Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 13)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 13)
Ins o jaan by Maimona Aman
عبداللہ اور پری نے جاکر سلام کیا–
بیٹھ جاؤ–انہوں نے تحکم سے کہا–
وہ دوزانو ہوکر بیٹھ گۓ–
کہاں سے بھگا کر لاۓ ہو لڑکی—؟عمر بھی کچھ زیادہ نہیں لگتی تمہاری–
عبداللہ تو اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھا–بوکھلا گیا–
امام صاحب —میں اس کے ساتھ بھاگ کر نہیں آئی —اپنی مرضی سے نکاح کررہی ہوں–
لڑکی ماں باپ کدھر ہیں تمہارے–؟
انکا انتقال ہوگیا ہے–میں خود مختار ہوں–
کسی سر پرست کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا–
اور تیرے ماں باپ–؟
انہوں نے ایک تیز نظر عبداللہ پر ڈالی–
وہ جتنا آسان سمجھ رہا تھا —یہ اتنا آسان نہیں تھا–
وہ جی اسکے ماں باپ —عمرے پر گۓ ہیں–میں اسکے والد کے چچا کا بیٹا ہوں–یہ بے سہارا بچی ہے–میں نے اسکے والدین کو سب بتادیا ہے–انکی رضا مندی سے ہی یہ نکاح ہورہا ہے آپ بسم اللہ کریں–امام صاحب–نیکی میں دیر کیسی–
اس سے پہلے امام صاحب کچھ کہتے –ایک ادھیڑ عمر گواہ نے بات بنائی–
تمہیں معلوم بھی ہے ؟اس لڑکی سے نکاح کرکے تم کتنی بڑی جنگ لڑنے جارہے ہو—؟
جی–؟
عبداللہ نے کچھ نا سمجھتے ہوۓ ان سے پوچھا—
اسکا پورا خاندان تیرے خاندان کو جلا کر بھسم کردے گا—انسان سے مقابلہ کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا جنات سے–جو نظر آۓ بغیر ایذا دیتے ہیں—
انکی بات سن کر عبداللہ کا تو سر ہی گھوم گیا کہ انہیں اسکے جنات کے خاندان سے ہونے کا کیسے پتہ چلا–؟
کبھی فرصت میں آنا پھر بتاؤں گا–انہوں نے جیسے اسکے ذہن میں آۓ سوال کو پڑھ لیا تھا–
امام صاحب آپ نکاح پڑھائیں–ایسا کچھ نہیں ہے–پری نے سنجیدگی سے کہا-
میں یہ نکاح نہیں پڑھا سکتا جاؤ کسی اور سے رابطہ کرو–
وہ انکار کرکے اپنے حجرے میں چلے گۓ–
اور عبداللہ حیران پریشان انہیں جاتے دیکھتا رہا-
____________
وہاں سے مایوس ہوکر وہ کسی اور مولوی کے پاس پہنچے-مگر وہاں سے بھی انکار سننے کو ملا-
کوئی بھی ان کا نکاح پڑھانے پر راضی نہیں تھا-
رات آدھی گزر چکی تھی-شاید رب کو منظور ہی نہیں تھا-
عبداللہ تم گھر جاؤ–تمہارے گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے-
پری لیکن—
دیکھو اب کچھ نہیں ہوسکتا-ہم اس بارے میں کچھ اور سوچتے ہیں-مجھے ابھی جانا ہے میں مزید نہیں رک سکتی–
اپنا خیال رکھنا–
وہ شاید مزید کوٸی بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ بھی شاید اندر سے اسکی بات پر متفق ہوگیا تھا-
وہ تیز رفتاری سے چلتی ہوئی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی-
اوۓ بھابھی غائب کیوں نہیں ہوئی-چل کے کیوں جارہی ہے-؟
علی نے اسے جاتے دیکھ کر کہا-
عبداللہ محض اسے گھور کر رہ گیا-
اوۓ تجھ پر بھی بھابھی کا اثر ہونا شروع ہوگیا ہے-ایسے تو نہ گھور–مجھے ڈر لگ رہا ہے-
مجھے ٹینشن ہورہی ہے اور تجھے مذاق سوجھ رہا ہے-
اچھا چل–اب تو کافی رات ہوگئی ہے تو میرے گھر رک جا صبح چلا جانا-علی نے اسے پیشکش کی-
نہیں یار–دادا جی مجھے روسٹ کردیں گے-اگر میں رات بھر گھر سے غاٸب رہا۔
جنگل کا سفر ہے یہ نہ ہو تجھ پر کوئی اور چڑیل عاشق ہوجاۓ-
پھر دو چڑیلوں کی خونخوار لڑائی ہوگی–اس نے جھرجھری لی-
تو بکواس ہی کرتا رہ–میں جارہا ہوں –عبداللہ نے بائیک سٹارٹ کی۔
چل بھائی میں دعا کروں گا تیرے لیے–اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا-
دونوں ایک دوسرے کو الوداع کرکے اپنی منزل کی جانب چل پڑے–
رات کے بارہ بجے کے قریب کا وقت تھا-عبداللہ اندھیری سڑک پر بائیک چلارہا تھا۔ دونوں اطراف میں پہاڑ –کہیں اونچے لمبے درخت اور کہیں کہیں اکا دکا گھر تھے-رات کے اس پہر ہر سو سناٹا تھا-سڑک پر صرف بائیک کے چلنے کی آواز تھی-اسے اپنی دھڑکن بھی صاف سنائی دے رہی تھی-اچانک سے اس پر تنہائی اور اندھیرے کا خوف چھانے لگا-
سردی بھی شدید ہوگئی تھی راستہ دھندلا رہا تھا اور وہ ہولے ہولے کپکپا رہا تھا-اب اسے علی کی بات ٹھیک لگ رہی تھی-اسے اسکے گھر رک جانا چاہیے تھا-
ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کہ اسے ہیولے سے اپنی طرف بڑھتے ہوۓ نظر آۓ-
اس نے دل ہی دل میں اللہ کو پکارا-
کوئی اچانک سے اس کی بائیک کے سامنے آیا تھا-اس نے بے ساختہ بریک لگائی-
وہ کوئی خمیدہ کمر بوڑھا تھا-پورا سیاہ چادر میں لپٹا ہوا-اس نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں-جو کسی دیے کی مانند چمک رہی تھیں-
بابا جی—آپ کون ہیں–؟عبداللہ نے پوچھا-
اس نے قریب آکر بائیک کا ہینڈل پکڑ لیا-
آپکو کہیں جانا ہے-؟میں چھوڑ آؤں-؟
اندر سے وہ گھبرارہا تھا-بابا جی کی اندھیرے میں بلی کی طرح چمکتی آنکھیں اس پر ہی جمی تھیں اور زبان بالکل خاموش-
عبداللہ کو لگا کہ وہ بہرا یا گونگا ہے-
اسکی پلکیں بھی نہیں جھپک رہی تھی-بس وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا-
عبداللہ کو خوف آنے لگا-جو اسکے چہرے اور آنکھوں سے نمایاں ہورہا تھا-بس یہی لمحہ تھا جب سامنے والے نے اسے خوف میں مبتلا کرکے زیر کردیا تھا-
اسکا سر چکرانے لگا اور اچانک اس بابا کے اشارہ کرنے پر ایک عجیب سا دیو قامت جانور اڑتا ہوا اسکے پاس آکر رکا-اپنی لمبی پونچھ میں لپیٹ کر اس نے عبداللہ کو اپنی پیٹھ پر پٹخا-اور اڑان بھر کے ہوا میں تیرنے لگا-
اسکا دماغ جاگ رہا تھا آس پاس کا شعور بھی تھا مگر زبان آنکھیں اور جسم جیسے بے حس و حرکت ہوگۓ تھے-وہ نہ تو ہوش میں تھا اور نہ ہی مکمل بے ہوش-
اس عجیب مخلوق کی پیٹھ سے چپکا وہ کسی انجان منزل کی جانب رواں دواں تھا-
———————————
وہ عجیب الخلقت جانور بجلی کی تیزی سے سفر کررہا تھا-عبداللہ نیم بیہوش تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ اسے کہاں لے جایا جارہا ہے-
ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ ایک انجان مقام پر اترا-جہاں ہر طرف بڑے بڑے ہتھیار اٹھاۓ پہرے دار کھڑے تھے-وہ انتہائی دیو قامت مخلوق تھی-ایک وسیع جنگل تھا جس میں سفید دھواں بادلوں کی طرح اڑ رہا تھا-ایک ناگوار سی مہک آس پاس پھیلی ہوئی تھی-
اسے اٹھا کے کسی کے سامنے پٹخا گیا-ہیبت ناک قہقہے اس کے آس پاس گونج رہے تھے-
ہوش کی حالت میں آتے ہوۓ اس نے نگاہ سامنے اٹھائی-اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں-
وہاں ایک بہت بڑا اور ہیبت ناک دیو بیٹھا تھا-عبداللہ نے آیت الکرسی پڑھنے کی کوشش کی مگر زبان جیسے تالو سے چپک گئی تھی دل میں ورد جاری تھا-
وہ جانے کس زبان میں گفتگو کررہے تھے-اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا-
تھوڑی دیر کی بحث کے بعد وہ دیو اس سے مخاطب ہوا-
تم نے ہماری لڑکی کو ورغلانے کی کوشش کی ہے-شکار خود ہی آگیا ہے۔تم انسان کیڑے جتنے انسان۔۔۔ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔شہنشاہ جنات اب تمہیں دکھاۓ گا طاقتور کون ہے۔۔۔
یہ زمین ہماری تھی ۔۔تم انسانوں نے اس پر قبضہ کرلیا۔یہ دشمنی ازل سے جاری ہے ابد تک جاری رہے گی۔
تم انسان۔۔۔اندھے ہو تم۔۔۔ہمیں نہیں دیکھ سکتے۔۔۔بہرے بھی ہو۔۔۔کوڑھ مغز بھی ہو۔۔۔تمہیں کبھی سمجھ نہیں آۓ گی ہم تمہیں کیسے قبر تک پہنچادیتے ہیں۔۔
تم سب جان کے بھی انجان ہو۔۔۔
تمہارے کھانے میں اپنے جسموں کا زہر ملانا۔۔تمہاری آل اولاد کو بہکانا۔۔۔لڑاٸی جھگڑے۔۔قتل و غارت۔۔۔فتنہ فساد۔۔۔
کتنا مزا آتا ہے یہ سب دیکھ کے۔۔۔ہاہاہا۔۔
تم ہمارا شکار بنتے رہو گے۔۔۔ہم جنات ہیں ۔۔آگ کے بنے۔۔۔
ہاہاہا–
تم مٹی کے پتلے۔۔۔ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔۔ساٹھ ستر سال جی کے مرجاتے ہو۔۔۔
ہم صدیوں جیتے ہیں صدیوں۔۔۔
بڑے عرصے بعد آج کوٸی انسان ہاتھ چڑھا ہے۔ہاہاہا
وہ بولا تو آواز اتنی گرج دار تھی کہ عبداللہ کی روح بھی کانپ گئی- اس دیوکے منہ سے شعلے سے نکل رہے تھے اور پاس کے ایک درخت میں آگ لگ گئی–دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھسم ہوگیا-
وہ اس کے دھویں کو اپنے ناک کے ذریعے جذب کرنے لگا-
لے جاؤ اسے–اس نے اپنا کالا سیاہ ہاتھ اٹھا کے کسی کو اشارہ کیا–اس کے حکم دیتے ہی دو جن عبداللہ کے قریب آۓ اور اسے فوراً سے زنجیروں میں جکڑ دیا-اور گھسیٹتے ہوۓ ایک اندھیرے غار میں لے گۓ-اسکے حواس بالکل شل تھے اور وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا-وہ کس مصیبت میں پھنس گیا تھا؟ اور یہاں سے کیسے نکلے گا؟
اسے کچھ معلوم نہیں تھا-
———————————
میری بچی دیہان سے جانا –آج کالج کا پہلا دن ہے اور زیادہ کسی سے دوستی نہ لگانا-دیہان سے رہنا-
دادو اچھا نا–کل سے ایک ہی بات دہراۓ جارہی ہیں۔ میں اب بچی تو نہیں ہوں بڑی ہوگئی ہوں–
ہاں بڑی ہوگئی ہوں–میری ماں نہ بن زیادہ–
ناشتے کی میز پر بیٹھے سب ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے-
دادی پوتی کی نوک جھونک کبھی ختم نہیں ہوتی تھی-
چلو اٹھو موٹی اور کتنا کھاؤ گی–دیر ہوجاۓ گی-جبرئیل کھڑے ہوتے ہوۓ بولا-
موٹے ہوگے تم۔۔۔۔ تمہارا پورا خاندان—اس نے بھی کسر پوری کی-
بری بات ہے بیٹا بڑا بھائی ہے تمہارا–ابراہیم نے بیٹی کو سمجھایا–
وہ بیگ اٹھاتی باہر کو لپکی–
دوپٹہ سر پر لے لے–اور یہ گھوڑے کی پونچھ بھی باندھ لے–دادو نے پیچھے سے ہانک لگائی–
اس کے بال کمر سے نیچے آتے تھے اور انتہائی ریشمی اور گھنے تھے-
وہ اکثر اونچی پونی بناتی اور بال کمر پر لہراتے رہتے-
دادو نے کئی بار ٹوکا تھا مگر وہ شزا ہی کیا جو انکی بات مان لے–
اس کا بچپن گزر چکا تھا–اب وہ لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی-وہ ویسی ہی تھی شوخ چنچل–تھوڑی ضدی– اکھڑ مزاج –کچھ بدتمیز اور ایک کان سے سن کے دوسری سے اڑانے والی-اور ہمیشہ اپنی من مرضی کرنے والی–
وہ چھوٹی سی گول مٹول پھولے پھولے گالوں والی شزا اب پیاری سی سولہ سالہ دوشیزہ میں تبدیل ہوگئی تھی–
وقت ایسے بہہ گیا تھا جیسے پلوں کے نیچے پانی بہتا ہے-جب گزرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے –خوف بھی آتا ہے–مگر جب گزر چکے تو لگتا ہے کچھ تھا ہی نہیں–
اور انسان صرف سوچ کے ہی حیران رہ جاتا ہے–لگتا ہے کہ سالوں کا سفر پل بھر میں طے ہوگیا ہو–
وقت کو تو گزرنا ہی ہوتا ہے–ہم خواہش کرتے ہیں کہ وہ رک جاۓ–لیکن اگر وقت رک جاۓ تو ہم برداشت نہ کر پائیں گے-
دیوار پر لگے گھڑیال کی ٹک ٹک اس وقت تک بھلی لگتی ہے جب تک وہ معمول کے مطابق اپنی سوئیوں کو حرکت دیتے ہوۓ وقت میں اضافہ کرتا رہتا ہے–اگر کبھی اسکا پاور سیل ختم ہوجاۓ تو سوئیاں ایک ہی جگہ پر کھڑی ٹک ٹک کرتی رہتی ہیں–اور خاموش کمرے میں اس سے زیادہ بدنما آواز کوئی نہیں ہوتی–
وقت کا رک جانا بہت بھیانک لگتا ہے–اسکا بہتے رہنا ہی اچھا ہے–اس کے بہنے کی قدر صرف وہی جانتا ہے جس پر اذیت بھرے لمحات ٹہر گۓ ہوں اور وقت کٹتا ہی نہ ہو
— ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شام کو اکثر ہی چھت پر ٹہلنے آجاتی تھی-اسے ادھر ادھر جھانکنا بہت پسند تھا-کچھ دن سے اسے ایک عجیب سا احساس ہونے لگا تھا جیسے کوئی کہیں چھپ کے اسے دیکھ رہا ہو–اس نے کوئی تیسری بار آس پاس نگاہ دوڑائی مگر ساری چھتیں خالی تھی-وہ دوبارہ دیوار سے لٹک کر نیچے گلی میں جھانکنے لگی-
کچھ دیر بعد وہ بور ہونے لگی اور دوسری دیوار کے ساتھ جاکے لٹک گئی-
کیسی بورنگ سی لائف ہے ؟
کوئی چل ہی نہیں ہے–کچھ تو نیا ہونا چاہیے–اس نے بیزاری سے سوچا–
پڑھتی تو وہ گرلز کالج میں تھی پر یہاں کی رنگ برنگی لڑکیاں دیکھ کر اسے اپنا آپ دقیانوسی لگنے لگتا تھا-اس کی دوستی بھی زیادہ تر ایسی ہی لڑکیوں سے ہوئی تھی جن کے لیے زندگی صرف انجوائمنٹ کا نام ہے–ان کے آۓ روز نت نۓ بواۓ فرینڈز بنتے رہتے تھے اور انکو ملنے والی تعریفیں اور گفٹس دیکھ دیکھ کر شزا دل ہی دل میں احساس کمتری کا شکار ہونے لگی تھی-
تمہارا کوئی بھی بواۓ فرینڈ نہیں ہے–کم آن شزا —یو آر سو بورنگ–اتنی حسین تو ہو تمہارے ایک اشارے پر تو لائینیں لگ جائیں گی —
وہ جب اپنی دوستوں کے گروپ میں بیٹھتی تو ایسی ہی باتیں سننے کو ملتیں–
میری دادو بہت سخت مزاج ہیں وہ مجھے جان سے مار دیں گی–اسکا یہی جواب ہوتا–اور وہ سب قہقہہ لگا کر اسکا مذاق اڑاتیں–
دادو سے اتنا ڈرتی ہو–تم تو بچی ہو با لکل-وہ کونسا تمہارے ساتھ کالج آتی ہیں–چوہیا ہو تم تو–
اب ان سب کی باتیں اسکے ذہن میں گردش کرتی رہتی تھیں–
میرا کم از کم ایک بواۓ فرینڈ تو ہونا چاہیے—سب کا ہی ہوتا ہے اس میں کیا براٸی۔۔ورنہ تو سب مجھے طعنے دے دے کر مار دیں گی۔
وہ کافی دیر بیٹھی سوچتی رہی اور کوئی فیصلہ کرکے نیچے آگئی-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم قارٸین۔۔میں پہلے باقاعدگی سے ہر منگل اور ہفتے کے دن قسط دیتی رہی ہوں۔۔لیکن اب تاخیر ہوجاتی ہے جس کے لیے میں معزرت خواہ ہوں۔۔مجھے پتہ ہے آپ سب انتظار کرتے ہیں اور نہ ملنے پر غصہ بھی۔۔مگر میری مجبوری ہے کیونکہ میری مصروفیت بڑھ گٸی ہے اور دوسری بات یہ کہ۔۔۔میں جلدی کے چکر میں ناول کا مزا نہیں خراب کرنا چاہتی۔۔۔کہانی کے ساتھ پورا انصاف ہونا چاہیے۔۔۔جب تک میرا لکھنے کا ذہن نہ بنے اور دماغ میں خیالات ٹھیک سے نہ آٸیں تو میں نہیں لکھتی۔۔آپ یہ میرا دوسرا ناول پڑھ رہے ہیں آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ میں صرف ایک کہانی نہیں لکھتی بلکہ کچھ مختلف اور اچھا لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔الفاظ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔تاکہ میرے لکھنے میں کوٸی بہتری نظر آۓ۔
