Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Iman Umeed Or Muhabbat (Episode 16)
پاکستان آکر اس کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ کچھ عرصہ اسے نئی جگہ آکر ایڈ جسٹمنٹ کے مسائل پیش آئے مگر ایک سال کے اندر اندردہ مکمل طور پر ایڈ جسٹ ہو گیا تھا۔ نہ صرف وہ وہاں ایڈ جسٹ ہو گیا بلکہ وہاں کی زندگی کو انجوائے بھی کرنے لگا تھا۔دو سال اس نے کمپنی کے کراچی آفس میں کام کیا۔ پھر وہاں سے وہ لاہور آ گیا۔ ایک بار پھر وہ نئے سرے سے اردو زبان پر دسترس حاصل دو کرنے لگا تھا۔ یہاں آکر اس کا حلقہ احباب محدود ہی رہا تھا۔ لاہور آفس میں اپنے اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک جرمن لڑکی سے اس کی تھوڑی بہت دوستی تھی اور اکثر ویک اینڈ پر وہ اس یر و تفریح کے لیے چلا جاتا۔ چھٹیوں میں وہ واپس امریکہ چلا جاتا اور اپنے ماں باپ کے ساتھوقت گزارتا۔
پیٹرک کو معدے کا کینسر ہو گیا تھا اور ایک سال تک وہ شدید بیمار رہا۔ اس بیماری کے دوران ہی اس نے اپنی جاب سے ریٹائرمنٹ لے لے لی۔
کچھ عرصے تک سبل اور وہ امریکہ میں ہی رہے لیکن پھر پیٹرک واپس جرمنی چلا گیا کیونکہ وہ وہاں اپنی فیملی کے پاس رہنا چاہتا تھا۔ ان دونوں کے بے
عد اصرار کے باوجود ڈینیل شادی سے ہمیشہ کتراتا ہی رہا تھا۔ وہ ہر بار انہیں کوئی نہ کوئی عذر کر کے ٹالتا رہا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے پاکستان میں رہتے ہوئے آٹھ سال ہو گئے۔
زندگی کی ایک سیٹ روٹین تھی ۔ وہ شام تک آفس میں ہوتا ۔ اس کے بعد کہیں نہ کہیں گھومنے نکل جاتا کبھی کسی پارٹی یاڈ نر پر چلا جاتا اور کبھی filmدیکھنے کے لیے۔ رات دس گیارہ بجے وہ گھر آتا۔ خبر یں سنتا، کوئی کتاب پر کوئی کتاب پڑھتا اور سو جاتا۔ اس کے لیے زندگی جیسے بالکل مکمل تھی جس میں نہ کسی چیز کی کمی تھی اور نہ کسی چیز کی ضرورت مگر بعض دفعہ زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہوتی ہے، کوئی ایسی تبدیلی جو انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے اور ایک ایسی تبدیلی اس کی زندگی میں بھی آنے والی تھی۔
وہ ہر روز lunch آفس میں کرنے کے بجائے ایک قریبی فاسٹ فوڈ چین پر چلا جاتا تھا۔ اس دن بھی وہ اپنی روٹین کے مطابق اسی فاسٹ فوڈ چین پر گیا تھا۔ کاؤنٹر پر جا کر اس نے اپنا مطلوبہ برگر مانگا تھا اور پھر کاؤنٹر پر کہنیاں ٹکا کر سرسری نظروں سے آرڈرز بھگتاتی ہوئی لڑکیوں اور لڑکوں کی سرگرمیاں دیکھتا رہا جو کاؤنٹر کے دوسری طرف بہت مصروف نظر آ رہے تھے۔ اور تب ہی اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی تھی ۔ وہ لڑ کی خوبصورت تھی ۔ وہ مسکراتے ہوئے کاؤنٹر پر کھڑے ایک دوسرے جوڑے کا آرڈر نوٹ کر رہی تھی اور پھر وہ کاؤنٹر کے پیچھے موجود دروازے میں غائب ہوگئی تھی۔ڈینیل کی نظریں اس دروازے پر بھی رہیں۔ وہ لاشعوری طور پر جیسے اسی لڑکی کا منتظر تھا۔ وہ چند منٹوں کے بعد دوبارہ نمودار ہوئی۔ وہ ایک بار پھر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا۔ وہ کاؤنٹر کے پار کھڑے کسی دوسرے آدمی سے کچھ کہ رہی تھی ۔ ڈینیل کوشش کے باوجود اس کے چہرے سے اپنی نظریں نہیں بنا پایا۔ اس کا دل بے اختیار چاہا کہ اس کا آرڈر وہ سرد کرے۔ شاید وہ قبولیت کی گھڑی تھی۔ کیونکہ دو لڑ کی دوبارہ غائب ہوگئی تھی اور اس بار وہ جب واپس آئی تو سیدھاڑ پٹیل کی طرف ہی آئی تھی۔ ڈینیل کا دل بے اختیار دھڑ کا تھا۔ ہاتھوں میں پکڑی ہوئی ٹرے لا کر اس نے ڈینیل کے سامنے کاؤنٹر پر رکھ دی اور مسکرائی ، ڈینیل نے کچھ کہے بغیر ٹرے اٹھالی۔
کاؤنٹر سے کچھ فاصلے پر پڑی ہوئی میز پر بیٹھ کر اس نے ایک بار پھر نظریں اس لڑکی پر جمادی تھیں ۔ بہت عرصے کے بعد اس دن اس کا دل چاور ہا تھا کہ وہ اس لڑکی کی آنکھیں پینٹ کرے۔ لمبی پلکوں والی سیاہ سادہ شفاف مگر اداس آنکھیں بھیگی ہوئی پلکیں اور بھاری پونے اور اس پر وہ مسکراہٹ جس کے ساتھ وہ آرڈر لے اور سرو کر رہی تھی۔ اس کی ماں بہت اچھی پینٹنگ کرتی تھی اور ڈینیل میں بھی فطری طور پر یہ صلاحیت تھی کہ وہ اچھی چیزوں کو بہت اچھی طرح اسکے کر لیا کرتا تھا۔ اس دن بھی وہ فوری طور پر اس لڑکی کی طرف متوجہ کرنے والی چیز اس کی آنکھیں ہی تھیں اور اس کا دل چاہا تھا کہ وہ ہیں بیٹھ کر ان آنکھوں کو پینٹ کرے۔ اس نے اپنی خواہش پوری کی تھی ۔ پینٹنگ و ممن نہیں تھی مگر تیز رفتاری سے lunch ختم کرتے ہوئے اس نے اپنے والٹ سے اپنا وزیٹنگ کارڈ نکالا اور اس وزیٹنگ کارڈ کے پیچے قلم سے اس نے اس لڑکی کی آنکھوں کی اسکیچنگ کی تھی۔ پیچ کر کے وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا مگر اس دن وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی اس کی آنکھوں میں اس کا چہرہ گردش کرتا رہا تھا۔اتنی اداسی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ مالی مجبوری ؟ وہ سوچتا رہا۔ رات کو بھی وہ دیر تک اس وزیٹنگ کارڈ کو دیکھتا رہا۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے
وہ اسکیچ کو اچھی طرح سے نہیں بنا پایا۔
اگلے دن دو پہر کو وہ ایک بار پھر وہیں تھا۔ اس نے دانستہ کوشش کی تھی کہ کل پہلی بار نظر آنے والی لڑکی کو ہی اپنا آرڈر نوٹ کروائے ۔ اسےحیرانی ہوئی تھی اس لڑکی کی آنکھیں آج بھی اسی طرح بھیگی ہوئی تھیں مگر وہ آج بھی مسکرارہی تھی۔ ڈینئیل نے اپنا lunch لے کر کل والی ٹیبل پر بیٹھنے کے بعد جیب سے کاغذ اور پنسل نکال کر اس کی آنکھوں کی اسکیچنگ شروع کر دی تھی۔ وہ تقریبا پندرہ منٹ تک اس سرگرمی میں مصروف رہا اور پھر کچھ مطمئن
ہو کر اس نے ہاتھ روک دیا۔ ایک بار پھر اس لڑکی پر نظریں جمائے ہوئے اس نے اپنا لنچ کیا تھا اور پھر اٹھ کر چلا گیا۔
پھر جیسے یہ ایک روٹین بن گئی تھی۔ وہ روز دو پہر کو ہاں آتا۔ سیخ کرتا اور lunch کے دوران مختلف انداز میں اس کی آنکھوں کی اسکیچنگ کرتا رہتا۔
اسے اس لڑکی سے ایک عجیب سا انس ہو گیا تھا۔ پھر اسے اچانک ایک ہفتے کے لیے کراچی جانا پڑ گیا اور یہ سات دن اس کی زندگی کے سب سے مشکل اور تکلیف دو دن تھے۔ اسے اب احساس ہوا کہ وہ اس روٹین کا کتنا عادی ہو چکا تھا۔ وہ رات کو دو سارے چھوٹے بڑے اسکیچز نکال کر بیٹھ جاتا جو اس نے مختلف اوقات میں بنائے تھے اور پھر جیسے اس کی بے تابی اور بے چینی میں اور اضافہ ہو جاتا۔
سات دن کے بعد لاہور ایر پورٹ پر اترتے ہی وہ آفس یا گھر جانے کے بجائے سیدھا اس فاسٹ فوڈ چین پر گیا تھا اور وہاں جا کر اسے جیسےمایوسی ہوئی تھی۔ وہ اسے کاؤنٹر کے پیچھے نظر نہیں آئی ۔ وہ مایوس ہو کر وہاں سے پلٹ آیا تھا۔
اگلے دن دو پہر کو وہ بڑی بے تابی کے عالم میں وہاں گیا تھا اور دروازے سے داخل ہوتے ہی اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ وہو میں موجود تھی۔
خوشی کی ایک عجیب سی لہر اس کے پورے سراپے میں دوڑ گئی تھی ۔ اس دن کاؤنٹر پر اسے اپنا آرڈر نوٹ کرواتے کرواتے اس نے کہا۔ ” کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں ؟ اس لڑکی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی۔ سراٹھاتے وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
میں دراصل یہاں روز آتا ہوں ۔ آپ ہی مجھے اٹینڈ کرتی ہیں اس لیے میں نے سوچا کہ نام معلوم ہونا چاہیے۔ میرا نام ڈینیل ایڈگر ہے ۔ اس نے شائستہ لہجے میں وضاحت کی۔ ڈینیل کو اس کی آنکھوں میں عجیب کی الجھن نظر آئی۔ روز یہاں آتے ہیں؟” ہجے میں کہا گیا یہ جملہ ڈینیل کو حیران کر گیا تھا۔ وہ اس فاسٹ فوڈ چین میں تو بہت عرصے سے آرہا تھا مگر جب سے یہ لڑ کی وہاں آئی تھی وہ با قاعدگی سے وہاں ایک ماہ سے جار ہا تھا اور واٹر کی اس سے کہہ رہی تھی۔
روز یہاں آتے ہیں؟ اس کا خیال تھا وہ بھی اب تک اس کے چہرے سے شناسا ہوگئی ہوگی ۔ ہاں میں روز یہاں آتا ہوں آپ ہی روز اٹینڈ کرتی ہیں مجھے ۔۔ اسی وقت ۔۔ کیا آپ کو یاد نہیں ہے؟
نہیں مجھے یاد نہیں ہے۔ وہ بے حس وحرکت ہو گیا۔ لڑکی کا ؤنٹر کے پیچھے موجود دروازے سے غائب ہو چکی تھی۔ اسے کبھی اتنی خفت کا سامنانہیں کرنا پڑا تھا۔
میں اتنا برا تو نہیں کہ میرا چہر دیا دن رہ سکے۔ کیا یہ. لڑ کی جان بوجھ کر جھوٹ بول رہی ہے یا واقعی وہ میرے چہرے سے شناسا نہیں ہے۔ وہ خود بھی الجھ گیا
وہ دس منٹ کے بعد دوبارہ نمودار ہوئی اور ٹرے لے کر اس کی طرف آئی۔ ڈینیل نے پوچھا۔
میں نے آپ کا نام پوچھاتھا؟ وہ کچھ دیر بے تاثر آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی اور پر اپنا نام بتا کر واپس مڑگئی۔ امید ! ڈیٹیل نے اس کا نام زیر اب دہرایا۔ پاکستان میں رہتے ہوئے وہ اردو پر اتنا عبور تو حاصل کر چکا تھا کہ اس نام کا مطلب جان
اگلے دن وہ ایک بار پھر وہیں تھا اور اس بار کاؤنٹر پر جاتے ہی اس نے اس لڑکی کو یاد دہانی کروائی۔
میں وہی ہوں جس نے کل آپ کا نام پوچھا تھا۔ اس بار پہلی دفعہ اس نے لڑکی کی آنکھوں میں بیناسائی دیکھی تھی اور پھر وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے واپس چلی گئی تھی۔
اگلے چند ہفتے بھی اس طرح گزرے تھے۔ ہر بار جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتا وہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہو جاتی اور ڈینیل کو مایوی سے واپس آنا پڑتا تھا۔ پھر اس کی شفٹ بدل گئی تھی۔ وہ سہ پہر سے رات گئے تک وہاں ہوتی اور ڈیٹیل کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا۔ اب وہ آفس . ہو کر وہاں آجاتا اور اس وقت تک وہیں موجود رہتا جب تک وہ نظر آتی رہتی۔ جب وہ کاؤنٹر کے پیچھے غائب ہوتی تو وہ بھی اٹھ جاتا۔ وہ لڑ کی جیسے اس کی زندگی کا ایک حصہ بن گئی تھی۔ جس کے لیے وہاں آنا اور بیٹھے رہنا اسے برا نہیں لگتا تھا۔
تین ماہ تک اسکی یہ روئین جاری رہی پھر ایک دن ہمیشہ کی طرح کا ڈنٹر کے پیچھے مقررہ وقت پر اس کے غائب ہونے پر وہاں سے چلے آنے کے بجائے وہ باہر آکر اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس وقت اس ریسٹورنٹ کی گاڑی میں وہاں کام کرنے والے سوار ہو رہے تھے۔ پندرہ میں منٹ کے
بعد اس نے اندر سے اس لڑکی کو برآمد ہوتے دیکھا تھاوہ اب شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔ ڈینیل کے چہرے پر ایک طمانیت بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
اس رات پہلی بار اس نے اس لڑکی کا تعاقب کیا تھا۔ وہ ورکنگ ویمن کے ایک ہاسٹل کے سامنے اتری اور اندر چلی گئی اور ڈینیل وہاں سے واپس آگیا۔ پھر ڈینیل کی روٹین میں جیسے یہ چیز بھی شامل ہو گئی تھی۔ وہ روز اسی طرح ہاسٹل تک اس کا تعاقب کرتا اور پھر اسے اندر داخل ہوتا دیکھ کر واپس آجاتا۔ ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ وہ لڑ کی مقررہ وقت سے چند گھنٹے پہلے ہی باہر نکل جاتی ۔ اسٹاپ سے دین پر بیٹھتی پھر ہاسٹل سے کچھ فاصلے پر اسٹاپ پر اتر جاتی اور وہاں سے ہاسٹل تک کا فاصلہ پیدل خاموشی اور اپنے گردو پیش سے بے نیاز ہو کر طے کرتی ۔ شاید وہ اپنے گرد و پیش سے بےنیاز نہ ہوتی تو سیاہ رنگ کی دو گاڑی بہت جلد اس کی نظروں میں آجاتی جو اس وقت بھی اس سے کچھ پیچھے بہت دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ وہ ہاسٹل میں داخل ہوتی ۔ ڈیٹیل چند لمحے وہاں کھڑا ہو کر ہاسٹل کے بند گیٹ کو دیکھتار ہتا اور پھر واپس آجاتا۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ وہ کس لیے وہاں جاتا ہے۔ کسی وجہ سے وہاں بیٹا رہتا تھا اور پھر کیوں اس کا ہاسٹل تک تعاقب کرتا تھا۔ وہ سب کچھ کرتے ہوئے بے اختیار ہوتا تھا۔ یوں جیسے کوئی دوسری چیز اس وقت اس پر حاوی ہو جاتی تھی۔ ہر رات واپس گھر آ کر وہ بڑی بے چارگی اور بے بسی کے عالم میں بیمار ہتا تھا۔
شاید یہ سب کچھ بہت عرصے تک اسی طرح چلتا رہتا اگر ایک دن وہ لڑکی وہاں سے غائب نہ ہو جاتی اور پھر مسلسل ایک ہفتہ غائب نہ رہتی۔
پہلے دن اس کی عدم موجودگی پر وہ بے چین رہا تھا مگر دوسرے دن بھی اسے وہاں نہ دیکھ کر اس کا دل ڈوب گیا تھا۔ کاؤنٹر پر موجود ایک دوسری لڑکیسے اس نے اس کے بارے میں پوچھا۔
امید ۔۔ ہاں وہ دو دن کی چھٹی پر ہے۔”
اسے تھوڑ اسا سکون محسوس ہوا تھا اس کا مطلب تھا کہ اگلے دن وہ ایک بار پھر وہیں موجود ہوگی۔ مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ اگلے دن وہ پھر وہاں نہیں تھی۔
پتا نہیں وہ آج کیوں نہیں آئی۔ اس کی چھٹی تو صرف دو دن کی تھی ۔ اسی لڑکی نے کندھے اچکاتے ہوئے اس کے استفسار پر جواب دیا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتار ہا پھر بے جان قدموں سے باہر آ گیا۔ اس رات بارہ بجے تک بغیر کسی مقصد کے سڑکوں پر گاڑی دوڑا تارہا۔
اگلے دن وہ ایک بار پھر وہاں گیا تھا اور وہ پھر وہاں نہیں تھی۔
کیا آپ کو اس سے کوئی کام ہے؟ کاؤنٹر پر موجود اس لڑکی نے بڑے غور سے ڈیٹیل کو دیکھا۔
وہ گڑ بڑا گیا۔ نہیں، کام نہیں ہے۔ اوور کا نہیں یا ہر گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنا سر پکڑ لیا تھا۔
آخر یہ لڑکی کہاں غائب ہوگئی ہے۔ کیوں واپس نہیں آرہی ؟ وہ بے اختیار بڑبڑا رہا تھا پھر جیسے ایک خیال آنے پر وہ سیدھا ہو گیا اور گاڑیلے کر اس کے ہاسٹل چلا گیا جہاں وہ رہتی تھی ۔ گیٹ پر اتر کر اس نے چوکیدار سے اردو میں گفتگو کا آغاز کیا تھا۔ چوکیدار ایک غیر ملکی کی زبان سے اتنی روانی سے نکلنے والی اردو سن کر حیران تھا اور حیرانی کے ساتھ مرعوبیت بھی اس کے ہر انداز سے جھلک رہی تھی۔
کون امید ! آپ پورا نام بتائیں ۔ یہاں تو بہت سی لڑکیاں رہتی ہیں ؟ چوکیدار نے اس کے سوال پر جواب دیا۔پورا نام تو میں نہیں جانتا۔ اس نے کچھ بے چارگی سے کہا۔
اچھا میں اندر سے پوچھ آتا ہوں ۔
پیشکش
چوکیدار نے کمال فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا۔ وہ اندر جاتے ہوئے چوکیدار کو دیکھنے لگا جو چند قدم اٹھانے کے بعد یک دم واپس اس کی طرف آیا۔
آپ ان کے کیا لگتے ہیں؟ ڈینیل کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ میں میں ان کے ریسٹورنٹ کی طرف سے آیا ہوں ۔ وہ دو دن کی چھٹی پر گئی تھیں اور ابھی تک نہیں آئیں ۔ میں اسی لیے آیا ہوں ۔“ اس کے ذہن میں جو پہلا بہانا آیا اس نے وہی چوکیدار کے سامنے پیش کر دیا۔ چوکیدار کی آنکھوں میں یکدم ایک چمک ابھری۔ آپ امید عالم باجی کا تو نہیں پوچھ رہے جو ہوٹل میں کام کرتی ہیں۔
ڈینیل نے کچھ نروس انداز میں سر ہلایا۔
وہ اپنے شہر گئی ہوئی ہیں ۔ کہاں؟” راولپنڈی۔ واپس کب آئیں گی ۔ کتاب گھر کی پیشکش تو نہیں پتا۔” کیا اندر سے پتا چل سکتا ہے؟“ میں کوشش کرتا ہوں ۔ چوکیدار برق رفتاری سے اندر چلا گیا۔
وہ وہیں با ہر ٹہلتا رہا، چند منٹوں کے بعد اس کی واپسی ہوئی۔ گھر کی پیشکش وہ دو دن کے لیے گئی تھی مگر ابھی تک نہیں آئیں ۔ اس نے آتے ہی اطلاع دی۔ وہ چند لمحے کچھ بول نہیں سکا۔ ان کا کوئی کا ٹیکٹ نمبر نہیں مل سکتا
اس طرح تو ہم کسی کو بھی کسی لڑکی کا نمبر یا پتا نہیں دیتے جب تک کہ وہ لڑ کی خود اجازت نہ دے۔ وہ کچھ کہے بغیر پلٹ آیا۔ اس رات وہ کوشش کے باوجود سو نہیں سکا۔ سب کچھ اسے یک دم بے کار لگنے لگا تھا۔ اگر وہ لڑکی نہ آئی تو ؟ اگر میں دوبارہ کبھی اس سے مل نہ سکا
تو ؟ یہ سوال اس کے ذہن میں آتے اور وہ بیڈ پر لیٹے لیٹے بے اختیار بے چین ہو کر اٹھ جاتا۔ کمرے میں بلا مقصد چکر لگاتے لگاتے اس کی ٹانگیں
تھک جاتیں اور وہ پھر سر پکڑ کر بیٹھ جاتا۔ اگلے دن پہلی بار آفس میں وہ کوئی کام بھی صحیح طریقے سے نہیں کر سکا۔ ڈکٹیشن دیتے ہوئے وہ بار بار بھول جاتا کہ اسے آگے کیا کہنا تھا اور وہکس چیز کے بارے میں ڈکٹیشن دے رہا تھا۔ اس کی سیکریٹری حیرانی سے اسے دیکھتی رہتی۔ تین بار اس نے چپراسی سے غلط فائل منگوائی ۔ تینوں بار اس نے فائل واپس بھی غلط جگہ بھجوائی۔ اپنی ڈاک میں آئے ہوئے ٹیکس پڑھتے ہوئے وہ کسی کے بھی مفہوم کو نہیں سمجھ پارہا تھا۔ تنگ آکر اس نے ڈاک چھوڑ دی تھی۔ کمپنی کے آڈیٹرز کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں وہ ایک معمولی سی بات پر بھڑک اٹھا تھا کسی نے اس سے پہلے ڈینیل ایڈگر کو غصے
میں دیکھا تھا نہ اس طرح بلند آواز میں بولتے دیکھا تھا۔ اس سے بھی زیادہ ہکا بکا وہ تب ہوئے تھے جب بلند آواز سے بولتے ہوئے وہ میٹنگ سے واک آؤٹ کر گیا تھا۔ بہت دیر تک میٹنگ روم میں خاموشی چھائی رہی۔
پائیل بہت اپ سیٹ ہے، کس وجہ سے ؟ شاید آفس میں کام کے پریشر سے یا پھر اپنی کسی ذاتی وجہ سے۔ لیکن میرا خیال ہے چند دنوں کے
لیے اسے آرام ملنا چاہیے ۔ آپ اس کو تین دن کی چھٹی دے دیں ۔ زول چیف جون بلیوارڈ نے HR منیجر کو ہدایت کی تھی۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد سعود ارتضی اس کے آفس میں آیا تھا۔ وہ ڈینیل کا کولیگ تھا مگر کو لیگ ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں میں بہت اچھی
دوستی بھی تھی۔
تم کچھ پریشان ہو؟ اس نے آتے ہی ڈینیل سے پوچھا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نہیں کر سکا۔ صرف سر جھکائے بیٹھا رہا۔ چیف نے کہا ہے کہ میں تم سے پوچھوں تمہیں کیا پر اہلم ہے۔ انہوں نے تمہیں تین دن کی چھٹی بھی دی ہے تا کہ تم پر سکون ہو سکو۔“
وہ بات کرتے کرتے اس کی ٹیبل کے سامنے موجود کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
کیا پریشانی ہے ڈینیل ؟ اس نے بڑے نرم لہجے میں ڈیٹیل سے پوچھا۔ اس نے جواباریوالونگ چیئر کی پشت سے ایک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ وہ مجھ نہیں پار ہا تھا کہ اسے سعود سے اپنے مسلے کو ڈسکس کرنا چاہیے یا نہیں اور اگر اس نے سعود سے اپنے مسئلے کو ڈسکس کیا تو اس کار و عمل کیا ہوگا
۔ وہ اس لڑکی کے لیے اس کے جذبات کو کس طرح لے گا۔
چند گہرے سانس لینے کے بعد اس نے بالآخر آنکھیں کھولیں اور آہستہ آواز میں اس نے سعود کو اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ بتادیا تھا۔
سعود خاموشی اور سنجیدگی سے اس کی ساری باتیں سنتا رہا۔
” آج میں نے تین بار اپنے آفس میں اسے دیکھا ہے۔ وہ بے چارگی سے اسے بتارہا تھا۔ میں واش بیسن میں ہاتھ دھور ہا تھا اور ہاتھ دھونے کے بعد میں نے سراٹھا کر سامنے لگے ہوئے آئینے میں دیکھا تو مجھے اپنے بجائے وہاں بھی اس کا چہرہ نظر آیا تھا۔ صبح آفس آتے ہوئے ایک
کراسنگ پر گاڑی روکتے ہوئے بھی مجھے یونہی لگا جیسے وہ کر اسنگ سے گزر رہی ہے۔ مجھے اپنی دینی کیفیت سے خوف آنے لگا ہے ۔
سعود کچھ بے یقینی سے اسے دیکھتار ہا تھا۔ وہ اب خاموش ہو چکا تھا۔ کمرے میں چند منٹ خاموشی ہی رہی thi
محبت، سرسے جان سے محبت نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے کبھی اس کی ضرورت محسوس کی ہے۔“
مگر اس بار تمہیں محبت ہی ہوئی ہے اور تم اب اس کی ضرورت اور اہمیت بھی محسوس کر رہے ہو۔ پہلے کبھی محبت نہ ہونے کا مطلب یہ تو نہیں
ہے کہ آئندہ بھی کبھی نہیں ہوگی ۔
ڈینیل کچھ حیرانی سے اس کے لفظوں پر غور کرتا رہا۔ کیا واقعی مجھے اس لڑکی سے محبت ہوگئی ہے؟“ اس نے سوچا۔ اور اگر ایسا ہو گیا ہے تو یہ کتنی حیرانی کی بات ہے۔ کیا کبھی کسی محبت سکتی ہے اور بھی کسی لڑکی سے اس بھی بغیر اسے ایک خوشگوار
احساس ہوا تھا۔
اب دولڑ کی غائب ہوگئی ہے اور تم پریشان ہو۔ اسے ڈھونڈ رہے ہو اور وہ ل نہیں رہی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ لڑکی مل بھی گئی تو تم کیا کرو گے۔ کیا صرف تم اس لیے اسے ڈھونڈ نا چاہتے ہوتا کہ ایک بار پھر اس کے ہاتھ سے برگر کھا سکو۔
ڈینیل نے کچھ چونک کر سعود کو دیکھا جو بات کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
یا تم اس سے محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہو اور شادی کی خواہش کا اظہار کرو گے؟”
ہاں میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نے بے اختیار کہا تھا۔
سعود ایک بار پھر سنجیدہ ہو گیا۔ میں نہیں جانتا کہ اس لڑکی کا مذہب کیا ہے لیکن اگر وہ مسلمان ہے تو مسلمان عورت کسی غیر مسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی ۔ اس سے شادی کرنے کے لیے تمہیں مسلمان ہونا پڑے گا۔ اب تم سوچو، کیا تم یہ کر سکتے ہو اور اگر تم اسلام قبول کر بھی لوتب بھی یہ یقینی
نہیں ہے کہ اس سے تمہاری شادی ضرور ہو جائے گی ۔ ہو سکتا ہے، اس کی شادی ہو چکی ہو یا ہونے والی ہو یا منگنی ہو چکی ہو۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی وہ تمہیں ناپسند کر سکتی ہے یا اس کی فیملی تمہیں نا پسند کر سکتی ہے۔ ہمارے یہاں خاندان بر اور یوں کا سٹم بہت مضبوط ہے۔ ہمارے یہاں تو بعض دفعہ خاندان سے باہر شادی نہیں کرتے ۔ کہاں یہ کہ ایک غیر ملکی سے شادی کر دی جائے اور غیر ملکی بھی وہ جونو مسلم ہو ۔ اب ایسی صورت حال میں تمہاری اس محبت کا کیا حشر ہو سکتا ہے یہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ ہم لوگ آزاد خیال ہونے کی کوشش کر رہے ہیں مگر بعض معاملات میں ہم ہمیشہ قدامت پرست ہی رہتے ہیں خاص طور پر جب جب کسی معاملے میں مذہب بھی انوالو ہو جائے اور یہ بھی ایسا ہی ایک معاملہ ہے۔ اب تم ان سب باتوں پر آج رات اچھی طرح سوچو اور دیکھو کہ کیا تم اتنی پریشانیاں برداشت کر سکتے ہو۔ اس معاملے میں تمہارا ہر قدم ایک جوا ہوگا اور جوا بہر حال جوا ہوتا ہے اس میں ہارنے اور جیتنے کے امکانات برابر ہوتے ہیں۔ ہار کی صورت میں تم خود پر کس طرح قابو پاؤ گے تمہیں اس بارے میں بھی سوچتا ہے۔ یہ ساری باتیں سوچنے کے بعد یہ طے کر لینا کہ اس محبت کو قائم رکھنا چاہتے ہو یا پھر سارا معاملہ ختم کر دینا چاہتے ہو۔ اگر سب کچھ سوچنے کے بعد بھی تم اسی لڑکی سے شادی کے خواہشمند ہوئے تو ٹھیک ہے پھر میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ اس لڑکی کو تلاش کر دوں گا کیونکہ یہ ایسی بھی نا ممکن بات نہیں ہے ۔“
سعود اپنی بات ختم کر کے وہاں سے اٹھ گیا تھا مگر ڈینیل کے ذہن میں ابھی بھی اس کی باتیں گونج رہی تھیں۔
اس شام وہ ایک بار پھر کسی موہوم آس کے تحت وہاں گیا تھا ۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ اسے اپنے اندر آنسوؤں کا ایک غبار سا الفتا محسوس ہوا تھا۔
اس رات اپنے کمرے میں بیٹھ کر وہ سعود کی باتوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ کوئی مسلم عورت کسی غیر مسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی، تمہیں ایسا کرنے کے لیے سب سے پہلے اسلام قبول کرنا پڑے گا۔ مذہب کا سوال ایک بار پھر اس کے سامنے سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا مگر اس بار یہودی یا عیسائی نہیں بلکہ ایک تیسرے مذہب کا پیروکار ہونے کے بارے میں اسے سوچنا پڑ رہا تھا اور اس بار وہ اس معاملے کو ہمیشہ کی طرح اپنے سرسے جھٹک بھی
کیا میں اسلام قبول کر سکتا ہوں؟ اس نے اپنے آپ سے پوچھا اور اس سوال نے اس کے ذہن میں بہت سی پرانی یادیں تازہ کر دی
نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کی زندگی کا ایک اہم معاملہ اس سے منسلک ہو گیا تھا۔
