Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 (Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 2
تو تو یہ کہ میں نے انکار کر دیا۔ کیوں؟” یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح اس کے ساتھ باہر جانا ” کیوں ٹھیک نہیں ہے؟ وہ تمہارا منگیتر ہے۔ اتنے سالوں کے بعد باہر سے آیا ہے۔ مگر یہ غلط ہے عقیلہ ! وہ تقریباً چلا پڑی۔ ہاسٹل میں سب لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے اور میرے گھر والوں کو پتا چلتا تو وہ کیا محسوس کرتے ۔“ہاسٹل میں رہنے والوں کی پروا کرنے کی تمھیں ضرورت نہیں ہے۔ وہ جو چاہیں انھیں سمجھنے دو۔ جہاں تک گھر والوں کی بات ہے تو تمہارے گھر والوں کو کیسے پتا چلے گا۔ وہ تو راولپنڈی میں ہیں ۔اسی لیے تو میں یہ دھوکا نہیں کرنا چاہتی۔ ان کا اعتماد توڑنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں ۔ اس نے صاف انکار کیا۔ جہاں زیب بالکل صحیح ناراض ہوا ہے۔ تمھارے جیسی لڑکی کے ساتھ یہی کرنا چاہیے۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے اور تم تمھیں کبھی ہاسٹل کی فکر ہوتی ہے اور کبھی گھر والوں کی اپنی کیوں نہیں سوچتیں تم ؟
کیا مطلب ہے تمہارا؟” مطلب بالکل واضح ہے۔ وہ تمہارا منگیتر ہے۔ تمھیں اس کی خواہشات کو اولیت دینی چاہیے۔ وہ تمھیں اگر اپنے ساتھ باہر لے جانا چاہ رہا تھا تو اس میں کوئی ایسی بری بات نہیں ہے۔“ بری بات ہے۔ میرے ڈیڈی نے جہاں زیب کے ساتھ منگنی ہونے کے بعد ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ وہ فون کرتا ہے۔ ٹھیک ہے، اس سے بات کر لیا کرو مگر اس کے ساتھ شادی سے پہلے کبھی باہر مت جانا ۔ عقیلہ اس کی بات پر عجیب سے انداز میں ہنسی۔ تمھارے ڈیڈی بہت عرصہ پہلے مر چکے ہیں جو لوگ مر جاتے ہیں۔ ان کے قوال زریں دہرانے اور ان پر عمل کرنے کے بجائے زندہ لوگوں کی خواہشات کے بارے میں غور کرنا چاہیے ۔ امید کو اس کی بات پر دھچکا لگا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس کے باپ کے بارے میں اتنی بے رحمی سے بات کرے گی۔ مجھے دیکھو، میں بھی شفیق کے ساتھ باہر جاتی ہوں، حالانکہ ہم دونوں کی تو کوئی منگنی نہیں ہوئی تمھارے نظریات کے لحاظ سے تو میں بھی ایک بری لڑکی ہوں، ؟
وہ سمجھ نہیں پائی وہ طنز کر رہی تھی یا ……… وہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے، میں دوسروں کے کردار کے حوالے سے کوئی بات
نہیں کرتی ، مگر اپنے لیے مجھے یہ کرنا اچھا نہیں لگتا۔“ کیوں اچھا نہیں لگتا۔ نو سال سے وہ تمہارا منگیتر ہے۔ تمہاری اپنی مرضی
سے وہاں منگنی ہوئی ہے۔ اپنے ڈیڈی کے فرمان اگر بھول جاؤ تو بتاؤ کہ اس کے ساتھ باہر جانے میں کیا حرج ہے۔ وہ تمھیں کھا تو نہیں جائے گا۔ اگر تم اسے فون کر سکتی ہو خط لکھ سکتی ہو۔ ہاسٹل میں مل سکتی ہو تو پھر اس کے ساتھ باہر جانے میں کیا حرج
ہے انسان میں منافقت نہیں ہونی چاہیے۔“ وہ اسے پتا نہیں کیا جتا رہی تھی کچھ کہنے کی بجائے وہ خاموشی سے اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔ لان میں بہت دیر تک وہ اضطراب اور بے چینی کے عالم میں ٹہلتی رہی تھی۔ پھر اچانک اس نے عقیلہ کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ تمھیں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں، بتا تو جاتیں کہ لان میں بیٹھو گی۔ جہاں زیب کی کال آئی ہے میرے موبائل پر، وہ کچھ دیر بعد دوبارہ کال کرے گا۔“اس نے اطلاع دی۔ وہ بے اختیار خوش ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کا غصہ ختم ہو گیا ہے۔ وہ جہاں زیب کی عادت جانتی تھی ۔ عقیلہ کے ساتھ وہ کمرے میں آ گئی تھی۔پندرہ منٹ بعد جہاں زیب کی کال آئی تھی۔اس کا غصہ واقعی ختم ہو چکا تھا۔
۔ عقیلہ غصہ کم ہو گیا ہے۔ وہ جہاں زیب کی عادت جانتی تھی-اس نے امید سے اپنے تلخ رویے کے لیے معذرت کی۔ امید نے کھلے دل سے اسے معاف کر دیا تھا۔ اس ویک اینڈ پر تم راولپنڈی آ سکتی ہو؟“ وہ پوچھ رہا تھا۔ کیوں؟ میرے گھر والے تمھارے گھر آنا چاہ رہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ آؤں گا۔ یہاں نہیں تو چلو وہاں تو ملاقات ہو ہی سکتی ہے۔
ٹھیک ہے۔ میں راولپنڈی آ جاؤں گی ۔ اس نے بڑی خوشی سے ہامی بھر لی- فون بند کرتے ہی عقیلہ نے اس سے کہا۔ ” تم بہت لکی ہو امید کہ تمھیں جہاں زیب جیسا شخص ملا ہے، ورنہ کوئی دوسرا شخص تو ، مجھے لگتا ہے، وہ واقعی تم سے بہت محبت کرتا ہے۔“ امید ، عقیلہ کی بات پر فخریہ انداز میں مسکرائی۔ ہاں اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ وہ میری بات سمجھ لیتا ہے۔ وہ کہتے ہوئے کھانا لینے کے لیے چلی گئی۔
ویک اینڈ پر وہ راولپنڈی آگئی۔ رات کو جہاں زیب اپنے گھر والوں کے ساتھ آیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح اس کی خوش مزاجی اپنے عروج پر تھی۔میری امی آج تاریخ طے کرنے آئی ہیں۔ وہ اس کے کمرے میں آ کر اسے بتانے لگا۔ کیا ؟ وہ تقریبا چلا اٹھی۔ اتنی جلدی-
یہ اتنی جلدی ہے؟ تمھیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری منگنی ہوئے آٹھ نو سال ہو گئے ہیں۔ اب ویسے بھی میں آیا ہی سیٹل ہونے کے لیے ہوں ہو گئے ہیں۔ اب ویسے بھی میں آیا ہی سیٹل ہونے کے لیے ہوں جاب کر رہا ہوں۔ظاہر ہے مجھے گھر تو بسانا ہی ہے۔“
مگر جہاں زیب ! مجھ پر ابھی بہت سی ذمہ داریاں ہیں، میری بہن اور بھائی ابھی ۔“ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ یار! تم اپنی فیملی کے بارے میں فکر مند مت ہو۔ میں سپورٹ کر سکتا ہوں انھیں ، میری پیے بہت اچھی ہے جتنی رقم کے لیے تم دوسرے شہر میں رہ کر سارا دن کام کرتی ہو۔ اتنی رقم میں بہت آسانی سے دے سکتا ہوں ۔ اس لیے تمھیں اس معاملے
میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بہت مطمئن تھا۔ میں یہ نہیں چاہتی جہاں زیب کہ تم میری فیملی کو سپورٹ کرو۔ یہ کام مجھے خود کرتا ہے کیونکہ وہ میری ذمہ داری ہیں تمہاری نہیں۔ میں انھیں تم پر یا کسی دوسرے پربوجھ بنانا نہیں چاہتی ۔ وہ اس کی بات پر سنجیدہ ہو گئی۔ وہ مجھ پر بوجھ نہیں ہوں گے۔ تمہاری فیملی کے ساتھ ہمارے کیسے تعلقات یں، یہ تم اچھی ہو ہیں، اور ویسے بھی جب تمھارے بھائی اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے تو تو پھر پھر انھیں ہم ۔ سے کچھ لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی صرف چند سال ہی کی تو بات ہے۔ نہیں چند سال کے لیے بھی نہیں۔ میں انھیں تمہارا احسان مند نہیں بناتا چاہتی ۔ تم پہلے ہی میرے لیے بہت کچھ کر چکے ہو۔ امید نے دوٹوک انداز میں کہا۔ امید! میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔ یہ بات اپنے ذہن سے نکال دو۔میں تم سے محبت کرتا ہوں اور جو بھی میں نے کیا۔ وہ فرض سمجھ کر کیا ہے۔“
پھر بھی میں اپنی فیملی کو کسی دوسرے کی ذمہ داری بنانا نہیں چاہتی ۔“ اچھا یہ تو ہو سکتا ہے نا کہ تم شادی کے بعد بھی جاب کرتی رہو اور اپنی فیملی کو اپنی پے سے سپورٹ کرو۔ جہاں زیب نے بحث ختم کرنے کے لیے ایک تجویز پیش کی۔
کیا تم جاب کی اجازت دے دو گے؟ وہ کچھ سوچ میں پڑ گئی۔ ہاں، جب تک تمہاری فیملی کو ضرورت ہے تب تک تو تم جاب کر سکتی ہو۔“جہاں زیب نے فوراً کہا وہ خاموش ہو گئی۔ ڈیڑھ ماہ بعد اس کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی تھی۔ وہ ویک اینڈ کے بعد واپس لاہور آگئی۔ قدرتی طور پر وہ بہت پرسکون اور خوش تھی۔ اس کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہونے والا تھا۔ اس نے ہاسٹل کی انتظامیہ کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اگلے ماہ سے ہاسٹل چھوڑ رہی ہے ہاسٹل میں اس کی جن لڑکیوں سے واقفیت تھی وہ سب بھی جان گئی تھیں کہ اس کی شادی ہونے والی ہے۔ جہاں زیب اکثر اسے فون کیا کرتا تھا۔ فون پر ہمیشہ کی طرح وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتا شادی کے حوالے سے اپنے منصوبے بتاتا، کچھ دن پہلے کی ہونے والی تلخی کو وہ جیسے یکسر فراموش کر چکا تھا۔ امید کا خیال تھا کہ شاید دوبارہ وہ اسے بھی باہر ملنے کے لیے نہیں کہے گا مگر اس کا خیال غلط ہے تھا۔وہ ایک دن پھر ہاسٹل چلا آیا اور اس نے ایک بار پھر اسے اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ وہ دونوں ہاسٹل کے اندر گیٹ کے قریب لان میں موجود پہینچ پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ جہاں زیب ! میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ ٹھیک نہیں ہے میں اس طرح تمھارے ساتھ نہیں جا سکتی ۔کیوں اب تمھیں کیا مسئلہ ہے۔ اب تو تمھیں اس ہاسٹل میں بھی نہیں رہنا
میرے ساتھ شادی ہونے والی ہے۔“اسی لیے میں تمھارے ساتھ اس طرح پھر نا نہیں چاہتی۔ کیا تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتیں۔ میں تم پر اعتماد کرتی ہوں، لیکن اس طرح باہر جانا مجھے ٹھیک نہیں لگتا۔“ جہاں زیب کچھ دیر خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے امید کا ہاتھ پکڑ لیا۔ امید کو جیسے ایک کرنٹ لگا اس نے آج تک کبھی ایسی حرکت نہیں کی تھی۔ امید نے بے اختیار اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ جہاں زیب ! تم کیا کر رہے ہو؟“ کیا کر رہا ہوں؟ تمہارا ہاتھ پکڑا ہے۔ ا ہے۔ اب تم کہہ دو کہ یہ ؟ یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس نے تلخ لہجے میں کہا تھا۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں جہاں زیب- اب اپنی پارسائی کے بارے میں وعظ شروع مت کرنا، چار پانچ سال سے تم اس ہاسٹل میں ہو۔ سارا دن مردوں کے ساتھ کام کرتی ہو۔ میرے ہاتھ پکڑنے پر تم
نے اس طرح ہاتھ کھینچا ہے۔ جہاں کام کرتی ہو وہاں پتا نہیں کتنے مردوں نے تمہارا ہاتھ پکڑا ہوگا-وہ بے یقینی سے جہاں زیب کا چہرہ دیکھنے لگی۔کیا یہ الفاظ اس شخص نے کہے ہیں جس سے میں محبت کرتی ہوں؟“ وہ فق تی کے ساتھ سوچ رہی تھی۔ میرا ہاتھ بھی کسی نے نہیں پکڑا۔ میں مردوں کے ساتھ صرف کام کرتی ہوں-اس لیے کہ کام کرنا میری مجبوری ہے مگر میں آوارہ لڑکی نہیں ہوں۔“میں نے تم سے کہا ہے کہ مجھے اپنی پارسائی کے بارے میں کوئی وعظ منت mat btao. میں یہ بھی مان ہی نہیں سکتا کہ مردوں کے ساتھ کام کرنے والی کوئی لڑکی مکمل طور بہ شریف ہو -میں تم سے تمہاری شرافت یا پارسائی کا کوئی ثبوت مانگنے نہیں آیا۔ تم کیا ر رہی ہو۔ مجھے دیپسی نہیں ہے میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میں تمہارا ہاتھ پکڑوں تو تمہ نہ چھڑاؤ اور اگر میں یہ چاہوں کہ میرے ساتھ باہر چلو تو تم بغیر کچھ سوچے سمجھے میرے ساتھ چل پڑو تمہارا منگیتر اور ہونے والے شوہر کی حیثیت سے میں اتنا حق تو hai .کہ تم میری بات مانو اگر رکی لڑکی ان لوگوں پر نوازشات کر سکتی ہے جن کے sath وہ کام کرتی ہے تو پھر اپنے منگیتر سرکیوں نہیں ۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں رالے بڑی بے خوفی سے کہہ رہا تھا وہ اتنی ہی بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔تم جانتے ہو جہاں زیب ! میر میں کسی خاندان سے taalak رکھتی ہوں۔ میرے باپ نے مجھے کیسی تربیت دی ہے پھر تمھارے ذہن میں یہ شک کیوں ہے کہ یہاں آنے کے بعد میں یہاں یہ سب کچھ کرتی رہی ہوں ۔اس نے دل گرفتہ ہو ؟ کر اس سے پوچھا۔ خاندان سے کوئی فرق پڑتا ہے نہ ہی ماں باپ کی تربیت سے آزادی انسان نے بہت کچھ کروا دیتی ہے۔ میں بھی پارسا نہیں ہوں۔ اتنا عرصہ باہر رہتے ہوئے میں بھی زندگی اپنی مرضی سے گزارتا رہا ہوں ہر چیز اپنی مرضی سے کرتا رہا ہوں۔“تم یہ سب کرتے رہے ہو گے مگر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ میں مسلمان میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر مجھے تمہارے، اپنے گھر والوں یا اللہ کے ہوں سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ میرے مذہب میں جو چیز گناہ ہے اسے میں گناہ ہی بجھتی ہوں اور اس سے بچتی رہی ہوں ۔“مذہب بہت آؤٹ ڈیٹڈ چیز ہے۔ اس کا سہارا منافق لیتے ہیں۔“
وہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی۔تمہارا ذہن اتنا قدامت پرست ہے کہ تم آج کی دنیا میں چل نہیں سکتیں، مذہب کا سہارا لے کر جو اخلاقی اقدار تم اپنائے ہوئے ہو، وہ بہت پہلے ختم ہو چکی ہیں۔ زندگی میں سب سے ضروری چیز خوشی ہوتی ہے اور انسان کو چاہیے کہ خوشی حاصل کرنے کے لیے جو چاہے کرے۔ مذہب کی دیواریں اپنے گرد حائل مت کرے میں اپنی بیوی میں وہ ساری خوبیاں دیکھنا چاہتا ہوں جو کسی بھی لبرل، براڈ مائنڈ ڈ عورت میں ہوں کیونکہ مجھے جس سوسائٹی میں move کرنا ہے وہاں مجھے ایک ایسی ہی عورت چاہیے۔ تمہاری شرافت میرے کام آئے گی نہ تمھیں میرے ساتھ چلنے دے گی ۔ آج بیٹھ کر میری باتوں پر سوچو، کل میں اسی وقت تمھیں لینے آؤں گا۔ وہ تلخی سے کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا۔تم احمق ہو، وہ ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ چلی جاؤ۔ ہو سکتا ہے اس طرح اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور تمہارا مسئلہ ختم ہو جائے ۔ اس رات عقیلہ نے اس کی ساری باتیں سننے کے بعد کہا۔تم جتنا is سے بیچ رہی ہو۔ اس کی خفگی اتنی ہی بڑھ رہی ہے۔ ظاہر ہے ایک بندہ اگر کسی سے محبت کرے، خاص طور پر اس کے لیے دوسرے شہر سے آئے اور اگلا بندہ ساتھ چلنے پر بھی تیار نہ ہو تو غصہ تو آئے گا۔امید نے بے بسی سے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیے۔ امید! جہاں محبت ہو وہاں اس طرح کی فضول ضدیں نہیں ہونی چاہئیں۔ تمہاری تو ویسے بھی اگلے ماہ اس سے شادی ہونے والی ہے۔ اگر اس کی خواہش ہے کہ تم اس کے ساتھ کہیں گھومنے کے لیے چلو تو کیا برائی ہے۔ ہر مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی منگیتر کے ساتھ کہیں تفریح کے لیے جائے۔ مگر تمہاری ضد تمھارے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے اگر غصہ میں آ کر اس نے تم سے شادی سے انکار کر دیا تو تم کیا کرو گی ۔ جاری ہے………………………….
