Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ins o jaan (Episode 16,17)

Ins o jaan by Maimona Aman

شزا—شزا—کہاں ہو تم-؟

دادو نیچے بلارہی ہیں-

جبرئیل دھم سے دروازہ کھول کر اسکے کمرے میں آیا-وہ جو مگن سی موبائل پر کچھ دیکھ رہی تھی-یک دم گھبراگئی-جلدی سے اس نے موبائل چھپادیا-

ہاں کیا کہہ رہے تھے تم-؟

اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی-پکڑے جانے کے خوف سے ہاتھ ہولے ہولے کانپ رہے تھے-

میں اتنا اونچا اونچا اعلان کررہا تھااور تمہیں میری آواز ہی نہیں سنی۔۔-

کیا کررہی تھی تم-؟

اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا-

ک–کچھ نہیں–بھائی پڑھ رہی تھی بس–

لگ تو نہیں رہا–اس نے اس کے آس پاس نگاہ دوڑائی وہاں کوئی کتاب نہیں تھی-

اس کی زیرک نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں جس پر پریشانی اور جھوٹ واضح تھا-وہ انیس برس کی عمر میں کافی سمجھدار اور سنجیدہ مزاج تھا-بچپن سے ہی وہ اپنے باقی بہن بھائیوں سے مختلف تھا-ان کی طرح بے ادب اور شریر نہیں تھا-

اچھا چلو—دادو بلارہی ہیں–

آئی۔۔

وہ اپنے بال سمیٹتی بولی–اصل میں وہ اس کےباہر جانے کا انتظار کررہی تھی تاکہ موبائل کو کسی محفوظ جگہ چھپاسکے-

اچھا جلدی آجاؤ-وہ مشکوک سی نظروں سے اسے دیکھتا باہر جانے کو مڑ گیا-

اف–کہاں چھپاؤں تجھے–وہ کچھ دیر مناسب جگہ ڈھونڈتی رہی اور پھر میٹرس کے نیچے موبائل چھپا کر باہر نکل آئی-

************************************

سناؤ شزا جی –کیسی جارہی ہے فرینڈشپ-؟

زمل نے اسکے قریب بیٹھتے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔

بہت زبردست–یہ دیکھو اس نے مجھے گفٹ بھی دیا ہے–اس نے فخر سے گردن اٹھا کر کہا-

ارے واہ–یہ تو بہت مہنگا فون لگتا ہے–

ہاں نا–بہت اچھا ہے–

اسکی آنکھیں چمکنے لگیں-

کوئی ڈیٹ شیٹ–اس نے شزا کو آنکھ مارتے پوچھا–

نہیں–نہیں–میری دادو کو پتہ چل جاۓ گا-

افف–کتنا ڈرتی ہو تم–

ایسی بزدل لڑکی میری دوست نہیں ہوسکتی-چڑیا جتنا دل ہے تمہارا۔مجھے تو تمہیں دوست کہتے شرم آتی ہے۔اتنی ڈرپوک ہو تم۔۔مجھے دیکھ کر بھی کچھ نہیں سیکھا۔

اچھا –اچھا تم تو ناراض ہی ہوگئی–سوری–

تمہاری دادو نے بھی اپنے دور میں بہت کچھ کیا ہوگا سویٹی–اس نے معنی خیزی سے مسکراتے ہوۓ کہا–

ہیں—؟شزا حیران ہوئی–

ہاااں–بڑی بوڑھیاں صرف بچوں پر پابندیاں لگاتی ہیں-اپنے زمانے میں بڑی چیز ہوتی تھیں یہ–ایسی ہی دیکھنے میں شریف لگتی ہیں–سب اپنے دور میں انجواۓ کرتے ہیں-

تمہیں کیا پتہ–میری دادی کے بھی بڑے قصے ہیں–سینما جاتی تھیں موویز دیکھنے اور دوست کے گھر کا بہانہ کرکے کسی لڑکے سے ملنے جاتی تھیں–پر شادی میرے دادا سے ہوگئی-ہاہاہا–

وہ مزے سے اسے اپنی داددی کی باتیں سنا رہی تھی–اور شزا کی آنکھیں حیرت سے پھیل رہی تھیں-

وہ دونوں اس وقت کالج کے لان میں پڑے ایک بنچ پر بیٹھی تھیں–

بہت دیر زمل اسے اس طرح کی کہانیاں سناتی رہی–جو اسکی دادی سے شروع ہوکر–اسکی پھوپھیوں اور خالاؤں سے ہوتی ہوئی اسکی ماں پر ختم ہوئی تھیں-

ہاں دیکھو یہ سب لوگ چھپ چھپ کے وہی کرتے ہیں جس سے ہم بچوں کو منع کرتے ہیں اور ڈراتے ہیں–اس میں ایسی گھبرانے کی کوئی بات نہیں-سب کے افئیرز ہوتے ہیں–مجھے تو ایسی لڑکیاں بالکل پسند نہیں جو دبی دبی سی —لپٹی لپٹی سی اور ہر وقت ڈری رہتی ہیں–کسی لڑکے سے بات نہیں کرتیں–کہتی ہیں—یہ تو گناہ ہے–غیر لڑکوں سے ہنس کر بات نہیں کرنی چاہیے-فالتو نہیں بولنا چاہیے-دوستی نہ لگاؤ گفٹس نہ لو-فون پر بات نہ کرو–فلاں فلاں—ایسی شریف زادیاں ہیں تو گھر سے باہر ہی نہ نکلیں–پھر بھی تو مرد دیکھتے ہیں–ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتی ہیں-اور میل ٹیچرز سے بھی پڑھتی ہیں–

بھلا یہ بھی کوئی بات ہے–چھوٹی سوچ کے لوگ–اس نے نخوت سے سر جھٹکا-یہ سب باتیں چھوٹے ذہن کے لوگ کرتے ہیں-انسان کو براڈ مائنڈڈ ہونا چاہیے-

وہ اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی جو شزا کے دماغ میں جڑیں پکڑتا جارہا تھا۔

جب شزا وہاں سے کلاس میں جانے کو اٹھی تو اس کا برین اچھی طرح واش ہوچکا تھا-اسے زمل کی ہر بات ٹھیک لگ رہی تھی-

ہونہہ-بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ لڑکوں سے بات نہیں کرنی چاہیے–بزدل لڑکیاں-ہر وقت ڈرتی رہتی ہیں-اس نے ناگواری سے سوچا اور کلاس میں چل دی-

******************************

وہ گھر آئی تو لاؤنج میں ٹی وی چل رہا تھا-اس پر کوئی اسلامی چینل لگا ہوا تھا-جس پر کوئی مفتی صاحب مسائل بیان کررہے تھے-

دادو وہیں بیٹھ کر سلاد کے لیے سبزیاں کاٹ رہی تھیں-

وہ بھی بیگ رکھ کر صوفے پر نیم دراز ہوگئی–

کیا بورنگ چیز ہے–اس نے بیزاری سے سکرین پر نظر آتے مفتی کو دیکھا-

دادو ریموٹ کدھر ہے–؟

کیوں –؟کیا کرنا ہے تو نے–؟انہوں نے کھیرے چھیلتے ہوۓ پوچھا۔

دادو یہ چینل چینج کریں–کوئی اچھی سی چیز لگائیں نا-

چل جا ادھر سے–اچھی سی چیز لگائیں–زبان ہی چلتی ہے بس تیری عقل تو نام کی نہیں ہے–

دادو اسے گھورتی ہوئی ریموٹ ٹانگ کے نیچے دبا کر بیٹھ گئی ۔دادو کو شاید غصہ آیا ہوا تھا-

شزا نے کوئی جواب نہ دیا-

آپ کہتے ہیں یہ دقیانوسی باتیں ہیں چھوٹے لوگوں کی چھوٹی سوچ ہے–نامحرم سے دور رہنا–مردوں سے کترانا اور گھلنے ملنے سے پرہیز کرنا –یہ سب بزدلی کے کام ہیں–

کیا سوچ کر آپ یہ بات کرتے ہیں–؟

کبھی اپنا احتساب کریں-آپ لوگوں پر نہیں براہ راست رب کریم پر بات کررہے ہیں اسے نعوذ باللہ دقیانوسی کہہ رہے ہیں–

کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے اس پہلو کو سوچا–؟اس پر کوئی ریسرچ کی-؟

بڑی بڑی اعلیٰ ڈگریاں تو لی ہیں۔ مشہور اداروں سے پڑھے ہیں–کانسیپٹس کلئیر کیے ہیں-ریسرچ تھیسز لکھے ہیں محنت کی ہے-پوزیشنز لی ہیں-نام کمایا ہے–

مگر—کبھی قرآن میں لکھے احکامات پر تھوڑا سا غور کیا ہے-؟

نہیں—نا —نا –آپ کے پاس وقت ہی نہیں–کہ اس کتاب کو پڑھیں–مخمل کے غلاف میں لپیٹ کر اونچے طاقچے پر سجادیا-گھر میں برکت کے لیے رکھا ہے–بس پڑا رہے–

مفتی صاحب نہایت دھیمے انداز میں اپنی بات کو دلاٸل سے سجھارہے تھے۔الفاظ پروزن تھے مگر لہجہ بلند یا حکمیہ نہیں تھا۔

ارے اللہ کے بندو–تم اللہ کے بندے کہلاتے ہو بس–بن کے نہیں دکھاتے–لوٹ کر تو وہیں جانا ہے–یہ کیوں بھول جاتے ہو-

سورة الاحزاب کھول کر پڑھو۔۔اس میں امہات المومنین کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے۔۔

کہ کسی نا محرم سے لچک دار لہجے میں بات مت کریں–مبادا جس کے دل میں روگ ہو وہ لالچ میں آجاۓ-اور اپنے گھروں میں ٹہری رہو۔

اگر اتنی پاکیزہ خواتین کو یہ حکم دیا جارہا ہے۔جن کا رتبہ سب عورتوں سے افضل ہے اور جو سب سے زیادہ حیا والی اور طاہرہ ہیں۔ جن سے کسی فتنہ کا شبہ نہیں۔

تو عام عورتوں پرکتنی احتیاط لازم ہے۔؟ارے سوچو۔۔۔اللہ کے بندو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ہم تو انکے قدموں کی خاک کے بھی برابر نہیں جنکو یہ حکم دیا گیا ہے۔

یہ میں نہیں کہہ رہا–تمہارے–تمہارے رب کا حکم ہے–

اب اس میں کیا حکمت ہے-لفظوں پر غور کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ لالچ میں آجاۓ-

اس روگ سے مراد–بد نیتی ہے-شہوت ہے–عورت کی حرص ہے-

کہ اگر عورت کسی غیر مرد سے نرم لہجے میں بات کرے گی تو اس مرد کے دل میں عورت کا کوئی رعب نہیں ہوگا-وہ اس سے بات کرتے ہوۓ احتیاط نہیں کرے گا-اسے کمزور سمجھے گا-اور اس کو کمزور کردار کی مالک سمجھے گا۔اور اس عورت کا شکار کرنا۔اسے اپنی باتوں کے جال میں جکڑنا۔اور تعلقات بڑھانے کی غرض سے بات کو طول دینا اس کے لیے آسان ہوگا۔

اور وہ عورت اگر اپنے لہجے میں سختی نہیں رکھتی۔کسی سے گفتگو میں احتیاط نہیں برتتی۔۔اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارتی ہے۔اپنے کردار کی دشمن خود ہوتی ہے۔

اور تعلقات بڑھتے چلے جاتے ہیں جو تباہی پر منتج ہوتے ہیں۔لفظ عورت کا تو مطلب ہی یہی ہے ۔۔چھپی ہوٸی چیز۔۔وہ جتنا خود کو چھپا کر رکھے گی اتنی ہی معزز ہوگی۔اگر نا محرم سے تعلقات رکھنا اتنا معیوب اور نا جاٸز نہ ہوتا۔۔تو تمہارا رب نکاح کو رواج کیوں دیتا؟۔عورت کو ایک وقت میں ایک ہی مرد سے منسوب کیوں کرتا۔؟ اسے اپنی زیب و زینت چھپانے کا حکم کیوں دیا جاتا؟

ارے اللہ کے بندو–تمہارے رب نے تو یہ بھی کہا ہے کہ بچہ جب سات برس کا ہوجاۓ تو اسکا بستر الگ کردو-وہ ماں اور بہن کے ساتھ نہ سوۓ-وہ تو بچہ ہے–محرم ہے-پھر بھی یہ حکم دیا گیا-

جانتے ہو کیوں؟

معاشرے کو پاکیزہ بنانے کے لیے۔اس میں امن و سکون کے لیے۔شیطانیت سے بچنے کے لیے۔بچہ ہے۔۔جب اس کا ذہن بڑا ہوگا اور وہ نٸی باتیں سیکھے گا تو سب سے پہلے ماں بہن ہی نظر آٸیں گی۔جسم کی ساخت اور بناوٹ تو سب کی ایک سی ہے۔تو خدانخواستہ اس کے دل میں اپنی محرم عورتوں کے لیے براٸی آجاۓ۔۔

اب آپ کو میری باتیں شاید واہیات لگ رہی ہوں۔۔۔

لیکن آپ روز سنتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ بیٹے نے باپ کو یاماں کو قتل کردیا۔۔۔بہن کو۔۔ ماں باپ نے اولاد کو مار دیا۔

سگے رشتے خون کے رشتے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگۓ ہیں۔۔اگر یہ ہوسکتا ہے تو کیا نہیں ہوسکتا اس فانی دنیا میں؟

پر لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔انہیں یہ سارے احکامات بے معنی لگتے ہیں۔

مفتی صاحب اور بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے۔مگر شزا اپنا بیگ اٹھا کر دھپ دھپ کرتی وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگٸی۔اس نے کان لپیٹ لیے تھے۔یہ سب باتیں اس کے لیے بے معنی اور فضول ہوچکی تھیں۔کیونکہ دل پر مہر لگ چکی تھی۔

اس کے دل کی ان چھوئی زمین پر تبریز خان کے نام کی ہوائیں چلنے لگی تھیں-وہ اس کے لیے اب محض ایک بواۓ فرینڈ نہیں رہا تھا-بلکہ وہ اس کے ساتھ مستقبل کے خواب بھی دیکھنے لگی تھی-باقی لڑکیوں کی طرح اس کا بھی یہی مسئلہ تھا کہ وہ میٹھی باتوں کے حصار میں خود کو محفوظ تصور کرنے لگی تھی-

جب وہ کہتا تھا کہ —تم دنیا کی حسین ترین لڑکی ہو اور میں نے آج سے پہلے کبھی کسی لڑکی سے فرینڈشپ نہیں کی-تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہو-میں تمہیں کبھی دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا—تو شزا ابراہیم فوراً سے پہلے اس کی باتوں پر ایمان لے آتی تھی-بالکل ایسے ہی جیسے بچے کو کہا جاتا ہے کہ کھانا نہیں کھاؤ گے تو جن آجاۓ گا–اور وہ ایمان لے آتا ہے-

بالکل ایسے ہی وہ بھی اس کی ہر بات پر ایمان لے آتی تھی-

فون پر تو تقریبا ہر روز ہی بات ہوتی تھی-اور اکثر رات کے دوسرے یا تیسرے پہر وہ چھت پر ملا کرتے تھے-وہ اب تک نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کے گھر کی چھت پر کیسے آتا ہے اور یہ کہ اس کا گھر کہاں ہے-

نہ ہی کوئی اور جانتا تھا-شزا کے گھر والوں کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑی تھی-سب کچھ بہت سیدھے سے چل رہا تھا-

**********************************************

آپ کے مطلوبہ نمبر سے اس وقت جواب موصول نہیں ہورہا-

یہ بات وہ تین دن میں کوئی سات سو بار سن چکی تھی-تبریز کا فون تین دن سے مسلسل بند تھا-اس کے پاس اسکا نہ کوئی رابط تھا نہ اتہ پتہ-زمل نے بھی انکار کردیا تھا اس کو بھی اس کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا-

شزا دو دن سے کالج بھی نہیں جارہی تھی-بس طبیعت خراب کا بہانہ کرکے کمرے میں بند رہتی-

دادو اس کے لیے طرح طرح کی چیزیں بناتی رہتیں-کبھی نظر اتارتی اور کبھی ٹونے ٹوٹکے کرتی-

کتنا تو سمجھاتی ہوں تجھے پر تو میری بات مانتی ہی نہیں–بال نہ کھولا کر نظر لگ جاتی ہے-اب وہ پھر اس کے سرہانے بیٹھ کر کہہ رہی تھیں اور وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوئی تھی-

وہ اسے سوتا سمجھ کر چلی گئی تھیں -اور اس کی تو نیند بھوک پیاس سب ختم ہوگئی تھی-

یونہی کئی دن گزر گۓ تھے-اب وہ پہلے جیسی نٹ کھٹ اور زندہ دل سی شزا نہیں رہی تھی-ہر وقت بجھی بجھی اور چپ چپ رہتی تھی-کالج اس نے جانا شروع کردیا تھا-مگر پڑھائی میں بھی اسکا دیہان نہیں رہا تھا-لیکچر کے دوران بھی وہ ہینڈفری لگاۓ میوزک سنتی رہتی-گھر آکے یا تو ٹی وی دیکھتی رہتی یا پھر پڑھائی کے بہانے کمرے میں بند ہوکر موبائل پر مصروف رہتی

-سب نے اس کی اس تبدیلی کو نوٹ کیا تھا مگر وجہ کسی کو معلوم نہیں تھی-انہوں نے شاید اب اس کی عادتوں سے سمجھوتہ کرلیا تھا-یا انہیں لگا تھا کہ وہ سنجیدہ اور ذمہ دار ہوگئی ہے-اسکا لابالی پن اور شرارتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھیں-اور وہ مطمئن تھے کہ وہ اپنی پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لینے لگی ہے مگر یہ صرف خام خیالی تھی-

یہ موسم سرما کی ابتدا تھی-رات کے ایک بجے کا وقت تھا-شزا کچھ دیر قبل ہی سوئی تھی-اچانک اس کے تکیے کی نیچے پڑا فون وائبریٹ کرنے لگا-وہ چونک کر اٹھی-یہ نمبر صرف تبریز کے پاس تھا-

اس نے سکرین پر نمبر دیکھا وہ کوئی اجنبی نمبر تھا-اس نے فوراً سے کال ریسیو کرکے کان سے لگایا-

کیسی ہو شزا ڈئیر-؟

اسکی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی-

وہ خود پر قابو نہیں رکھ پائی-اور اسکی سسکیاں کمرے کا سکوت توڑنے لگیں-

تم کہاں تھے-؟مجھے چھوڑ کیوں چلے گۓ تھے-؟وہ زاروقطار روتے ہوۓ اس سے پوچھ رہی تھی-

ریلیکس-روؤ تو مت –مجھے تکلیف ہوتی ہے تمہارے رونے سے-اب آگیا ہوں نا–میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا-بہت مشکل سے نکلا ہوں-

تم اب تو نہیں جاؤ گے مجھے چھوڑ کے–؟وہ اب بھی رو رہی تھی-

نہیں اب کبھی بھی نہیں-اس نے پورے اطمینان سے کہا-

اچھا رونا بند کرو-دروازہ کھولو-میں باہر کھڑا ہوں-

باہر–ہاااا–؟

وہ ننگے پیر کمرے کے دروازے کی سمت بھاگی اور جھٹ سے اسے کھول دیا-

وہ سامنے کھڑا تھا-اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگالیا-

شزا کے آنسوؤں میں شدت آگئی-اچھا اندر تو چلو–یہاں کوئی آنہ جاۓ-تبریز نے اس کے کان میں سرگوشی کی-اور اسے ساتھ لیے اندر آکر کمرہ لاک کردیا-

رونے سے اسکا چہرہ سرخ ہورہا تھا اور لمبے بال بکھرے ہوۓ تھے-

تمہیں اس وقت چاند بھی دیکھ لے تو چھپ جاۓ-تم روتے ہوۓ اور بھی حسین لگتی ہو-وہ اس کی تعریفیں کررہا تھا-اور وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھ رہی تھی-

شیطان آزاد تھا اور ان دونوں کے بیچ میں حائل تھا-شزا نے خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا اس وقت اس کے لیے کوئی چیز قیمتی یا اہم نہیں تھی-عزت جو رب سے اسے تحفے میں ملی تھی-اسے اسکی بھی پرواہ نہیں تھی-بس تبریز کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھلا بیٹھی تھی-وہ ساحر تھا–اس نے جانے کون سا منتر اس پر پھونکا تھا کہ وہ مزاحمت کر پائی تھی نہ انکار-

صدیوں کے انتظار کے بعد —بارش کا ایک قطرہ جو سیپ کے اندر بند ہوکر سچا موتی بن گیا تھا–صاف شفاف– بے داغ اور چمکتا ہوا–اسے جھوٹی محبت کے کیچڑ نے داغ دار کردیا تھا-

رات کے اس آخری پہر—جو قبولیت اور نور کا پہر تھا–اس پہر میں–اس سچے موتی کی کوئی قیمت نہیں رہی تھی-وہ انمول سے ہمیشہ کے لیے بے مول ہوگیا تھا۔

فجر کی اذانیں ہورہی تھیں–

تبریز تم جاؤ-دادو اٹھ جاتی ہیں اس وقت–شزا نے خمار زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا-

اوکے ڈئیر میں چلتا ہوں–اپنا خیال رکھنا-پھر ملیں گے-وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا جانے کی تیاری کرنے لگے-

وہ مسکرا کر اسے باہر جانے تک دیکھتی رہی-

اس بات سے بے پرواہ کہ وہ محبت کے نام پر اپنی قیمتی متاع گنوا چکی ہے—جدید دور کی جدید محبت اپنے تقاضے پورے کرچکی تھی۔اور ہر نقصان سے ماورا اپنے انجام کو پہنچ رہی تھی-

وہ ہر خوف سے آزاد ہوکر کروٹ بدل کر سوگئی-

Episode 17

پریشان ہے نا تو۔۔۔؟پھنس گیا ہے؟

راستہ بھی سجھاٸی نہیں دے رہا۔۔وہ ہولے سے مسکراۓ۔

عبداللہ چپ چاپ انہیں دیکھ رہا تھا۔

پتہ ہے تجھے پچھلی مصیبت سے یہاں کیا چیزنکال کے لاٸی ہے؟

انہوں نے ریت پر انگلیاں پھیرتے ہوۓ یک دم سر اٹھا کے اس سے پوچھا۔

اسکا سر بے اختیار نفی میں ہلا۔۔

توکل۔۔۔

بس ایک چیز ہے توکل ۔۔۔جس نے تجھے بچایا ہے۔۔اگر تو نے یہ توکل نہ کیا ہوتا تو آج تیری ہڈیوں کا سرمہ بھی نہ ملتا۔

وہ بہت حیرانگی سے انکی باتیں سن رہا تھا۔

یہ دیکھ۔۔انہوں نے ریت پر شہادت کی انگلی سے تین متوازی لکیریں کھینچیں۔وہ غور سے ان لکیروں کو دیکھنے لگا۔

جیسے مجھے یقین تھا کہ میں ریت پر انگلی پھیروں گا اور یہاں لکیریں پڑ جاٸیں گی۔میرے ذہن میں کوٸی شبہ نہیں تھا۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں ریت پر انگلی پھیروں اور کوٸی نشان ہی نہ پڑے؟

وہ رک کے اسے دیکھنے لگے۔انکا سفید ململ کا کرتہ گرم ہوا سے پھڑپھڑارہا تھا۔اور سفید بالوں سے اٹی ابرو آنکھوں پر جھکی تھیں۔ان آنکھوں میں ریت کی سی چکا چوند تھی۔جو مقابل کو اپنے بس میں کرنے کی طاقت رکھتی تھیں۔

نہیں۔۔عبداللہ صرف اتنا ہی کہہ پایا۔

تو بس۔۔۔یہی ہے توکل۔۔۔بھروسہ۔۔۔یقین۔۔صرف ایک ذات پر۔۔

انہوں نے ریت سے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔

ایسا توکل لے آ۔۔۔ایسا یقین لے آ۔۔جس میں کوٸی شک نہ ہو اتنا سا بھی نہیں۔۔انہوں نے ریت کی چٹکی بھری اور ہوا میں اچھال دی۔

تو پار لگ جاۓ گا۔۔

تجھے ایک عورت کا عشق۔۔مخلوق کا عشق۔۔بے چین کرکے یہاں لے آیا ہے۔۔اب پھر عشق کر۔۔۔بار بار کر مگر خالق سے۔۔۔یہی تیری معراج ہے۔یہ جو عشق مجازی ہے نا یہ عشق حقیقی تک پہنچنے کا راستہ ہے اور کچھ نہیں۔

تو بھٹک نہ جانا یہ راہ ہے بڑی سرسبز۔دھوکہ دیتی ہے۔سراب ہے۔اس ریت کی طرح۔

جا اللہ تیرا نگہبان ہو۔

وہ اٹھے اور ریت پر آسانی سے چلتے ہوۓ مخالف سمت میں جانے لگے۔۔

”میری نیا پار لگادے۔۔۔میری نیا پار لگادے۔۔“

ریتلے صحرا کے سناٹے میں اس اجنبی بزرگ کی سریلی صداٸیں گونج رہی تھیں۔۔۔

وہ بہت دور جاچکے تھے عبداللہ نے آنکھیں مسل کر انکا عکس تلاشنے کی کوشش کی۔۔۔مگر اب سب کچھ دھندلا رہا تھا۔۔

اس کی آنکھ کھل گٸی۔۔اس نے آس پاس دیکھا وہاں اسکے سوا کوٸی نہیں تھا۔۔۔حد نگاہ ریت کے ذروں کی راجدھانی تھی۔

یہ خواب تھا مگر بالکل حقیقت جیسا۔۔۔اسے بزرگ کی سفید ریش اور ململ کا کرتہ بالکل واضح یاد تھا۔۔۔

دوپہر ڈھل رہی تھی۔کھجور کے درخت کے نیچے پڑی خشک ہوچکی کھجوریں کھاکر وہ کسی ساۓ کی تلاش میں یہاں آگیا تھا۔۔یہ ریت کا بڑا سا ٹیلا تھا جو سورج کے سامنے اس کے لیے آڑ بن گیا تھا اور وہ اسکی چھاٶں میں بہت دیر بے مقصد بیٹھا ریت کے اس سمندر کو تکتا رہا تھا۔اسکی چکا چوند آنکھوں میں چبھتی تھی۔۔اسکی آنکھیں دکھنے لگی تو وہ انہیں موند گیا۔اور اسی اثنا میں ۔۔۔نیند کے چند لمحوں میں اس نے یہ خواب دیکھا تھا۔۔

سارے الفاظ من وعن اسے یاد تھے۔سب واضح تھا اس میں کوٸی ابہام نہیں تھا۔۔

وہ ریت کے ٹیلے کی اوٹ سے نکل کر باہر آیا۔وہی چاندی سی چمکتی سلطنت اسکے سامنے تھی۔۔ہر طرف پانی کی موجودگی کا گمان ہوتا تھا۔پر وہ جانتا تھا یہ سراب ہے۔۔وہاں پانی نہیں تھا۔۔اسکا حلق سوکھ رہا تھا۔

ہاتھ خالی تھے۔۔جیبیں خالی تھیں۔اسکا سارا سامان کھوگیا تھا اور وہ ایک لٹے پٹے مسافر کی مانند اس بے انت صحرا میں کھڑا تھا۔

اس نے اپنے بکھرے بالوں سے ریت جھاڑی جو نیچے گرکے اسکے قدموں تلے پڑی ریت کا پھر سے وجود بن گٸی تھی۔

اسے یاد آیا کہ اس نے اتنے دنوں سے نماز بھی نہیں پڑھی تھی۔یہاں وقت کا کوٸی حساب نہیں تھا۔وہ گھڑیوں سے وقت دیکھنے والا ساۓ سے کیسے وقت ماپ سکتا تھا؟اس نے اپنی کلاٸی کو دیکھا وہاں بندھی رہنے والی گھڑی اب نہیں تھی۔

یہاں کوٸی اذان کی آواز نہیں تھی۔مسجدوں سے پانچ وقت کے بلاوے نہیں تھے۔کوٸی بتانے والا نہیں تھا کہ تمہارا رب تمہیں کامیابی کی طرف بلارہا ہے دوڑے چلے آٶ۔

اور جو یہ بلاوے سنتے تھے ان میں سے چند ایک کے سوا باقی اٹھتے نہیں تھے۔انکے پیر تھے مگر وہ اس کامیابی کی طرف دوڑنےکی سکت نہیں رکھتے تھے۔وہ بلاوا سن کر بھی بہرے تھے۔زبان رب کی تعریف کرنے سے تھک جاتی تھی۔انکے پاس وقت نہیں تھا۔

پر یہاں تو کوٸی نہیں تھا جو اسے بلاتا۔۔

اس نے سر اٹھا کے آسمان کو دیکھا۔۔وہ مکمل سپاٹ تھا۔بے تاثر اور چٹختا ہوا۔

یہاں وہ تھا جسکا بلاوا اسکے ناٸب۔ منادی کرنے والے۔اسکی مخلوق۔۔۔ اپنے جیسی دوسری مخلوق کو سناتی تھی۔

یہاں کوٸی منادی کرنے والا نہیں تھا مگر وہ خود تھا جسکے پیغام کی منادی پوری دنیا میں گونجتی ہے۔

اس نے ساۓ کو دیکھا وہ ڈھل رہا تھا۔سورج کی جلن مدھم سی پڑرہی تھی۔شاید یہ عصر کا وقت تھا۔جانے کون سا دن تھا؟کون سی تاریخ تھی؟

اس نے ریت سے تیمم کیا۔۔اور وہیں ٹیلے کی چھاٶں میں نیت باندھ کر کھڑا ہوگیا۔

سوچنے کو کچھ نہیں تھا۔۔دماغ بالکل خالی تھا جیسے بے حس ہوگیا ہو۔

اس نے عصر کی نماز کی نیت کی۔

سبحانک اللھم وبحمدک

اے اللہ تو پاک ہے۔۔اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔

وہ اس کلام کے معنی تو جانتا تھا پر آج سےپہلے کبھی نماز میں ادا کرتے ہوۓ اسے سوچا نہیں تھا۔اسکی دنیا میں وقت کم تھا۔پر اس اجنبی دنیا میں وقت کا کوٸی حساب نہیں تھا۔وافر تھا۔۔بے جا تھا۔۔

الحمد للہ رب العالمین۔۔

تمام تعریفیں اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے

اب وہ سورة فاتحہ پڑھ رہا تھا۔پورے دیہان سے۔ہر لفظ کو محسوس کررہا تھا۔

اس جہان میں پانی نہیں تھا۔وہ پیاسا تھا۔

پر اسکے اندر بھی ایک جہان تھا۔اور وہ بھی پیاسا تھا۔برسوں سے اس وقت کا جو۔۔۔سارے کا سارا ایک ہستی کی تعریف میں بسر ہو۔وہ لمحات جب اسے۔۔اسکے کلام سے محسوس کیا جاسکے۔۔جب وہ تصور میں مجسم ہو۔

اسکے اندر کا جہان پیاسا تھا مگر اس میں تری تھی۔جو اسکی آنکھوں سے قطروں کی صورت بہنے لگی تھی۔

اس دشت میں اس کی تلاوت گونج رہی تھی وہ بہت ٹہر ٹہر کے پڑھ رہا تھا۔

ورتل القرآن ترتیلاo ….القرآن۔

اور قرآن ٹہر ٹہر کے پڑھو۔

اسکے آنسو ریت پر گررہے تھے۔اور اسکی سسکیاں ریت کا ہر ذرہ کان لگاۓ سن رہا تھا۔ویران دشت آباد ہوگیا تھا۔کوٸی خالق کاٸنات کا نام لیوا اسے کلام الہٰی سے آباد کررہا تھا۔

دشت اور ویرانے انسانوں سے نہیں اپنے رب کے نام سے آباد ہوتے ہیں۔بھرے پرے شہر ویران قبرستان ہیں اگر ان میں کوٸی عبد نہیں۔۔کوٸی اسکا نام لیوا نہیں۔۔

مالک اپنے غلام کی زبان سے اپنی تعریف سن رہا تھا۔اور اس بے انت صحرا کا ہر ذرہ بت بنا اس چاشنی کو اپنے اندر جذب کررہا تھا۔

***************************

اسکی زندگی کی ڈور لگتا تھا تبریز خان کے ساتھ بندھ گئی ہے-وہ فون نہ کرتا تو وہ گھنٹوں بیٹھ کر اسکے فون کا انتظار کرتی رہتی-وہ اس سے بات کیے بغیر سارا دن بولائی بولائی پھرتی تھی-جب اسکا دل چاہتا تو وہ ملنے آجاتا اور ہوس بھری محبت جتا جاتا-اور شزا ابراہیم کسی کٹھ پتلی کی مانند اس کے ہاتھوں میں ناچ رہی تھی-وہ رسی کھینچتا تو رقص تھم جاتا-چھوڑ دیتا تو رقص شروع ہوجاتا-

کچھ ہی دنوں میں اس کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی تھی-اسے اپنے گھر والے بھی برے لگنے لگے تھے-ان کے ساتھ بیٹھنے بات کرنے اور ہنسی مذاق کرنے کو دل نہیں کرتا تھا-کھانے پینے کی پہلی سی وہ شوقین نہیں رہی تھی-گھر والوں کو یہی پتہ تھا کہ اسکے ایگزامز قریب ہیں اس لیے پڑھائی کر کر کے یہ حالت ہوگئی ہے-

سترہ برس کی عمر میں ہی وہ اپنی شوخ مزاجی کھو بیٹھی تھی-آزاد لڑکیوں کی سی بے فکری اسکی زندگی میں ناپید ہوتی جارہی تھی-بس زندگی کا ایک ہی نام رہ گیا تھا–تبریز خان-

گھر میں مہمان جمع تھے-دادا جی اور اس کے چچا یوسف فیملی سمیت آۓ ہوۓ تھے-سب خوش گپیوں میں مصروف تھے-ہلہ گلہ ہورہا تھا

پر اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی-وہ اپنے کمرے میں بند تھی-جب صفورا اسے بلانے آئی-

تم یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟سب تمہارا ہی پوچھ رہے ہیں–

صفورا بے تکلفی سے اسکے بیڈ پر بیٹھ گئی-اسکے چہرے پر بچوں کی سی معصومیت تھی-اس نے حجاب کے سٹائل میں دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا-اس کے چہرے پر اطمینان اور آسودگی تھی-کسی جھوٹی محبت کا کرب نہیں تھا-

وہ بس –میں سورہی تھی-

اس نے بہانہ بنایا-

ارے واہ–یہ فون کب لے کر دیا چاچو نے-؟

اپنی طرف سے تو اس نے فون چھپا کر رکھا ہوا تھا مگر اسکی کزن کو وہ نظر آگیا تھا-

یہ—-یہ تو—میری فرینڈ کا ہے-اس سے کوئی بات نہیں بن رہی تھی-دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-

اتنی اچھی فرینڈ ہے تمہاری اتنا مہنگا فون تمہیں دے دیا-؟وہ سادگی سے کہہ رہی تھی۔

وہ اب اس کی سکرین پر انگلیاں پھیر رہی تھی-شزا کے ہاتھ کانپ رہے تھے-اس نے فون اسکے ہاتھ سے لے لیا-مبادا وہ میسجز ہی نہ پڑھ لے-

نہیں—یہ تو مذاق میں لے آئی تھی میں وہ—-رکھ کر بھول گئی تھی میں نے اٹھا لیا اور اسے بتایا نہیں-

کل واپس کردوں گی-

اس نے زبردستی مسکراتے ہوۓ فون آف کرکے سائیڈ پر رکھ دیا-

اچھا چلو نا باہر آؤ–اتنے دنوں بعد مل رہے ہیں اور تم مجھے لفٹ ہی نہیں کروارہی-

نہیں تم یہیں بیٹھو –یہاں بیٹھ کر ہی باتیں کرتے ہیں–

ارے شزا–تم اتنی بور کب سے ہوگئی–؟

باہر چلو نا–کوئی شرارت نہیں سوجھ رہی تمہیں آج-؟-وہ مسکرائی تو اسکی مسکراہٹ میں کتنی سچائی اور سادگی تھی-

میرا دل نہیں کررہا-

چلو اٹھو–بس اب میں کچھ نہیں سنوں گی-یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو میں تمہاری منتیں نہ کررہی ہوتی-

صفورا اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا—

چھوڑو نا–شزا مزاحمت کی کوشش کررہی تھی-

پر اس نے اسے بیڈ سے نیچے کھینچ لیا–اسی کھینچا تانی میں شزا کا ہاتھ چھوٹا اور اسکا سر سائیڈ ٹیبل پر جا لگا-

اوہ سوری صفورا پریشان ہوگئی -اس نے جلدی سے اسے سیدھا کیا مگر وہ ہوش کھوبیٹھی تھی–

صفورا کے تو ہاتھ پیر پھول گۓ-وہ اسے وہاں چھوڑ کر باہر بھاگی-

دادا جی—وہ شزا—

کیا ہوا شزا کو-

سب لاؤنج میں بیٹھے تھے-جب وہ بھاگتی ہوئی آئی–

وہ۔۔

اسے۔۔۔ چوٹ لگ گئی ہے–

پریشان کیوں ہورہی ہو؟ ڈاکٹر تو گھر میں ہی موجود ہے-

عبداللہ کے بعد اب حاتم بھی ڈاکٹر بن چکا تھا-

چلو بھئی برخوردار –دادا جی نے اسے مخاطب کیا-

بلکہ چھوٹی بہو تم بھی آجاؤ-

ڈاکٹرسالویہ بھی وہیں موجود تھی-

وہ سب اس کے کمرے کی طرف بڑھے–شزا بیڈ پر بیہوش پڑی تھی-سالویہ نے آگےبڑھ کر اسکی نبض چیک کی وہ دھیمی رفتار سے چل رہی تھی-اسکے ماتھے پر معمولی سا نیل پڑ گیا تھا-

اندرونی چوٹ ہے بظاہر تو کوئی زخم نہیں-

حاتم تم انجکشن لے آؤ-اس نے ایک پین کلر انجکشن کا نام لیا۔

پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے-ابھی ٹھیک ہوجاۓ گی-دادا جی آپ پریشان نہ ہوں-سالویہ نے انہیں تسلی دی-

ٹھیک ہے بہو تم اپنی ڈاکٹری آزماؤ ہم بے فکر ہوجاتے ہیں-دادا جی مسکراۓ۔

شمع اسے کمبل ٹھیک سے اوڑھاتے ہوۓ آگئی-میں اس کے لیے گرم دودھ لاتی ہوں-سب باہر چلے گۓ تھے-

سالویہ جان بوجھ کر وہاں رکی ہوئی تھی-شزا کی حالت اسے کچھ اور ہی سمجھارہی تھی-وہ گہری پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی-اس نے دو تین بار اسکا چہرہ تھپتھپایا تو اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھول دیں-

سالویہ نے اس سے بطور ڈاکٹر چند ایک سوال کیے تو اسکا شک یقین میں بدلنے لگا-

پر وہ بغیر کسی ثبوت کے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی-وہ اس نوعمر لڑکی کو حیرت سے دیکھ رہی تھی-جسکے گھر والوں کو اس کی حرکتوں کا شائبہ تک نہیں تھا-وہ افسوس سے اسے دیکھتی رہی جو اب آنکھیں بند کیے کسی سوچ میں گم تھی-

وہ اسے انجکشن لگا کر وہاں سے آگئی تھی-پر دماغ وہیں اٹکا ہوا تھا اور اس کے دل کو ذاتی طور پر تکلیف ہورہی تھی-شاید میرا وہم ہو-اس نے سوچا-

ممانی–شزا کمزور ہوتی جارہی ہے-اسکی صحت پہلے جیسی نہیں رہی اور وہ بتا رہی تھی کہ اسے تھکاوٹ بھی بہت جلدی ہوتی ہے-اگر آپ برا نہ مانیں تو میں اسے کلینک لے جاؤں -ایک دو ٹیسٹ ہونگے تو پتہ چل جاۓ گا کیا پرابلم ہے اور اس حساب سے ڈائیٹ پلان بھی بنادوں گی-اس نے شمع سے بات کی-

ہاں –ہاں–اس میں بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے گھر کے ڈاکٹرز کا کوئی تو فائدہ ہو-میں بھی نوٹ کررہی تھی پر اس کے ایگزامز ہورہے ہیں نا تو ٹینشن بہت لیتی ہے-میں نے سوچا ٹھیک ہوجاۓ گی۔

سالویہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی-وہ کیسی ماں تھی؟ جو بیٹی میں اتنی بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کرپائی تھی-

شزا چیک اپ کروانے کے لیے راضی نہیں تھی-سالویہ اسے زبردستی کلینک لے گئی تھی-اور اب اسکی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں-ٹیسٹ رپورٹس نے اسکا پردہ فاش کردیا تھا-سالویہ کا سر چکرانے لگا-ماسٹر جی کی عزت کو بٹہ لگ گیا تھا-وہ تو یہ تصور کرکے ہی کانپ گئی کہ جب سب کو پتہ چلے گا تو کیا کہرام مچے گا-

کون ہے وہ–؟

سالویہ نے سختی سے اس سےپوچھا-

کون–؟شزا نے جھکا سر اٹھایا-

تم اچھی طرح جانتی ہو میں تم سے کیا پوچھ رہی ہوں-؟

مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آرہی-گھر چلیں-

شزا دیکھو-اس سے پہلے کہ پورے خاندان کو یہ بات پتہ چلے تم شرافت سے مجھے سچ بتادو-اس نے اسے دھمکایا-

کونسی بات-؟

وہ ہنوز انجان بن رہی تھی پر چہرہ دھواں دھواں ہورہا تھا-

یہ دیکھو اپنی رپورٹس-سالویہ نے اسکے ہاتھ میں رپورٹس تھمائیں-

اس میں دیکھنے کی سکت نہیں تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ان میں کیا لکھا ہے-

اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے-

دیکھو اگر کوئی حادثہ وغیرہ تھا تو بتادو اس میں تمہارا قصور نہیں ہوگا-سالویہ اب نرمی پر اتر آئی تھی-

اس نے نفی میں سر ہلایا-

آپ کسی کو نہ بتائیے گا میں اس سے بات کرتی ہوں-اس نے تبریز کو کال ملائی-

دوسری ہی بیل پر اس نے کال اٹھالی-ہیلو شزا ڈارلنگ–اسکی چہکتی آواز ابھری-

سالویہ نے اسکے ہاتھ سے فون لے لیا-ادھر دو مجھے بات کرنے دو-

کیا ملا تمہیں ایک لڑکی کی زندگی تباہ کرکے-؟تمہیں اس سے نکاح کرنا ہوگا-

اسکا مکروہ قہقہ گونجا–

نکاح— ہاؤ فنی!!!

اس بدکردار لڑکی سے-سپیکر سے گونجتی آواز نےشزا کے منہ پر طمانچہ مارا-

تم گھٹیا نیچ آدمی-۔۔سالویہ کا بس نہیں چل رہا تھا اسے گولی ماردے۔

اوہ—ہاؤ سویٹ–اس نے پھر قہقہ لگایا-اور محترمہ شزا کو کیا خطاب دینا پسند فرمائیں گی آپ-؟

میں نے تو نہیں کہا تھا کہ مجھے بواۓ فرینڈ بناؤ-اور فرمائیشیں کرو-مفت کی مٹھائی مل رہی ہو تو کون پاگل نہیں کھاتا-؟مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال–یہ محاورہ نہیں پڑھا آپ نے-؟ہاہاہا

میں تمہیں کورٹ میں گھسیٹوں گی تب تمہیں اپنے جرم کا اعتراف کرنا پڑے گا-وہ غصے سے سرخ پڑ رہی تھی-

اوہ—میں ڈر گیا–ہاہاہا–

میں بھی پھر وہ تمام تصویریں اور کال ریکارڈز پیش کروں گا جو آپکی شریف زادی کی شرافت کا منہ بولتا ثبوت ہیں-

سالویہ کو چپ لگ گئی-رو رو کے شزا کی حالت غیر ہورہی تھی-

وہ جو تمہارے گناہ کا بوجھ اٹھاۓ پھررہی ہے اسکا کیا قصور ہے-؟اس نے شکستگی سے کہا-

وہ اسکا مسئلہ ہے اب وہ جانے اور اسکے گھر والے-

اس نے کہہ کر فون بند کردیا-

سالویہ نے غصے اور ترحم کی ملی جلی کیفیت سے اسے دیکھا جو اپنا سب کچھ برباد کر بیٹھی تھی-

گناہ کے کھیل میں بار ہمیشہ عورت ہی اٹھاتی ہے–داغ اسکے ماتھے پر ہی سجایا جاتا ہے-عزت اسے ہی زیادہ عزیز ہوتی ہے–اورپھر پتہ نہیں کیوں –اور کیسے وہ اس عزت پر سمجھوتہ کرلیتی ہے-؟معمولی سے حشرات الارض سے ڈرنے والی مرد سے کیوں نہیں ڈرتی؟

اور بے مول ہوجاتی ہے-کسی اور کے انجام سے کبھی عبرت نہیں پکڑتی-

جب تک خود جلتی آگ میں کود کر جھلس نہ جاۓ۔

اس معاملے میں عورت بڑی ڈھیٹ واقع ہوئی ہے-اور مرد بہت بے رحم-!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *