Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 04)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 04)
Ins o jaan by Maimona Aman
پری –سردی بہت زیادہ ہوگئی ہے-ہمیں کالج سے چھٹیاں ہورہی ہیں اور۔۔
اب میں–وہ جھجکا-
وہ اپنی نیلگوں آنکھوں سے بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی-
اب میں روز نہیں آ پاؤں گا-دادا جی کہیں جانے نہیں دیں گے-شدید سردی میں ہم لوگ گھر میں ہی رہتے ہیں-
ٹھیک ہے-مرضی ہے تمہاری-وہ ناراض لہجے میں بولی-وہ پہاڑی کی ڈھلان پر بیٹھے تھے-سامنے سڑک بالکل خاموش تھی-اور پہاڑوں پر برف جمنا شروع ہوگئی تھی-
دیکھو میری مجبوری ہے-تم فون بھی تو نہیں لیتی میں کیا کروں-؟
میری تو تم کوئی بات نہیں مانتی-بس اپنی منواتی ہو-
تم روز نہیں آسکتے میں تو آسکتی ہوں-وہ مسکراتی آنکھیں اس پر جماتے ہوۓ بولی۔
کیا مطلب-؟اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا-
مطلب یہ کہ میں تمہارے گاؤں آیا کروں گی-روز تم سے ملنے-
تم پاگل ہوگئی ہو-؟
وہ اپنی جگہ سے اچھلا-
وہ تو میں ہوں-وہ مسکرائی-
تم کیسے آؤ گی اتنی دور اور اتنی برف باری میں-؟اور تمہارے گھر والے-انہیں پتہ چل گیا۔۔۔ تو-؟میرے گھر والوں نے ہمیں دیکھ لیا۔۔۔ تو؟
کچھ بھی نہیں ہوگا-نہ تمہارے گھر والے دیکھیں گے نہ میرے گھر والے کچھ کہیں گے تم انکی فکر مت کرو-
تم وہاں نہیں آؤ گی-میں نے کہہ دیا بس-
تم مجھے نہیں روک سکتے-ہمت ہے تو روک کر دکھاؤ-وہ ضدی لہجے میں بولی-
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے پری-کیا دیوانوں والی باتیں کررہی ہو-
تم نے ہی دیوانہ کیا ہے-اب بھگتو-وہ مزے سے کہہ رہی تھی-
عبد اللہ اپنا سر پیٹ کر رہ گیا-
آس پاس ہلکی ہلکی برف گرنا شروع ہوگئی تھی-مری کا آسمان اپنے تیور بدل رہا تھا-اور ان دونوں کو اس سنسان وادی میں بیٹھا دیکھ کر حیران تھا-
کل شام چار بجے میں آؤں گی-تم اپنے گھر کے پیچھے والے پہاڑ پر آجانا-وہ کہہ کر جانے لگی-
تم ایسا کچھ نہیں کروگی رکو–پری–میری بات سنو-
عبداللہ نے اسکا لہراتا دوپٹہ تھامنا چاہا پر وہ اسکے ہاتھ سے پھسلتا ہوا نکل گیا-
اور وہ خود بھی بجلی کی رفتار سے چلتی ہوئی پہاڑی کے دوسری طرف اترنے لگی اور اسکی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی-
کیا چیز ہے یہ لڑکی-وہ سوچ کر رہ گیا-
————————————————–
تجھے شرم نہیں آئی ایسی حرکت کرتے ہوۓ-نہ تیرا باپ ایسا ہے نہ دادا نہ بھائی-
ہیں بول-ابھی عمر ہی کیا ہے تیری-تیرہ برس کا ہوا ہے-کہاں سے سیکھی ہیں یہ باتیں-؟
زینت نے اپنے بیٹے حاتم کو جھنجھوڑا جو سر جھکاۓ مار کھارہا تھا-
امی جان کیا ہوا ہے-؟عبداللہ ابھی واپس آیا تھا اس نے بھائی کو مار کھاتے دیکھ کر کہا-
اس بے شرم سے پوچھ-کیا ہوا ہے-
وہ اب بھی خاموش تھا اور زینت تھک ہار کر بیٹھ گئی تھی-
ہاۓ میری قسمت–پتہ نہیں یہ کیوں ایسا نکل آیا-کس کا منحوس سایہ پڑ گیا اس پر-وہ شکوے کرنے لگی-
اوۓ بول نہ کیا کیا ہے تو نے-؟
عبد اللہ نے اسے بازو سے پکڑا اور اسکی ٹھوڑی اٹھا کر اسکا چہرہ اونچا کیا-
کچھ نہیں -اس نے نگاہیں چرائیں اور بازو چھڑاتا باہر کو بھاگا-
بے غیرت ایک تو بدمعاشی کرتا ہے پھر جھوٹ بھی بولتا ہے-آنے دے تیرے دادا اور باپ کو-چمڑی اترواتی ہوں تیری-زینت نے کھینچ کے اسے جوتا دے مارا جو ٹھیک نشانے پر لگا تھا-
وہ دروازے سے اندر آتے اپنے دادا ماسٹر ایوب سے ٹکرا گیا-
رک جا لڑکے-وہ ان سے لپٹ گیا-
کیا ہوا ہے بہو کیوں چلا رہی ہو اتنا-؟دیکھو مار مار کے بے چارے کا منہ لال کردیا-پتہ نہیں تم عورتیں کیوں بچوں کو مارتی ہو-وہ افسوس زدہ لہجے میں بولے-
ابا جی-آپ کو اپنے لاڈلے کے کرتوت پتہ چلیں گے نا تو آپ بھی اسکے ساتھ یہی سلوک کریں گے-
ایسا کیا کردیا اس نے-وہ اب تک ان سے چپکا کھڑا تھا جسے محفوظ ٹھکانہ مل گیا ہو-
وہ اس کے ساتھ بچی پڑھتی ہے نا سکول میں اسکو خط لکھتا ہے یہ۔لو لیٹر۔
-آج اسکی ماں نے اس کے بیگ سے برآمد کیے ہیں خط-اور مجھے اتنی باتیں سنا کر گئی ہے کہ میرا دل چاہ رہا تھا ڈوب مروں-وہ غصے سے اونچا اونچا بول رہی تھی۔
ارے میرا پوتا ایسا نہیں ہے ضرور اس خاتون کو غلط فہمی ہوئی ہے-
عبداللہ مجرم سا بنا ایک طرف کھڑا تھا-اگر جو کبھی اسکا بھانڈا پھوٹ گیا تو بڑا بیٹا ہونے کے ناطے اسکے ماں باپ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے-کتنی امیدیں اس سے وابستہ تھیں-اسکی شرافت کی مثالیں دی جاتی تھی۔اور اگر سب کو پتہ چل جاتا کہ وہ پری سے چھپ چھپ کے ملتا ہے تو اسکی ساری عزت خاک میں مل جاتی۔
ہاں جی میں بھی یہی سمجھتی تھی-اب آنکھ کھل گئی ہے میری-لکھائی ملا کے دیکھ لیں کوئی فرق نہیں-
دادا جی نے حاتم کا چہرہ بغور دیکھا-اس نے چور نگاہیں جھکالیں-
اچھا چلو میں پوچھتا ہوں اس سے-بہو تم غصہ ختم کرو-
وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آۓ-
بیٹھو ادھر۔
انہوں نے اسے صوفے پر بٹھایا اور خود سامنے بیٹھ گۓ-
یہ لو پانی پیو-
وہ ایک سانس میں ہی سارا پانی پی گیا-
وہ اسے بغور دیکھ رہے تھے-اسکے سرخ وسفید چہرے پر شرمندگی اور الجھن کے ملے جلے تاثرات تھے-
تیرہ برس کی عمر میں ہی وہ بہت بڑا دکھائی دیتا تھا-قد بھی خوب نکالا تھا-اور باقی بھائیوں کی طرح وہ بھی صحت مند اور خوش شکل تھا-گھنے سیاہ بال ماتھے پر بکھرے تھے-
کیا ہوا تھا اصل معاملہ کیا ہے-؟
وہ تھوڑا پر سکون ہوا تو انہوں نے بات کا آغاز کیا-
وہ مجھے اچھی لگتی ہے-
اس نے سر جھکاۓ ہی فوراً اعتراف کیا-
اور تم اسے کیسے لگتے ہو-؟
اچھا لگتا ہوں-
وہ خط تم نے لکھے تھے-؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا-
اس نے بھی تمہیں جواب دیا-؟
جی—
وہ سر جھکاۓ جوتے سے قالین کو مسل رہا تھا-
ماسٹر ایوب کو اپنا تیرہ برس کا یہ پوتا ایک دم سے بڑا لگا تھا-وہ اپنے تایا اسماعیل سے بہت مشابہت رکھتا تھا-
محبت ہوگئی ہے-؟
اس نے ہاں میں سر ہلایا-
ابھی عمر کم نہیں ہے-؟
شادی بھی نہیں ہوسکتی-بچے ہو ابھی تو-اب کیا کریں-؟دادا جی کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا-وہ ہنوز سر جھکاۓ بیٹھا تھا-
عبداللہ اندر آکے چپ چاپ دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا-
ادھر دیکھو میری طرف-
حاتم نے سر اٹھا کر اپنے دادا کو دیکھا-
انکی بھوری آنکھوں میں کچھ کھو دینے کی کسک تھی-اور اسکی اپنی شہد رنگ آنکھیں ملتجی سی لگتی تھی-
وہ ویسے ہی انکو دیکھتا رہا-
جانتے ہو محبت ہوتی کیا ہے-؟جس سے محبت ہو اس کی خاطر کیا کچھ کرنا پڑتا ہے-؟
انہوں نے ایک سرد آہ بھری-باہر برف گرنے کا شور تھا-کھڑکیوں سے برف کے ننھے منے اولے ٹکراکر ڈھیر ہوتے اور راستے بند کرتے جارہے تھے۔
کاش تم آج سے ستر برس پہلے پیدا ہوتے-پھر تم محبت کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے-انکی آنکھوں میں شکستگی تھی-
میں نے محبت کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔وہ آج بھی زندہ ہے۔محبت کرنے والے مرجاٸیں پر محبت نہیں مرتی۔یہ وصال کا نام نہیں ہے۔قربانی مانگتی ہے۔
جب پاکستان بنا تھا تو میں آٹھ برس کا تھا-بلوائیوں نے ہمارے گاؤں پر حملہ کیا-میرے دادا کے دوست کا گھر تھا-مرد سارے باہر تھے یا شاید وہ بھی مار دیے گۓ تھے-گھر میں صرف بوڑھا دادا تھا اور درجن بھر خواتین-بیٹیاں بہووئیں-پوتیاں اور بھتیجیاں-
دادا رونے لگا- میں تمہیں کہاں چھپاؤں میرا تو آخری لمحہ آگیا ہے-میری تو بڑھاپے کی جان ہے چلی جاۓ کوئی فرق نہیں پڑتا-
بیٹیوں نے کہا ابا جی آپ فکر نہ کریں ہمیں آپ کی نصیحت یاد ہے-
اور پھر حملہ آوروں نے دیکھا کہ درجن بھر خواتین نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور ایک ایک کرکے صحن میں بنے کنویں میں چھلانگ لگادی-وہ غصے سے پاگل ہوگۓ-اس گھر سے مسلمانوں کی ایک عورت بھی انکے ہاتھ نہیں چڑھی تھی-
میں بچہ تھا انکے گھر کھیلنے جاتا تھا-میں اندر چھپا یہ منظر دیکھ رہا تھا-انہوں نے بوڑھے دادا کو کن اذیتوں سے گزار کر مارا–میں بیان نہیں کرسکتا-
انکی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں-جیسے وہ اب بھی اسی منظر کا حصہ ہوں-
-وہ ایک پل میں پورا گھر اجاڑ کے جا چکے تھے-انکے جانے کے بعد میں روتا بلکتا گھر کو بھاگا-
گھر والے بھرا پرا گھر چھوڑکے جارہے تھے-میری ماں مجھے ڈھونڈ رہی تھی-مجھ سے چھوٹے تین بہن بھائی تھے-بس ہم نے انہیں اٹھایا -میں نے ایک آخری نظر اس بھرے بسے گھر پر ڈالی جہاں میں نے اپنی زندگی کے آٹھ برس اور میرے آباؤ اجداد نے ساری عمر گزاری تھی-
اور ہم وہاں سے بچتے بچاتے نکلے-میری دادی نے سب کو کہا کہ آیت کریمہ پڑھو دشمن سے بچ جاؤ گے-اس آیت کے وردنے حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی دلائی تھی-
میں سارے رستے اپنے بڑوں کو دادا رحیم کے گھر اجڑنے کی داستان سناتا رہا-اور میرے ساتھ ساتھ وہ بھی بلک بلک کے روتے رہے-
راستے میں ہم نے کتنے لاشے دیکھے-بچے بوڑھے عورتیں مرد گاجر مولیوں کی طرح کٹے پڑے تھے-انہیں بھی ایک ترتیب سے کاٹا جاتا ہے-یہ نہیں کہ جہاں دل میں آۓ چھری پھیر دی-
وہ سانس لینے کو رکے آواز بھرا گٸی تھی۔
اتنا خون دیکھ کر میں گم صم ہوگیا تھا-بس مجھے جو بات یاد رہی تھی وہ یہ تھی کہ ہم اپنے وطن جارہے ہیں ہم نے اسکی خاطر اور اپنے دین کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑا ہے-ہمیں اپنے وطن اور اپنے دین سے اتنی محبت تھی کہ ہم نے اپنی ہر شے اس پر قربان کردی-کچھ بھی نہیں اٹھایا-اور وہ جو کٹے پھٹے پڑے تھے وہ مرتبے میں ہم سے بھی آگے نکل گۓ تھے-
اتنی محبت بھی کوئی کرتا ہے؟ کہ سر نہ جھکاۓ غلامی قبول نہ کرے اور تڑپ تڑپ کے جان دے دے-اپنی اولاد کو نظروں کے سامنے بلکتا سسکتا اور مرتا ہوا دیکھ لے-جس دیس میں وہ پہنچ پاۓ نہ اس میں رہنے کے لیے زندہ رہے-اس سے اتنی محبت-اس محبت میں کون سا وصل تھا؟
جس کی خاطر لٹے تھے۔۔ کٹے تھے۔اس کی مٹی پر تو قدم بھی نہ رکھ پاۓ۔نہ اس کی کوکھ میں دفن ہوسکے۔اگر محبت پانے کا ہی نام ہے تو یہ کیا تھی؟
ایسی محبت کون کرتا ہے-؟کمرے میں انکی سسکیاں گونج رہی تھیں-
یہ ہوتی ہے محبت-
یا ان فوجیوں کی محبت کے جیسی جو جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں-تم نے اپنا تایا کو دیکھا ہوتا تو پھر تمہیں پتہ ہوتا محبت کیا ہوتی ہے-
میرا سب سے پہلا بیٹا تھا اسماعیل-اور پہلی اولاد کتنی عزیز ہوتی ہے تم جب باپ بنو گے تو پتہ چلے گا-
اٹھارہ برس کا تھا جب میں نے اسے فوج میں بھرتی کروایا تھا-کہتا تھا ابا آپ شہید کے باپ کہلائیں گے-
وہ نم آنکھوں سے مسکرا رہے تھے-
محاذ پر گیا تھا-برف پوش پہاڑوں پر اسکی ڈیوٹی تھی-دشمن نے حملہ کیا اس نے ڈٹ کر مقابلہ کیا-اور انکو مار بھگایا۔بڑا جی دار تھا-
جنگ بندی کے بعد سب شہیدوں کے اجسام مل گۓ تھے وہ نہ زندوں میں ملا تھا اور نہ ہی شہیدوں میں-
ایک سال ہم انتظار کرتے رہے-اسکی ماں کے تو آنسو خشک نہیں ہوتے تھے-
آخر ایک دن فوج والوں نے رابطہ کرکے کہا کہ آپ کا بیٹا مل گیا ہے-ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں-
وہاں جاکے علم ہوا-وہ بندہ خود مجھ سے ملنے کا منتظر تھا جسے اسکی لاش ملی تھی-
وہ شہادت کے بعد پہاڑی سے نیچے کھائی میں گر گیا تھا-وہ مقامی بندہ وہاں کسی کام سے آنکلا تھا اور اس نے فوج کو اطلاع دی-
اس نے مجھے بتایا کہ اسکی وردی بالکل صاف ستھری تھی-خون کے دھبوں کے سوا کوئی گندگی یا میل کچیل نہ تھی-ہزاروں فٹ کی اونچائی سے گرنے پر بھی کوئی چوٹ نہیں لگی تھی-نہ کسی جنگلی درندے نے کوئی گزند پہنچایا تھا-
اسکے جسم میں بارہ گولیاں پیوست تھیں-اک سال گزرگیا تھا اور زخموں سے اب بھی خون رس رہا تھا-اسکی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی-بہت ڈھونڈی مگر وہ ٹانگ نہیں ملی-وہ بندہ مجھے رشک سے ملا-کہنے لگا آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ اس شہید کے باپ ہیں
-میں نے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھا وہ تروتازہ تھا-نہ تکلیف کا کوئی اثر تھا نہ کوئی ملال-داڑھی بڑھی ہوئی تھی-کیونکہ وہ شہید تھا اور شہید زندہ ہوتے ہیں-اس وقت وہ بائیس برس کا نوجوان تھا-اسکی منگ میری بھتیجی ہر دم روتی تھی بچپن میں ہی میں نے دونوں کا رشتہ طے کردیا تھا-
مجھے آج بھی اپنے شہید بیٹے پر فخر ہے-میں نے اپنے دوسرے بیٹے اسحٰق کو بھی فوج میں بھیج دیا-اور تیرے بڑے بھائی عبدالرحمٰن کو بھی-
اسماعیل کی منگ کی شادی اسحٰق سے کردی-
اور میں نے اللہ کو اپنا ایک بیٹا دیا اور اس نے مجھے پندرہ بیٹے دئیے-
تین میرےسگے بیٹے اور پانچ پوتے تمہارے باپ سے-چار پوتے تمہارے تایا میجر اسحٰق سے-اور تین پوتے تمہارے چچا ابراہیم سے-بیٹیاں صرف تین اور پوتیاں صرف دو ہی دی ہیں-یہ مجھے اس سے شکوہ ہے اس نے مجھے رحمتیں کم دی ہیں-
یہ ہوتی ہے محبت-میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے
-تم کیا جانو کل کے بچے محبت کسے کہتے ہیں-؟انہوں نے آنکھیں مسلیں-
ایسی محبت کرتے ہو کیا تم اس سے-؟چھوڑ سکتے ہو سب کچھ-؟گھر بار لٹا سکتے ہو-؟اپنے جسم کے ٹکڑے کرواسکتے ہو-؟
حاتم نے بے اختیار نفی میں سر ہلایا-عبداللہ اندر ہی اندر شرمندہ ہورہا تھا-
تو جا میرے بچے پھر کھا پی اور پڑھائی کر-
جب تو محبت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے نا پھر مجھے بتانا محبت کیسی ہوتی ہے-؟
پھر میں تیری شادی اس بچی سے کروادوں گا-تب تک اسے بھول جا-
وہ کسی کی بیٹی ہے اپنی شیطانیت اور گمراہی میں اسے بیوقوف نہ بنا -اور نہ ہی اسے بدنام کر-بچیاں تو ویسے ہی کمزور دل کی ہوتی ہیں-بڑی جلدی جھوٹی باتوں اور تعریفوں پر اعتبار کرلیتی ہیں-محبت نام کی تتلی ہمیشہ انہیں اپنے پیچھے بھگاتے بھگاتے تھکادیتی ہے۔اور حاصل کچھ نہیں ہوتا۔
لڑکیاں کانچ سے زیادہ نازک ہوتی ہیں-اگر اس کانچ میں دراڑ پڑ گئی نہ-تو میں تجھے مجرم ٹہراؤں گا حاتم-
تو لڑکا ہے-کل کو مرد بنے گا-اگر تیرا دل کسی اور پر آگیا تو تو اس بے چاری کو چھوڑنے میں دیر نہیں لگاۓ گا-
وہ جو پاگل تیری باتوں میں آکے اعتبار کیے بیٹھی ہے پھر اس کا کیا ہوگا-؟کچی عمر کی محبت عذاب ہوتی ہے عورت کی جان نہیں چھوڑتی-نادانی کی عمر کا پہلا تجربہ مار ڈالتا ہے-جب کوٸی چیز پہلی بار چکھی جاۓ نا تو وہ بڑی سواد لگتی ہے۔یہ محبت کا جزبہ جب پہلی بار جنم لیتا ہے نا تو بڑا انوکھا لگتا ہے اور انسان اس کے خیال سے نکل نہیں پاتا۔
میں تو تجھے اب تک بچہ ہی سمجھتا تھا پر تو اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ میری باتیں تجھے سمجھ آرہی ہوں گی-
آئندہ تو نے اسکو نہ تو کوئی خط لکھنا ہے اور نہ اس سے لینا ہے-
سمجھ گیا کہ نہیں-؟
سمجھ گیا داداجی-اسکے چہرے کا اضطراب کم ہوگیا تھا-اور وہ پر سکون لگ رہا تھا-شاید دادا جی کی باتیں اسکے دل پر اثر انداز ہوگئی تھیں-
عقل کچھ بڑی ہوگئی تھی پر عمر ابھی بچی تھی-اور بچہ ہر نئی چیز کی طرف بھاگتا ہے-دنیا کے ہر نۓ تجربے کو کرنا چاہتا ہے-ہر جذبہ اس کے لیے نیا ہوتا ہے-جن میں سے ایک محبت اور صنف مخالف بھی ہے-یہ ایک فطری کشش ہے۔
عبد اللہ رات بھر دادا جی کی باتیں سوچتا رہا تھا-اور رہ رہ کے اس دیوانی کا خیال اسے آتا تھا-
مجھے دادا جی سے بات کرنی چاہیے-میں بیس سال کا ہوگیا ہوں اور تین چار سال میں MBBSکرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہوجاؤں گا-
اس تعلق کو کوئی نام دینا چاہیے-لیکن پہلے پری سے بات کرنا ہوگی-اسکے تو گھر کا بھی مجھے نہیں پتہ-
اب آۓ گی تو پوچھوں گا-وہ اپنی طرف سے مطمئن ہوکر سوگیا تھا-
پر اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا-پری کے ساتھ عمر بھر کا تعلق بنانا کسی جنگ کے مترادف تھا-قسمت اسکے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے وہ یکسر بے خبر تھا-
