373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 21)

امید! آؤ باہر چل کر بات کرتے ہیں ۔ اس کے قریب جا کر اس نے مدھم آواز میں اسے بازو سے پکڑ کر کہا مگر اس نے ایک جھٹکے سے اپنا باز و چھڑایا اور اس پر غرانے لگی۔
مجھے تمھارے ساتھ نہیں جانا۔ اب میں پاکستان جانا چاہتی ہوں ۔ وہ ایک بار پھر کرسی پر بیٹھی رورہی تھی ۔ دو گھنٹے تک وہ وہاں اس کے پاس بیٹھا معذرتیں کرتا رہا تھا اور جب اس کی برداشت کی حد ختم ہوگئی تو وہ چلا اٹھا تھا۔
میں تمہارا منگیتر نہیں ہوں کہ تمھیں چھوڑ جاؤں گا، میں تمہارا شوہر ہوں ۔ امید نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی ، شاپنگ مال سے باہر آتے ہوئے وہ تقریبا روہانسا ہو گیا تھا
اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس نے شاپ سے باہر جانے کی وجہ اسے بتائی مگر وہ کچھ نہیں ہوئی تھی۔ اور جرمنی میں ان کے آخری دو دن اسی طرح گزرے تھے ۔ گھر آنے کے بعد بھی اس کی معذرتوں کے جواب میں وہ بالکل خاموش ہی رہی
تھی اور ایمان علی کا پچھتاوا اور ندامت اور بڑھتی گئی۔ اور پاکستان آنے کے بعد وہ ایک ہفتہ کے لیے سیدھی راولپنڈی چلی گئی تھی جبکہ وہ لاہور آ گیا تھا اور لاہور آتے ہی وہ سیدھا ڈاکٹر خورشید کے پاس گیا۔
بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے، تم محبت اور مہربانی سے پیش آتے رہو گے تو وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ مسلمان پر ویسے بھی فرض ہے کہ وہ بیوی سے نرمی سے پیش آئے ۔ اس کی پریشانی جان کر انھوں نے اسے نصیحت کی۔
تمہاری ہی خواہش تھی تمھیں وہ عورت مل جائے جس سے تم محبت کرتے ہو ، اب وہ عورت تمھارے پاس ہے تو تم اس کے ذرا سے غصے سے پریشان ہو رہے ہو ۔
وہ ان کی بات پر مسکرانے لگا۔
تھوڑ اساغصہ نہیں ہے، اس میں بہت زیادہ غصہ ہے۔” وہ اس کی بات پر has pry
جب اسے تم سے محبت ہو جائے گی تو یہ سارا غصہ ختم ہو جائے گا۔ ابھی تو تم دونوں کو ساتھ زندگی گزارتے بہت عرصہ نہیں ہوا ۔ وہ ان کے پاس سے واپس آنے کے بعد بہت پر سکون تھا۔ ایک ہفتہ کے بعد وہ راولپنڈی سے اسے لینے گیا تھا اور وہ اس سے بہت نارمل
طریقے سے ملی تھی یوں جیسے ان کے درمیان کبھی کوئی جھگڑا ہوا ہی نہیں تھا۔ ایمان نے شکر ادا کیا تھا۔ ان کی زندگی بہت نارمل انداز میں گزر رہی تھی ۔ امید کا رویہ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تھا جس پر اسے اعتراض ہوتا مگر بعض اوقات جب وہ اپنے مخصوص ٹرانس میں چلی جاتی تو ایمان کو تکلیف ہوتی کیونکہ اس وقت وہ بہت تلخ اور اکھڑ ہو جاتی تھی۔ مگر ایسے لمحات میں بھی ایمان کو کبھی اس سے شادی پر پچھتا وانہیں ہوتا تھا کیونکہ اس سے شادی کر کے اسے اپنی زندگی میں ایک سکون ، ایک ٹھہراؤ محسوس ہوا تھا اس لیے وہ اس کے ان موڈ kabi kharab nai howa
بہت خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتا۔
ایسے ہی موڈ میں ایک دن امید نے بڑی تلخی کے ساتھ اس سے کہا۔
تمھیں پتا ہے، میں تم سے محبت نہیں کرتی۔ میں نے تم سے صرف شادی کی ہے۔ صرف زندگی گزار رہی ہوں تمھارے ساتھ ۔ کیونکہ ہے، ایک گھر چاہیے ہوتا ہے۔ وہ مجھے تم سے مل گیا ۔
وہ اس کی کڑواہٹ کو سکون کے ساتھ برداشت کر گیا میں جانتا ہوں تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔“
کیوں ضرورت نہیں ہے۔ مجھے بتانا چاہیے کہ مجھے تم سے
ایمان نے اس کی بات کاٹ دی ” محبت نہیں ہے کوئی بات نہیں ، میں نے مطالبہ نہیں کیا کہ تم مجھ سے محبت کرو۔
وہ بالکل ساکت اسے دیکھتی رہی
تمھیں در اصل محبت مل گئی ہے ناں ، اس لیے تمھیں پروانہیں ہے اگر نہ ملتی پھر تمھیں احساس ہوتا ۔” مجھے محبت ہی تو نہیں ملی ۔ اس نے عجیب سے انداز میں کہا ، ایمان کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ وہ اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ اپنے غصے پر کنٹرول کرتے گیا۔
ہوئے اس نے کہا۔
میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔
مت کرو میں نے تمھیں مجبور نہیں کیا۔ اس کے انداز میں کمال کی لاتعلقی تھی۔
تم جانتی ہو، میں یہ نہیں کر سکتا میرے لیے ۔ یہ مکن ہی نہیں ہے کہ میں تم سے محبت نہ کروں ۔
وہ اس کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ وہ ایک بار پھر ٹرانس میں چلی گئی۔
وہ ڈاکٹر خورشید کے پاس اب بھی باقاعدگی سے جایا کرتا تھا وہ اس کے لیے ایک عجیب سورس آف انسپریشن تھے ان کے درمیان بہت عجیب سا کمیونیکیشن تھا بعض دفعہ وہ اس کی افسردگی کو بغیر بتائے جان جاتے تھے اور پھر اسے ہلکا کر دیا کرتے تھے ان کے پاس سے آنے کے بعد وہ خاصا
پرسکون رہتا تھا۔
مذہب میں اس کی روز بروز بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ بھی وہی تھے۔ وہ اکثر رات کو اسٹڈی میں عشاء کی نماز ادا کرتا اور پھر قرآن پاک کو پڑھتا۔ تمام نمازوں میں صرف یہی ایک نماز تھی جو وہ با قاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا کبھی بات کرتے کرتے وہ بے اختیار قرآن پاک کی کسی آیت کا حوالہ دیتا اور اسے احساس ہوتا کہ امید سے بہت عجیب سی نظروں سے دیکھتی تھی وہ مسکرا دیتا، وہ جانتا تھا امید اس وقت اس کے بارے میں ٹھیک نہیں
سوچ رہی ہوگی ۔
اس کی شادی کو چند ماہ گزرے تھے جب اسے اپنی فیملی میں ہونے والے متوقع اضافہ کی اطلاع ملی ، امید غیر متوقع اور غیر معمولی طور پر خوش و اسے ملی، امید غیر تھی اور زندگی میں آنے والی اس تبدیلی کے بعد اس نے امید کے رویے میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھیں وہ یک دم بہت پر سکون اور مطمئن نظر آنے لگی تھی۔ ایمان علی سے اس کا رویہ بھی یکسر تبدیل ہو گیا۔ وہ اس پر زیادہ توجہ دینے لگی ، اس کے زیادہ تر کام خود کرتی تھی ۔ اکثر وہ ایمان سے بچے کے بارے میں گفتگو کرتی ۔ اس کے لیے منصوبے بناتی ۔ ایمان حیران ہو جاتا۔ اس میں آنے والی تبدیلیاں کچھ اتنی ہی غیر متوقع تھیں۔ ایمان نے اپنے والدین کو بھی اس بارے میں بتا دیا تھا اور سبل اکثر فون پر اس سے گفتگو کرتی رہتی ایمان کا خیال تھا ، وہ اب تبدیل ہوگئی ہے۔ پہلے کی طرح اس
کے منگیتر کی یاد اس کے ذہن سے فراموش ہو چکی ہے مگر یہ اس کی غلط انہی تھی۔ ایک رات وہ اسے ڈنر کرانے کے لیے ایک ہوٹل لے گیا تھا۔ وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھی۔ ڈنر کے بعد وہ امید کے ساتھ ہوٹل کے ہال سے نکل رہا تھا جب اس نے ساتھ چلتی امید کو ایک دم ساکت ہوتے دیکھا۔ اس نے کچھ حیران ہو کر اسے دیکھا اور اس کے چہرے کی زردی نے اسے خوفزدہ کر دیا۔ وہ بالکل ساکت سامنے دیکھ رہی تھی ۔ ایمان نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ ہوٹل کی اینٹرنس کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک نو جوان جوڑا اس کی توجہ کا مرکز تھا وہ دونوں دروازے تک آگئے اور پھر ایمان نے اس مرد کو بھی اسی طرح کھٹکتے دیکھا، پھر بڑی تیز رفتاری کے ساتھ وہ اپنے ساتھ
موجود لڑکی کا بازو تھام کر اندر ہال میں چلا گیا۔
امید بے اختیار پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ایمان نے بہت عرصے کے بعد اسے ایک بار پھر اسی ٹرانس میں دیکھا۔ وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے مگر وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔ ایمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ، وہ یکدم چونک گئی، چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے سرد آواز میں جیسے پوچھا۔
جہاں زیب؟
امید نے سر ہلا دیا۔ ایمان کو یک دم اپنا خون کھولتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ یہ عورت اس کی بیوی تھی۔ یہ عورت اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی اور یہ عورت اپنے سابقہ منگیتر کو دیکھ کر اب بھی اپنے ارد گرد کی ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتی تھی وہ مزید کچھ کہے بغیر تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے آ گئی تھی۔
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ایمان بالکل خاموش رہا گھر جا کر اس نے اپنے کپڑے تبدیل کیے۔ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہو کر وہ اپنے بالوں میں barash کر رہا تھاجب اس نے umeed کو اپنے پاس آکراپنے بازو پرہاتھ رکتے دیکھا۔
ایمان میں دراصل ایمان نے اپنے بازو سے اس کا ہاتھ ہٹا دیا۔ ” مجھے کچھ کام کے لیے اسٹڈی میں جانا ہے ۔ اس نے اپنے لہجے کوحتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کی ۔
مگر میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔“ امید ! میں ابھی فی الحال تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا اس لیے مجھ سے کچھ بھی کہنے کی کوشش مت کرو۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہو
گیا تھا۔ وہ وہاں رکے بغیر اسٹڈی میں آگیا اس وقت وہ کچھ اتنا ہی دلبرداشتہ تھا نماز پڑھنے کے بعد وہ کمپیوٹر پر اپنا کام کرنے لگا، مگر اس کا ذہن ابھی
تک منتشر تھا۔ ایک گھنٹے کے بعد اس نے اسٹڈی کا دروازہ کھلنے کی آواز سنی ، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی ، وہ اس کے پاس دوسری کرسی پر بیٹھ
گئی ایمان کمپیوٹر پر اپنا کام کرتا رہا۔
ایمان ! تم ایک چھوٹی سی بات پر ناراض ہور ہے ہو ۔“ میں کسی بات پر ناراض نہیں ہوں ۔
میں کچھ نہیں کر رہا۔ صرف صبر کر رہا ہوں ۔ کسی چیز کے لیے صبر ؟
پھر تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے؟“
اس طرح نہیں ۔ مجھے کام ہے، مجھے کرنے دو۔ وہ کی بورڈ پر ہاتھ چلاتے ہوئے مانیٹر پر ابھرنے والی عبارت کو دیکھتا رہا۔
میں تم سے ایکسکیوز کرنا چاہتی ہوں ۔“
ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اب بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر بولا ۔
تم کیوں کر رہے ہو اس طرح؟ وہ کچھ جھنجھلا گئی۔
تم جانتی ہو۔
میں ایکسکیوز کر تو رہی ہوں ۔ اس کا کیا فائدہ جب تم یہ جانتی ہو کہ تم ایک غلط کام کر رہی ہو تو تم کیوں کر رہی ہو؟ ایک ایسے شخص کے لیے جس نے نو سال تمھیں منگیتررکھنے کے بعد بھی تم سے شادی نہیں کی ، اس کے لیے پریشان کیوں ہو، جو شخص تم سے محبت نہیں کرتا ، اس کے پیچھے کیوں بھاگتی ہو جس شخص نے تمھیں
دھوکا دیا۔
اس نے مجھے کوئی دھوکا نہیں دیا، میں نے اسے دھوکا دیا ، اس نے مجھے نہیں چھوڑا، میں نے اسے چھوڑا ۔ وہ اس کے الفاظ پر ساکت رہ گیا۔ تم نے کیوں چھوڑا اسے؟“ اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
کیونکہ میں اس کی ڈیمانڈ ز پوری نہیں کر سکتی تھی ۔“ کیا ڈیمانڈ تھیں اس کی ؟“ اس نے امید کو نظریں چراتے دیکھا ایمان نے اپنا سوال دہرایا۔ زندگی میں کبھی کسی چیز نے اسے اس حد تک حیران کیا تھا نہ اس کا ذہن ماؤف، اس نے آہستہ آہستہ اسے سب کچھ بتا دیا تھا ، کس طرح اس نے جہاں زیب کے ساتھ جانے سے انکار کیا تھا ، اس کے سارے احسانات ، ساری مہربانیاں ، ساری محبت کے باوجود کس طرح وہ ذہنی ابتری کا شکار ہوگئی تھی۔ وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ اسے بتا رہی تھی اور وہ خالی ذہن کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔ سامنے بیٹھی ہوئی یہ عورت اپنی بہت سی کمزوریوں، بہت سی خامیوں کے باوجود صرف ایمان کے لیے صرف دین کے لیے اپنے نفس کے سانپ کو کس طرح مار گئی تھی۔ وہ کسی ترغیب کے نرنے میں نہیں
آئی تھی۔ اسے بے اختیار ایک مسلمان عورت کا شوہر ہونے پر فخر ہوا، ایک ایسی عورت جو محبت کو ایمان کے لیے چھوڑ سکتی تھی ۔
تم نے جو کچھ کیا ، ٹھیک کیا، تمھیں یہی کرنا چاہیے تھا۔ تمھیں کوئی پچھتاوا نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے تم پر احسان کیا ہے اور تم نے اس کا ایک مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ کسی کی کوئی مہربانی، کوئی احسان اور کوئی محبت اگر بدلے میں گناہ مانگے تو اسے اسی طرح چھوڑ دینا چاہیے جس طرح تم نے چھوڑا، تمہاری دوستوں نے تم سے غلط کہا کہ تم نے بچی محبت کھو دی ۔ تم نے ایک ایسے خود غرض انسان سے چھٹکارا پایا جو تم کو جہنم میں لے جاتا اور تمہاری دوستیں تمھیں ایک ایسے کام پر اکسا رہی تھیں جس پر اسلام حد نافذ کرتا ہے جس کے کرنے والے کو سنگسار کیا جاتا ہے۔ تم نے محبت اور ایمان میں سے
ایمان کا انتخاب کیا ٹھیک کیا ۔
اس نے امی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے مگر وہ مجھے یاد کیوں آتا ہے، میں اسے بھول کیوں نہیں جاتی ۔ وہ اب بری طرح بلک رہی تھی۔
تم کوشش کرو گی تو اسے بھول جاؤ گی ۔
میں کوشش کرتی ہوں مگر میں نہیں جانتی، مجھے کیا ہو جاتا ہے شاید میں نارمل نہیں ہوں ایمان ! میں چاہتی ہوں، میں ماضی سے پیچھا چھڑا لوں ۔ کم از کم اب تو میں سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا چاہتی ہوں مگر ایسا نہیں ہو pati
وہ بالکل بے بس نظر آ رہی تھی ، وہ اسے تسلیاں دینے لگا۔
اس رات اسے سلیپنگ پلز کی مدد سے سلانے کے بعد وہ خود اسٹڈی میں بیٹھا اس کے انکشاف کے بارے میں سوچتا رہا۔