Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan (Episode 07)

Ins o jaan by Maimona Aman

شزا بیٹا اٹھ جاؤ شام ہوگئی ہے-شمع نے پیار سے اس کے بال سمیٹتے ہوۓ اس جگایا-

اب طبیعت کیسی ہے-؟سر درد ٹھیک ہے-؟

کافی دیر تو وہ خالی خالی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتی رہی-پھر آہستہ سے بولی–

پانی-

اس شدید سردی میں بھی اسے پیاس لگ رہی تھی-شمع نے اسے اپنے ہاتھ سے پانی پلایا-

سر درد ٹھیک ہے نا-؟اس نے اس کا بخار چیک کیا۔وہ اتر چکا تھا-

اس نے ہاں میں سر ہلایا-

شکر ہے-

وہ بظاہر تو ٹھیک لگ رہی تھی مگر گم صم سی تھی-

اچھا میں تمہارے لیے سوپ لاتی ہوں-

تھوڑی دیر بعد شمع اس کے لیے سوپ لے آئی اور چمچ سے اسے پلانے لگی-

وہ ایک صحت مند پھولے پھولے -سفید اور گلابی گالوں-اور شہد رنگ آنکھوں والی-اور کمر تک آتے سیاہ بالوں والی پیاری سی بچی تھی -جو دیکھنے والوں کو پہلی نظر میں ہی اپنی طرف متوجہ کرلیتی تھی اور اوپر سے اس کی شرارتیں اور اپنی عمر سے بڑی باتیں کرنا تو سونے پر سہاگہ کردیتا تھا-

اسکی دادی صفیہ تو اکثر ہی اس کی نظر اتارتی تھی-صفورا بھی اسی طرح کی خوبصورت بچی تھی پر اس کے بال براؤن رنگ کے تھے-دونوں میں شکل کے لحاظ سے کافی زیادہ مشابہت تھی-

پر عادتیں تھوڑی بہت مختلف تھیں-صفورا ابھی سات برس کی تھی اور اس کو ابھی سے دوپٹہ لینے کی عادت تھی وہ سر ڈھانپے رکھتی تھی جیسا کہ اس گھر کی ریت تھی-اور شزا تو انڈین ہیروئنز کی نقل کرنے کی کوشش میں اپنی زلفیں کھولے پھرتی تھی-کچھ اسے شمع کی طرف سے بھی آزادی ملی ہوئی تھی-

دادی تو بارہا کہتی تھی مگر بہو پر اثر ہی نہیں ہوتا تھا-

ہمارے زمانے میں عورتیں سر ڈھانپ کر رکھتی تھی-اور گھر میں برکت ہوتی تھی-عورت کی بے پردگی سے معاشرے میں بہت سی برائیوں کو شہہ ملتی ہے-اور جو لڑکیاں بال کھلے رکھتی ہیں ان پر جن بھوت عاشق ہوجاتے ہیں-بڑی بوڑھیاں کہتی تھیں کہ جب عورتوں کے سرکھلے ہوں گے تو گھر اور معاشرے سے برکت اٹھ جاۓ گی-اور بے حیائی -بے ادبی-عام ہوجاۓ گی-

کیونکہ ایک قوم کی تربیت کی ذمہ داری ماؤں پر ہوتی ہے-

اور وہ جواب میں کہتی–خالہ–یہ ساری پرانے زمانے کی باتیں اور توہمات ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں-

ارے تمہیں کون سمجھاۓ؟بندے کو ٹھوکر لگتی ہے نا تب ہی عقل آتی ہے ایسے تو ساری نصیحتیں فضول لگتی ہیں-

اور یہیں آکے بات ختم ہوجاتی-شمع پر تو فیشن اور ماڈرنزم کا بھوت سوار تھا ان دقیانوسی باتوں سے اسے کیا غرض ہونا تھی-

شزا اب بھی مکمل حواس میں نہیں لوٹی تھی اسے اپنے سر پر دباؤ سا محسوس ہورہا تھا-کچھ دیر تو وہ ٹھیک رہی تھی مگر رات کو پھر اس کے سر میں درد شروع ہوگیا تھا اور اتنا شدید تھا کہ اس نے رونے کے ساتھ ساتھ چیخیں مارنا شروع کردی تھیں-ایک چھہ سال کی بچی کے لیے سر درد برداشت کرنا نا ممکن سی بات تھی-اب ماسٹر ایوب کے گھر میں شزا کی چیخیں گونج رہی تھیں-شمع اس کا سر دبا کے اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی-اور سب گھر والے وہاں جمع تھے-پریشانی سب کے چہروں سے عیاں تھی-

مجھے حویلی جانا ہے اس نے رونے دھونے اور چیخوں کے درمیاں ضد کی-شمع کے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا وہ اس کی گود سے مچھلی کی طرح پھڑکتی ہوئی نکل رہی تھی۔

مجھے حویلی ۔۔جانا ہے۔۔۔۔مجھے وہاں کھیلنا ہے۔۔۔بھیا۔۔۔مجھے گھر نہیں جانا۔۔۔

وہ بے ربط سی باتیں کررہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب عبداللہ کی طرف بڑھتے چلے آرہے تھے-اس کا دم خشک ہونے لگا-وہ درخت کے سامنے کھڑا ہوگیا اور پری اس کے پیچھے تھی-ان کے گھر کے سامنے اونچی نیچی نا ہموار زمین والا ایک میدان تھا جس میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مختلف قسم کے پیڑ لگے ہوۓ تھے-اور آج کل تو سب کچھ برف سے اٹا پڑا تھا-

اس نے دل ہی دل میں اللہ کی مدد مانگی-

بھیا کس سے باتیں کررہے تھے-؟

کسی ۔۔۔۔سے بھی نہیں-وہ درخت کے اور قریب ہوگیا-

حاتم گھوم کر اس درخت کے پیچھے گیا-یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے بھائیو–

عبداللہ نے پلٹ کر دیکھا پری وہاں نہیں تھی-اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا-صرف دو منٹ میں وہ کہاں جاسکتی ہے-؟

باقی درخت تو یہاں سے کافی دور تھے-اس کی چھٹی حس نے اسے کسی انہونی کا احساس دلایا-

اچھا چلو بہت کھیل لیا اب گھر چلو اس سے پہلے کہ دادا جی ڈھونڈتے ہوۓ آجائیں-اس نے وہاں سے انکی توجہ ہٹانے کو بہانہ بنایا۔

اوکے بھیا۔چلتے ہیں۔۔ اب تو بھوک بھی بہت لگ رہی ہے-وہ سب سڑک عبور کرکے گھر کے اندر داخل ہوگۓ-

عبداللہ سب سے پیچھے تھا-اسے لگا پری اسے پکاررہی ہے-اس نے مڑ کر دیکھا وہ اسی پیڑ کے پاس کھڑی تھی-وہ سب اندر جاچکے تھے اس نے گیٹ بند کیا-اور بھاگتا ہوا اس تک پہنچا-

وہ سفید لباس میں اس سفید منظر میں کھڑی مسکرا رہی تھی-اور اسی منظر کا ایک حصہ لگ رہی تھی جیسے کسی شاہکار مصور نے بہت مہارت سے یہ منظر تخلیق کیا ہو جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں تھی-

تم ابھی تو یہاں نہیں تھی-اب—؟

اس نے بغور اسے دیکھا-

میں چھپ گئی تھی-ورنہ مجھے تمہارے بھائیوں کے ارادے تو بہت خطرناک لگ رہے تھے-وہ مذاقاً ہنسی-

پری تم کیا ہو–؟آج مجھے سچ سچ بتادو-دیکھو مجھے اندھیرے میں مت رکھو-وہ ذہنی انتشار کا شکار لگتا تھا-

لڑکی ہوں اورکیا ہوں-

نہیں تم عام لڑکیوں جیسی لڑکی نہیں ہو تم میں کچھ غیر معمولی اور غیر فطری ہے-وہ اس کا ہاتھ تھامتے تھامتے رک گیا-

معمولی تو میں بالکل نہیں ہوں بہت خاص ہوں-وہ ہنسی۔

دیکھو تم مذاق میں مت ٹالو-مجھے بتاؤ پری خدا کے لیے-ورنہ میں خود سے سوچ سوچ کے پاگل ہوجاؤں گا-تم ایک دو منٹ میں یہاں سے کیسے چھپ سکتی ہو؟ اور اس میدان میں تو کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں اتنی جلدی غائب ہوا جاسکے-اور تم اتنا۔۔۔ سفر کرکے اکیلی آجاتی ہو۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے-؟

وہ چپ چاپ اسے تک رہی تھی-

مجھے دیر ہورہی ہے میں جارہی ہوں-

تم ایسے نہیں جاسکتی-

کل ملتے ہیں-اور شاید تمہیں تمہارے سارے سوالوں کے جواب بھی مل جائیں- وہ سنجیدگی سے کہتے ہوۓ تیز رفتاری سے چلتی ہوئی جارہی تھی اور وہ وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا-

وہ اس کے نگاہوں سے اوجھل ہونے کے بعد چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا گھر کی جانب چل دیا-

وہ سب تو اس سے پہلے ہی اندر چلے گۓ تھے اور دادا جی نے انہیں آتے دیکھ بھی لیا تھا-انہوں نے بتادیا تھا کہ وہ باہر کھیلنے گۓ تھے ان کا موڈ اچھا تھا اس لیے انہوں نے ان سب کو ڈانٹا نہیں تھا-

وہ جاتے ہی اپنے کمرے میں گھس گیا تھا-کمبل اوڑھے وہ اسی کے بارے میں سوچے جارہا تھا-

کہیں وہ سچ مچ کی پری تو نہیں؟ مجھے انسانوں کے قبیل سے نہیں لگتی-اس کے دل میں بے شمار خیالات آکے براجمان ہوگۓ تھے-

پر یہ کیسے ہوسکتا ہے؟۔۔ ایسا تو کہانیوں اور فلموں میں ہوتا ہے اصل میں کیسے ایک انسان پر پری آسکتی ہے-؟لڑکیوں پر جن تو آتے سنے ہیں-

یا اللہ یہ سب کیا ہے-؟اس نے سر تھام لیا-

وہ بہت دیر تک جانے کیا کیا سوچتا رہا اور انہی سوچوں کے زیر اثر وہ نیند کی وادی میں ڈوبتا چلا گیا-

———————————

شزا کے منہ سے حویلی کا نام سن کر دادا جی چونک گۓ-

عبداللہ کی آنکھ کسی شور سے کھلی تھی-وہ کچھ دیر سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ کہاں ہے اور یہ شور کیسا ہے-

پھر اسے شزا کے دھواں دھار رونے کی آوازیں سنائی دیں- رات کے سات بج رہے تھے سردیوں کی رات تھی اور ابھی سے سناٹا سا چھایا ہوا تھا-وہ بستر سے نکل کر وہاں پہنچا-

دادا جی شزا کے سر پر ہاتھ رکھے دم کررہے تھے-اس کی چیخیں اور رونا دھونا کم ہوتا جارہا تھا-

کیا ہوا ہے شزا کو؟

اس نے وہاں آکے پوچھا-

دادا جی نے ایک مشکوک نظر اس پر ڈالی اور دم کرتے رہے-اب وہ پر سکون ہوتی جارہی تھی-سب گھر والے وہاں جمع تھے-اور چپ چاپ کھڑے تھے-

ان کے دم کرنے سے وہ آہستہ آہستہ پر سکون ہوکر سوگئی تھی-

سب نے شکر ادا کیا-شمع تم اس کے پاس ہی رہنا اور اس کو اکیلے کہیں نہ جانے دینا-وہ اپنی بہو کو ہدایات دینے لگے-

جی اچھا—

عبداللہ میرے ساتھ آؤ-انہوں نے ایک نگاہ غلط اس پر ڈالی-

وہ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا-

تم شزا کو حویلی لے کر گۓ تھے-؟

ان میں یہ ایک اچھی عادت تھی کہ وہ کسی بچے کی بے عزتی دوسرے کے سامنے نہیں کرتے تھے بلکہ اکیلے میں بلاکر ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے-اس طرح بچوں کی عزت نفس مجروح نہیں ہوتی تھی اورر انہیں اپنی غلطی اور قصور بھی سمجھ آجاتا تھا-

دادا جی میں نہیں لے کر گیا وہ خود گئی تھی-وہ سب کچھ انہیں سچ سچ بتانے لگا-

دادا جی اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں میں نے تو پوری کوشش کی تھی کہ اس کے وہاں داخل ہونے سے پہلے ہی پہنچ جاؤں مگر ایسا نہیں ہوسکا-اس نے افسوس سے سر جھکا لیا-

تمہیں مجھے بتانا تو چاہیے تھا-وہ اتنے عرصے سے ویران پڑی حویلی ہے-اور وہاں جانے کیسی کیسی بلاؤں آفتوں کا بسیرا ہے؟

بچی پر اثر ہوگیا ہے-اس خطر ناک جگہ سے اس پر کسی بھوت پریت کا سایہ ہوگیا ہے-وہ تو بچی ہے اور شیطان تو انسان کا ازلی دشمن ہے-

دادا جی کیا یہ سب اصل میں بھی ہوتا ہے؟ کہانیوں میں تو سنا تھا-؟

ہاں بیٹا جی–یہ مخلوق ہماری دنیا میں ہی ہمارے ساتھ ہی موجود ہے ہر جگہ گھر ہو یا باہر-اور کچھ جنات نیک ہوتے ہیں اور کچھ برے-کافر اور مسلمان بھی ہوتے ہیں جیسے ہم انسان ہیں ویسے ہی یہ ہر طرح کے ہوتے ہیں-اور جو بد اور شریر جن ہوتے ہیں انکا کام ہر وقت انسان کو تکلیف دینا بہکانا اور پریشانیوں میں مبتلا رکھنا ہے-یہ انسانوں سے بہت حسد کرتے ہیں-اور نیک جنات ایسا نہیں کرتے مگر ان کی نہ تو دوستی اچھی ہے نہ دشمنی-

ان کی بھی ہماری طرح زندگی ہے کھانا پینا روزی کمانا وغیرہ-اور یہ انسان کا روپ دھار کر کاروبار اور کام کاج بھی کرتے ہیں۔

لیکن ان کا کھانا ہمارے کھانے سے مختلف ہے-جنات کی بہت سی قسمیں ہیں-اور اسی حساب سے ان کی غذائیں ہیں۔۔

کچھ صرف خوشبو سے ۔۔۔دھوئیں سے پیٹ بھرتے ہیں-اور کچھ انسانوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے ہیں -اور تمہیں ایک بہت راز کی بات بتاؤں –

وہ علم کا سمندر تھے۔کسی ایک موضوع پر گھنٹوں سیر حاصل گفتگو کرسکتے تھے۔اور ان کے پاس جتنی بھی مفید معلومات ہوتی انکی کوشش ہوتی کہ ۔۔ مخاطب بیزار ہوۓ بغیر ان سے مستفید ہو۔

انسان کی بہت سی پریشانیوں اور بیماریوں کی وجہ اس کی خوراک ہے-

وہ کیسے-؟

آج کل فیشن ہے باہر کھانا-حالانکہ یہ نوجوان نسل ٹی وی پروگرامز میں دیکھتی ہے کہ ہوٹلز پر جو کھانا بنتا ہے اس میں صفائی اور صحت کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا-آۓ دن چھاپے پڑ رہے ہوتے ہیں اور ملاوٹ زدہ یا ناقص اشیاۓ خوردونوش برآمد ہوتی ہیں۔

اور وہ لوگ صرف اپنے پیسے بنانے کی نیت سے کھانا پکاتے ہیں-

بیٹا نیتوں کا بہت عمل دخل ہوتا ہے-یہ تو حدیث مبارکہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے-

اور کسی دانا کا قول ہے کہ قوموں کا فیصلہ دستر خوان پر ہوتا ہے۔جس قسم کی انسان غذا کھاتا ہے ویسا ہی اس کا مزاج ہوتا ہے۔

جتنی محبت اور خیال سے تمہاری ماں تمہارے لیے کھانا بناتی ہوگی-صفائی اور پسند اور صحت کا خیال رکھتے ہوۓ- اتنا پیشہ ور شیف تو نہیں بنا سکتے-اور دوسری بات باہر کے کھانوں میں صرف وقتی ذائقہ اور زبان کا چٹخارہ ہوتا ہے ۔۔ان میں غذائیت نہیں ہوتی اور اسے کھانے سے کوئی طاقت نہیں ملتی-اور جتنے زیادہ مسالے دار اور مرغن غذائیں کولڈ ڈرنکس انسان استعمال کرتا ہے اتنا زیادہ اس کا مزاج بگڑتا جاتا ہے-آج کل کے بچوں سے اسی لیے تو ادب شرافت اور حیا ختم ہوتی جارہی ہے۔بچے وقت اور عمر سے پہلے ہی جسمانی اور ذہنی طور پر بڑے ہوجاتے ہیں۔

ہم نے اپنے بچوں کے ہاتھوں میں پاپڑ ٹافیاں نمکو اور اسی طرح کی اوٹ پٹانگ چیزیں پکڑادی ہیں۔کبھی والدین ان اشیا کے نقصانات کے بارے میں نہیں سوچتے

کبھی ترقی یافتہ اقوام جو ساٸنسدان اور بڑے بڑے سکالرز کو جنم دیتی ہے انکی غذاٶں پر ریسرچ کرو وہ کیا کھاتے ہیں اور اپنے بچوں کو کیا کھلاتے ہیں۔

۔قدرتی اور صحت مند غذاٶں سے ہم بہت دور ہوگۓ ہیں۔اور پھر کہتے ہیں بچے پڑھتےنہیں۔۔کند ذہن ہیں۔۔۔بدتمیزی کرتے ہیں۔۔۔کہا نہیں مانتے۔۔۔ہر وقت شرارتیں کرتے ہیں۔اور پھر ہم انہیں سدھارنے کے لیے مار پیٹ کا سہارا لیتے ہیں مگر اصل وجہ نہیں ڈھونڈتے۔۔

ہم خود طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔جو کمایا ڈاکٹرز کی جیب بھردی۔لیکن اپنی روٹین نہ بدلی ۔۔ہک ہا۔۔۔پتہ نہیں کب ہم سب کو عقل آۓ گی۔

کسی فلاسفر کا قول ہے کہ

اگر صحت مند زندگی چاہتے ہو تو اپنی غذا کو ہی اپنی دوا بنالو۔

اب تم فرق خود ہی دیکھ لو اپنے بھاٸیوں اور اپنے چچا ابراہیم کے بچوں کے مزاج میں کتنا فرق ہے۔میں نے کبھی تم لوگوں کو ایسی چیزوں کا عادی نہیں بنایا۔اور اب لوگ تمہاری فرمانبرداری اور شرافت کی مثالیں دیتےہیں۔

عبداللہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوگیا۔

ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا۔؟

آپ جنات کی بات کررہے تھے۔

ہاں۔۔۔

ور کچھ بد جنات گند اور بدبو سے غذا حاصل کرتے ہیں اور بیت الخلا جیسی غلیظ جگہیں ان کا مسکن ہوتی ہیں-

عبداللہ حیرت سے یہ سب باتیں سن رہا تھا-

ہم نماز قرآن کا اہتمام کرکے اور مسنون دعائیں پڑھ کر ان کی شرارتوں سے بچ سکتے ہیں-

یہ آپس میں بہت حسد کرتے ہیں-ایک دوسرے پر جادو کرتے ہیں اور بہت زیادہ لڑائی جھگڑا کرتے ہیں انسانوں سے بھی زیادہ-کیونکہ یہ آگ اور دھوئیں سے بنے ہیں-اور آگ کا کام جلانا ہے-

اور یہ بھی ہم انسانوں سے ایسے ہی ڈرتے ہیں جیسے ہم ان سے ڈرتے ہیں-اگر انسان ان سے ڈر جاۓ تو یہ اس پر غالب آجاتے ہیں-اگر نہ ڈرے تو یہ خود ہی ڈر کے بھاگ جاتے ہیں-

دادا جی آپ کو یہ سب معلومات کہاں سے ملی ہیں-؟

بیٹا بہت سی تو ہماری مقدس کتاب سے۔۔ اور باقی

ایک بہت ہی مستند ذریعے سے جس میں کوئی شک نہیں ہے-

عبداللہ حیرت زدہ سا انہیں دیکھ رہا تھا۔

-بات کہاں سے کہاں نکل گئی-دم کرنے سے وہ ٹھیک تو ہوگئی ہے مگر وہ شریر جن اسے بار بار تنگ کرے گا-کچھ کرنا پڑے گا-اور جب تک بچے یہاں ہیں تمہیں انکا خیال رکھنا ہے کہ کوئی دوبارہ اس طرف نہ جاۓ-

ٹھیک ہے دادا جی –اس نے تابعداری سے سر ہلایا-

اس کا مطلب ہے کہ پری بھی—-

دادا جی کی باتوں سے یہی اندازہ ہوتا تھا-کل تو اس سے پوچھ کے رہوں گا-وہ ٹھان کر سوگیا-اگلی صبح کا اسے بے چینی سے انتظار تھا-

ات کی سیاہی صبح کے اجالے نے چھین لی تھی۔

اگلا دن اپنی پوری شان و شوکت سے طلوع ہوا تھا۔کہیں سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھے پر دنیا کے اس خطے سے وہ فی الحال ناراض سا لگتا تھا۔کہیں اس وقت چاند آسمان پر نمودار ہوا تھا۔اور زمین پر بہتے پانیوں میں اس کا عکس ہولے ہولے سے تیر رہا تھا۔اور کہیں عین دوپہر کا وقت تھا۔

یہ بھی قدرت کا نظام ہے جو اختلاف پر قاٸم ہے اور یہی کاٸنات کا حسن ہے۔انسانوں کے مزاج اور عادات کا اختلاف بھی قدرت کا ہی فیصلہ ہے ورنہ یکسانیت تو بیزاری کے سوا کچھ نہیں۔ایک ہی ڈھب سے تو صرف جانور ہی بسر کرسکتے ہیں۔

شزا آج پہلے سے کافی بہتر تھی اور دن بھر کھیل کود میں بھی مصروف رہی تھی۔

عبداللہ چار بجے سے پہلے ہی سیب کے باغ میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔اسے آج پری کا شدت سے انتظار تھا۔

وہ مقررہ وقت پر باغ کے اندر داخل ہوٸی۔وہ کافی سنجیدہ اور افسردہ سی لگ رہی تھی۔براٶن کلر کا لباس اسکی افسردہ حالی میں مزید اضافہ کررہا تھا۔

وہ اسکے قریب پتھر پر بیٹھ گٸی۔

پری۔۔۔۔

ہونہہ۔۔۔۔

کیا سوچ رہی ہو؟

کچھ نہیں۔

تم پوچھو کیا پوچھنا ہے۔تمہیں ہر سوال کا جواب ملے گا۔اس کے بعد تمہاری مرضی ہے کہ تم مجھے چھوڑدو یا اپنالو۔

پہلے برداشت کی ہمت بھی پیدا کرلو۔

عبداللہ کا دل حلق میں آکے دھڑکا تھا۔

تمہارا اصل نام کیا ہے؟

زینب شاہسوار۔

کہاں رہتی ہو؟

اسی پہاڑی کے پیچھے۔ویسے تو کہیں بھی رہ سکتی ہوں۔

اگلا سوال پوچھنے کے لیے اس نے ہمت جمع کی۔۔۔

تم انسانوں کے قبیل سے نہیں ہو نا؟

نہیں۔۔۔میں جنات کے قبیلے سے ہوں۔میں انسان نہیں ہوں۔

عبداللہ کا شک درست نکلا۔اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔

اور کچھ۔۔؟

وہ کہہ رہی تھی۔۔پر اس کے کان ساٸیں ساٸیں کررہے تھے۔

وہ ایک جننی سے عشق کر بیٹھا تھا۔

کہا تھا نا ۔۔۔برداشت نہیں کر پاٶ گے۔۔

وہ دماغی مریضوں کی طرح اسے دیکھ رہا تھا۔ایک دم اس پر خوف کی کیفیت طاری ہوگٸی ۔اسکے سامنے ایک جننی کھڑی تھی۔

وہ وہیں کھڑے کھڑے اس کی نظروں کے سامنے غاٸب ہوگٸی تھی۔اور وہ چکرا کر بیہوش ہوگیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *