373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 7

اس کی کنپٹی میں درد کی ایک لہر گزرگئی تھی۔ محبت کی اتنی بڑی قیمت دینے کے بعد میرے پاس تو اپنا وجود بھی نہیں رہ جائے گا کیا مذہب، کیا خدا، کیلا Moralit میری اوقات تو ایک kho ٹے سکے جتنی بھی نہیں رہ جائے گی-میرا باپ اپنی ساری عمر جس وجود پر آیات پڑھ پڑھ کر پھونکتار با اسے میں گندگی میں کیسے جھونک دوں ۔ اتنے سال پانچ وقت کی نمازوں میں اپنے لیے پاکیزگی اور ہدایت کی دعائیں مانگتے رہنے کے بعد اب میں کہاں جارہی ہوں کیا اللہ نے میرے دل پر مہر لگادی ہے یا ، یا اس گیٹ کو کراس کرنے کے بعد مہر لگا دے گا۔“ اسے بے تحا شا خوف آیا۔ اس کا پورا وجود زنجیروں میں قید ہوتا جارہا تھا۔ با ہر وہ شخص ہے جس سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں چاہا تو اندر عافیت ہے، امان ہے اور ایمان ہے۔ اس چار دیواری کو پار کرنے کے بعد نچار دیواری و پاک کرنے کے بعد محبت مل جائے گی مگر ایمان ………….. اس کی کنپٹیاں درد سے پھٹ رہی تھیں ۔ خالی نظروں سے اس نے سامنے گیٹ کو دیکھا پھر اپنے پیچھے مڑ کر ہاسٹل کی عمارت کو دیکھا۔

جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو۔“ اپنے باپ کے منہ سے بہت بار سنی جانے والی حدیث اسے یاد آئی تھی۔ اس نے گیٹ کو ایک بار پھر دیکھا فیصلہ ہو گیا تھا سرد وجود کے ساتھ وہ لان کے ایک تاریک کونے میں جا کر بیٹھ گئی۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے بالوں میں لگا ہوا کلپ اتار دیا۔ بیگ میں سے ٹشو نکال کر اس نے ہونٹ صاف کر دیے۔ اپنے ہاتھوں اور گلے میں پہنی ہوئی جیولری ایک ایک کر کے اس نے بیگ میں ڈال دی۔ اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی منگنی کی انگوٹھی کو اس نے آخری بار دیکھا پھر ا سے اتار دیا۔زندگی میں کبھی اس نے اتنی خاموشی ، اتنی تاریکی ، اتنی گھٹن نہیں دیکھی تھی جتنی اس رات لان کے اس تاریک کونے میں بیٹھ کر محسوس کی تھی۔
اسے یاد نہیں ، وہ وہاں کتنی دیر بیٹھی رہی تھی۔ خشک آنکھوں اور خالی نظروں کے ساتھ اس نے لان کی روشوں پر چلتی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ غائب ہوتے دیکھا تھا۔ رات کی تاریکی بڑھتی گئی تھی۔ پھر لان میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اپنے کمرے کی طرف واپس جانے کے بجائے وہ گیٹ کی طرف گئی تھی۔ وہ جانتی تھی ۔ گیٹ کے دوسری طرف اب وہ نہیں ہو گا نہ ہی دوبارہ کبھی آئے گا۔ دور سے کسی مجسمے کی طرح بے حس و حرکت وہ گیٹ کو دیکھتی رہی پھر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ عقیلہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے جن نظروں سے اسے دیکھا تھا ان میں کیا تھا۔ وہ جانتی تھی۔ وہ جہاں زیب کے فون کرنے پر اسے پورے ہاسٹل میں تلاش کرتی پھری ہوگی وہ اس بات سے بھی واقف تھی اور اب شاید وہ امید کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی ہوگی ۔ عقیلہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہوگئی ۔ امید نے خاموشی سے اپنے کپڑے بدلے اور اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی۔ صبح فجر کے وقت نماز کے بعد دعا مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھانے پر اسے یاد آیا کہ اب اس کے پاس دعا مانگنے کے لیے کچھ نہیں رہا تھا۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ وہ دعا مانگے بغیر جائے نماز سے اٹھ گئی ۔ نماز پڑھنے کے بعد آفس جانے کے لیے تیار ہونے کے بجائے وہ اپنے بستر پر لیٹ گئی۔عقیلہ آٹھ بجے معمول کے مطابق اپنے آفس جانے کے لیے اٹھی تھی۔ اس نے اس وقت بھی امید کو جا گتا دیکھنے کے باوجود اسے مخاطب نہیں کیا۔ اس کے آفس جانے کے بعد امید نے وہ بیگ نکال لیا جس میں نو سال کے دوران اس کی طرف سے ملنے والے سارے خطوط اور کارڈز رکھے تھے۔ کمرے میں پڑے ہوئے ہیٹر کو آن کر کے اس نے سارے کا غذ جلا دیے تھے۔ کمرے کا پورا فرش راکھ سے بھر گیا تھا۔ وہ کمرے کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھامے باری باری ہر خط ، ہر کارڈ کو جلتے دیکھتی رہی۔ سب کچھ جلنے کے بعد وہ بہت دیر وہ کمرے میں بکھری ہوئی راکھ پر نظریں گاڑے اسی طرح بیٹھی رہی۔ پھر اس نے کمرے کا فرش صاف کر دیا۔اگلے دو دن بھی اس نے اسی خاموشی کے ساتھ گزارے ، عقیلہ اور اس کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ تیسرے دن شام کو عقیلہ نے موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔
تمہاری امی کا فون ہے ۔ اس نے کچھ کہے بغیر مو بائل تھام لیا۔ امی رورہی تھیں جہاں زیب کے گھر والے رشتے سے انکار کر گئے ہیں جہاں زیب تم سے شادی پر تیار نہیں ہے اس نے کہا ہے کہ اسے جس طرح کی لڑکی کی ضرورت ہے ۔ وہ تم نہیں ہو۔ وہ تمھارے ساتھ نہیں چل سکتا۔ اس نے کہا ہے کہ اس نے تمھارے سامنے کچھ شرطیں رکھی تھیں جنھیں تم نے ماننے سے انکار کر دیا ۔کچھ کہے بغیر اس نے فون بند کر دیا۔ عقیلہ اندازہ لگا چکی تھی کہ اس کو ملنے والی خبر کیا ہو سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے اس نے فون لیتے ہوئے مدہم آواز میں کہا۔ کیا ملا امید یہ سب کر کے؟ وہ خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ تم نے ظلم کیا اپنے آپ پر اپنے گھر والوں پر اور جہاں زیب پر ۔ وہ اب بھی خاموش رہی۔ دو ہفتے کے بعد تمہاری شادی ہونے والی تھی ۔ مگر اب یہاں کس کس کو بتاؤ گی کہ تمہاری شادی کیوں ملتوی ہوگئی …. وہاں راولپنڈی میں تمھارے گھر والے کس کس کو صفائیاں دیں گے کہ شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد منگنی ٹوٹنے کی وجہ کیا تھی ۔ ایسی منگنی جو نو سال رہی لوگ کہیں گے لڑکی میں ضرور کوئی ایسی خرابی ہو گی کہ لڑکا نو سال بعد شادی سے انکار کر گیا ۔ تمھیں اندازہ ہے کہ تمھارے گھر میں اس وقت ما تم ہو رہا ہوگا ۔ اب ایک ہاتھ میں اپنی اخلاقیات اور دوسرے میں اپنا مذہب لے کر ساری عمر پھرتے رہنا۔ لوگوں کو یہی آئیتیں اور حدیثیں سنا سنا کر اپنی صفائیاں پیش کرنا جو تم مجھے سناتی ہو پھر دیکھنا، کتنے لوگ تمہاری پارسائی پر یقین کریں گے۔ تمہاری نمازیں اور تمہاری اخلاقیات تمھارے ماتھے پر شرافت کا کوئی ٹھپہ نہیں لگا ئیں گی۔ لوگ تمھیں اسی طرح دیکھیں گے جس طرح ہر لڑکی کو دیکھتے ہیں، تمھارے بارے میں وہی کچھ کہیں گے جو ایک ورکنگ گرل کے بارے میں کہتے ہیں تمھارے مقدر میں جو تھا اسے تم نے ٹھوکر مار دی اب دیکھنا تمھارے لیے باقی کیا رہ گیا ہے۔ وہ تلخ لہجے میں مسلسل بول رہی تھی ۔ امید بہت دیر تک اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر نے لگی تھی۔ اس رات وہ دھاڑیں مار مار کر پاگلوں کی طرح روتی رہی تھی۔ عقیلہ نے کمرے میں ڈیک لگا دیا تھا تا کہ اس کی چیخوں کی آواز میں سن کر کوئی ادھر نہ آئے ۔ اسے چپ کرواتے ہوئے وہ خود بھی روتی رہی ۔ وہ جہاں زیب کو آوازیں دیتی اپنے باپ کو پکارتی پھر دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر چلانے لگتی۔ رات دو بجے تک وہ نڈھال ہو چکی تھی ۔ عقیلہ نے دو بجے اسے سلیپنگ پلز کھلا کر سلا دیا۔ اس رات کے بعد بھی وہ بہت بار اسی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی تھی ، مگر عقیلہ کے سامنے نہیں۔ عقیلہ چند دن اسے ٹرنکولائزر دیتی رہی تھی پھر اسے نارمل ہوتے دیکھ کر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد کیا ہوا تھا، اسے کچھ بھی ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی جیسے دنیا سے کٹ گئی تھی۔ اسے صرف یہ یاد تھا کہ اسے صبح اس وقت آفس جانا ہے، پھر ٹیوشنز کرنا ہیں اور رات کو واپس ہاسپٹل آ جانا ہے باقی ہر چیز جیسے اس کے ذہن سے نکل گئی تھی۔ اس واقعہ کے دو ہفتے کے بعد ہاسٹل نہ چھوڑنے پر ہاسٹل کی لڑکیاں کیا سوچتی رہی تھیں۔ وارڈن نے اسے کتنی ہمدردی سے دیکھا تھا۔ اس کے وجود پر یک دم اس طرح چھا جانے والی خاموشی نے اس کے وجود کو دوسروں کے لیے کتنا قابل اعتراض بنایا تھا۔ وہ ہر چیز سے لا پروا ہو چکی تھی ۔ اس نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنا چھوڑ دیا۔ اس کے پاس آئینے کے سامنے جانے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے بیٹھتی اور دعا مانگے بغیر اٹھ جاتی۔ سڑک پر چلتی تو ہر طرف اسے جہاں زیب نظر آتا اور پھر یہ الوژن ہر وقت اس کے ساتھ رہنے لگا۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ اس کے وہ اس کے پاس ہے۔ ہر وقت ہر جگہ رات کو سونے سے
پہلے اور صبح اٹھنے کے بعد اس کے ذہن میں ابھرنے والا آخری اور پہلا تصور ہی شخص کا ہوتا۔ بہت دفعہ mass میں سے کھانا اپنے کمرے میں لے جاتے ہوئے اس نے اپنے بارے میں لڑکیوں کی سرگوشیاں سنی تھیں۔ اچھا تو یہ وہ لڑکی ہے جس کی شادی طے ہونے کے بعد منگیتر نے شادی سے انکار کر دیا۔ وہ بھی دو ہفتے پہلے ۔ بے چاری۔ مگر ہوا کیا تھا۔ ہو سکتا ہے منگیتر کو اس کے بارے میں کسی ایسی ویسی بات کا پتا چل گیا ہو۔ آخر اتنے سالوں سے ہاسٹل میں رہ رہی تھی. مجھے کوئی بتا رہا تھا بہت سال پرانی منگنی تھی۔ بہت خوبصورت تھا اس کا منگیتر ۔ یہاں ایک دو بار ملنے آیا تھا باہر سے پڑھ کر آیا تھا مجھے تو ترس آ رہا ہے کتنا ظلم ہوا ہے اس پر ہمیں حقیقت کا کیا پتا ہو سکتا ہے اس میں کوئی برائی ہو ورنہ اتنی پرانی منگنی کون تو ڑتا ہے اور وہ بھی شادی کی تاریخ طے کرنے کے بعد مگر لگتی تو نہیں ہے ایسی ویسی ۔ چہرے سے کیا پتا چلتا ہے اصلیت کا پتا تو خدا کو ہی ہوتا ہے یا پھر ان کو جن کا واسطہ پڑے ۔اگلے کئی ماہ وہ گفتگو کا موضوع بنی رہی۔ mass سے کھانا لیتے وہ سرگوشیاں سنتی۔ لڑکیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے وہ بہت کچھ سنتی رہتی۔ اسے کچھ بھی برا نہیں لگتا تھا۔ کوئی طنز ، کوئی طعنہ کسی کی مذاق اڑاتی ہوئی نہی نجس آنکھیں ، ایک دوسرے کو کیے جانے والے اشارے، وہ کسی چیز پر مشتعل نہیں ہوتی تھی ۔ شاید اسے اب تک یقین نہیں آیا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہوا ہے۔ شروع میں اسے سب کچھ خواب لگتا تھا۔ ایک ڈراؤنا خواب ، مگر وہ خواب نہیں تھا اور خواب کو حقیقت مان لینے کی کوشش کرتے ہوئے وہ مکمل طور پر ذہنی انتشار کا شکار ہو گئی تھی۔ ہاسٹل کی لڑکیوں کے قہقہے ان کے چہروں کی مسکراہٹیں اسے عجیب لگتیں ۔ وہ بچپن سے باقاعدگی سے نماز پڑھتی آرہی تھی۔ اب آہستہ آہستہ وہ نماز چھوڑنے لگی۔ اگر نماز پڑھتی بھی تو دعا مانگتے ہوئے وہ بہت دیر تک خاموش بیٹھی رہتی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا، وہ خدا سے اب کیا مانگے ۔ ویک اینڈ پر راولپنڈی جاتی تو امی اس سے بات کرتے کرتے رونے لگتیں۔ وہ تب بھی خاموشی سے انھیں سے انھیں دیکھتی رہتی اس کے پاس انھیں دلا سا دینے کے لیے کچھ تھا نہ آنسو پونچھنے کے لیے ہمت ۔ وہ اس سے اصرار کرتیں کہ آخر اس نے کون سی شرائط ماننے کے لیے کہا تھا جس پر اس نے انکار کیا۔ وہ کچھ بتانے کے بجائے پھر خاموشی اختیار کیے رکھتی۔ اس کے اندر کیا کچھ بدل چکا تھا۔ اس کا اندازہ اس کی امی کو کبھی نہیں ہوا۔ انھیں صرف اس کی خاموشی ہولایا کرتی تھی۔ اس طرح گونگا بن جانے سے کیا تمہاری تکلیف کم ہوگئی ہے یا کم ہو جائے گی مگر جو ہو گیا ہے۔ اس پر پچھتانے کے بجائے سب کچھ بھول جاؤ کوشش کرو کہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرو حالانکہ جو کچھ تم کر چکی ہو خیر اپنے آپ کو اس خول سے نکال لو، کبھی اپنی آنکھوں کو دیکھا ہے تم نے کبھی کتنی چمک اور شوخی ہوتی تھی ان میں اور اب میں تمھیں دیکھتی ہوں تو مجھے خوف آنے لگتا ہے۔ اتنی اداسی اور اتنی خاموشی ہے تمہاری آنکھوں میں بھی کہ…………… عقیلہ ہاسٹل میں اسے کہتی رہتی ۔ وہ اسے بھی بے تاثر خاموشی کے ساتھ دیکھتی رہتی۔ محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے ایک بار اس کے اندر چلے جاؤ پھر یہ باہر آنے نہیں دیتی۔ باہر آ بھی جاؤ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہو جاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں وہ بھی نہیں جو بالکل صاف، واضح اور روشن ہوتا ہے۔ اس دن بھی عقیلہ کی بہت سی نصیحتوں کے جواب میں اس نے یہی کہا تھا۔ میں بھی ابھی کچھ دیکھ نہیں پارہی ہوں۔ بس مجھے یہ اندازہ نہیں ہے کہ میں جنگل کے اندر ہوں یا باہر ۔“ عقیلہ نے اسے چہرے پر چادر لیتے دیکھ کر ہمدردی سے اس کا سر تھپتھپا دیا۔ اگلے کچھ سالوں میں اس کی بہن کی شادی ہو گئی ۔ ثاقب ایف ایس سی کرنے کے بعد آرمی میں چلا گیا اور معین بھی کام کرنے کے بعد ایک موبائل فون کی کمپنی میں سیلز ایگزیکٹو کے طور پر کام کرنے لگا ، اس کے کندھوں پر پڑی ہوئی ذمہ داریاں بنتی گئی تھیں اور خاموشی نے کچھ اور مضبوطی سے اسے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔عقیلہ نے یکے بعد دیگرے کئی منگنیاں توڑی تھیں اور چند دن رونے دھونے کے بعد وہ بالکل نارمل ہو جاتی اور نئے سرے سے کسی بوائے فرینڈ کی تلاش شروع کر دیتی مگر امید کی تلاش جہاں زیب پرختم ہو چکی تھی ۔ عقیلہ ایک چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی تھی اور لاہور میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس نہیں گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کی ڈیتھ ہوگئی۔ دو بھائی شادی کرنے کے بعد اپنے الگ الگ گھروں میں سیٹل تھے ۔ جبکہ وہ خود مستقل طور پر ہاسٹل میں مقیم تھی۔ بعض دفعہ امید اسے دیکھ کر سوچتی ۔ کیا خوش رہنے کے لیے رشتے ضروری بھی ہیں یا نہیں اگر یہ اپنی پوری زندگی یہاں گزار سکتی ہے تو کیا میں بھی۔ ہاں کیا فرق پڑتا ہے یہاں رہنے سے شاید گھر کی ضرورت اس کو ہوتی ہے جس کو خوش رہنا
ہو اور مجھے تو صرف زندہ رہنا ہے، چاہے اس ہاسٹل میں یا کہیں اور خوشی میری ضرورت ہے ہی نہیں ۔ ہاسٹل میں رہنے والی ایک لڑکی ایک فاسٹ فوڈ کی چین میں کام کرتی تھی وہ اپنی جاب چھوڑ کر واپس جا رہی تھی۔ تم اگر چاہو تو میں تمھارے لیے بات کر سکتی ہوں ۔ جاب اچھی ہے کوئی ٹینشن نہیں پھر سیلری بھی بہت بہتر ہے۔ اس نے ایک دن امید سے کہا۔ امید نے ان دنوں اپنی فرم بند ہونے کے بارے میں سنا تھا اور وہ فرم میں اس کا آخری مہینہ تھا۔ شاید عقیلہ نے اس کے بارے میں ہاسٹل کی کچھ لڑکیوں سے بات کی تھی یہی وجہ تھی کہ اس لڑکی نے امید کو اس جاب کے بارے میں مطلع کر دیا۔ امید نے کچھ بھی کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔ فرم سے فارغ ہونے کے بعد اس کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہوتا کیونکہ کچھ عرصہ پہلے وہ ٹیوشنز چھوڑ چکی تھی۔ اس پر اب گھر کو سپورٹ کرنے کی ذمہ داری نہیں تھی مگر اس کے باوجود اسے اپنے اخراجات کے لیے رقم چاہیے تھی ۔ کم از کم اس وقت تک جب تک وہ واپس راولپنڈی نہ چلی جاتی ۔ اگلے چند دنوں میں اس نے لڑکی کے ساتھ فاسٹ فوڈ کی انتظامیہ سے ملاقات کی پھر اس نے اپنی جاب سے ریزائن کر دیا۔ اگلا کچھ عرصہ وہ وہاں اپنے کام کی ٹریننگ حاصل کرتی رہی۔ اسے اس فاسٹ فوڈ چین میں کام کرتے بہت دن ہو گئے تھے۔ اسے احساس ہو رہا تھا بلا مقصد ہر کسی کے لیے مسکرانا کتنا مشکل ہوتا ہے کہ بعض دفعہ یہ کام آنکھوں میں آنسو بھی لے آتا ہے۔ آرڈر نوٹ کرتے اور آرڈر کی ٹرے تھماتے وہ ہر بار مسکراتی ۔ سارا دن اس کے سامنے بہت سے چہرے گزرتے رہتے ۔ اس کے ساتھ کام کرنے والی لڑکیوں کا خیال تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ خاموش رہتی ہے۔ وہ خاموشی سے ان کا تبصرہ سنتی اور ان کے پاس سے اٹھ جاتی ۔اسے یاد نہیں اسے وہاں کام کرتے کتنے دن ہوئے تھے، مگر ایک دن وہاں اس نے جہاں زیب کو دیکھا تھا۔ اسے یقین نہیں آیا۔شاید یہ بھی ویسا ہی الوژن ہے جس کے ساتھ میں اتنے عرصے سے رہ رہی ہوں ۔ س نے خود کو بہلانے کی کوشش کی مگر اس دن وہ الوژن نہیں تھا۔ وہ واقعی جہاں زیب تھا۔ وہ کاؤنٹر کے کونے میں کھڑی بے حس و حرکت اس پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ وہ ایک لڑکی کے ساتھ ہنستا ہوا کاؤنٹر پر کھڑا اپنا آرڈر نوٹ کروا رہا تھا۔ امید کا دل چاہا وہ بھاگ کر اس کے پاس چلی جائے اس سے پوچھے کہ کیا وہ اسے یاد ہے۔ اسی وقت اس کے پاس ایک لڑکی آکر اپنا آرڈر نوٹ کروانے لگی۔ جہاں زیب اب اس لڑکی کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا۔ وہ اس لڑکی کا آرڈر لے کر اندر چلی گئی۔ واپس آنے میں اسے دس منٹ لگے تھے اور وہ وہ وہاں نہیں تھا اسے یقین نہیں آیا ابھی وہ یہاں اور اب امید ا تم ٹھیک ہو؟ اس کے ساتھ کام کرنے والی فیروزہ پوچھ رہی تھی ۔ ہاں ۔ اس نے جیسے کسی کھائی سے جواب دیا تھا۔ مگر تمہارا چہرہ اتنا ز رد کیوں ہو رہا ہے؟“ وہ اب اس کے ماتھے کو چھورہی تھی۔ تم ایسا کرو، کچھ دیر اندر بیٹھ کر آرام کرو پھر آ جانا ۔“ وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے اندر لے آئی ۔ وہ بہت دیر چپ چاپ اندر بیٹھی رہی اسے اپنے اندر کہیں ٹیسیں اٹھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے؟ اب وہ سوچ رہی تھی ۔ شاید اس کی بیوی یا پھر گرل فرینڈ ؟