373.2K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 13)

اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ پتا نہیں وہ سب کچھ سوچتے سوچتے رات کسی وقت سوئی تھی ۔ آنکھ کھلتے ہی وہ ایک بار پھر وہیں پہنچ گئی۔ ہر چیز اتنی ہی خراب اتنی ہی بدصورت تھی جتنی رات کو تھی ۔ کاش سب کچھ خواب ہوتا ۔ سب کچھ ۔ جہاں زیب ایمان علی یہ زندگی سب اگر ایسا ہوتا تو ابھی آنکھیں کھولنے کے بعد میں کس قدر خوش اور مطمئن ہوتی- اس کی آنکھوں میں چھن ہو رہی تھی۔ آنکھیں بند کر کے اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے پپوٹے چھوئے ۔ سوجی ہوئی آنکھوں نے اسے ایک بار پھر یاد دلایا کہ وہ رات کو روتی رہی تھی۔ پھر اسے یہ بھی یاد آیا کہ اسے آج کیا کرنا ہے۔ سامنے دیوار پر لگا ہوا کلاک نو بجارہا تھا۔ کمرے میں پھیلی ہوئی روشنی اسے بری لگ رہی تھی ۔ بالکل زندگی کی طرح ۔ چند منٹ وہ خالی الذہنی کی کیفیت کے ساتھ کمرے کو دیکھتی رہی۔ دیواریں ، کھڑکیاں، چھت ، فرش ، سب کچھ یہیں ہوگا ، بس کچھ دیر بعد میں یہاں نہیں ہوں گی نہ ہی دوبارہ کبھی آؤں گی۔ اس نے سوچا تھا۔

باہر سے باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں، مدہم آوازیں ، چھوٹے چھوٹے قہت ہے ، خاموشی اور ایک بار پھر آوازیں اور یہ سب کچھ میں زندگی میں آخری بار سن رہی ہوں ۔اس نے آوازوں کو پہچاننے کی کوشش کی سفینہ کے قے پہچانے میں دیر نہیں لگی اس کی ہنسی بہت خوبصورت تھی کھلکھلاتی ہوئی ہے اختیار روان شفاف معین کی بلند آواز .. و ہی مخصوص زیر و بم ثاقب کاشتہ لہجہ امی کی مدھم آواز .. اس کی سماعتیں ہر آواز کو شناخت کر رہی تھیں پھر اچانک اس کی ایک ہارٹ بیٹ میں ہوئی ، کوئی کرنٹ اس کی ساری حسیات بیدار کر گیا۔ اس کی سماعتوں نے ان آوازوں میں ایک اور آواز کو بھی شناخت کیا تھا۔ چند لمحوں کے لیے وہ ہل نہیں سکی۔
کیا یہ الوژن ہے یا پھر اس نے ایک بار پھر اس آواز کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ( مجھے نہیں پتا ) آواز ایک بار پھر آئی اس نے کسی بات کے جواب میں کہا تھا۔ نگے پاؤں وہ بیڈ سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی دروازے تک آئی اور ایک جھٹکے سے اس نے دروازہ کھول دیا۔ کوئی شبہ باقی نہیں رہا۔ وہ سامنے موجود تھا۔ سب کے ساتھ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے ثاقب کی کسی بات پر مسکراتے ہوئے۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر سب دروازے کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔ وہ بھی ادھری دیکھ رہا تھا لو امید کو جگانے کا سوچ رہے تھے مگر وہ خود ہی آ گئی ۔ امی نے اسے دیکھتے ہی کہا۔ وہ کھلے دروازے کے درمیان کھڑی کسی بت کی طرح ایمان علی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی اپنے علاوہ کسی سے نفرت نہیں کی تھی۔ جہاں زیب سے بھی نہیں۔ اس کا خیال تھا ، نفرت صرف اپنے آپ سے ہی ہو سکتی ہے مگر اس وقت پہلی بار اسے پتا چلا کہ نفرت دوسروں سے بھی ہوتی ہے اور اس نفرت کی کوئی حد ہوتی ہے نہ حساب ۔ اس وقت سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے ایمان علی سے اس نے صرف نفرت نہیں کی تھی۔ اسے گھن بھی آئی تھی۔ وہ اس پر تھوکنا بھی چاہتی تھی اور گالیاں دینا بھی۔ اس کا دل یہ بھی چاہا تھا کہ اس وقت اس کے پاس سلگتے انگارے ہوں جنھیں وہ ایمان علی پر پھینک دے یا پھر ایک ایسا بھڑکتا ہوا الاؤ ہو جس میں وہ اسے دھکیل دے یا یا پھر اس کے ناخن اتنے لمبے ہو جا ئیں جن سے وہ ایمان علی کا پورا چہرہ، پورا جسم کھرچ دے۔ اتنا گہرا اور اتنی بری طرح کہ وہ دوبارہ کبھی اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکے۔ السلام علیکم ! وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ وہ پلکیں جھپکے بغیر اس پر نظریں جمائے چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ اسلام کا جواب تو دو ۔ اس کی امی نے جیسے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔ ایک مکار ، دھو کے باز ، ذلیل اور کمینے یہودی پر میں میں اللہ کی رحمت تو نہیں بھیجوں گی ۔ اس نے زہر یلے انداز میں سوچا۔
اس کے چہرے پر کوئی ایسا تاثر ضرور تھا جس نے ایمان کو یک دم سنجیدہ کر دیا۔ ایمان بھائی ابھی آدھ گھنٹہ پہلے آئے ہیں آپ کو لینے۔ میں انھیں بتارہا تھا کہ آج امید بھی واپس لاہور جارہی تھی۔ لگتا ہے تم دونوں فون وغیرہ کے بغیر ہی کوئی وائرلیس ٹائپ کا رابطہ رکھے ہوئے ہو۔“معین یقینا مذاق کر رہا تھا۔ وہ کچھ کہے بغیر ایک جھٹکے سے پلٹ کر واپس کمرے میں آگئی۔ یہ ان کو کیا ہوا ؟ ثاقب نے کچھ حیران ہو کر اسے اس طرح خاموشی سے واپس جاتے دیکھ کر کہا۔ ایمان حیران نہیں ہوا۔ وہ ناراض ہے۔ میں نے آپ کو بتایا ناں میں کچھ عرصہ مصروفیات کی وجہ سے اس سے رابطہ نہیں کر سکا۔ فون نہ کرنے پر ہی وہ ناراض ہو کر یہاں آگئی ہے۔ میں منالیتا ہوں ۔ چائے کا کپ رکھتے ہوئے ایمان نے کہا اور مسکراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا امید نے اندر کمرے میں اس کی آواز سنی۔ تم کیسی ہو؟ ایمان نے اسے مخاطب کیا۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی۔ شخص میری زندگی میں کیوں آیا ؟ میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ میں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش اپنی محبت صرف تمھارے لیے چھوڑ دی اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا۔ میری قربانی کے بدلے میں تم نے میرے مقدر میں یہ شخص لکھ دیا۔ ایک یہودی جس کے ساتھ میں ایک سال سے رہ رہی ہوں . یہ سوچتے ہوئے کہ اس نے میرے لیے اپنا مذہب چھوڑ دیا ہے۔ کیا اس سے بہتر جہاں زیب نہیں تھا۔ وہ کم از کم مسلمان تو تھا۔ اس کے ساتھ جانے پر مجھے کوڑے لگتے، سنگسار کیا جاتا مگر میرا ایمان تو رہتا. میرے سامنے یہ شخص تو ایمان بن کر ata na- اس نے بے اختیار اللہ سے شکوہ کیا تھا۔ میں جانتا ہوں امید اتم ناراض ہو لیکن کچھ حالات ہی ایسے تھے کہ میں تم سے رابطہ نہیں کر سکا ۔ آج ہی پاکستان آیا ہوں اور آتے ہی تمھیں لینے آگیا ہوں ۔ اب اس نے قریب آ کر معذرت کی۔ اس کا دل چاہا، وہ اسے دھکے دے کر اس کمرے اور اس گھر سے نکال دے اسے چلا چلا کر بتائے کہ وہ اس کے بارے میں سب کچھ جان چکی ہے مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ یہ سب کچھ کہ سکتی ہے نہ کر سکتی ہے۔ اس کمرے سے باہر کچھ ایسے لوگ کھڑے تھے جن کے لیے اس نے ساری زندگی جدو جہد کی تھی۔ جن کے خوابوں کو تعبیر دیتے دیتے وہ اس مقام پر آکر کھڑی ہوگئی تھی۔ اب ان لوگوں کے سامنے وہ بھکاری بن کر کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔ دس سال میں دی جانے والی خوشیوں کو وہ ایک لمحے میں چھپیٹنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ چاہتی بھی تو ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ زندگی میں بہت بار اس نے صبر اور خاموشی سے کام لیا تھا۔ اس بار ا سے صبر نہیں صرف خاموشی اختیار کرنی تھی چند لمحوں کے لیے چند گھنٹوں کے لیے پھر ہمیشہ کے لیے۔ یہ یہاں نہ آتا تو بھی مجھے مرنا تھا۔ یہ یہاں آ گیا ہے تو بھی مجھے مرنا ہے مگر اب اکیلے نہیں ۔ ہر شخص کو اپنے ایمان کی حفاظت خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ مجھے بھی خود ہی کرتی ہے۔ بدلہ لینا ہے مجھے بہت سی چیزوں کا اور اس شخص کی موت یہ کام کرے گی ۔ ڈینیل ایڈگر شخص ایمان کبھی نہیں بن سکا مگر اس زندگی میں اس کی موت اسے میرا ایمان بنا دے گی۔ اس نے اس کے مسکراتے چہرے اور چمکتی آنکھوں کو دیکھتے
ہوئے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ آئی ایم سوری ۔ وہ اب معذرت کر رہا تھا۔ میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کروں گا کہ تم سے اس طرح رابطہ ختم کر دوں ۔ آج تمھارے ساتھ میرا ہر رابطہ ختم ہو جائے گا اور اس بار یہ کام تم نہیں میں کروں گی ۔ اس نے اس کی معذرت پر سوچا تھا۔ کیا تم ابھی بھی ناراض ہو؟“ اس نے اب امید کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے چاہے اور وہ جیسے ایک جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹی ۔ ایمان نے حیرتسے اسے دیکھا۔
کیا ہوا ؟ اس نے پوچھا۔
کچھ بھی نہیں تم کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو بس ٹھیک ہے ۔ وہ اس سے دور ہٹ کر بولی تھی۔ تم اب ناراض نہیں ہو؟“
نہیں
ایمان کچھ مطمئن ہو گیا۔ لاہور واپس جا کر میں تمھیں بتاؤں گا کہ میرے ساتھ امریکہ میں کیا ہوا ۔ تم نے اپنا بیگ تو تیار کر لیا ہو گا ۔ امی بتارہی تھیں کہ تم بھی آج واپس جا رہی تھیں، مجھے بھی آج ہی واپس جانا ہے، کچھ ضروری کام ہے لاہور میں پلین میں آج مجھے سیٹیں نہیں مل سکیں اس لیے میں نے ڈیو کی بلنگ کرائی ہے۔ ہمیں ابھی نکلنا ہوگا ۔ وہ اسے اپنا پروگرام بتارہا تھا۔ وہ اپنا پروگرام ۔ طے کر رہی تھی۔ وہ ایک بار پھر اس کے قریب آ گیا تھا۔ اسے ایک بار پھر اس کے وجود سے اتنی ہی گھن آئی تھی۔ اس بار اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اس نے بڑی نرمی سے اس کے دائیں گال کو اپنے ہاتھ سے چھوتے ہوئے کہا۔ میں تمھیں ایک ماہ اور چار دن کے بعد دیکھ رہا ہوں ۔ کیا محسوس کر رہا ہوں بتا نہیں سکتا ۔ سب کچھ بتانا بہت مشکل ہوتا ہے مگر پھر بھی تمھیں
دیکھ کر مجھے بہت سکون مل رہا ہے۔ اتنا سکون کے ………………………………………….. اس نے ایک جھٹکے سے اپنے گال سے اس کا ہاتھ ہٹا دیا اور پھر اس کے پاس سے ہٹ گئی۔ مجھے تیار ہونا ہے۔ دیر ہو رہی ہے ۔ ایمان کا رد عمل دیکھے بغیر وہ کمرے سے نکل گئی۔ میں بھی تمھیں ایک ماہ اور چار دن کے بعد دیکھ رہی ہوں ۔ کیا محسوس کر رہی ہوں، میرے لیے بھی بتانا مشکل ہے۔ مگر پھر بھی تمھیں دیکھ کر مجھے اتنی اذیت اور بے عزتی کا احساس ہورہا ہے کہ اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے سوچا۔ ایمان کہہ رہا ہے کہ اسے ابھی واپس جانا ہے مگر میں اس سے کہہ رہی تھی کہ اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے کل چلا جائے ۔ امی نے اس کو
باہر آتے دیکھا تو اس سے کہا۔ نہیں، ہمیں آج ہی جاتا ہے، اسے کوئی ضروری کام ہے لاہور میں اس لیے آج ہی جانا پڑے گا ۔ اس نے کہا۔ مگر پلین کی سیٹس بھی نہیں مل سکیں ۔ سڑک کے ذریعے جانے میں بہت وقت لگے گا اور تھک بھی جاؤ گے ۔ امی فکر مند تھیں۔ نہانے کے بعد جب وہ تیار ہو کر آئی تو ایمان امی سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ اسے ایک سرسری نظر سے دیکھ کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔ سورۃ فتح کی تلاوت کرنے کے بعد اس نے دعا کی تھی۔ میرے پاس اب صرف ایک موقع ہے آخری موقع کہ میں نا دانستہ طور پر ہونے والے اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کر سکوں اور میں یہ کفارہ اور اس شخص کے خون سے ادا کروں جو اس گناہ کا موجب ہے۔ مجھے استقامت اور ثابت قدمی عطا کرنا۔ اتنی استقامت کہ اس شخص کی جان اپنے لیتے ہوئے میرے ہاتھ میں کوئی لرزش ہو نہ دل میں کوئی پچھتاوا ۔ میری آنکھوں میں کوئی آنسو آئے نہ میرے ذہن میں کوئی خوف ۔ آج کے دن کے لیے مجھے بے رحمی کی صفت سے نواز دو۔ وہ بے رحمی جو میرے پیروں میں لرزش نہ آنے دے، جو میرے دل کو پتھر اور آنکھوں کو خشک کر دے۔ زندگی میں ایک بار پھر مجھے ایمان اور محبت میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا پڑا۔ ایک بار پھر میں نے محبت کو ترک کرتے ہوئے ایمان کا انتخاب کیا ہے تو میری نیت سے واقف ہے اور میرا ہر عمل تیرے ہی لیے ہے ۔“ اس نے اپنے اندر ایک عجیب طاقت محسوس کی ۔
وہ کمرے سے اٹھ کر باہر آگئی۔ سفینہ ناشتا گارہی تھی۔ ایمان نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا
میں تیار ہوں ۔ چلیں؟“ وہ یک دم ایمان سے بولی ۔
لو اس طرح کیے جاسکتی ہو، پہلے ناشتاتو کرو۔“ اس کی امی نے کچھ برامانتے ہوئے kha- مجھے بھوک نہیں ہے ۔ بھوک ہے یا نہیں لیکن ناشتا کیے بغیر تم نہیں جاسکتیں۔ بہت عجیب عادت ہے اس کی ۔ ہمیشہ سے کھانے کی پروا نہیں کرتی ۔ امی نے ایمان سے کہا جو ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی بات سن رہا تھا ۔ کیا لاہور میں بھی اسی طرح کرتی ہے؟“ نہیں ، وہاں تو کھانا وقت پر کھا لیتی تھی۔ مجھے لگتا ہے، یہیں آ کر لا پروا ہو گئی ہے۔ اس نے امید کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ناشتا کرنے کے بعد معین ٹیکسی لے آیا اور ایمان اور امید کا سامان ٹیکسی میں رکھوانے لگا۔ سب لوگ انھیں دروازے تک چھوڑنے آئے ۔ دروازے سے نکلنے سے پہلے وہ ایک بار پلٹی اور اپنی امی کا چہرہ دیکھنے لگی ۔ اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی تھی۔ ان لوگوں اور اس گھر کو وہ آخری بار دیکھ رہی تھی ۔ ایمان نے کچھ حیرانی سے اس کی آنکھوں میں نمودار ہونے والی نمی کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ ایک گہری سانس لے کر وہ دہلیز پار کر گئی ۔ ایمان اس کے پیچھے تھا۔ ڈائیوو میں اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے بعد اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ وہ چاہتی تھی ایمان اسے مخاطب کرے نہ ہی اس سے کوئی بات کرے۔ ساتھ والی سیٹ پر موجود اس کا وجود اس کے لیے ایک کانٹے کی طرح تھا۔ تم راولپنڈی کیوں آگئیں؟ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے کہے، وہ اس کا فریب جاننے کے بعد وہاں سے آئی تھی۔ میں اکیلی تھی وہاں ، اس لیے یہاں آگئی ۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس نے جواب دیا۔ ایمان کچھ دیر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ میرے رابطہ نہ کرنے کی وجہ………………………….. امید نے اس کی بات کاٹ دی۔ میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ میں سفر خاموشی سے کرنا چاہتی ہوں ، اس لیے پلیز …………. ایمان نے گردن موڑ کر امید کو دیکھا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں اتنی بے گانگی، اتنی بیزاری کیوں تھی۔ تمہارا غصہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا؟“ اس نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔ وہ خاموش رہی۔ مجھے تمہاری ناراضگی دور کرنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا ؟ وہ سنجیدہ تھا ۔ دو تمھیں اپنی جان دینی پڑے گی ۔ امید نے سوچا۔
میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔ میرے پاس ناراضی کی کوئی وجہ ہی نہیں ۔ بس میں یہ سفر خاموشی سے کرنا چاہتی ہوں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔“
ایمان یک دم فکر مند ہو گیا ۔ کیا ہوا تمھیں؟ تم ٹھیک تو ہونا ؟ اس نے امید کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ اسے وہ لمس انگارہ لگا۔ تیزی سے اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکال لیا۔
میں ٹھیک ہوں ، صرف میرے سر میں درد ہورہا ہے ۔ اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔
کیا تمھیں کوئی ٹیبلٹ چاہیے؟“ نہیں مجھے بس خاموشی چاہیے ۔ موٹر وے پر ہونے والے باقی کے سفر میں ایمان نے دوبارہ اسے صرف تب مخاطب کیا جب ڈائیو و سروس امیریا پر رکی تھی۔ نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔ اس نے ایمان سے کہا۔ وہ اس کے انکار کے باوجود اس کے لیے کولڈ ڈرنک اور سینڈوچ لے آیا۔ مجھے نہیں کھاتا ہے۔ میں بتا چکی ہوں ۔ وہ کوشش کے باوجود اپنے لہجے کی تلخی نہیں چھپا سکی۔ باقی سفر بالکل خاموشی سے طے ہوا۔ نہ اس نے ایمان سے کوئی بات کی نہ ہی ایمان نے اس سے کچھ کہنے، کچھ پوچھنے کی کوشش کی ۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایمان کو اس کا رویہ برا لگا تھا۔ مگر اس نے اس کی ناراضگی کی رتی بھر پروانہیں کی ۔ گھر پہنچنے کے بعد وہ اندر چلی گئی جبکہ ایمان ملازم سے سامان اتروانے لگا۔ ملازم بیگز اندر لے آیا۔ اس کے پاس صرف ایک بیگ تھا جبکہ باقی سامان ایمان کا تھا۔ وہ جانتی تھی ، ابھی تھوڑی دیر میں ایمان اپنے کام نپٹانے کے لیے چلا جائے گا اور اسے جو بھی کرنا تھا اس کی عدم موجودگی میں ہی کرنا تھا۔ مجھے تم صرف یہ بتاؤ کہ تم میرے ساتھ اس طرح کیوں کر رہی ہو؟ ایمان بیڈ روم میں آتے ہی سیدھا اس کے پاس آیا۔ وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ کیا کر رہی ہوں میں؟“ اس نے سرد آواز میں پوچھا۔ وہ اس کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ صوفے سے اٹھنے لگی جب اس نے امید کو بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے کے ساتھ واپس صوفے پر بٹھا دیا۔
یہاں بیٹھو اور مجھ سے بات کرو۔ وہ بھڑک گئی ۔ ” مجھے دوبارہ ہاتھ مت لگانا ۔ کیا مطلب اس بات کا ؟ وہی جو تم سمجھے ہو۔“ کیوں ہاتھ نہ لگاؤں ۔ تم میری بیوی ہو ۔ اس کی بات امید کو گالی کی طرح لگی۔ اس کا دل چاہا، وہ اس کے منہ پر تھوک دے۔ اسے بتائے کہ وہ اس کے دھوکے کے بارے میں جان چکی ہے۔ اسے بتائے کہ اب وہ اسے مار دینا چاہتی ہے۔
میں تم سے کوئی بحث کرنا نہیں چاہتی۔ اس نے ایک دم خود پر ضبط کیا تھا۔
مگر میں تم سے بحث کرنا چاہتا ہوں۔ تمھیں پتا ہے مجھے تمھارے رویے سے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو میں کیا کروں؟“ وہ اس کو دیکھ کر رہ گیا۔ تم یہ سب مت کرو۔ ٹھیک ہے، میں تم سے رابطہ نہیں کر سکا مگر اس کی وجہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امید نے تیز آواز میں اس کی بات کاٹ دی ۔ ” مجھے کوئی ایکسکیو زمت دو۔ مجھے دلچسپی نہیں ہے ان وجوہات کو جاننے میں ۔“ امید ! اس ایک ماہ میں آخر ایسا کیا ہوا ہے جس نے تمھیں مجھ سے اتنا متنفر کر دیا ہے ؟ وہ پریشان تھا یا پریشان نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے دونوں باتوں میں دیپسی نہیں تھی۔ جواب دینے کے بجائے اس نے ایمان کے چہرے سے نظریں ہٹالیں۔ پچھلے سات گھنٹے سے میں تمہاری وجہ سے کتنا پریشان ہوں ، کیا تم اندازہ کر سکتی ہو؟ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ۔ میری پروانہیں مگر مجھے ہے۔
تمہارا ہر رو یہ مجھ پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ اس نے چونک کر اسے دیکھا۔ ایک سال کے دوران اس نے پہلی بار ایمان کے منہ سے یہ بات سنی تھی ۔ وہ اسے کیا جتانا چاہ رہا ہے۔ اور وہ اسے کسی حد تک جانتا تھا۔ اس نے کھوجتی ہوئی آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھا۔ تو کیا یہ واقعی جانتا ہے کہ مجھے اس سے محبت نہیں یا پھر اس نے بغیر سوچے سمجھے ایک بات .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ” مجھے کوئی چیز اتنی تکلیف نہیں پہنچاتی جتنی تمہاری بے رخی، بے اعتنائی ۔ میں نے تم سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ مجھ سے محبت کرو۔ مگر یہ چاہتا ہوں کہ میری محبت کی قدر کرو۔ مجھے یہ احساس مت دلاؤ کہ میں تم سے محبت کر کے کوئی غلطی کر رہا ہوں۔ میرے پاس بہت زیادہ رشتے نہیں ہیں مگر جو ہیں انھیں میں ہمیشہ قائم رکھنا چاہتا ہوں ۔ میری زندگی میں تمہاری بہت اہم جگہ ہے اور تم وہاں سے ہٹنا چاہو گی تو مجھے بہت تکلیف
ہوگی خاص طور پر اب جب میں تمھارے ساتھ اتنا وقت گزار چکا ہوں ۔ مجھ سے کوئی شکایت ہے تو کہو مگر مجھے وضاحت کا موقع دو ۔ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں ، اب میں سونا چاہتی ہوں ۔ بہت سرد اور ٹھہری ہوئی آواز میں اس نے ایمان کی ساری باتوں کے جواب میں کہا اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور پھر ایک جھٹکے سے وہ اس کے پاس سے کچھ کہے بغیر اٹھ گیا۔ امید کو ایک لمحے کے لیے بے تحاشا خوشی ہوئی تھی۔ ایک سال سے وہ ایمان کے ساتھ رہ رہی تھی اور اس پورے عرصے میں اس نے کبھی بھی ایمان کو اس طرح غصے میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ بہت صلح جو اور ٹھنڈے مزاج کا آدمی تھا۔ مگر آج وہ جس طرح بھڑکا تھا وہ اس کے لیے واقعی حیران کن تھا۔ صوفے سے اٹھ کر وہ بیڈ پر آگئی ۔ ایمان اب ڈریسنگ میں تھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ اندر سے نکلا تو کپڑے تبدیل کر چکا تھا۔ اپنا بریف کیس نکال کر وہ اس کے اندر سے کچھ نکالنے لگا اور پھر اس نے بریف کیس بند کر دیا ۔ وہ بیڈ پر چادر لیے لیٹی رہی ۔ اب ایمان دراز کھول کر گاڑی کی چابی نکال رہا تھا۔ چابی نکالنے کے بعد وہ بیڈ روم کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ بیڈ روم کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ کسی خیال کے پیش نظر پلٹا۔ امید نے اسے پلٹتے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ بند آنکھوں سے قدموں کی چاپ سے وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ اس کی طرف آ رہا ہے۔ پھر اس نے اسے اپنی بیڈ سائیڈ ٹیبل کے قریب کھڑا محسوس کیا۔ میں دو گھنٹے کے لیے باہر جارہا ہوں ۔ کچھ کام ہے مجھے خانساماں گھر پر نہیں ہے۔ رات کا کھانا مجھے باہر سے ہی لانا پڑے گا۔ تم بتا دو کیا لے کر آؤں اور اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہے تو وہ بھی بتا دو ۔ اس کے قریب ایمان کی آواز ابھری تھی۔ رات کے کھانے کی نوبت نہیں آئے گی ۔ اس سے پہلے ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تلخی سے سوچا۔ وہ چند لمحے اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر شاید
جان گیا تھا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔ تمھارے لیے کچھ گفٹس لایا ہوں۔ براؤن بیگ میں ہیں ۔ تم دیکھ لینا ۔ اور پھر وہ لائٹ آف کر کے کمرے سے نکل گیا تھا۔ ایک گہری سانس لے کر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ چند منٹ بعد اس نے باہر کار اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی۔ چند لمحوں کے بعد کار کی آواز معدوم ہو چکی تھی ۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ برق رفتاری سے اٹھ کر اس نے کمرے کی لائٹ آن کی اور پھر دروازہ کھول کر باہر لاؤنج میں نکل آئی ۔ ملازم ٹی وی آن کیے وہاں بیٹھا تھا۔ وہ جانتی تھی ایمان اسے اپنے انتظار کا کہ کر گیا ہے۔ رات کو جب بھی اسے دیر سے آنا ہوتا ملازم اس کا انتظار کرتا تھا اور پھر اس کے آنے پر کھانا لگا کر اپنے کوارٹر میں چلا جاتا۔ صابر ا تم چلے جاؤ میں جاگ رہی ہوں ۔ ایمان کے آنے پر دروازہ کھول دوں گی ۔ اس نے ملازم کو ہدایت کی ۔ وہ ایمان صاحب اپنے کپڑے پریس کرنے کے لیے دے کر گئے ہیں میں وہ کرلوں پھر چلا جاؤں گا ۔ ملازم اٹھ کھڑا ہو گیا ۔ نہیں، وہ میں خود کرلوں گی تم چلے جاؤ۔ ملازم سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔ دس پندرہ منٹ بعد اس نے چوکیدار کو بلوایا اور اس سے کہا کہ آدھ گھنٹے کے بعد وہ گھر چلا جائے ۔ ” میں اس لیے تمھیں بھجوا رہی ہوں کیونکہ کل صاحب کے کچھ بہت اہم دوست آ رہے ہیں اور تمھیں ان کے لیے دن میں یہاں رہنا پڑے گا اس لیے میں چاہتی ہوں تم گھر جا کر اپنی نیند پوری کر لو۔ کل صبح آٹھ بجے واپس آ جانا ۔ اس نے چوکیدار کو مطمئن کرتے ہوئے کہا۔ مگر بیگم صاحب ! ابھی تو ایمان صاحب نہیں آیا۔ وہ آجائیں پھر میں چلا جاؤں گا ۔ نہیں ، وہ بس مارکیٹ تک گئے ہیں ۔ ابھی آجائیں گے۔ تم چلے جاؤ ۔ اس نے چوکیدار سے جھوٹ بولا ۔ چوکیدار کے جانے کے بعد وہ بیرونی گیٹ بند کر کے اندر گھر میں آگئی۔ ایمان کے پاس ایک ریوالور تھا جسے وہ ہمیشہ لوڈ ڈ رکھتا تھا۔ شادی کے چند دن بعد اس نے امید کو بھی ریوالور دکھایا تھا اور اسے چلانے کا طریقہ سمجھایا تھا۔ میں چونکہ غیر ملکی ہوں ، اس لیے خاصی احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ ایک دو بار رات کو کچھ لوگ بھی گھر کے اندر آگئے تھے۔ اس لیے ریوالور رکھا ہوا ہے۔ تمھیں اس لیے استعمال کرنا سکھا رہا ہوں تا کہ جب تم گھر میں اکیلی ہو تو اپنی حفاظت کر سکو ۔ اب وہ اسی ریوالور سے اسے شوٹ کر دینا چاہتی تھی۔
ایمان کی بیڈ سائیڈ ٹیبل کا دراز کھول کر اس نے ریوالور نکال کر چیک کیا۔ پھر اسے نکال کر لاؤنج میں موجود ایک بڑے ڈیکوریشن پیس کے اندر رکھ دیا۔ اسے اپنے نشانے کی درستی پر کوئی اعتماد نہیں تھا۔ اس نے ریوالور چلا نا ضرور سیکھا تھا مگر اسے کبھی چلایا نہیں تھا۔ مجھے ایسی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ بیچ سکے کیونکہ میرے پاس دوسرا کوئی موقع نہیں ہے ۔ اس نے سوچا۔ کیا میں رات کو اس کے سونے کا انتظار کروں اور پھر اس پر نیند کی حالت میں فائر کروں ؟ اسے خیال آیا۔ مگر اگر آج رات وہ نہ سویا تو ؟“ وہ جانتی تھی بعض دفعہ وہ ساری رات کام میں مصروف رہتا اور سوتا نہیں تھا۔ خاص طور پر ویک اینڈ پر ۔ آج بھی ویک اینڈ تھا۔ کل اتوار تھا اور عین ممکن تھا، وہ آج رات بھی نہ ہوتا۔ وہ کچھ پریشان ہوگئی۔ وہ کل کا انتظار نہیں کرسکتی تھی ، اسے جو بھی کرنا تھا آج ہی کرنا تھا مگر کب اور کیسے؟ پھر اچانک ایک جھماکے کے ساتھ یاد آیا کے وہ ہر رات سونے سے پہلے اسٹڈی میں جا کر کچھ دیر اپنا کام کرتا ہے اور جس رات وہ سونے کے لیے بیڈ روم میں نہیں آتا تو وہ ساری رات اسٹڈی میں کام کرتے ہوئے ہی گزارتا تھا۔ اگر آج وہ سونے کے لیے بیڈ روم میں آیا تو میں اسے نیند میں شوٹ کر دوں گی اور اگر وہ سوتا نہیں تو پھر اسٹڈی میں کرروں گی اگر وہ یہاں کام کرنے کے لیے آئے گا تو کچھ دیر بعد میں اس کے پیچھے آؤں گی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ پاٹ کر دیکھے گا تو میں بہانا کر دوں گی کہ میں کوئی کتاب لینے کے لیے آئی ہوں وہ ایک بار پھر اپنے کام میں مصروف ہو جائے گا اور تب میں کتابوں کے ٹیلف کے پاس آ کر وہاں سے ریوالور نکالوں گی اور اسے شوٹ کر دوں گی ۔ اس نے ریوالور چھپانے کے لیے جگہ کا انتخاب کر لیا ۔ اور اگر وہ کام کرنے اسٹڈی میں نہیں آتا تو بھی میں رات کو یہاں آکر ریوالور نکالوں گی اور بیڈ روم میں جا کر اسے شوٹ کردوں گی ۔ وہ یکدم جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئی۔
لاؤنج میں سے ریوالور نکال کر وہ واپس اسٹڈی میں آئی ۔ اب اسے کتابوں کی کسی ایسی شیلف کا انتخاب کرنا تھا جسے ایمان کم از کم اس وقت تو
استعمال نہ کرے۔ وہ کتابوں کے شیلف پر نظر دوڑا دوڑا رہی تھی اور پھر یکدم اس کی نظریں ایک شلف پر پڑیں جس پر اسلام کے بارے میں مختلف ملکی اور غیر ملکی رائٹرز کی انگلش میں لکھی ہوئی کتا بیں پڑی تھیں۔ وہ جانتی تھی ایمان اکثر اسلامک کتا بیں لے کر آیا کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ واقعی اسلام کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ سب ایک دکھاوا تھا۔ ایک غریب امید پر یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ واقعی اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے اور سچا مسلمان ہے۔ اس کے دل میں ایک میں بھی تھی ۔ اور میں اس فریب میں آگئی۔ اسے یقین تھا وہ تنہائی میں کبھی ان کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا ہوگا اور وہ وہ بڑے اطمینان سے ریوالور کو ان کتابوں کے پیچھے رکھ سکتی تھی۔ اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ ریوالور کا سینٹی میچ ہٹایا اور یوالو کو کتابوں کے اس شیلف پر چند کتابوں کے پیچھے رکھ دیا۔ کچھ مطمئن ہو کر وہ اسٹڈی سے باہر آ گئی۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس نے عشاء کی نماز ادا نہیں کی تھی وہ یہ نماز ایمان کی عدم موجودگی میں ادا کر لینا چاہتی تھی۔ یہ اس کی زندگی کی آخری نماز
تھی۔ وضو کرتے ہوئے پہلی بار اس نے اپنے ہاتھوں میں لرزش دیکھی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے ستائیس سالوں کو ایک فلم کی طرح اپنی آنکھوں کے سامنے گزرتا دیکھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں سے وقت کی پھیلتی ہوئی ریت کو دیکھا۔ کیا کوئی کبھی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اختتام
پر کہاں کھڑا ہوگا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی چیز چھنے لگی تھی۔ ستائیس سال پہلے میرے باپ نے میرے کانوں میں جب اذان دی ہوگی تو کیا انھوں
نے نے یہ سوچا ہوگا کہ ان کی بیٹی مرتے ہوئے کیا کچھ گنوا چکی ہوگی ۔ ساری زندگی میرے وجود کو رزق حلال سے پالنے والا وہ شخص کیا یہ تصور کر سکتا تھا کہ میں اپنی زندگی اور اپنی اولاد کو ہی حرام بنا ڈالوں گی ۔ میرے لیے کسی نے ایسی بددعا کی ہے جو مجھے اندھی گلی کے اس سرے پر لے آئی ہے۔ کیا جہاں زیب نے ؟ اس نے سوچ کے لہراتے ہوئے سانپوں کو ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی اور چار سال پہلے اگر اس رات میں جہاں زیب کے کہنے پر اس کے ساتھ چلی جاتی تو ؟ تو شاید آج میں یہاں اس طرح کھڑی نہ ہوتی ۔ میں اس گناہ کے لیے خدا سے معافی مانگ سکتی تھی اور خدا معاف کر دیتا لیکن جو کچھ اب کر چکی ہوں اس کے لیے
حالانکہ یہ سب کچھ کرنے میں میری کوئی غلطی نہیں تھی۔
وہ واش روم سے باہر نکل آئی۔ ایک گناہ سے بچنا میرے اختیار میں تھا۔ میں نے وہ گناہ نہیں کیا۔ ایک گناہ کا حصہ بننا میرے مقدر میں لکھ دیا گیا۔ مجھے اس کے بارے میں کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ میں اس سے بچ نہیں سکی۔ پانچ سال پہلے میں نے ایمان اور محبت میں سے ایمان کا انتخاب کیا تھا۔ ایک سال پہلے ایک بار پھر میں نے ایمان علی اور جہاں زیب کی محبت میں سے ایمان علی کا انتخاب کیا تھا۔ دونوں بار میرے فیصلے نے میرے ہاتھوں میں کچھ بھی رہنے نہیں دیا۔ نہ ایمان نہ محبت ۔ میں نے صرف ایمان کی خواہش کی تھی۔ اس خواہش نے پہلے مجھے محبت سے محروم کیا پھر ایمان سے کیا خواہش غلط تھی یا میرا انتخاب اس کا ذہن پوری طرح انتشار کا شکار ہو چکا تھا۔ پوری نماز کے دوران وہ اپنی توجہ مرکوز کرنے میں ناکام رہی تھی ۔ دعا کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی ۔ ”کیا یہ ممکن ہے کہ جس شخص کا عمل میرے جیسا ہو، صرف عبادت اسے ایمان دلا دے۔ ا صرف ہاتھ اٹھانے سے اس کا مقدر بدل جائے۔ اور وہ بھی میرے جیسے انسان کا ۔ پانچ سال پہلے اپنے وجود سے نفرت کے جس عمل میں وہ مبتلا ہوئی تھی آج اس کی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ نماز پڑھنے کے بعد وہ جائے نماز اٹھا رہی تھی ۔ جب اس کی نظر اس براؤن بیگ پر پڑی جس کے بارے میں وہ جاتے جاتے کہہ کر گیا تھا۔
پتانہیں کیوں وہ اس بیگ کے پاس آگئی۔ بیگ کی زپ کھول کر اس نے اندر موجود چیزیں باہر کانی شروع کر دیں۔ چاکلیٹس ، گھڑی، کار ڈیگین، جیولری اس نے ہر چیز اٹھا کر پھینکنی شروع کر دی۔ ان میں سے کسی چیز کی اس کے نزدیک اہمیت نہیں تھی۔ ” گفٹس“ ایک تلخ مسکراہٹ اس کے
چہرے پر ابھری تھی ۔ بیگ تقریبا خالی ہو چکا تھا۔ بیگ کی تہہ میں اس کا ہاتھ ایک بڑے پیکٹ سے ٹکرایا۔ اس نے پیکٹ باہر نکال لیا۔ پیکٹ کا منہ کھولنے کے بعد اس نے اسے الٹا دیا۔ کارپٹ پر کچھ چھوٹے چھوٹے کھلونے بکھر گئے تھے۔ وہ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوگئی۔ اس کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا۔ ایک بار پھر اس نے اپنے ہاتھ میں لرزش دیکھی ۔ کھلونے اٹھا کر وہ دیکھنے لگی تھی ۔ اب ان کھلونوں کی کسی کو ضرورت نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے بچے کو بھی مر جانا تھا۔ ہاتھوں میں لیے ہوئے ان کھلونوں کا لمس اسے کسی عجیب احساس سے دو چار کر رہا تھا۔ ایمان گھر میں آنے والے اس نئے فرد کے بارے میں بہت پر جوش تھا۔ وہ اکثر اپنے بچے کے بارے میں اس سے باتیں کیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے کام کے اوقات میں کچھ تبدیلی کرنی پڑے گی۔ گھر کو کچھ زیادہ وقت دینا پڑے گا ۔ وہ اس سے باتیں کرتے کرتے اچانک کہتا۔