Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan (Episode 19)

Ins o jaan by Maimona Aman

آسمان پر چاند پورا تھا۔کالی گھٹاٶں میں سے چھپ چھپ کے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔جو اداس سا لان میں بادام کے گھنے درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ شوق سے بادام کھاتے کھاتے۔۔۔۔ کوٸی بادام شدید کڑوا نکل آیا ہو۔زندگی میں بھی کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے باداموں کے بھرے تھال میں کوٸی اک کڑوا نکل آۓ تو ساری مٹھاس بھلا دیتا ہے۔

پورا گھر جگمگا رہا تھا۔مہمان دن بھر کے تھکے ہوۓ سو چکے تھے۔

وہ البتہ درخت سے ٹیک لگاۓ آسمان میں تیرتی گھٹاٶں کو دیکھ رہا تھا۔

پانچ سال گزر چکے تھے۔صحرا کے سفر نے اسے یکسر بدل دیا تھا اب وہ پہلے سا عبداللہ نہیں رہا تھا۔قناعت اور صبر کی اسے پہچان ہوچکی تھی۔وہ معرفت کے پہلے زینے پر کھڑا تھا۔دل کے کسی کونے میں پری کا نام دفنا دیا تھا۔وہ اسکی زندگی سے یوں غاٸب ہوٸی تھی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

مگر یادیں ۔۔۔۔تو کبھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔پتہ نہیں کیوں انسان کی یادداشت اتنی تیز ہے کہ کچھ چیزیں اسے اپنے ہر جزو سمیت یاد رہتی ہیں۔اور بھلکڑ اتنا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو ہی بھول جاتا ہے۔اپنے مقام اور مرتبے کو بھی۔

عجب مخلوق ہے یہ انسان۔!!! اسکا کوٸی ایک روپ نہیں۔

خالق فرماتا ہے۔۔

”وخلق الانسان من صلصال کالفخار“

”اور ہم نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجتی مٹی سے پیدا کیا۔“

ہر سانچے میں ڈھل جاتی ہے ۔مٹی رنگ بدلتی ہے۔شکل بدلتی ہے۔اور خوشبو بھی۔ہر دیس کی مٹی کی خوشبو دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔

پری ان پانچ سالوں میں اسکی زندگی میں نہیں آٸی تھی۔جانے وہ کہاں تھی؟کیوں تھی؟

پر آج اسکی مہندی والے روز وہ اچانک سے کہیں سے آگٸی تھی۔ہاں وہ آگٸی تھی۔۔۔

مگر ۔۔۔۔اسکے تصور میں۔دل گھٹ رہا تھا۔چاندنی اسے بھگو رہی تھی۔ہوا شاخوں کو جھلا رہی تھی۔پر دل کے اندر کوٸی کسک سی تھی کوٸی ادھورا پن۔وہ راضی بھی تھا اور اندر سے کہیں کوٸی ”نہیں نہیں“ بھی کررہا تھا۔

سالویہ اور وہ شادی کے بندھن میں بندھنے جارہے تھے۔

اس نے اک نظر اندھیروں میں چھپے چاند کو دیکھا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔

******************

سالویہ نے تبریز کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرلی تھیں۔وہ ایک مشہور ومعروف باپ کا بیٹا تھا۔اسکا باپ کالے اور سفلی علم کے ماہر کے طور پر مشہور تھا۔اسکے کالے علم کی تباہ کاریوں کے دور تک چرچے تھے۔اس نے اپنی اولاد کو بھی یہی کام سکھایا تھا۔

ایسے شخص کو چھیڑنا اپنی موت کو آواز دینے کے برابر تھا۔اب سالویہ کے پاس ایک ہی چارہ رہ گیا تھا کہ وہ کسی طرح شزا کو بدنامی سے بچالے۔پر کون اس کالک کو اپنے منہ پر ملتا۔؟

اس نے حاتم سے بات کی تھی۔اس سےپہلےوہ کٸی بار دبے لفظوں میں شزا کے لیے پسندیدگی ظاہر کرچکا تھا۔یہ بات سب کے علم میں تھی۔

مگر اب اس نے کورا جواب دے دیا تھا کہ وہ لاکھ اسکی پسند صحیح وہ اس داغدار لڑکی کو نہیں اپنا سکتا۔

حاتم بیٹا۔۔ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اتوار کو آپ کا اور شزا کا نکاح کردیا جاۓ۔دادا جی نے اسکے سر پر بم پھوڑا۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟میں ایسی لڑکی کو نہیں اپناسکتا۔وہ ایک دم بول اٹھا۔

کیا مطلب بیٹا ایسی لڑکی؟آپ نے ہی تو بتایا تھا کہ آپ کووہ پسند ہے۔

تب بات اور تھی اب اور ہے۔

کیا فرق ہوگیا اب؟برخوردار کوٸی اور پسند آگٸی ہے۔انہوں نے مسکراتے ہوۓ اس سے مذاق کیا۔

دادا جی سب کچھ جانتے ہوۓ بھی آپ یہ کیوں کررہے ہیں؟بہتر ہے اسکا نکاح اسی لڑکے سے کرادیا جاۓ۔

کس لڑکے سے؟کیا کہنا چاہ رہے ہو تم؟وہ الجھے۔

دادا جی کو اس معاملے کی خبر نہیں تھی سالویہ نے اپنے طور پر انکو دونوں کا نکاح کرنے پر اکسایا تھا۔وہ اس بات کو دبانے کی پوری کوشش کررہی تھی۔پر گناہ چھپاۓ نہیں چھپتا۔

کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ یا انجان بن رہے ہیں؟وہ حیران ہوا۔

تم کھل کے بتاٶ کیا بات ہے جس کا علم مجھے نہیں۔وہ سنجیدہ ہوگۓ۔

اس نے ساری بات انہیں بتاٸی۔

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔میری بیٹی ایسا نہیں کرسکتی یہ جھوٹ ہے۔

سوری داداجی پر یہ سچ ہے۔کوٸی اور کہتا تو جھوٹ ہوتا یہ بھابھی سالویہ نے مجھے بتایا ہے۔

تم چل کے گاڑی نکالو۔وہ دل پر ہاتھ رکھ کے کھڑے ہوۓ۔برسوں کی عزت نیک نامی خاک ہوتی نظر آرہی تھی۔

اپنی بھابھی کو بھی پک کرلینا راستے سے۔

وہ سارا راستہ چپ چاپ آنکھیں موندے اور دل پر ہاتھ رکھے گاڑی میں بیٹھے رہے اور حاتم لب بھینچے ڈراٸیو کرتا رہا۔سالویہ حیران پریشان گاڑی میں بیٹھی تھی۔کوٸی بھی بات نہیں کررہا تھا۔

لاٶنج میں سب کو جمع کیا گیا۔اور دادا جی نے اپنی شریک حیات سے کہا۔۔۔شزا سے کہو اس لڑکے کو یہاں بلاۓ۔

کون سے لڑکے کو؟ سب نے حیرت سے اک دوسرے کو دیکھا۔

شزا سالویہ کے ساتھ بیٹھی خاموشی سے آنسو بہارہی تھی۔

کیوں بیوقوف بنارہے ہوتم سب مجھے؟

وہ شکستگی سے کہہ رہے تھے۔

اباجی کیا ہوا ہے؟ابراہیم نے انکے پاس آکر پوچھا۔

بکواس بند کرو تم بے غیرت باپ۔اسے کہو اس لڑکے کو بلاۓ جس کے ساتھ اس نے منہ کالا کیا ہے۔بے اختیار وہ سر ہاتھوں میں گراۓ رونے لگے۔

لاٶنج میں سناٹا چھاگیا اور سب ہکا بکا شزا کو تکنے لگے۔ابراہیم صاحب میں تو اٹھنے کا بھی دم نہیں رہا تھا۔دادو نے شزا کو بازو سے پکڑ کر ایک طمانچہ رسید کیا۔بول۔۔۔بولتی کیوں نہیں تو۔۔۔انہوں نے اسے جھنجھوڑا۔۔

نانی جان۔۔۔وہ لڑکا ایک بہت خطرناک جادوگر کا بیٹا ہے۔ہم اس تک نہیں پہنچ سکتے۔اب اس بات کو گھر میں ہی دبادیں۔سالویہ نے بمشکل اپنی بات مکمل کی۔

تجھے کیسے پتہ؟ اس لڑکے کے بارے میں؟شمع جیسے کسی خواب سے جاگی تھی۔

آپ کو یاد ہوگا میں شزا کو ٹیسٹس کے لیے اپنے کلینک لے گٸی تھی کیونکہ مجھے اس کی حالت کے پیش نظر شک تھا۔وہیں اس نے مجھے سب بتایا ہے۔

اور پھر سالویہ ایک ایک کرکے ساری بات بتاتی گٸی۔

میری نسل کیوں بے حیا نکل آٸی۔؟

میں یہ دن دیکھنے سے پہلے مر کیوں نہ گیا؟

دادا جی اپنا ماتھا پیٹتے ہوۓ رورہے تھے۔ایک خوددار اور مضبوط اعصاب کا مالک بوڑھا آج اپنی اولاد کے سامنے رورہا تھا۔

میں خود تمہیں کالج چھوڑ لے جانےجاتا تھا۔پھر یہ سب کہاں کیا؟جبرٸیل نے شزا کے خوبصورت لمبے بال مٹھی میں جکڑے۔

ہمیشہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنے والا دھیمے مزاج کا مودب جبرٸیل اس لمحے غاٸب ہوگیا تھا۔بات عزت کی تھی۔سالویہ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر وہ بپھرا ہوا تھا۔

تو کیسی ماں ہے؟ بیٹی کو سنبھال کر نہیں رکھ سکی۔کبھی تو نے میری ماں کی نصیحتوں پر عمل نہیں کیا۔بے شرم عورت۔اندھی ہے تو؟

ابراہیم صاحب اپنی بیوی شمع پر تھپڑوں کی بارش کررہے تھے۔تیری ناک کے نیچے تیری بیٹی گل کھلاتی رہی اور تجھے پتہ ہی نہیں چلا۔

ہٹ بزدل مرد۔وہ بے شرم ہے تو تو بھی بزدل مرد ہے۔عورت پر ہاتھ اٹھا کے خود کو بہادر سمجھتا ہے۔دادو نے گریبان سے اپنے بیٹے ابراہیم کو پکڑا۔

چل دفع ہو۔اور تو بھی دور ہوجا میری نظروں سے۔انہوں نے شزا کو دھتکارا۔وہ ایک کونے میں بیٹھ کر اپنی عزت کے جنازے پر ماتم کرنے لگی۔

بہت دیر سب اپنی اپنی جگہ ساکن بیٹھے رہے۔کسی میں ایک دوجے سے آنکھ ملانے کا حوصلہ نہیں تھا۔لاٶنج میں دادا جی کے بہتے آنسوٶں اور شزا کے بین کے سوا کوٸی آواز نہیں تھی۔پر سب کا اندر چیخ چیخ کے پوچھ رہا تھا۔کیوں آخر کیوں؟

جواب واضح تھا۔۔۔

گنوادی ہم نے اسلاف سے جو میراث پاٸی تھی

آسمان نے ہم کو ثریا سے زمین پر دے مارا۔۔۔

ماڈرن ہونے کے چکر میں اقدار بھول گۓ تھے۔

خاندان کی بنیادیں ہل گٸی تھیں۔بچے آنکھوں میں دھول جھونک کے من مرضی کرنے لگے تھے۔یورپین کلچر پروان چڑھ رہا تھا۔اندھا دھند تقلید ہورہی تھی۔

بہت دیر بعد داداجی اٹھے۔

حاتم بیٹا خدا کے لیے ہماری عزت بچالے۔تیرا دادا تیری منت کررہا ہے۔میں اپنی زندگی کے باقی دن سر جھکا کے اور منہ چھپا کے نہیں جینا چاہتا۔انہوں نے حاتم کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔

داداجی۔۔اس نے انکے ہاتھ پکڑ لیے۔انکی حالت اس وقت قابل رحم تھی۔

ٹھیک ہے میں اس سے نکاح کرلوں گا لیکن میرے دل میں اور گھر میں اسکی کوٸی جگہ نہیں۔اسے کہیے گا کبھی اپنی شکل بھی مت دکھاۓ۔وہ کہہ کر لاٶنج سے باہر نکل گیا۔

مولوی بلا ابراہیم۔انہوں نے سینے کو جکڑتے ہوۓ کہا۔

سالویہ شزا کو اٹھا کر اسکے کمرے میں چھوڑ آٸی۔منہ ہاتھ دھو کے آجانا۔

اس نے آٸینے میں اپنا عکس دیکھا۔

لمبے بال کسی زہریلے سانپ کی مانند اسکی کمر سے لپٹے تھے۔سرخ و سفید رنگت پھٹکار زدہ لگ رہی تھی۔اور آنکھیں اندھی۔دل سیاہ۔

تبریز خداکے لیےایسا مت کرو میرے ساتھ۔تم تو مجھے چاہتے ہو نا۔مجھے اپنالو۔میرے گھر والوں کے سامنے آکر مجھے لے جاٶ۔بہت تماشا بن گیا ہے میرا۔میں کسی اور کے ساتھ نہیں جی سکتی۔پلیز۔۔۔

وہ سسکیوں کے درمیان اسکی منت کررہی تھی۔

کیا چاہتی ہو تم؟تمہیں اپنے پاس رکھوں؟ ٹھیک ہے۔اس نے قہقہ لگاکے فون بند کردیا۔

وہ بہت دیر آٸینے کے سامنے بیٹھی روتی رہی۔

سالویہ اسے لینے آٸی تھی۔صرف وہ ہی تھی جسکا اس سے تھوڑابہت تعلق رہ گیا تھا ورنہ کوٸی بھی اسکی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

وہ اسی حلیے میں تھی۔اس نے سیاہ اور سفید لباس پہنا ہوا تھا۔

سالویہ نے اسکا دوپٹہ گھونگھٹ کی صورت اسے اوڑھایا۔اور ہاتھ پکڑ کر لاٶنج میں لے آٸی۔مولوی صاحب کے سامنے سب خود کو نارمل رکھنے کی کوشش میں تھے۔پر کسی نے بھی اسکو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔

حاتم تنے نقوش کے ساتھ بیٹھا تھا۔

مولوی صاحب شروع کریں۔داد جی نے ٹوٹے لہجے میں کہا۔

ابھی وہ نکاح کی شراٸط ہی پڑھ رہے تھے کہ لاٶنج کے دروازے سے بگولے کی طرح تیز ہوا کا جھونکا گرد اڑاتا اندر داخل ہوا۔ہوا اتنی کاٹتی ہوٸی تھی کہ سب نے بے اختیار آنکھیں بند کرلیں۔

ایک ہیبت ناک شکل کا قوی مرد شزا کو بازوٶں میں اٹھاۓ کھڑا تھا۔وہ چیخ رہی تھی مگر کسی کو اسکی آواز سناٸی نہیں دے رہی تھی۔سب دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے۔

مولوی صاحب فوراً ہی بھانپ گۓ۔ابھی انہوں نے آیت الکرسی کی پہلی آیت ہی پڑھی تھی کہ وہ جن شزا سمیت غاٸب ہوگیا۔

ہاۓ یہ کیا ہوگیا؟ میری بچی۔۔مولوی صاحب یہ کیا ہوگیا؟شمع چیختے چلاتے بیہوش ہوگٸی تھی۔ابھی تک کسی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا تھا۔

یہ کسی بہت بڑے جادوگر کا کام ہے۔آپ فکر نہ کریں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔مولوی صاحب نے انہیں تسلی دی۔میں اپنے استاد بڑے مولوی صاحب سے بات کرتا ہوں۔

وہ کہہ کر چلاگیا۔شمع ہوش میں آگٸی تھی۔۔۔

یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔میری بیٹی برباد ہوگٸی۔وہ اپنا آپا پیٹ رہی تھی۔کسی نے اسے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

دادا جی سب مردوں کو لے کر مسجد چلے گۓ۔دادو گم سم بیٹھی تھی اور شمع رورو کے پاگل ہورہی تھی۔

بڑے مولوی صاحب کافی عمر رسیدہ اور نورانی چہرے والے بزرگ تھے۔انہیں بابا صاحب کہتے تھے۔

بیٹا۔۔۔یہ جادو جنات تو برحق ہے۔یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ کے کلام سے ہی ڈرتی ہے۔انہوں نے آنکھیں بند کرکے تسبیح سے کوٸی استخارہ کیا۔

اللہ والے صاحب کشف ہوتے ہیں۔یعنی کاٸنات کے کچھ بھید ان پر کھول دٸیے جاتےہیں۔اور وہ اپنی روحانی طاقت کے ذریعے دکھیاری مخلوق کی خدمت کرتے ہیں

اللہ عزوجل انکی مدد کے لیے نیک جنات اور فرشتوں کو مامور کردیتا ہے جو انہیں ماضی اور حال کے واقعات سے باخبر رکھ سکتے ہیں۔البتہ مستقبل کا حال بتانے والا جھوٹا ہے۔کیونکہ یہ صرف رب کا کام ہے۔ہاں وہ اپنے پیغمبروں کو اشارے دے دیا کرتا ہے لیکن وہ خاص بندے ہیں۔ان سا کوٸی نہیں۔

یہ کالے جادوگروں کے بادشاہ کا کام ہے۔معلوم پڑتا ہے تمہاری اس سے کوٸی دشمنی ہے۔اس کے پاس بہت سے جنات اور دیو ہیں اوروہ ان سے ناجاٸز کام کرواتا ہے۔لیکن بیٹا۔۔۔اللہ پاک کے نام سے بڑھکر کوٸی نام طاقتور نہیں یہ کلام اسے جلا کر رکھ دے گا۔تم فکر نہ کرو۔

جنات کبھی مار پیٹ سے۔۔۔گوشت کے بکرے دینے سے اور آگ جلانے سے نہیں بھاگتے۔صرف اور صرف کلام الہٰی سے بھاگتے ہیں۔

انہوں نے پرچی پر آیت الکرسی چاروں قل اور کچھ اور قرآن پاک کی آیات لکھ کردیں۔

یہ رات کے دوسرے پہر پڑھنا ہے فجر کی اذان تک۔وقت پورا کرنا ہے۔بالکل کوتاہی مت کرنا۔وہ تمہاری بچی کو خود چھوڑ کر جاٸیں گے۔ڈرانے دھمکانے کی کوشش کریں گے مگر ہمت نہیں ہارنی۔وہ جل کر راکھ ہوجاٸیں گے۔بچی کی ماں کرے تو زیادہ بہتر ہے۔اس کے ساتھ میں بھی اسی وقت یہ عمل کروں گا۔کوٸی بھی مسٸلہ ہو میرے خادم خاص کو فون کرلینا وہ مجھ سے بات کروادے گا۔بس کچھ بھی ہو دن اور وقت کی پابندی کرنی ہے۔ورنہ سب الٹ ہوجاۓ گا۔

وقت کی کاٸنات میں بہت اہمیت ہے۔۔ہر ہر لمحے کی ۔۔یاد رکھنا یہ بات۔!!

انہوں نے مزید کچھ ہدایات دیں۔

******************

آج وہ اس راستے سے گزررہا تھا جہاں اسے پری پہلی بار ملی تھی۔اسکے قدم بے اختیار اس وادی میں اتر گۓ تھے۔

تم؟

ابھی وہ اس پہاڑی پر آدھا راستہ ہی چڑھا تھا کہ اسے پری نظر آٸی۔

اسے لگا اسکی آنکھیں دھوکہ کھارہی ہیں۔وہ گہرے سرمٸی لباس میں سوگوار سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔

وہ بے یقینی کے عالم میں اسکے قریب ہوا۔۔ ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا کہیں وہ اسکا وہم ہو اور۔۔ فضا میں تحلیل نہ ہوجاۓ۔

ہاں میں پری۔۔۔۔

پری۔۔۔۔ت۔۔۔تم؟

وہ اب بھی بے یقین تھا۔

تم تو مجھے چھوڑ گٸی تھی۔

مجبور تھی عبداللہ۔۔تمہاری طرح میں بھی قید تھی۔تم تو نکل گۓ پر میں نہیں نکل پاٸی۔یہ آٹھ سال میں نے قید اور اذیت میں کاٹے ہیں۔میرے خاندان والوں نے ایک انسان سے محبت کرنے کی پاداش میں مجھے قید کردیا تھا۔میں انکا مقابلہ نہیں کرسکی۔

اب مجھے قید کرنے والا مرگیا ہے اور میں آزاد ہوں۔عبداللہ۔۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔

وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی آٹھ سال پہلے تھی۔عبداللہ اب نوعمر لڑکے سے مرد بن گیا تھا۔

نہیں ۔۔۔۔پری اب نہیں۔۔۔

وہ رخ موڑ کےکھڑا ہوگیا۔ایک دم سے پرانی محبت سر اٹھانے لگی تھی۔یہ وقت کی گرد تلے دب تو جاتی ہے پر مرتی نہیں۔اسکا خیال تھا کہ وہ اس کے حصار سے نکل گیا ہے مگر یہ محض خیال تھا۔

عبداللہ۔۔۔تم ایسا نہیں کرسکتے۔

پری۔۔۔میں شادی شدہ ہوں۔جو عورت تین سال سے میری بیوی ہے اور میری ایک بچی کی ماں ہے میں اسے دھوکہ دوں؟

پری بھول جاٶ سب۔۔۔

یہ اتنا آسان نہیں ہے۔میں تو ان آٹھ سالوں میں کبھی بھی تمہیں نہیں بھولی۔اب کیسے۔۔۔۔۔۔؟وہ سسکنے لگی۔۔

بس کرو۔۔۔خدا کے لیے۔۔اب سب ختم ہوگیا ہے۔قسمت کو ہمارا ملنا منظور نہیں تھا۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے نکل آیا۔

میں کوشش کروں گی تمہیں پانے کی۔۔آخری کوشش۔۔۔اسکی آواز اسکا تعاقب کررہی تھی۔

وہ مڑے بغیر چلاگیا تھا۔ہزار سوچوں کے درمیان وہ گھر پہنچا۔خلاف معمول گھر میں بہت خاموشی تھی۔

کچن سے منسلک بڑے کمرے میں سب بیٹھے تھے۔وہ سارے کمرے جھانکتا وہاں پہنچا۔باہر سے ایک لڑکی کے رونے کی آواز آرہی تھی۔

سب گھر کے افراد وہاں جمع تھے اور پری انکے درمیان بیٹھی زاروقطار روۓ جارہی تھی۔

عبداللہ کو اندر آتا دیکھ کر اس نے نقاب الٹ دیا۔۔

سب مبہوت ہوگۓ۔۔ایسا حسن۔۔۔اتنی خوبصورتی۔۔۔کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔سب ٹکٹکی باندھے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔وہ غالباً سب انہیں بتا چکی تھی۔

خدارا سالویہ بہن۔۔تم نے بھی تو عبداللہ کو چاہا تھا اگر وہ نہ ملتا تو سوچو تمہاری کیا حالت ہوتی۔۔سالویہ یک دم چونک گٸی۔یہ بات اسے کیسے معلوم ہوٸی؟

میں آپ کے گھر میں نہیں رہوں گی نہ مداخلت کروں گی۔نہ آپ سے کچھ چھینوں گی۔۔۔نہ ہی آپ کو میرے سوتن ہونے کا احساس ہوگا۔

دادا جی آپ ہی کچھ بولیے اس نے روتے ہوۓ التجا کی۔

میں آپکی بیٹیوں کی طرح ہوں۔

عبداللہ چپ چاپ تماشا دیکھ رہا تھا۔

وہ سب کی منتیں کررہی تھی۔۔

عبداللہ تم نے اتنے سال یہ بات چھپاۓ رکھی؟دادا جی نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔

وہ سر جھکا گیا۔

ہم آپ کی سچاٸی پر کیسے یقین کرلیں؟بہت دیر بعد سالویہ کی خاموشی ٹوٹی تھی۔

میں ماضی دہراسکتی ہوں۔

اس نے کچھ پڑھ کر کمرے میں لگے آٸینے پر پھونکا اور اس میں ماضی کے تمام مناظر فلم کی طرح چلنے لگے۔انکی پہلی ملاقات سے لے کر۔۔۔قید ہونےتک۔۔۔اور کچھ دیر پہلے تک کے تمام واقعات آٸینے میں دکھاٸی دے رہے تھے۔

وہ امید طلب نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔

عبداللہ۔۔۔بات سنو۔۔۔سالویہ اٹھ کر باہر آٸی۔

تم اس سے نکاح کرلو عبداللہ۔۔

یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟وہ ہکا بکا رہ گیا۔

سالویہ وہ سب پرانی باتیں ہیں اب نہیں۔۔۔

نہیں عبداللہ۔۔۔مجھے پتہ ہے تم اسے نہیں بھلا پاۓ۔

تم سوتے میں اکثر پری کا نام لیتے تھے۔کبھی کبھار تمہاری خود کلامی سنتے ہوۓ میں نے بہت کچھ جان لیا تھا۔

تم نے ہماری بیٹی کا نام زینب رکھا اور ہمیشہ اسے پری کہہ کر بلاتے ہو۔تمہاری محبت آج بھی نہیں مری۔۔۔وہ زندہ ہے عبداللہ۔

لیکن تم نے کبھی مجھے اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ تمہاری محبت کوٸی اور تھی۔

میں آج تمہیں اجازت دے رہی ہوں۔جاٶ عبداللہ اسے اپنالو۔

اس نے بہت سے آنسو پیچھے دھکیلے۔اور مسکرانے لگی

۔

تم اپنی مرضی سے کہہ رہی ہویا ناراض ہو۔۔۔اس نے اسے کندھوں سے پکڑا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *