Iman Umeed Or Muhabbat By Umerah Ahmed Readelle50316 (Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Iman Umeed Or Muhabbat) Episode 10
جو چیز آپ کو ملنا ہے آپ اس کی خواہش کریں یا نہ کریں وہ آپ ہی کی ہے۔ وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں جائے گی مگر جو چیز آپ کو نہیں ملنا ہے، وہ کسی کے پاس بھی چلی جائے گی مگر آپ کے پاس نہیں آئے گی۔ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیز کے ملال میں مبتلا رہتا ہے آنے والی چیز کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی ۔ میں آپ سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ آپ نے دین کے لیے کیا چھوڑا۔ میں صرف یہ پوچھوں گا کہ آپ نے کیوں چھوڑا اور یہ سوال اس لیے کروں گا کہ خدا کے لیے کیے جانے والے عمل پر فخر کے بجائے آپ کو پچھتاوا ہے اور یہ پچھتا واشر سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ انسان کا ہر اچھا عمل بھی تباہ کر دیتا ہے۔ خدا کے لیے کیے جانے والے عمل پر شکر اور پھر فخر کرنا چاہیے کہ اس نے آپ کو آزمایا اور آپ نے ثابت قدمی اور استقامت دکھائی لیکن اگر آپ کو پچھتانا تھا تو پھر آپ یہ قربانی نہ دیتیں۔ آپ بھی سائے کا انتخاب کر لیتیں۔ راستے تو دونوں ہی تھے آپ کے پاس اور کسی نے آپ کو یقینا مجبور بھی نہیں کیا ہو گا ۔ کم از کم اللہ نے نہیں۔ اس نے تو اختیار دیا آپ کو کہ انتخاب کا حق استعمال کریں پھر آپ نے اپنے اختیار کو استعمال کیا۔ اب یہ پچھتاوا کیوں؟
میں آپ کے اسلام پر گواہی دینے آیا ہوں نہ آپ کے ایمان کی مضبوطی کا جائزہ لینے۔ یہ دونوں کام میں ایمان علی کے لیے کرنے آیا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ مسلمان ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ہمیشہ مسلمان ہی رہے گا۔ بہت کم عورتیں ہوتی ہیں جن کی کوئی اتنی خواہش کرتا ہے۔ جس قدر ایمان علی آپ کی کر رہا ہے۔ آپ کی خوش بختی یہ ہے امید بی بی کہ آپ کے لیے ایک ایسا شخص دامن پھیلائے ہوئے ہے جو کیچڑ کا کنول ہے اور کنول کو کوئی صرف کیچڑ میں کھلنے کی وجہ سے پھول کہنا نہیں چھوڑ دیتا۔ لوگ اس کی خوشبو سے بھی متاثر ہوتے ہیں اور حسن کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔” وہ خاموشی سے ان کا چہرہ دیکھتی رہی۔ میں نے آپ سے کہانا کہ اللہ انسان کو ہر چیز کا متبادل دے دیتا ہے اور ہر انسان کو دیتا ہے۔ آج ایمان علی آپ کی خواہش کر رہا ہے۔ آپ اسے نہیں ملتیں تو کیا ہوگا۔ اللہ اس کے لیے آپ سے بہتر اور بڑھ کر کوئی متبادل پیدا کر دے گا۔ اللہ کو نواز نا آتا ہے مگر جب کوئی اتنی چاہ کرے تو اس کی محبت کو اس طرح رد نہیں کرنا چاہیے۔ آپ ایک ایسے شخص کو رد کر رہی ہیں جس کی زندگی میں صرف ایک عورت آئی ہے اور وہ عورت آپ ہیں ۔ وہ آپ کا نام اتنی محبت اور عزت سے لیتا ہے کہ مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔ عورت سے محبت بہت سے مرد کرتے ہیں مگر محبت کے ساتھ ساتھ عزت بہت کم مرد کرتے ہیں ۔“ وہ تھرا گئی۔ اسے کچھ یاد آیا۔ اسے لگا ، وہ زمین کے اندر اتر رہی ہو۔ مجھے لگتا ہے۔ آپ کا کوئی عمل خدا کو بہت پسند آیا ہے جس کی وجہ سے اس نے آپ کو اتنا خوش بخت بنا دیا کہ کوئی شخص آپ کے لیے آپ کا دین اختیار کرنے پر تیار ہو گیا۔ اب آپ سوچیے آپ کا ساتھ اس شخص کو اور کتنی ثابت قدمی اور استقامت دے گا۔“ اس کی آنکھوں میں دھندلاہٹ آنے لگی۔ ہمارے دین کا امتیاز ہی یہ ہے کہ اس میں کوئی چھوت چھات نہیں ہے۔ نئے اور پرانے مسلم کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ ہمیں انصار کی طرح ہونا چاہیے۔ آنے والوں کو گلے لگانا چاہیے۔ ان کے عقیدوں اور حسب و نسب کو چھاننے پھٹکنے نہیں بیٹھنا چاہیے ۔ جو منہ سے خود کو مسلمان کہتا ہے وہ مسلمان ہے۔ ہمارے مانے یا نہ ماننے سے اس کے ایمان میں فرق نہیں پڑے گا۔ ہمارے اپنے ایمان میں فرق پڑ جائے گا۔ اس نے اپنی آستینوں سے چہرا صاف کیا۔ آپ مقدر پر یقین رکھتی ہیں تو یہ جان لیں کہ آپ ایمان علی کے مقدر میں لکھی گئی ہیں۔ آپ کو کوئی اور نہ پہلے ملنا تھا نہ بعد میں ملے گا۔ آپ کو دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ میرے لفظوں سے موم ہوں یا نہ ہوں مگر ایمان علی نے آپ کے لیے کوئی ایسی دعا ضرور کی ہے کہ وہ آپ کو پالے گا۔ اب اس میں کتنا وقت لگے گا۔ یہ خدا جانتا ہے ۔ اس نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔ وہ ڈاکٹر خورشید کو نہیں جانتی تھی مگر اس شخص کی زبان میں کچھ ایسا ضرور تھا جو دوسروں کو
چونکا دیتا تھا۔ انھیں بے بس کرتا تھا پھر انھیں قائل کر دیتا تھا۔ وہ قائل نہیں ہوئی تھی مگر بے بس ضرور ہو گئی تھی ۔ اس رات اس نے اپنی پوری زندگی کو ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گزرتے دیکھا ۔ ہر یاد، ہر تصور جہاں زیب پر آ کر ختم ہو گیا تھا۔ کیا میرے لیے کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا ممکن ہے جب میں اپنا ہر خواب کسی دوسرے مرد کے حوالے سے دیکھ چکی ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی کو ایک دوسرے شخص کے حوالے سے دیکھا ہے۔ ایمان علی کو میں کیا دے پاؤں گی۔ میرے سارے لفظ ، سارے حرف ، سارے جذبے، سارے احساسات صرف جہاں زیب کے لیے ہیں ۔ کسی دوسرے شخص کے لیے تو میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں ۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ ڈاکٹر خورشید کہتے ہیں ، اس نے مجھ سے اتنی محبت کی میرے لیے اتنی دعائیں کیں کہ خدا نے مجھے اس کے مقدر میں لکھ دیا۔ میں نے بھی تو جہاں زیب سے بہت محبت کی تھی۔ بہت دعائیں مانگی تھیں پھر اللہ نے اسے میرے مقدر میں کیوں نہیں لکھا۔ ایمان علی تو مجھے ہر
ایک سے اس کا دم گھٹنے لگا۔ ” جس شخص کو میں نے چاہا، وہ مجھے نہیں ملا تو پھر میں اس شخص کو کیوں ملوں جو مجھے چاہتا ہے مگر مجھے اس شخص سے ایک بار مانگتا پھر رہا ہے۔ میں نے تو جہاں زیب کو صرف اللہ سے مانگا تھا۔“بات کرنی چاہیے۔ مجھے دیکھنا چاہیے کتنی صداقت ہے اس کے لہجے میں ۔ وہ ڈاکٹر خورشید کے گھر اس سے ملنے گئی ۔ وہ جتنی تلخی سے اس سے بات کر سکتی تھی ، اس نے کی مگر وہ متزلزل نہیں ہوا۔ اس نے ایمان کو اپنی منگنی
کے بارے میں بتایا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ وہ اب بھی اسی طرح تھا۔ امید کو اس پر غصہ آیا۔ پھر اسے ایمان پر ترس آیا۔ اس کا دل چاہا وہ اس سے کہے اپنی زندگی میں مجھے شامل مت کرو۔ اپنی زندگی بر بادمت کر وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرو، جس کی زندگی میں کوئی
جہاں زیب نہ آیا ہو جو تمہاری محبت کا یقین کرے۔ تمھارے جذبوں کی قدر کرے۔ مگر میں وہ لڑکی نہیں ہوں ۔ اس نے شرط رکھی تھی کہ وہ ایک سال تک اس سے ملے نہ کوئی رابطہ رکھے اور اسلامی تعلیمات پر کار بندر ہے۔ اگر اس نے یہ شرط پوری کر دی تو
وہ ایک سال بعد اس سے شادی کرلے گی۔اس نے سوچا تھا ، ایک سال تک ایمان علی کی محبت میں کمی ہو جائے گی۔ وہ اس کی نظروں سے ہٹ جائے گی تو شاید اس کے اس جنون میں بھی کمی ہو جائے ۔ شاید وہ ان چیزوں پر غور کرنے لگے، جن پر وہ غور کر رہی تھی۔ ایمان علی نے اس کی شرط قبول کر لی تھی۔ ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں۔ 365 دن اگر کسی شخص کو دیکھا جائے نہ اس سے بات کی جائے نہ اس سے کوئی رابطہ رکھا جائے تو محبت کم ہو جاتی ہے۔ میں بھی یہی دعا کروں گی کہ ایمان علی کے ساتھ ایسا ہی ہو ۔ اس نے اپنے گھر والوں کو اپنے فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے سوچا تھا۔ وہ بہت مطمئن ہو گئی تھی۔ اسے جہاں زیب کے الوژن کے ساتھ رہنے کے لیے ایک اور سال مل گیا تھا۔ ایک سال اور گزر جاتا ۔ امی اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش نہ کرتیں۔ ایک سال بعد وہ اٹھائیس سال کی ہو جاتی ۔ تب ایمان کے انکار کی صورت میں امی کو ایک بار پھر سے اس کے لیے رشتے کی تلاش کرنی پڑتی۔ بڑھتی عمر کے ساتھ یہ خاصا دشوار ہوتا ۔ شاید اس کی شادی نہ ہو سکے اور وہ اس عذاب سے بچ جائے۔ اس کی ہر توقع ، توقع ہی رہی تھی۔ ایک سال کے دوران ہر بار گھر میں ایمان علی کا ذکر آنے پر وہ موضوع بدل دیتی۔ وہ وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی اور کسی اور کام میں مصروف ہو جاتی ۔ ایک سال کے دوران اسے کبھی اس کا خیال نہیں آیا تھا۔ اگر کبھی اس کا خیال آتا بھی تو ایک خوف کی طرح۔ ایک سال کے دوران بھی اس کے ذہن پر وہی ایک چہرہ چھایا رہا تھا جو پچھلے بہت سے سالوں سے اس کے دل و دماغ پر قابض تھا۔ ایک سال کے دوران بھی اس نے اپنے ارد گر دلہراتی پر چھائیوں میں جہاں زیب کو ہی تلاش کیا تھا۔ اپنے ارد گرد گونجتی آوازوں میں اسی کی آواز ڈھونڈی تھی۔ ایک سال پورا ہونے کا سب سے زیادہ انتظار امی کو تھا۔ وہ سال ختم ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوگئی تھیں ۔ امید کو یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی دھاگے کے ساتھ معلق تھی۔ وہ چاہتی تھی، ایمان علی مدت ختم ہو جانے کے بعد بھی ان سے دوبارہ کوئی رابطہ نہ کرے۔ اس کا خیال تھا۔ وہ رابطہ نہیں کرے گا کیونکہ پورے ایک سال اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اس کا خیال غلط ثابت ہوا۔ سال ختم ہونے کے اگلے دن اسے کور میز سروس کے ذریعے ایک کارڈ ملا تھا۔ کارڈ ہاتھ میں لیتے ہی اس کا سانس رک گیا تھا۔ لفافے کی پشت پر لکھا ہوا، ایمان علی کا نام اسے کسی سانپ کے ڈنک کی طرح لگا۔ دم سادھے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے کارڈ کھول لیا۔ The year is over. Iman Ali remains Iman Ali What about your promise سال ختم ہو چکا ہے اور ایمان علی اب بھی ایمان علی ہے۔ آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے؟) اس کے ہاتھ سے کارڈ چھوٹ گیا۔ اس کا وعدہ اس کے گلے میں پھندہ بن کر الکنے لگا۔ کیا واقعی میں اس شخص کے مقدر میں ہوں تو پھر جہاں زیب عادل . اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
