Ins o jaan by Maimona Aman NovelR50699 Ins o jaan (Episode 15)
Rate this Novel
Ins o jaan (Episode 15)
Ins o jaan by Maimona Aman
ہاں پتر میں۔۔۔۔
دیکھ اگر تو ہم سب کی خیریت چاہتا ہے تو جو یہ کہتے ہیں مان لے۔۔۔
نہ پڑھ بیٹا۔۔۔
یہ سب بہت طاقتور ہیں۔تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
دادا جی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں؟
آپ؟۔۔۔
جو مجھے ہمیشہ بہادری کا درس دیتے رہے ہیں۔
میرا اللہ ان سب سے بڑا اور طاقتور ہے اور اس کا کلام بھی۔۔
اس وقت میں آپکی بات نہیں مان سکتا۔اس نے غصے سے کہا۔
بزرگ جب اللہ کے راستے سے روکیں تو ان کا حکم نہیں ماننا چاہیے۔ہٹ جایے میرے راستے سے۔میرا وقت ضاٸع مت کریں۔وہ کوٸی اور ہی عبداللہ لگ رہا تھا۔اسکا دماغ اب تیزی سے کام کررہاتھا اور حواس پوری طرح بیدار ہوچکے تھے۔
اس نے آیت الکرسی پڑھ کے اپنے اطراف میں حصارلگایا اب کوٸی بھی بدروح اس داٸرے کے اندر داخل نہیں ہوسکتی تھی۔
دادا جی نے زور سے چیخ ماری اور دھواں بن گۓ۔۔اسے سارا کھیل سمجھ آگیا وہ دادا جی کی شبیہ تھی جو اسے گمراہ کرنے کواسکے سامنے آکھڑی ہوٸی تھی۔
وہ تیز رفتاری سے سرنگ میں بھاگتا جارہا تھا۔دونوں اطراف جنات ہی جنات تھے۔وہ آگ کے شعلے اسکی جانب پھینک رہے تھے جو اس کی پھونک سے بجھتے جاتے اور وہ جنات چنگھاڑتے ہوۓ دھواں ہوجاتے۔اسکی پھونک میں کلا م الہٰی کی تاثیر تھی۔اسکے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔؟
کافی لمبا راستہ طے کرنے کے بعد وہ ایک میدان میں نکل آیا۔وہ ایک چٹیل صحرا تھا جس میں دور دور جھاڑیاں تھیں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے تھے۔جانے یہ وقت کا کون سا پہر تھا۔ایک ملگجا سا اندھیرا ہر سو پھیلا تھا۔سوکھے سڑے درختوں کے تنے ریت میں گڑے تھے۔انکی کڑکڑاتی شاخیں بالکل ویران تھیں۔نہ کوٸی پتہ نہ چرند پرند۔ہر سو سناٹا تھا۔
عبداللہ ایک جھاڑی کے قریب ڈھیر ہوگیا۔ورد اب بھی اس کی زبان پر جاری تھا۔پر آواز مدھم ہوگٸی تھی۔
ریت بہت ٹھنڈی تھی۔شاید یہ رات کا اختتام تھا۔
اس نے تھک کر آنکھیں موند لیں۔
اس ویرانے میں وہ تنہا تھا۔
یا اللہ ۔۔یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ؟ پتہ نہیں میں کہاں ہوں؟ اور واپس کیسے جاٶں گا؟
وہ دل ہی دل میں ویرانے کے مالک سے مخاطب تھا۔اس تنہاٸی کے عالم میں اسکا احساس شدت سے اس کے دل میں جاگا۔کوٸی تھا جو یہاں اسکے بے انتہا قریب تھا۔جسے اتنی شدت سے وہ پہلے کبھی محسوس نہیں کرپایا تھا۔۔دنیا کے بے ہنگم شور شرابے نے کبھی تنہاٸی کا موقع ہی نہیں دیا تھا۔بند کمرے میں بھی کبھی تنہاٸی میسر نہ ہوٸی تھی۔گھڑیال کی مصنوعی ٹک ٹک اور آس پاس مادی اشیإ کی موجودگی تنہاٸی میں خلل ڈالتی تھیں۔
اور دیوار کے پار موجود گھر کے افراد تنہاٸی کا مفہوم واضح نہ ہونے دیتے تھے۔کبھی اپنی ذات کے ساتھ مکمل تنہاٸی میسر نہ ہوٸی تھی۔کبھی خود کے ساتھ مل بیٹھنے کا موقع نہیں ملا تھا۔کبھی شہہ رگ سے قریب موجود کسی ذات کی شناساٸی نہیں ملی تھی۔کبھی پورے دیہان یقین اور جزب سے اسے جاننے اور محسوس کرنے کا لمحہ میسر نہ آیا تھا۔
اب یہ سب تھا۔ایک حد نگاہ پھیلا ہوا دشت۔۔جھاڑیوں اور پژمردہ پیڑوں سے مزین ٹھنڈی چبھتی ریت۔ہو کا عالم۔ملگجا سا اجنبی اندھیرا۔جس میں وہ نیم اندھا ہوا جاتا تھا اور پوری آنکھیں کھول کر سامنے پھیلے منظر کو دیکھتا تھا۔
وہاں وہ تھا۔۔۔اور ایک اور تھا۔۔۔
بس وہ تھا۔۔۔اور اس کا خالق۔
وہ اپنی دھڑکنیں گن سکتا تھا۔اور اپنے پھیپھڑوں میں آنے اور جانے والی ہوا میں فرق کرسکتا تھا۔اسے نہ بھوک تھی نہ پیاس۔وہ بس کسی بے جان لاشے یا قریب المرگ شخص کی مانند وہاں ڈھیر تھا۔اسکی بے اختیار دھڑکنوں کی طرح زبان بھی بے اختیار ہوگٸی تھی اور رکتی نہ تھی بس اپنے خالق کے بول دہراۓ چلی جاتی تھی۔شاید وہ برسوں کی پیاسی تھی۔برسوں سے اس انتظار میں تھی کہ وہ اس کلام کے سوا کچھ اور نہ کہے۔وہ خود کو ایک ہی تال میں محو رکھے۔
بہت سے لمحے سرک گۓ تھے۔عبداللہ کو وہاں کسی نے نہ دیکھا تھا۔صرف وہ دیکھتا تھا جس کا وہ عبد تھا غلام تھا۔داٸیں سے باٸیں سے اوپر سے۔۔اور چاروں سمت سے وہ اسے دیکھتا تھا۔
جھاڑی میں سرسراہٹ ہوٸی تھی جو اسکی سماعتوں کو جگانے میں ناکام رہی تھی۔
اس سرسراہٹ پیدا کرنے والے رینگتے وجود نے ماتھے پر دھری دو آنکھوں سے۔۔۔ اس وجود کو دیکھا۔گو کہ وہ بہرا تھا پر اس وجود کی زبان سے ادا ہوتے الفاظ سن سکتا تھا۔
اس بے انت صحرا میں اور کوٸی ایسی ذی روح نہ تھی جس کے وجود میں وہ اپنا زہر منتقل کرپاتا۔اسے جینے کے لیے تازہ سرخ مادہ درکار تھا۔
اسکا سرسراتا بدن جھاڑی سے باہر نکلا اور وہ اس کو لپیٹتا ہوا پھن پھیلاۓ اسکے چہرے کے عین سامنے ایستادہ ہوگیا۔وہ جھوم رہا تھا۔ایسا سرور کبھی بین کی لے میں نہیں ملا تھا جیسا اب اس زبان سے نکلنے والے الفاظ اسے دے رہے تھے۔اس آواز میں سوز تھا نشہ تھا۔
رقص و مے کی سی کیفیت تھی۔دو وجود اک دوجے کے آمنے سامنے اس میں مبتلا تھے ایک بے خبر تھا اور دوسرا با خبر۔
اس دشت کے سرمٸی آسمان پر سیاہی ختم ہونے کے آثار دکھاٸی دینے لگے تھے۔اندھیرے میں اتنی سی تخفیف ہوٸی تھی کہ اب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔
لمحہ لمحہ سرک رہا تھا کاٸنات کا یہ حصہ اپنے رب کے نور سے جگمگانے کی تیاری کررہا تھا۔بند آنکھوں کے سامنے پھیلے اندھیرے میں تھوڑی سی نور کی آمیزش ہوٸی تھی۔اور رفتہ رفتہ بڑھتی جارہی تھی۔
پردے اٹھ گۓ تھے۔اور سامنے کا منظر اب واضح ہونے لگا تھا۔وہ کنڈلی مارے اسکے چہرے کے عین سامنے پھن پھیلاۓ بیٹھا تھا۔اسکی سیاہ کھال اور لمبا چوڑا بدن لشک رہا تھا۔
غلام کے پورے بدن میں ایک سرد لہر دوڑ گٸی۔تسلسل ٹوٹنے پر گوشت کا لوتھڑا بھی ساکت ہوگیا۔
کان بنا پورا وجود اس سکوت پر ہوش میں آیا تھا۔اس نے مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
مۓ ختم ہوچکی تھی۔رقص وسرور کی کیفیت ڈھلنے لگی۔جام بھرے تھے پر چھلکتے نہیں تھے۔
غلام اپنے سامنے بیٹھے اس سیاہ کوبرا کو بے خوفی سے تک رہاتھا۔جو کتنی ہی دیر سے اس کی زبان سے نکلنے والی اپنے مالک کی تعریف کو سننے میں محو تھا۔جو اسکے مالک کی ثنا ٕ کررہا تھا وہ اس کو اپنے زہر کا نوالہ نہیں بناسکا تھا۔
اس نے اپنا پھن زمین پر رکھا اور لہراتا ہوا اسکی جانب پیٹھ کیے چل پڑا۔۔۔بہت دور جاکے اس نے مڑ کر اک نظر ساکت بیٹھے غلام کو دیکھا اور پھر سرسراتا ہوا غاٸب ہوگیا۔
ایک صحراٸی کوبرا اسے ڈسے بغیر چلاگیا تھا۔وہ اشرف المخلوقات نہیں تھا پر اپنے خالق کا شعور رکھتا تھا وہ وحشی اور زہریلا تھا پر اپنے مالک کا نافرمان نہیں تھا۔اسے ایک ہی مالک نظر آتا تھا۔اور وہ اس پر توکل کرتا تھا۔وہ اشرف المخلوقات نہیں تھا ۔۔۔کہ اپنے پیدا کرنے والے کو بھول جاتا۔یا اپنے زہر کو کسی محسن کے لیے استعمال کرتا۔وہ زہریلا۔۔وحشی۔۔درندہ اور جانور سب کچھ تھا بے عقل تھا پر ۔۔۔بے شعور نہیں تھا۔نا فرمان نہیں تھا۔مالک کے سوا کسی کی حمد نہیں کرتا تھا اسکے سوا کسی پر یقین نہیں رکھتا تھا۔پتھروں کو نہیں پوجتا تھا۔
۔ریت میں رینگتا ایک حقیر سا بدن۔اپنے مالک کے نام لیوا کو کوٸی گزند پہنچاۓ بنا جاچکا تھا۔
غلام اسکے نظروں سے اوجھل ہوجانے تک اسے دیکھتا رہا۔پھر سورج کی ان چھوٸی کرنوں میں اردگرد کا جاٸزہ لینے لگا۔وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور داٸیں سمت کو چلنے لگا۔۔
ہر جگہ ایک سی تھی۔جھاڑیوں کی شکل وشباہت میں کوٸی قابل ذکر فرق نہ تھا۔وہ ریت میں دھنستے پیروں کو گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہا تھا۔چند قدم ہی چلا تھا کہ وہ گھٹنوں تک ریت میں دھنس گیا۔
اس نے بمشکل کھینچ کر خود کو باہر نکالا۔سرد ریت اب تپتی جارہی تھی۔وہ بے سروسامان تھا۔
یااللہ۔۔۔مجھے اس مشکل سے نکال دے۔میں کیا کروں؟
وہ تھک کر بیٹھ گیا۔پر جلتی ریت بدن کو کاٹ رہی تھی۔اسے نڈھالی ہورہی تھی۔جسم کی طاقت بھوکے پیاسے رہنے سے کم ہوتی جارہی تھی۔
بہت دور چند کھجور کے درخت تھے۔اسے اس جلتی ریت پر سے گھسٹتے ہوۓ ان تک پہنچنا تھا۔
***********************************************
ماما–اپنا فون دینا میں نے اپنی فرینڈ سے واٹس ایپ پر کچھ نوٹس منگوانے ہیں-
شزا ابھی تو فون دے کر گئی ہو پھر مانگنے آگئی ہو-
ماما آپ بھی تو سونے ہی جارہی ہیں کیا کریں گی فون کا-؟
رات کے دس بج رہے ہیں تم بھی جاکر سوجاؤ-
بھئی کیا بحث کررہی ہو اس وقت-؟
ابراہیم نیم غنودگی میں بولے-
صاحبزادی آجکل فون زیادہ ہی استعمال کرنے لگی ہے پڑھائی کی طرف تو جیسے دیہان ہی نہیں رہا-
شمع فرصت سے بیٹھی تھی اسی لیے آج صاحبزادی کی حرکتیں مشکوک لگ رہی تھیں-
ماما آپ تو بس ایسے ہی–میں پڑھائی کے لیے ہی تو لیتی ہوں فون-وہ بھی ضد کی پکی تھی-
دے دو نا–کیوں فضول کی بحث لگارکھی ہے-ابراہیم دن بھر کے تھکے ہارے تھے اب نیند خراب ہونے کی وجہ سے چڑچڑے سے ہورہے تھے-
بابا آپ مجھے فون لے دیں نا–
اچھا اچھا –اب جاکر سوجاؤ–کل بات کریں گے-
وہ کروٹ بدل کر پھر سے خراٹے لینے لگے-
شمع نے اسے گھورتے ہوۓ فون اس کے ہاتھ میں تھمادیا-
اف ماما آپ کے نیلز تو مجھ سے بھی لمبے ہیں-اسے شمع کے نوکیلے ناخن چبھے تھے-
چل زیادہ دماغ نہ کھا-
وہ فون لے کر خوشی چھپاتی کمرے میں آگئی-اس کا کمرہ الگ تھا-بچپن میں تو وہ اکثر دادو کے کمرے میں ہی سوتی تھی پر اب پڑھائی کا بہانہ تھا وہ رات گۓ تک لائٹ جلاۓ رکھتی-دادو کو روشنی میں نیند نہیں آتی تھی اس لیے مجبوراً اس کا کمرہ الگ کردیا-اب وہ آزاد تھی-
اسے تبریز سے بات کرنی تھی-
دھڑکتے دل کے ساتھ اسے میسج کیا-وہ تو جیسے انتظار میں تھا-
فوراً اسکی کال آگئی-اس نے چہرہ کمبل کے اندر کرلیا کہ آواز کہیں باہر نہ جاۓ-
دوسری طرف سے اسکی شوخ اور چہکتی آواز ابھری-
اسکے دل کی دھڑکن اور تیز ہوگئی-
رات رفتہ رفتہ گہری ہوتی جارہی تھی-وقت کا احساس ہی نہیں ہوا-وہ دو گھنٹے باتیں کرتے رہے تھے-
کوئی تیسرا— جو ہر جگہ موجود ہوتا ہے وہ ہر ایک لفظ کا ثبوت رکھ رہا تھا-ہر ایک حرکت کو اپنے نادیدہ کیمرے میں محفوظ کررہا تھا-اور فیصلے کے دن اس نے ہر ایک آڈیو اور ویڈیو کو بطور ثبوت سب کے سامنے لانا ہے-سارے گواہ اور ثبوت مجرم کے خلاف ہوں گے اور وہ اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ پاۓ گا-جو خود اپنے لیے رسوائی کا رستہ چن چکا ہے کسی کے سامنے اپنا وقار گروی رکھواچکا ہے-اس کے لیے اس روز بھی رسوائی ہوگی-جب بند کمروں میں ہونے والے ہر عمل کو ایک دنیا گیر ایل سی ڈی پر چلایا جاۓ گا-
ان بند کمروں کی ہر ایک دیوار پر لکھا جانا چاہیے–
”خبردار کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے-“
جب زبان-کھال-انگلیوں کی پوریں-آنکھ- کان سب گواہی دیں گے اور دل کی طرح بے اختیار ہوں گے-اس کا بس نہیں چلے گا کہ انہیں روک دے خاموش کرادے-مجرموں کے سر جھکے ہوں گے اور وہ اپنے ٹھکانوں کی طرف گھسیٹ کر ہانکے جائیں گے-جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے تھے جو اپنے تئیں اس سے چھپتے تھے –پھر مخلوق کے سامنے رسوا ہوں گے–
ہاں مگر جو سچی توبہ کرلے-جو اپنے لیے ہدایت مانگ لے اسکے لیے گمراہی کے راستے مشکل ہوجائیں گے-جو ہدایت نہ مانگے اسے نہیں ملے گی-
ولمن خاف مقام ربہ جنتٰن–الرحمٰن-
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں-
اس نے کال اور میسج کے سارے ثبوت مٹاۓ اور فون سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گئی-
پر اب نیند کسے آنا تھی-دو گھنٹے کی گفتگو کو سوچتے شاید رات ہی گزر جانی تھی-
وہ دھیمے دھیمے مسکراتی ہوئی اس کی باتیں سوچ رہی تھی-ایک نشہ تھا یا جادو جو سر چڑھ کر بول رہا تھا-حرام کا نشہ جس نے جائز نا جائز اور گناہ ثواب اچھے برے کی تمیز بھلادی تھی-
ہر وہ چیز جو اپنا عادی بنالے اور رفتہ رفتہ انسان کو نگل جاۓ اسکی حیا- انسانیت -شرافت -صحت-اور معصومیت کو چاٹ لے نشہ ہوتی ہے-وہ چاہے کسی کے لفظ ہوں یا کوئی کھانے پینے کی شے-
یونہی وہ تقریباً روز ہی بہانے کرکے شمع سے فون لے لیتی تھی-اور اب وہ اس کی عادی ہوتی جارہی تھی-اس سے بات کیے بغیر اس کو سکون نہیں آتا تھا-
شزا میں تمہیں فون دینا چاہتا ہوں تم آج مجھ سے ملنے آجاؤ-
ابھی–؟پر کیسے–؟
رات کے گیارہ بجے میں کیسے آسکتی ہوں-؟وہ حیران ہوئی-
چھت پر آسکتی ہو–؟
چھت پر–؟مگر کیوں-؟
میں کہہ رہا ہوں نا–
تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میری ہر بات مانو گی –سوال کرو گی نا انکار-
ہاں اچھا سوری–
میں آتی ہوں–
وہ پیروں میں سلیپر پہن کر کھڑی ہوئی-سیل جرسی کی جیب میں ڈالا-
اور انتہائی احتیاط سے دروازہ کھولا-
باہر کوئی نہیں تھا-وہ دبے قدموں باہر لاؤنج میں آئی-سب کے کمروں کے دروازے بند تھے اور لائٹس بھی-
اور وہ اتنی ہی احتیاط سے سیڑھیاں چڑھنے لگی-
جیسے ہی اس نے چھت کا دروازہ کھولا-سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے بدن میں سرایت کرگیا-
سرما کی ابتدا تھی اور یخ بستہ ہوائیں سائیں سائیں کررہی تھیں-
اس نے پلٹ کر دروازہ بند کیا اور وسیع و عریض چھت پر بنا آواز پیدا کیے چلنے لگی-دور تک پھیلے گھروں میں کہیں کہیں روشنی اور کہیں اندھیرا تھا-ایک اندھیرا دوسرا اکیلے پن اور سردی نے اسے کپکپانے پر مجبور کردیا-
وہ چھت کے وسط میں کھڑی تھی-
اسے کال کرنے کی غرض سے اس نے سیل جیب سے نکالا–
میں یہاں ہوں –اس کے پیچھے سے آواز آئی-
مارے دہشت کے شزا کی گھگھی بندھ گئی-
شزا نے پلٹ کر دیکھا-اسکی گہری نیلی آنکھیں مسکرا رہی تھیں اور ہلکے بھورے بال ہوا میں اڑ رہے تھے-وہ گرے جینز کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا-گہری جامنی شرٹ کا گریبان کھلا تھا-گردن سے سونے کی موٹی چین چپکی تھی-چاند کی روشنی اس کی ایک سائیڈ پر پڑ رہی تھی –
تم یہاں–؟اسکے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی۔
ہاں میں یہاں–کیوں اچھا نہیں لگامیرا یہاں آنا-؟
وہ اسکے قریب آگیا اور اسکا ہاتھ تھام لیا-جو برف کی طرح سرد تھا-
پر تم کیسے—؟بس نومور کوئسچنز–
اس نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کرایا-اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا-
وہ جیسے اردگرد سے بے نیاز ہوگئی تھی- مدھم چاندنی نیلی آنکھوں میں اس کا عکس دکھارہی تھی-وہ محویت کے عالم میں تھی-
اب بس کرو—نظر لگاؤ گی–
اس نے اسکی محویت توڑی–
وہ نگاہ چراگئی-
یہ لو تمہارا سیل فون–اس میں سم لگاکر میں نے اپنا نمبر سیو کردیا ہے-تم یہ نمبر کسی کو نہیں دو گی-صرف مجھ سے بات کروگی-
اور اگر گھر والوں کو پتہ چل گیا–؟
نہیں پتہ چلے گا-تم اسے چھپا کے رکھنا اور سائیلنٹ موڈ پر لگا کے وائبریشن لگا دیا کرو-تاکہ میرے فون کا پتہ چل جاۓ-
تھینک یو—
ارے تھینک یو کس بات کا–تمہارے لیے تو کیا ہے سب کچھ-
وہ زور سے ہنسا–
آہستہ–ک–کوئی آنہ جاۓ—اس نے سیڑھیوں کے دروازے کی جانب خوف سے دیکھا-
کوئی نہیں آۓ گا-تمہارے گھر والے سورہے ہیں–
چلو یہاں بیٹھو باتیں کرتے ہیں–
اس نے اسے پکڑ کر ایک نیم شکستہ بوسیدہ صوفے پر بٹھایا-جو پتہ نہیں کب سے یہاں کباڑے میں پڑا تھا-
ڈر کیوں رہی ہو–؟میں ہوں نا–
اس کے سر سے چادر سرک گئی تھی–اور اب لٹیں ہوا سے اٹکھیلیاں کررہی تھیں–
اس نے اسکی ایک لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹتے کہا–
میں ہوں نا۔۔۔۔اور وہ اسی سرد ہوا میں خود کو اڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔
وہ بہت دیر وہاں بیٹھے رہے–چاند انہیں تکتا ہوا بلند ہوتا جارہا تھا اور وہ اسکے سامنےپست سے پست تر ہوتے جارہے تھے-
فاصلہ براۓ نام رہ گیا تھا-شرم و حیا اپنا رخت سفر باندھ رہی تھی-شزا جذبات کے جال میں پوری طرح پھنس چکی تھی-بس اب شکاری نے اس کے پر کاٹنے تھے-
