Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 14)
وہ فون پر اپنی ممی سے بھی اپنے بچے کے بارے میں باتیں کرتا اور پھر اسے اپنی ممی کی ہدایات پہنچاتا رہتا ۔ بہت سالوں سے ایک جیسی زندگی گزار رہا تھا۔ چند سال سے مذہب کی تبدیلی تم سے شادی اور اب اس بچے کی آمد جیسی تبدیلیاں مجھے ایک نئی زندگی سے روشناس کروارہی ہیں۔ میری زندگی یکدم بدل گئی ہے۔ فیملی کے بغیر رہنے اور پھر اپنی فیملی کے ساتھ رہنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ماں باپ کے بعد اب بیوی اور بچہ رشتوں کی تعداد میں جتنا زیادہ اضافہ ہو زندگی اتنی پرسکون اور محفوظ ہوتی جاتی ہے۔ میرا باپ بہت اچھا آدمی تھا اور میں بھی اتنا ہی اچھا ثابت ہونا چاہتا ہوں ۔ اپنی اولاد کے لیے ۔“
کھلونے ہاتھ میں لیے اسے اس کی باتیں یاد آ رہی تھیں۔ اور اگر یہ شخص میرے ساتھ اپنی زندگی کی بنیاد اتنے بڑے جھوٹ اور فریب پر نہ رکھتا تو آج یہ کھلونے مجھے کسی دوسری کیفیت اور احساس سے دو چار کرتے ۔ اس بچے کے حوالے سے خواب دیکھنے میں وہ اکیلا نہیں تھا۔ میں نے اس سے زیادہ خوابوں کا جال بنا تھا۔
اس نے اپنے گالوں پر آنسوؤں کو بہتے محسوس کیا۔ اس نے بہت بار اسی گھر میں اپنے بچے کو کھیلتے دیکھا تھا۔ خود کو اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے پایا تھا۔ اس کی ہنسی ، اس کی مسکراہٹوں اور اس کی کھلکھلاہٹوں کو تصور میں دیکھا تھا اور اب وہ اس کی موت کا تصور کر رہی تھی۔ ” کیا اولاد ماں باپ کے پیروں کی اسی طرح زنجیر بن جاتی ہے جس
طرح یہ بچہ میرے پیروں کی زنجیر بن رہا ہے جو ابھی اس دنیا میں آیا تک نہیں ۔ اسے اپنے پورے وجود میں ٹیسیں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔ کاش میں تمھیں زندگی دے پاتی زندگی پانے سے پہلے ہی میں موت کو تمہارا مقدر بنارہی ہوں ۔ اس کی نظروں کے سامنے ایک بار وہ کھلکھلانے لگا تھا۔ وہ کھلونوں کو دونوں ہاتھوں میں لیے بلکنے لگی۔ ”میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ بھی نہیں میری طرح تمھارے لیے بھی تمہاری زندگی موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگی اور میں تمھیں اسی تکلیف سے بچانا چاہتی ہوں ۔” روتے ہوئے اس نے گاڑی کا ہارن سنا۔ وہ یکدم جیسے اپنے حواس میں آگئی تھی۔ ایمان واپس آچکا تھا اور اب … اب اسے … وہ سب کچھ پھینک کر بھاگتی ہوئی واش روم میں گئی۔ دونوں ہاتھوں میں پانی لے کر اس نے چھپا کے مارے اور پھر دوپٹے سے چہرے اور آنکھیں رگڑتی ہوئی باہر آگئی۔ کار کا ہارن ایک بار پھر سنائی دیا۔ اس بار دو تین دفعہ ہارن دیا گیا۔ اس نے تیزی سے لاؤنج کا دروازہ کھولا اور تیز قدموں کے ساتھ گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ ایمان نے حیرت اور الجھن کے ساتھ اسے گیٹ کھولتے دیکھا۔ گاڑی سیدھا پورچ میں لے جانے کے بجائے وہ گیٹ کے اندر کچھ فاصلے پر چوکیدار کہاں ہے؟ وہ کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ اس کے گھر میں کوئی ایمر جنسی تھی وہ وہاں چلا گیا ہے ۔ اس نے گیٹ کو دوبارہ بند کرنا چاہا۔ تم رہنے دو، میں خود کر لیتا ہوں ۔ ایمان نے اسے روک دیا۔ وہ خود گیٹ کی طرف بڑھ آیا۔ وہ اندر چلی آئی۔ اس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ کچن میں جا کر فرج کھول کر اس نے پانی پی کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ ایمان اب اندر لاؤنج میں آچکا تھا۔ وہ بھی سیدھا کچن کی طرف آیا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ شاپرز تھے جنھیں اس نے ڈائننگ ٹیبل پر رکھ دیا۔
صابر کہاں ہے؟“
میں نے اسے کوارٹر میں بھیج دیا۔ اس نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔
کیوں؟“
بس ویسے ہی ۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر کچن سے نکل گیا۔
جس وقت وہ بیڈ روم میں داخل ہوئی۔ اس نے ایمان کو کارپٹ پر پھینکی ہوئی چیزوں کو بیگ میں ڈالتے دیکھا۔ کارپٹ پر پنجوں کے بل بیٹھے ہوئے چیزیں اکٹھے کرتے ہوئے اس نے صرف ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر امید کو دیکھا تھا اور اس نظر میں سب کچھ تھا۔ بے یقینی ، افسردگی ، غصہ، ملامت۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس سے کچھ کہے گا مگر اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔ بیگ میں چیزیں بھرنے کے بعد وہ باقی دونوں بیگ بھی اٹھا کر ڈرینگ روم میں لے گیا۔ چند منٹوں کے بعد جب وہ ڈریسنگ روم سے نکلا تو نائٹ سوٹ میں ملبوس تھا۔ امید ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی ۔ وہ سیدھا اپنے بیڈ سائیڈ تیبل کی طرف گیا اور باری باری تینوں دراز کھول کر کچھ ڈھونڈ نے لگا۔
ریوالور کہاں ہے؟ امید کا سانس رک گیا۔ وہ اس کی روٹین بھول گئی تھی۔ وہ ہر رات ریوالور چیک کر کے سیفٹی کیچ ہٹا کر سونے کے لیے جاتا تھا اور یہ بات اس کے ذہن سے نکل گئی تھی ۔ اب وہ اپنے معمول کے مطابق دراز میں ریوالور دیکھنے لگا تھا مگر وہ اسے وہاں نظر نہیں آیا۔ فوری طور پر امید کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ اب دونوں ہاتھ کمر پر رکھے سیدھا کھڑا الجھن بھری نظروں سے اسے یہ دیکھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا ہے، ریوالور کہاں ہے؟ اس نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔
مجھے نہیں پتا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے بظاہر لا پروائی جتاتے ہوئے کہا۔ کیا مطلب؟ تمھیں نہیں پتا کہ ریوالور کہاں گیا ؟ وہ اس کے جواب پر ششدر رہ گیا۔ اس گھر کی ہر چیز کا پتا رکھنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے تم نے کہیں اور رکھ دیا ہو ۔ اس بار اس نے جان بوجھ کر تلخ انداز میں کہا۔ تم جانتی ہو، میں ہمیشہ اسے اس دراز میں رکھتا ہوں مگر اب وہ یہاں نہیں ہے۔ وہ پریشان نظر آنے لگا ۔ تم نے اسے اٹھا کر کہیں اور نہیں رکھا ؟“
مجھے کیا ضرورت تھی ایسا کرنے کی مگر مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ۔ شاید میں نے ہی کہیں اور رکھ دیا ہو۔ اس نے صاف انکار کرتے کرتے بات بدل دی۔ اسے اچانک خیال آیا تھا کہ ایمان کہیں ملازم کو نہ بلوالے اور اس سے پوچھ کچھ کرنے پر معاملہ زیادہ طول پکڑ سکتا تھا۔ تم ذرا اپنی دراز میں دیکھو ۔ اس نے کھڑے کھڑے امید سے کہا۔ اس نے بے دلی سے تینوں دراز چیک کیں مگر وہ جانتی تھی کہ ریوالور وہاں نہیں ہے۔
یہاں نہیں ہے؟ وہ اس کے جواب پر ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔ امید کو اندر سے وارڈ روب کھولنے کی آواز آئی۔ پھر اس نے الماری کے دراز کھولنے شروع کر دیے ۔ وہ ہونٹ بھیجے بیٹھی رہی۔ اس کی ایک چھوٹی سی بھول نے سارا کام بگاڑ دیا تھا۔ آخر کیا ضرورت تھی مجھے ریوالور یہاں سے ہٹانے کی۔ میں یہیں سے ریوالور لے کر اسٹڈی میں جاسکتی تھی اور اگر وہ سو جاتا تو بھی دراز کھول کر ریوالور نکال سکتی تھی ۔ اگر اسٹڈی میں وہ پیچھے مڑ کر دیکھا تو میں اپنی پشت پر ریوالور چھپا سکتی تھی کچھ اور کر سکتی تھی۔ مگر ریوالور ہٹانا نہیں چاہیے تھا۔ وہ اب خود کو کوس رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی ریوا اور نہ ملنے پر ایمان کار و عمل کیا ہوگا۔ وہ بہت محتاط طبیعت کا انسان تھا۔ اس نے اپنی زیادہ تر
زندگی غیر ملکوں میں گزاری تھی اور غیر ملکی کی حیثیت سے کسی دوسرے ملک میں رہنا خاص طور پر تیسری دنیا کے ملک میں ایک خاصا مشکل کام تھا۔ امید کو یاد تھا کہ کسی بھی لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے وہ ریوالور ساتھ رکھا کرتا تھا۔ یہ جیسے اس کی زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔
اپنے ہی گھر کے بیڈ روم کے اندر سے ریوالور کا غائب ہو جانا بہت پریشانی کی بات تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے دراز چیک کرنے کے بعد جیسے کچھ تھک کر اسٹول پر بیٹھ گیا۔ امید بظاہر ٹی وی کی طرف متوجہ تھی مگر اس کا سارا دھیان اسی
کی طرف تھا۔ چند منٹ وہ جیسے کسی سوچ میں گم رہا پھر ایک گہری سانس لے کر اس نے امید کو مخاطب کیا۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر تم نے ریوالور اٹھایا ہے تو تم کہاں رکھ سکتی ہو؟“ میں نے کہانا مجھے یاد نہیں ویسے بھی میری طبیعت پچھلے چند ہفتوں میں ٹھیک نہیں تھی۔ بار بار مجھے بھول جاتا ہے کہ میں نے کسی چیز کو کہاں
رکھا ۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بظاہر پرسکون انداز میں کہا۔ میری عدم موجودگی میں تم ہر رات ریوالور چیک کرتی تھیں؟‘ اب وہ اس سے پوچھ رہا تھا نہیں۔
تمھیں میں تاکید کر کے گیا تھا کہ ایسا کرنا۔ پھر بھی تم نے اگر کچھ ہو جاتا تو ریوالور کے بغیر تم کیا کرتیں۔ تم جانتی ہو تم اکیلی تھیں۔ تم تم اتنی لا پروا کیوں ہو میری بات تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتی ۔ اس کی آواز میں پریشانی تھی یا غصہ اسے اندازہ نہیں ہوا۔
امید نے سراٹھا کر اسے دیکھا۔ مگر کچھ ہوا تو نہیں ۔ اس نے بڑی بے خونی سے کہا۔ وہ اس کے جواب پر گنگ رہ گیا۔ وہ ایک بار پھر ٹی وی ہوا وہ ٹی وی کی جانب متوجہ تھی۔
کچھ ہو جاتا تو ؟“ اس نے تندی سے کہا۔
تو ہو جاتا ۔ امید کی آواز میں تھی تھی۔ وہ بہت دیر تک اس کا چہرہ دیکھتا رہا راولپنڈی جانے سے پہلے تم نے ریوالور د یکھا تھا ؟ کیا تب وہ یہیں تھا ؟ اس بار امید کو اس کی آواز بہت سرد محسوس ہوئی تھی۔ مجھے یاد نہیں ۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو ، اس سے یہی مطلب نکلتا ہے د تم اتنی باریک بین نہیں ہو کہ میرے لفظوں کے مطلب جان سکو۔“ میں جان سکتی ہوں اور جان چکی ہوں اور کیا کیا جانتی ہوں، یہ تمھارے علم میں نہیں ہے۔ اس کے جملے پر مشتعل ہو کر اس ۔ انے کہا تھا۔ وہ بے حس و حرکت اسے دیکھتار ہا اور پھر اتنی ہی سرد آواز میں اس نے امید سے کہا۔ مثلاً کیا جان چکی ہو تم اور کیا کیا جانتی ہو تم جو میرے علم میں نہیں ہے ۔ اس نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیا تھا۔ وہ یکدم منھل گئی۔ وقت آنے پر بتا دوں گی ۔ میرا خیال ہے ، وہ وقت آچکا ہے۔ اس کا لب ولہجہ یکسر بدل چکا تھا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ ایک چھوٹی سی بات کا بہانا بنا کر مجھ سے لڑنا چاہتے ہو؟“ وہ اسے یک ٹک دیکھتا رہا۔ میں لڑنا چاہتا ہوں ؟ ہاں اس لیے تو تم بات کو بڑھا رہے ہو مجھ سے جان چھڑانا چاہتے ہو تم ؟ تم چاہتے ہو، میں اس گھر سے چلی جاؤں ۔ وہ خود پر قابو نہیں رکھ پارہی تھی۔ میں کیوں جان چھڑانا چاہوں گا تم سے ؟ اسے جیسے امید کی بات پر کرنٹ لگا۔ تا کہ میں تمھارے جھوٹ سے بے خبر رہوں ۔ تمھارے فراڈ اور تمھارے گناہ کو جان نہ سکوں ۔ اس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ جو بات راز میں رکھنا چاہ رہی تھی وہ بات خود بخود اس کی زبان پر آ رہی تھی ۔ اس نے ایمان کے چہرے کا رنگ اڑتے ہوئے دیکھا۔ پلکیں جھپکائے بغیر وہ بے حس و حرکت اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت دیر اسی خاموشی کے ساتھ اسے دیکھتا رہا پھر اسے اس کی آواز سنائی دی تھی ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میرے کس جھوٹ اور کس فراڈ اور کس گناہ کو جان گئی ہو؟ وہ خود پر قابو پا چکی تھی اور وہ اسے کچھ بھی بتانا نہیں چاہتی
تھی۔ میں تم سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتی۔ مگر میں کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ اسے دیکھنے لگی۔ بات کو ختم کرو۔ ایک ریوالور کے لیے اتنا تماشا کھڑا مت کرو۔ تم سوچ رہے ہو، ریوالور میری وجہ سے گم ہوا ہے ۔ ٹھیک ہے میں تمھیں اس کی قیمت دے دوں گی ۔“ وہ اس کی بات پر یکدم بھڑک کر کھڑا ہو گیا ۔ کیا مطلب ہے تمہارا ۔ قیمت دے دوں گی کون قیمت مانگ رہا ہے تم سے؟“ تو پھر اس ہنگامے کا اور کیا مقصد ہے؟“ وہ جیسے دم بخود ہو گیا تھا۔ پہلے کتنی چیزوں کی قیمت لے چکا ہوں میں تم سے؟“ میرے ایمان میری زندگی کی ۔ وہ کہنا چاہتی تھی مگر خاموش رہی۔ تمھیں پتا ہے کہ یہاں سے اس طرح ریوالور غائب ہونے کا کیا مطلب ہے؟ وہ لائسنس یافتہ ریوالور تھا۔ اگر کسی نے اسے یہاں سے غائب کر دیا ہے تو کسی جرم میں استعمال ہونے کی صورت میں پولیس سیدھی میرے پاس آجائے گی۔ میں پکڑا جاؤں گا، میرا کیر پر داؤ پر لگ جائے گا اور جب تک وہ ریوالور غائب ہے، ہمیں خطرہ ہے۔ آخر کون ہے جو بیڈ روم کی دراز سے ریوالور نکال کر لے گیا۔ اگر کوئی یہ کر سکتا ہے تو وہ کچھ اور بھی کر سکتا ہے اور اگر یہ کام ملازم نے کیا ہے تو ہم اور بھی زیادہ خطرے میں ہیں۔ چوکیدار کو بھی تم نے جانے دیا کہ کوئی ایمر جنسی ہے اسے۔ یہ سب کچھ کوئی سازش بھی تو ہو سکتی ہے۔ مجھے کسی سیکیورٹی ایجنسی سے آج گارڈ منگوانا پڑے گا۔ صبح تم ریوالور ڈھونڈ ناور نہ پھر مجھے پولیس کو ایف آئی آر لکھوانی پڑے گی ۔ وہ بات کرتے کرتے فون کی طرف بڑھ گیا۔ فون پر اس نے کسی سیکیورٹی ایجنسی سے گارڈ کی بات کی تھی ۔ وہ بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کی ایک چھوٹی سی لا پروائی نے ایمان کو محتاط کر دیا تھا۔ وہ بیڈ روم سے نکل گیا تھا۔ وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اگلے چند منٹوں میں وہ پورے گھر کو چیک کر رہا ہوگا اور شاید ملازم کو بھی بلوالے اور ایسا ہی ہوا تھا ۔ چند منٹوں کے بعد بیڈ روم میں آکر اس نے انٹر کام پر ملازم کو بلوالیا۔ وہ ہونٹ بھینچے اس کی مصروفیات دیکھتی رہی ۔ وہ ایک بار پھر بیڈ روم سے نکل
گیا۔ چند منٹوں کے بعد وہ دوبارہ اندر آ گیا ۔ ” صابر کوریوالور کے بارے میں کچھ پتا نہیں ۔ اس نے امید کو جیسے مطلع کیا۔ وہ کوئی جواب دیے بغیر ٹی وی دیکھتی رہی ۔ وہ ایک بار پھر باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد امید نے بیل کی آواز سنی۔ اس نے اندازہ لگا لیا کہ گارڈ باہر پہنچ چکا ہوگا۔ کوئی بات نہیں گارڈ تو باہر ہی ہوگا۔ وہ اندر آ کر تو کچھ نہیں کر سکے گا۔ مگر پھر مجھے چوکیدار کو بھی بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس نے ملازم اور
چوکیدار کو صرف اس لیے وہاں سے بھیج دیا تھا تا کہ کسی بھی طرح کوئی مداخلت نہ ہو سکے اور وہ دونوں اس کے منصوبے میں رکاوٹ نہ بن سکیں لیکن اب صورت حال بالکل الٹ ہو گئی تھی۔ ان دونوں کی عدم موجودگی ہی ایک رکاوٹ بن گئی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد گھر میں خاموشی چھا گئی تھی۔ ملازم واپس کوارٹر میں جا چکا تھا اور ایمان واپس بیڈ روم میں نہیں آیا۔ اس کا مطلب تھا، وہ اسٹڈی میں جا چکا تھا۔ پندرہ میں منٹ انتظار کے بعد وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ٹی وی آف کرنے کے بعد محتاط انداز میں بیڈ روم سے باہر آگئی ۔ لاؤنج کی لائٹ بند تھی۔ وہ کچھ مطمئن ہو کر اسٹڈی کی طرف بڑھ گئی۔ ۔ دروازے کے نیچے اسٹڈی روم میں جلنے والی روشنی باہر کوریڈور کو بھی روشن کر رہی تھی ۔ اس کے دل کی دا کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ۔ جھک کر دھڑکن تیز ہو گئی ۔ جھک کر کی ہول سے اس نے اسٹڈی کے اندر کا منظر دیکھنے کی کوشش کی۔ اسٹڈی ٹیبل کا ایک کو نہ نظر آ رہا تھا مگر کمپیوٹر اور سامنے پڑی ہوئی کرسی نظر نہیں آ رہی تھی ۔ اس نے اسٹڈی روم میں کوئی آواز سننے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ۔ اسٹڈی روم میں مکمل خاموشی تھی ۔ وہ سیدھی ہوگئی۔
چند لمحے اس نے اپنی ناہموار سانس اور تیز دھڑکن پر قابو پانے کی کوشش کی پھر دروازے کی ناب پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ حتی المقدور احتیاط سے اس نے دروازے کی ناب گھما کر دروازہ کھول دیا۔ ایمان نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ کرسی خالی تھی وہ اسٹڈی کے ایک کونے میں نماز پڑھنے یں مصروف تھا۔ وہ چند لمحے ہل نہیں سکی۔ یہ نماز کیوں پڑھ رہا ہے؟ جب یہ اس کی وحشت میں اضافہ ہو گیا تھا۔
اسے ابھی بھی یاد تھا کہ اس کے آفس سے اسے یہی کہا گیا تھا کہ یہاں کوئی ایمان علی نہیں ہے اور ڈینیل ایڈگر کے بارے میں پوچھنے پر فوراً
اسے معلومات فراہم کر دی گئیں اور ایمان علی نے اس سے کہا تھا کہ وہ آفس میں اپنا نام تبدیل کر چکا ہے۔ وہاں سب اسے ایمان علی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔ پھر امریکہ کا وہ ویزا جو اس نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے حاصل کیا تھا۔ کون سے مذہب کی رسومات ؟ اور ایمان کے انکل کا وہ بیان کہ ڈینیل نے مذہب تبدیل نہیں کیا بلکہ اس نے انھیں یہ بتایا تھا کہ اس نے امید کے ساتھ اس کی رضا مندی سے یہ طے کیا تھا کہ دونوں اپنے اپنے مذہب پر قائم رہیں گے۔ اس کا ریزائن کرنا تب جب وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔ بینک کا خالی اکاؤنٹ ، رقم کا ٹرانسفر اس کے ڈاکومنٹس کی عدم موجودگی ، اس کے پیرنٹس کا جرمنی سے یکدم غائب ہو جانا ۔ وہ کسی کسی ثبوت کو جھٹلا سکتی تھی۔ ایک ماہ سے اس کا رابطہ نہ کرنا۔ ہر چیز نے اسے مجبور کیا تھا کہ وہ یقین کرلے کہ ایمان اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ واحد چیز جو اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی وہ اس کی واپسی تھی۔ جب وہ اپنے سب کام نپٹا کر چلا گیا تھا تو واپس کیوں آیا تھا۔ اسے کون سی چیز پیچھے کھینچ لائی تھی اور وہ اتنا انتظار نہیں کر سکتی تھی کہ اس چیز کا کھوج لگاتی ۔ وہ جلد از جلد اس سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہتی تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر غائب ہو جاتا اور اب … اب وہ یہاں اسٹڈی روم میں نماز پڑھ رہا تھا اور تب ہی ایک خیال نے اس کے وجود میں برقی رو دوڑا دی تھی۔
کیا وہ جانتا تھا کہ میں یہاں آنے والی ہوں اور صرف مجھ پر ظاہر کرنے کے لیے اس نے ڈھونگ رچایا ہے؟ وہ ساکت ہوگئی۔ مگر یہ
کیسے ہو سکتا ہے آخر اسے کیسے پتا چل سکتا ہے کہ میں یہاں آنے والی تھی ؟ کیا اس نے میری آہٹ سن لی تھی ؟ مگر اسے آخر نماز پڑھنے کی کیا ضرورت تھی؟ کہیں وہ یہ تو نہیں جان گیا کہ میں اس کے بارے میں سب کچھ جان چکی ہوں ؟ جب کچھ دیر پہلے میں نے اسے اس کے فریب ، جھوٹ اور گناہ کا طعنہ دیا تھا تو کیا یہ سب کچھ سمجھ گیا تھا اور کیا اسی لیے ریوالور غائب ہونے پر اتنا محتاط ہو گیا تھا۔ کیا اسے خدشہ تھا کہ میں اس ریوالور سے اس پر
حملہ کر سکتی ہوں اور پھر اس نے سوچا کہ اگر یہ سوئے گا تو اور پھر اس نے اسٹڈی میں رہنے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ میں اسٹڈی میں آ سکتی ہوں اور پھر اس نے ایک بار پھر مجھے فریب دینے کی کوشش کی ۔
وہ ساکت کھڑی اسے نماز پڑھتے دیکھ کر کڑیوں سے کڑیاں ملا رہی تھی اور سب کچھ جیسے صاف ہوتا جارہا تھا۔ تو اس کے علم میں سب کچھ آچکا
ہے اور اب ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بلائنڈ کھیل رہے ہیں۔ میں صبح سے اسے دھوکا دے رہی تھی اور اب یہ مجھے دھوکا دے رہا ہے ۔“ اس کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ دروازہ بند کر کے وہ اسی طرح دبے قدموں شیلف کی طرف چلی گئی ۔ شیلف کے پاس پہنچ کر کرتا ہیں ہٹانے سے پہلے اس نے ایک بار محتاط نظروں سے پیچھے دیکھا تھا ۔ وہ رکوع کی حالت میں تھا۔ اس نے مطمئن ہو کر چہرہ موڑ لیا۔ جن دو کتابوں کے پیچھے اس نے ریوالور رکھا تھا انھیں بڑی احتیاط سے اس نے نکال لیا۔ پھر وہ پتھر کے بت کی طرح ساکت رہ گئی۔ ریوالور وہاں نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ دیکھی۔ کیا اسے جال میں پھانستے پھانستے وہ خود اس کے جال میں پھنس گئی تھی اور اب جب میں پلٹ کر اسے دیکھوں گی تو وہ نماز چھوڑ کر اطمینان سے کھڑا مجھے دیکھ رہا ہو گا اور اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ہو گی ۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے دونوں کتا بیں اسی جگہ پر رکھ دیں ۔ واپس پلٹنا شکست تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔ مگر اسے پلٹنا تھا۔ بوجھل قدموں کے ساتھ وہ واپس پلٹی تھی اور ایک بار پھر ساکت رہ گئی ۔ وہ اب سجدہ کر رہا تھا۔ کس حد تک فریب دینا چاہتا ہے یہ مجھے اب یہ جاننے کے باوجود بھی کہ میں سب کچھ جان چکی ہوں اور اسے قتل کر دینا چاہتی ہوں یہ
پھر بھی مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے۔ میری آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا ہے ۔ وہ مشتعل ہوگئی تھی ۔ وہ ایک بار پھر رکوع کی حالت میں تھا۔ تب ہی اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل پر جم گئی۔ ریوالور اسٹڈی ٹیبل پر پڑا ہوا تھا ۔ مزید کچھ سوچنے کے بجائے وہ اسٹڈی ٹیبل کی طرف آئی اور اس
نے ریوالور اٹھا لیا۔ اپنے اندر سے یک دم جیسے عجیب کی طاقت محسوس ہوئی تھی۔ ریوالور کا سیفٹی کیچ ہٹا ہوا تھا۔ وہ ریوالور اٹھا کر ایمان کی پشت پر آگئی تھی۔ ایمان نماز پڑھنے کے دوران کمرے میں اس کی آمد اور سرگرمیوں سے بے خبر نہیں رہا ہوگا ۔ یہ وہ جانتی تھی۔ اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھا کر ایمان کی پشت کا نشانہ لیا تھا وہ سجدہ میں تھا۔ آنکھیں بند کر کے اس نے ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھا دیا مگر کوشش کے باوجود وہ گولی نہیں
چلا سکی۔ اس نے کچھ بے بسی سے آنکھیں کھول دیں۔ شخص قریب کر رہا ہے۔ مجھے دھوکا دے رہا ہے مگر نماز پڑھ رہا ہے، جائے نماز پر ہے، میں اسے اس طرح گولی کیسے مار سکتی ہوں جب میں صبح سے مناسب وقت کا انتظار کر رہی ہوں تو چند منٹ انتظار کر سکتی ہوں صرف چند منٹ ہی کی تو بات ہے ۔ وہ پیچھے ہٹ آئی ۔ کتابوں کے شیلف سے ٹیک لگائے وہ ایمان کی پشت پر نظریں جمائے کھڑی رہی ۔ وہ اب سلام پھیر رہا تھا۔ امید نے برق رفتاری سے ریوالور اپنی پشت پر چھپالیا۔ سلام پھیرنے کے بعد اس نے بیٹے بیٹھے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔
امید ! تمھیں کوئی کام ہے؟ اس نے امید کو مخاطب کیا۔
ہاں ، مجھے تم سے کچھ باتیں کرتی ہیں ۔
وہ کچھ دیرا اسے دیکھتا رہا اور پھر گردن واپس موڑ لی۔ میں نماز ختم کر لوں پھر بات کرتا ہوں ۔
نہیں، مجھے پہلے بات کرتی ہے۔ تم نماز چھوڑ دو اور اٹھ کر میری بات سنو ۔“ صرف آخری دو نفل رہ گئے ہیں، وہ مجھے پڑھ لینے دو۔ تم جانتی ہو، ہماری بات بہت لمبی ہو جائے گی اور میں نماز کو درمیان میں چھوڑ کر جانا
نہیں چاہتا ۔ اس نے نیت کر لی۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی کو اتنی گالیاں نہیں دی تھیں جتنی اس نے اس وقت ایمان کو دل میں دیں ۔ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے یہ اپنی نماز سے مجھ پر ابھی کیا باقی رہ گیا ہے؟ کون سی جنت کی تلاش میں ہے یہ اس کا خون کھول رہا تھا۔ اس نے دو نفل ادا کیے پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ وہ منتظر تھی کہ وہ دعا کرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہو اور وہ اسے شوٹ کرے۔ دعا کرنے کے بعد اس نے کھڑے ہو کر جھک کر جائے نماز اٹھائی تھی اور اسے تہہ کرتے ہوئے امید کی طرف پلٹا تھا اور ساکت رہ گیا تھا۔ وہ اس پر ریوالور تانے ہوئے تھی۔ اس نے ایمان کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ ٹریگر دیا چکی تھی۔
