Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 11,12)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 11,12)
Ins o jaan by Maimona Aman
اف—آپ اتنا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں ڈاکٹر صاحب ؟
دوسروں کا کیا علاج کریں گے آپ خود تو احتیاط نہیں کرتے–
وہ دبے پیر کچن میں آئی تھی اور اب اس کے پیچھے کھڑی بول رہی تھی–
تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے–؟
وہ اٹھ کے اس کے سامنے آیا–رنگت سرخ پڑرہی تھی–
میں نے کیا کیا ہے–؟وہ حیرت سے بولی–
مجھے ڈاکٹر صاحب مت کہا کرو–آئندہ میں یہ لفظ نہ سنوں تمہارے منہ سے—وہ غصے کو کنٹرول کرتا کہہ رہا تھا–
تو کیا کہوں–؟
بھائی–بھیا—اس نے اسی لہجے میں جواب دیا–
کیوں—ڈاکٹر صاحب کہلوانا اچھا نہیں لگتا آپ کو–؟
نہیں تمہارے منہ سے بالکل نہیں—
یہ کیا بات ہوئی–؟اس نے منہ پھلایا–وہ اسکے غصے کا کوئی خاص نوٹس نہیں لے رہی تھی–
دیکھو سالویہ—وہ اب نرمی پر اتر آیا تھا—یوں سب کے سامنے مجھے اس انداز سے مخاطب کرو گی تو سب غلط سمجھنے لگیں گے–کہ ہمارے بیچ کچھ اور چل رہا ہے–اور میں نہیں چاہتا کہ تمہاری ساکھ خراب ہو–
تم ایک کم عقل–کم عمر اور جذباتی لڑکی ہو-تمہیں زمانے کی اونچ نیچ کانہیں پتہ–ایسی حرکتیں کرکے اپنے لیے اور میرے لیے مصیبتیں نہ کھڑی کرو–ابھی تو تمہاری پڑھائی کی عمر ہے اسی میں دیہان لگاؤ–
اپنے ذہن میں فضول باتیں مت پالو–فی الحال یہی بہتر ہے کچھ وقت گزرے گا تو تمہیں عقل آجاۓ گی–ہر چیز کے لیے ایک خاص وقت ہوتا ہے
–تم سمجھ رہی ہو نا میری بات—؟
وہ سر جھکاۓ انگلیاں مروڑ رہی تھی–اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ واقعی وہی کہہ رہا ہے جو وہ سمجھ رہی ہے یا کچھ اور—
لیکن کچن کے دروازے کے پاس کھڑا کوئی انکی گفتگو سے اپنے اندازے کا مطلب نکال چکا تھا-اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ انکے بارے میں آنے والا وقت کیا فیصلہ سنانے جارہا ہے–
آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا—
وہ کچھ دیر اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتا رہا—وہ اتنی دلنشین تو تھیں کہ کسی کو بھی انکی گہراٸی میں اترنے پر آمادہ کرسکتی تھیں۔۔ پر ان نیلے نین کٹوروں سے انکا کوٸی مقابلہ نہیں تھا جو عبداللہ کے ہر تصور پر حاوی تھے۔۔
میرا خیال ہے تمہیں یہ جان لینا چاہیے کہ میں۔۔۔۔
تمہاری صبح والی باتیں سن چکا ہوں–اس نے اس کے چہرے پر سے نظر ہٹاتے کہا–
کون سی باتیں –؟وہ اضطراب میں لگتی تھی-
وہی جو تم میرے بارے میں اپنی کسی سہیلی—نیلم سے کہہ رہی تھیں–
اگر کوئی اور سن لیتا تو—سوچو کیا ہوتا–؟
ہم دونوں کی بے عزتی–تمہیں تو شاید لڑکی جان کر تھوڑی نرمی برتی جاتی پر میں—
میرا تو سوچ لیتی–تم ایسا کیوں سوچنے لگی ہو–؟
-سالویہ —پلیز—اپنا خیال کرو—یہ سب ٹھیک نہیں ہے–ہم کزنز ہیں اور بس–
ان مبہم باتوں کا مفہوم صرف وہ دونوں ہی سمجھ سکتے تھے–کوئی اجنبی تو ان سے کوئی بھی کہانی فرض کرسکتا تھا–
سالویہ کے پیروں تلے سے جیسے کسی نے زمین کھینچ لی تھی–وہ گنگ کھڑی تھی–
وہ شوخ و چنچل ضرورتھی مگر اس حد تک بولڈ نہیں تھی کہ سر عام اپنے جذبات کا اظہار ہونے پر بھی مطمئن رہتی–یا اپنی محبت کا اشتہار بن کر گھومنے لگتی–
شرمندگی کے احساس نے اسے زمین میں گاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی–وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی—کہ چھت—جسے وہ محفوظ ٹھکانہ سمجھ کر اپنی سہیلی سے بات کرنے آگئی تھی وہاں کی ہوا کے بھی کان تھے—اور وہ اپنے کانوں سے سنی ہیر کی داستان عشق کو الفاظ کی لڑیوں میں پرو کر رانجھے کے سامنے گنگنا آئی تھی–
اور وہ اب اس کے سامنے کھڑا اسے شرمندگی کی دلدل میں دھکیل رہا تھا–
وہ اپنی سسکیاں دباتی تیزی سے وہاں سے نکلی–کچن کے دروازے پر کھڑا تیسرا شخص اسکی نظروں سے پوشیدہ رہا تھا–
پر وہ جیسے ہی باہر نکلتے عبداللہ کے سامنے آیا —اس کے اوسان خطا ہوگۓ—
__________
لڑکیوں کے دل تو چڑیوں کی طرح نازک ہوتے ہیں ذرا سی آہٹ پر بے تحاشا دھڑکنے لگتے ہیں۔
اور کبھی کبھی کوٸی آہٹ ان کی سماعتوں میں یوں گھل جاتی ہے کہ وہ کان لگاۓ اسے سننےکو بے تاب رہتی ہیں۔کسی کے قدموں کی آہٹ انکے سکون سے دھڑکتے دلوں کو بے سکون کردیتی ہے۔۔
وہ آزاد ہوتے ہوۓ بھی قید ہوجاتی ہیں۔ایک ہی منڈیر پر ادھر سے ادھر پھڑپھڑاتی رہتی ہیں۔۔پروں کے ہوتے ہوۓ بھی اڑ نہیں پاتیں۔۔
اور کسی کی نظر میں آۓ بغیر خاموشی سے اس منڈیر کا حصہ بن جاتی ہیں۔وہ چھوٹے سے دل والی چڑیاں۔۔۔ کسی منڈیر پر بیٹھ کر کوٶں کی طرح کاٸیں کاٸیں کرکے شور نہیں مچاتیں بلکہ۔۔۔ اپنی سریلی آواز کاٸنات کے سروں کے ساتھ یوں ملاتی ہیں کہ ساری زندگی کوٸی سن نہیں پاتا۔
وہ آہٹ پر دھڑکنے والے دل۔۔۔۔۔۔کلیوں سے زیادہ نازک ہوتے ہیں۔۔
چپکے چپکے اپنی خواہشوں کو کسی کونے میں ڈھیر کرتے جاتے ہیں۔۔۔
مگر۔۔۔۔
خواہشیں کبھی کبھار یوں بھی پوری ہوتی ہیں اور دل میں مانگی گئی دعائیں کبھی اتنی جلدی مقبول ہوجاتی ہیں کہ انسان اپنی قسمت پر رشک کرنے لگتا ہے–
اس کے خوشی سے تھرتھراتے ہاتھ کی نازک انگلی میں اس شخص کے نام کی انگوٹھی پہنائی جارہی تھی–جس کی محبت کا بیج اس کے دل کی زمین پر گرتے ہی پھلنے پھولنے لگا تھا-اور آج وہ بارآور ہوگیا تھا—اس نے گھونگھٹ کی مانند اوڑھے دوپٹے کی اوٹ سے اس پر ایک نگاہ ڈالی—
گہرے نیلے سوٹ پر کیمل کلر کی نفیس سی شیروانی پہنے وہ کسی بات پر مسکرا رہا تھا–اس نے دوبارہ نظر جھکالی اور گود میں رکھے اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی جس میں گولڈ کی رنگ جگمگارہی تھی–
آتشی اور میجنڈا رنگ کے گھیردار فراک میں ملبوس اور ہلکی سی جیولری پہنے وہ پرستان کی کوئی پری ہی لگ رہی تھی–گرے آنکھیں بار بار سامنے بیٹھے وجود پر مرکوز ہوتیں اور پھر جھک کر انگوٹھی پر ٹہر جاتیں–دل کی مسکراہٹ لبوں پر آکر مچلنے لگتی—
جاؤ بیٹا —اسے اندر لے جاؤ–زینت نے لڑکیوں سے کہا–
چلیں دلہن صاحبہ–کسی نے شرارت سے کان میں سرگوشی کرکے اسکا ہاتھ تھاما–
اس نے انکے جلو میں چلتے ہوۓ جاتے جاتے ایک بار پھر اس کی توجہ کا محور دیکھا–وہ سر ہلاتے ہوۓ دادا جی کی کوئی بات سن رہا تھا–اور اب بھی اس سے بے نیاز تھا–
~چلے تو آۓ ہیں تیری محفل سے
مت پوچھ دل پر کیا گزری
—————————-
وہ تو کچن سے نکل کر چلی گئی تھی–عبداللہ جب باہر نکلا تو اس نے اپنی ماں زینت کو وہاں کھڑے دیکھا–اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی کھسک گئی—
امی—وہ–میں پانی پینے آیا تھا—
اس سے کوئی بات ہی نہیں بنی–
وہ بغور اسے دیکھ رہی تھیں—انکے دیکھنے کے انداز سے لگتا تھا کہ وہ سب کچھ سن چکی ہیں–
پی لیا پانی؟
جی—-امی
یہ بات تھی تو پہلے ہی بتادیا ہوتا—گھر کی ہی بات ہے–اس پر بھلا کسی کو کیا اعتراض ہوگا–وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد گویا ہوٸیں۔۔
کیا مطلب–امی؟
چل –اب بھولا نہ بن–ماں ہوں تیری–سب سمجھتی ہوں-وہ مسکراٸیں۔۔
لیکن امی–
اچھا زیادہ صفائیاں نہ دے–میں ابھی جاکے ابا جی اور اما ں جی سے بات کرتی ہوں–وہ تو بہت خوش ہونگے اور سالویہ تو مجھے شروع ہی سے تیرے لیے اچھی لگتی تھی–وہ باتیں کرتے کرتے کچن میں چلی گئیں اور برتن نکالنے لگی–
امی کونسی بات–؟کیا کہہ رہی ہیں آپ–؟
عبداللہ کو خطرے کی بو آرہی تھی–اس نے پریشانی سے ماں سے پوچھا۔۔
تیرے اور سالویہ کے رشتے کی بات–بھولے
عبداللہ کے سر پر جیسے کسی نے پہاڑ گرادیا تھا–اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے-
امی–یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ–؟
ایسا مت کریں پلیز–
کوئی کچھ نہیں کہے گا–کیوں فکر کرتا ہے میں ہوں نا–
آپ بات نہیں سمجھ رہیں امی—میری بات تو سنیں–
چل ہٹ مجھے کام کرنے دے–سب سمجھتی ہوں–مجھے کیا سمجھاۓ گا تو–جھلا کہیں کا–
میں تو کہتی ہوں آج ہی رسم ہوجاۓ –سب بہن بھائی اکٹھے ہیں-اچھا خوشی میں اور اضافہ ہوجاۓ گا–وہ کام کرتے ہوۓ اپنی دھن میں بول رہی تھیں–
تجھے وہی ملے گا جو تیرے نصیب میں ہے–
عبداللہ کے آس پاس بابا جی کی آواز گونج رہی تھی–
امی جی—خدا کے لیے ایسا کچھ نہیں ہے–یہ مت کریں–اس کے اور میرے درمیان کچھ نہیں ہے–آپ کو غلط فہمی ہوگئی ہے–
چل جاکے–اپنے دادا سے کہہ کہ کھانے کا وقت ہوگیا ہے سب کو دستر خوان پر آنے کا کہہ دیں–
وہ اس کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھی–
بہو–کھانا لگادو–وقت ہوگیا ہے–دادو نے کچن میں داخل ہوتے کہا–
جی اماں بس لگارہی ہوں–
عبداللہ بے بسی کی آخری تصویر بنے وہاں سے باہر آگیا–
اس نے اندر آکے کمرہ لاک کیا اور ہاتھوں سے بال نوچنے لگا–اسکے سوا اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا–یہ سب اس ڈرامائی انداز میں ہوا تھا کہ وہ کسی کو نہ سمجھا سکتا تھا اور نہ ہی صفائی دے سکتا تھا-ان دونوں کے درمیان جو باتیں ہوئی تھیں سننے والے کو یہی لگتا تھا کہ ان کے درمیان کوئی افئیر ہے–اور دونوں اس میں انوالوڈ ہیں–
یا اللہ –یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ–؟
اس نے تکیہ اٹھا کے دیوار پر مارا–اس لمحے اسکا دل چاہا کہ اپنا سر بھی دیوار میں مار دے–
کس سے کہوں –؟کیا کہوں–؟
وہ بے چینی سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا–یکایک اس نے فون اٹھا کے علی کو کال ملائی–
آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے–آپریٹر نے اس کے کان میں ایک اوردھماکہ کیا–
اس کو بھی ابھی فون بند کرنا تھا–اس نے موبائل کو بیڈ پر پٹخا–
اس کا دل چاہا سب کچھ چھوڑ کے کہیں روپوش ہوجاۓ–اس طرح کم از کم وہ اس زبردستی کے بندھن سے آزاد ہوجاۓ گا–
ہمت ہے تو نکل جا –اسکی دسترس سے–
اس سوچ کے آتے ہی بابا جی کے الفاظ اس کے ذہن میں گونجنے لگے–
کہتے تو وہ ٹھیک تھے–اسکی سلطنت اور دسترس سے آج تک کون نکل سکا ہے–؟
کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اسکی بصارت سے اوجھل ہوا جاسکے–اور نصیب—اس سے تو کبھی کوئی نہیں چھپ سکا–وہ تو انسان کے پیچھے خود بھاگتا ہے–نصیب کو ڈھونڈنے کی ضرورت پیش نہیں آتی –وہ خود انسان کو پالیتا ہے–
دعا سے نصیب بدل جاتا ہے–پر یہ بھی دعا سننے والے پر منحصر ہے کہ اسے کیا بہتر لگتا ہے–انسان بے اختیار اور بے بس ہے— اور رہے گا–یہی عبدیت ہے-
اس کے کمرے کا دروازہ زور زور سے پیٹا جارہا تھا–
بھیا —آپ کو سب ڈھونڈ رہے ہیں کھانا لگ گیا ہے—جلدی آجائیں-اس نے دروازہ کھولا تو صفورا اسے اطلاع دے کر فوراً بھاگ گئی-
اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں اور سب کے ہوتے ہوۓ بھی اس کی کمی محسوس کی جارہی تھی–اسکا انتظار کیا جارہا تھا–کیونکہ یہ اس کے اپنے تھے–جن کے بغیر وہ ادھورا تھا–اور وہ کچھ دیر قبل انہی کو چھوڑ کے بھاگ جانے کا سوچ رہا تھا-
دل کے کسی گوشے میں موہوم سا احساس شرمندگی جاگا–اور دوسرے کونے سے خود غرضی نے سر اٹھایا–اور لگی بحث کرنے–
جینے کے لیے اپنی خوشیاں زیادہ اہم ہیں–انسان کو اپنی ذات کو خوش رکھنا چاہیے–
زندگی دوسروں کے لیے بھی جی جاتی ہے–اپنے لیے جینا تو کوئی کمال نہیں–
لیکن انسان کا اپنی ذات پر بھی تو حق ہے–
ذات جس نے دی ہے –اسکا حق زیادہ ہے–
اندر خود غرضی اور احساس کی جنگ جاری تھی-
وہ خاموشی سے کھانا کھارہا تھا–فرشی دستر خوان پر خاندان کے سب افراد جمع تھے اور ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوۓ کھانا کھایا جارہا تھا–
عبداللہ اپنے کزنز کے درمیان بیٹھا تھا–اور نہ چاہتے ہوۓ بھی زبردستی کھارہا تھا–بھوک پیاس تو مر چکی تھی–
اسے بار بار خود پر کسی کی نگاہیں محسوس ہوتیں–وہ نظر اٹھا کر دیکھتا تو وہ جلدی سے نگاہیں جھکالیتی–
اوۓ تو کیوں اتنا چپ ہے-؟
ہارون نے اسے کہنی ماری–
اور منہ بھی اترا ہوا ہے–
بنیامین نے لقمہ دیا–
کچھ نہیں –بس ایسے ہی–
نا نا —کچھ تو ہے–تو بتا نہیں رہا–
کچھ بھی نہیں ہے–وہ چڑ گیا–
اچھا بھائی ناراض نہ ہو–
وہ دوبارہ چپ چاپ کھانے لگے–
کھانے کے بعد سب بڑے۔۔ دادا جی کے کمرے میں گھس گۓ تھے–
اور کچھ جاسوس سن گن لینے کے لیے باہر منڈلاتے پھر رہے تھے–لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔دادا جی کے کمرے میں کافی دیر مذاکرات جاری رہے–اس کے بعد گھر میں کچھ ہل چل سی مچ گئی تھی-
-لڑکیوں کی ہنسی ضرورت سے زیادہ آزاد ہوگئی تھی اور اس میں شرارت کی کھنک تھی-عبداللہ کو ایک ہی فکر لاحق تھی کہ کہیں اسکی ماں سچ میں ان دونوں کی شادی کی بات سب کے سامنے نہ کردے–
آج اسے پری شدت سے یاد آرہی تھی-اسکی کھنکتی ہنسی–گہری نیلگوں آنکھیں–اور کسی شاہکار مصور کی تصویر سا چہرہ–
اس نے لا شعوری طور پر اسکا موازنہ سالویہ سے کیا—اسکی معصوم سی مسکراہٹ –جو کبھی اس کے لبوں سے جدا نہیں ہوتی تھی—وہ ہنستی تھی تو اکثر منہ پر ہاتھ رکھ لیتی–اور اسکی سرمئی آنکھوں میں کہکشاں کی مانند ستارے دمکنے لگتے–وہ اس قابل تھی کہ اسے چاہا جاۓ–وہ پری سے دلکشی میں زیادہ نہیں–تو کم بھی نہیں تھی–اور خدا جانے پری کا حسن ایک بہروپ تھا یا حقیقت–؟
کیا اس نے چہرے سے محبت کی تھی—؟
محض حسن سے–؟ظاہری خوبصورتی سے–؟
چہرے ایک نہیں— ہزار ہوتے ہیں اور حسن کو تو ایک دن گہنا ہی جانا ہے–اگر محبت ظاہری خوبصورتی سے کی جاتی ہے–تو دنیا حسن کے شاہکاروں سے بھری پڑی ہے–ایسی محبت کبھی پائیدار نہیں ہوتی–ایک کے بعد دوسری اور اس کے بعد تیسری—اور پھر بے شمار–ان گنت محبتیں ہوسکتی ہیں–
ظاہر سے محبت کرنے والوں کو —حسین چہروں پر مرنے والوں —حسن پرست کو–ایک محبت زیب نہیں دیتی–اسے بے شمار محبتیں ہونی چاہئیں—کیونکہ حسن کا کوئی اختتام نہیں—اور فطرت کے حسن کو سراہنے والے کو ہر ایک منظر پر حیران ہونا چاہیے–اسے ہر ایک منظر پہلے سے زیادہ جان لیوا نظر آنا چاہیے–اور اسے ساری زندگی دنیا کے آخری حسین انسان کی تلاش میں گزارنی چاہیے–اس کی آنکھ حسن دیکھنے کی عادی ہوچکی ہوتی ہے–اور عادت بدلنا بہت کٹھن ہوتا ہے–
کیا اس نے چہرے سے محبت کی تھی–؟وہ بیٹھا خود سے ہی پوچھ رہا تھا–
نہیں–یا شاید ہاں—اس کی پہلی جھلک نے تو اسے دیوانہ نہیں کیا تھا–
وہ تو خود اسے سننے آتی تھی اور چپ چاپ کھڑی اسے تکتی رہتی تھی–اسے اس لڑکی کی عادت ہوگئی تھی–شاید اس نے لاشعوری طور پر یہ فرض کرلیا تھا کہ وہ اسے چاہنے لگی ہے–اسے اہمیت دینے لگی ہے–اور یہ چاہے جانے کا احساس انسان کو زمین پر چلنے کے قابل نہیں چھوڑتا–ہواؤں میں اڑانے لگتا ہے–اور انسان اندھا دھند اس احساس کی وجہ بننے والے انسان کی جانب کھینچتا چلا جاتا ہے–
یہ ایک جال ہے جس میں کوئی بھی معمولی انسان۔۔۔۔ سکون سے دانہ چگتے کسی پرندے کی مانند جکڑلیا جاتا ہے–اور وہ ساری زندگی اس قید سے نکل نہیں پاتا–
صیاد–اکثرظالم ہی ہوتاہے–اگر جال میں پھنسنے والی صنف نازک ہو تو—عقل و شعور کو ایک طرف رکھ کر اپنا سب کچھ تیاگ بیٹھتی ہے–چمکتے دانوں پر ٹوٹ پڑنے والے بھوکے پنچھیوں کی طرح–اپنے حدود و قیود اور ادب لحاظ بھول کر خوشی خوشی اس جال میں آپھنستی ہے—صیاد تو ہمیشہ بھولے بھٹکے–بھوکے پنچھیوں کی تاک میں رہتا ہے–چند دانے تعریف و توصیف کے پھیلا کر اسے اپنا تر نوالہ بنالیتا ہے–کتنا آسان ہے–صیاد بننا–!
اور اس سے بھی آسان قیدی بننا–صرف ایک چیز چاہیے–
اندھا اعتبار–
اور پھر پیروں میں غلامی کے چھلے یا گھنگھرو باندھے وہ صنف نازک کسی ماہر رقاصہ کی مانند۔۔۔۔ من چاہے صیاد کے اشاروں پر تھرکتے تھرکتے عمر تمام کردیتی ہے۔۔
زندگی رقص کرنا سکھادیتی ہے۔۔۔اس تال پر بھی جس کے لیے کوٸی رقص ہی ایجاد نہ ہوا ہو۔۔۔۔
عبداللہ کو کیسی محبت تھی؟چہرے سے یا حسن سے؟یا اسکی ذات سے۔؟
پہلے پہل اسے تجسس تھا اس لڑکی کو جاننے کا
اور ایک دن جب وہ نظر نہیں آئی تو وہ بے چین ہوگیا اور یہ بے چینی محبت پر منتج ہوئی-
اسے تو اس چاہے جانے کے احساس نے چاہنے کی راہ پر ڈال دیا تھا–
نہیں —اسے چہرے سے محبت نہیں تھی—
اگر ایسا ہوتا تو اسے سالویہ میں بھی حسن نظر آتا اور وہ اسے قبول کرنے میں تامل نہ کرتا–
————————–
رات کے کھانے پر سب افراد جمع تھے–اور ساتھ ساتھ خوش گپیاں بھی لگارہے تھے–زینت بار بار اپنے بیٹے عبداللہ کو مسکرا کر دیکھتی اور پھر سالویہ کو اور دل ہی دل میں دونوں کی نظر اتارتی–
عبداللہ کھانا کھاتے ہوۓ گاہے گاہے اپنے ماں باپ پر بھی نظر ڈال لیتا–
اس نے نوٹس کیا کہ سب بڑوں کے چہرے پر اس کو دیکھتے ہی ایک معنی خیز اور پراسرارا سی مسکراہٹ چھا جاتی–
وہ پریشان پریشان سا بیٹھا تھا–
دادا جی نے کھانا ختم کرکے پاس بیٹھے اپنے بڑے داماد سالویہ کے ابو سے سرگوشی میں کچھ کہا–اور وہ مسکرا کر سر ہلانے لگے–اور پھر انکی نظر سب پر سے گزرتی ہوئی عبداللہ پر آکے ٹہر گئی–وہ مسلسل دادا جی کی بات سنتے ہوۓ اسے دیکھ رہے تھے—-عبداللہ ان کی اس توجہ سے گڑبڑا گیا–دل نے کہا دال میں کچھ کالا ہے-
Episode 12
ہاں –تو میرے بچو–آج میں ایک اہم اعلان کرنے والا ہوں بلکہ خوشخبری سنانے والا ہوں–انہوں نے کھنکارتے ہوۓ سب کو متوجہ کیا–
بھئی–اللہ لاکھ لاکھ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اولاد جیسی نعمت سے نوازا اور اسے فرمانبردار بنایا–پتہ ہی نہیں چلا–کب میری شادی ہوئی تھی–پھر میرے بچوں کی–اور اب ان کے بچوں کی شادی کا وقت آگیا ہے–
اچھا ہے رشتے خاندان میں ہی ہوجائیں–تاکہ ہم لوگ بھی بے فکر رہیں–
وہ ٹہر ٹہر کے بول رہے تھے۔
میں نے اپنے ایک پوتے کا اپنی ایک نواسی سے رشتہ طے کردیا ہے–میرا خیال ہے بچے ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں —
دبی دبی ہنسی فضا میں گھلنے لگی–
اور دونوں کے ماں باپ بھی اس رشتے سے بہت ہی خوش ہیں–
عبداللہ کے حلق میں نوالہ جیسے اٹک گیا–وہ دم سادھے سن رہا تھا–جیسے
روز محشر ہو اور کوئی اپنی قسمت کے فیصلے کی گھڑی کا ۔۔اور اپنے نامہ اعمال تھماۓ جانے کا منتظر ہو–
سب بچے یہاں جمع ہیں –کل ایک چھوٹی سی رسم کرلیں گے–
دادا جی–کس کی بات ہورہی ہے–؟
ہارون سے اب اور برداشت نہ ہوا تو بول اٹھا-
اوہو–یہ تو میں بتانا بھول ہی گیا –انہوں نے سر پر ہاتھ مارا–
بھئی–اپنے عبداللہ اورر سالویہ بچی کی بات ہورہی ہے–کل دوپہر دونوں کی منگنی ہے–
عبداللہ جو پانی کا گلاس اٹھانے لگا تھا –اس کا بڑھتا ہاتھ وہیں فریز ہوگیا-اور اس کے چاروں طرف بم پھٹنے لگے–
ہر طرف سے مبارک کا شور اٹھ رہا تھا پر وہ جیسے بہرہ ہوگیا ا تھا–اسکا دماغ سن ہوچکا تھا اور اس میں تمام باتیں گڈمڈ ہورہی تھیں–
پری کی باتیں–بابا جی کی نصیحتیں—سالویہ کے معنی خیز جملے–اور اسکی ماں کے مفروضے–
جو کچن کے باہر سب کچھ سن چکی تھی–اور یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ عبداللہ سالویہ کو پسند کرتا ہے-
-ماؤں کو اپنی اولاد کے بارے میں کتنا یقین ہوتا ہے انہوں نے اس کی کوئی بات ہی نہیں سنی تھی اور نہ اس سے دوبارہ پوچھا تھا –نہ کوئی مشورہ لیا تھا-
-کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اپنی کوکھ اور گود میں پلنے والے بیٹے کو وہ اچھی طرح جانتی ہیں اور اسے کبھی غلط نہیں سمجھیں گی–
پر کبھی کبھی مائیں اولاد کو سمجھنے میں غلطی کردیتی ہیں کیونکہ وہ ساری زندگی اسے اپنی گود میں پالا ہوا وہی معصوم سا بچہ سمجھتی ہیں–جو ہر لمحہ اسکے پلو سے لٹکا رہتا ہے–بات بے بات اسے پکارتا ہے–وہ نظر نہ آۓ تو رو رو کے ہلکان ہوجاتا ہے–وہ مار بھی لے –تب بھی اسی کی آغوش میں چھپ کر سسکیاں بھرتا ہے–جو ماں کے بغیر جینے کا سوچتا بھی نہیں–جو آنکھ کھولنے سے لے کر اپنے قدموں پر چلنے تک–اور ماں بولنے سے لے کر اپنی زبان کا ہر لفظ بولنے تک–اسکی تربیت کا محتاج رہتا ہے–
تو ایک ماں ہی اسے سمجھ سکتی ہے–جب وہ اپنی توتلی زبان سے ٹوٹا پھوٹا بولتا ہے یا ۔۔۔۔اپنے سفید بالوں والے سر اور جھکی کمر کے ساتھ اسکے سامنے بیٹھا اپنی پریشانیوں کا رونا روتا ہے–
پر یہ زمانہ –یہ رنگ برنگی دنیا بڑی ظالم ہے–یہ ماں سے اس کا معصوم بچہ چھین لیتی ہے–اسکی سکھائی گئی روایات کو خاک میں ملادیتی ہے–اور اسے وہ کچھ سکھا دیتی ہے کہ پھر اس بچے کو سمجھنے میں ماں غلطی کر بیٹھتی ہے–
ماں غلط نہیں ہوتی –شاید اولاد اتنی بڑی ہوجاتی ہے کہ ماں کی سمجھ چھوٹی پڑ جاتی ہے–اور وہ اپنے پالے ہوۓ بچے کو ہی سمجھ نہیں پاتی–جیسے کوئی مصور اپنی بنائی ہوئی تصویر کو دوبارہ نہ بناسکے—یا کوئی شاعر اپنی لکھی ہوئی غزل کے الفاظ بھول جاۓ-
زینت نے یہی سمجھا تھا کہ عبداللہ سالویہ سے شادی کرنا چاہتا ہے–اور عبداللہ کے منہ میں زبردستی کسی نے مٹھائی ٹھونسی اور اس نے اسی سکتے کے عالم میں دیکھا کہ سالویہ شرم سے سرخ ہوتی وہاں سے بھاگ گئی تھی–اسکے چہرے پر من چاہے کو پالینے کی خوشی کے اتنے رنگ تھے جتنے قوس قز ح بھی نہ سمیٹ پاۓ–
ایک کی خوشی –دوسرے کا غم تھی–ایک کا پانا –دوسرے کا کھونا تھا–ایک کا نصیب –دوسرے کی بد نصیبی تھی–
تقدیر لکھنے والا اپنے فیصلوں میں آزاد ہے—اسکا کوئی ہمسر ہے نہ کوئی مشیر—
یہ شہنشاہ عالم کا فیصلہ تھا–
__________
نہ گرمی تھی –نہ دن حبس زدہ تھے–نہ ہی سورج آگ برسا رہا تھا–پر دل تھا کہ گھٹا جاتا تھا-
جیسے کسی جانور یا پرندے کو اسکے قدرتی مسکن سے لا کر ایک پنجرے میں قید کردیا جاۓ –اور وہ اس میں چاروں طرف چکر کاٹتے ہوۓ باہر کی آزاد فضاؤں کو دلگرفتگی سے تکتا ہے–پر رکھتا ہے–اڑنے کی طاقت رکھتا ہے-پر اڑ نہیں پاتا–اسکی بے بسی-اور بے کلی-صرف وہی جانتا ہے—قید کرنے والے کے لیے وہ محض تفریح کا سامان ہے–
حیرت ہے ایسی بینائی پر جو کسی پنچھی کی صورت میں بکھرے قدرت کے رنگ اور صناعی کو تو سراہتی ہے—پر اسکی اذیت بھری آنکھوں میں موجود بے بسی سے نابینا ہوجاتی ہے–تو ایسی آنکھ کا اندھا ہوجانا ہی بہتر ہے—جو کسی آزاد وجود کو قید میں ڈال کر–سکون سے دیکھتی ہے–
بظاہر آزاد نظر آنے والے انسان بھی مجبوریوں میں قید ہوتے ہیں-بالکل اسی بے زبان پنچھی کی طرح–
اور وہ قید ہوگیا تھا–اس کا دم گھٹا جاتا تھا–دل بغاوت کررہا تھا-زندگی ایک دم سے کٹھن لگنے لگی تھی—وہ باندھ دیا گیا تھا قسمت کی زنجیروں سے–جو قسمت میں لکھ دیا گیا تھا وہ مل گیا تھا چاہے کسی بھی طرح ملے–
عبداللہ اپنے کمرے میں بیٹھا بے مقصد دیواروں کو گھور رہا تھا-وہ سر درد کا بہانہ کرکے شام سے کمرے میں بند تھا-چھٹیاں اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھیں-اور ایک ایک کرکے مہمان بھی واپسی کی تیاریاں کررہے تھے-سالویہ تو اسی شام ہی واپس چلی گئی تھی-
عبداللہ—
کسی مانوس سی آواز نے اسے پکارا-
ایک معمولی سا عکس واضح ہوتا ہوتا باوجود ہوگیا تھا-وہ اس کے سامنے کھڑی تھی-
تم انسان بھی ایسے ہی ہوتے ہو–؟جلادینے والے-
تم تو آگ سے نہیں بنے–گوشت پوست اور مٹی کے بنے انسان ہو-مٹی تو کسی بھی سانچے میں ڈھل جاتی ہے-آگ تو صرف جلانا جانتی ہے–نہ کسی سانچے میں ڈھلتی ہے نہ کسی کے قابو میں آتی ہے–
تم نے ایسا کیوں کیا-؟
وہ آنکھوں میں آنسو لیے اسکے سامنے سراپا سوال تھی-
تم رو رہی ہو–پری –؟
وہ بیڈ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا—
ہاں –اگر میں انسانوں میں سے نہیں تو اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ مجھ میں احساس نہیں-میری محبت ناٹک تھی؟ یا محض دکھاوا-؟
وہ کرسی پر ڈھے گیا–
میں خود مجبور ہوں–میں کیا کرتا–پری –؟
تم ہی بتاؤ-میں نے تم سے کوئی دھوکہ نہیں کیا اور نہ ہی میں اس معاملے میں انوالوڈ تھا–وہ بے بسی سے اسے وضاحت دے رہا تھا–
وہ اسکے سامنے بیٹھی سر جھکاۓ آنسو بہارہی تھی-اسکی سسکیاں کمرے کی خاموشی میں خلل ڈال رہی تھیں-
کبھی کبھی کتنا کٹھن لگتا ہے کسی روتے ہوۓ انسان کو چپ کروانا-!اور جب وجہ بھی بلاواسطہ آپ ہوں۔
وہ دل گرفتگی سے اسے روتے دیکھ رہا تھا-
اس کے دماغ میں بہت سے منصوبے آرہے تھے-
پری ابھی چلو میرے ساتھ-ہم ابھی نکاح کریں گے-
کافی دیر بعد وہ آخر کسی فیصلے پر پہنچتے ہوۓ بولا۔
کیا کہہ رہے ہو؟وہ آنسو پونچھتے بولی۔
ہاں میں نے فیصلہ کرلیا ہے-
اور تمہارے گھر والے-؟انہیں کیا منہ دکھاؤ گے-؟
اس بات کو چھوڑو پری-تم انکے سامنے مت آنا -انہیں کبھی بھی پتہ نہیں چلے گا-
یعنی تم مجھے ان سے چھپا کے رکھنا چاہتے ہو-؟
فی الحال یہی بہتر ہے-
تم چلو بس–میں یہاں سے نکلتا ہوں-تم مجھے باہر ملنا
-وہ تذبذب کا شکار نظر آرہی تھی-
کچھ نہیں ہوتا –میں ہوں نا–
نیلی آنکھیں مسکراہٹ میں ڈھلی اور اگلے ہی لمحے عبداللہ وہاں اکیلا تھا
—————————–
ملکہ کہسار پر سردیوں کا موسم گزر چکا تھا-سارے ادارے پھر سے کھل گۓ تھے-منجمد حیات تمازت آفتاب سے قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی-
ماسٹر ایوب کا مہمانوں سے بھرا گھر اب صرف اپنے مستقل باشندوں کو خود میں سموۓ پوری شان سے سر اٹھاۓ پہاڑوں کو تکتا تھا-اس کے سفید درودیوار سورج کی کرنوں سے آنکھ ملاتے ہی مزید سفید دکھائی دینے لگتے تھے-
ماسٹر ایوب اپنی برسوں پرانی روایت نبھاتے ہوۓ۔۔۔ اب بھی اپنے سکول کے احاطے میں بچوں کو سامنے بٹھاۓ کہانیاں سناتے تھے-ان کے سر پر چمکتا سورج اتنے ہی غور سے ماسٹر صاحب کی باتیں سنتا تھا جتنے غور سے سامنے بیٹھے پر اشتیاق چہرے-
اور سکول کے تمام دریچے-پیڑ اور بیل بوٹے بالکل ویسے ہی خاموش قہقہے لگاتے تھے –جیسے ماسٹر صاحب کسی بچے کی معصوم سی بات پر ہلکا سا ہنستے تھے-
برف کے بوجھ تلے دبے پیڑوں نے سردیوں کے ختم ہونے پر سکھ کا سانس لیا تھا اور ان پر بیٹھے پرندے اپنی اپنی بولیوں میں رب تعالیٰ کی تسبیح و تحلیل بجالاتے تھے-پربت البتہ ابھی اپنے سروں پر برف کی چادر جماۓ محو آرام لگتے تھے-
ابراہیم ہاؤس کا لیڈیز پارلر پھر سے آباد ہوگیا تھا اور شمع اس میں آتے جاتے کسٹمرز کے ساتھ مصروف سی نظر آتی تھی-
بچوں کے سکول سدھار جانے کے بعد دادو دھوپ سینکنے لان میں آبیٹھتی اور ہمیشہ کی طرح تیز تیز سلائیاں چلاتے ہوۓ کوئی نا کوئی نیا سوئیٹر بنتی رہتی-
چوں چوں کرتی چڑیاں لان میں رکھے باجرے کے کونڈوں پر آکر پورے حق سے اپنا رزق کھانے لگتیں-اور کبھی کبھی جگہ نہ ملنے پر ایک دوجے کو چونچیں مار مار کر بھگادیتیں-
اور کبھی کبھی جانے ایسا کیا ہوتا کہ گردن کے بال پھلاۓ —غصے سے شور مچاتی چند چڑیوں کا ایک ٹولہ —اپنے کسی ایک ساتھی پر ٹوٹ پڑتا اور اس پر تابڑ توڑ حملے کیے جاتا-
آۓ ہاۓ –دیکھو تو کیسے بیچاری کو مار مار کے ادھ موا کردیا ہے–ارے تمہاری کونسی زمین دولت ہے جسکی خاطر لڑتی ہو–؟جھلیاں-
دادو انہیں لڑتا دیکھ کر مخاطب کرتیں جیسے وہ انکی زبان سمجھتی ہوں-
اور اکثر ایسا ہوتا کہ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر چڑیوں کو اٹکھیلیاں کرتے دیکھتی رہتیں–
جب وہ ایک شاخ سے پھدک کر دوسری پر جاتیں –یا فرصت سے کسی اونچی ڈال پر بیٹھ کر اپنے پنکھ سنوارتیں–یا اپنی ننھی منی آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرتیں اور اگلے ہی لمحے ذرا سی آہٹ پر چوکنا ہو کر گردن گھما گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگتیں—اور انکے چھوٹے سے بدن میں موجود نازک سا دل دور سے ہی زور زور سے دھڑکتا نظر آتا–
دادو کو انہیں دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا —
کبھی کبھار کوئی انوکھا سا پہاڑی پرندہ اپنے رنگ برنگے پروں کی چھب دکھلاتا اوپر سے پرواز کرتا گزرتا تو وہ بے اختیار سبحان اللہ کہہ اٹھتیں اور۔۔۔۔ اسے دور تک دیکھتی رہتیں–فطرت کے حسن کے ساتھ بتانے کو اور اسے سراہنے کو انکے پاس وقت ہی وقت تھا-وہ دوسری عمر رسیدہ خواتین کی طرح محلے کی خبروں میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی تھیں—
بچے سکول سے آکر کھانا کھا رہے تھے-اور اسکے بعد انہوں نے مل کے دھما چوکڑی مچانی تھی–اکثر ہمسایوں کے بچے بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالنے آجاتے یا اس گھر کے بچے وہاں جاکر ادھم مچا آتے-
دھوپ آہستہ آہستہ دیوار سے لگتی جارہی تھی-دادو وہیں کرسی ڈالے بیٹھی تھیں اور بچے ٹیچر ٹیچر کھیل رہے تھے-جبرئیل ماسٹر بنا سب کو پڑھا رہا تھا-اور باقی سب سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے–
شزا سات برس کی ہونے کو تھی اور اب ٹو کلاس میں ہوگئی تھی–اسے کافی حد تک لکھنا پڑھنا آگیا تھا–
اس کے ساتھ محلے کی دو اور بچیاں کھیلنے آتی تھیں–اب تینوں کسی بات پر لڑ رہی تھیں-
ہا—شزا تمہیں شرم نہیں آتی–میں تمہاری مما کو بتاتی ہوں–
جاؤ بتادو –میں کونسا ڈرتی ہوں–
ہااااا—تم اپنی مما سے نہیں ڈرتی–دوسری بچی نے بڑی بی کی طرح ناک پر انگلی رکھ کر کہا–
تم کتنی بدتمیز ہو۔۔۔ویری بیڈ۔۔۔
کیا بات ہوگئی ہے—؟بچو–
دادو نے پاس آکر پوچھا
دادو یہ دیکھیں شزا نے کیا لکھا ہے-
بچی نے ان کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا-
دادو اردو تو پڑھنا جانتی تھیں–وہ چشمہ درست کرتی اس کو پڑھنے لگیں–
جیسے جیسے وہ پڑھتی جارہی تھیں انکا چہرہ سرخ ہوتا جارہا تھا-
یہ تو نے لکھا ہے شزا —؟
جی دادو اسی نے مجھے لکھ کر دیا ہے–بچی نے تصدیق کی۔۔
دادو نے دو تین تھپڑ چٹاخ سے شزا کو رسید کیے–
اس نے جواباً پاس کھڑے فائق کو ایک چماٹ مار کر دھکا دے کر نیچے گرادیا–
دادو نے اسکے دونوں ہاتھوں کو پکڑا-
یہ سب کہاں سے سیکھا ہے تو نے–؟کس نے سکھائی ہیں تجھے اتنی بڑی بڑی باتیں–؟
دادو لال بھبوکا چہرہ لیے اسے جھنجھوڑ رہی تھیں–انکا دماغ چکرانے لگا تھا ایک سات برس کی عمر کو پہنچتی بچی اتنی بڑی بڑی باتیں کیسے لکھ سکتی تھی–؟
فائق زوروشور سے بین بجانے میں مصروف تھا–
شور شرابا سن کر شمع بھی باہر آگئی–
کیا ہوگیا ہے خالہ–؟
یہ دیکھ —یہ اسکے کرتوت–انہوں نے بلا کسی لحاظ کے کہا–
بہت اچھی تربیت کررہا ہے یہ منحوس ٹی وی تمہاری اولاد کی-میں تو کہتی ہوں گھر بٹھاؤ ایسی اولاد کو اور دن رات ٹی وی کے سامنے چپکادو-بہت نام روشن کرے گی ماں باپ کا-
دادو نے کاغذ شمع کے ہاتھ میں تھمایا-
شمع نے اسے پڑھ کر بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھا-
اس میں نا قابل بیان الفاظ لکھے تھے کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا کہ ٹو کلاس کی بچی ٹی وی پر کارٹونز کی بجاۓ وہ سب دیکھتی رہی ہے جسکو —کوئی بھی حیا دار انسان– دیکھتے ہوۓ خود سے بھی شرما جاۓ–اس نے جو کچھ دیکھا تھا اسکی عکس بندی من وعن الفاظ کی صورت کردی تھی-
تجھے تو میں کارٹونز لگا کر دیتی تھی تو فلمیں دیکھتی رہتی ہے–؟ہیں شرم نہیں آتی تجھے؟
-اب شمع نے اسے ایک تھپڑ جڑا–
اسکو کیوں شرم آۓ گی—؟یہ تیری ماں ہے یا تو اسکی ماں ہے؟دادو نے بہو کو لتاڑا۔
یہ تو وہ بات ہوگئی –بن سنور کے خود نکلو اور پھر ہر گھورنے والے کی آنکھیں پھوڑتے پھرو–دادو اونچی آواز میں بڑبڑاتے ہوۓ اپنا سامان سمیٹنے لگیں–دھوپ دیوار پر چڑھ چکی تھی-
شمع نے اسے دو چار دھمکیاں دے کر تفتیش کی تو—پتہ چلا کہ وہ ماں کے جانے کے بعد چینل بدل لیتی تھی—اور کارٹونز کی بجاۓ موویز دیکھتی رہتی تھی ماں کو فرصت ہی نہیں تھی کہ دوبارہ آکر دیکھتی۔کچا ذہن تھا اور ہر چیز کو جاننے کا تجسس—
ٹی وی جو دنیا جہان کے اچھے اور برےمناظر دکھاتا ہے-والدین اپنی اولاد کو اسکے حوالے کردیتے ہیں کیونکہ انکے پاس تربیت کے لیے وقت نہیں–اصل بات تو انکو اعلیٰ سے اعلیٰ لباس رہائش خوراک
تعلیم اور دنیا بھر کی تمام آسائشیں فراہم کرنا ہے–اور پالنے اور تربیت کرنے کا کیا ہے ؟وہ تو ہو ہی جاتی ہے—
جیسے کوئل اپنے بچے کوے کے گھونسلے میں چھوڑ کر بے فکر ہوجاتی ہے–کہ جب تک کوے کو انکی اصلیت پتہ چلے گی تب تک وہ پرواز کرچکے ہوں گے—ایسی ہی والدین اپنی اولاد کو ٹی وی موباٸل اور لیپ ٹاپ کے سامنے چھوڑ کر بے فکر ہوجاتے ہیں۔
ہر آنے والی نسل ۔۔۔پہلی نسل سے زیادہ ذہین چالاک اور اپنی عادات و اطوار میں مختلف ہوگی کیونکہ انکو تربیت دینے والے انکے والدین نہیں— بلکہ سکرین پر اچھلتے کودتے–ناچتے گاتے–ہنستے روتے—اچھا برا بولتے کردار ہیں–پھر وہ چاہے انسان ہوں یا کارٹونز–
وہ بچوں کے لاشعور پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں–اور وہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں–یہ لاشعور –انکے بڑے ہونے تک انکا کردار بن جاتا ہے–
انسان کو بچپن میں ملنے والا ماحول اسکے کردار کا تعین کرتا ہے—ہم بچے کو ناسمجھ جان کر اسکے سامنے سب بولتے ہیں اور ہر عمل کرتے ہیں مگر۔۔۔
وہ بالکل ایک ٹشو پیپر یا سیاہی چوس کاغذ کی طرح اپنے اردگرد ہونے والی ہر چیز کو جذب کرتا رہتا ہے–اور جب اسے پانی میں ڈالا جاۓ تو وہ وہی رنگ چھوڑے گا جو اس نے جذب کیا ہے—
پھر والدین کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسکی نازیبا حرکات کا ذمہ دار معاشرے کو یا اسکی اپنی ذات کو ٹہرائیں–
پانچ سے سات سال کا وقت کسی بھی نارمل بچے کی تربیت کے لیے کافی ہوتا ہے اسکے بعد اس بنیاد پر بالکل ویسی ہی عمارت بنتی چلی جاتی ہے۔
———————————
شام کا اندھیرا پوری طرح پھیل چکا تھا ابھی اس میں رات کی سیاہی شامل نہیں ہوئی تھی-عبداللہ بائیک گھسیٹتا ہوا سڑک تک آیا -پہاڑی کے قریب پری سرخ لباس میں ملبوس کھڑی تھی-اور قدرے خوش دکھائی دیتی تھی-کچھ دیر قبل اس نے بادامی کلر کا لباس پہن رکھا تھا–
وہ جیسے ہی بائیک پر سوار ہوئی –عبداللہ نے زن سے اسے بھگانا شروع کردیا —
ہم کہاں جارہے ہیں–؟
مولوی کے پاس-اس نے مختصر جواب دیا-
اور گواہ–؟
وہ بھی ہیں–
اسکے بعد سارا سفر خاموشی سے طے ہوا—علی سے وہ پہلے ہی بات کرچکا تھا-
یہ گاؤں کی ایک چھوٹی سی مسجد تھی–وہ دونوں جوتے باہر اتار کر اندر داخل ہوۓ-عبداللہ نے جان بوجھ کر اس دوردراز گاؤں کی مسجد کا انتخاب کیا تھا–کیونکہ ماسٹر ایوب کے جان پہچان والے کہیں بھی نکل سکتے تھے-
علی پہلے سے ہی وہاں موجود تھا ساتھ تین لوگ اور بھی تھے جو گواہ کے طور پر بلاۓ گۓ تھے-
بھابھی السلام و علیکم–
علی نے ڈرتے ڈرتے سلام کیا–چڑیل کا کیا اعتبار خون ہی پی جاۓ–
وعلیکم سلام–بھیا آپ ہم سے ڈریے مت–
پری نے اسکا خوف بھانپتے ہوۓ کہا۔
تم نے امام صاحب سے بات کی–؟عبداللہ نے علی سے پوچھا۔
ابھی کرتے ہیں–
اور یہاں کسی کو مت بتانا کہ بھابھی—-چڑیل—میرا مطلب انسان نہیں ہے—
علی نے اسکے کان میں سرگوشی کرتے کہا-
عبداللہ کے گھورنے پر وہ ہنسی دبا گیا-
علی نے گواہوں میں سے ایک کو اشارہ کیا اور اس نے جاکے امام صاحب سے بات شروع کی–وہ عمر رسیدہ اور سنجیدہ طبیعت کے مالک انسان لگ رہے تھے–
کچھ دیر کی گفتگو کے بعد اس گواہ نے اشارے سے انہیں بلایا-
