Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316

Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Last updated: 10 November 2025

373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Imaan Umeed Or Muhabbat

By Umerah Ahmed

وہ ان کی باتوں پر جتنا غور کرتا ، اتناہی اس کا ذہن صاف ہوتا جاتا۔ دو قسم کی زمین ہوتی ہے، ایک وہ جو بجر ہوتی ہے، کسی بھی موسم کی بارش وہاں کتنا ہی پانی کیوں نہ برسا دے، اس زمین کو بنجر ہی رہنا ہے وہاں ہریالی نہیں ہو سکتی ۔ دوسری زمین زرخیز ہوتی ہے۔ پانی کا ہلکا سا چھینٹا بھی وہاں ہریالی لے آئے گا مگر ضرورت صرف ہریالی کی تو نہیں ہوتی ۔ اس ہریالی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل ہو ورنہ ہریالی میں تو زہریلی جڑی بوٹیاں اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں توجہ اور احتیاط نہ کی جائے تو زرخیز زمین پر یہ دونوں چیزیں بہت افراط میں آجاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ صرف پانی نہ دیا جائے ، زمین کی زرخیزی کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کیا جائے آپ کو بھی اللہ نے ایسا ہی زرخیز دماغ اور روح دی ۔ اب آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنے آپ کو ایسی نقصان دہ جڑی بوٹیوں اور کانٹے دار جھاڑیوں سے بچائیں۔ اس ہریالی کی حفاظت کریں جو آپ کی زندگی کو ایک نئی سمت دے رہی ہے اور آپ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے آپ کر لیں گے۔“ وہ اتنے یقین سے کہتے کہ اسے حیرانی ہونے لگتی ، اس ایمان اس اعتماد اور اس یقین پر جو انہیں اس پر تھا۔ وہ ان کے پاس آنے والا واحد نو مسلم غیر ملکی نہیں تھا۔ انہوں نے اسے دوسرے بہت سے نو مسلموں سے بھی ملوایا تھا جو اس کی طرح اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے پاس رہنمائی کے لیے آیا کرتے تھے۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے۔ مذہب کا نہ ہونا اور مذہب کا ہونا دو مختلف تجربات ہیں اور مذہب کے ہونے کا تجربہ نہ ہونے کے تجربے سے زیادہ با معنی ، پر لطف اور با مقصد تھا۔ میں نے کبھی زندگی میں مذہب کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، خدا پر یقین ضرور رکھتا تھا اور یہ بھی سمجھتا تھا کہ سارے مذاہب اللہ ہی کی طرف سے ہیں مگر خود میں کبھی بھی کسی مذہب سے اتنا متاثر یا سحر زدہ نہیں ہوا کہ مذہب قبول کر لیتا اور دراصل اس سے میری زندگی میں کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑا۔ میں بہت اچھی زندگی گزار رہا تھا مجھے بھی کسی کامیابی کے حصول کے لیے مذہب کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی نہ ہی اللہ کو پکارنا پڑا، آپ خود سوچیں اس صورت اور ان حالات میں مذہب ایک ضرورت تو نہیں رہتی بس ایک اختیاری چیز بن جاتی ہے۔ جس کے ہونے یا نہ ہونے سے زندگی میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔ وہ الجھے ہوئے انداز میں ان سے کہتا اور وہ پرسکون انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی بات سنتے رہتے۔ آپ کی خوشی قسمتی یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو ہمیشہ ہی صراط مستقیم پر رکھا مگر کسی آزمائش میں نہیں ڈالا اس لیے آپ نے یہ سوچ لیا کہ مذہب کی کوئی دلیل لا جواب نہیں کر سکتی جب تک دلیل میں طاقت نہ ہو میرا دین دلیل کا دین ہے۔ منطق کا دین ہے۔ سڑک پر بیٹھا ہوا ایک ان پڑھ مسلمان بھی اگر دین کا علم اور شعور رکھتا ہو تو وہ بھی کسی کو اسی طرح لاجواب کر دے گا۔ کیونکہ جس ذریعے سے ہم دلیل لیتے ہیں وہ قرآن ہے، خدا ہے، پیغمبر ہے، اسلام ہے پھر دلیل لاجواب کیوں نہیں کرے گی جب سارے ذرائع آسمانی ہوں تو ہم انسان جو زمین کی مخلوق ہیں وہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ وہ ان کی باتوں پر جتنا غور کرتا ، اتناہی اس کا ذہن صاف ہوتا جاتا۔ دو قسم کی زمین ہوتی ہے، ایک وہ جو بجر ہوتی ہے، کسی بھی موسم کی بارش وہاں کتنا ہی پانی کیوں نہ برسا دے، اس زمین کو بنجر ہی رہنا ہے وہاں ہریالی نہیں ہو سکتی ۔ دوسری زمین زرخیز ہوتی ہے۔ پانی کا ہلکا سا چھینٹا بھی وہاں ہریالی لے آئے گا مگر ضرورت صرف ہریالی کی تو نہیں ہوتی ۔ اس ہریالی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل ہو ورنہ ہریالی میں تو زہریلی جڑی بوٹیاں اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں توجہ اور احتیاط نہ کی جائے تو زرخیز زمین پر یہ دونوں چیزیں بہت افراط میں آجاتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ صرف پانی نہ دیا جائے ، زمین کی زرخیزی کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کیا جائے آپ کو بھی اللہ نے ایسا ہی زرخیز دماغ اور روح دی ۔ اب آپ پر فرض ہے کہ آپ اپنے آپ کو ایسی نقصان دہ جڑی بوٹیوں اور کانٹے دار جھاڑیوں سے بچائیں۔ اس ہریالی کی حفاظت کریں جو آپ کی زندگی کو ایک نئی سمت دے رہی ہے اور آپ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے آپ کر لیں گے۔“ وہ اتنے یقین سے کہتے کہ اسے حیرانی ہونے لگتی ، اس ایمان اس اعتماد اور اس یقین پر جو انہیں اس پر تھا۔ وہ ان کے پاس آنے والا واحد نو مسلم غیر ملکی نہیں تھا۔ انہوں نے اسے دوسرے بہت سے نو مسلموں سے بھی ملوایا تھا جو اس کی طرح اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے پاس رہنمائی کے لیے آیا کرتے تھے۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی زندگی آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے۔ مذہب کا نہ ہونا اور مذہب کا ہونا دو مختلف تجربات ہیں اور مذہب کے ہونے کا تجربہ نہ ہونے کے تجربے سے زیادہ با معنی ، پر لطف اور با مقصد تھا۔ میں نے کبھی زندگی میں مذہب کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، خدا پر یقین ضرور رکھتا تھا اور یہ بھی سمجھتا تھا کہ سارے مذاہب اللہ ہی کی طرف سے ہیں مگر خود میں کبھی بھی کسی مذہب سے اتنا متاثر یا سحر زدہ نہیں ہوا کہ مذہب قبول کر لیتا اور دراصل اس سے میری زندگی میں کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑا۔ میں بہت اچھی زندگی گزار رہا تھا مجھے بھی کسی کامیابی کے حصول کے لیے مذہب کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی نہ ہی اللہ کو پکارنا پڑا، آپ خود سوچیں اس صورت اور ان حالات میں مذہب ایک ضرورت تو نہیں رہتی بس ایک اختیاری چیز بن جاتی ہے۔ جس کے ہونے یا نہ ہونے سے زندگی میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔ وہ الجھے ہوئے انداز میں ان سے کہتا اور وہ پرسکون انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی بات سنتے رہتے۔ آپ کی خوشی قسمتی یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو ہمیشہ ہی صراط مستقیم پر رکھا مگر کسی آزمائش میں نہیں ڈالا اس لیے آپ نے یہ سوچ لیا کہ مذہب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ صرف تمام مذاہب کا احترام کرنے اور اللہ کے وجود کو مان لینے سے کام چل جائے گا۔ آپ کو آزمائش میں نہیں ڈالا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو آزمائش میں کبھی بھی ڈالا نہیں جائے گا۔ مذہب کی اہمیت کا اصل اندازہ تو اس وقت ہوتا ہے جب آپ آزمائش میں ہوتا ہوں ۔ آزمائش با لکل دلدل کی طرح ہوتی ہے اس میں سے انسان صرف اپنے بل بوتے پر نہیں نکل سکتا۔ کوئی رسی چاہیے ہوتی ہے، کسی کا ہاتھ درکار تا ہے اور اس وقت وہ رسی اور ہاتھ مذہب ہوتا تا ۔ ہے۔ رہی اور ہاتھ نہیں ہوگا تو آپ آپ دلدل دا کے اندر جتنے زیادہ ہاتھ پاؤں ماریں گے، اتنا ہی جلدی ڈوبیں گے۔ پانی میں ڈوبنے والا شخص زندہ نہیں تو مرنے کے بعد باہر آ جاتا ہے مگر دلدل جس شخص کو نگلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، اسے دوبارہ ظاہر نہیں کرتی لیکن جو شخص ایک بار ہاتھ اور رسی کے ذریعے دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے وہ انگلی کسی دلدل سے نہیں ڈرتا۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ شور مچائے گا چلائے گا تو ہاتھ اور رہی بالآخر آ جائیں گے۔ اب سوچیے اپنی خوش قسمتی پر کہ آپ ان لوگوں کی قطار میں شامل ہو گئے ہیں جو دلدل میں کرنے پر ہاتھ اور رسی کو پکار سکتے ہیں اور ان کے آنے کی توقع بھی کریں گے۔ ہر باران کے گھر سے آتے ہوئے وہ بہت پر جوش ہوتا ۔ سعود نے اپنی فیملی کے ذریعے ایمان کا پر پوزل امید کے گھر بھجوایا تھا ان لوگوں نے چند دن سوچنے کے لیے لیے اور اس کے بعد انہوں نے انکار کر دیا ۔ سعود نے چند بار اور کوشش کی مگر اس کا نتیجہ بھی یہی رہا تھا۔ اس نے ایمان کو اس کے بارے میں بتا دیا وہ مضطرب ہو گیا۔ کیا تم کچھ اور نہیں کر سکتے ؟“ اس نے ایک بار پھر سعود سے پوچھا۔ میں کچھ اور لوگوں کے ذریعے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اب دیکھو کیا ہوتا ہے ۔ “ سعود کچھ زیادہ پر امید نظر نہیں آرہا تھا۔ ایمان علی کی بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ روز ڈاکٹر خورشید کے پاس جارہا تھا اور اس کی افسردگی زیادہ دیر ان سے چھپی نہیں رہی تھی ۔ انہوں نے اس سے وجہ پوچھی تھی اور ان کے اصرار پر اس نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔ اس کی ساری باتیں سن کر وہ مسکرائے۔ امید عالم سے کتنی محبت ہے آپ کو ؟“ وہ ان کے سوال پر کچھ جھینپ گیا۔ یہ میں نہیں جانتا مگر ۔“ یشکش ڈاکٹر خورشید نے اس کی بات کاٹ دی ۔ مگر محبت ضرور کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس کا ادھورا فقرہ مکمل کر دیا۔ وہ خاموش رہا۔ آپ نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نے ان کے حصول کے لیے دعا کرتے ہوئے اللہ سے کہا تھا کہ اگر آپ کی محبت میں اخلاص ہے تو وہ آپ کو مل جائے اب آپ دعا کریں اگر اس عورت سے شادی آپ کے لیے بہتر ہو تو وہ آپ کو ملے ورنہ صرف محبت کے حصول کی دعا نہ کریں اور پھر آپ مطمئن ہو جائیں۔ اللہ آپ کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ بنادے گا ۔“ مگر میں تو امید کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ ایمان کے بغیر نہیں رہا جا سکتا اور آپ کے پاس ایمان ہے ۔ ان کا جواب اتنا ہی بے ساختہ تھا۔ آپ سمجھ نہیں پار ہے۔ میں وہ میرے لیے میری سمجھ میں نہیں آ رہا، میں آپ سے اپنی بات کیسے کہوں ۔ وہ الجھ گیا تھا۔ تو مت کہیے اگر بات کہنے کے لیے لفظ نہ مل رہے ہوں تو اپنی اس بات یا جذبے پر ایک بار پھر سے غور ضرور کرنا چاہیے ۔“ دان امن دیکھ کر گیا۔ وہ میری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اسکے بغیر میں پن زندگی کاتصورنہیں کرسکتا انسان صرف خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ باقی ہر چیز کے بغیر رہا جا سکتا ہے چاہے بہت تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ۔“ وہ قائل نہیں ہوا تھا مگر سر جھکا کر خاموش رہا۔ جب تک انسان کو پانی نہیں ملتا اسے یونہی لگتا ہے کہ وہ پیاس سے مر جائے گا مگر پانی کا گھونٹ بھرتے ہی وہ دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے پھر اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ پیاس سے مرسکتا تھا ۔ اس نے سر اٹھا کر ڈاکٹر خورشید کو dakha مگر لوگ پیاس سے مر بھی جاتے ہیں ۔ نہیں پیاس سے نہیں مرتے مرتے تو وہ اپنے وقت پر ہیں اور اسی طرح جس طرح خدا چاہتا ہے مگر دنیا میں اتنی چیزیں ہماری پیاس بن جاتی ہیں کہ پھر ہمیں زندہ رہتے ہوئے بھی بار بار موت کے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ تو کیا میں اس سے محبت نہ کروں؟“ آپ محبت ضرور کریں مگر محبت کے حصول کی اتنی خواہش نہ کریں۔ آپ کے مقدر میں جو چیز ہوگی وہ آپ کو مل جائے گی، مگر کسی چیز کو خواہش بن کر کائی بن کر اپنے وجود پر پھیلنے مت دیں ورنہ یہ سب سے پہلے ایمان کو نگلے گی ۔ آپ نے اس عورت کے حصول کے لیے دعا کی کوشش بھی کر رہے ہیں ۔ اب صبر کر لیں اور معاملات اللہ پر چھوڑ دیں۔ پریشان ہونے راتوں کو جاگنے اور سرابوں کے پیچھے بھاگنے سے کسی چیز کو مقدر نہیں بنایا جا اس رات وہ ان کی باتوں پر غور کرتا رہا تھا۔ وہ پرغور رہاتھ مگر امید کے بغیر میں نہیں رہ سکتا ۔ سونے سے پہلے اس نے جیسے تھک ہار کر سوچا تھا۔ ایک ماہ اسی طرح گزر گیا تھا۔ سعود ہر روز اس سے یہی کہتا تھا کہ وہ کوشش کر رہا ہے۔ وہ اپنی اداسی اور افسردگی سے نجات نہیں پارہا تھا۔ ڈاکٹر خورشید کے پاس جا کر اسے کچھ سکون مل جاتا۔ گھر واپس آنے کے بعد اس کے بارے میں سوچتا رہتا۔ اس دن بھی وہ ڈاکٹر خورشید کے پاس گیا ہوا تھا۔ ان سے باتیں کرتے کرتے آدھا گھنٹہ گزر گیا پھر انہوں نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ آج آپ سے کسی کو ملوانا چاہتا ہوں ۔ اس بات کا مجھے یقین ہے کہ آنے والے سے مل کر آپ بہت خوش ہوں گے۔“ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ اگلے دس منٹ کے بعد گیٹ پر کال بیل ہوئی اور پھر ملازم جس لڑکی کو لے کر کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھ کر وہ بے اختیار کھڑا ہو گیا تھا۔ امید نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی اور پھر ڈاکٹر خورشید کی طرف متوجہ ہوگئی جو اس کا استقبال کر رہے تھے۔ ایمان کو اپنے دل کی دھڑکن باہر تک سنائی دے رہی تھی ۔ وہ اب دوسرے صوفہ پر بیٹھ چکی تھی ۔ وہ دونوں اب کمرے میں اکیلے تھے۔ بات کا آغاز امید نے کہا۔ آپ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے سوال اور انداز میں برہمی تھی۔ کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہے۔“ یہ ایک بہت ہی بے ہودہ اور فضول جواب ہے ۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔ نہ آپ میرے ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی آپ میرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ۔“ اس نے بات کرتے ہوئے خود ہی اپنے جملے میں تھی کی ۔ صرف ایک لڑکی سے شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنا کسی بھی شخص کو بہت میں نے مذہب تبدیل نہیں کیا۔ مذہب اختیار کیا ہے۔ اس سے پہلے میں کسی بھی مذہب کا پیروکار نہیں تھا۔“ جو بھی ہے لیکن میں مسلمان ہوں اور ایک شخص سے شادی کر لینا جسے اسلام قبول کیے چار دن ہوئے ہوں ، بہت مشکل کام ہے۔ میں زندگی میں رسک نہیں لیا کرتی اور پھر ایک ایسے شخص کے لیے جسے میں جانتی نہیں ہوں جس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے اس کے ساتھ شادی کیسے ہو سکتی ہے ۔“ وہ بڑے صبر سے اس کی باتیں سنتا ر ہا۔ کش اور شاید انسان ساری باتوں کو اگنور کر دے مگر مذہب مذہب کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ میں آپ کے مذہب سے ہی تعلق رکھتا ہوں ۔“ مگر آپ پیدائشی مسلمان نہیں ہیں ۔ آپ کے ماں باپ مسلمان نہیں ہیں ۔“ مگر میں مسلمان ہو چکا ہوں ۔“ کتنے دن کے لیے؟ کتاب گھر کی پیشکش ایمان کو اس کے لفظوں پر پہلی بار تکلیف ہوئی ” آپ کو میری نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے۔“ شادی ہر انسان اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ہے کسی کو اس حد تک تنگ کر دیا جائے کہ وہ ویسے بھی آپ میں آپ کے بارے میں کچھ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ہوں ۔ وہ کہہ رہی تھی۔ اگر آپ کے پاس مجھ سے بہتر شخص کا آپشن ہو تو آپ اس سے شادی کر لیں لیکن اگر مجھ سے بہتر نہیں ہے تو پھر مجھ سے شادی کرنے میں کیا حرج ہے۔ میں پچھلے آٹھ مگر میں یہ نہیں جانتی کہ آپ دل سے اس مذہب کو اختیار کر رہے ہیں یا یہ صرف ایک دکھاوا ہے ۔“ ”میرے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اس نے بے چارگی سے کہا۔ آٹھ سال سے پاکستان میں ہوں ۔ آپ چاہیں گی تو آئندہ بھی یہیں رہوں گا