Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 01)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 01)
Ins o jaan by Maimona Aman
رات کے تین بج رہے تھے-وہ عشا کے بعد سے جا نماز پر بیٹھی تھی-سر جھکاۓ کبھی خلاؤں میں گھورتی وہ تسبیح کے دانے گراتی رہتی تھی-اب تو اسکی آنکھیں بھی خشک ہوگئی تھیں لگتا تھا کہ وہ ان کا سارا پانی بہا چکی ہے-
اب وہ خوفناک حد تک خالی تھیں -آج اسے یہ کرتے ہوۓ تیسری رات تھی-اس لمحے کا انتظار تھا جس میں اسکے اس ورد کا مقصد حاصل ہونا تھا–آج اسکے ساتھ اس گھر کا ہر مکین جاگ رہا تھا-کئی روز پہلے اس گھر پر قیامت صغری ٹو ٹی تھی–اور وہ جو اسکی ذمہ دار قرار دی جاتی تھی مسلسل خود کو اذیت میں رکھے ہوۓ تھی-سب افراد خاموشی سے بڑھتے ہوۓ وقت کے ہر لمحے کو گن رہے تھے–ہر گھڑی اتنی بھاری تھی کہ وہ اسکا بوجھ سہارتے سہارتے تھک چکے تھے-ایک وہ تھی جو وقت کے حساب کتاب سے بے نیاز ہوگئی تھی–
دل کی دھڑکنیں رک رک کر چلتی تھیں-وہ سب ایک انہونی کے منتظر تھے-ایک انہونی تو ہوچکی تھی-اب بھی سب اتنا عجیب لگتا تھا کہ کوئی سن لیتا تو کہتا کہ ابراہیم ولا کا ہر فرد دیوانہ ہوگیا ہے-عقل سے ماورا باتیں کرتا ہے-پر ان پر بیت چکا تھا-
گھڑی کی سوئی دھیرے دھیرے ساڑھے تین بجانے کے لیے پانچ کے ہندسے سے چھہ کی طرف بڑھ رہی تھی-لاؤنج میں بیٹھا ہر شخص اپنی جگہ ساکت تھا-جیسے ہی سوئی چھہ پر پہنچی تو لان سے ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی-جیسے کسی نے منوں وزنی پتھر دے مارا ہو-پورے ولا کے درودیوار ہل گۓ تھے-
اسکے منہ سے نکلا-ہاۓ میری بچی-وہ اٹھ کے باہر کو دوڑی-لگتا تھا وہ جو اتنی دیر سے گم سم بیٹھی تھی اب ہوش میں آگٸی ہے۔
رک جاؤ شمع–اپنی جگہ سے مت ہلو-صفیہ بی بی نے چیخ کر کہا-ابراہیم نے تیزی سے دوڑ کر اسے پکڑا-
مت جاؤ-کیوں اپنی اور ہماری جان کی دشمن بنی ہو-اس نے اسے زبردستی کھینچ کر جا نماز پر بٹھایا–دیکھو ساری محنت ضائع ہوجاۓ گی تم اپنا وقت مکمل کرو–
وہ پھر سے تیز تیز تسبیح کے دانے گرانے لگی-
اب باہر عجیب و غریب شور مچا تھا-جیسے کوئی زبردست جنگ جاری ہو-پھر کوڑے مارنے کی آوازیں آنے لگیں–ساتھ ہی شزا کی دلدوز چیخیں –جو رات کے سناٹے کو چیرتی اسے اور بھی بھیانک بنا رہی تھیں-
مما–بچاؤ–مما—پلیز–
اسکی منت بھری آواز نے شمع کو پھر سے متزلزل کیا–وہ پوری قوت سے اٹھ کر بھاگی-
ابراہیم نے اسے جالیا پر وہ اسکی گرفت سے آزاد ہوگئی تھی-
جبرٸیل۔۔ پکڑو اسے-وہ تینوں بھاگ کر آۓ اور ماں کو اپنی گرفت میں لیا-باہر چیخوں میں اور شدت آگئی تھی-
مجھے جانے –دو—وہ–وہ–مر جاۓ گی-وہ چار مردوں کے قابو نہیں آرہی تھی جانے اس میں اتنی قوت کہاں سے آگئی تھی-
نہیں مرتی—ہوش میں آؤ-ابراہیم نے اسے کھینچا–
مما—مما—میں مر جاؤں گی–مجھے بچالو–باہر سے سناٸی دیتی چیخوں میں اور شدت آگٸی تھی۔
اسنے ابراہیم کو زور سے دھکا دیا اسکے ساتھ فاٸز اور فاٸق بھی جا گرے-جبرٸیل کے بازو پر اس نے زور سے کاٹا اور لاؤنج کا دروازہ کھول کے نکل گئی-
آگے جو ہونے والا تھا اسے سوچ کر سب کی روح فنا ہونے لگی-
اسکے لمبے سیاہ بال بکھرے ہوۓ تھے-آنکھیں سرخ انگارہ تھیں–سرخ رنگ کا عجیب سا لباس پیروں تک آرہا تھا-وہ کھڑی اسے گھور رہی تھی-
شزا تم ٹھیک ہو–وہ لڑ کھڑاتے قدموں سے اسکی طرف بڑھی-اسنے کوئی جنبش نہ کی-
کیوں بلایا ہے مجھے–؟
اسکی آواز اتنی بھاری تھی کہ شمع کا دل دہل گیا-ادھر آؤ میرے پاس میری بچی-
وہ جو کب سے ساکت کھڑی تھی بجلی کی رفتار سے آگے بڑھی اور اسکے بال پکڑ لیے-
چھوڑو یہ کیا کر رہی ہو شزا-
شمع نے بھاگنا چاہا-اسنے ایک جھٹکے سے اسے زمین پر پھینکا اور اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگی-شمع کی چیخیں ان سب کی جان نکالنے کو کافی تھیں–
وہ لاؤنج کے دروازے میں کھڑے اس وحشت ناک منظر کو دیکھ رہے تھے-
اماں—اماں–وہ مار دے گی اسے–ابراہیم نے سن کھڑی صفیہ کو ہلایا–
پڑھو سب—جو وہ پڑھ رہی تھی–
وہ چلائی—-سب اونچا اونچا آیت الکرسی کا ورد کرنے لگے–
وہ کسی مشین کی طرح اپنی ماں کو مسلسل لان میں گھسیٹ رہی تھی–
جبرٸیل —تم —بابا صا حب کو فون ملاؤ—جلدی کرو–فون—ک— کدھر ہے-
ابراہیم بد حواسی کے عالم میں ادھر ادھر ہاتھ مار رہے تھے-بابا–میں کرتا ہوں فون-آپ پریشان نہ ہوں–
شمع نیم بے ہوش ہوچکی تھی-شزا اب بھی اسے گھسیٹ رہی تھی-مگر اب رفتار کم ہوگئی تھی–
پڑھو آیت الکرسی—صفیہ اونچی آواز سے خود بھی ورد کر رہی تھی-
اے مائی–نہ پڑھ یہ میں تجھے جلادوں گی-شزا کی بھدی آواز لان میں گونج رہی تھی–
اب سب افراد اونچی آواز سے ورد میں لگے تھے-
منع نہیں کیا –تمہیں–یہ مت پڑھو–وہ اب شمع کو چھوڑ کر چنگھاڑتی ہوٸی انکی جانب لپکی–ابراہیم نے جلدی سے دروازہ بند کردیا-اس وقت وہ انہیں اپنی بیٹی نہیں کوٸی بھیانک بلا لگی تھی۔
وہ پوری طاقت سے دروازہ پیٹنے لگی–لاؤنج کے در و دیوار میں ارتعاش پیدا ہوگیا تھا-اور وہ لرز رہے تھے۔
بابا جی—-وہ–شزا۔۔۔وہ م۔۔مما۔۔اسکی آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔
جبرٸیل فون پر بابا صاحب سے بات کررہا تھا-
میں کچھ نہیں کرسکتا–تمہیں پہلے کہا تھا کہ وقت پورا کرنا ہے-اب وہ لوگ غالب آگۓ ہیں تم سب کی وجہ سے میرا کتنا نقصان ہوا ہے جانتے ہو-
سپیکر پر بابا صاحب کی جلالی آواز گونجی–
اللہ کے واسطے بابا جی کچھ کریں-وہ –شمع –شزا–مرجائیں گی-ابراہیم بیٹے سے فون لیتے ہوۓ گڑگڑایا–
دوسری طرف سے رابطہ منقطع کردیا گیا-
دروازہ اب بھی پیٹا جارہا تھا—اب اسکے بین بھی شروع ہوگۓ تھے–
جیسے کسی مرگ پر عورتیں بین کرتی ہیں اب باہر سے ویسی ہی آوازیں آرہی تھی-انتہائی بھیانک اور دل دہلا دینے والی —
فائق نے ڈرائنگ روم کی کھڑکی سے دیکھا—اب وہ اپنے بال نوچ رہی تھی- اور آنکھوں کے ساتھ اسکا جسم بھی سرخ انگارہ ہوتا جارہا تھا–وہ کوٸی بد روح دکھاٸی دے رہی تھی۔
سامنے کا منظر انتہاٸی روح فرسا تھا۔مضبوط حواس والا شخص بھی اسے دیکھ کر ہوش کھو بیٹھتا۔
لان کے وسط میں شمع اوندھے منہ بے ہوش پڑی تھی–
کافی دیر وہ بین کرتی اور بھیانک چیخیں مارتی لان کے چکر لگاتی رہی–اور آخر ایک دلدوز چیخ مار کر بے ہوش ہو کر گر پڑی–
———————————————————
عبد اللہ آج تم اتنی دیر سے آۓ ہو-میں نہیں بولتی تم سے–
میری پیاری پری–اب آتو گئی ہو میری خاطر۔۔ تو دھمکیاں کیوں دے رہی ہو—وہ بائیک درخت کے ساتھ لگا کے اسکے برابر میں ایک بڑے پتھر پر بیٹھ گیا–
بس آج پریکٹیکل بہت مشکل تھا اس لیے دیر لگ گئی–
تم بہانے ہی بناتے ہو بس–وہ منہ بسور کے بیٹھی تھی-
پری–کبھی کبھی مجھے لگتا ہے تم سچ مچ کی کوئی پری ہو–تم ہرروپ میں اتنی حسین لگتی ہو کہ میں بتا نہیں سکتا-یا پھر شاید تم کوئی جنت کی حور ہو-
یہ تم لڑکے اتنی باتیں کیسے بنالیتے ہو—؟وہ کھلکھلا کر ہنسی-اسکے سفید موتی سے دانت اسکے چہرے سے میل کھاتے تھے-
جیسے تم لڑکیاں ان پر اعتبار کرلیتی ہو–وہ یک ٹک اسے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا-
مجھے باقی لڑکیوں سے مت ملایا کرو–میں ان جیسی نہیں ہوں-
ایسا کیا دیکھ رہے ہو-پہلی بار دیکھا ہے کیا-؟
وہ شرارت سے مسکرائی-
جبریل نے دل پر ہاتھ رکھا–
ہاۓ تمہاری ادائیں کتنی قاتل ہیں–تم اتنی خوبصورت کیوں ہو پری–آج بتا ہی دو–اس نے جذب کے عالم میں اسکے چہرے پر گری سیاہ لٹ ہٹائی-اس نے اپنی نیلگوں آنکھیں جھکالیں–سفید دوپٹے میں قید ملائی سا چہرہ اور اس پر نیلی آنکھیں–یوں لگتا تھا کی سفید بادلوں سے ڈھکے نیلے آسمان کی نیلاہٹ کہیں کہیں سے جھانک رہی ہے-
اس وادی میں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے-اردگرد کوئی اور آدم زاد نظر نہیں آتا تھا-دو پہاڑیوں کے درمیان یہ ایک چھوٹی سی وادی تھی–جس کی گہری سبز زمین پر اسٹرابری کی بیلیں بچھی تھی-اور چند ایک درخت تھے-پہاڑیاں پھولوں اور بیلوں سے ڈ ھکی تھیں-انکے پار آبادی تھی-
عصر کی اذان کی آواز بلند ہوئی-وہ اٹھ کھڑی ہوئی-میں چلتی ہوں-
میں چھوڑ آؤں تمہیں —
نہیں میں چلی جاؤں گی–کوئی دیکھ لے گا–
روز جو چوری چھپے گھر سے نکل آتی ہو-تب کوئی نہیں دیکھتا–
وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی—-اسکی سفید کلائی میں سرخ چوڑیاں کھنکی-اور وہ اسی لمحے میں قید ہوکر رہ گیا–
اسکے ساتھ بتایا ہر لمحہ ہی عبد اللہ کے لیے ایک حسین خواب تھا-
سفیدد وپٹے سے اسکے گھٹنوں تک آتے بالوں کی سیاہی جھلک رہی تھی–وہ اسے جاتے ہوۓ دیکھ رہا تھا-اسکی چال میں ایک وقار اور ٹہراؤ تھا-جبریل کو تو وہ سب سے الگ لگتی تھی-وہ کہاں سے آتی تھی اور کہاں رہتی تھی اسے معلوم نہیں تھا-بس اتنا کافی تھا کہ وہ صرف اسکے لیے بنی تھی-اور روز اس سے ملنے یہاں آتی تھی-
اس سے پہلے ہی وہ دیوانی اسکی منتظر ہوتی تھی-وہ میڈیکل کا سٹوڈنٹ تھا-اور چھہ سات کلو میٹر کا سفر کرکے شہر کالج پڑھنے جاتا تھا-یہ وادی رستے میں پڑتی تھی جہاں وہ دونوں روز ملتے تھے–
وہ دھیرے دھیرے پہاڑی کی چڑھائی پر بلند ہوتی جارہی تھی-
اس نے بائیک سٹارٹ کی اور اپنے گھر کی راہ لی-ابھی اسے بہت سفر کرنا تھا-
————————————————————–
بہو—فائز اور فائق گھر نہیں آۓ ابھی تک-اس نے دروازے سے اندر جھانکتے ہوۓ کہا-
خالہ آجائیں گے باہر ہی کھیل رہے ہونگے-
اس نے کسٹمر کی ابرو پر دھاگہ چلاتے ہوۓ مصروف انداز میں لاپرواہی سے جواب دیا-
تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے بچوں کو مغرب سے پہلے گھر لے آیا کرو-پر تمہیں تو فرصت ہی نہیں ملتی اس پارلر سے نکلنے کی-
بچے بگڑ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے تو پھر تم کو ہوش آۓ گا-
خالہ آپ تو ایسے ہی وہم کرتی رہتی ہیں کچھ نہیں ہوتا–
وہ تیز تیز دھاگہ چلارہی تھی-
ارے وہم نہیں کرتی سچ کہتی ہوں تم تو مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی ہو-تم نے کتابیں پڑھی ہیں-
سچے نبی کا فرمان ہے کہ مغرب کے وقت اپنے بچوں کو گلیوں میں ہر گز مت رہنے دو-اس وقت جنات کا وہاں سے گزر ہوتا ہے-اور وہ انہیں نقصان پہنچاتے ہیں-
گلیاں بچوں کے کھیلنے کے لیے اچھی جگہ نہیں-اسی لیے تو آج کے بچے بدتمیز اور ضدی ہوتے جارہے ہیں-ان باتوں کی ماؤں کو کوئی فکر ہی نہیں-بس ٹی وی موبائل کمپیوٹر ہی انکی تربیت کر رہا ہے-
ہاۓ ہاۓ–میں خود ہی جاتی ہوں-
اسے خاموش پاکر صفیہ بیگم باہر کو چل دیں-
شمع اب گاہک خاتون کے چہرے کی تھریڈنگ کررہی تھی-
لاؤنج سے گزرتے ہوۓ صفیہ نے چھہ سالہ پوتی کو افسوس سے دیکھا جو پورے انہماک سے کوئی انڈین ڈرامہ دیکھ رہی تھی-
ابھی وہ گیٹ تک ہی پہنچی تھی کہ فائز اور فائق بھوت بنے گھر میں داخل ہوۓ-وہ مٹی میں لت پت تھے اور گندے ہاتھوں سے نمکو پاپڑ اور جانے کیا الم غلم کھارہے تھے-
کہاں تھے تم دونوں-اس نے کمر پر ہاتھ رکھ کر ان سے پوچھا–
دادو کھیلنے گۓ تھے-فائق نے اپنے کھوکھلے دانتوں کی نمائش کی-دودھ کے دانت میٹھی ٹافیاں کھا کھا کے گر چکے تھے اب بس براۓ نام ہی باقی تھے-
تم لوگ سکول میں کیا پڑھتے ہو کسی نے نہیں بتایا کھانا ہاتھ دھو کے کھاتے ہیں-
دادو–بار بار ہاتھ نہیں دھوتے پانی ضائع ہوتا ہے-اور ٹیچر کہتی ہیں پانی ضائع کرنا گناہ ہوتا ہے-
اور صابن بھی۔دوسرے نے پاپڑ منہ میں ٹھونستے ہوۓ کہا۔
دادو اپنے پانچ سالہ پوتے کی یہ روداد سن کر سر پیٹ کے رہ گئی-
چلو اندر جاکے کپڑے بدلو-اس نے دونوں کے کان مروڑے-
اچھا اچھا–جا تو رہے ہیں کان ٹوٹ گیا تو ہم بالی کہاں پہنیں گے-
ہاۓ توبہ کیسی زبان لگ گئی ہے تمہاری-بالی لڑکیاں پہنتی ہیں–
دادو آجکل فیشن ہے لڑکے بھی پہنتے ہیں-وہ کان چھڑاکر بھاگ گۓ تھے-دونوں جڑواں تھے اور شکل کے علاوہ حرکتیں بھی بالکل ایک جیسی تھیں-
یہ تو ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں ابھی سے اتنی زبان لگ گئی ہے-یا اللہ تو ہی ہدایت دے-
دادو دعا کرتی اندر کو چل دی-
پوتی اب تک اردگرد سے بے نیاز ڈرامہ دیکھ رہی تھی-وہ دونوں اس سے ریموٹ چھین کے اپنے پسندیدہ کارٹون لگانے میں مصروف تھے-تینوں کی زبردست دھینگا مشتی جاری تھی-
شزا نے فائق کے بال پکڑے ہوۓ تھے اور فائز اسے چھڑا رہا تھا-
کیوں جنگلیوں کی طرح لڑ رہے ہو-چھوڑ دو کیا جان لو گے ایک دوسرے کی-
دادو انہیں الگ کرنے کی کوشش میں ہانپ کر رہ گئی تھی
-شور سن کر شمع باہر آئی اور سب کو دو دو مکے جڑ دئیے-
کم بختو اور کوئی کام نہیں آتا–چلو کمرے میں جاکے ہوم ورک کرو–اس نے کھینچ کے دونوں لڑکوں کو کھڑا کیا اور بازو سے گھسیٹتی ہوئی لے گئی-
وہ بنا کوئی اثر لیے دانتوں کی نمائش کر ررہے تھے-
شزا تمہاری تو میں آکے ہڈیاں توڑتی ہوں بند کرو اس تماشے کو-سارا دن ٹی وی میں گھسی رہتی ہے-
لت بھی تو تم نے لگائی ہے اب اسے قصور وار ٹہرارہی ہو-وہ کیا پیدائشی دیکھتی تھی اس منحوس مارے کو-تم نے عادت ڈالی ہے اسے-
انہوں نے پیچھے سے ہانک لگائی–
یہ تو اس گھر کا روز کا معمول تھا—بچوں کی مار پیٹ جس سے وہ اور ڈھیٹ ہوتے جارہے تھے
-پر ماں کو اپنے بگڑے بچوں کو سنوارنے کا کوئی اور طریقہ نہیں سوجھتا تھا-
دادی بے چاری کڑھتی رہتی تھی
جبرئیل بچے سوجاؤ اب بہت پڑھ لیا-دادی نے پیار سے اپنے بڑے پوتے سے کہا-جوشام سے اپنے کمرے میں بیٹھا پڑھ رہا تھا–
آج اتوار کا دن تھا اور اسکا ہر کام کرنے کا ایک مقرر وقت تھا-جسکو وہ اپنے بناۓ ٹائم ٹیبل کے لحاظ سے سر انجام دیتا تھا-دادو کل میرا گرینڈ ٹیسٹ ہے-اور میں نے سب سے اچھے نمبر لینے ہیں۔
انشا اللہ–انہوں نے پیار سے اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرا–
چاروں بہن بھائیوں میں نو سالہ جبرئیل بڑا تھا اور سب سے زیادہ فرمانبردار اور تمیز دار-وہ دادی اور باپ کے ساتھ ہی علی الصبح فجر کے لیے جاگ جاتا تھا اور باقاعدہ مسجد میں با جماعت نماز پڑھتا تھا-باقی بہن بھائی اور ماں اپنی نیند پوری کرکے عین سکول کے ٹائم ہر اٹھتے تھے-اور پھر افراتفری میں ناشتہ کیا جاتا جو دادی پہلے ہی بنا کے رکھ دیتی تھی-اور بھاگم بھاگ سکول کی تیاری ہوتی اور اکثر شزا فائق اور فائز کوئی نہ کوئی چیز گھر بھول جاتے-جبرئیل اس معاملے میں بہت سلیقہ مند اور سمجھدار تھا-وہ پانچویں کلاس میں تھا–
اسکے سکول سے کبھی اسکی شکایت نہیں آئی تھی-اورباقی تینوں کا توبمشکل ہی کوئی دن ایسا گزرتا تھا جب انکی شکایت موصول نہ ہو–
کبھی کتاب گم کردی-کبھی کسی کی کوئی چیز چرالی یا خراب کردی اور کبھی کسی اور کا لنچ اچھا لگا تو وہ مزے سے اڑالیا-
فائز اور فائق نرسری میں تھے اور ٹیچر سے بدتمیزی کرنا تو انکا مشغلہ تھا-شزا ون میں تھی اور ابھی سے اسکی گز بھر کی زبان تھی-شرارتیں کیے بغیر تو اسکا دن ہی نہیں گزرتا تھا-
دادی بے چاری اپنی پوری کوشش کرتی تھی کہ انکو سدھار دے پر وہ بھی پورے آفت کے پرکالہ تھے-ابراہیم کا پورا دن اپنی بنک جاب میں ہی گزر جاتا تھا وہ تو شام کے وقت ہی گھر لوٹتا تھا اور شمع نے گھر میں پارلر کھولا ہوا تھا اس لیے اسے بچوں کو دیکھنے کی کم ہی فرصت ملتی تھی–
جبرئیل پہلا بچہ تھا اس لیےدادا دادی کے پاس ہی اسکے ابتدائی سال گزرے تھے-اسکی تربیت انکی توجہ کا نتیجہ تھی-
دادا تو اب بھی گاؤں میں ہی رہتے تھے-لوگ انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے جانتے تھے-اور انکی بہت عزت کرتے تھے–دادی البتہ سب سے چھوٹے بیٹے ابراہیم کے ساتھ شہر آگئی تھی تاکہ بچوں کو توجہ ملے اور شمع بھی یہی چاہتی تھی کہ اسکی ساس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انکے ساتھ رہے۔
پر بچے تو کسی کے سنتے ہی نہیں تھے۔
