Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 (Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 9
اس کے آنے کے کچھ دن بعد اس نے اپنے گھر دو عورتوں اور ایک مرد کو آتے دیکھا تھا۔ ان سے ملنے کے بعد امی کسی سوچ میں گم رہی تھیں۔ امید کو یوں محسوس ہوتا رہا جیسے وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی ہوں ۔ رات کو اس نے انھیں اپنے بھائیوں کے ساتھ مصروف گفتگو پایا تھا۔ ان کا انداز بھی بہت پر اسرار تھا۔ تم ڈینیل ایڈ گر کو جانتی ہو؟ فریج سے پانی نکالتے ہوئے وہ بالکل ساکت ہوگئی ۔ پھر اس نے اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ دیکھی ۔ میرے خدا کیا اب مجھے اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی صفائی دینی پڑے گی۔ وہ بھی ڈینیل ایڈگر کے حوالے سے؟“ وہ بمشکل پلیٹی تھی ۔ امی ڈائننگ ٹیبل پر سبزی بناتے ہوئے اس کے جواب کے منظر تھیں۔ میں جس ریسٹورنٹ میں کام کرتی تھی۔ وہاں کھانا کھانے کے لیے آیا کرتا تھا۔ اس نے اپنی آواز پر قابو پاتے ہوئے حتی المقدور نارمل لہجے میں کہا۔
اچھا کیسا آدمی ہے؟ وہ ان کے سوال پر ایک بار پھرسن رو گئی۔ مجھے کیا پتا؟ مگر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟ امی نے سراٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے کہا۔اس نے تمھارے لیے رشتہ بھجوایا ہے ۔ اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس گر پڑا۔ یہاں تک کیسے پہنچ گیا یہ شخص اور کیوں؟ جب میں ۔ وہ بے اختیار خوفزدہ ہوئی ۔ امی نے اس کے ہاتھ سے گرتے گلاس کو دیکھا پھر اس کے چہرے پر نظر ڈالی ۔ ہم لوگ سوچ رہے تھے کہ شاید تم اسے جانتی ہو اور تمہاری پسند کی وجہ سے ہی اس نے یہاں اپنا رشتہ بھجوایا ہے ۔
نہیں، میں اسے بس اتنا ہی جانتی ہوں اور پسند کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں ایک غیر مسلم کے ساتھ شادی کیسے کر سکتی ہوں ۔“ اس نے تیزی سے وضاحت کی ۔ وہ اسلام قبول کر چکا ہے ۔ اب ایمان علی نام ہے اس کا ۔ امی نے دھیمے لہجے میں کہا، وہ کچھ دیر ساکت انھیں دیکھتی رہی۔
پھر بھی میں اس سے شادی نہیں کر سکتی۔ اس طرح مذہب تبدیل کرنے والوں کا کچھ اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ انکار کر دیں ۔ امی نے اس کی بات پر ایک مطمئن اور گہری سانس لی۔ وہ اگلے کئی دن پریشان رہی ۔ ”میرے گھر والے کیا سوچتے ہوں گے کہ میں لاہور میں کیا کرتی رہی ہوں ۔ وہ اپنے بھائیوں کے چہرے پر ملامت اور خفگی تلاش کرتی رہی۔ مگر ان کے چہرے پہلے ہی کی طرح تھے۔ چند دن بعد اس نے ایک بار پھر ان ہی لوگوں کو آتے دیکھا تھا۔ پھر جیسے یہ ایک روٹین بن گئی ، وہ ہفتے میں ایک دو بار ضرور آتے تھے۔ امی کے انکار کے باوجود ردان ان کا کا اصرار نہیں ختم ہورہا ہو رہا تھا۔ اس کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ آپ ان سے کہیں ، وہ ہمارے گھر نہ آئیں ۔ ہمیں یہ رشتہ پسند نہیں ہے تو پھر اس طرح بحث کی کیا تک ہے۔“ اس دن ان کے جانے کے بعد اس نے اپنی امی سے کہا۔ میں بہت باران سے کہہ چکی ہوں مگر وہ لوگ بضد ہیں ۔“ اس کی امی نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔ وہ ان کا منہ دیکھتی رہی۔ چند دن بعد رات کو معین اس کے پاس آیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے کہا۔ میرا دوست سکندر ایمان علی کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔ ان کے دوست سعود ارتضی کا چھوٹا بھائی اس کا دوست ہے، وہ کہہ رہا تھا کہ ایمان بہت اچھا آدمی ہے ۔ کچھ چکچاتے ہوئے اس نے بات شروع کی۔ مگر مجھے کسی غیر ملکی کے ساتھ شادی نہیں کرنی۔” آپا! اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ مسلمان ہیں۔ بہت اچھی پوسٹ پر ہیں۔ ان کی اپنی فیملی بہت اچھی ہے اور پھر بہت سالوں سے یہاں
ہیں آپ کو پتا ہے۔ انھوں نے آپ کی وجہ سے مذہب تبدیل کیا ہے ۔
مگر مجھے پھر بھی شادی نہیں کرنی ہے۔ صرف شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنے والا شخص کبھی بھی قابل اعتبار نہیں ہو سکتا ۔ آپا! یہ کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے امی سے بھی بات کی ہے، وہ بھی آمادہ ہوگئی ہیں۔ سکندر کہ رہا تھا کہ سعود کے گھر والے ہر قسم کی گارنٹی دینے کو تیار ہیں۔ میں نے ایمان علی کی تصویر دیکھی ہے۔ وہ مجھے دیکھنے میں بہت اچھے لگے ہیں۔ آپ کو اس سے اچھا پر پوزل نہیں مل سکے گا ۔ وہ اب خاصی بے تکلفی سے بات کر رہا تھا۔ تم اس بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ میں کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ تم میری جان چھوڑ دو ۔ وہ ایک دم غصے میں آگئی ۔ معین اٹھ کر چلا گیا۔ پھر اگلے کئی ہفتے یہی تما شا ہوتا رہا۔ سعود ارتضی پتا نہیں کس کس جاننے والے کے توسط سے ان پر دباؤ ڈالتا رہا۔ اس کے بھائیوں کے دوست، ان کے کچھ محلے والے، رشتے دار، امی کے کچھ جاننے والے لوگ ۔ وہ پتا نہیں کس طرح سرنگیں بنارہا تھا۔ چند ہفتے بعد گھر میں اس کے علاوہ سب اس رشتے پر آمادہ تھے، صرف وہ تھی جو اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی ۔ تھی۔ مجھے کسی غیر ملکی نو مسلم سے شادی نہیں کرنا۔ اور اس شخص سے تو کسی صورت نہیں ۔ وہ ہر بات کے جواب میں یہی کہتی ۔میں شادی ہی کرنا نہیں چاہتی ، آپ مجھے اس طرح پریشان نہ کریں ورنہ میں یہاں سے چلی جاؤں گی ۔“ وہ زچ ہو چکی تھی۔ وہ اپنے گھر آنے والی سعود ارتضی کی بیوی اور ماں کے سامنے جا کر بھی ایک بارا انکار کر چکی تھی۔ اس کے بعد وہ لوگ ان کے گھر نہیں آئے مگر پھر بالواسطہ طور پر مختلف لوگوں کے ذریعے وہ ان پر دباؤ ڈالنے لگے تھے۔ اسے اس دباؤ اور اصرار سے اور چڑ ہونے لگی تھی۔ شاید اس کی یہ ضد اسی طرح جاری رہتی اگر اس کی ملاقات ڈاکٹر خورشید سے نہیں ہوتی۔ جس دن وہ اس کے گھر آئے تھے، اس دن اس کی امی نے اسے آکر ان سے ملنے کے لیے کہا تھا۔ امید نے سوچا تھا کہ شاید وہ اس کے کسی بھائی کے والد ہیں کیونکہ اس کا بھائی ہی انھیں اپنے گھر لے کر آیا تھا۔ وہ حیران ہوئی کہ امی اسے ان سے کیوں ملوانا چاہتی ہیں۔ اس حیرانی میں وہ ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔ ڈاکٹر خورشید اس کے کمرے سے داخل ہوتے ہی کھڑے ہو گئے ۔ اس کو اپنے لیے ان کا کھڑا ہونا کچھ عجیب لگا۔ وہ خاموشی سے کچھ کہے بغیر سلام دعا کے بعد صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے بھائی نے ڈاکٹر خورشید کے بارے میں اسے کچھ بتایا تھا۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی ۔ اسے دلچسپی نہیں تھی کہ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے پاس کتنی ڈگریاں اور کتنا علم ہے۔ وہ کتنے ملکوں سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہے یا کتنی زبانیں بول لیتا ہے۔ اس کے گھر آنا اس کے لیے کتنا بڑا اعزاز تھا۔ اسے اس سے بھی کوئی غرض نہیں تھی۔ وہ صرف کچھ وقت وہاں بیٹھ کر وہاں سے واپس چلی جانا چاہتی تھی۔ آپ کے بھائی نے میری کچھ زیادہ تعریف کردی . میں صرف ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں ۔ اس کے علاوہ میری اور کوئی قابلیت نہیں ہے ۔ اس کے بھائی کے خاموش ہونے کے بعد ڈاکٹر خورشید نے کہا۔ وہ اب بھی خاموش رہی۔ یا اب یہ سمجھ لیں کہ ایک اور اعزاز ہمیں یہ حاصل ہو گیا ہے کہ ایک ایسی لڑکی کو دیکھ رہا ہوں جس کے لیے کوئی ایمان حاصل کرلے ۔وہ ان کے اگلے جملے یہ کے اگلے جملے پر ساکت ہوگئی۔ ڈینیل ایڈگر کا ایک اور سپورٹر “ اس نے تلخی سے سوچا۔ خفگی اور غصے کی ایک لہر اس کے اندر دوڑ گئی۔ اب مجھے باہر کے لوگ آ کر میری زندگی کے سب سے اہم فیصلے کے بارے میں مشورے دیں گے اور میرے گھر والے ان کی مدد کریں گے۔“ وه سرد نظروں سے ڈاکٹر خورشید کو دیکھتی رہی ۔ امید عالم! آپ کا نام بہت خوبصورت ہے۔ آپ اپنے نام سے بڑھ کر خوبصورت ہیں اور آپ کی قسمت ان دونوں چیزوں سے بھی زیادہ روشن ہے وہ اب اس سے نرم آواز میں کہہ رہے تھے۔ میری قسمت کتنی روشن ہے۔ کیا میرے علاوہ کوئی یہ بات جان سکتا ہے ۔ ایک بار پھر اس نے سخی سے سوچا۔ ۔ اس کا بھائی یک دم چائے لانے کے لیے اٹھ کر چلا گیا ۔
مجھے ایک بات بتائیں۔ آپ اتنے بڑے اسکالر ہیں۔ آپ تو بہت علم رکھتے ہیں۔ دنیا کا بھی دین کا بھی۔ آپ بتائیں صرف شادی کے لیے مذہب تبدیل کرنے والا شخص کتنا قابل اعتبار ہو سکتا ہے اور کوئی مسلمان لڑکی ایسے شخص سے شادی کرنے کا جوا کیوں کھیلے، جس کے عقیدے کے باطل ہو جانے کا اسے شک ہو اور مجھے یہ بھی بتائیں کہ جب آپ جیسے اسکالرز مسلمان لڑکیوں کو جا کر اس کام پر مجبور کرنے لگیں تو ہدایت اور رہنمائی کے لیے کتنے دروازے کھلے رہ جائیں گے ۔“ جتنے تلخ لہجے میں ان سے بات کر سکتی تھی اس نے کی۔ ان کی مسکراہٹ میں کمی نہیں آئی۔ وہ بڑی خندہ پیشانی سے اس کی بات سنتے رہے۔ میں یہاں کسی اسکالر کے طور پر نہیں آیا۔ میں یہاں ایک مسلمان کے طور پر آیا ہوں ۔ ایک دوسرے مسلمان کو مجبور کرنے کے لیے کہ وہ کسی نام نہاد مسلمان سے شادی کرلے ۔“ نام نہاد مسلمان سے آپ کی کیا مراد ہے امید بی بی ؟ اگر ایمان علی نام نہاد مسلمان ہے تو کیا ہم سب نام نہاد مسلمان نہیں ہیں۔ جن کے اعمال اور افعال اسلام کے بتائے ہوئے کسی اصول سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جن کے ایمان کمزور ہوتے ہیں، جو صرف ساری زندگی اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں کہ انھیں پیدائشی طور پر مسلمان گھرانے میں پیدا کیا گیا ورنہ اگر دین کے لیے کوئی قربانی دینی پڑے تو مسلمانوں کی ان فہرستوں میں میں ان مسلمانوں میں سے نہیں ہوں ، میں نے اپنے دین اور ایمان کے لیے کیا چھوڑا ہے۔ اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔
خاصی تعداد کم ہو جاتی ہے، مگر صرف دعوا کرنا پڑے تو ہر مسلمان اپنے علاوہ کسی دوسرے کو مسلمان تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ وہ اب سنجیدہ ہو چکے تھے۔
خواہشوں اور خوابوں کو مار دیا ہے۔ اس لیے میرے افعال اور اعمال کے بارے میں بات نہ کریں۔ میرا ایمان کمزور ہوتا تو آج میرے پاس کیا کیا ہو سکتا تھا۔ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ۔ دین کے لیے میں نے سر پر تانی ہوئی چھتری چھوڑ کر ننگے پاؤں دھوپ میں چلنا قبول کیا ہے۔ مجھے حق ہے کہ میں اپنا موازنہ دوسرے مسلمانوں سے کروں ۔ مجھے حق ہے کہ میں خود کو ان لوگوں سے بہتر سمجھوں جو دھوپ میں چلنے کے بجائے سائے کے لیے ہر چیز کا سودا کر لیتے ہیں ۔ وہ ان کی بات پر اس طرح بھڑکے گی ، اس کا اندازہ نہ ڈاکٹر خورشید کو تھا، نہ ہی خود امید کو۔ اللہ خود پر کوئی احسان نہیں رکھتا ، امید بی بی! اگر آپ نے اس کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے تو وہ آپ کو اس سے بہتر شے سے نواز دے گا۔“ نہیں، بعض چیزوں کے بعد ان سے بڑھ کر اور ان سے بہتر کوئی چیز نہیں ملتی کیونکہ دل کو کوئی چیز بہتر نہیں لگتی ۔ ڈاکٹر خورشید نے اس کی آنکھوں میں انڈتی نمی اور اسے چھپانے کے لیے جھکے سرکو دیکھا۔ دین کے لیے کوئی سودا خسارے کا سودا نہیں ہوتا اور دنیا میں ہر چیز کا متبادل ہوتا ہے، مگر اس بات پر آپ کو تب تک یقین نہیں آئے گا جب تک متبادل آپ کو مل نہیں جائے گا۔ اور اگر انسان کو کسی متبادل کی خواہش ہی نہ ہو تو ؟“ وہ سر اٹھا کرنم آنکھوں کے ساتھ اکھڑ لہجے میں ان سے پوچھ رہی تھی۔ انسان کی خواہشات سے اللہ کو د پیپسی نہیں ہے۔ وہ اس کی تقدیر اپنی مرضی سے بناتا ہے۔ اسے کیا ملنا ہے اور کیا نہیں ملنا اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ جو چیز آپ کو ملنا ہے آپ اس کی خواہش کریں یا نہ کریں
