ بدتمیزی نہ کرو-شمع نے اسے ڈانٹا-مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی-

مما–میرے پاؤں میں درد ہے کیسے اٹھوں-؟

اس نے رونی صورت بنائی-

کوئی اور موقع ہوتا تو شمع اسے دو تھپڑ تو جڑ ہی دیتی-پر شاید سردی کی وجہ سے چھوڑ دیا-سردی میں تو ویسے بھی ہلکی سی چوٹ بھی بڑی لگتی ہے-

چاچی ایک کام کرتے ہیں-ہم جبرئیل کو شزا کے پاس چھوڑ دیتے ہیں اور گھر تک یہ سامان اور بچوں کو چھوڑ کر میں واپس آکر اسے لے جاؤں گا-

ہاں ٹھیک ہے-شزا فورا بولی-

پر یوں چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے پتر-

دادو سامنے تو گھر ہے کچھ نہیں ہوتا یہاں کوئی غیر نہیں آتا-

اچھا چل ٹھیک ہے میں تو بڑی تھک گئی ہوں-انہوں نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا-

تم دونوں یہیں رکو-میں بس دو منٹ میں آیا-

جبرئیل بچے بہن کا خیال رکھنا-دادو نے جاتے ہوۓ نصیحت کی-

آپ فکر نہ کریں دادو-اس نے پوری ذمہ داری سے جواب دیا-

وہ چلتے چلتے موڑ مڑ گۓ-عبداللہ تیز رفتار تھا پر انکا ساتھ دینے کو آہستہ چل رہا تھا-

انہیں گھر کے گیٹ پر چھوڑ کر وہ واپس مڑا-

جبرئیل وہ دیکھو کتنی پیاری چڑیا-۔۔وہ دونوں ساتھ بیٹھے تھے شزا نے اس کے پیچھے اشارہ کیا-

ہیں چڑیا یہاں کیسے آگئی-؟اس نے حیرت سے آس پاس دیکھا مجھے تو نہیں نظر آرہی۔۔۔ کدھر ہے-؟وہ اپنی لے میں بول رہا تھا-

اس نے مڑ کر دیکھا تو شزا غائب تھی-

شزااا—شزا—

عبداللہ جب واپس آیا تو اس نے باغ کو جاتی سڑک پر جبرئیل کو چلاتے اور بھاگتے دیکھا-

اس سے بہت دور شزا اندھا دھند ہنستی ہوئی اور اسے چڑاتی ہوئی بھاگتی جارہی تھی-اب میں گم ہوجاؤں گی اور تمہیں مار پڑے گی-وہ وہیں سے چلا کر بولی-

اس کے سر سے ٹوپی اتر کر راستے میں گر گٸی تھی اور اس کے لمبے ریشمی بال ہوا میں ادھر سے ادھر لہرارہے تھے۔

فضا میں خاصی خنکی تھی۔سورج کا نام و نشان نہیں تھا۔

سڑک بالکل ویران تھی اور وہ تینوں اس پر ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے جارہے تھے-

شزااا–رک جاؤ-میں کہہ رہا ہوں رک جاؤ-

وہ باغ سے بھی کافی دور نکل گئی تھی اور اب اس کا رخ داٸیں جانب برف پوش کچے راستے کی طرف تھا-جو پرانی حویلی کے کھنڈرات پر جاکے ختم ہوتا تھا-

اس طرف کوئی نہیں جاتا تھا کیونکہ اس حویلی کے بارے میں بہت سی باتیں مشہور تھیں-کہ وہاں جنات کا سایہ ہے اور وہاں سے خوفناک آوازیں آتی ہیں-اور یہ کہ جو بھی ادھر جاتا ہے اس پر جنات کا سایہ ہوجاتا ہے-دادا جی نے ان کو کبھی ادھر نہیں جانے دیا تھا۔

جبرئیل پکڑو اسے-

عبداللہ شزا کو اس طرف جاتا دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہوگیا-اس کے ذہن میں وہ تمام باتیں گونج رہی تھیں جو اس نے بچپن سے اس حویلی کے کھنڈرات کے متعلق سنی تھیں-

اس کی چھٹی حس خطرے کا الارم بجارہی تھی-

شزا ہر چیز سے بے نیاز حویلی کے زنگ آلود کھلے پھاٹک سے اندر داخل ہوگئی تھی-

Episode 6

برسوں سے ویران پڑی حویلی انتہائی وحشت ناک منظر پیش کررہی تھی-گیٹ کے سامنے اجڑا ہوا باغیچہ تھا جس میں دھول اڑ رہی تھی-

اس کے بعد راہداری جس میں دونوں اطراف کمرے تھے جن میں سے بیشتر کی عمارت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر منہدم ہوگئی تھی-ہر جگہ کوڑا کرکٹ کا ڈھیر-گند – اور ہڈیاں- جانوروں کےپنجر اور باقیات پڑی تھیں-اب یہ جگہ آوارہ کتے بلیوں کا مسکن بن چکی تھی-یہاں کی فضا میں وحشت کے ساتھ ساتھ عجیب سی ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی-دن کے وقت بھی نیم اندھیرا تھا-

پچھلے صحن سے اوپر کو جانے کے لیے سیمنٹ کی سیڑھیاں بنی تھیں جو جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیں-اپنے دور میں یہ ایک شاندار عمارت ہوگی-طرز تعمیر فن کا منہ بولتا ثبوت تھا-پر اب اس کی ویرانی اور خستہ حالی دنیا کے فانی ہونے کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی تھی-کسی دور میں اپنے ساکنان کے لیے یہ ایک پناہ گاہ اور انسیت کی جگہ ہوگی-اس کے مکین یہاں شان وشوکت اور ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے ہوں گے-مگر اب یہ عمارت تو باقی تھی پر اس کے مکین برسوں کی گرد اور قبر کی مٹی کی نذر ہوچکے تھے-اب یہاں چمگادڑوں الوؤں اور دیگر جانوروں کا بسیرا تھا-

جبرئیل کے پیچھےپیچھے ہی تیزی سے جست لگاتا عبداللہ بھی پہنچ چکا تھا-وہ دونوں آیت الکرسی کا ورد کرتے اندر داخل ہوۓ-

شزااا–

ان کی آواز گونج کر پلٹ آئی-آؤ اوپر دیکھتے ہیں-وہ جبرئیل کا ہاتھ پکڑ کر دھڑکتے دل کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگا-یہ اتنی وحشت ناک جگہ تھی کہ شدید سردی میں بھی اسکا دم گھٹنے لگا۔

چھت بہت وسیع تھی-اوپر کچھ کمرے ٹائپ عمارتیں اور بالکونیاں تھیں-

وہ دونوں اسے مسلسل آوازیں دینے کے ساتھ ساتھ ہر کونے میں ڈھونڈ رہے تھے-آخر وہ جبرئیل کو شکستہ سامان کے ڈھیر میں چھپی ہوئی نظر آئی-اس نے پیچھے سے جا کے اسے پکڑا اور ساتھ ہی ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا-

تمہیں پتہ بھی ہے کہ یہ کتنی خطر ناک جگہ ہے یہاں کوئی نہیں آتا-تمہارے پاؤں میں درد تھا اور تم بھاگتے ہوۓ یہاں تک پہنچ گئی ہو شرم نہیں آتی-اس نے بازو سے پکڑ کے اسے جھنجھوڑا-

اتنی اچھی جگہ تو ہے۔وہ ڈھٹاٸی سے بولی۔

وہ دیکھو اوپر چھت پر ایک آنٹی بیٹھی ہیں وہ ادھر ہی رہتی ہیں-اس نے چھت کی طرف اشارہ کیا پر جبرئیل نے نہیں دیکھا کیونکہ وہ پہلے بھی ایسے ہی چکمہ دے کر بھاگی تھی-

عبداللہ مخالف سمت سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے آگے بڑھ کے اسے گود میں اٹھایا-چلو جلدی نکلو یہاں سے-اس نے ڈانٹ ڈپٹ میں وقت ضاٸع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آۓ اور سائیڈ کی گلی سے نکل کر باہر کی سمت بڑھے-

بھیا اتنا موٹا چوہا-

شزا نے اس کی گود میں چڑھے اس کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا-جبرئیل آگے چل رہا تھا-

چپ کرو شیطان کی نانی-اب یہ ڈرامے زیادہ دیر نہیں چلیں گے-عبداللہ نے اس کے کان کھینچے-

اللہ کی قسم بھیا-میں جھوٹ نہیں بول رہی آپ کے پاؤں کے پاس چوہا ہے-

قسمیں مت کھایا کرو شزا-اللہ کوئی معمولی ہستی ہے کہ تم بات بے بات اسکی قسم کھاتی ہو۔جبرئیل نے اسے رعب سے ڈانٹا-

اور رک کر دیکھا تو واقعی عبداللہ کے پاؤں کے برابر ایک موٹا تازہ چوہا چل رہا تھا-بھیا رکیں وہ گیٹ کے قریب پہنچ چکے تھے-

وہ رکا تو چوہا بھی اس کے ساتھ ہی رک گیا اور منہ اٹھا کر اپنی گول گول آنکھوں سے ٹکڑ ٹکڑ انہیں دیکھنے لگا-

بھیا یہ کتنا عجیب چوہا ہے کیسے دیکھ رہا ہے-شزا بولی-

انہوں نے شی شی کرکے اسے بھگانا چاہا پر وہ بھاگنے کے بجاۓ انہیں کاٹنے کو دوڑا-عبداللہ اسے بمشکل جھٹک کر گیٹ کی سمت بڑھا-

پر آگے ایک نئی مصیبت تھی-گیٹ کے دونوں کواڑ آپس میں ملے ہوۓ تھے جیسے کسی نے سختی سے انہیں باہر سے بند کررکھا ہو-اس نے گیٹ کو دھکا دیا پر اس کے کھلنے کے کوئی آثار نہیں تھے-وہ کافی اونچا اور مضبوط لکڑی کا گیٹ تھا-

حیرت ہے ابھی تو یہ کھلا تھا بلکہ ہر وقت کھلا رہتا ہے اب کیسے بند ہوگیا؟ اور اس کی تو کنڈی بھی نہیں ہے زنگ بھی لگا ہوا ہے۔تو بند کیسے ہوا؟

-باہر نکلنے کا اور کوئی راستہ بھی نظر نہیں آرہا تھا-اب کیا کریں؟

وہ دونوں وہاں پریشان کھڑے تھے-یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے شزا-جبرئیل نے اسے گھرکا-

میں نے کیا کیا ہے؟ کب سے ڈانٹے جارہے ہو-میں بابا کو بتاؤں گی-

یہاں سے نکلو گی تو بتاؤ گی نا۔

ایسا کرو تم دونوں کسی طرح چلے جاؤ اور مجھے یہیں چھوڑ جاؤ-میں کھیل کے واپس آجاؤں گی-وہ ایسے بولی جیسے وہ کسی پلے لینڈ میں کھڑے ہوں-انہوں نے ایک بار پھر گیٹ کو دھکا دے کر کھولنے کی کوشش کی پر وہ ٹس سے مس نہ ہوا-

اب اس چوہے جیسے اور بھی موٹے تازے اور سیاہ رنگ کے چوہے ان کے آس پاس منڈلا رہے تھے-وہ اپنے ہاتھوں سے جبرئیل اور عبداللہ کی جینز کا پائینچہ پکڑ کر اوپر چڑھنے کی کوشش کررہے تھے-اور انہیں بار بار انکو جھٹک کر ہٹانا پڑتا تھا-عجیب وحشت ناک صورت حال تھی-وہ دونوں آیت الکرسی کا ورد مسلسل کررہے تھے-انہوں نے اپنے دادا دادی سے یہی سیکھا تھا کہ ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ کو پکارو-ہمت نہ ہارو بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرو-خود کوکمزور مت ظاہر کرو خواہ اندر سے تم کانپ رہے ہو پر خود کو پر سکون رکھو-

بس ایک شزا پر کسی سیکھی ہوئی بات کا اثر نہیں تھا-

آنٹی یہ گیٹ کیسے کھلتا ہے؟ آپ تو یہاں رہتی ہیں آپ کو پتہ ہوگا-بتائیں پلیز ہم نے گھر جانا ہے-شزا عبداللہ کی گود میں لٹکی حویلی کی چھت پر دیکھتے ہوۓ کسی سے کہہ رہی تھی-

یہاں تو کوئی نہیں ہے تم کس سے بات کررہی ہو-عبداللہ نے مڑ کر چھت کی طرف دیکھا-

بھیا آپ کو نظر نہیں آرہی اتنی بڑی آنٹی؟وہ چھت پر بیٹھی ہیں-وہ دیکھیں وہ سماٸل کررہی ہیں۔آنٹی آپ کتنی پیاری ہیں بس تھوڑی موٹی ہیں۔۔۔ہی ہی ہی۔۔

دونوں نے پھر دیکھا پر وہاں کسی ذی روح کا نام ونشان نہیں تھا-تم پاگل ہوگئی ہو شزا–؟

ایک تو اس مصیبت میں پھنسادیا اوپر سے اوٹ پٹانگ بکواس کررہی ہو-جبرئیل غصے سے بولا-

آنٹی یہ اندھے ہوگۓ ہیں انہیں آپ نظر نہیں آرہی-اس نے پھر اوپر دیکھتے ہوۓ کہا-

آنٹی پیاری آنٹی پلیز یہ گیٹ کھول دیں میں جاؤں گی نہیں تو واپس کیسے آؤں گی-؟

تم یہاں ہرگز نہیں آؤ گی-عبداللہ نے سختی سے اسے ڈانٹا-مارے پریشانی کے اس کا برا حال تھا۔لگتا تھا کہ موت سامنے کھڑی ہے۔

عبداللہ نے مڑ کر دیکھا تو اسے بے شمار کتوں کا ایک غول اندرونی طرف سے نکلتا ہوا نظر آیا۔اس کے چھکے چھوٹ گۓ۔اونچی آواز سے پڑھو۔اس نے جبرٸیل سے کہا اور خود بھی بلند آواز سے آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا۔

اب ان کی رفتار آہستہ ہوگٸی تھی۔پر وہ مسلسل انکی جانب بڑھ رہے تھے۔

اس نے دل میں اللہ سے مدد مانگی اور انکی طرف سے منہ موڑ لیا۔

میں ان آنٹی کے بچوں سے ملنے آؤں گی-ان سے کھیلوں گی وہ بھی انہی جیسے ہوں گے پیارے پیارے۔۔اسے صورتحال کی کوٸی فکر نہیں تھی بس اپنے مطلب کی باتیں سوجھ رہی تھیں۔

وہ آرہی ہیں اب گیٹ کھل جاۓ گا-اس نے خوشی سے تالیاں بجائیں-اور تھوڑی دیر بعد گیٹ کے دونوں پھاٹک الگ ہوگۓ جیسے واقعی کسی نے اسے آکر کھولا ہو-

اس نے پلٹ کر دیکھا کتے غاٸب تھے۔ر

وہ جلدی سے باہر کو دوڑے-

مغرب کی اذانیں شروع ہوچکی تھیں اور اندھیرا پھیل رہاتھا-ایک تو بادلوں کا اندھیرا تھا دوسرا رات کا-فضا میں خنکی بھی کافی بڑھ چکی تھی-وہ برف پر سے بھاگتے ہوۓ گھر پہنچے-کچھ دیر پہلے کا بھیانک واقعہ انہیں خواب لگ رہا تھا-دل ابھی تک خوف کے زیر اثر تھا۔

جبرئیل گھر میں کسی کو مت بتانا کہ ہم کہاں تھے-اور تم بھی شزا ۔۔۔اپنی زبان بند رکھنا-عبداللہ نے اسے سختی سے تنبیہ کی-

وہ گھر پہنچے تو سب باتوں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں ان کے دیر سے پہنچنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا-

دادا جی–جبرئیل جاکے ان سے لپٹ گیا-

او میرا بچہ-کیسا ہے-؟

سب گھر والے آتش دان کے پاس بیٹھے تھے-کچن کافی بڑا تھا اور اس میں ایک طرف آتش دان بنا ہوا تھا سردیوں میں سب افراد وہیں جمع ہوتے تھے-

چلو بھئی سب نماز پڑھ لو باقی باتیں بعد میں ہوتی رہیں گی-

شزا اور صفورا اکٹھی بیٹھ کے کھیلنے لگی تھیں

-جبرئیل نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں گھور کر تنبیہ کی کہ وہ یہ بات اپنی سہیلی کو نہ بتاۓ-فائق اور فائز کے علاوہ تمام لڑکے دادا جی کے ساتھ نماز کے لیے چلے گۓ-

نماز کے بعد سب نے کھانا کھایا جسکا زینت نے پہلے ہی انتظام کیا ہوا تھا-

اس کے بعد عبداللہ کا والد یوسف بھی آگیا تھا سب بڑے بیٹھ کر باتیں کرتے رہے ساتھ میں چاۓ اور قہوہ بھی چلتا رہا-

باقی پانچوں لڑکوں نے- جن میں عبداللہ-حاتم اور انکے دو چھوٹے بھائی عماداور عفان اور جبرئیل شامل تھے–اپنی الگ بیٹھک جمالی تھی-عفان اور جبرئیل ہم عمر تھے اور عماد حاتم سے دو برس چھوٹا تھا-یعنی ان سب کی عمریں نو سے تیرہ برس کے درمیان تھیں-عبداللہ اس محفل میں سب سے کافی بڑا تھا-اس سے چھوٹا اور حاتم سے بڑا عبدالرحمٰن اس محفل کا حصہ نہیں تھا کیونکہ وہ سیالکوٹ کے کیڈیٹ کالج میں فوجی بننے کے مرحلے سے گزر رہا تھا-

لڑکیاں صرف دو ہی تھیں اور وہ اپنی گڑیاں اور کھلونے نکالے کھیل کود میں مصروف تھیں-فائز اور فائق کافی چھوٹے تھے اس لیے وہ نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں-کبھی وہ لڑکوں کی پارٹی میں جاکر انکی گفتگو میں شریک ہونے کی کوشش کرتے اور کبھی شزا اور صفورا کا کھیل بگاڑ دیتے-

عشا کے بعد ماسٹر ایوب نے سب کو سونے کا حکم دے دیا تھا-ان کے گھر میں سب وقت سے سونے اور صبح جلدی اٹھنے کے عادی تھے-

جبرئیل کو پوری رات عجیب و غریب خواب ستاتے رہے تھے-وہ ساری رات اسی حویلی میں ہی گھومتا رہا تھا-

عبداللہ کو تو خواب میں یا جاگتے میں پری کے سوا اور کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا تھا-

——————————–

اگلی صبح سب معمول کے مطابق بیدار ہوۓ تھے موسم کے تیور ابھی سے خراب تھے-ناشتہ وغیرہ ہوچکا تھا-دن کے نو بج رہے تھے-اتوار کا دن تھا-ابراہیم بھی یہاں پہنچ چکا تھا-

شمع بچے ابھی تک نہیں اٹھے-اس نے اپنی بیوی سے پوچھا-جبرئیل تو جاگ رہا تھا پر باقی تینوں غائب تھے-

اٹھ گۓ ہوں گے-

تو انہیں ناشتہ وغیرہ کرواؤ-

بلکہ میں خود دیکھ کر آتا ہوں-کدھر ہیں وہ-اتنی دیر تک سونا بھی کوئی اچھی بات ہے-

وہ ناشتہ کرکے کمرے کی جانب چل دیا-

اس نے ان کے اوپر سے کمبل اتارا-دونوں شریر بے سدھ سو رہے تھے-اٹھو بیٹا نو بج گۓ ہیں-اس نے ان کا چہرہ تھپتھپایا-

وہ اوں اوں کرکے پھر سونے لگے-ابراہیم نے دونوں کو اٹھا کر بٹھادیا-چلو شاباش منہ ہاتھ دھولو-اور ناشتہ کرو۔

اب وہ شزا کی طرف بڑھے وہ ایسے سو رہی تھی جیسے صدیوں کی تھکی ہو-سیاہ بال اس کے سرخ وسفید چہرے کے آس پاس بکھرے پڑے تھے-انہیں وہ بالکل گڑیا جیسی لگی-

اٹھ جاؤ شہزادی صاحبہ-انہوں نے مسکراتے ہوۓ اس کے بکھرے بال سمیٹے-

لمس محسوس کرکے وہ کسمسائی اور کروٹ بدلنے لگی-پر ابراہیم نے اسے اٹھا کر بٹھادیا-اس نے بمشکل بوجھل ہوتی آنکھیں نیم وا کیں-

بابا–وہ ان کے شانے سے لگ گئی-چلو نیچے اترو-

نہیں–میرے–سر–میں درد —اس نے اٹک اٹک کر کہا اور پھر آنکھیں موند لیں-

کیا ہوا ہے؟

–ابراہیم نے زبردستی اس کی آنکھیں کھولیں جو سرخ پڑ رہی تھیں اور کچھ سوجھی سوجھی تھیں جیسے کسی سر درد کے مریض کی ہوتی ہیں-اس کا ماتھا بھی خاصا گرم تھا بخار کی کیفیت لگتی تھی-

شمع –شمع—

جی آئی-

اسے اٹھا کے اس کا منہ ہاتھ دھلاؤ-اور اسے کچھ کھلاؤ پلاؤ-مجھے لگتا ہے اسے ٹھنڈ لگ گئی ہے اور بخار ہوگیا ہے-

جی اچھا–شمع نے اسے بمشکل اٹھایا-وہ نڈھال سی لگ رہی تھی-کیا ہوا ہے شزا-؟

سر–میں —درد–بہت—اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھاما-

اس کی آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا واقعی وہ شدید سر درد میں مبتلا ہے-

اسے ناشتہ کرواکے اور دوائی کھلا کر اس نے دوبارہ سلا دیا-کہ دوپہر تک وہ ٹھیک ہوجاۓ گی-پر یہ اس کی غلط فہمی تھی

-بھیا گھر بیٹھ بیٹھ کے تو بور ہوگۓ ہیں کہیں باہر چلتے ہیں -عفان نے عبداللہ سے فرمائش کی-

ارے کہاں چلتے ہیں باہر برف گررہی ہے-قلفی بنوانی ہے اپنی کیا-؟

اوہو بھیا ۔۔۔یہ کوئی پہلی بار تھوڑی ہوا ہے-ہم بچپن سے ہی یہی برف دیکھ رہے ہیں یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی-عماد نے بھی عفان کی حمایت کی-

نہ بھئی میں تم لوگوں کو کہیں نہیں لے جارہا-میں نے دادا جی سے مار نہیں کھانی-

دادا جی تو سو رہے ہیں انہیں پتہ نہیں چلے گا-ہم چلتے ہیں باہر برف پر کھیلیں گے۔ سنومین بنائیں گے ۔کتنا مزہ آۓ گا-یہ حاتم تھا-

ہاں —پھر تم لوگ بھی شزا کی طرح بخار چڑھا کر انجکشن لگواؤ گے اور دوائیاں پھانک کر پورا دن سوۓ رہو گے-میں بے چارہ آدھا ڈاکٹر —ہر گھنٹے بعد تمہارے منہ میں تھرما میٹر لگاکر اس کا پارہ ہائی کررہا ہوں گا-

بھیا آپ تو بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں-ہم لوگ خود ہی چلے جاتے ہیں آپ رہنے دیں-چلو دوستو ۔۔۔

حاتم نے سب کو جوش دلایا-

وہ تو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے-فوراً سے پہلے اٹھ کھڑے ہوۓ-

اوۓ–تم لوگوں کو میری بات سمجھ نہیں آتی-بیٹھ جاؤ آرام سے-عبداللہ نے رعب جھاڑنے کی کوشش کی پر اس کی سننے والا کوئی نہیں تھا-

وہ سب ٹولیوں کی صورت میں باہر نکل گۓ-عبداللہ بھی اپنا ناول ادھورا چھوڑ کر کمبل سے نکل کر انکے پیچھے لپکا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا-

اچھا دور نہیں جانا یہاں بھی بہت برف ہے جو کرنا ہے بنانا ہے ادھر ہی بنالو-اس نے باہر نکل کر ان کو ہدایات دیں-

ہلکی ہلکی برف باری ہورہی تھی پر وہ سب اس کا کوئی اثر نہیں لے رہے تھے-لگتا تھا وہ کسی کاٹن فیکٹری کا

کا منظر ہو اور زمین پر سفید کپاس بچھی ہو-اور ہر سو اڑرہی ہو-

یہاں کے مزدور کپاس اٹھا اٹھا کے اس سے کچھ بنانے کی کوشش کررہے ہوں-کوئی دور سے دیکھتا تو اسے شاید ایسا ہی لگتا-قدرت کے اس حسین اور سفید براق منظر میں —انکی اٹکھیلیوں اور قہقہوں نے رنگ بھردیے تھے-ایسے رنگ جو دکھائی نہیں دے رہے تھے صرف محسوس کیے جاسکتے تھے-

وہ سب سنو مین بنانے کا مقابلہ کررہے تھے اور عبداللہ ایک طرف کھڑا مسکراتے ہوۓ انہیں دیکھ رہا تھا-

آپ بھی کچھ بنالیں بھیا—جبرئیل نے سنو مین کا سر بناتے ہوۓ کہا-

میں کیا بناؤں–؟اس نے خود کلامی کی-

اور اسی وقت اس کی آنکھوں کے سامنے ایک چہرہ آکے ٹہر گیا تھا جیسے کہہ رہا ہو سوچنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہیں کیا بنانا ہے یہ بھی میں بتاؤں؟-

اس نے جلدی سے برف کے گولے بنانا شروع کیے اور اپنے کام میں جت گیا-

بھیا آپ بھی سنو مین بنارہے ہیں پر آپ تو ہار جائیں گے ہمارا تو بننے والا ہے-عفان نے تیز تیز ہاتھ چلاتے کہا-

میں سنو مین نہیں —سنو ڈول بنا رہا ہوں-اور تمہارے سنو مین کا اس سے کوئی مقابلہ نہیں-

اوووو—سب نے ایک ساتھ کہا-یہ ڈول ہے کون ویسے؟

حاتم نے کام کرتے کرتے پوچھا–

میں تمہارا بڑا بھائی ہوں ایسے مذاق نہیں کرتے-اس نے اسے گھورا-

اچھا سوری بھیا–حاتم نے برف کا گولہ اٹھا کے اس کی سنو ڈول کا نشانہ لے کر مارا-

پر وہ خوش قسمتی سے خطا ہوگیا اور اس کی ڈول وجود میں آنے سے پہلے ہی–مرنے سے بچ گئی-

تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں-حاتم کے بچے–

عبداللہ نے دانت کچکچاۓ اور اس کی کمر کا نشانہ لے کر برف کا گولہ مارا-نشانہ پکا تھا-

وہ ہاۓ ہاۓ کرتا پھر سے کام میں مصروف ہوگیا-باقی سب اس کی ٹھکاٸی پر قہقہے لگارہے تھے۔

دبیز کوٹ نے اسے بچالیا تھا پھر بھی اس نے ناٹک کرنا اپنا فرض سمجھا-

اب انہوں نے بھی اٹھا اٹھا کر اسے برف کے گولے مارنا شروع کردیے۔

وہ بھی برابر جواب دے رہا تھا۔ہر طرف برف اڑتی نظر آرہی تھی۔ایک دھما چوکڑی مچ گٸی تھی اور اسی نشانے بازی میں جبرٸیل کا ادھورا سنومین زمین بوس ہوگیا تھا۔

میری ساری محنت ضاٸع کردی۔وہ چلایا۔اور گولہ باری کرکے سب سے پہلے عماد کا سنو مین توڑا۔

اب سب قہقہے لگاتے ایک دوسرے کے سنومین توڑ رہے تھے۔اور سب لوگ اپنے والے کو بچارہے تھے۔

عبداللہ سکون سے ایک طرف اپنے کام میں لگا تھا وہ بڑی باریک بینی سے سنوڈول بنارہا تھا۔

ان کا شور کم ہوگیا تھا کیونکہ سب کے ادھورے سنو مین اپنے برے انجام کو پہنچ گۓ تھے۔

انہوں نے آنکھوں میں ایک دوجے کو اشارہ کیا اور سب نے ایک ساتھ ہی اسکی سنو ڈول پر گولہ باری کردی اور وہ بیچاری ڈھیر ہوکر اس کے قدموں میں گر پڑی۔

اوۓ گدھو۔۔یہ کیا کیا؟

میں چھوڑوں گا نہیں تمہیں۔وہ ان کو پکڑنے کے لیے بھاگا۔

پر وہ ہاتھ آنے والے کہاں تھے؟

وہ بھی اب ان پر گولہ باری کررہا تھا اور تاک تاک کر نشانے ماررہا تھا۔

عبداللہ۔۔۔وہ اس کے سامنے درخت کی اوٹ میں کھڑی تھی کچھ دیر پہلے پھینکا گیا گولہ اس سے ٹکراکر اسکے قدموں میں پڑی برف کا حصہ بن گیا تھا۔

پری۔۔۔وہ حیرت بھرے لہجے میں بولا۔

پہلے ڈول۔۔۔اب پری۔۔۔

ان سب نے شرارت بھرا قہقہ لگایا۔۔یہ کیا ماجرا ہے؟

اس کے پیروں تلے سےتو زمین ہی نکل گٸی۔

یہ راز اس کے بھاٸیوں کے سامنے یوں عیاں ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔

اس نے ایک نظر پری کو دیکھا جو سفید لباس میں ملبوس تھی اور دوسری نظر پلٹ کر ان چاروں کو جو اسے ہی تک رہے تھے۔

پری تم چھپ جاٶ پلیز۔۔۔اس نے اس سے التجا کی۔

وہ درخت کی آڑ لے کر چھپ گٸی۔

کس سے باتیں کررہے ہیں بھیا؟

وہ چاروں دندناتے ہوۓ اس کی جانب بڑھے۔

ہاۓ انہوں نے پری کو دیکھ لیا تو؟اس کی جان پر بن آٸی۔

وہ اسکی جانب بڑھتے چلے آرہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *