373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 8

وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے؟ اب وہ سوچ رہی تھی ۔ شاید اس کی بیوی یا پھر گرل فرینڈ ؟ بیوی اس کے اندر ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی ۔ اگر میں چار سال پہلے تو آج اس کے ساتھ میں ہوتی . اسی طرح یہیں ۔

اس کے اندر یک دم بہت شور ہونے لگا تھا۔ وہ بے اختیار رونے لگی۔ بہت دیر رونے کے بعد وہ منہ دھو کر واپس کاؤنٹر پر آگئی۔ اس کی شفٹ ختم ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ تھا۔تب ہی اس کے پاس ایک غیر ملکی آیا تھا۔ وہاں غیر ملکیوں کا آنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں تھی۔ وہاں ان کا بہت زیادہ آنا جانا تھا مگر اس غیر ملکی نے انگلش کے بجائے بہت شستہ اردو میں اپنا آرڈر نوٹ کروایا ۔ ہمیشہ کی طرح اس نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس کا آرڈر نوٹ کیا اور پھر کچھ

دیر کے بعد آرڈر سرو کیا ۔ شفٹ ختم ہونے کے بعد وہ وہاں سے آگئی۔ اس رات وہ دیر تک بیٹھی روتی رہی تھی۔ عقیلہ کچھ دیر سے خاموش کروانے کی جستجو میں مصروف رہی پھر تنگ آکر وہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔ انسان میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے لیے فیصلہ کر سکے جس وقت تم اسے حاصل کر سکتی تھیں اس وقت تم کو اخلاقیات یاد آ رہی تھیں۔ ایمان اور اسلام کی فکر پڑ گئی تھی اور اب اسے کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ لینے پر رو رہی ہو۔ آخر تم اس کے لیے کتنا روؤ گی ۔ چار سال ہو گئے یہ تماشا دیکھتے ہوئے ۔ چار سال تو کوئی کسی مر جانے والے کے لیے بھی نہیں رویا کرتا اور تم ایک زندہ شخص کے لیے اتناہی یاد آتا ہے تو چلی جاؤ اس کے پاس اس کی بات مان لو تمھارے بقول وہ تم سے محبت کرتا ہے۔ جب تم دونوں کے درمیان محبت ہے تو مسئلہ کیا ہے؟ جاؤ اس کے پاس اگر اس نے اب تک شادی نہیں کی تب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ بالفرض شادی کر بھی لی ہے تو دوسری شادی کی جاسکتی ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو کوئی بات نہیں شادی ہی تو سب کچھ نہیں ہوتی۔ اگر بندہ کسی سے محبت کرتا ہے تو شادی کے بغیر بھی اس کے ساتھ رہا جا سکتا ہے بلکہ زیادہ اچھے طریقے سے رہا جا سکتا ہے۔“ عقیلہ اپنے بستر میں لیٹی ہوئی بہت دیر تک بولتی رہی تھی۔ وہ خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے اس کی باتیں سنتی رہی۔

اسے یاد نہیں، اگلے کتنے دن وہ ہر سڑک، ہر رستے ، ہر گاڑی، ہر چہرے میں اسے ڈھونڈتی رہی تھی۔ اسے لگتا تھا ، وہ ایک بار پھر اس کے سامنے آ جائے گا۔ بالکل اسی طرح جس طرح اس دن آیا تھا۔ کاؤنٹر پر کھڑے ہو کر، شیشوں سے باہر جھانکتے ہوئے ، ہر گاڑی کے کھلتے ہوئے دروازے سے وہ اس کے نکلنے کی امید کرتی تھی۔

اس دن وہ کاؤنٹر پر ایک کسٹمر سے آرڈر لے رہی تھی جب اس غیر ملکی نے آرڈر دینے کے بعد اچانک اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ کہ رہا تھا کہ وہ روز یہاں آتا ہے اور وہی اسے اٹینڈ کرتی تھی اس لیے وہ اس کا نام جاننا چاہ رہا تھا۔ وہ حیران ہوئی۔ میں اسے اٹینڈ کرتی ہوں روز ؟“ اس نے سوچا مگر مجھے یاد نہیں کہ یہ ۔ وہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ” مجھے جہاں زیب کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا چہرہ یاد نہیں رہ سکتا۔اس نے دل میں اپنی کمزوری کا اعتراف کیا۔ آرڈر سرو کرتے ہوئے اس شخص نے ایک بار پھر اس کا نام پوچھا۔ اس نے اپنا نام بتا دیا۔ اس بتادیا۔ اس دن ہاسٹل جا کر وہ اس شخص کے بارے میں سوچتی رہی اور پھر اسے یاد آیا کہ ایک ماہ پہلے اسی شخص کی اردو سن کر وہ پہلی بار چونکی تھی۔ دوسرے دن پنچ کے اوقات میں وہ شخص پھر وہاں تھا، آج اس نے اسے پہچان لیا۔ پھر اس نے نوٹ کیا وہ واقعی روز وہاں آتا تھا اور اب وہ روز اس سے کوئی نہ کوئی بات کرنے کی کوشش کرتا ۔ وہ جواب دینے کے بجائے خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ۔ ایسے رابطے بڑھانے والے کتنے سطحی ہوتے تھے، وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ پھر اس نے اپنی شفٹ تبدیل کروالی اور اس نے اب اس غیر ملکی کو شام کے وقت آتے دیکھا۔ اب وہ غور کرنے لگی اور اس کی سرگرمیاں پہلی بار اس کی نظروں میں آنے لگیں ۔ وہ شام سے رات تک وہاں بیٹھا رہتا وقتا فوقتا کوئی نہ کوئی چیز لیتا رہتا مگر وہاں سے جاتا نہیں تھا۔ وہ جب بھی اسے دیکھتی ، وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا تھا اور امید کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ اپنی نظریں کہیں اور مرکوز کر لیتا۔ وہ صرف امید کی نظروں میں ہی نہیں آیا تھا۔

اس کے ساتھ کام کرنے والی دوسری لڑکیاں اور لڑکے بھی اس کی موجودگی کا نوٹس لینے لگے تھے۔ ویک اینڈ پر وہ اپنے گھر آئی۔ راولپنڈی آ کر ہمیشہ وہ بہت ہی عجیب کیفیات سے دو چار رہتی تھی ۔ بعض دفعہ اسے یوں لگتا جیسے وہ بہت غلط جگہ آگئی ہو اور بعض دفعہ اسے یوں لگتا جیسے وہ کسی نماط جگہ سے آگئی ہو۔ میں چاہتی ہوں ، اب تم لاہور سے مستقل یہاں آجاؤ اب ضرورت نہیں ہے کہ تمھیں کمانا پڑے۔ تمھارے بھائی اب اتنا کمانے لگے ہیں کہ تمھیں اس طرح دوسرے شہر میں نہ رہنا پڑے۔ اس رات اس کی امی نے اس سے کہا تھا۔ اس نے حیرانی سے ماں کا چہرہ دیکھا۔ اچھا تو کیا میری جدو جہد ختم ہوگئی ؟“ اس نے سوچا۔ اب تم یہیں راولپنڈی میں رہو۔ میں تمھارے لیے کچھ رشتے دیکھ رہی ہوں ۔ چاہتی ہوں کہ جلد ہی تمہاری شادی کر دوں ۔“ وہ بالکل خاموش بیٹھی رہی ۔ امی کچھ دیر بعد اٹھ کر چلی گئیں ۔شادی! کیا میں شادی کروں گی ؟ جہاں زیب کے علاوہ کسی دوسرے سے اب جب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب کس لیے؟ خود

کو دھوکا دینے کے لیے ۔ یا کسی دوسرے کو ۔ اس کا ذہن جیسے اس بات کو قبول ہی نہیں کر رہا تھا۔ کیا آزمائشیں کبھی ختم ہوسکتی ہیں ؟“ وہ سوچ رہی تھی ۔ اور وہ بھی میری آزمائشیں، لاہور سے واپس آ جاؤں کہاں ، یہاں راولپنڈی اور یہاں دوبارہ سے رشتے جوڑنے کی کوشش کروں کیا امی محسوس نہیں کر سکتیں کہ جہاں زیب کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ رہنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔“

وہ دو دن کے لیے لاہور سے راولپنڈی آئی تھی مگر دو دن کے بجائے ایک ہفتہ وہاں رہی۔ واپسی میں ایک بار پھر اس نے خاموشی سے امی کی گفتگو سن کر سر ہلا دیا۔ کاش میں انھیں بتا سکتی کہ اب شہر بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ گھر ہو یا نہ ہو مجھے فرق نہیں پڑتا ۔ سب کچھ چار سال پہلے ختم ہو گیا تھا۔ اب تو صرف راکھ اور کھنڈر ہیں راکھ اور کھنڈر پر دوبارہ عمارت تعمیر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس نے گھر سے نکلتے ہوئے سوچا تھا۔ اس رات لاہور پہنچ کر اس نے عقیلہ کو بتایا تھا کہ اب وہ بہت جلد واپس راولپنڈی چلی جائے گی کیوں؟“ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ میری امی چاہتی ہیں۔ میں واپس آ جاؤں ۔ دونوں بھائی سیٹل ہو چکے ہیں اب میری جاب کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ میری شادی کرنا چاہتی ہیں ۔ اس نے دھیمے لہجے میں اپنے کپڑے استری کرتے ہوئے بتایا تھا۔ وہ تو تم شادی کے لیے جانا چاہتی ہو، جہاں زیب کے علاوہ کسی دوسرے سے شادی خیر اچھا ہے مگر کیا تم خوش رہ سکوگی ؟‘ عقیلہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔ پتا نہیں، شاید ہاں یا پھر نہیں ۔ وہ الجھ گئی۔ تمہاری خوبی یہ ہے کہ تم کمپرومائز کر لیتی ہو حالات سے لوگوں سے، زندگی سے اور اپنے آپ سے، مجھے لگتا ہے خوش رہو یا نہ رہو مگر زندگی تم گزار ہی لوگی ۔ عقیلہ نے اس کا تجزیہ کیا۔ وہ خاموشی سے کپڑے استری کرتی رہی۔ کمپرومائز ؟ نہیں، کمپرومائز کرنا ہی تو نہیں آیا ۔ ورنہ میں نے اپنے ساتھ اور اپنی زندگی کے ساتھ یہ سب کچھ نہ کیا ہوتا، چار سال سے جہاں زیب کے الوژن کے ساتھ زندگی نہ گزار رہی ہوتی ۔ اس نے رنجیدگی سے سوچا۔ اگلے دن وہ ریسٹورنٹ گئی تھی۔ صبح ہاسٹل سے نکلتے ہوئے چوکیدار نے اسے بتایا کہ اس کی عدم موجودگی میں کوئی غیر ملکی اس کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔ وہ یہ جان کر حیران ہوئی کہ وہ اس کے ریسٹورنٹ سے آیا تھا۔ ریسٹورنٹ پہنچ کر اس نے اپنے ساتھ کام کرنے والے سے اس بارے میں پوچھا مگر کسی نے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی اس کے پیچھے اس کے نہ آنے کی وجہ معلوم کرنے گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔شام کو ڈینیل ایڈگر نامی وہ غیر ملکی ایک بار پھر وہاں آیا تھا اور ہمیشہ کی طرح سیدھا اس کے پاس آیا ، اس نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کاؤنٹر پر اس کا استقبال کیا ۔ مگر وہ مسکراہٹ اس وقت اس کے چہرے سے غائب ہو گئی جب اس نے ڈینیل کا اگلا جملہ سنا۔ وہ اس سے اس ایک ہفتے کی عدم موجودگی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اس نے حیرانی سے اس کے سوال پر اسے اور اس کے ساتھ موجود ایک دوسرے شخص کو دیکھا تھا جس نے برق رفتاری سے اس کے تاثرات سے چھلکنے والی ناگواری کو دیکھ کر آرڈر نوٹ کروانا شروع کر دیا۔ آرڈر نوٹ کرنے کے کچھ دیر بعد اس نے اسی خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ آرڈر سرو کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کی اس خاموشی سے اس آدمی کو اندازہ ہو جائے گا کہ وہ سوال و جواب کے کسی سلسلے کو پسند نہیں کرتی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اس شام جانے سے پہلے وہ آدمی اس سے کیا سوال کرنے والا تھا۔ وہ اس کے مستقل وہاں بیٹھنے سے الجھن کا شکار تھی اس دن پہلی بار اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ یہ شخص جو ہر روز یہاں آکر بیٹھا رہتا ہے، اس کی وجہ کیا ہو سکتی تھی کیا میں ؟“ اس نے سوچا اور اس کی وحشت میں اضافہ ہو گیا ” یہ دفع کیوں نہیں ہوتا ؟ پہلی بار کا ؤنٹر پر کھڑے ہو

کر اسے ڈینیل کی نظریں چبھ رہی تھیں ۔ اس کی شفٹ ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے وہ اس کے پاس آیا اور امید نے اسے کہتے سنا- ” کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟“ کیا اس شخص کا دماغ خراب ہے؟ اس کے ذہن میں سب سے پہلے آنے والی بات یہی تھی۔ کیا میری اوقات اب یہی رہ گئی ہے کہ اس کاؤنٹر پر کھڑے کوئی بھی شخص آکر مجھے شادی کی آفر کر نے لگے ؟“ اس نے دل گرفتگی سے سوچا اور اسے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے وہ کاؤنٹر سے ہٹ گئی۔ اس رات ہاسٹل واپس جاتے ہوئے ایک جھماکے کے ساتھ اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس کے پیچھے ہاسٹل آنے والا ڈینیل ایڈگر ہی ہو سکتا ہے اور اس خیال نے اسے کچھ اور خوفزدہ کر دیا۔ اسے یہ کیسے پتا چل گیا کہ میں یہاں رہتی ہوں اور وہ پیچھے کیوں آیا۔ مجھے اب کیا کرنا چاہیے- وہ ساری رات جاگتی رہی اور اگلی صبح وہ فیصلہ کر چکی تھی۔ گیٹ پر موجود چوکیدار کو اس نے ہدایت دی کہ اب اگر کوئی غیر ملکی اس کے بارے میں پوچھنے آئے تو وہ اس سے کہہ دے کہ امید ہاسٹل چھوڑ چکی ہے۔ اس نے اسی دن فون کر کے اپنی جاب چھوڑنے کے بارے میں بھی فاسٹ فوڈ چین کی انتظامیہ کو مطلع کر دیا۔ اتنے سالوں سے میں اس ہاسٹل میں رہ رہی ہوں کبھی بھی مجھے اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا ، اور اب اس طرح صرف ایک شخص کی وجہ سے مجھے بھا گنا اور چھپنا پڑ رہا ہے۔ آخر میں کیوں خوفزدہ ہوں اور کسی چیز سے خوفزدہ ہوں؟ وہ میری مرضی کے بغیر تو مجھ سے شادی نہیں کر سکتا . مجھے اس کے سامنے انکار کرنا چاہیے تھا۔ جھڑ کنا چاہیے تھا ۔ وہ سوچتی اور حیران ہوتی۔ وہ اگلے کچھ دن وہیں رہی تھی۔ یہ سوچتی کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ کیا ایک بار پھر سے جاب کی تلاش کرنی چاہیے۔ ٹیوشنز کرنی چاہئیں یا پھر واپس راولپنڈی چلے جانا چاہیے۔ وہ بہت دن سوچ بچار میں رہی اور پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچ گئی تھی۔ ہاں، مجھے اب واپس اپنے شہر اپنے گھر چلے جانا چاہیے خراب میں یہاں رہ کر کیا کرنا چاہتی ہوں . یہاں کیا ہے جس کے لیے رکنا چاہتی ہوں؟ کیا جہاں زیب وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی تھی۔ اسے ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ اس نے کتنے سال ہاسٹل میں گزارے تھے۔ اس نے یہاں اپنی زندگی کا سب سے اچھا وقت گزار دیا تھا۔

یہاں اس نے خواب دیکھے تھے……………. یہاں اس نے چار سال پہلے ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے بند کر دیے تھے۔ یہاں اس نے اپنی زندگی کے چار بدترین سال گزارے تھے چار سال پہلے جو کچھ ہوا تھا اسے اس کا ایک ایک لمحہ یاد تھا پھر اس کے بعد چار سال کسی طرح اس نے گزارے تھے وہ کوشش کرتی بھی تو اسے کچھ یاد نہیں آتا۔ اسے بس یونہی لگتا، جیسے پچھلے چار سال سے وہ کسی ایسے براعظم پر پہنچ گئی ہے جہاں تاریکی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ جانے سے پہلے ایک دن ہاسٹل میں پھرتی رہی تھی۔ وہاں کی ہر چیز کے ساتھ اس کی یادیں وابستہ تھیں۔ ایسی یادیں جنھیں وہ بھلا دینا چاہتی تھی۔ سردیوں گی وہ راتیں جب اس نے اپنی زندگی کو برزخ بنتے دیکھا تھا گرمیوں کی وہ راتیں جب اس کا جسم برف کا تو دہ بن جاتا تھا . اس کے آنسو اس کے خواب اس کی خواہشیں سب کی قبریں یہیں تھیں اور اسے یوں لگتا تھا جیسے وہ ان قبروں کی مجاور بن چکی ہوں……………………………………………………………………………..

اس قبرستان نے اس کے وجود کو کھا لیا تھا۔…………………………… اب جب وہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی تو اس کا پورا وجو د کٹ رہا تھا۔ راولپنڈی آنے کے بعد ا گلے کئی دن وہ گم صم رہی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ایک نئی دنیا میں آگئی ہو ایسی دنیا جو نہ اس کی تھی نہ اس کے

لیے ، نو سال گھر سے باہر رہنے کے بعد اب دوبارہ وہاں رہنا۔ ہاں، میرے لیے تو بس یہی کافی تھا۔ تین وقت کا کھانا ، سر چھپانے کے لیے ایسی جگہ جس کا کرایہ مجھے نہ دینا پڑتا ہو اور جسم ڈھانپنے کے لیے چند جوڑے کپڑے، میرا اثاثہ تو بس یہی چیزیں تھیں۔ پانچ سال ایک شخص کا انتظار کرنے اور چار سال اسے کھونے کے بعد حواس برقرار کرنے میں لگانے کے بعد میرے حصے میں آنے والی زندگی کچھ اتنی بری نہیں بس صرف یہ ہوا ہے کہ زندگی کچھ زیادہ خاموش ہو گئی ہے۔آنکھیں اب خواب نہیں دیکھتیں اور دل یقین کھو چکا ہے۔ مگر باقی سب کچھ تو ہے- وہ سارا دن گھر کے صحن میں لگے ہوئے پودوں کے پاس بیٹھی سوچتی رہتی۔ گھر سے نکلتے ہوئے میں اٹھارہ سال کی تھی ، واپس آتے ہوئے ستائیس سال کی ہو چکی ہوں اور نو سال میں میں نے اپنے لیے کیا کھویا کیا پایا شاید صرف کھویا پانے کی تو مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی ۔ وہ سوچتی اور اذیت ایک بار پھر اس کا گھیراؤ کرنے لگتی۔ امی اس کے گھر آ جانے سے بہت خوش اور مطمئن تھیں اور یہی حال اس کے بھائیوں کا تھا۔ شام کو ان کے ساتھ اکٹھے کھانا کھاتے ان کے پر سکون اور مطمئن چہرے دیکھ کر حیرانی سے سوچتی رہتی ۔ کیا زندگی اتنی اچھی ہے کہ اس کے لیے مسکرایا جائے؟