Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 (Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 1
وہ بہت آہستہ آہستہ آنکھیں کھول رہا تھا اور ہوش میں آنے کے ساتھ ہی سب سے پہلا احساس سر کے پچھلے حصے میں ہونے والی شدید تکلیف کا تھا۔ ایک کراہ کے ساتھ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔ پھر اس نے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ نے پر کا دباؤ محسوس کیا، کوئی اس کے بہت قریب جھکا ہلکی آواز میں کہہ رہا تھا۔
تم کیسا محسوس کر رہے ہو ؟“ اس نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں کھولنے کی ہو؟ کی، وہ بیڈ کنارے اسے کوشش کی، وہ دوبارہ آنکھیں کھولنے میں کامیاب رہا، بیڈ کے کنارے اسے چند ہیولے سے نظر آئے۔ اس نے انھیں دیکھے ۔ ان پر نظر جمانے کی کوشش کی مگر نا کام رہا۔ دردبہت شدید تھا۔ اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں اور کراہنے لگا۔ تمہارا نام کیا ہے؟ اب اس سے کچھ اور پوچھا گیا، وہ چند لمحے اسی طرح آنکھیں بند کیے کراہتے ہوئے اپنا نام سوچتا رہا پھر جیسے اس کے ذہن میں ایک اسپارک ہوا اور اسے اپنا نام یاد آ گیا۔ بے اختیار اس نے مدہم آواز میں اپنا نام بتایا۔ تمھارے گھر کا فون نمبر کیا ہے؟“
اب اس سے ایک اور سوال کیا گیا۔ اس نے ایک بار پھر فون نمبر یاد کرنے کیکوشش کی مگر وہ یاد نہیں کر سکا۔ اس کا ذہن منتشر تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر کراہتا رہا۔ تمھارے گھر کا فون نمبر کیا ہے؟“ اس سے ایک بار پھر پوچھا گیا۔ یاد نہیں ۔ اس نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا۔ آفس کا فون نمبر بتا سکتے ہو؟“ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس سے دوبارہپوچھا گیا۔ اس نے ایک بار بار پھر اپنے منتشر ذہن کو کو ایک جگہ مرکوز کرنے کی کوشش کی، ایک بار پھر وہ ناکام رہا۔ اسے آفس کا فون نمبر بھی یاد نہیں آیا۔ آفس کا فون نمبر بتا سکتے ہو؟“ نہیں اس بار اس نے کہا سوچنے کی کوشش کرو، یاد کرو۔ اس بار اس کا کندھا تھپتھپا کر اس سے کہا گیا۔ مجھے یاد نہیں ۔ اس کے درد کی شدت میں یک دم اضافہ ہو گیا۔کیا تم جانتے ہو، تم کہاں ہو؟“اس نے آنکھیں کھول کر سوال کرنے والے کے چہرے کو شناخت کرنے کیکوشش کی وہ اسے پہچان نہیں سکا، چہرہ شناسا نہیں تھا۔ صرف ایک لمحے کے لیے وہ آنکھیں کھلی رکھ سکا پھر اسے دوبارہ آنکھیں بند کرنی پڑیں۔ 66 ہاسپٹل ۔ ذہن پر چھانے والی تاریکی سے پہلے اس نے بہت ہلکی آوازمیں انکتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد وہ کچھ بول نہیں سکا۔ دو یہ دوبارہ بے ہوش ہو گیا ہے۔“ اس کے پاس کھڑے ڈاکٹر نے اس کی نبض دیکھتے ہوئے کہا۔ کہیں یہ پہلے کی طرح پھر کوما میں تو نہیں چلا جائے گا۔ ساتھ کھڑی نرس نے خدشہ ظاہر کیا۔ نہیں، اب یہ کوما میں تو نہیں جائے گا۔ میرا خیال ہے آدھے گھنٹہ تک یہدوبارہ ہوش میں آجائے گا۔“ ڈاکٹر نے نرس سے کہا۔ اپنے بارے میں یہ اب بھی نام کے علاوہ کچھ نہیں بتا سکا۔ تو پولیس اس کےگھر کیسے اطلاع دے گی ۔ نرس نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ کہیں یہ پہلے کی طرح پھر کوما میں تو نہیں چلا جائے گا۔ ساتھ کھڑی نرس نے خدشہ ظاہر کیا۔ نہیں، اب یہ کوما میں تو نہیں جائے گا۔ میرا خیال ہے آدھے گھنٹہ تک یہدوبارہ ہوش میں آجائے گا۔“ ڈاکٹر نے نرس سے کہا۔ اپنے بارے میں یہ اب بھی نام کے علاوہ کچھ نہیں بتا سکا۔ تو پولیس اس کےگھر کیسے اطلاع دے گی ۔ نرس نے ڈاکٹر سے پوچھا۔ مجھے نہیں پتا۔ یہ ان کا معاملہ ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔ ہمارا کام صرف اس کی جان بچاتا تھا۔ وہ ہم کر چکے ہیں۔“ اس بار ڈاکٹر نے قدرے کر چکے ۔ بار نے پروائی سے کہا۔ نرس نے جواب میں کچھ کہے بغیر ایک نظر مریض کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر کے پیچھے کمرے سے نکل گئی ، کمرے میں اب اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔
محبت تاریک جنگل کی طرح ہوتی ہے، ایک بار اس کے اندر چلے جاؤ پھر یہ باہر آنے نہیں دیتی۔ باہر آ بھی جاؤ تو آنکھیں جنگل کی تاریکی کی اتنی عادی ہو جاتی ہیں کہ روشنی میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتیں۔ وہ بھی نہیں جو بالکل صاف، واضح اورروشن ہوتا ہے . اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اب وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس نے یہ سب کس سے کب کہا۔ اسے یاد تھا اس نے یہ سب کس سے کب کہا تھا۔اں جنگل ہی تو ہے جس کے اندر میں آگئی ہوں نہ باہر نکل سکتی ہوں نہ اندر رہ سکتی ہوں۔ اندر رہنے پر میرے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ گا۔ باہر جانے پر میں آنکھیں رکھتے ہوئے بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہوں گی ہا بالکل ویسے ہی جیسے ان پانچ سالوںمیں ہوا تھا جب میں … امید! امید ! اس کی سوچوں کا تسلسل امی کی آواز سے ٹوٹ گیا۔ یہاں اندھیرے میں کیوں بیٹھی ہو؟“ میرا دل چاہ رہا ہے امی ! یہاں بیٹھنے کو اندر تو بہت گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ اندھیرے میں اس کے چہرے پر پھیلتی ہوئی نمی امی کو نظر نہیں آ سکی اور اس کی آواز سے کوئی کبھی یہ نہیں جان سکتا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ و گھٹن جس کی وجہ سے ہے۔ ابھی تھوڑی دیر میں آندھی آ جائے گی اور پھر بارش ہوگی تو موسم ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ اندازہ نہیں کر سکی کہ وہ کے تسلی دے رہی تھیں۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
