Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 (Iman Umeed Or Mohabbat) Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
(Iman Umeed Or Mohabbat) Episode 5
پلیز عقیلہ ! اس طرح مت کہو۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔ نو سال ہونے والے ہیں ہماری منگنی کو ۔ اتنی چھوٹی سی بات پر تو وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا ۔ بعض دفعہ رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی ٹوٹتے ہیں۔ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ اس کی بات مان لو۔ وہ کھانے پر لے جانا چاہتا ہے۔ چلی جاؤ۔ وہ بھی خوش ہو جائے گا اور تم وگوں کا جھگڑا بھی ختم ہو جائے گا۔
عقیلہ اب سونے کے لیے لیٹ چکی تھی۔ لیکن امید سو نہیں پا رہی تھی۔ جہاں زیب کے بدلے ہوئے لہجے نے آج اسے بہت تکلیف دی تھی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اس سے اس طرح کی باتیں کہہ سکتا تھا۔ کیا اسے یاد نہیں ہے کہ ہم دونوں کا talak کتنا پرانا ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے تھے۔ اب ایک معمولی کی بات کو وہ اتنی اہمیت دے کر اس طرح کی باتیں کیوں کر رہا ہے۔ کیا ہمارا رشتہ اتنا مزور ہے کہ اس کی ایک بات نہ ماننے کی وجہ سے ٹوٹ جائے گا اور میں … میں اب . کیا کروں؟ کیا اس کے ساتھ چلی جاؤں یا پھر اور اگر میں اس کے ساتھ نہیں جاتی تو کیا وہ واقعی منگنی توڑ دے گا۔
اسے جہاں زیب کا سرد لہجہ یاد آیا۔ کیا عقیلہ کی بات مان لینی چاہیے۔ ایک بار اس کے ساتھ چلے جانا چاہیے.پھر میں اس سے کہہ دوں گی کہ وہ مجھے دوبارہ اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرے۔ اس طرح اس کی ناراضی ختم ہو جائے گی ۔ وہ کسی فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگلے روز دو پہر کو جہاں زیب نے اس کے آفس فون کیا۔ ٹھیک ہے میں آج شام تمھارے ساتھ چلوں گی مگر تم دوبارہ کبھی مجھے اس طرح اپنے ساتھ چلنے پر مجبور مت کرنا ۔اس نے شکست خوردہ لہجے میں کہا۔ جہاں زیب کا موڈ یک دم خوشگوار ہو گیا۔ ٹھیک ہے یار! میں آئندہ نہیں کہوں گا، مگر اب تو تم میرے ساتھ چلنا اورپلیز ، بہت اچھی طرح سے tayar ہونا-میں تمھیں اپنے ساتھ پی کی لے جانا چاہتا ہوں۔وہ پتا نہیں اور بھی کیا کچھ کہ رہا تھا-۔ اس نے بے جان ہاتھوں سے اس کی گفتگو سننے کے بعد فون بند کر دیا۔ شام کو وہ ضمیر کی ملامت کے باوجود تیار ہونے لگی تھی۔ عقیلہ نے اسے اس فیصلہ پر سراہا تھا۔ جہاں زیب سات بجے اسے لینے کے لیے آ گیا تھا۔ وہ بوجھل
قدموں ہے آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ یار ! اب موڈ بھی ٹھیک کر لو، اتنی خوبصورت لگ رہی ہو، مگر چہرے پر بارہ بجے ہوئے ہیں یوں لگ رہا ہے جیسے تم میرے ساتھ کہیں تعزیت کے لیے جا رہی ہو۔” وہ خود کو جتنا شرمندہ محسوس کر رہی تھی ۔ جہاں زیب اتنا ہی چہک رہا تھا۔کے کانوں میں بار بار اپنے باپ کی آواز آ رہی تھی اور اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے گلے کا پھندا مسلسل تنگ ہو رہا ہو۔ جہاں زیب اسے اپنے ساتھ پی سی لے گیا وہ مسلسل اس سے باتیں کر رہا تھا۔ اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہا تھا۔ اس کے لباس کو سراہ رہا تھا- آج پہلی بار اسے جہاں زیب کے منہ سے یہ سب کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا وہاں بیٹھے سارے لوگ اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوں ،جیسے وہ ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں ں دیکھو دیکھو یہ یہ بھی بھی آ ایک اور آوارہ لڑکی ہے جو اپنے آشنا کے ساتھ پھر رہی ہے۔ رات آٹھ بجے پی ہی میں بیٹھے ہوئے اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پھانسی والی کوٹھڑی میں بیٹھی ہو اگر آج ڈیڈی زندہ ہوتے تو کیا پھر بھی مجھ مجھے میں اتنی ہمت ہوتی کہ میں سب کی نظروں میں دھول جھونک کر یہاں اس شخص کے ساتھ بیٹھی ہوتی۔ کھانا کھاتے ہوئے اس سوچ نے اس کے حلق میں کانٹے اگا دیے تھے۔ نو بجے پی ہی میں ڈنر سے فارغ ہو کر جہاں زیب نے اسے ایک آئس کریم ارلر سے آئس کریم کھلائی۔ اس کے بعد وہ بے مقصد سڑکوں پر پھرنے لگا۔ جہاں زیب ! اب مجھے ہاسٹل واپس چھوڑ دو۔ گیارہ بجے کے بعد ہاسٹل میں کوئی مجھے داخل نہیں ہونے دے گا۔ تمھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود ہاسٹل کی انتظامیہ سے بات کرلوں گا۔ وہ بے حد ممن تھا۔ کیا ہم نے کافی تفریح نہیں کر لی۔ اب اس طرح آوارہ گردی کرنے سے behtar ہے کہ تم مجھے ہاسٹل چھوڑ آؤ۔“ اس نے کچھ زچ ہو کر کہا۔ اس وقت وہ کینٹ کی سڑکوں پر ڈرائیو کر رہا تھا۔ یار ! تم خوامخواہ پریشان ہو رہی ہو۔ کہانا چھوڑ آؤں گا ۔ اس نے کار میں لگے ہوئے اسٹیریو کا والیم تیز کرتے ہوئے کہا۔ ، وہ اس سے باتیں کر رہا تھا۔ باتیں کرتے کرتے اس نے کینٹ کی ایک سنسان و قدرے تاریک سڑک کے کنارے گاڑی پارک کر دی۔ امید نے اپنے کندھے پر ک ہاتھ کا دباؤ محسوس کیا تھا۔ خوف کی ایک لہر اس کے اندر سے اٹھی۔ جہاں زیب ! گاڑی یہاں کیوں روک دی ؟“ اس نے اپنے لہجے normal رکھتے ہوئے کہا۔ جہاں زیب ڈیش بورڈ میں موجود گلو کمپارٹمنٹ میں سے ایک کین نکال رہا تھے۔ اس کا ایک بازو ابھی بھی امید کے کندھے پر تھا، چند لمحوں کے لیے اس کے کندھے پر سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اس نے کین کھول لیا پھر اس نے دوبارہ امید کے کندھے پر اپنا بازو پھیلا لیا۔ جہاں زیب! یہاں سے چلو دیر ہو رہی ہے۔ اسے اپنے جسم میں کپکپاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ پرسکون انداز میں کین سے گھونٹ بھرتے ہوئے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا۔ میں کم از کم آج رات تمھیں واپس چھوڑ آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔“ وہ کچھ بول نہیں پائی۔لو تم بھی ڈرنک کرو۔ اسی اطمینان کے ساتھ بات کرتے ہوئے وہ کین اس کے ہونٹوں کے پاس لے آیا۔ امید نے ایک ہاتھ سے کین کو اپنے چہرے سے دور کر دیا۔ ” جہاں زیب! مجھے فورا واپس چھوڑ کر آؤ ۔“ اس بار اس نے بلند آواز میں کہا۔ میں نے کہا نا کم از کم آج رات میں تمھیں واپس چھوڑ کر نہیں آؤں گا۔ یہاں سے تم میرے ساتھ اس ہوٹل چلو گی جہاں میں ٹھہرا ہوں پھر کل تم کو میں واپس چھوڑ آؤں گا۔ وہ پرسکون انداز میں اسے اپنی پلاننگ بتارہا تھا۔ تم پاگل ہو گئے ہو، میں تمھارے ساتھ بھی نہیں جاؤں گی ۔ وہ ایک دم اپنے کندھے سے اس کا ہاتھ جھٹک کر غرائی ۔ تم میرے ساتھ آچکی ہو۔ ہوٹل نہیں جاؤ گی تو بھی ٹھیک ہے ۔ ہم یہیں رہیں گے ۔ وہ اب بھی کین سے گھونٹ بھر رہا تھا۔ وہ چند لمحے اسے بے بسی سے دیکھتی رہی پھر اس نے یک دم دروازہ کھول کر گاڑی سے نکلنا چاہا۔ جہاں زیب نے برق رفتاری سے اسے واپس اندر کھینچ لیا۔ گاڑی کا دروازہ اس تیزی کے ساتھ بند ہو گیا پھر اس نے امید کے چہرے پر زور دار تھپڑ مارا۔کوئی ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بد تمیزی کی تو میں چلاؤں گی ۔ تو چلاؤ گلا پھاڑو میں دیکھنا چاہتا ہوں تم کیا کر سکتی ہو؟“ وہ غرایا۔ امید نے ایک بار پھر گاڑی سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ جہاں زیب نے اپنا ایک ہاتھ اس کی سمت والے دروازے کے ہینڈل پر رکھتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کردی۔اب کیا کروگی ؟ چلتی گاڑی سے چھلانگ لگاؤ گی؟“ اس نے دروازے کے ہینڈل سے ہاتھ اُٹھا کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔ گاڑی بہت تیز رفتاری سے سڑک پر بھاگ رہی تھی اور تب ہی انھوں نے اپنے پیچھے سائرن کی آواز سنی۔جہاں زیب نے یک دم اسے چھوڑ کر بیک ویو مرر سے پیچھے دیکھا۔ ملٹری پولیس کے دو سارجنٹ ایک بائیک پر ان کے پیچھے آرہے تھے۔ تیز رفتاری سے چلتی ہوئی موٹر بائیک ان کے بالکل سامنے گاڑی کا راستہ کاٹتے ہوئے رک گئی۔ میں ان سے کہوں گا۔ تم میری بیوی ہو. اور اگر تم نے اس بات سے انکار کیا تو…… گاڑی روکتے ہوئے امید نے جہاں زیب کو کہتے سنا۔ دونوں سارجنٹ اب جہاں زیب کو دروازہ کھول کر باہر نکلنے کے لیے کہہ رہے تھے۔مگر پر اہلم کیا ہے؟ اس نے دروازہ کھولنے کے بجائے شیشہ نیچے کرتے ہوئے کہا۔کیا کر رہے تھے تم دونوں گاڑی کے اندر ؟ ملٹری پولیس کے اس سارجنٹ نے کھڑکی سے اندر جھانکتے ہوئے تیز اور کرخت آواز میں ان دونوں سے پوچھا۔ہم دونوں میاں بیوی ہیں ۔ جہاں زیب نے آواز کو پر سکون کرتے ہوئے کہا۔ کیوں بی بی ! یہ شوہر ہے تمہارا ؟ سارجنٹ نے اس بار امید سے پوچھا۔ اس کے حواس اب تک بحال نہیں ہوئے تھے اور شاید یہ اس کے چہرے کے تاثرات ہی تھے جس نے سارجنٹ کے لہجے کو کچھ اور کرخت کر دیا۔امید کے جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے جہاں زیب کو گاڑی سے نکلنے کے لیے کہا۔ جہاں زیب نے باہر نکلنے سے پہلے ایک تیز نظر اس پر ڈالی اور گاڑی سے باہر نکل گیا اس کے باہر نکلتے ہوئے سارجنٹ نے ایکسیلیٹر کے پاس نیچے پائیدان پر پڑے ہوئے کین کو دیکھ لیا۔ جہاں زیب کے باہر نکلتے ہی سارجنٹ نے آگے بڑھ کر کین اٹھا لیا۔ امید نے پہلی بار جہاں زیب کا رنگ اڑتے دیکھا۔ کین کا جائزہ لیتے ہوئے سارجنٹ کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ بیوی کے ساتھ سڑک پر شراب پی رہے تھے ۔“آگے بڑھ کر اس نے امید پر ایک اور نظر ڈالی اور اسے پچھلی سیٹ پر جانے کے لیے کہا، وہ بے جان قدموں سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ ایک سارجنٹ جہاں زیب کے ساتھ بیٹھ گیا اور وہ ان دونوں کو ملٹری پولیس کے ہیڈ کوارٹر لے آئے تھے، امید کو ایک الگ کمرے میں بٹھایا گیا۔ جہاں زیب کو کہاں لے جایا گیا ، وہ نہیں جانتی تھی۔ ملٹری پولیس کا ایک افسر کرخت لہجے میں اس سے جہاں زیب اور اس کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس کا ذہن ابھی بھی ماؤف تھا۔ آدھ گھنٹہ کے اندر اندر اس کے ساتھ کیا ہو گیا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ جہاں زیب کا ایک نیا چہرہ اور اب یہ نئی جگہ اور اگلے دن اخبار کی ایک نئی سرخی وہ گم صم اس آفیسر کا چہرہ دیکھتی رہی۔ پتانہیں اس آفیسر کو اس پر ترس آیا تھا یا وہ یہ جان گیا تھا کہ وہ شاکر ہے۔ اس نے کمرے میں موجود ایک شخص کو پانی لانے کے لیے کہا۔ اس نے پانی کے چند گھونٹ پئے اور سامنے بیٹھے ہوئے آفیسر کو دیکھنے لگی ۔ یک دم ہی جیسے اس کے حواس بحال ہو گئے ۔ آفیسر کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی اس نے کانپتی لڑکھڑاتی آواز میں سب کچھ بتانا شروع کر دیا۔ وہ جہاں زیب کے ساتھ کیوں گئی؟ جہاں زیب کون تھا اس کے بعد کیا ہوا سب کچھ۔ اس کا خیال تھا آفیسر کو اس کی بات پر یقین نہیں آئے گا۔ خلاف توقع آفیسر خاموش رہا تھا۔ اس کی ساری باتیں سننے کے بعد اس نے بیل بجا کر باہر کھڑے فوجی کو اندر بلایا۔
